کردوس بن زہیر تغلبی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کردوس بن زہیر تغلبی
آرامگاه شهدای کربلا2.jpg
گنج شہدا، حرم امام حسینؑ
معلومات شخصیت
نام: کردوس بن زہیر بن حرث تغلبی
نسب: قبیلہ تغلب
مشہور اقارب: قاسط بن زہیر تغلبی و مقسط بن زہیر تغلبی
مقام سکونت: کوفہ
شہادت: 61ھ
مقام دفن: کربلا (عراق)
اصحاب: امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ
سماجی خدمات: جنگ جمل، صفین، نہروان اور واقعہ کربلا میں شرکت


کُرْدُوس بن زُہیر بن حرث تغلبی(شہادت 61ھ) امام علیؑ کے اصحاب اور شہدائے کربلا میں سے تھے۔

کردوس صفین، جمل اور نہروان تینوں جنگوں میں امام علیؑ کے لشکر میں شامل تھے۔ واقعہ کربلا اپنے بھائیوں قاسط اور مقسط کے ساتھ رات کی تاریکی میں امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے اور عاشورا کے دن شہادت کے مقام پر فائز ہو گئے۔

نسب

کردوس بن زہیر بن حرث تغلبی کا تعلق قبیلہ تغلب سے تھا اسی بنا پر کتاب ابصار العین میں ان کا نام تغلبی قبیلے کی شہداء میں آیا ہے۔[1] جنگ صفین کے واقعات میں آپ کو "قبیلہ تغلب" کے سردار کے بیٹے کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔[2]

کردوس بن زہیر کے متعلق دوسرے نام بھی ذکر ہوئے ہیں: جیسے کرش، کردوش اور اسی طرح سے کردوس بن عبد اللہ بن زہیر۔[3]

جنگ جمل، صفین و نہروان میں شرکت

کتاب ابصار العین کے مصنف محمد بن طاہر سماوی (1292-1370ھ) کے مطابق کردوس جنگ جمل، صفین اور نہروان میں امام علیؑ کے سپاہیوں میں سے تھا اسی بنا پر ان جنگوں خصوصا جنگ صفین میں ان کا تذکرہ آیا ہے۔[4] اسی سماوی انہیں امام حسنؑ کے اصحاب میں بھی شمار کرتے ہیں۔[5]

کربلا میں شہادت

کردوس کوفہ میں زندگی بسر کرتا تھا، امام حسینؑ کے کربلا میں پہنچنے کے بعد اپنے بھائیوں قاسط اور مقسط کے ساتھ راتوں رات امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے اور عاشورا کے دن شہادت کے مقام پر فائز ہو گئے۔[6]

شہدائے کربلا کی زیارت میں آپ اور آپ کے بھائی قاسط کے نام یوں سلام پیش کی جاتی ہے؛ "السلام علی قاسط و کردوس إبنی زہیر التغلبیین"۔ [7]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۱۹۹-۲۰۰۔
  2. منقری، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص۴۸۷
  3. حسینی حائری، ذخیرۃ الدارین، بی‌تا، ص۵۴۵
  4. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۲۰۰۔
  5. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۲۰۰۔
  6. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۲۰۰۔
  7. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۴۹۴؛ شہید اول، المزار، ۱۴۱۰ق، ص۱۵۳؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۸، ص۲۷۳۔


مآخذ

  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۴۱۹ق۔
  • حسینی حائری شیرازی، سیدعبدالمجید ، ذخیرۃ الدارین فیما یتعلق بمصائب الحسین علیہ‌السلام و اصحابہ، قم، نشر زمزم ہدایت، بی‌تا۔
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیہ‌السلام، قم، انتشارات دانشگاہ شہید محلاتی، چاپ اول، ۱۴۱۹ق۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، المزار، تحقیق مدرسہ امام مہدی علیہ‌السلام، محمدباقر موحد ابطحی اصفہانی، قم، مدرسہ امام مہدی علیہ‌السلام، چاپ اول، ۱۴۱۰ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت،‌دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق۔
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، تحقیق عبدالسلام محمد ہارون، القاہرۃ، المؤسسۃ العربیۃ الحدیثۃ، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۳۸۲ق، افست قم، منشورات مکتبۃ المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ق۔