قیس بن مسہر صیداوی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


قیس بن مسہر صیداوی کا نام حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفہ جانے والوں میں ملتا ہے۔ تاریخی مستندات کے بعض واقعات کے مد نظر انہیں کربلا کے شہیدوں میں سے پہلا شہید شمار کیا گیا ہے۔ واقعۂ کربلا میں حضرت مسلم بن عقیل اور حضرت امام حسین ؑکے درمیان نامہ رسانی کی بدولت قیس کا نام "قاصد" کے عنوان سے یاد رکھا گیا ہے۔اس کا نام زیارت ناحیہ میں مذکور ہے۔

خاندانی تعارف

قیس بن مسہر کا مکمل نام "قیس بن مسہر بن خلید بن جندب بن منقذ بن جسر بن نکرة بن صیداء" [1]تھا ۔ قبیلۂ قیس "بنی صیداء کے نام سے معروف تھے ۔یہ قبیلہ بنی اسد کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے[2] ۔ اسی وجہ سے منابع میں انہیں "بنی اسد" میں شمار کیا گیا ہے[3] ۔آپ کے اجداد میں ایک کا نام "نکرہ" ہونے کی وجہ سے انہیں "قیس بن مسہر نکری" بھی کہا گیا ہے [4]۔

تاریخی روایات میں انہیں شریف، بہادر اور خاندان اہل بیت کا محب کہا گیا ہے ۔شاعر کمیت اسدی نے اسے بنی صیداء کا شیخ کہا ہے[5] ۔

نامہ رسانی

واقعۂکربلا میں اس شخصیت کا اصلی کردار نامہ رسانی کا تھا۔ قیس نے اس واقعہ میں جن خطوط کو پہنچانے کا کام کیا وہ درج ذیل ہیں:

  • مکہ میں کوفیوں کے خطوط کو امام حسین ؑ تک پہنچانا۔[6]
  • حضرت مسلم کے خطوط کوفہ کے سفر میں امام حسین ؑ تک خطوط کا پہنچانا۔
  • حضرت امام حسین ؑ کے جواب کو حضرت مسلم تک پہنچانا۔
  • حضرت مسلم بن عقیل کا ہمسفر ہونا اور مسلم کی طرف سے کوفیوں کی بیعت کی اطلاع کا خط امام تک پہنچانا[7]۔
  • حضرت امام حسین ؑ کی ہمسفری اور حاجز کے مقام سے کوفیوں کی طرف خط لے کر جانا[8]۔

امام حسین کے کوفیوں کے نام خطوط

ٌ

عبد اللہ بن سبع ہمدانی اور عبد اللہ بن قیس کے توسط سے کوفیوں کے لکھے ہوئے خطوط حضرت امام حسین کو رمضان کی دس تاریخ کو ملے۔ دو دن کے بعد قیس بن مسہر ، عبدالرحمن بن عبداللہ ارحبی اور عمارة بن عبید سلولی کوفیوں کی طرف سے ۱۵۰ خطوط اور لے کر امام کے پاس پہنچے .[9]

اس سے پتہ چلتا ہے قیس کوفہ کا رہنے والا تھا اور امام حسین ؑ تک خطوط پہنچانے کیلئے مکہ آیا ۔

مسلم کے نام خطوط

قیس تین دن استراحت کرنے کے بعد 15 رمضان کو امام حسین کے حکم پر مسلم بن عقیل کے ہمراہ مکہ سے کوفہ کی طرف نکلے۔[10]مسلم اپنے اہل خانہ کو خداحافظی کہنے کی خاطر پہلے مدینہ آئے۔[11] کوفہ جانے کے راستوں سے واقف دو شخص بھی آن ہمراہ تھے جو راستے میں پیاس کی شدت کی وجہ سے فوت ہو گئے۔[12]

پہلا خط:

حضرت مسلم نے خبیت کے مقام سے امام حسین کو خط لکھا۔قیس نے امام تک پہنچایا اور جواب لے کر مسلم تک پہنچا۔[13]

سفر کا جاری رہنا:

قیس نے مسلم بن عقیل کے ساتھ سفر جاری رکھا اور عمارة بن عبید سلولی و عبد الرحمن بن عبد اللّہ بن کدن ارحبی بھی انکے ہمراہ تھے۔روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قیس تمام راستے میں مسلم بن عقیل کے ہمراہ تھے یہانتک کہ مختار کے گھر پہنچ گئے۔[14]

افرادی قوت کیلئے تگ و دو:

قیس کوفہ سے اپنے قبیلے بنی اسد آئے اور لوگوں کو حضرت مسلم کے آنے کی اطلاع دی۔ پس حبیب بن مظاہر اسی قبیلے سے مسلم سے ملاقات کیلئے آئے۔[15]

دوسرا خط:

کوفیوں حضرت مسلم بن عقیل کی بیعت کرنے کے بعد قیس مسلم بن عقیل کا دوسرا خط یہاں سے لے کر امام کی خدمت میں پہنچے۔اس نامے کو امام تک پہنچانے میں عابس بن ابی شبیب شاکری نے قیس کے ساتھ ہمراہی کی۔[16] بعض ماخذوں میں شوذب کا نام دیکھنے کو ملتا ہے۔

انجام کار

آخری نامہ رسانی

حضرت امام حسین قیس کو وادئ حاجز سے کوفہ بھیجا آپ نے اس سفر میں مسلم بن عقیل کو امام کا خط دیا[17] بعض نقل کے مطابق یہ خط کربلا سے کوفہ بھیجا[18] بہر حال یہ خط حضرت مسلم کی شہادت کے بعد بھیجا گیا ۔.[19]

گرفتاری

قیس بن مسہر صیداوی جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے انہیں گرفتار کر لیا نیز اس نے قیس کو ابن زیاد کی طرف روانہ کیا[20] تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی حکم صادر کرے۔البتہ قیس نے گرفتار ہونے سے پہلے امام کا خط پھاڑ دیا تا کہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے ۔[21]

ابن زیاد سے گفتگو

دارالامارہ میں ابن زیاد کے پاس جب قیس کوپیش کیا گیا تو ان کے ما بین یہ گفتگو ہوئی:

ابن زیاد:تو کون ہے؟

قیس:علی اور حسین کے شیعوں میں سے ایک ۔

ابن زیاد:خط کیوں پھاڑ دیا؟

قیس:تا کہ تجھے پتہ نہ چلے کہ اس میں کیا لکھا تھا۔

ابن زیاد:کس کی طرف سے تھا اور کسے لکھا گیا تھا؟

قیس:امام حسین کی طرف سے کوفے کی ایک جماعت کے نام تھا ۔ انکے نام نہیں جانتا ہوں۔

ابن زیاد آگ بگولہ ہوا اور اسنے کہا:خدا کی قسم!اس وقت تیری جان نہیں چھٹے گی جب تک تو مجھے ان کے نام نہیں بتاتا یا یہ کہ منبر پر جاؤ اور جھوٹے حسین بن علی اور اسکے باپ پر لعنت کرو ورنہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔

قیس : اس جماعت کے نام نہیں بتاتا لیکن لعنت کر دیتا ہوں۔ [22]

شہادت

قیس منبر پر گئے اور یوں گویا ہوئے :

میں اس پر خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوں۔ پھر کہا:اے لوگو!یہ حسین بن علی ہے جو خدا کی مخلوق میں سے سب سے بہتر ہے اور یہ فاطمہ بنت محمد رسول خدا ہے ۔میں حسین کی جانب سے تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں پس تم(اہل کوفہ) اسے جواب دو۔ یہ کہہ کر قیس نے عبید اللہ بن زیاد پر لعنت کی اور علی بن ابی طالب کیلئے استغفار اور درود بھیجا۔

یہ سننا تھا کہ ابن زیاد نے اسے دارالامارہ سے نیچے گرانے کا حکم دیا ۔انہیں جب گرایا گیا تو انکے ہاتھ بنھے ہوئے تھے ابھی انکے سانس باقی تھے کہ عبد الملک بن عمیر لخمی نے ان کا سر تن سے جدا کیا ۔حاضری نے اس فعل پر اسے عار دلائی تو اس نے کہا میں چاہتا تھا اسے جلد راحت کر دوں۔ ان کے جسد کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے ۔[23] بعض ماخذوں میں یہ داستان عبد اللہ بن یقطر کیلئے مذکور ہوئی ہے ۔[24]

تاریخ شہادت

قیس بن عبد اللہ کی تاریخ شہادت میں اختلاف ہے بعض حضرت امام حسین عذیب الہیجانات کے مقام پر تھے کہ ان کی شہادت ہوئی مقتل الحسین(ع)، المقرم، ص۱۹۲؛ وقعہ الطف، أبو مخنف، ص۱۷۴.۔اس لحاظ سے امام کے کربلا میں پہنچنے سے پہلے شہید ہوئے۔لیکن بعض روایات کے مطابق کربلا سے کوفہ خط لیجاتے ہوئے دو محرم اور عاشورا کے درمیان شہادت ہوئی۔

بہرحال یہ بات قطعی ہے کہ قیس مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد عازمِ کوفہ ہوئے لہذا انکی شہادت روزِ عرفہ کے بعد ہے ۔

امام حسینؑ کا رد عمل

طرماح بن عدی کے ذریعے جب امام حسین کو قیس کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے نمناک آنکھوں سے اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ۔احزاب٢٣ ان میں کچھ شہادت کو پہنچ گئے ہیں اور کچھ ان میں سے اس کے منتظر ہیں اور وہ کسی صورت میں (اپنے عقیدے کو) تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔ اور فرمایا :بار الہا!ہمارے اور انکے لئے بہشت قرار دے نیز ہمارے اور انکے درمیان رحمت قرار دے اور ثواب مرحمت فرما۔[25]

بعض نے کہا ہے کہ مجمع بن عبد اللہ عائدی نے شہادت قیس کی خبر پہنچائی۔[26]

نامہ رسانی کا اختلاف

بہت سے تاریخی مستندات میں خطوط کی ارسال و ترسیل میں قیس بن مسہر کی جگہ عبد اللہ بن یقطر مذکور ہوا ہے۔ لیکن کوفہ بھیجے جانے کا راستہ مختلف ذکر ہوا ہے۔ لیکن باریک بینی سے جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے نامہ رسانی کے درمیان تفاوت موجود ہے۔[27][28]

امام نے ایک دفعہ عبد اللہ بن یقطر کو ایک راستے سے کوفہ روانہ کیا دوسری مرتبہ ایک دوسرے راستے سے قیس بن مسہر کو روانہ کیا۔ لیکن دونوں قاصد گررفتار ہو گئے اور شہید ہو گئے۔

زیارت ناحیہ

زیارت ناحیہ میں آپ کا نام بھی مذکور ہے :السلام علی قیس بن مسهر الصیداوی

حوالہ جات

  1. أنساب الأشراف، ج۱۱، ص ۱۶۴؛جمہرةأنساب العرب، متن، ص ۱۹۵.
  2. تاریخ الیعقوبی، ج۱، ص ۲۳۰.
  3. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۲، ص ۲۴.
  4. تاج العروس، الزبیدی، ج۷، ص ۵۵۹.
  5. نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص ۵۸۶.
  6. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۷۳؛ تاریخ الطبری، ج ۶، ص۲۹۴ ط أولی مصر
  7. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۷۳.
  8. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۷۳.
  9. مقتل الحسین(ع)، الخوارزمی، ج۱، ص ۲۸۳؛ الإرشاد، المفید، ج۲، ص ۳۸؛ موسوعہ التاریخ الإسلامی، الیوسفی الغروی، ج۶، ص ۱۱۱.
  10. الإرشاد، المفید، ج۲، ص ۳۹؛ وقعۃ الطف، أبو مخنف، ص ۹۷.
  11. وقعہ الطف، أبو مخنف، ص ۹۶.
  12. تاریخ الطبری، ج۵، ص ۳۵۴.
  13. تاریخ الطبری، ج۵، ص ۳۵۴؛ در کربلا چہ گذشت، ص ۱۱۲.
  14. وقعہ الطف، أبو مخنف، ص ۹۷؛ در کربلا چہ گذشت، ص ۱۰۹.
  15. موسوعہ التاریخ الإسلامی، الیوسفی الغروی، ج۶، ص ۷۱.
  16. تاریخ الطبری، ج ۶ ص۲۱۰؛ مثیر الأحزان، ابن نما الحلی، ص ۳۲.
  17. وقعہ الطف، أبو مخنف، ص ۱۵۹؛ نہایة الأرب، النویری، ج۲۰، ص ۴۱۲.
  18. مقتل الحسین(ع)، الخوارزمی، ج۱، ص ۳۳۵؛ دمع السجوم ترجمہ نفس المہموم، ص ۱۸۰.
  19. الطبقات الکبری، خامسۃ۱، ص ۴۶۳؛ موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۷۱.
  20. الأخبارالطوال، ص ۲۴۶؛ نہایة الأرب، النویری، ج۲۰، ص۴۱۳؛ الطبقات الکبری، خامسہ۱، ص۴۶۳؛ دمع السجوم ترجمہ نفس المہموم، ص ۱۵۲.
  21. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۷۳.
  22. دمع السجوم ترجمہ نفس المہموم، ص۱۵۲.
  23. شیخ مفید، الارشاد،2/71
  24. بلاذری،انساب الاشراف2/169
  25. نفس المہموم، الشیخ عباس القمی، ص۵۸۶؛ موسوعہ التاریخ الإسلامی، الیوسفی الغروی، ج۶، ص۱۲۴.
  26. در کربلا چہ گذشت، ص۲۴۰.
  27. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص۵۵۲.
  28. پژوہشی پیرامون شہدای کربلا، ص۳۱۹.
  29. أنساب الأشراف، ج۳، ص ۱۶۷؛ چاپزکار، ج۳، ص۳۷۸؛ موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص۵۵۳؛ تجارب الأمم، ج۲، ص۶۰.
  30. موسوعہ کربلاء، لبیب بیضون، ج۱، ص ۵۵۳.

کتابیات

  • ابن حزم (م ۴۵۶)، جمہرة أنساب العرب، تحقیق لجنہ من العلماء، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • ابن نما حلی(۸۴۱ ق)، مثیر الأحزان، مدرسہ الإمام المہدی عجّل الله تعالی فرجہ الشریف، قم۱۴۰۶ ق.
  • ابومخنف کوفی(۱۵۸ ق)، وقعۃ الطف، جامعہ مدرسین، قم،۱۴۱۷ ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر(م۲۷۹)کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت،‌دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶ق
  • خوارزمی، موفق بن احمد(۵۶۸ ق)، مقتل الحسین علیه‌السلام، انوار الہدی، قم، ۱۴۲۳ ق.
  • دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داود(م۲۸۲)الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال،قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • زرکلی، خیر الدین(م۱۳۹۶)الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌دار العلم للملایین، ط الثامنة، ۱۹۸۹.
  • سید ابن طاوس(۶۶۴ ق)، لہوف / ترجمہ، مترجم سید ابوالحسن میر ابوطالبی، دلیل ما، قم.
  • شیخ مفید(۴۱۳ق)، الإرشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ ق.
  • طبری، ابوجعفر محمدبن جریر(م۳۱۰)تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت،‌دار التراث، ط الثانیۃ، ۱۳۸۷/۱۹۶۷.
  • قمی، شیخ عباس، نفس المہموم فی مصیبۃ سیدنا الحسین المظلوم، المکتبۃ الحیدریۃ، نجف.
  • قمی،‌شیخ عباس، مترجم کمره‌ای، در کربلا چه گذشت / ترجمہ نفس المہموم، مسجد جمکران،قم، ۱۳۸۱ ش.
  • لبیب بیضون، موسوعۃ کربلاء، مؤسسہ الاعلمی، بیروت، ۱۴۲۷ ق.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی(۱۱۱۰ ق)،بحار الأنوار(ط- بیروت،‌دار إحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ ق، دوم.
  • مقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسین علیہ السلام مقرم / ترجمہ، محمد مہدی عزیزالہی کرمانی،،نوید اسلام، قم.
  • نویری(۷۳۳ ق)نہایة الأرب فی فنون الأدب،‌دار الکتب و الوثائق القومیہ، قاهره، ۱۴۲۳ ق.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب بن جعفر بن وهب(م۲۹۲)، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا.
  • یوسفی غروی، محمد ہادی، موسوعۃ التاریخ الإسلامی، مجمع اندیشہ اسلامی، قم، ۱۴۱۷ ق.