عبداللہ بن ابی حصین ازدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبدالله بن ابی‌حصین ازدی
معلومات شخصیت
نام: عبدالله بن ابی‌حصین ازدی
نسب: قبیلہ ازد
شہادت: 37ھ
شہادت کی کیفیت: جنگ صفین میں شہادت
اصحاب: امام علیؑ

عبدالله بن ابی‌حصین ازدی (شہادت 37ھامام علیؑ کے اصحاب اور جنگ صفین کے شہدا میں سے ہیں۔[1]

جنگ صفین میں جب امام علیؑ کا لشکر رقہ میں ایک پل پر سے گزر رہا تھا، اس دوران رش کی وجہ سے عبدالله بن ابی‌حصین ازدی اور عبدالله بن حجاج ازدی کی ٹوپی گر گئی، تو یہ دونوں سواری سے اترے اور ٹوپی اٹھا لیا تو اس وقت عبدالله بن حجاج نے عبدالله بن ابی‌حصین سے کہا:

«اگر فرشتوں کی حرکت کے بارے میں فالگیروں کا خیال صحیح ہو تو میں بہت جلدی مارا جاوں گا اور تم بھی مارے جاؤ گے۔» عبدالله بن ابی‌حصین نے کہا: «جو کچھ کہا اس سے زیادہ کسی چیز کی خواہش نہیں ہے۔»[2]

عبدالله بن ابی‌حصین کا شمار قاریوں میں ہوتا تھا اور عمار بن یاسر کے ہمراہ میدان جنگ چلے گئے اور مارے گئے[3] ان کے جانے سے پہلے مخنف بن سلیم نے ان سے کہا تھا: ہمیں عمار سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے لیکن انہوں نے ان کے ساتھ دینے سے انکار کیا اور عمار کے ساتھ مارے گئے۔[4]

حوالہ جات

  1. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۴، ص۸۳.
  2. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۵۶۶؛ منقری، وقعۃ الصفین، ۱۴۰۴ق، ص۱۵۲.
  3. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۵۶۶، ج۵، ص۲۷؛ ابن خلدون، دیوان المبتدأ و الخبر، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۶۳۱؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۳، ص۲۸۱.
  4. منقری، وقعۃ الصفین، ۱۴۰۴ق، ص۱۵۲.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ء۔
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرہم من ذوی الشأن الأکبر، بن خلدون، تحقیق خلیل شحادة، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸ء۔
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دارالعلم للملایین، ۱۹۸۹ء۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمدابوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء۔
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعة صفین، تحقیق: عبدالسلام محمد ہارون، قاہرة، المؤسسة العربیة الحدیثة، الطبعة الثانیة، ۱۳۸۲، افست قم، منشورات مکتبة المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ھ۔