عثمان بن حنیف

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو عبد اللہ
عثمان بن حنیف
وفات مدینہ
وجۂ وفات طبعی وفات
قومیت عرب
وجہِ شہرت رسول اللہ(ص) اور امام علیؑ کے صحابی
مذہب اسلام

عثمان بن حُنَیف اوسی انصاری رسول خدا اور امام علی کے اصحاب میں ہیں۔ عثمان جنگ جمل سے پہلے تک بصرے کے والی تھے۔ جب جنگ جمل برپا کرنے والے بصرہ میں داخل ہوئے تو آپ نے ان سے مقابلہ کیا۔ان کے درمیان سخت جنگ ہوئی اور باآخر دونوں کے درمیان معاہدہ ہوا کہ حضرت علی کے یہاں آنے تک کسی قسم کا کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ معاہدے کے باوجود زبیر اور اسکے ساتھیوں نے رات کی تاریکی میں شب خون مارا عثمان کے بہت سے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور انہیں گرفتار کر کے شکنجہ دیا اور پھر رہا کر دیا۔ وہ رہائی پانے کے بعد دوبارہ حضرت علی سے مل گئے۔

نسب، کنیت، وفات

عثمان بن حنیف بن واہب اوسی انصاری امام علی(ع) کی شہادت کے بعد معاویہ کے زمانے میں کوفہ میں فوت ہوئے۔[1] انکی والدہ کا نام ام سہل بنت رافع بن قیس بن معاویہ بن امیہ ابن زید بن مالک بن عوف تھا. ان کی کنیت ابو عبدالله تھی۔[2]

عثمان سہل بن حنیف اور عباد بن حنیف کے بھائی اور ابوامامۃ بن سہل بن حنیف کے چچا تھے۔ ابن حبان عثمان کی وفات زمانۂ معاویہ میں مدینہ میں سمجھتا ہے۔[3]

زمانۂ پیامبر(ص)

عثمان نے جنگ احد اور بعد کی جنگوں میں شرکت کی اور رسول اللہ سے روایت نقل کی ۔[4]

زمانۂ خلفا

فضل بن شاذان سے منقول ہے کہ عثمان اور اسکا بھائی سهل رسول اللہ کے وصال کے بعد حضرت علی کی جانب لوٹنے والوں میں سے پہلے افراد ہیں ۔[5]

حضرت عمر کے زمانے میں عراق کی زمینوں کی انداز گیری خراج اور جزیہ لینے کیلئے عثمان کو بھیجا گیا ۔[6]

امیرالمؤمنین(ع) اور جنگ جمل

اصل مضمون: جنگ جمل

عثمان اپنے بھائی سہل کے ہمراہ شرطہ الخمیس ( امام علی(ع) کے خصوصی اصحاب ) میں سے تھے.[7]

امام علی(ع) کے حکومت کے آغاز سے ہی عثمان والئے بصرہ تھے ۔اس زمانے میں بصرے کے ایک بزرگ کی دعوت میں شرکت کی بدولت حضرت علی نے ایک عتاب آمیز خط انہیں لکھا۔[8]

عہد شکن بصرے کے اطراف میں

اصل مضمون: ناکثین

بصره پر عثمان کی حاکمیت کے دوران جنگ جمل ہوئی. جب ناکثین اطراف بصرہ پہنچے تو انہوں نے عثمان کو خط لکھا کہ دار الامارہ خالی کر کے بصرہ انکے حوالے کر دے ۔خط پڑھنے کے بعد اسنے احنف بن قیس سے مشورہ کیا.احنف نے : وہ خون عثمان کا بدلہ لینے کیلئے عائشہ بنت ابی بکر کو لے کر آئیں ہیں حالانکہ وہ خود عثمان کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کرنے والے تھے اور خود ہی انہوں نے اسکا خون بہایا۔میں دیکھ رہا ہوں وہ دشمنی ایجاد کئے اور خون خرابہ کئے بغیر ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔اس نے تجویز دی اور کہا: اس سے پہلے کہ بصری لوگ تمہاری اطاعت سے نکل جائیں تم ان سے جنگ کرو ۔[9]

عثمان نے اسکی تائید کی لیکن کہا کہ میں جنگ کی ابتدا کو اچھا نہیں سمجھتا اور حضرت علی کی جانب سے کسی دستور آئے بغیر کوئی اقدام نہیں کرونگا۔حکیم بن جبلہ عبدی کی باری آئی تو اس نے بھی احنف کی تائید کی اور عثمان نے وہی پہلے والا جواب دیا ۔[10]

امام علی(ع) کا خط

اسکے بعد امام علی نے ربذہ سے درج ذیل خط لکھا:

طلحہ و زبیر کی عہد شکنی کے پیش نظر عثمان سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں اطاعت خدا اور انکے عہد و پیمان کی یاد دہانی کروائے اگر وہ اس کا مثبت جواب دیں تو ان سے نیکی سے پیش آئے اور اگر وہ عہد کے خلاف عمل کریں اختلاف پیدا کریں تو ان سے جنگ کرو۔[11]

عثمان نے خط پڑھنے کے بعد ابوالاسود دئلی اور عمران بن حصین خزاعی کو گفتگو کیلئے حضرت عائشہ،طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا لیکن نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو اس نے مسلح ہونے کا حکم دیا۔[12]

جنگ، عہد نامہ،عہد شکنی

طرفین کی گفتگو کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا دونوں گروہوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی اور آخرکار شرائط کے ساتھ معاہدہ طے پایا کہ دونوں فریقین حضرت علی کے آنے تک جنگ نہیں کریں گے۔پس عثمان دارالامارہ واپس آگیا اور ساتھیوں کو اسلحہ رکھنے اور زخمیوں کے علاج کا حکم دیا ۔[13]

لیکن طلحہ و زبیر اپنی صلح پر باقی نہیں رہے اور انہوں نے بصرے کے بعض قبائل اپنے ساتھ ملا لیے اور ایک رات اس مسجد میں داخل ہو گئے جس میں عثمان امامت کے فرائض انجام دیتا تھا ،اس کی امامت میں مانع ہوئے ۔جب عثمان کے ساتھی اسکے کے دفاع کیلئے اٹھے تو زبیر کے ساتھیوں نے ان پر ہلہ بول دیا ۔ انہوں نے عثمان کو زد و کوب کیا اس کے سر،ابرو،پلکوں اور چہرے کے تمام بال نوچ ڈالے۔ اسے اور اسکے 70 کے قریب ساتھیوں کر پکڑ کر حضرت عائشہ کے پاس لے گئے۔اس نے ابان بن عثمان بن عفان کو حکم دیا کہ وہ عثمان کی گردن اڑا دے کیونکہ انصار نے تمہارے باپ کو قتل کیا تھا اور اسکے قتل میں مددگار رہے۔ عثمان نے جواب میں کہا:اے عائشہ ، طلحہ و زبیر! اگر تم نے مجھ پر تلوار اٹھائی تو میں قسم اٹھاتا ہوں کہ علی کی جانب سے مدینے کا گورنر میرا بھائی سہل بن حنیف تمہارے خاندان پر تلوار اٹھا لے گا اور ان میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑے گا ۔پس انہوں نے اپنے خاندان کی نیستی و نابودی کے ڈر سے عثمان کے قتل سے پرہیز کیا۔[14] البتہ قطب راوندی نے ڈرانے کا واقعہ عثمان کی بیوی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔[15]

اصحاب عثمان کا قتل

حضرت عائشہ نے زبیر بن عوام کو پیغام بھجوایا کہ سیابجہ(بصرے کے بیت المال کے محافظ قبیلے زط اور سیابجہ) کے ستر ساتھیوں کو قتل کر دے۔ زبیر نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر عائشہ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے ان کے سر قلم کر دئے ۔ باقی بچ جانے والے محافظوں نے کہا:ہم امیر المؤمنین کے آنے تک بیت المال تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ زبیر نے رات کی تاریکی میں ان پر حملہ کیا اور انکے 50 افراد اسیر کئے اور انہیں قتل کر دیا۔ابو مخنف کی مطابق اس دن سیابجہ قبیلے کے 400 افراد قتل ہوئے۔[16]

عثمان کی رہائی

عثمان نے ان سے رہائی پائی تو بصرہ سے نکل کر امیر المؤمنین کے پاس پہنچا اور روتے ہوئے کہا :آپ سے بڑھاپے میں جدا ہو اور جوانی میں واپس لوٹ آیا ہوں۔(بالوں کے نوچے جانے کی طرف اشارہ ہے)۔ امام علی نے یہ سن کر تین بار[17] إِنَّا لِلَّہ وَإِنَّا إِلَیهِ رَ‌اجِعُونَ پڑھا۔

حوالہ جات

  1. الامین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۲.
  2. خطیب البغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۹۱.
  3. ابن حبان، مشاہیر علماء الامصار، ص۴۹.
  4. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۹۱.
  5. طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ج۱، ص۱۷۷-۱۸۳.
  6. الامین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۳۹.
  7. برقی، الرجال، ص۴.
  8. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۳۹.
  9. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۰-۱۳۹.
  10. الامین، اعیان الشیعة، ج۸، ص۱۴۰.
  11. الامین، اعیان الشیعة، ج۸، ص۱۴۰.
  12. الامین، اعیان الشیعة، ج۸، ص۱۴۰.
  13. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۱.
  14. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۱؛ راوندی، منہاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص۱۵۸.
  15. راوندی، منہاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص۱۵۸.
  16. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۱-۱۴۲.
  17. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۴۲.


مآخذ

  • ابن حبان، مشاہیر علماء الامصار، تحقیق: مرزوق علی ابراہیم، دارالوفاء للطباعہ والنشر والتوزیع، المنصورة، ۱۴۱۱ق.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، حققہ واخرجہ حسن الامین، ج۸، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • برقی، احمد بن محمد بن خالد، الرجال، تہران: دانشگاه تہران، بی‌تا.
  • راوندی، قطب الدین، منہاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ، ج۲، تحقیق: السید عبداللطیف الکوہکمری، قم: مکتبہ آیت اللہ المرعشی العامہ، ۱۴۰۶ق.
  • خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ق-۱۹۹۷م.
  • طوسی، اختیار معرفہ الرجال، تصحیح و تعلیق: میرداماد الاسترآبادی، تحقیق: سید مہدی الرجائی، قم: مؤسسہ آل البیت(ع)، ۱۴۰۴ق.