صفیہ بنت حیی بن اخطب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صفیہ بنت حی بن اخطب
معلومات
مکمل نام صفیہ بنت حی بن اخطب
وجہ شہرت صحابیہ ،ام المؤمنین
محل زندگی مدینہ
مہاجر/انصار انصار
نسب بنی نضیر (یہودی قبیلہ)
شہادت/وفات 50ق
مدفن مدینہ



صَفِیّہ بنت حی بن اَخْطَب بن سعیہ بن ثعلبۃ بن عبید (متوفی 5 ق) نے اسلام سے پہلے دو مرتبہ شادی کی اور جنگ خیبر میں اپنے شوہر کے قتل کے بعد مسلمانوں کی اسیری میں آئی۔ رسول اللہ نے انہیں شادی کیلئے انتخاب کیا۔ تاریخی منابع ان کی تعریف بیان کرتے ہیں جبکہ بعض مآخذوں میں اسکا رسول اللہ کی ازواج سے ناراض ہونا مذکور ہوا ہے۔

حضرت عثمان کی خلافت کے دور میں ان کے محاصرے کے دوران خلیفہ کی مدد کی کوشش کی۔ تاریخی روایات کی روشنی میں وہ رسول خدا کی آخری زوجہ ہیں جو مدینہ میں وفات پانے کے بعد بقیع میں دفن ہوئیں۔

نسب

یہودیوں کی شاخ بنی نضیر سے تھیں کہ جو نسب کے لحاظ سے لاوی بن یعقوب کے نواسوں اور نضیر بن نحام بن ینحوم کی نسل سے اور حضرت موسی کے بھائی ہارون بن عمران کی اولاد میں سے شمار ہوتی ہیں۔ [1]

صفیہ بچپن میں اپنے باپ پدر اور اپنے چچا ابو یاسر بن اخطب کی بہت زیادہ توجہ کا مرکز رہی۔ ان کے چچا یہودیوں میں بنی نضیر کے سرداروں اور مدینہ کے اشراف میں سے شمار ہوتا تھا۔[2] رسول اللہ کی مدینے ہجرت کے بعد وہ آپؐ کے دشمنوں میں ہو گئے۔

ان کی والدہ کا نام «بره» بنت سموئیل تھا ۔[3]؛ وہ رفاعۃ بن سموئیل کی بہن تھی جو یہودیوں کے بنی قریظہ کی شاخ سے تھی۔[4]

قبل از اسلام

صفیہ مدینہ میں پیدا ہوئیں ان کی پہلی شادی سلّام بن مشکم قریظی سے ہوئی اور شادی کے کچھ عرصہ بعد اس سے جدا ہو گئں اور پھر کنانہ بن ربیع بن ابی‌الحقیق کی زوجیت میں آئیں۔[5]

اسیری

ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: ۲۵ عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: ۱ یا ۲ یا ۴ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: ۳ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: ۳ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: ۴ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: ۵ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: ۵ یا ۶ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: ۶ یا ۷ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: ۷ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: ۷ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: ۷ہجری)


صلح حدیبیہ کے بعد ۷ قمری میں رسول‌ خدا(ص) کی خیبر کے یہودیوں سے جنگ ہوئی اور آپ نے اس علاقے کو فتح کیا ۔اس جنگ میں اسکا شوہر کنانہ بن ربیع قتل ہوا [6] اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے حصے میں آیا ۔خیبر کے سات قلعوں میں سے ابی‌ الحقیق کے فرزندوں کے اختیار میں قموص نامی قلعہ کی فتح میں صفیہ سمیت دیگر خواتین اسیر ہوئیں ۔[7]

ازدواج با پیامبر

پیغمبر(ص) نے صفیہ کو دین اسلام کی دعوت دی تو اس نے اسلام قبول کیا. پھر آپؐ نے اسے آزاد کرنے کے بعد اپنی زوجیت کا شرف بخشا۔[8]

ابن حجر (م ۸۵۲ قمری) روایت کی بنا پر شادی کے وقت ان کا سن 17 سال کہتا ہے .[9] رسول اللہ(ص) سے شادی کی رسومات خیبر سے مدینہ آتے ہوئے انجام پائیں۔ [10] رسول خدا(ص) نے مدینہ میں صفیہ کو حارثہ بن نعمان کے گھر میں ٹھرایا۔ انصار کی خواتین اسے دیکھنے کیلئے وہیں جاتیں۔ حضرت عائشہ بھی وہیں اسے دیکھنے گئیں۔[11]

تاریخی مآخذ کے مطابق صفیہ کی اسیری کے بعد آپ نے اس کے چہرے پر نیل کا نشان دیکھا تو اس سے اسکے متعلق استفسار کیا۔ اس نے جواب دیا: یا رسول اللہ(ص) !میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند یثرب میں آسمان سے میرے دامن میں اتر گیا۔ میں نے اس خواب کو اپنے شوہر سے بیان کیا۔ اس نے مجھے کہا: گویا تم مدینے میں آنے والے بادشاہ کی بیوی بننا چاہتی ہو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے ایک ضرب لگائی...».[12]

خصوصیات

تاریخ صفیہ کو ایک حسین ،فاضلہ، عاقلہ اور حلیمہ خاتون کے طور پر ذکر کرتی ہے ۔[13] کہا گیا ہے کہ خیبر سے رخصت ہوتے وقت رسول اللہ(ص) کا اونٹ انکے پاس لایا گا تو سوار ہونے میں آسانی کے پیش نظر آپ نے اپنی ران آگے بڑھائی تو صفیہ ادب کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اپنی ران آپؐ کی ران رکھ کر سوار ہوئیں ۔[14]

رسول اللہ(ص) کے وصال کے نزدیک بیماری کے موقع پر صفیہ نے آپؐ سے کہا :خدا کی قسم !میں آپکو بہت چاہتی ہوں اور یہ پسند کرتی ہوں کہ آپ کی جگہ میں بیمار ہو جاؤں اور آپ تندرست و سالم ہو جائیں ۔[15]

دیگر ازواج نبی کی طرف سے آزار

تاریخی روایات میں پیغمبر(ص) کی ازواج کی طرف سے انہیں آزار پہنچانے کی روایات نقل ہوئی ہیں ۔[16] جیسا کہ آیا ہے کہ ایک روز آپؐ نے ان سے رونے کا سبب پوچھا تو جواب دیا: آپکی دو ازواج نے مجھ سے اسطرح بات کی کہ وہ صفیہ سے برتر ہیں چونکہ وہ رسول اللہ کے چچا کی بیٹیاں اور آپؐ کی بیویاں ہیں۔ رسول اللہ نے اس سے فرمایا: تم نے کیوں ان سے یہ نہیں کہا میرا باپ ہارون، چچا موسی اور میرا شوہر محمد ہے۔ [17]

وصال پیغمبر کے بعد

رسول اللہ کے وصال کے بعد عمر بن خطاب نے ان کے اور جویریہ کیلئے چھ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا جبکہ باقی ازواج کیلئے ۱۲ ہزار درہم مقرر کیا۔ اس تفریق کی وجہ دوسری بیویوں کا پہلے رسول کی ہمسری میں آنا اور اسیری بیان کی۔[18]

انہوں نے ۳۵ ق میں تیسرے خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کرتے وقت ان کی مدد کی اور اپنے گھر سے ان کے گھر کے درمیان ایک راستہ بنایا اور اس کے ذریعہ وہ ان تک کھانا اور پانی پہچاتی تھیں۔ [19]

وفات

مشہور قول کی بنا پر ۵۰ ق[20] کو مدینہ[21] میں فوت ہوئیں۔ نیز ان کی وفات کا سال ۳۶ ق[22] اور ۵۲ ق[23] بھی ذکر ہوا ہے ۔سعید بن عاص نے انکی نماز پڑھائی۔[24] اسے قبرستان بقیع میں دفن کیا گیا [25] بعض علماء انہیں ازواج رسول میں سے سب سے آخر میں فوت ہونے والی زوجہ سمجھتے ہیں۔ [26]

روایت

کتب حدیث میں دس روایات ان سے منقول ہیں ۔[27][28] درج ذیل افراد اور دیگر افراد نے ان سے روایت نقل کی ہے :

  • یزید بن معتب، (صفیہ کا غلام)
  • اسحاق بن عبدالله بن حارث[31]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۱؛ اسدالغابہ، ج۶، ص۱۶۹؛ البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۶۴
  2. السیرة النبویہ، ج۱، ص۵۱۸-۵۱۹
  3. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۱؛ اسدالغابہ، ج۶، ص۱۶۹
  4. اسدالغابہ، ج۲، ص۷۶
  5. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۱؛ اسدالغابہ، ج۶، ص۱۶۹
  6. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۱
  7. تاریخ اسلام، ج۲، ص۴۲۱؛
  8. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۲
  9. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲
  10. انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۴؛ البدایہ و النہایہ، ج۴، ص۱۹۶؛ السیرة النبویہ، ج۲، ص۴۶۴؛ الطبقات الکبری، ج۸، ص۹۹
  11. انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۴؛ الطبقات الکبری، ج۸، ص ۱۰۰
  12. البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۴۶، ج۴، ص۱۹۶؛ ر ک: اسدالغابہ، ج۶، ص۱۷۰، میں شوہر کی جگہ اس کے باپ کا نام ہے۔
  13. اسدالغابہ، ج۶، ص۱۶۹؛ الاستیعاب، ج۴، ص۱۸۷۲ ؛ البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۶۴
  14. انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۳
  15. «إنی و الله یا نبی الله لوددت أن الّذی بك، بی» الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲؛ طبقات الکبری، ج۲، ص۲۳۹، ج۸، ص۱۰۱
  16. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲؛ طبقات الکبری، ج۲، ص۲۳۹، ج۸، ص۱۰۱؛ اسدالغابہ، ج۶، ص۱۷۱
  17. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۱؛ اسدالغابہ، ج۶، ص۱۷۰
  18. انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۴؛ دلائل النبوه، ج۷، ص۲۸۶.
  19. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲
  20. استیعاب، ج۴، ص۱۸۷۲؛ انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۴؛ یعقوبی، ج۲، ص۲۳۸
  21. اعلام، ج۳، ص۲۰۶
  22. اسدالغابہ، ج۶، ص ۱۷۱؛ الکامل، ج۲، ص۳۰۹
  23. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲
  24. انساب الاشراف، ج۱، ص۴۴۴
  25. یعقوبی، ج۲، ص۲۳۸
  26. الانبا، ص۴۶
  27. الاعلام، ج۳، ص۲۰۶
  28. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲
  29. اسدالغابہ، ج۶، ص۱۷۱
  30. انساب الاشراف، ج۵، ص
  31. الاصابہ، ج۸، ص۲۱۲

مآخذ

  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد الله، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • صالحی شامی، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرة خیر العباد، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالكتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۱۴ق/۱۹۹۳م.
  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت، دارالفكر، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دارالعلم للملایین، ط الثامنہ، ۱۹۸۹م.
  • ابن عمرانی، محمد بن علی، الإنباء فی تاریخ الخلفاء، تحقیق قاسم السامرائی، القاہرة، دار الآفاق العربیہ، ط الأولی، ۱۴۲۱ق/۲۰۱lم.
  • ابن ہشام حمیری، عبدالملک، السیرة النبویۃ، تحقیق مصطفی السقا و ابراہیم الأبیاری و عبد الحفیظ شلبی، بیروت، دارالمعرفہ، بی تا.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، كتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زكار و ریاض زركلی، بیروت، دارالفكر، ط الأولی، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفكر، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوة و معرفۃ أحوال صاحب الشریعہ، تحقیق عبد المعطی قلعجی، بیروت، دار الكتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • ابن اثیر، علی بن ابی کرام، الكامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • ابن سعد ہاشمی بصری، محمد بن سعد، الطبقات الكبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالكتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.