حبیب بن مظاہر اسدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شہید کربلا
حبیب بن مظاہر
جلیل القدر صحابی

حبیب بن مظاہر کی ضریح
وفات روز عاشورا، سنہ 61 ہجری
کربلا
وجۂ وفات معرکہ کربلا
مدفن کربلا، مرقد امام حسینؑ کے پہلو میں۔

حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی کو دیکھا تو چپکے سے کوفہ چھوڑ کر امام حسینؑ سے جا ملے اور 75 سال کی عمر میں امام حسینؑ کی رکاب میں جام شہادت نوش کرگئے۔

نام، کنیت اور نسب

حبیب بن مُظَہَّر (یا مُظاہر) بن رئاب ابن اشتر بن حجوان بن فقعس بن طریف بن عمرو بن قیس بن حارث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد اسدی کندی فقعسی۔[1]

متقدم مآخذ میں ان کے والد کا نام "مظاہر"[2] کی صورت میں اور [3] بعض منابع میں مُظَہَّر کی صورت میں[4] بیان ہوا ہے۔ مامقانی[5] نے افواہ عامہ اور زیارات سے استناد کرتے ہوئے "مُظاہر" کو صحیح گردانا ہے۔ تاہم سید محسن امین عاملی لکھتے ہیں: زیادہ تر قدیم تاریخی اور غیر تاریخی کتب میں "مُظَہَّر بر وزنِ "مُطَہَّر" منقول ہے اور صحیح بھی یہی ہے اور یہ جو متاخرہ کتب میں "مظاہر" لکھا جاتا ہے، قدما کے ضبط و ثبت کے خلاف ہے۔[6]

فضائل

حبیب مرد عابد و پارسا تھے، تقوی اور حدود الہیہ کی رعایت کرتے تھے، حافظ قرآن تھے، اور ہر شب عبادت و مناجات میں مصروف ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے بقول ہر شب ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔[7] پاک و پاکیزہ اور سادہ زندگی گذارتے تھے، اس قدر دنیا سے بے رغبت تھے اور زہد کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل بنائے ہوئے تھے کہ جس قدر بھی انھیں مال و دولت اور امان ناموں کی پیشکش ہوئی، انھوں نے قبول نہ کیا اور کہا: "اگر ہم زندہ رہیں اور ہو امام حسینؑ کی مظلومیت کی حالت میں قتل کردیں تو تو رسول خداؐ کے حضور ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا (اور ہمیں معاف نہ کیا جائے گا)۔[8]

عصر نبوی میں

واضح نہیں ہے کہ حبیب صحابہ میں سے ہیں یا تابعین میں سے تاہم ابن کلبی[9] اور ابن حجر عسقلانی[10] نے لکھا ہے کہ انہیں رسول خداؐ کی صحبت کی سعادت ملی ہے۔

شیخ طوسی[11] کا کہنا ہے کہ امام علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے اصحاب میں سے ہیں لیکن انھوں نے صحابہ کی فہرست میں ان کا نام درج نہيں کیا ہے اور شیخ طوسی کے اس کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حبیب صحابہ میں سے نہیں ہیں۔ اسی طرح استیعاب اور اسد الغابہ کے مؤلفین نے بھی انہیں رسول اللہ کے صحابہ میں نہیں لکھا ہے۔[12]

امام علی کا دور

حبیب مدینہ چھوڑ کر امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ کوفہ چلے گئے اور آپؑ کے ساتھ جہاد و کوشش میں مصروف ہوئے اور آپؑ کے اصحاب خاص کے زمرے میں قرار پائے اور آپؑ کے علوم کے حاملین میں شمار ہوئے۔[13] حضرت علیؑ نے انہیں علم منایا و بلایا [14] عطا کیا تھا۔[15] حبیب شرطۃ الخمیس کے رکن خاص تھے اور شرطۃ الخمیس خطرات کی صورت میں فوری رد عمل کے لئے تشکیل یافتہ مسلح دستے (جوکھم دستے یا Task Force) کا نام ہے جس میں امام علیؑ کے مخلص اور مطیع ساتھی شامل تھے۔[16] واقعۂ عاشورا سے برسوں قبل میثم تمار کا بنو اسد کی مجلس سے گذر ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کو شہادت کی بشارت اور شہادت کی کیفیت کی خبر دی اور اسی علم منایا کا نتیجہ تھا جو انھوں نے امیر المؤمنینؑ سے سیکھا تھا اور وہ دونوں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر رکھتے تھے۔[17]

امام حسینؑ کا دور

کوفہ میں

معاویہ بن ابی سفیان کی موت (سنہ 60 ہجری) کے بعد حبیب اور کوفہ کہ بعض شیعہ اکابرین ـ منجملہ سلیمان بن صُرَد، مسیب بن نَجَبَہ اور رفاعہ بن شداد بجلی نے بیعت یزید سے انکار کیا اور امام حسینؑ کو خط لکھا اور آپؑ کو امویوں کے خلاف قیام کی دعوت دی؛[18] اور مسلم بن عقیل کوفہ آئے تو ان افراد نے ان کی نصرت کی۔

حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ خفیہ طور پر لوگوں سے مسلم کے لئے بیعت لیتے تھے اور اس راہ میں ان دو نے کوئی قصور روا نہيں رکھا۔[19]

ابن زیاد کوفہ آیا اور لوگوں پر دباؤ ڈالا تو انھوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑ اور بیعت توڑ دی چنانچہ قبیلۂ بنو اسد نے حبیب اور مسلم بن عوسجہ کو پناہ دی تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے اور موقع پاکر دونوں خفیہ طور پر کوفہ سے نکل گئے۔ وہ دن کی روشنی میں ابن زياد کے جاسوسوں اور گماشتوں کی نظروں سے کہیں چھپ جاتے تھے اور راتوں کو سفر کرتے تھے حتی کہ امام حسینؑ کی لشکر گاہ تک پہنچے۔ بالآخر وہ سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسینؑ کے قافلے سے جاملے۔[20]

کربلا میں

تفصیلی مضمون: واقعۂ عاشورا
حبیب نے کربلا پہنچتے ہیں ایک بار امامؑ کی نسبت اپنی وفاداری میدان عمل میں ثابت کردی۔ جب دیکھا کہ امامؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم اور آپؑ کے دشمنوں کی تعداد کثیر ہے تو امامؑ سے عرض کیا: "قریب ہی قبیلۂ بنو اسد کا مسکن ہے؛ آپ اجازت دیں تو میں جاکر آپ کی مدد کی دعوت دوں گا شاید خدا انہیں ہدایت دے"، امامؑ نے اجازت دی تو حبیب عجلت کے ساتھ اپنے قبیلے میں پہنچے اور ان کو موعظت و نصیحت کی لیکن عمر سعد نے ایک لشکر بھیج کر بنو اسد کو امامؑ کی طرف آنے سے روک لیا۔[21]

عصر تاسوعا

ایک شخص اس روز عمر سعد کا ایک خط امام حسین کے لئے لایا تو حبیب بن مظاہر نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ظلم و ستم والوں کے پاس مت جاؤ۔[22]

عصر تاسوعا حبیب بن مظاہر نے خیام امام پر حملے کا ارادہ رکھنے والی دشمن کی سپاہ کو نصیحت کرتے ہوئے امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے اوصاف بیان کئے اور انہیں جنگ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی۔[23]

شب عاشورا

شب عاشورا نافع بن ہلال نے حبیب کو اصحاب کی وفاداری اور استواری کے سلسلے میں زینب بنت علی کی فکرمندی سے آگاہ کیا تو حبیب اور ہلال مل کر اصحاب کی طرف گئے اور انہیں اکٹھا کرکے سب امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک خاندان رسولؐ کی حمایت و حفاظت کریں گے۔[24]

روز عاشورا

عاشورا کے دن امام حسینؑ نے اپنے قلیل لشکر کا میسرہ (بایاں بازو) حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور میمنہ (دایاں بازو) زہیر بن قین کے حوالے کیا اور پرچم اور قلب (مرکز) کی قیادت حضرت عباس کو سونپ دی۔[25]

امام حسینؑ نے لشکر یزید سے مخاطب ہوکر اپنا حسب و نسب بیان کیا اور اپنے فضائل گنواتے ہوئے رسول خداؐ کی حدیث هذان سيدا شباب اهل الجنة (یہ دو (امام حسنؑ اور امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں)، کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا "تمہارے درمیان ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ حدیث رسول اللہؐ سے سنی ہے؛ اس اثناء میں شمر بن ذی الجوشن نے کہا: "میں نے خدا کی عبادت شک و تردد کے ساتھ کی ہوگی اگر میں سمجھ لوں کہ کیا کہہ رہے ہو! حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: اے شمر! تم ستر شکوک کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو اور تم واقعی نہیں سمجھتے ہو کہ امامؑ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ تمہارا قلب سیاہ ہوچکا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے۔[26]

جنگ کے آغاز پر ـ جب عمر بن سعد بن ابی وقاص کے لشکر سے ایک ایک فرد نکل کر مبارز طلب کرتا تھا، حبیب اور بریر ہمدانی میدان میں آئے لیکن امام حسینؑ نے انہیں روکا۔

ابو ثمامہ نے امام حسینؑ کو وقت نماز کی یادآوری کرائی تو امامؑ نے فرمایا: ان (سپاہ یزید) سے کہو کہ جنگ روک لیں تاکہ ہم نماز ادا کریں۔ حصین بن نمیر (یا حصین بن تمیم) نے کہا: تمہاری نماز قبول نہیں ہوتی۔ حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: تم سمجھتے ہو کہ آل رسولؐ کی نماز قبول نہیں ہوتی اور تمہاری نماز قبول ہوگی اے شراب خوار (اے گدھے)! اور اس پر حملہ کیا اور اپنی شمشیر پیچھے ہٹتے ہوئے حصین کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا، حصین گھوڑے سے گر گیا اور اشقیاء نے لپک کر اسے حبیب کے فیصلہ کن حملے سے نجات دلائی۔[27]

مسلم بن عوسجہ لڑکر زخمی، اپنے خون میں رنگے ہوئے تھے، زندگی کے آخری لمحات گذار رہے تھے اور زمین پر گرے ہوئے تھے۔ امام حسینؑ حبیب کے ساتھ مسلم کے پاس پہنچے۔ [[امام حسینؑ نے فرمایا: اے مسلم! خدا تمہاری مغفرت فرمائے اور آیت قرآنیمِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً(ترجمہ: ایمان والوں میں کچھ اشخاص ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اسے جو انہوں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا تھا تو ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا وقت پورا کر لیا اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے بات میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی)" کی تلاوت کی؛ حبیب قریب آئے اور کہا: "تمہارا قتل ہونا، مجھ پر بہت بھاری ہے لیکن میں تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہوں؛ مسلم بن عوسجہ نے کمزور سی آواز میں کہا: "خداوند متعال تمہیں خیر کی بشارت دے"؛ حبیب نے کہا: "اگر میری شہادت قریب نہ ہوتی تو میرے لئے خوشی کی بات ہوتی کہ تم مجھے وصیت کرتے اور جو کچھ تمہارے لئے اہم ہے میں تمہارے لئے انجام دیتا اور دین اور قرابتداری کے حوالے سے تمہارا حق ادا کرتا؛ مسلم نے گوشۂ چشم سے سیدالشہداؑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں تمہیں امام حسینؑ کے حق میں وصیت کرتا ہوں، خدا تم پر رحم کرے "جب تک تمہارے بدن میں جان ہے ان کا دفاع کرو اور ان کی نصرت سے ہاتھ میں کھینچو"، حبیب بن مظاہر نے کہا: میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا اور عمل کرکے تمہاری آنکھیں روشن کروں گا۔[28]

روز عاشور حبیب کی رجز خوانی

روز عاشورا حملوں کے دوران حبیب بن مظاہر کا رجز کچھ یوں تھا:

أنا حبيب و أبي مُظَهَّر فارس هيجاء وحرب تسعر
میں حبیب ہوں اور میرے والد مُظَہَّر ہیں میدان کارزار کا شہسوار ہوں اور جنگ کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوں
وأنتم أعد عدة و أكثر ونحن أوفی منكم و أصبر
تمہیں عددی برتری حاصل ہے لیکن ہم (راہ حق میں) تم سے زیادہ وفادار اور زیادہ صابر ہیں۔
ونحن أعلی حجة وأظهر حقاً وأتقی منكم و أعذر
ہم اظہر اور اعلی حجت ہیں درحقیقت ہم تم سے زیادہ پرہیزگا اور زيادہ مقبول ہیں۔[29]


شہادت

حبیب بن مظاہر، عمر رسیدہ ہونے کے باوجود شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے شمشر زنی کر رہے تھے۔ انھوں نے 62 اشقیاء کو ہلاک کر ڈالا اور اسی اثناء میں بدیل بن مریم عقفانی نامی شقی نے ان پر حملہ کیا اور ان کی پیشانی کو تلوار کا نشانہ بنایا اور دوسرے تمیمی شخص نے نیزے سے حملہ کیا حتی کہ حبیب زین سے زمین پر آرہے، ان کی سفید داڑھی ان کے سر سے جاری خون سے خضاب ہوئی۔ بعد ازاں بدیل بن مریم نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔[30] بروایت دیگر، تمیمی[31] شخص بدیل بن مریم نے حبیب پر تلوار کا وار کیا اور دوسرے تمیمی نے نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ زمین پر آ رہے اور جب اٹھنا چاہا تو حصین بن نمیر نے ان کے سر کو تلوار سے زخمی کیا اور ابن صریم نے گھوڑے سے اتر کر ان کا سر تن سے جدا کیا۔[32] اسی اثناء میں امام حسین علیہ السلام حبیب کی بالین پر پہنچے اور فرمایا: عندالله احتسب نفسي وحماة اصحابي۔ یعنی: میں اپنی اور اپنے حامی اصحاب کی پاداش کی توقع خداوند متعال سے رکھتا ہوں۔[33]۔[34]۔[35]۔[36]۔[37]۔[38]۔[39]۔[40]۔[41] اور اس کے بعد مسلسل اس آیت کریمہ "إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ (ترجمہ: بلاشبہ ہم اللہ کے ہیں اور بلاشبہ ہمیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے)؛[42] کی تلاوت کرتے رہے۔[43] بعض مقاتل میں ہے کہ امام حسینؑ نے حبیب سے مخاطب ہوکر فرمایا: "لله درك يا حبيب، لقد كنت فاضلا تختم القرآن في ليلة واحدة"۔، (ترجمہ: آفرین ہو تم پر اے حبیب! تم ایک فاضل انسان تھے اور ہر شب ایک ختم قرآن کرتے تھے)۔[44]۔[45]۔[46]

حبیب بن مظاہر کا ایک کم سن فرزند قاسم تھا جس نے بالغ ہوکر اپنے والد کے قاتل بدیل بن مریم کو ہلاک کردیا۔[47]

مدفن

مرقد حبيب بن مظاهر.jpg

حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور قبیلے میں ہر د ل عزیز اور محترم تھے چنانچہ انھوں نے حبیب کو قبر امام حسینؑ سے 10 میٹر کے فاصل پر دفن کیا۔[48]

زیارت نامہ

پندرہ شعبان کے لئے مخصوص زیارتِ امام حسینؑ اور آپ ؑ کے[49] دوسرے زیارت ناموں میں حبیب بن مظاہر کا ذکر ہوا ہے۔[50] اور امام زمانہؑ کی طرف سے وارد ہونے والی زیارت ناحیہ میں حبیب کو ان الفاظ سے سلام کیا گیا ہے: "السلام علی حبيب بن مظاهر الاسدی"۔ سلام ہو حبیب بن مظاہر اسدی پر۔[51]

حوالہ جات

  1. الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص553۔
  2. ابن جریر، طبری، ج5، ص352، 355، 416۔
  3. بلاذری، انساب الاشراف ج2، ص462، 478، 480۔
  4. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج5، ص28، 34، 87۔
  5. تنقیح المقال فی علم الرجال، ج17، ص394ـ395۔
  6. الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص553۔
  7. شیخ عباس قمی، نفس المہموم، ص124۔
  8. الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص553۔
  9. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص126۔
  10. الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج 2، ص142۔
  11. رجال الطوسی ص60، 93، 100۔
  12. الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص554۔
  13. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص127۔
  14. | علم منایا و بلایا کے معنی کیا ہیں؟۔
  15. الحسین فی طریقہ الی الشہاده، ص6۔
  16. شیخ مفید، الاختصاص، ص2 تا 7۔
  17. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص127۔
  18. مفید، الارشاد، ص378۔
  19. محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص554۔
  20. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص128۔
  21. الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص554۔
  22. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص130۔
  23. بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص484۔
  24. موسوعة کلمات الامام الحسین علیہ السلام، ص407ـ408۔
  25. خوارزمی، مقتل الحسین ج2 ص7۔
  26. مفید، الارشاد، ص450۔
  27. شیخ عباس قمی، نفس المهموم، ص124۔
  28. سید بن طاووس، اللہوف، ص133۔
  29. سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص133۔
  30. شیخ عباس قمی، نفس المہموم، ص124۔
  31. موسوعة کلمات الامام الحسينؑ، ص446۔
  32. ابن اثیر، الکامل في التاريخ، ج2، ص567۔
  33. طبری، تاريخ الامم و الملوک، ج5 ص439-440۔
  34. خوارزمي، مقتل الحسين عليہ ‏السلام، ج2، ص192۔
  35. ابن اثیر، الکامل في التاريخ، ج2، ص567۔
  36. ابن اثیر، البدايہ و النهايہ، ج8، ص198۔
  37. بحار الانوار، ج45، ص27۔
  38. ، البحرانی، عوالم العلوم، ج17، ص27۔
  39. اعيان الشيعہ، ج1، ص206۔
  40. ابو مخنف، وقعة الطف، ص230-231۔
  41. موسوعة کلمات الامام الحسين، ص446۔
  42. سوره بقره، آيه 156۔
  43. مقتل الحسين مقرم، ص301
  44. موسوعة کلمات الامام الحسين، ص446، ص231۔
  45. مقرم، مقتل الحسين، ص301
  46. ينابيع المودہ، ج3، ص71۔
  47. سماوی، ابصارالعین فی انصارالحسین، ص127۔
  48. الامین، اعیان الشیعہ؛ ج1، ص613۔
  49. مجلسی، بحار، ج45 ص71 و ج98 ص27۔
  50. سید بن طاوس، اقبال الاعمال، ص229۔
  51. اقبال الاعمال، ج 3، ص 78 و 343۔


مآخذ

  1. مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ ساعدی خراسانی، تہران، انتشارات اسلامیہ، 1380.
  2. خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسینؑ۔ قم، انوار الہدی، 1418ه‍.ق.
  3. سید بن طاووس، علی بن موسی بن جعفر بن طاووس، لہوف، ترجمہ بخشایشی، قم، دفتر نوید اسلام، 1378.
  4. شیخ عباس قمی، نفس المہموم، ترجمہ کمره‌ای، تہران، چاپ اسلامیہ، 1376.
  5. سید محسن امین، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1986
  6. سماوی، محمد بن طاہر سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ترجمہ عباس جلالی، قم، انتشارات زائر، 1381.
  7. سید بن طاووس، علی بن موسی بن جعفر بن طاووس، اقبال الاعمال، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1996.
  8. ابن اعثم کوفی، کتاب الفتوح، بیروت، چاپ علی شیری، 1991.
  9. احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، دمشق، چاپ محمود فردوس العظم، 2000.
  10. موسوعة کلمات الامام الحسین علیہ السلام، اعداد لجنةالحدیث، معہد تحقیقات باقر العلوم علیہ السلام، قم: دار المعروف، 1374ش.
  11. عبداللّه مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، قم، چاپ محیی الدین مامقانی، 1423.
  12. محمد بن عمر کشی، اختیار معرفة الرجال [تلخیص] محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشoد، 1348ش.
  13. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، چاپ عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، 1415/1995.
  14. محمد بن حسن طوسی، رجال الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، 1415.
  15. موسوعۃ کلمات الامام الحسین علیہ السلام۔
  16. ابن اثیر، الکامل في التاریخ۔
  17. ابن اثیر، البدايہ و النهايہ۔
  18. لوط بن يحيى الأزدي الغامدي الكوفي، وقعۃ الطف یا مقتل ابی مخنف۔
  19. البحرانی، عبدالله بن نورالله، عوالم العلوم فی المقتل (ج17)، ط تبریز; 1295ہجری۔
  20. طبری، محمد بن جریر، تاريخ الامم و الملوک۔