یوم انہدام جنت البقیع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یَومُ الہَدم جنت البقیع مسمار کرنے والے دن کو کہا جاتا ہے۔ یہ سانحہ آٹھ شوال المعظم سنہ1344ھ کو وہابیوں کے ذریعے پیش آیا اور ائمہ بقیع اور دیگر بقیع کی زیارتگاہیں منہدم کی گئیں۔

تاریخچہ

قبرستان بقیع انہدام سے پہلے

پہلا انہدام:سنہ 1220ھ کو وہابیوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا اور شہر کو اپنے ماتحت لینے کے بعد سعود بن عبدالعزیز کی حکم سے ائمہ بقیع کی زیارتوں اور حضرت فاطمہؑ کا گنبد جسے بیت الاحزان کہا جاتا تھا اسے مسمار کیا اور بہت نقصان پہنچایا۔[1]عبدالرحمن جَبَرتی کی رپورٹ کے مطابق وہابی جنگجو کے ڈیڑھ سال کا محاصرہ اور مدینہ میں قحط سالی ایجاد کرنے کے بعد شہر میں داخل ہوئے اور سواے مرقد پیغمبر اکرمؑ کے باقی تمام مقدس مقامات کو منہدم کیا۔[2]

مرمت: عثمانی حکومت نے وہابیوں سے لڑنے کے لئے بادشاہ کے بیٹے، ابراہیم پاشا کی سپہ سالاری میں ایک فوج بھیج دی[3]انہوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا اور بہت سے وہابیوں کو قتل کیا اور بہت ساروں کو باب الشامی کے نزدیک ایک قلعے سے گرفتار کیا جہاں وہ پناہ لے رکھے تھے۔[4] بعض مزارات سنہ1234ھ میں سلطان محمود دوم (حکومت:۱۲۲۳-۱۲۵۵ھ)کے حکم سے تعمیر نو ہوئے،[5]

دوسرا انہدام: سنہۃ 1344ھ کو ایک بار پھر سے وہابیوں نے مکہ اور مدینہ پر حمل کیا اور رمضان میں سعودی قاضی القضات، شیخ عبداللہ بلیہد، نے قبور کی زیارت کو شرک اور بدعت ہونے کے بہانے بقیع منہدم کرنے کا فتوی دیا اور اگلے سال آٹھ شوال کو بقیع ویران ہوگیا۔[6] اسی ليے آٹھ شوال یوم الہدم سے مشہور ہوا ہے۔

حوالہ جات

  1. جبرتی، عجائب الآثار، دارالجیل، ج۳، ص۹۱.
  2. جبرتی، عجائب الآثار، دارالجیل، ج۳، ص۹۱.
  3. تاریخ مکہ، ص۶۰۳
  4. عبداللہ بن عبدالرحمن بن صالح، خزانۃ التواریخ النجدیہ، ۱۴۱۹ق، ج۴، ص۱۷۴.
  5. جعفریان، پنجاہ سفرنامہ، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۱۹۶.
  6. امینی، بقیع الغرقد، ۱۴۲۸ق، ص۴۹.

مآخذ

  • امینی، محمد امین، بقیع الغرقد فی دراسۃ شاملہ، تہران، مشعر، ۱۴۲۸ق.
  • جبرتی، عبدالرحمان، عجائب الآثار، بیروت،‌ دارالجیل.
  • جعفریان، رسول، پنجاہ سفرنامہ حج قاجاری، تہران، نشر علم، ۱۳۸۹ش.
  • عبداللہ بن عبدالرحمن بن صالح، خزانۃ التواریخ النجدیہ، آل سبام، ۱۴۱۹ق.