زیارت اربعین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


زیارت اربعین [عربی میں: زيارة الإمام الحسين ( عليه السلام ) يوم الأربعين]، روز اربعین کی زیارت مخصوصہ ہے اور ائمۂ شیعہ نے اس کی بہت سفارش کی ہے جس کی بنا پر شیعیان اہل بیت(ع) اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

شیعیان عراق روز اربعین کربلا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر عراقی یہ راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔ اربعین کے جلوس شیعیان عالم کے عظیم ترین اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں۔

زیارت اربعین کے سلسلے میں ہدایات

روز اربعین سید الشہداء علیہ السلام 20 صفر ہی کا دن ہے۔ شیخ طوسی کتاب تہذیب الاحکام اور مصباح المتہجد میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا: مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں:

  • ہر شب و روز میں 51 رکعتیں نماز (یعنی 17 رکعتیں واجب اور نوافل کی 34 رکعتیں) بجا لانا؛
  • زیارت اربعین؛
  • انگشتری داہنے ہاتھ میں پہننا؛
  • سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا؛
  • نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز سے پڑھنا۔[1]

اربعین کے روز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھنا دو صورتوں میں وارد ہوا ہے۔

زیارت اربعین کی پہلی روایت

یہ وہ زیارت ہے جو شیخ طوسی نے اپنی دو کتابوں تہذیب الاحکام [2]اور مصباح المتہجد[3] میں صفوان جمال سے روایت نقل کی ہے۔ صفوان جمال کہتے ہیں: میرے مولا امام صادق علیہ السلام نے زیارت اربعین کے بارے میں مجھ سے فرمایا: "جب دن کا قابل توجہ حصہ چڑھ جائے تو یہ زیارت پڑھو: متن، ترجمہ فارسی، زیارت اربعین بمع اردو ترجمہ۔

پس دو رکعت نماز بجا لاؤ اور جو چاہتے ہو اللہ سے مانگو اور واپس چلے آؤ۔

زیارت اربعین کی دوسری روایت

یہ وہ زیارت ہے جو جابر بن عبداللہ انصاری سے مروی ہے اور اس کی کیفیت وہی ہے جو عطاء سے نقل ہوئی ہے۔ (عطاء ظاہرا وہی عطیۂ عوفی کوفی ہیں جو اربعین کے موقع پر جابر کے ہمراہ تھے، جب وہ زیارت امام حسین علیہ السلام کے لئے کربلا جارہے تھے)۔ عطاء کہتے ہیں:

میں 20 صفر کو جابر بن عبداللہ انصاری کے ساتھ تھا، جب ہم غاضریہ پہنچے تو انھوں نے آب فرات سے غسل کیا اور ایک پاکیزہ پیراہن ـ جو ان کے پاس تھا ـ پہن لیا اور پھر مجھ سے کہا: "اے عطا! کیا عطریات میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟" میں نے کہا: میرے پاس "سعد"[4] ہے۔ جابر نے اس میں کچھ لے لیا اور اپنے سر اور بدن پر مل لیا؛ ننگے پاؤں روانہ ہوئے حتی کہ قبر مطہر پر پہنچے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہوگئے اور تین مرتبہ "اللہ اکبر" کہا اور گر کر بےہوش ہوئے۔ ہوش میں آئے تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: "السلام علیکم یا آل اللہ..." جو درحقیقت وہی نصف رجب کو وارد ہونے والی زیارت ہے۔[5]. متن، ترجمہ و صدای زیارت امام حسین (ع) در نیمہ ماہ رجب۔ اربعین کی دوسری زیارت بمع اردو ترجمہ

اربعین کے جلوس

مفصل مضمون: اربعین کے جلوس

چونکہ ائمہ(ع) نے زیارت اربعین کی بہت سفارش فرمائی ہے لہذا شیعیان عالم بالخصوص شیعیان عراق ہر سال روز اربعین ملک کے تمام علاقوں سے کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ اکثر زائرین پائے پیادہ سفر کرتے ہیں اور اربعین کے یہ جلوس شیعیان عالم کے عظیم ترین اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ 2013 عیسوی میں کو پیشین گوئی ہوئی تھی کہ تقریبا دو کروڑ زائرین کربلا پہنچیں گے[6] بعض رپورٹوں میں کہا گیا کہ سنہ 1435 ہجری قمری (بمطابق 2013 عیسوی) میں ڈیڑھ کروڑ زائرین کربلا میں جمع ہوئے تھے۔[7]

قاضی طباطبائی کے نام سے معروف محمد علی قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ اربعین کے دن کربلا کا سفر اختیار کرنا شیعہ کے درمیان رائج تھا اور وہ حتی کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں بھی شیعہ اس سفر کے پابند تھے۔[8]

حوالہ جات

  1. طوسی، تہذیب الاحكام، ج 6، ص 52۔
  2. طوسی، تہذیب الاحکام، ج 6، ص 113۔
  3. مصباح المتہجد، ص 787۔
  4. ایک قسم کی خوشبو۔
  5. شیخ عباس قمي، مفاتيح الجنان، باب سوم، زيارت امام حسين در روز اربعين
  6. سایت خبری فردا
  7. سايت خبري فردا
  8. قاضی‌ طباطبایی، تحقيق دربارہ اول اربعين حضرت سيدالشہدا(ع)، ص2۔


مآخذ

  • طوسی، محمد بن الحسن، تہذيب الاحكام، دار الكتب الاسلاميہ، تہران، 1407 ہجری قمری.
  • قاضی طباطبایی، سيد محمد علی، تحقيق دربارہ اول اربعين حضرت سيدالشہدا(ع)، بنياد علمی و فرہنگی شہید آيت اللہ قاضی طباطبايی، قم، 1368ہجری شمسی۔
  • قمی، شیخ عباس،‌ مفاتیح الجنان.

بیرونی ربط