مالک بن نویرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مالک بن نویرہ
معلومات
مکمل نام مالک بن نویرہ بن جمرہ بن شداد بن عبید بن ثعلبہ بن یربوع تمیمی یربوعی
وجہ شہرت صحابی، خلیفہ اول کی بیعت سے انکار
مشہوراقارب متمم بن مالک
کیفیت شہادت خلیفہ اول کے دور میں خالد بن ولید کے ہاتھوں بلا وجہ قتل
دیگر کارنامے اخذ صدقات میں رسول خدا (ص) کے نمائندہ


مالک بن نویرہ پیغمبر اکرم (ص) کے صحابی تھے اور ان کا شمار زمانہ جاہلیت اور صدر اسلام میں اشراف و بزرگان میں ہوتا تھا۔

پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں اپنے قبیلہ والوں سے صدقات اخذ کرنے کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔ آنحضرت (ص) کی وفات کے بعد مالک کے حضرت ابو بکر کی بیعت سے انکار کے بعد خالد بن ولید کو ان کے قبیلہ کی طرف بھیجا گیا اور اس کے باوجود کہ مالک جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ خالد کے حکم سے انہیں قتل کر دیا گیا اور ان کی بیوی کو قید کرکے خالد نے اسی شب ان سے ہمبستری (زنا) کی۔ خالد کے اس عمل کی اگر چہ بعض افراد جیسے ابو قتادہ و عمر بن خطاب نے مذمت کی اور حضرت عمر نے اسے سنگسار کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن ابو بکر نے اس کے اوپر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ اس نے خطا کی ہے اور مالک بن نویرہ کی دیت بیت المال سے ادا کر دی۔

سوانح عمری

مالک بن نویرہ بن جمرہ بن شداد بن عبید بن ثعلبہ بن یربوع تمیمی یربوعی،[1] پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب میں سے تھے اور زمانہ جاہلیت اور عصر اسلامی میں ان کا شمار اشراف و بزرگان میں ہوتا تھا۔ وہ اپنے قبیلہ میں پیغمبر اسلام کی طرف سے اخذ صدقات پر مامور تھے۔[2]

ابو بکر کی بیعت سے انکار

پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد مالک نے ابو بکر کی بیعت سے انکار کر دیا تو ابو بکر نے خالد بن ولید کو لشکر کے ساتھ ان کی طرف روانہ کیا اور خالد ان کے قبیلہ، قبیلہ یرموع کے نزدیک پہچے تو انہوں نے خود کو مسلح اور جنگ کے لئے تیار کیا اور جب بطاح جہاں مالک کا گھر تھا پہچے تو وہاں پر کوئی موجود نہیں تھا کیونکہ مالک نے ان سے کہا تھا کہ کوئی بھی باہر جمع نہ ہو بلکہ سب اپنے گھروں میں رہیں۔ خالد نے سپاہیوں کو لوگوں کی طرف بھیجا کہ ان میں جو بھی مل جائے اسے لیکر خالد کے پاس آئیں۔ فوجی مالک اور چند دیگر افراد کو مالک کے پاس لیکر آئے۔

حضرت ابوبکر نے کہا تھا کہ جہاں بھی تم وارد ہوئے اور دیکھا کہ لوگ اذان کہہ رہے ہیں، نماز پڑھ رہے ہیں، تو ان سے متعرض نہ ہونا لیکن اگر نماز نہ پڑھ رہے ہوں تو ان پر حملہ کر دینا، مالک کے سلسلہ میں خالد کے سپاہیوں نے مختلف بیانات دیئے۔ ابو قتادہ نے گواہی دی کہ ان لوگوں نے اذان کہی ہے اور نماز پڑھی ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے خالد نے حکم دیا کہ ان سب کو ایک کمرہ میں بند کر کے ان پر نظر رکھی جائے۔

طبری نے تحریر کیا ہے کہ جیسے ہی خالد کا لشکر وہاں پہچا اس نے اعلان جنگ کر دیا اس لئے قبیلہ بنی یربوع کے افراد مسلح ہو گئے اور خالد کے سپاہیوں نے ان کہا کہ ہم مسلمان ہیں تم نے اسلحے کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم بھی مسلمان ہیں تم لوگوں نے کیوں اسلحے اٹھائے ہوئے ہیں؟ مالک کے قبیلہ کے لوگوں نے اپنے اسلحے زمین پر رکھ دیئے لیکن خالد نے مالک کے قتل کا ارادہ کر لیا اور بہانہ یہ بنایا کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ہے۔ خالد نے ضرار بن ازور کو حکم دیا کہ خالد کی گردن اڑا دے۔ اس وقت مالک نے اپنی خوب صورت بیوی ام تمیم کو خطاب کرکے کہا کہ تم نے میری جان لے لی اس سے مراد یہ تھا کہ خالد تمہارے اوپر فریفتہ ہو گیا ہے اب وہ مجھے مار تمہیں اپنے تصرف میں لے لیگا۔

اور ایسا ہی ہوا جیسا مالک نے کہا تھا، خالد نے انہیں مار دیا اور ان کی بیوی کو اپنے تصرف میں لے لیا۔ ابو قتادہ اور عبداللہ بن عمر نے خالد ہر اعتراض کیا لیکن اس نے ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور مدینہ واپسی پر ابو قتادہ نے خالد سے پہلے خلیفہ کے پاس جا کر ان کے سامنے پورا واقعہ بیان کیا۔ خالد جب مدینہ واپس آیا تو پہلے اس نے خود کو اسلحوں میں غرق کیا اور فتح کی علامت کے طور پر اس نے اپنے عمامہ کے ساتھ تیر رکھنے والے تین چوبہ کو باندہ رکھا تھا۔ جب راہ میں حضرت عمر نے اسے اس حالت میں دیکھا تو اس کے عمامہ میں نصب تیروں کو ن کھینچ کر انہیں توڑ ڈالا اور کہا: اس قدر ریا کاری اور تظاہر؟ ایک مسلمان کو قتل کرتے ہو، اس کی بیوی سے زنا کرتے ہو اور خود کو اسلام کا بہادر سپاہی سمجھتے ہو؟ خدا کی قسم تمہیں سنگسار کروں گا۔

خالد نے ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور چلتا رہا یہاں تک کہ خلیفہ کے پاس پہچ گیااور واقعہ کو اس طرح سے خلیفہ کے سامنے بیان کیا کہ انہیں راضی کر لیا۔ جب وہ خلیفہ کے پاس سے باہر گیا۔ حضرت عمر ان کے ہاس گئے اور اعتراض کیا تو خلیفہ نے ان کے جواب میں کہا: خالد نے اجتہاد کیا لیکن اس نے اپنے غلطی کی اور ہم شمشیر اسلام کو غلاف میں نہیں رکھیں گے۔ اس کے بعد خلیفہ نے حکم دیا کہ اسیروں کو آزاد کیا جائے اور مالک کی دیت کو بیت المال سے ادا کیا جائے۔[3] نقل کیا گیا ہے کہ جس وقت مالک کے بھائی متمم خلیفہ کے پاس آئے اور ان سے اپنے بھائی کا قصاص اور اسیروں کی رہائی طلب کی تو خلیفہ نے مالک کی دیت ادا کرنے اور اسیروں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔[4]

مالک کا مرتد نہ ہونا

ابن اثیر (چھٹی، ساتویں صدی ہجری کے اہل سنت عالم دین) تحریر کرتے ہیں: جو کچھ طبری اور دوسرے ما سبق بزرگان نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ مالک مرتد نہیں تھے اور بات کہ مد نظر کہ حضرت عمر نے خالد سے کہا کہ تم نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے اور ابو قتادہ نے کواہی دی کہ انہوں نے (مالک کے قبیلہ) اذان کہی اور نماز پڑھی ہے اور خلیفہ کا اسیروں کو لوٹا دینا اور مالک کی دیت کو بیت المال سے ادا کرنا۔ یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ مالک بن نویرہ مسلمان تھے۔[5]

حوالہ جات

  1. ابن الاثیر، اسد الغابه، ج۴، ص۳۹.
  2. حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۹، صص ۳۲؛ ابن الاثیر، اسد الغابه، ج۴، ص۳۹.
  3. تاریخ طبری، به نقل حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۹، صص ۳۲-۳۳؛ ابن الاثیر، اسد الغابة، ج۴، ص۴۰.
  4. ابن الاثیر، اسد الغابه، ج۴، ص۴۰.
  5. ابن الاثیر، اسد الغابة، ج۴، ص۴۰.


منابع

  • ابن الاثیر، اسد الغابة فی معرفة الصحابة، تحقیق: خلیل مأمون شیحا، بیروت: دارالمعرفة، ۱۴۲۲ق/۲۰۰۱م.
  • حسینی دشتی، سید مصطفی، معارف و معاریف: دائرة المعارف جامع اسلامی، تهران: مؤسسه فرهنگی آرایه، ۱۳۷۹ش.