اسیران کربلا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسیران کربلا
اسیران کربلا کا کربلا سے کوفہ اور شام لے جانے کا راستہ
زمان سنہ 61 ھ
مکان کربلا، کوفہ اور شام
حدود عراق و شام
نتیجہ یزید کی رسوائی اور پیشمانی
علت جنگ امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار

اسیران کربلاسے وہ اسرا (قیدی) مراد ہیں جو واقعہ کربلا کے بعد لشکر عمر سعد کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر سعد کے دستور کے تحت 11 محرم کی رات انہیں کربلا میں ہی رکھا گیا اور گیارہ محرم کے دن ظہر کے بعد پہلے کوفہ میں ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا پھر عبیدالله بن زیاد نے شمر اور طارق بن مُحَفِّز سمیت ایک دستہ کے ہمراہ شام میں دربار یزید کی طرف روانہ کیا۔

ابن زیاد نے اسیروں کو محملوں پر اور امام سجاد (ع) کو طوق و زنجیر میں جکڑ کر شام روانہ کیا۔ امام سجاد(ع)، شیعوں کے چوتھے امام، حضرت زینب(س)، بنت امام علی(ع) اسیروں میں سے اہم ترین شخصیات میں سے تھیں۔ ایک نقل کے مطابق ان کے مختلف جگہوں پر لوگوں کے سامنے دئے جانے والے خطبے یزید اور بعض لوگوں کی پشیمانی کا باعث بنے۔

کچھ مورخین کے نزدیک کاروان اہل بیت(ع) اربعین یعنی شہادت امام حسین کے چالیس دن گزرنے کے بعد کربلا لوٹ آیا جبکہ شیخ مفید اور شیخ طوسی معتقد ہیں کہ اہل بیت(ع) آزادی کے بعد کربلا نہیں آئے بلکہ وہ مدینہ گئے۔

آغاز اسیری

واقعۂ عاشورا تاریخ کے آئینے میں
سنہ 60 ہجری قمری
15 رجب وفات معاویہ
28 رجب مدینہ سے امام حسین ؑ کا خروج
3 شعبان امامؑ کا مکہ پہنچنا
10رمضان کوفیوں کا امام حسینؑ کے نام پہلا خط
12 رمضان کوفیوں کے 150 خطوط کا قیس بن مُسْہر، .... کے ذریعے امامؑ کو پہنچنا۔
14‌رمضان ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ذریعے بزرگان کوفہ کے خطوط کا پہنچنا
15رمضان مسلم کی مکہ سے کوفہ روانگی
5 شوال کوفہ میں مسلم بن عقیل کا ورود
8 ذوالحجہ مکہ سے خروج امام حسینؑ
8 ذوالحجہ کوفہ میں قیام مسلم بن عقیل
9 ذوالحجہ شہادت مسلم بن عقیل
سنہ 61 قمری
1 محرم قصر بنی مقاتل میں عبیداللہ بن حر جعفی اور و عمرو بن قیس کو امام کا دعوت دینا
2 محرم کربلا میں کاروان امامؑ کا پہنچنا
3 محرم لشکر عمر سعد کا کربلا میں پہنچنا
6 محرم حبیب بن مظاہر کا بنی اسد سے مدد مانگنا
7 محرم پانی کی بندش
8 محرم مسلم بن عوسجہ کا کاروان امام حسینؑ سے ملحق ہونا
9 محرم شمر بن ذی الجوشن کا کربلا پہنچنا
9 محرم امان‌ نامۂ شمر برائے فرزندان ام‌البنین.
9 محرم لشکر عمر سعد کا اعلان جنگ اور امامؑ کی طرف سے ایک رات مہلت کی درخواست
10 محرم واقعہ عاشورا
11 محرم اسرا کا کوفہ کی طرف سفر
11 محرم بنی اسد کا شہدا کو دفن کرنا
12 محرم بعض شہدا کا دفن
12 محرم اسیران کربلا کا کوفہ پہنچنا
19 محرم اہل بیتؑ کی کوفہ سے شام روانگی
1 صفر اہل بیتؑ اور سر مطہر امام حسینؑ کا شام پہنچنا
20 صفر اربعین حسینی
20 صفر اہل بیت کی کربلا میں واپسی
20 صفر اہل بیت کی مدینہ میں واپسی(بنا بر قول)


واقعہ عاشورا کے بعد سپاہ عمر سعد نے اپنے مقتولین یازدہم محرم کو دفن کیا اور امام حسین کے اہل بیت لے کر کوفہ روانہ ہوا۔[1]

عمر سعد کے سپاہیوں نے اہل بیت کی خواتین کو شہدا کے اجساد کے پاس اس حال سے گزارا کہ نالہ و شیون کے ساتھ ساتھ اپنے چہروں کو پیٹ رہی تھیں۔جیسا کہ قرة بن قیس سے منقول ہے، حضرت زینب (س) جب اپنے بھائی کے لاشہ کے سے گزریں تو انہوں نے اس قدر شدت غم سے گریہ کیا کہ دوست و دشمن اس وقت گریاں ہوئے۔[2] مروی ہے کہ حضرت زینب نے امام حسین کے جسد اطہر کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ جملات کہے:

یا محمداہ، یا محمداہ! صلی علیک ملائکة السماء، ہذا الحسین بالعراء، مرمل بالدماء، مقطع الأعضاء، یا محمداہ! و بناتک سبایا، و ذریتک مقتلہ، تسفی علیہا الصبا قال: فابکت واللہ کل عدو و صدیق [3]
ترجمہ: «یامحمدا! وامحمدا! آسمان کے فرشتے تم پر درود سلام بھیجتے ہیں، (لیکن)« یہ حسین دشت میں ہے جس کا بدن خون میں غلطاں اور اس کے اعضائے بدن جدا ہیں! «اے محمد! آپکی بیٹیاں اسیر ہیں اور ان کی مقتول ذریت کو ہوا چھو رہی ہے۔راوی کہتا ہے: خدا کی قسم! یہ نالہ و شون سن کر دوست دشمن نے گریا کیا۔

اسمائے اسرا

اہل بیت اور باقی بچ جانے والے اصحاب امام حسین(ع) کے ناموں اور تعداد کے بارے میں مورخین کے اکتلاف پایا جاتا ہے،مختلف مصادر میں مذکور اسما: امام سجاد(ع)، امام باقر(ع)،امام حسین دو بیٹے : محمد و عمر،امام حسن (ع) کا بیٹا محمد اور نواسہ زید،[4] اسی طرح حضرت علی بیٹیوں میں سے حضرت زینب، فاطمہ اور ام کلثوم۔[5] امام حسین (ع) کی چار بیٹیاں: سکینہ، فاطمہ، رقیہ اور زینب کا بھی مصادر میں تذکرہ آیا ہے۔[6]اسی طرح رباب زوجہ امام حسین (ع)[7] اور فاطمہ بنت امام حسن (ع) کربلا کے اسیروں میں موجود تھیں۔[8]

تعداد اسرا

محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


مورخین کے درمیان اسراء اہل بیت اور واقعہ کربلا کے بازماندگان کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر ایک نے کچھ افراد کا نام ذکر کیا ہے۔ بعض مصادر کے مطابق امام حسینؑ کے قافلے میں مکہ سے کوفہ روانہ ہوتے وقت فقط عورتوں کی تعداد 61 تھی۔ [حوالہ درکار]


وہ اشخاص جن کا نام اسیران کربلا کے زمرے میں شامل ہیں:

کوفہ کی طرف حرکت

دشمنوں نے اسیروں کو بے کجاوہ انٹوں پر سوار کیا۔[12] جب اسراء کوفہ میں داخل ہوئے تو لوگ ان کا تماشا دیکھنے جمع ہو گئے تھے در حالیکہ کوفہ کی عورتیں ان پر گریہ کر رہی تھیں۔ خذلم بن ستیر نامی شخص کہتا ہے: اس وقت میں نے علی بن حسینؑ کو دیکھا جس کی گردن میں طوق اور ہاتھ پس گردن بندھے ہوئے تھے۔[13]

قدیمی مصادر میں اسرائے اہل بیتؑ کے کوفہ میں داخل ہونے کے بارے میں کوئی دقیق معلومات ذکر نہیں ہے۔ البتہ اس حوالے سے شیخ مفید کی بعض عبارات موجود ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائے کربلا محرم کی بارہ تاریخ کو کوفے میں داخل ہوئے ۔ [14]

عمر سعد کے سپاہیوں نے کوفہ کے کوچوں سے گزار کر انہیں قصر عبیدالله بن زیاد میں لائے۔ حضرت زینب اور عبیدالله کے درمیان سخت گفتگو ہوئی اور عبیدالله نے امام سجاد(ع) کے قتل کا حکم صادر کیا[15] لیکن حضرت زینب کے اعتراض کرنے اور عبید اللہ اور حضرت زینب کے درمیان تند و تیز لہجے میں گفتگو کے بعد عبید اللہ نے قتل سے صرف نظر کیا۔[16]

اسرا کے خطبے

اسراء میں سے بعض نے کوفہ میں داخل ہونے کے بعد کوفہ کے لوگوں کے سامنے خطبے دئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:

  • امام سجادؑ: کوفہ میں امام سجادؑ کا خطبہ مختلف مصادر منجملہ مثیر الاحزان تألیف ابن نما حلی میں آیا ہے۔ [17]

البتہ کوفہ کے شرائط، کشیدہ حالات، دشمنوں کی بے رحمی اور کوفہ والوں کی بغاوت کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا دشوار ہے کہ انہوں نے امام سجادؑ کو خطبہ دینے کی اجازت دی ہو۔ دوسری بات امام کے کوفہ اور دمشق میں دئے گئے خطبات ایک دوسرے سے بہت شباہت رکھتے ہیں اس بنا پر یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ گذر زمان کے ساتھ راویں نے ان حوادث کو آپس میں مخلوط کیا ہو۔ [18]

دربار ابن زیاد

دشمنوں نے اسیران کربلا کو کوفہ کے گلیوں اور بازاروں میں پھرانے کے بعد انہیں دار العمارہ میں عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں لے گئے۔ اس وقت حضرت زینب(س) اور عبیداللہ بن زیاد کے درمیان ہونے والی تلخ گفتگو کو بعض مصادر نے نقل کیا ہے۔[22] جب عبیداللہ کی نظر امام سجادؑ پر پڑی تو اس نے آپ کو بھی قتل کرنے کا حکم صادر کیا لیکن حضرت زینب(س) اور امام سجادؑ کی تند و تیز گفتگو کے سامنے لاجواب ہو کر ابن زیاد نے امام سجادؑ کی قتل سے صرف نظر کیا۔[23]

شام کے راستے میں

راستے کا انتخاب

ابن زیاد نے شمر اور طارق بن مُحَفِّز سمیت ایک جماعت اسیروں کے ساتھ شام روانہ کی۔[24] بعض روایات کے مطابق زحر بن قیس بھی ان کے ہمراہ تھا۔[25] اسیروں کو کوفہ سے شام تک کس راستے سے لے جایا گیا اس کا دقیق علم نہیں ہے لیکن بعض معتقد ہیں کہ اس راستے میں امام حسینؑ سے منسوب مقامات کے ذریعے کوفہ سے شام کے راستے کو بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان مقامات کے نام درج ذیل ہیں:

  • مقام راس الحسین موصل میں: علی بن ابوبکر ہروی کے بقول یہ مقام ساتویں صدی ہجری تک موجود تھا۔[26]
  • مسجد امام زین العابدینؑ اور مقام راس الحسین نصیبین میں: آجکل نصیبین ترکی میں ایک شہر کا نام ہے۔[27] کہا جاتا ہے کہ سر امام حسینؑ کے خون کا اثر اس مقام پر رہ گیا تھا۔[28] ہروی نے اس زیارتگاہ کو "مشہد النقطہ" کے نام سے ثبت کیا ہے۔[29]
  • مقام طُرح: طرح اس نوزاد کو کہا جاتا ہے جو مقررہ وقت سے پہلے پیدا ہوا ہو۔ یہاں یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ اسیران کربلا میں کوئی حاملہ خاتون تھی جس نے اپنے بچے کو مقررہ وقت سے پہلے جنم دیا ہوگا۔[30]
  • مقام حَجَر: اسیران کربلا کے قافلے کو شام لے جاتے وقت امام حسینؑ کا سر اس پتھر پر رکھا گیا تھا۔[31]
  • مقام‌ کوہ جوشن: یہ پہاڑ شام کے شہر حلب میں واقع ہے۔ گویا شمر بن ذی الجوشن کے نام سے مشتق ہے۔ بعض مصادر کے مطابق مشہد النقطہ بھی اسی مقام پر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک عیسائی راہب زندگی گزارتا تھا جس نے یزید کے سپاہیوں سے امام حسینؑ کا سر ایک رات کیلئے لے جا کر اپنے پاس رکھتا ہے۔ مشہدالسقط میں قبر محسن بن الحسینؑ بھی ہے۔[32]
  • مقام حماہ: یہ مقام شہر حلب کے اندر موجود تھا۔ ابن شہرآشوب نے اس مکان کا تذکرہ کیا ہے۔[33]
  • مقام حِمص: ابن شہر آشوب نے اس مکان کا بھی تذکرہ کیا ہے۔[34]
  • مقام بعلبک: یہاں پر اس وقت ایک مسجد ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے اس کا نام "راس الحسین" تھا۔[35]
  • مقام راس الحسین اور مقام امام زین العابدین دمشق میں: یہ دو مقام ایک مسجد کے پاس ہے جسے مسجد اموی کا نام دیا جاتا ہے۔ ابن عساکر نے اس مقام کو "راس الحسین" کا نام دیا ہے۔[36] لیکن دیگر مصادر میں اسے "مقام امام زین العابدین" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔[37]

سپاہ دشمن کا سلوک

ابن زیاد نے اپنی فوج کا ایک گروہ اسیروں کے ساتھ شام بھیجا۔ ان میں سر فہرست افراد شمر بن ذی الجوشن اور طارق بن مُحَفِّز بن ثَعلبہ تھے۔[38] بعض مصادر کے مطابق زحر بن قیس بھی ساتھ تھے۔[39]

  • اسیروں کے ساتھ برتاؤ: ابن اعثم اور خوارزمی کے نقل کے مطابق عبیداللہ بن زیاد کے سپاہیوں نے اسیران کربلا کو کوفہ سے شام تک بے کجاوہ انٹوں پر سوار کرکے شہر شہر پھرایا جس طرح ترک و دیلک کے کافر اسراء کو لے جایا جاتا ہے۔[40][41]
  • امام سجادؑ فرماتے ہیں:
"مجھے ایک کمزور اور لنگڑے اونٹ پر سوار کیا جس کا کجاوہ لکڑی کا تھا جس پر کوئی زین یا کپڑا وغیرہ نہیں تھا یہ اونٹ لنگڑا ہونے کی وجہ سے ناہموار چلتا تھا۔ امام حسینؑ کا سر نیزے پر تھا اور ہماری خواتین کو ہمارے پیچھے پیچھے اور ہمارے ارد گرد نیزہ بردار سپاہی تھے۔ اگر ہم میں سے کسی کی آنکھوں سے آنسو آتے تو نیزے کے ذریعے اس کے سر پر مارا جاتا تھا یہاں تک کہ ہم شام میں داخل ہو گئے۔ جب اسیروں کا یہ قافلہ شام میں داخل ہوا تو کسی نے بلند آواز میں ندا دی اے اہل شام یہ معلون کے گھرانے کے اسراء ہیں۔" [42]

شام میں

  • شہر کا چراغان: یزید نے حکم دیا تھا کہ اسیران کربلا کا شام میں داخل ہوتے وقت شہر کا چراغان کیا جائے۔ سہل بن سعد ساعدی ان افراد میں سے ہے جس نے اسیران اہل بیت کا شام میں داخل ہوتے وقت شہر کے چراغان اور لوگوں کی خوشی کو دیکھا اور اس کی توصیف کی ہے۔[43]
  • داخل ہونے کا دن: تاریخی اوراق کے مطابق شہداء کے سروں کو صفر کی پہلی تاریخ کو شام لایا گیا۔[44] اسی دن اسیروں کو باب توما یا دروازہ ساعات سے شہر کے اندر لے جایا گیا اور شہر کے جامع مسجد کے دروازے کے ساتھ اسیروں کو بٹھانے کی مخصوص جگہ پر اسراء اہل بیت کو رکھا گیا۔[45]
  • یزید کو اطلاع دینا:اسراء اہل بیت کو شہر میں پھرانے کے بعد عبیداللہ ابن زیاد کے سپاہی یزید کے محل میں چلے گئے اور زحر بن قیس نے سب کی نمایندگی میں واقعہ کربلا کی سرگذشت یزید کو سنا دی۔[46]
  • اسراء یزید کے محل میں:یزید نے کربلا کے واقعے کی رپورٹ سنے کے بعد محل کی تزئین کا حکم دیا۔ بزرگان شام کو بلایا گیا اس کے بعد اسیروں کو محل میں لانے کا حکم دیا۔[47] تاریخی شواہد کے مطابق اسیروں کو رسیوں میں باندھ کر یزید کی محفل میں لایا گیا۔[48] اس وقت فاطمہ بنت الحسین نے کہا:‌اے یزید کیا یہ شائستہ ہے کہ رسول خدا(ص) کی بیٹیوں کو اسیر کیا جائے؟ اس وقت یزید کے دربار میں موجود افراد اور یزید کی بیوی ہندہ نے گریہ و زاری کی۔ [49]
  • یزید کا اسیروں کے سامنے سر امام حسینؑ کے ساتھ کھیلنا: یزید نے اسیروں کے سامنے سر امام کو ایک سونے کے طبق میں رکھا [50] اور اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے لکڑی کے ذریعے سر امام حسینؑ کی توہین کی۔[51] جب امام حسینؑ کی بیٹی سکینہ اور فاطمہ نے اس حالت کو دیکھا تو ایسی فریاد کی کہ خود یزید کی محل میں موجود عورتوں نے بھی اس فریاد کے ساتھ فریاد بلند کیں۔[52] امام رضاؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ یزید نے امامؑ کے سر کو ایک طبق میں رکھا پھر اس کے اوپر کھانے کی میز رکھ دی پھر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانے اور شراب خواری میں مشغول ہو گیا۔ پھر اسی میز پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شطرنج کھیلنے لگا وہ جب بھی شطرنج میں اپنے حریف پر غلبہ حاصل کرتا شراب کی بوتل اٹھا کر پیتا اور باقی ماندہ شراب کو اس طبق کے نزدیک زمین پر انڈیل دیتا جس میں امامؑ کا سر رکھا ہوا تھا۔[53]
  • حاضرین کا اعتراض: یزید کی محفل میں موجود بعض حاضرین نے یزید کے اس اقدام پر اعتراض کیا ان میں مروان بن حکم کے بھائی یحیی بن حکم ہے جس پر یزید نے اس کے سینے پر گھونسا مارا۔[54] ابوبرزہ اسلمی نے بھی اس پر اعتراض کیا تو اسے یزید کے حکم سے مجلس سے ہی اخراج کیا گیا۔[55]
  • خطبہ دینا: شام میں مختلف واقعات رونما ہونے کے بعد امام سجادؑ اور حضرت زینب(س) نے شام میں افکار عمومی کو غلط پروپیگنڈوں سے پاک کرنے کی خاطر خطبے دینا شروع کیا۔ یہ خطبے شام میں امام سجادؑ اور حضرت زینب کے خطبوں کے نام سے معروف ہیں۔
  • محل اقامت: تاریخی مصادر کے مطابق اہل بیت امام حسینؑ کو شام میں دو مقامات پر رکھا گیا۔ شروع میں کسی ویرانے میں رکھا گیا جس پر چھت بھی نہیں تھی،[56] جو خرابہ شام سے معروف ہے اور حضرت رقیہ اسی خرابے میں وفات پائی۔[57]اسیران کربلا کو دو دن اس مقام پر رکھا گیا۔[58] لیکن امام سجادؑ اور حضرت زینب(س) کے خطبوں کے بعد جب افکار عمومی اسیروں کے نفع میں جانے لگا تو انہیں یزید کے محل کے نزدیک کسی گھر میں منتقل کیا گیا۔[59]
  • شام میں قیام کی مدت: اکثر مورخین نی اسیران کربلا کا شام میں قیام کی مدت کو تین دن لکھا ہے۔[60] لیکن عماالدین طبری نے اس مدت کو سات دن ذکر کیا ہے۔[61] جبکہ سید بن طاووس نے ایک ماہ کہا ہے [62] البتہ اس نے خود اس قول کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

واپسی کا راستہ

اصل مضمون: اربعین حسینی

اسیران کربلا کا شام سے خارج ہونے کی دقیق تاریخ کا پتہ نہیں ہے۔ اسی طرح واپسی پر اسیروں کا یہ قافلہ کربلا سے ہو کر مدینہ گیا تھا یا نہیں اس میں بھی محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اسیران کربلا کا یہ قافلہ شام سے واپسی پر اربعین کے دن کربلا پہنچے تھے۔ سید محمد علی قاضی طباطبایی اپنی کتاب تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہداءؑ میں اس بات کو ثابت کیا ہے لیکن محدث نوری[63] اور شیخ عباس قمی[64] اس بات کو قبول نہیں کرتے۔

مدینہ واپسی

اسیران کربلا جب مدینہ کے نزدیک پہنچے تو امام سجادؑ نے حکم دیا کہ شہر کے باہر ہی خیمے نصب کئے جائیں۔ اس کے بعد آپؑ نے بشیر بن حذلم سے فرمایا: شہر کے اندر جاؤ اور میرے والد گرامی کی شہادت کی خبر لوگوں تک پہنچاؤ۔

بشیر مسجد النبی کے پاس جا کر روتے ہوئے اس شعر کو پڑھا:

یا اہل یثرب لا مقام لکم قتل الحسین فادمعی مدرار
اے مدینہ کے رہنے والو! اب مدینہ رہنے کے قابل نہیں ہے حسین مارا گیا اور میرے آنسو جاری ہیں
الجسم منہ بکربلا مضرج والراس منہ علی القناة یدار.
ان کی لاش کربلا میں خاک و خون میں غلطاں ہے اور ان کا سر نیزوں پر پھرایا گیا[65]

بشیر نے لوگوں کو اطلاع دی کہ امام سجادؑ اور اہل بیتؑ کے دیگر افراد شہر کے باہر بیٹھے ہیں۔ جب مدینہ کے لوگوں نے یہ خبر سنی تو اپنے گھر سے باہر آگئے اور آہ و واویلا کی فریاد بلند کیں۔ اس دن کی طرح کسی دن بھی اتنے مرد اور عورتوں کو ایک ساتھ گریہ و زاری کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا تھا اور پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد اس دن سے زیادہ تلخ دن مسلمانوں نے نہیں دیکھا تھا۔[66]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ‌الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۵-۴۵۶.
  2. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۴؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۶.
  3. ابو مخنف، وقعة الطف، ۱۴۱۷ق، ص۲۵۹؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۶.
  4. قاضی نعمان، شرح الاخبار، موسسہ نشرالاسلامی، ج۳، ص۱۹۸-۱۹۹؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۳۸۵ق، ص۷۹؛ ابن سعد، ترجمة الحسین و مقتلہ، ۱۴۰۸ق، ص۱۸۷.
  5. بیضون، موسوعة کربلاء، بیروت، ج۱، ص۵۲۸.
  6. ابن شداد، الاعلاق الخطیرہ، ۲۰۰۶م، ص۴۸-۵۰.
  7. ری‌شہری، دانشنامہ امام حسین(ع)، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۲۸۳.
  8. ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۷۰، ص۲۶۱.
  9. موسوعۃ کربلا، لبیب بیضون،ج۱،ص:۵۲۸
  10. ابن شداد، الاعلاق الخطیرہ، ص۴۸تا۵۰
  11. ذخیرة الدارین، الشیرازی،ص:۳۲۷
  12. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۵ص ۲۳۶
  13. شیخ مفید، امالی، ص۳۲۱
  14. شیخ مفید، ارشاد، ج۲ص۱۱۴
  15. مفید، ارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۵-۱۱۶؛ طبری، تاریخ، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص.۴۵۷.
  16. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۱۲۳، خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۳۶۷ق، ج۲، ص۴۳.
  17. مثیر الاحزان، ص۸۹-۹۰
  18. سیدجعفر شہیدی، زندگانی علی بن الحسینؑ، صص۵۶-۵۷.
  19. ابن طیفور، بلاغات النساء، ص۲۳-۲۴
  20. احتجاج،ج۲،ص۱۴۰-۱۰۸
  21. لہوف، ص۱۹۹
  22. مفید، ارشاد،ج۲ص۱۱۵-۱۱۶؛ طبری، ج۵ص ۴۵۷
  23. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج۵ص۱۲۳، خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲ص۴۳
  24. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۴۱۶.
  25. دینوری، اخبارالطوال، ۱۴۲۱ق، ص۳۸۴-۳۸۵.
  26. جعفر مہاجر، کاروان غم، ص۲۹
  27. کاروان غم، مہاجر، ص۳۰
  28. الاشارات الی معرفہ الزیارات، ص۶۶
  29. الاشارات الی معرفہ الزیارات، ص۶۶
  30. مہاجر، ص۳۰
  31. الاعلاق الخطیرہ، ابن شداد، ص۱۷۸
  32. معجم البلدان،ج۲،ص:۱۸۶
  33. مناقب آل أبی طالب علیہم السلام (لابن شہرآشوب)، ج۴، ص: ۸۲
  34. مناقب آل أبی طالب علیہم السلام (لابن شہرآشوب)، ج۴، ص۸۲
  35. مہاجر، ص ۳۶تا۳۸
  36. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲ص ۳۰۴
  37. نعیمی، الدارس فی تاریخ مدارس، فہرست جای‌ہا
  38. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۴۱۶
  39. دینوری، اخبارالطوال، ص۳۸۴-۳۸۵
  40. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج۵، ص۱۲۷
  41. خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ص۵۵-۵۶
  42. سیدبن طاووس، الاقبال، ج۳ص۸۹
  43. شیخ صدوق، امالی، مجلس، ۳۱، ص۲۳۰.
  44. ابوریحان بیرونی، آثار الباقیہ، ص۳۳۱
  45. ابن اعثم، الفتوح، ج۵، ص۱۲۹-۱۳۰
  46. تاریخ الطبری، ج۵، ص۴۶۰
  47. تاریخ الطبرس، ج۵، ص۴۶۱
  48. سیدبن طاووس، لہوف، ص۲۱۳
  49. ابن نما، مثیر الاحزان، ص۹۹
  50. خوارزمی، ج۲، ص۶۴
  51. یعقوبی، ج۲، ص۶۴
  52. ابن اثیر، کامل، ج۲ص ۵۷۷
  53. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۵، ح۵۰
  54. طبری، ج۵ص ۴۶۵
  55. انساب الاشراف، ج۳، ص۴۱۶
  56. شیخ صدوق، امالی، مجلس ۳۱، ص۲۳۱، ح۴
  57. کامل بہایی، ج۲، ص۱۷۹
  58. صفار، بصائر الدرجات، ص ۳۳۹
  59. شیخ مفید، ارشاد، ج۲، ص۱۲۲
  60. طبری، ج۵ ص۴۶۲، خوارزمی، ج۲، ص۷۴
  61. کامل بہایی، ج۲، ص۳۰۲
  62. الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج۳، ص۱۰۱
  63. نوری، ص۲۰۸ - ۲۰۹
  64. قمی، ص۵۲۴ -۵۲۵
  65. سید بن طاووس، لہوف، ص۲۲۷
  66. سید بن طاووس، لہوف، ص۲۲۷


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عزالدین عبدالحمید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، چ۲، منشورات کتابخانہ آیہ اللہ مرعشی نجفی، قم، ۱۴۰۴ق.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ،‌دار التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۵ق.
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحیق علی شیری، دراالاضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق.
  • ابن جوزی، تذکرہ الخواص، منشورات الشریف الرضی، قم، ۱۴۰۸ق.
  • ابن شداد، محمد بن علی، الاعلاق الخطیرہ فی ذکر امراء الجزیرہ، دمشق، ۲۰۶۶.
  • ابن شہرآشوب، محمد بن علی مازندرانی(۵۸۸ق)، مناقب آل أبی‌طالب علیہم السلام، علامہ، قم، ۱۳۷۹ق.
  • ابن طیفور، ابوالفضل بن ابی‌طاہر، بلاغات النساء، مکتبہ بصیرتی، قم.
  • ابن طاووس، علی بن موسی بن جعفر، الاقبال بالاعمال الحسنہ، تحقیق جواد قیومی، دفتر تبلیغات اسلامی، قم، ۱۴۱۵ق.
  • ابن طاووس، الملہوف فی معرفہ علی قتلی الطفوف، تحقیق فارس تبریزیان، دارالاسوہ، ۱۴۱۴ق.
  • ابن عساکر، علی بن ہبہ اللہ، تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق علی عاشور،‌دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۲۱ق.
  • ابن نما، جعفر بن محمد، مثیر الاحزان، چ۳، مدرسہ امام المہدی(عج)، قم، ۱۴۰۶ق.
  • بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار وریاض زرلکی، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق.
  • بیرونی، ابوریحان، الآثارالباقیہ، دارصادر، بیروت.
  • حموی، شہاب الدین ابوعبدللہ یاقوت بن عبداللہ(م۶۲۶)معجم البلدان، بیروت،‌دار صادر، ط الثانیة، ۱۹۹۵.
  • خوارزمی، موفق بن احمد مکی، مقتل الحسین، تحقیق محمد سماوی، مطبعہ الزہراء، نجف، ۱۳۶۷ق.
  • دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داود، الاخبارالطوال، تحقیق عصام محمد الحاج علی، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۱ق.
  • صدوق، محمد بن علی بن حسین، الامالی، موسسہ البعثہ،قم، ۱۴۱۷ق.
  • صدوق، عیون اخبارالرضا، تصحیح حسین اعلمی، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • صفارقمی، محمد بن حسن، بصائرالدرجات، تصحیح محسن کوچہ باغی، کتابخانہ آیہ اللہ مرعشی نجفی، قم، ۱۴۰۴ق.
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، تحقیق ابراہیم بہادری و محمدہادی‌بہ، چ۲، اسوہ، قم، ۱۴۱۶ق.
  • طبری، عمادالدین حسن بن علی، کامل بہایی، موسسہ طبع و نشر، قم، ۱۳۳۴.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الملوک و الامم، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، روائع التراث العربی، بیروت.
  • قمی، عباس، منتہی الآمال، مطبوعاتی حسینی، تہران، ۱۳۷۲ش.
  • مفید، الارشاد فی معرفہ حجج اللہ علی العباد، تحقیق موسسہ آل البیت، الموتمر العالمی الالفیہ الشیخ المفید، قم، ۱۴۱۳ق.
  • مفید، امالی، تحقیق حسین استادولی و علی اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۰۳ق.
  • مہاجر، جعفر، کاروان غم، سید حسین مرعشی، انتشارات مسافر، تہران، ۱۳۹۰ش.
  • نعیمی، عبدالقادر بن محمد، الدارس فی تاریخ المدارس، دمشق، ۱۳۶۷ق.
  • قمی، عباس، منتہی الآمال، مطبوعاتی حسینی، تہران، ۱۳۷۲ش.
  • ہروی، علی بن ابی‌بکر، الاشارات الی معرفہ الزیارات، بہ کوشش جانین سوردیل، دمشق، ۱۹۵۳م.
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ یعقوبی،‌دار صادر، بیروت.