محمد علی عمری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ محمد علی عمری
محمد علی عمری.jpg
کوائف
مکمل نام محمد علی عمری
تاریخ ولادت 1327 ہجری قمری
تاریخ وفات 1432 ھ، مدینہ
علمی معلومات
مادر علمی نجف اشرف
اساتذہ محمد تقی فقیہ، محمد جواد مغنیہ، محمد رضا مظفر، ضیاء الدین عراقی، میرزا نائینی
خدمات
سیاسی سعودی شیعہ رہبر، خاص طور پر نخاولہ جماعت کے لئے
سماجی تعمیر مسجد و حسینیہ، مدینہ میں حوزہ علمیہ، احیاء مناسبات اسلامی و شیعی


شیخ محمد علی العمری (1327۔1432 ھ) سعودی عرب کے شیعہ عالم دین، اہل مدینہ اور سعودی شیعوں خاص طور پر نخاولہ جماعت کے رہبران میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا سلسلہ نسب عثمان بن سعید عمری، امام زمانہ علیہ السلام کے نائب خاص سے ملتا ہے۔ ان کے نفوذ اور دینی و سماجی اثر و رسوخ کا دائرہ جدہ اور مکہ تک بھی کہا جاتا ہے۔ سعودی حکومت ان کے ذریعہ سے مدینہ کے شیعوں سے رابطہ برقرار کرتی تھی۔ انہیں سعودی کی آل سعود حکومت کی طرف سے کئی بار جیل اور پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اور ایک بار وہ پھانسی کے ناکام پھندے سے بھی واپس آئے۔ انہیں شیعہ مراجع تقلید کی طرف سے سعودی عرب کے شیعوں کی نمائندگی بھی حاصل تھی۔

سلسلہ نسب

محمد علی عمری 1327 ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا سلسلہ نسب امام زمانہ علیہ السلام کے نائب خاص عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد بن عثمان عمری تک منتہی ہوتا ہے اور آخر میں ان کا سلسلہ نسب قبیلہ خزرج جو مدینہ کے دو اہم ترین قبیلہ میں سے ایک تھا، تک منتسب ہے۔[1] شیخ عمری کے اجداد علمی و دینی امور کی فعالیتوں کے ساتھ ساتھ زراعت سے مربوط کام بھی انجام دیا کرتے تھے۔ اسی سبب سے ان کے خاندان والوں کو نخاولہ یا النخیلین یعنی کھجور والے بھی کہا جاتا ہے۔[2]

تعلیم و تحصیل

15 یا 16 سال کی عمر میں انہوں نے نجف اشرف کا سفر کیا اور وہاں حوزہ علمیہ میں تحصیل علم میں مشغول ہو گئے اور حوزہ کے مقدمات و سطوح کے مراحل کو مکمل کرنے کے بعد درس خارج میں وارد ہوئے۔[3] انہوں نے کچھ عرصہ حوزہ علمیہ قم اور مشہد میں بھی گذارا اور وہاں کے علماء سے استفادہ کیا۔[4]

اساتذہ

شیخ عمری کے نام آیت اللہ خامنہ ای کا وکالت نامہ
  • سید محمد باقر شخص احسائی: انہوں نے ان کی تعلیم و تربیت کااہتمام کیا اور ان سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کی۔
  • محمد تقی فقیہ

مدینہ واپسی

1370 ق میں وہ آیت اللہ سید محسن الحکیم کی مرجعیت کے شروع میں ان کے حکم پر مدینہ واپس آ گئے اور مدینہ کے شیعوں کی رہبری کی ذمہ داری قبول کیا۔ وہ اس زمانہ میں بہت سے مراجع تقلید کے نمائندے تھے جیسے:

خدمات

شیخ عمری نے بہت سی خدمات انجام دیں ہیں جن میں مساجد و امام بارگاہوں کی تعمیر اور اسلامی و شیعی مناسبات کا احیاء کرنا شامل ہیں۔ نخاولہ کے مشہور ترین علاقہ میں شیعوں کا امام باڑہ ہے کہ جو شیخ عمری کے مشہور مزرعہ کے درمیان محصور ہے۔ اسی طرح سے انہوں نے شہر مدینہ میں حوزہ علمیہ کی تاسیس کی ہے جس میں حوزہ کی ابتدائی تعلیم سے لیکر درس خارج تک کے دروس تدریس ہوتے ہیں۔ مسجد اور ان کا دفتر اسی مزرعہ میں واقع ہیں جو شیخ عمری کے مزرعہ کے نام سے معروف ہے۔ رات کو بہت سے زائرین جن میں ایرانی بھی ہوتے ہیں، وہاں نماز کے لئے جاتے ہیں۔ وہاں پر اذان میں اشھد ان علیا ولی اللہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح سے انہوں نے وہاں زائرین کے لئے ایک مہمان خانہ مضیف امام حسن علیہ السلام کے نام سے بنایا ہے اور مذہبی مناسبتوں میں وہاں پر محافل و مجالس منقعد ہوتی ہیں۔[6]

قید و ناکام پھانسی

شیخ عمری کی تشییع جنازہ کا ایک منظر

شیخ عمری نے اپنی عمر کے 45 سال سعودی عرب کی جیل میں گذارے اور انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے کچھ سال کے بعد جیل سے آزاد ہوئے۔ آل سعود کی عدالت میں کئی بار انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے ان کی پھانسی ٹل گئی۔ آخری بار ان کے پھانسی کے تمام مقدمات فراہم ہوگئے لیکن وہ بطور معجزہ اس سے نجات پا گئے۔ اس پھانسی سے نجات پانے کی داستان خود وہ اس طرح سے بیان کرتے ہیں: مجھے پھانسی دینے کے تمام امکانات فراہم ہونے کے بعد، کئی مہینے جیل میں رکھا گیا۔ آخر کار جب پھانسی کی تاریخ آ گئی تو مجھے ملاء عام میں ہزاروں شیعوں اور بعض سعودی افسروں کے سامنے پھانسی کی جگہ تک لے جایا گیا۔ رسی میری گردن میں ڈال دی گئی، میں نے حضرت زہرا (س) سے توسل کیا۔ جب پھانسی کا بھندا کھینچا گیا تو تقریبا 30 سکینڈ کے بعد رسی ٹوٹ گئی اور میں بیہوش ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو 35 دن گذر چکے تھے اور میں مدینہ کے ایک ہاسپیٹل میں ایڈمٹ تھا اس وقت مجھے سمجھ میں آ چکا تھا کہ میں نجات پا چکا ہوں۔[7]

وفات

20 صفر 1432 ق میں 105 سال کی عمر میں شیخ محمد علی العمری کی وفات ہوئی[8] اور انہیں قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔[9] ان کی تدفین میں آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے ایک وفد نے شرکت کی۔[10] بہت سے مراجع تقلید نے ان کے انتقال پر تعزیتی خطوط کے ذریعہ تسلیت پیش کی۔

حوالہ جات

  1. حسينيہ شيعيان مدينہ، محل نيايش با پروردگار، خبرگزاری حج و زیارت.
  2. حسينيہ شيعيان مدينہ، محل نيايش با پروردگار، خبرگزاری حج و زیارت.
  3. ۳٫۰ ۳٫۱ پایگاہ اینترنتی شیخ محمد علی عمری
  4. تابناک وب سائٹ
  5. تقریب نیوز ایجنسی
  6. حوزہ ویب سائٹ
  7. رسول جعفریان، مجلہ مجمع گنجینہ، شمارہ‌ہای ۴۶ و ۴۷ و ۴۸، ص۱۱ با تلخیص.
  8. تابناک ویب سائٹ
  9. ابنا نیوز ایجنسی
  10. ابنا نیوز ایجنسی


منابع

  • رسول جعفریان، مجلہ مجمع گنجینہ، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)
  • پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ
  • حسينيہ شيعيان مدينہ، محل نيايش با پروردگار، خبرگزاری حج و زیارت
  • خبرگزاری ابنا
  • پایگاہ اینترنتی شیخ محمد علی عمری
  • علامہ العمري بہ روايت فرزند، خبرگزاری تقریب