عمر بن علی بن ابی طالب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


عمر بن علی بن ابی‌ طالب (؟ - ۶۱ ق) حضرت امام علی(ع) کے بیٹوں میں سے جن کے بارے میں بعض نے کہا ہے کہ وہ شہدائے کربلا میں سے ہیں۔کہا گیا ہے کہ انکے علاوہ ایک بیٹے عمر الاکبر بھی حضرت علی کے بیٹوں میں سے تھے جن کی والدہ کا نام ام حبیبہ تھا اور یہ کربلا میں موجود نہیں تھے ۔

زندگینامہ

بعض عمر بن علی کو عمر اکبر[1] اور انکی کنیت ابوالقاسم یا ابوحفص [2] ذکر کرتے ہیں۔انکی والہ کے نام میں اختلاف ذکر ہوا ہے ۔ابن سعد و یعقوبی انکی ماں کا نام صہبا (ام حبیب) کہتے ہیں جو ربیعہ تغلبی کی بیٹی تھی ۔نیز کہتے ہیں کہ اس خاتون کو خالد بن ولید نے عین التمر میں اسیر کیا تھا اور اسے مدینہ لے آئے۔ کس سال میں حضرت علی نے اس سے ازدواج کیا وہ معلوم نہیں ہے [3] دیگر نے انکی اں کا نام لیلی بنت مسعود دارمیذکر کیا ہے ۔ فخر رازی عمر کو حضرت علی سب سے چھوٹے فرزند مانتے ہیں ۔[4]

سپہر کے بقول امام علی(ع) کے دو پسر بنام عمر تھے : ایک کو عمرالاکبر کہ جس کی والدہ ام حبیبہ تھی اور کربلا میں موجود نہیں تھی۔دوسرے کو عمراصغر کہ جس کا بھائی ابوبکر روز عاشورا شہادت پر فائز ہوئے۔[5]

تسمیہ

بلاذری اور ذہبی نے لکھا کہ عمر بن خطاب نے اسے اپنا ہم نام کیا اور اسے ایک غلام بخشا .[6] اس نے اور لوگوں کے نام بھی بدلے تھے [7] نیز عمر اور اس جیسے دوسرے اسما کثیر رائج تھے۔20سے زیادہ اس نام کے اصحاب تھے۔[8]

کربلا میں موجودگی

خوارزمی[9] و ابن شہر آشوب[10] نے انہیں شہدائے کربلا میں گِنا ہے ۔وہ درج ذیل رجز پڑھتے سپاہ یزید پر حملہ کرتے رہے۔:[11]

خلّو عداة الله من عمر خلوا عن اللیث الهصور المکفهر
یضربکم بسیفه و لا یفر و لیس یغدو کالجبال المنحجر
اے دشمنان خدا! عمر سے دور ہو جاؤ بپھرے ہوئے اور خشمگین شیر سے فرار حاصل کر[12]


اس نے اپنے بھائی کے قاتل زحر پر حملہ کرتے ہوئے درج ذیل رجز پڑھے:

اضربکم و لا اری فیکم زخر ذاک الشقی بالنبی قد کفر
یا زحر یا زحر تدان من عمر لعلک الیوم تبوء بسقر
شر مکان من حریق و سعر لانک الجاحد یا شر البشر
میں تلوار چلاؤں گا اور میں زحر کو تم میں نہیں دیکھ رہا ہوں یہ وہ شقی ہے جس نے نبی کا انکار کیا ہے
اے زحر اے زحر عمر کے قریب آؤ آج تم دوزخ میں جگہ لے لو گے
بدترین مقام دوزخ میں جلنا کیونکہ تم انسانوں میں سے شریر ترین انکار کرنے والے ہو۔

عمر نے زحر کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہو گئے ۔[13]

البتہ کچھ روایات ان کے کربلا یں موجود نہ ہونے کو بھی بیان کرتی ہیں ۔بعض روایات کی بنیاد پر وہ عبدالملک بن مروان خلافت کے زمانے تک زندہ تھا[14] اور امام سجاد(ع) کے ساتھ صدقات پیامبر(ص) اور علی(ع) کے ساتھ اسکا نزاع رہا[15]

بعض روایات کی بنا پر مختار ثقفی کے قاتل مصعب بن زبیر کے ہمراہ ہو گیا [16] کہا گیا ہے کہ مسکن نامی جگہ قتل ہوا ۔وہاں ایک قبر اس سے منسوب ہے اگرچہ اس روایت میں شک و تردید ہے ۔[17]

حوالہ جات

  1. الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۱۴
  2. المجدی، ص ۷؛ الشجره المبارکہ، ص ۲۰۳؛ عمده الطالب، ص ۳۶۲
  3. الطبقات الکبری، ج۳، ص ۱۱۴؛ تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۳۹؛ جمہرة العرب، ج ۱، ص ۳۱
  4. الشجره المبارکہ، ص ۱۸۹
  5. ناسخ التواریخ، ج ۲، ص ۳۵۵ـ۳۳۳
  6. جمل من انساب الاشراف، ج۲، ص ۴۱۳؛ ذہبی، ج۴،ص۱۳۴
  7. ابن حجر، ج۵، ص۲۹؛ ج۱،ص۱۸۶
  8. ابن حجر، ج۴، ص۵۸۷تا۵۹۷
  9. مقتل الحسین، ج ۲، ص ۲۸
  10. مناقب، ج۴، ص ۱۰۷
  11. مقتل الحسین، ج ۲، ص ۲۹ـ۲۸
  12. دانشنامہ امام حسین، ج 10، ص 373. شاعر نیر تبریزی.
  13. مقتل الحسین، ج ۲، ص ۲۹ـ۲۸
  14. تاریخ طبری، ج ۵، ص ۱۵۴
  15. الارشاد، ج ۲، ص ۱۴۹؛ شرح الاخبار، ج۳، ص ۱۹۱ـ۱۸۴
  16. الأخبارالطوال،ص:۳۰۷
  17. یوم الطف، ص ۱۹۱


منابع

  • منبع اصلی: جمعی از پژوهشگران زیر نظر سیدعلیرضا واسعی، نگاهی نو به جریان عاشورا، قم، مؤسسه بوستان کتاب، چاپ هفتم، ۱۳۹۰ شمسی، ص ۱۳۱ـ۱۲۹.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق عبدالقادر عطا، ج ۳، چاپ دوم: بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق.
  • عمری، المجدی فی انساب الطالبین، تحقیق احمد مہدوی دامغانی، نشر کتابخانہ آیت الله مرعشی.
  • ابن عنبہ، عمدة الطالب، چاپ دوم: قم، انتشارات رضی، ۱۳۶۲ش.
  • یعقوبی، احمد بن واضح، تاریخ یعقوبی، ج ۲، چاپ ششم: بیروت، دارصادر، ۱۴۱۵ق.
  • ابن حزم، جمہرة انساب العرب، چاپ اول: بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ق.
  • بلاذری، جمل من انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و زرکلی، ج۲، چاپ اول، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۷ق.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج ۴، چاپ دوم، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۱۲ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، تحقق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج ۵، بیروت، بی‌تا.
  • شیخ مفید، الارشاد، موسسہ آل البیت، ج ۱، چاپ اول، قم، انتشارات الموتمر العالمی، ۱۴۱۳ق.
  • ذہبی، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان(م۷۴۸ق)، سير أعلام النبلاء، تحقيق شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسی، مؤسسہ الرسالہ،بيروت، چاپ نہم، ۱۴۱۳ق.
  • ابن حجر، عسقلانی(م۸۵۲ق)، الإصابہ في تمييز الصحابہ، تحقيق علی محمد البجاوی، دار الجيل، بيروت، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.