امام جعفر صادق علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Basmala.svg
جعفر
بقیع10.jpg
نام جعفر
کنیت ابوعبد اللہ
القاب صادق، صابر، طاہر، فاضل
ولادت 17 ربیع الاول، 83ق.
مولد مدینہ
مسکن مدینہ
والد محمد بن علی(ع)
والدہ ام فروہ
ازواج فاطمہ
اولاد اسماعیل، عبداللہ، ام فروة، موسی، اسحاق، محمد، عباس، علی، اسماء و فاطمہ
مدفن مدینہ
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام باقرؑ • امام صادقؑ • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ • امام جوادؑ • امام ہادیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ

امام صادق (ع):

اللہ تعالی سے ڈرو چاہے بہت کم ہی کیوں نہ ہو، اور اپنے اوراللہتعالی کے درمیان کوئی پردہ رکھو، چاہے کتنا ہی نازک ہو۔

شہیدی، 1384، ص 102

جعفر بن محمد بن علی بن حسین علیہم السلام امام صادقکے لقب سے معروف شیعیان آل رسول کے چھٹے امام ہیں۔ 65 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے اور جنت البقیع میں اپنے والد گرامی امام محمد باقر(ع) اور جد امجد امام زین العابدین(ع) اور امام حسن مجتبی(ع) کے پہلو میں دفن کئے گئے۔ آپ کی والدہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں۔83 ق کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور 148 ق کو مدینے میں شہید ہوئے۔ آپ 31 سال کی سن میں امامت کے عہدے پر فائز ہوئے اور یہ عرصہ 34 برسوں پر محیط رہا۔آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے ۔

مختلف فقہی اور کلامی مسائل میں امام صادق(ع) سے منقولہ روایات کا ایک وسیع اور متنوِّع مجموعہ موجود ہے۔ اسی بنا پر شیعہ مذہب کو مذہب جعفری کہا جاتا ہے۔ امام صادق(ع) کے عہد امامت کے ابتدائی برسوں میں اموی خلافت کمزور پڑنے کی وجہ سے سیاسی حالات اور سکون کی فضا میسر ہونے کے بموجب آپ نے فقہ اہل بیت کی نشر واشاعت کو وسعت بخشی۔آپ کے وسیع علم کی بنا پر آپ کے ہاں فقہ کے علاوہ دیگر اسلامی علوم علم کلام وغیرہ کی نشستوں کا انعقاد ہوتا نیز دیگر مذاہب کے علما سے آپ کے کئی مناظرے تاریخ و حدیث میں رقم ہیں۔ایک اندازے کے مطابق آپ سے 4000 افراد نے کسب فیض کیا۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) کی شہادت کے بعد شیعہ چار گروہوں میں تقسیم ہوئے ۔ایک گروہ نے حضرت امام موسی کاظم کی امامت قبول کیا اور دوسرے اسماعیلیہ، فطحیہ و ناووسیہ کی شکل میں ان سے جدا ہوئے۔

آپ کی شہادت کا سبب وہ زہر تھا جس کا انتظام منصور دوانیقی نے کیا تھا۔ [1]

نسب، کنیت ، لقب

نسب:جعفر بن محمدبن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب۔

آپ کی والدہ کا نام فاطمہ یا قریبہ اور کنیت ام فروہ ہے۔[2]ام فروہ قاسم بن محمد بن ابی بکر کی بیٹی تھیں.[3] شیعیان آل رسول(ص) کے چھٹے امام اور امیرالمؤمنین(ع) کی نسل سے پانچویں امام ہے۔ ایک ضعیف روایت میں آپ کی والدہ کو حضرت ابو بکر کی بیٹی کہا گیا ہے اور اس بنا پر اس قول ولدنی ابو بکر مرتین کو امام صادق سے منسوب کیا جاتا ہے۔

کنیت:آپ کی مشہور کنیت "ابو عبداللہ" ہے نیز "ابو اسماعیل"[4]ابو موسی[5] بھی منقول ہے۔

لقب: لقب "صادق" ہے۔ آپ کے دیگر القاب میں صابر، طاہر اور فاضل شامل ہیں لیکن چونکہ آپ کے ہم عصر غیر شیعہ فقہا اور محدثین نے صدق حدیث اور نقل روایت میں آپ کی صداقت کی تعریف و تمجید کی ہے اور یوں آپ کے لقب "صادق" کو زیادہ شہرت ملی ہے۔[6]

انگشتری کے نقش: امام جعفر صادق علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش:اللّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۔[7] اور "اللَّهُمَّ أَنْتَ‏ ثِقَتِی‏ فَقِنِی‏ شَرَّ خَلقِكَ"۔[8] منقول ہیں۔[9]

ولادت اور شہادت

ولادت

امام صادق(ص)کی ولادت ربیع الاول[10] یا رجب [11] کے مہینے میں پیر [12] یا جمعہ[13] کے روز 17 ربیع الاول[14]سن ولادت 80 [15] یا 83[16]یا 86 [17] منقول ہے اور آپ کا مقام ولادت مدینہ [18] ہے۔

گھر جلانا

کافی اور مناقب علی بن ابی طالب میں مفضل بن عمر کی روایت کے مطابق حسن بن زید نے مدینے پر حاکمیت کے دوران منصور کے حکم پر حضرت امام جعفر صادق کے گھر جلانے کا اقدام کیا [19]۔

لیکن مؤرخین میں مشہور ہے کہ حسن بن زید 150ق[20] میں منصور عباسی کی طرف سے مدینے اور مکے کا والی بنا یا بعض نے اسکے والی بننے کا سال رمضان/149ق[21] ذکر کیا ہے جبکہ حضرت امام صادق علیہ السلام کی شہادت کا مشہور سن 148ق مذکور ہے ۔

شہادت

کتاب فصول المہمہ اور مصباحِ کفعمی[22] نیز دیگر کتب میں مروی ہے کہ آپ کو مسموم کرکے شہید کیا گیا۔ ابن شہرآشوب نے مناقب میں لکھا ہے: [عباسی بادشاہ] ابو جعفر منصور نے آپ کو148ق [23] میں زہر کھلایا۔[24] اگرچہ اس سے پہلے 147ق میں حج کے موقع پر مدینہ آیا تو اس وقت بھی امام صادق ؑ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اسے عملی جامہ نہ پہنا سکا ۔[25] کیونکہ منصور امام صادق(ع) کے خلاف دل میں کینہ بسائے ہوئے تھا اور لوگوں کے آپ کی طرف متوجہ ہونے سے خوفزدہ ہونے کے باعث چین سے نہيں بیٹھ سکتا تھا۔ جو لوگ منصور کی زندگی سے آگہی رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ اس نے ان لوگوں پر بھی رحم نہيں کیا جنہوں نے اس کو مسند خلافت تک پہنچانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی تھی اور حتی عباسی سلطنت کے قیام کے لئے بہت زيادہ کوششیں کرنے والے ابو مسلم خراسانی تک کو قتل کردیا تھا۔[26] بعض نے امام(ع) کی شہادت کا سال 146ہجری [27] اور 147ہجری قمری[28] بھی ذکر کیا ہے ۔

آپ کی شہادت کا مہینہ شوال [29] یا رجب کی 15 تاریخ[30] اور پیر[31] کادن مذکور ہے جبکہ جنات الخلود میں رجب کی 25 لکھی گئی ہے۔[32]

مدینہ کے مشہور قبرستان بقیع میں آپ کے مدفون ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔[33]

شہادت کے وقت آپ کا سن مبارک مشہور قول کی بنا پر 65سال[34] نیز 66 [35]، 68[36] اور 69[37] بھی ذکر ہوئے ہیں۔

ازواج و اولاد

ازواج

آپ کے چچا کی بیٹی فاطمہ بنت حسین بن علی بن الحسین آپ کی زوجۂ مکرمہ ‏اور آپ کے تین بچوں کی ماں ہیں؛ علاوہ ازیں آپ کی ایک کنیز آپ کے دوسرے تین بچوں کی ماں ہیں جبکہ آپ کی دوسری زوجات آپ کے دوسرے بچوں کی مائیں ہیں۔[38]

اولاد

شیخ مفید نے امام صادق علیہ السلام کی دس اولادوں کے نام یوں ذکر کئے ہیں:[39]

امین الاسلام طبرسی رقمطراز ہیں: موسی(ع)، اسحق، فاطمہ اور محمد ایک ماں سے ہیں جن کا نام حمیده البربریہ تھا۔[40]

اسمعیل بن جعفر امام صادق(ع) کے بڑے فرزند تھے اور امام(ع) ان سے بہت زيادہ محبت کرتے تھے اور شیعیان آل رسول(ص) میں سے ایک گروہ کا خیال تھا کہ وہ امام(ع) کے جانشین ہیں لیکن وہ امام(ع) کی حیات میں ہی وفات پاگئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ مروی ہے کہ امام صادق(ع) اسمعیل کی وفات پر سخت مغموم و بےچین ہوئے اور پا برہنہ عبا [یا ردا] کے بغیر جنازے کے آگے آگے چلے جارہے تھے اور آپ نے تدفین سے قبل کئی مرتبہ میت زمین پر رکھوا دی اور اس کے جسم سے کفن اٹھایا؛ امام(ع) اس کی چہرے کو دیکھتے اور حاضرین سے فرماتے کہ دیکھ لیں تا کہ اسماعیل کو امام صادق کا جانشین سمجھنے والے لوگ یقین کرلیں کہ وہ دنیا سے چلے گئے ہیں۔[41]

امامت

خلافت بنی امیہ

سلاطین

عنوان


معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
معاویہ بن یزید
مروان بن الحکم
عبدالملک بن مروان
ولید بن عبدالملک
سلیمان بن عبدالملک
عمر بن عبدالعزیز
یزید بن عبدالملک
ہشام بن عبدالملک
ولید بن یزید
ولید بن عبدالملک
ابراہیم بن الولید
مروان بن محمد

مدت سلطنت


41-61ھ
61-64ھ
64-64ھ
64-65ھ
65-86ھ
86-96ھ
96-99ھ
99-101ھ
101-105ھ
105-125ھ
125-126ھ
126-126ھ
126-127ھ
127-132ھ

مشہور وزراء اور امراء

مغیرة بن شعبہ ثقفی
زیاد بن ابیہ
عمرو بن عاص
مسلم بن عقبہ مری
عبیداللہ بن زیاد
ضحاک بن قیس
حسان بن مالک کلبی
حجاج بن یوسف ثقفی
مسلمۃ بن عبدالملک
خالد بن عبداللہ قسری
یوسف بن عمر ثقفی
یزید بن عمر ابن ہبیرہ

ہم عصر شخصیات

علی بن ابی طالبؑ
حسن بن علیؑ
حسین بن علیؑ
علی بن الحسینؑ
محمد بن علی الباقرؑ
جعفر بن محمد الصادقؑ
زید بن علی
مختار بن ابی عبید ثقفی
عبداللہ بن زبیر
مصعب بن زبیر
عبدالرحمن بن اشعث
یزید بن مہلب
خالد بن عبداللہ قسری
عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز
عبداللہ بن معاویہ علوی
ضحاک بن قیس شیبانی
ابوحمزہ مختار بن عوف خارجی
ابومسلم خراسانی
قحطبہ بن شبیب طایی

اہم واقعات

صلح امام حسن
واقعۂ عاشورا
واقعۂ حرہ
زبیریوں کا قیام
قیام مختار
زید بن علی کا قیام
مغیرة بن سعید عجلی کا قیام
مروان بن محمد کا قیام
عبداللہ بن معاویہ علوی کا قیام
ضحاک بن قیس شیبانی کا قیام
ابوحمزہ مختار بن عوف خارجی کا قیام


امام صادق(ع) کا عہد امامت 34 برس تھا۔[42] آپ کے ہم عصر خلفاء کے نام:

  • اموی خلفا
  1. ہشام بن عبدالملک
  2. ولید بن یزید بن عبدالملک
  3. یزید بن ولید بن عبدالملک ناقص
  4. إبراہیم بن ولید
  5. مروان حمار:یہ آخری اموی حکمران تھا۔اس کے بعد سنہ 132ہجری میں سیاہ لباس والوں نے ابو مسلم خراسانی کی سرکردگی میں خراسان سے قیام کیا جس کے نتیجے میں بنی عباس نے اقتدار سنبھالا۔
  • عباسی خلفا
  1. عباسی حکمران ابوالعباس سفاح جس نے 4 سال آٹھ مہینوں تک حکومت کی۔
  2. ابو جعفر عبداللہ جس کا لقب منصور عباسی جو ابوالعباس سفاح کا بھائی تھا اور اس نے 21 سال اور گیارے مہینوں تک حکومت کی۔ امام صادق(ع) منصور کی حکومت کے آغاز کے 10 سال بعد شہید کئے گئے۔[43]

دلائل امامت

مختلف افراد نے مختلف روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہیں جن کے ضمن میں امام باقر(ع) نے اپنے فرزند جعفر صادق(ع) کی امامت پر تصریح و تاکید کی ہے؛ ہشام بن سالم، ابو صباح کنانی، جابر بن یزید جعفی، اور عبد الاعلی مولیٰ آل سام، ان ہی رایوں میں سے ہیں۔ [44]

شیخ مفید لکھتے ہیں: امام جعفر صادق(ع) کی جانشینی اور امامت کے سلسلے میں امام باقر(ع) کی وصیت کے علاوہ آپ [امام صادق(ع)] علم و زہد اور عمل کے لحاظ سے بھی اپنے تمام بھائیوں، خاندان کے افراد اور اپنے زمانے کے لوگوں پر برتری رکھتے تھے جو خود آپ کی امامت کی دلیل ہے[45] جبکہ رسول اللہ(ص) کی احادیث میں بھی ائمہ اثنی عشر کے اسما‏ئے گرامی کے ضمن میں آپ کا نام مذکور ہے۔

علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسمائے گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام صادق آل محمد(ص) جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سمیت تمام آئمہ(ع) کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[46]

علمی تحریک

امام صادق (ع):

"ما ضَعُفَ بَدَنٌ عَمّا قَوِيَتْ عَلَيْهِ النِّيَّةُ" (ترجمہ: جب انسان کا عزم و ارادہ قویّ ہو، اس کا بدن عاجز و بے بس نہیں ہوا کرتا)۔

صدوق، من لایحضره الفقیہ، ج4، ص400۔

رسول اللہ(ص) کی رحلت کے بعد اور خلفاء کے دور میں جب بھی کسی فقہی مسئلے میں خلیفہ یا صحابۂ رسول(ص) پر عرصۂ حیات تنگ ہوجاتا تھا وہ امام علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ ان کا مسئلہ حل کردیتے تھے۔ جب امیر المؤمنین(ع) نے محراب عبادت میں شہادت پائی تو دشمنوں نے آپ کے فرزندوں اور پیروکاروں کے حالات بالکل نامساعد بنادیئے اور عوام اور اہل بیت(ع) کے درمیان حائل ہوگئے۔ دوسری طرف سے دنیا کے عوض دین کا سودا کرنے والوں نے بھی حکام وقت کی خوشنودی یا دنیاوی مفادات کی خاطر روایات و احادیث جعل کرنے کا بازار گرم کیا۔ حالت یہ ہوئی کہ صحیح حدیث کو موضوعہ یا جعلی حدیث سے تشخیص و تمیز دینا فقہاء کے لئے دشوار ہوگیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ سنہ 40 ہجری سے پہلی اسلامی صدی کے آخر تک معدودے چند صحابہ و تابعین کے علاوہ باقی لوگ صحیح فقہ یعنی فقہ آل محمد(ص) سے بے نصیب تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کے دور میں کسی حد تک فراخی اور امن و سکون کی فضا قائم ہوئی اور امام صادق(ع) کا دور (سنہ 114 ہجری تا 148 ہجری) فقہ آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت اور بالفاظ دیگر فقہ جعفریہ کی تعلیم و تدریس کا دور ہے۔ اس دور میں مدینے کا چہرہ بدل گیا تھا۔[47]

امام صادق(ع) کا دور امامت اموی ـ مروانی سلطنت کی شکست و ریخت اور سقوط و زوال کا دور تھا اور اس صورت حال نے نہ صرف کافی حد تک سیاسی آزادی کے اسباب فراہم کئے بلکہ گوشوں گوشوں میں دینی تحریکوں اور حکمرانوں کے خلاف گروہ بندیوں کا امکان فراہم ہوا اور مختلف علمی شعبوں میں دینی بحث و تمحیص کی آزادی بھی وجود میں آئی۔[48]

امام صادق ؑ نے اپنی اس علمی تحریک کو وسعت دینے کیلئے تین راستے انتخاب کئے :

  • مسجد نبوی میں عمومی دروس کا اہتمام کیا جس میں تمام سنی اور شیعہ افراد کو آنے کی اجازت تھی۔
  • خصوصی دروس کا اہتمام جس میں عام طور پر مخصوص افراد شریک ہوتے تھے ۔
  • بحث و مناظرے میں افراد کی تربیت کرنا اور ہشام بن حکم اور مومن طاق جیسے افراد تربیت حاصل کر کے ہر جگہ مذہب حقہ کی تبلیغ کرتے تھے۔[49]

مختلف فقہی اور کلامی مسائل میں امام صادق(ع) سے منقولہ روایات کے وسیع اور متنوِّع مجموعے ہیں۔ اسی بنا پر شیعہ مذہب کو مذہب جعفری کہا جاتا ہے۔ امام صادق(ع) کے عہد امامت کے ابتدائی برسوں میں معرض وجود میں آنے والی سیاسی فراخی اور سکون کی فضا کی وجہ سے لوگوں نے زیادہ آزادی کے ساتھ امام صادق(ع) کی طرف رخ کیا اور آپ سے فقہی اور غیر فقہی علمی مشکلات اور مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔[50]

اہل بیت(ع) میں سے کسی کے شاگردوں کی تعداد بھی امام صادق(ع) کے شاگردوں کے برابر نہ تھی اور کسی بھی امام(ع) سے منقولہ روایات کی تعداد آپ سے منقولہ روایات کی حد تک نہيں پہنچتی۔ اصحاب حدیث نے امام صادق(ع) سے روایت نقل کرنے والے رواۃ کی تعداد چار ہزار افراد تک لکھی ہے۔ [51]

اہل سنت کے علماء میں سے ابن حجر ہیتمی رقمطراز ہے: لوگوں نے آپ کے علم سے اس قدر استفادہ کیا ہے کہ آپ کے علم و دانش کی صدائے بازگشت تمام شہروں تک پہنچ چکی تھی۔ یحیی بن سعید، ابن جریح، مالک، سفیان بن عیینہ، سفیان ثوری، ابوحنیفہ، شعبۃ بن حجاج اور ایوب سختیانی جیسے اکابر ائمہ نے آپ سے روایات نقل کی ہیں۔[52]

معتدل عقلانیت

امام جعفر صادق ؑ کے زمانے میں مختلف نظریات اور بعض نظریات عقل سے بھی متصادم تھے۔اہل حدیث علما قرآنی اور حدیثی الفاظ کے الفاظ پر زور دیتے اور ان کے نزدیک معارف دینی کا مرجع اور مآخذ صرف آیات اور احادیث کے الفاظ سمجھتے تھے۔ان کے مقابلے میں معتزلہ اس بات کے قائل تھے کہ اعتقادات دینی استنباط اور کشف میں عقل کا اہم کردار ہے۔ ان دونوں گروہوں کے مقابلے میں امام صادق علیہ السلام کا مکتب تھا جو قرآن و حدیث کی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے دینی تعلیمات میں عقل سے استفادہ کرتا تھا ۔عقل کے متعلق امام صادق علیہ السلام سے منقول روایات عقل کی اہمیت کی بیانگر ہیں۔

تعقّل اور تفکر نہ کرنے والا کامیاب نہیں ہے اور فکر دانش کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔[53]

در عین حال عقل کے کافی نہ ہونے کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

جب عقل کی تائید نور کرتا ہے تو انسان دانا اور عقلمند شخص ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کس طرح؟ کیوں؟ اور کہاں کا جواب حاصل کر لیتا ہے [54]

فقہ

ذہبی نے اہل سنت کے چار مذاہب میں سے مذہب حنفیہ کے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے: "میں نے جعفر بن محمد (ع) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا"۔[55]

اہل سنت کے مذہب مالکیہ کے امام مالک بن انس سے منقول ہے: "میں نے فضل و علم اور زہد و پارسا‏ئی میں کسی کو نہیں دیکھا جو جعفر بن محمد صادق سے برتر ہو"۔[56] زبیر بکار لکھتا ہے: ابو حنیفہ نے کئی بار امام صادق(ع) سے ملاقاتیں کیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں امام علیہ السلام نے ابو حنیفہ سے فرمایا: "خدا کا خوف کرو اور دین میں قیاس مت کرو کیونکہ جس نے سب سے پہلے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ خداوند متعال نے شیطان سے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو۔ شیطان نے کہا: میں اس (آدم) سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے خلق کیا ہے اور ان کو مٹی سے۔[57] اس کے بعد امام(ع) نے ابو حنیفہ سے پوچھا: قتل نفس زیادہ اہم ہے یا زنا؟ابو حنیفہ:قتل نفس۔ امام:قتل نفس دو گواہوں کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے اور زنا چار گواہوں کی گواہی سے پس یہاں قیاس کا کیا کرو گے؟ امام: روزہ خدا کے نزدیگ زیادہ بڑا ہے یا نماز؟ ابو حنیفہ:نماز۔ امام:جب عورت حیض کی حالت میں روزہ افطار کرتی ہے تو اسے روزہ قضا کرنا پڑتا ہے جبکہ نماز کی قضا کرنا لازم نہيں ہے؟ امام نے ان سے فرمایا: خدا کا خوف کرو اور قیاس مت کیا کرو۔[58]

متکلمین کی تربیت

امام صادق (ع):

فقہاء انبیاء کے امین ہیں، جب تم فقہاء کو صاحبان اقتدار کی درگاہ میں جاتے دیکھو تو انہیں مورد الزام ٹھراؤ (سچا مت سمجھو)۔

شہیدی، 1384، ص106؛ منقول از حلیۃ الاولیاء، ج3، ص196۔

شامی کے ساتھ مناظرہ

کلینی اپنی اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ یونس بن یعقوب نے کہا: ہم ابو عبداللہ (امام صادق)(ع) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شامی مرد داخل ہوا اور کہا: میں کلام، فقہ اور فرائض کا عالم ہوں اور آپ کے اصحاب سے مناظرہ کرنے آیا ہوں۔

امام(ع) نے فرمایا: تمہارا کلام رسول اللہ(ص) سے ہے یا تمہارا اپنا ہے؟

شامی:رسول اللہ(ص) کے کلام سے اور میرے اپنے کلام سے!

امام:پس تم رسول اللہ(ص) کے شریک ہو؟

شامی:نہیں

امام:کیا تم نے خدائے و عز و جل کی وحی سنی ہے اور خدا نے تمہیں خبر دی ہے؟

شامی:نہیں۔

امام:کیا تمہاری اطاعت رسول اللہ(ص) کی اطاعت کی طرح واجب ہے؟ شامی:نہیں۔

راوی کہتا ہے:ابو عبداللہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے یونس یہ مرد کلام میں داخل ہونے سے قبل ہی اپنی ذات کا دشمن ٹہرا۔ اگر تم کلام سے خوب واقف ہو تو اس مرد کے ساتھ بات چیت کرو۔

مجھے حسرت ہوئی کیونکہ میں علم کلام نہیں جانتا تھا؛ پس میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں اے فرزند رسول خدا(ص)! میں نے آپ کو کلامی بحث میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے سنا تھا اور آپ کہہ رہے تھے کہ وائے ہو ان متکلمین پو جوکہتے ہیں: یہ صحیح ہے وہ صحیح نہیں ہے؛ یہ ہمارے لئے عقل کے حکم پر قابل قبول ہے وہ قابل قبول نہيں ہے!

امام(ع) نے کہا: میں نے کہا کہ وائے ہو ان لوگوں پر جو میری بات کو ایک طرف رکھتے ہیں (اور ہم اہل بیت کی باتیں ترک کردیتے ہیں) اور اپنی رائے اور نظر سے بات چیت کرتے ہیں (اور نزاع و جدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں)۔ اس کے بعد فرمایا: باہر نکلو اور دیکھو متکلمین میں سے کوئی نظر آتا ہے؟

میں باہر نکلا تو مجھے حُمران بن اعین اور احول (محمد بن نعمان جو مؤمن الطاق کے نام سے مشہور تھا) اور ہشام بن سالم کو اپنے ساتھ اندر لے آیا کیونکہ یہ افراد کلام سے خوب واقفیت رکھتے تھے اور قیس ماصر کو بھی اندر لایا جو میرے خیال میں علم کلام میں اول الذکر افراد پر فوقیت رکھتا تھا اور اس نے کلام امام علی بن الحسین سے سیکھا تھا۔ ہشام بن حَکَم بھی جو ابھی نوجوان ہی تھے، آن پہنچے۔ امام صادق(ع) نے ہشام بن حکم کو بیٹھنے کے لئے جگہ دی اور فرمایا: تم اپنے دل، زبان اور ہاتھ سے ہمارے ناصر و مددگار ہو۔ پھر حمران اور مؤمن الطاق سے کہا کہ شامی مرد کے ساتھ مناظرہ کرو؛ وہ دونوں مناظرے میں کامیاب ہوئے اور پھر آپ نے ہشام بن سالم سے کہا کہ وہ بھی مناظرے میں شامل ہوجائے، ہشام بن سالم نے مناظرہ کیا اور امام(ع) نے "قیس ماصر" کو مناظرے کی دعوت دی اور جب وہ مرد شامی کے ساتھ مناظرہ کررہے تھے امام مسلسل مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ شامی شخص بری طرح الجھ چکا تھا۔ امام(ع) نے اس شخص سے فرمایا: اس نوجوان کے ساتھ گفتگو کرو۔ پھر ہشام بن حکم کی باری آئی۔ شامی مرد نے امام صادق(ع) کی امامت کے بارے میں غیر شائستہ انداز سے سوال پوچھا تو ہشام غضبناک ہوا؛ اور مرد شامی سے کہا:

تمہارا پروردگار اپنی مخلوق کے کام میں زيادہ خیر اندیشی کرتا ہے یا بندہ اپنے کام میں؟

میرا پروردگار زیادہ خیر اندیش ہے مخلوق کے کام میں۔

خدا نے خیر اندیشی کے حوالے سے اپنی مخلوقات کے لئے کیا کیا ہے؟

خدا نے حجت اور دلیل قائم کی ہے تاکہ مخلوقات منتشر نہ ہوں اور انہیں ان چيزوں کی خبر دی ہے جو اس کی طرف سے بندوں پر واجب ہیں۔

وہ حجت کیا ہے؟

رسول خدا(ص)!

اور رسول اللہ(ع) کے بعد؟

کتاب اور سنت.

کیا کتاب و سنت نے اختلافات حل کرنے میں ہمیں کوئی نفع پہنچایا ہے؟

ہاں کیوں نہیں!

اگر ایسا ہے تو تمہارے اور ہمارے درمیان اختلاف کیوں ہے کہ تم ہمارے ساتھ مناظرہ کررہے ہو؟

شامی خاموش رہ گیا۔ یہاں امام صادق(ع) نے مرد شامی سے پوچھا: بولتے کیوں نہیں ہو؟

اگر کہوں کہ ہمارے درمیان اختلاف نہيں ہے تو گویا میں نے جھوٹ بولا ہے اور اگر کہوں کہ کتاب و سنت نے ہمارے اختلافات ختم کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو میری یہ بات باطل ہوگی اور اگر کہوں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے اور ہم میں سے ہر ایک حق کا دعویدار ہے، تو کتاب و سنت کی افادیت ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن ہشام کا یہی استدلال میرے فائدے اور ہشام کے نقصان میں ہے!

امام نے فرمایا: پوچھو! اس کو قوی اور مقتدر پاؤ گے۔

مرد شامی: خدا بندوں کے کام میں زیادہ خیر اندیش ہے یا بندے اپنے کاموں میں؟

خدا!

کیا خدا نے ایسی حجت قرار دی ہے جس کے ذریعے وہ انہیں متحد کرے اور ان کی ناہمواریوں کو ہموار کردے اور حق و باطل کو ان کے لئے بیان کردے۔

رسول اللہ(ص) کے دور میں یا آج کے دور میں؟

رسول اللہ(ص) کے دور میں، رسول اللہ(ص) خود ہی حجت تھے؛ لیکن آج کے زمانے میں کون ہے؟

ہشام نے امام(ع) کی طرف اشارہ کرکے کہا: یہی، جو مسند پر بیٹھے ہیں؛ اور دنیا بھر سے لوگ ان ہی کی طرف رواں دواں ہیں؛ باپ دادا سے ملنے والی علمی میراث کے وارث ہیں اور زمین و آسمان کی خبریں ہمیں دے رہے ہیں۔

مرد شامی نے کہا: میں کس طرح اس بات پر یقین کروں؟

ہشام نے کہا: جو چاہو ان سے پوچھو۔

شامی نے کہا: تم نے میرے لئے ایک عذر چھوڑ دیا چنانچہ مجھ پر لازم ہے کہ ان سے پوچھوں۔ امام(ع) نے فرمایا: اے مرد شامی! کیا تمہیں تمہارے سفر کی روداد سناؤں؟ اور پھر آپ نے اس کو اس کے سفر کے واقعات سنانا شروع کر دیئے کہ ایسا ہوا اور ویسا ہوا اور مرد شامی سرور و شادمانی کے ساتھ تصدیق کرتا رہا اور کہتا رہا کہ "آپ صحیح فرما رہے ہیں"، خدا کی قسم! میں اب اسلام لایا۔

امام صادق(ع) نے فرمایا: نہیں، اب تم خدا پر ایمان لائے، اسلام ایمان سے پہلے آتا ہے؛ اسلام کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کا ارث پاتے ہیں، نکاح و ازدواج کرتے ہیں اور ایمان کے ذریعے اپنے اعمال کا ثواب پاتے ہیں۔ تم اس سے قبل خدا اور پیغمبر(ص) پر اسلام رکھتے تھے اور تم مسلمان تھے لیکن تمہیں تمہارے ایمان کا ثواب نہيں مل رہا تھا اور اب تمہیں ثواب بھی ملے گا۔

شامی نے کہا: آپ درست فرما رہے ہیں: "فَأَنَا السّاعَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلّا اللّهُ وَ أَنّ مُحَمّداً رَسُولُ اللّهِ ص وَ أَنّكَ وَصِيّ الْأَوْصِيَاءِ"؛ (ترجمہ: کوئی بھی بندگی کا لائق نہيں ہے سوائے االلہ کے، بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ اللہ کے رسول ہیں اور بے شک آپ اوصیاء کے وصی اور جانشینان رسول(ص) کے جانشین ہیں)۔[59]

اس طرح کے مناظرے امام صادق(ع) اور دشمنوں کے درمیان بکثرت نقل ہوئے ہیں اور یہ مناظرے علم امامت کے عظیم مرتبہ کو نمایاں کرتے ہیں اور ان مناظروں سے مناظرین کی مہارت اور علم کلام نیز بحث کے مقدمات سے ان کی واقفیت ظاہر ہوتی ہے۔[60]

سیاسی اور اجتماعی مصروفیات

اس لحاظ سے امام جعفر صادق (ع) کی زندگی کو دو حصوں:اموی اور عباسی دور میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ان ادوار میں مختلف حکومت مخالف قیام کئے گئے ۔ایک رائے کے مطابق ان قیاموں کو امام(ع) کی تائید و حمایت حاصل نہ تھی اگرچہ وہ آپ کو فقہ آل محمد(ص) اور علوم اہل بیت(ع) کی ترویج کو مقدم کرنے کے وعدے دیا کرتے تھے لہذا وہ بنی ہاشم کو قیام کی دعوت دیتے لیکن حقیقت میں ان میں سے اکثر یا تمام افراد وقت کے حاکموں کی حاکمیت اپنے اوپر برداشت نہیں کرسکتے تھے یا پھر خود اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ بدعتوں کا ازالہ اور دین خدا کا احیاء نہيں چاہتے تھے۔[61]

بنو امیہ کا دور

امام جعفر صادق ؑ کی امامت کا ابتدائی دور امامت 114 سے لے کر 125ق تک کا زمانہ بنو امیہ کے ہشام بن عبد الملک (105 تا 125)کی حکومت کے ساتھ مصادف تھا۔اس زمانے میں امویوں کے مخالفین کو انکے خلاف قیام کرنے کے حالات فراہم ہوئے تھے ۔انہی اموی مخالف تحریکوں میں آپکے چچا زید بن علی نے122ق اور بھتیجے یحیی بن زید نے125ق نے قیام کیا تھا ۔رشتے داری کی وجہ سے امام جعفر صادق کا ان سے دور رہنا ممکن نہیں تھا ۔

زید بن علی اور یحیی بن زید کا قیام

مفصل مضمون: قیام زید بن علی اور قیام یحیی بن زید

بعض روایات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ زید بن علی کے قیام کو امام کی تائید حاصل تھی۔جیسا کہ شیخ صدوق کی روایت میں آیا ہے :خدا وند کریم ! میرے چچا کو معاف فرمائے!اس نے لوگوں کو الرضا بن میں آل محمد کی جانب دعوت دی ۔اگر وہ کامیاب ہو جاتا تو اپنے وعدے پر عمل کرتا کیونکہ اس نے خروج سے پہلے جب مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے اسے کہا :اگر کوفہ کے مقام کناسہ میں مصلوب ہو کر قتل ہونا چاہتے ہو تو خود ہی اسکے ذمہ دار ہو۔[62]

لیکن اسکے مقابلے بعض قدیمی منابع بھی ہیں جن میں مذکور ہے کہ امام اس قیام سے راضی نہیں تھے اور امام نے انہیں اس قیام سے منع کیا تھا۔[63] اسی طرح امام کا ایک خط منقول ہوا ہے جس میں امام نے یحیی کو قیام سے منع کیا اور کہا کہ تم بھی اپنے باپ کی مانند مارے جاؤ گے۔[64]

یہی وجہ تھی کہ امام صادق کے اصحاب میں سے چند افراد کے علاوہ کسی نے اس قیام میں شرکت نہیں کی تھی۔[65] نیز حاکم وقت امام کے حالات سے آگاہ تھے اور انہوں نے اس قیام کی سرکوبی کے بعد امام کیلئے کسی قسم کی مزاحمت ایجاد نہیں کی تھی۔

بنو عباس کا دور

عباسیوں کے دور حکومت میں اس خاندان کے بزرگان امام صادق علیہ السلام سے اس حد تک تعلقات رکھتے تھے جن سے دشمنی کی بو بھی نہیں آتی تھی یہانتکہ منصور عباسی امام کی تعریف بھی کرتا تھا ۔[66]

عباسیوں کی جانب سے پہلے دو سالوں میں امام صادق علیہ السلام پر اس وقت دباؤ ڈالا گیا کہ جب امام کی جانب سے اطوینانی انکے نزدیک نہیں ہوا تھا۔132 ق میں عباسیوں کے امویوں پر کامیابی کے بعد وزیر آل محمد کے نام سے معروف ابو سلمہ خلال جو پہلے عباسییوں کا حامی تھا اس نے بنی ہاشم کے علویوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ خلافت حاصل کرلیں ۔اس نے شروع میں حضرت امام صادق کو خلافت کی پیشنہاد دی لیکن امام نے واضح طور پر اسکی دعوت کو رد کر دیا اور اسکی ہمراہی کرنے سے اجتناب کیا ۔[67] یہانتک کہ اس نے جب عبداللہ محض کو یہی پیشکش کی اور وہ حضرت امام صادق کے پاس مشورے کیلئے آیا تو امام نے اسے بھی اس سے اجتناب کا مشورہ دیا۔[68]

134ق میں بسام بن ابرہیم نے عباسیوں کے خلاف قیام کا ارادہ کیا اور امام کو ایک خط لکھا :اگر وہ خلافت کا میلان رکھتے ہوں اور وہ خراسان کے لوگوں کی بیعت لے سکتا ہے لیکن امام نے اسکی اس پیشکش کو ایک توطئہ پر حمل کیا اور خلیفہ کو اس سے آگاہ کیا۔[69]

اس لحاظ سے حکومت عباسی اس بات کو جان گئی تھی کہ امام قیام اور خلافت کے بارے میں کسی قسم کا انگیزہ نہیں رکھتے ہیں۔اگرچہ سفاح کے آخری سالوں اور منصور کے ابتدائی سالوں میں امام اور حکومت کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔اسکے باوجود امام ہر موقع پر منصور کی جباریت[70] و دنیاطلبی[71] اور دنیا طلبی کے خلاف تنقید کرتے تھے اور اپنے بیانات میں سلاطین پر انحصار کرنے کی نکوہش کرتے تھے۔[72]

فرزندان عبدالله محض کا قیام

امویوں کے دور حکومت کے آخر میں بنی ہاشم میں سے عبداللہ محض ،اسکے بیٹے، سفاح اور منصور ابوا نامی جگہ اکٹھے ہوئے تا کہ ان میں سے کسی ایک کی بیعت کریں۔اس نشست میں عبداللہ نے اپنے بیٹےمحمد کو مہدی کے عنوان سے پیش کیا اور انہیں اس کی بیعت کی دعوت دی۔ امام صادق(ع) جب اس واقعے سے مطلع ہوئے تو آپ نے فرمایا :

ایسا مت کر کیونکہ ابھی اس کا وقت نہیں ہے نیز عبداللہسے کہا :اگر یہ سوچ رہے ہو کہ تمہارا بیٹا مہدی ہے تو وہ مہدی نہیں ہے اور ابھی اس کے ظہور کاوقت نہیں ہے ۔اور اگر خدا کیلئےاور امر بہ معروف و نہی عن المنکر کیلئے قیام کر رہے ہو تو تم ہمارے بزرگ ہو۔ خدا کی قسم!ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے کہ ہم تمہارے بیٹے کی بیعت کریں۔
عبداللہیہ سن کر ناراض ہوا اور اس نے کہا :خدا کی قسم! خدا نے تجھے علم غیب سے آگاہ نہیں کیا ،تم جو کچھ کہہ رہے ہو میرے بیٹے سے حسادت کی وجہ سے کہہ رہے ہو ۔
امام صادق نے ابو العباس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا : خدا کی قسم میں حسد کی وجہ سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ عبداللہ،اس کے بھائیوں اور اسکے فرزندوں تک خلافت نہیں پہنچے گی عبداللہبن حسن کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: ہاں بخدا!تمہاری اور تمہارے بیٹوں کی نہیں بلکہ اُس کی ہے۔تمہارے دونوں بیٹے قتل ہو جائیں گے۔[73]

بنی عباس کی قدرت کے حصول کے بعد ان کی سخت گیریوں نے قیام کیلئے لوگوں کو حالات مہیا کئے ۔محمد اور عبداللہکے بیٹوں نے 125ق میں قیام کیا لیکن دونوں شکست سے دو چار ہوئے اور امام جعفر صادق (ع) انکے متعلق سچ ثابت ہوئی۔ نقل ہوا ہے کہ مدینے میں نفس زکیہ کے قیام کے موقع پر امام جعفر صادق اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کی خاطر مدینے سے باہر اپنی ایک مِلک میں رہنے لگے نفس زکیہ کے قیام کے بعد آپ مدینہ واپس تشریف لائے۔

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے مطالعہ سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دونوں ادوار میں اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھا ۔نیز اسی سیاست سے دوری کے باوجود آپ معاشرے کی شرائط اور اس کے مستقبل کی نسبت بہت زیادہ حساس تھے۔ لہذا آپ کی تعلیمات میں عدل و انصاف کی رعایت،حکومت میں پاکدامنی،لوگوں کے تقاضے اور ان سے مشورے جیسے مسائل حکمرانوں تک پہنچائے جانے کے آثار ملتے ہیں۔[74]

عدم قیام کا سبب

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی اپنی اسناد سے روایت کرتے ہیں: سدیر صیرفی کہتے ہیں: میں ابو عبداللہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: مزید جائز نہیں ہے کہ آپ قیام کرنے سے اجتناب کریں! امام نے جواب دیا: کیوں؟

سدیر:اس لئے کہ آپ کے دوست اور پیروکار بہت زیادہ ہیں۔ خدا کی قسم! اگر علی(ع) کے انصار و اعوان کی تعداد آپ کے پیروکاروں جتنی ہوتی تو کوئی بھی ان کا حق نہ چھین سکتا۔ امام نے پوچھا: ان کی تعداد کتنی ہوگی؟

سدیر:ایک لاکھ!

امام: ایک لاکھ؟

سدیر:ہاں بلکہ اس سے بھی زيادہ، دو لاکھ۔ امام: دو لاکھ؟

سدیر:ہاں اور آدھی دنیا!

یہ سن کر ابو عبداللہ(ص) خاموش ہوگئے اور ہم روانہ ہوئے حتی کہ بکریوں کے ایک ریوڑ کے قریب سے گذرے تو امام نے فرمایا: اے سدیر! خدا کی قسم اگر میرے شیعوں اور پیروکاروں کی تعداد ان بکریوں جتنی ہوتی تو خاموش رہنا میرے لئے جائز نہ ہوتا۔

اس کے بعد ہم اترے اور نماز بجالانے کے بعد میں ریوڑ کے پاس گیا اور بکریوں کو گن لیا۔ ان کی تعداد 17 تھی۔[75]

منتخب کلام

  • ایک شخص نے امام سے درخواست کی: مجھے ایسا عمل سکھائیں جو میری دنیا اور آخرت کی بھلائی کے کام آئے اور مختصر بھی ہو؛ امام(ع) نے فرمایا:جھوٹ مت بولو۔[76]
  • آپ سے پوچھایا گیا کہ خدا نے سود خوری کو کیوں حرام کیا ہے؟ فرمایا:
اس لئے کہ لوگ ایک دوسرے کو عطا و بخشش سے منع نہ کریں۔[77]
  • اگر کوئی شخص میرے پاس آکر ضرورتمندی کا اظہار کرے تو میں اس کی حاجت فوری طور پر برآوردہ کرتا ہوں ایسا نہ ہو کہ میرے اقدام سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت پوری ہوجائے یا سمجھا جائے کہ میں نے اس کی حاجت تاخیر سے پوری کی ہے۔[78]

اصحاب

شیخ طوسی نے رجال میں تقریبا ۳۲۰۰ افراد کا نام امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب کا ناموں میں ذکر کیا ہے ۔[79] زیدیہ علما میں سے ابن عقده نے اپنی کتاب رجال میں 4000 کے عدد تک امام کے اصحاب کو پہنچایا ہے [80] اس تعداد سے مراد یہ نہیں ہے کہ اتنے افراد ہر روز امام کے درس میں شریک ہوتے تھے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اتنے افراد نے آپ کی طول حیات میں علم حاصل کیا ۔[81]

اصول اربعمأه میں سے اکثر اصول امام صادق کے شاگردوں کی تالیفات میں سے ہیں۔" مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق" کے نام سے چاپ ہونے والی کتاب میں مختلف شیعہ رجالی کتب سے جمع آوری کر کے 100 کے قریب ان اصولوں کو تالیف کرنے والے امام جعفر صادق کے اصحاب کے نام اکٹھے کئے گئے ہیں۔[82]

شیعہ راوی

  • اصحاب اجماع

مفصل مضمون: اصحاب اجماع

علم رجال میں بعض شیعہ علما کا نظریے کے مطابق راویوں کی ایک تعداد ایسے افراد کی تھی جو کسی غیر موثق شخص سے روایت نقل نہیں کرتے تھے۔اس تعداد اور اسما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

  • دیگر
  • ابان بن تغلب
  • حمران بن اعین
  • ہشام بن حکم
  • مؤمن طاق
  • جابر بن حیان
  • عبدالملک بن اعین
  • جابر بن یزید جعفی
  • عبداللہ بن ابی یعفور
  • ہشام بن سالم جوالیقی
  • یحیی بن ابی‌القاسم اسدی
  • ابوحمزه ثمالی
  • داوود بن کثیر رقی
  • ابان بن ابی عیاش
  • ابن اذینہ
  • بکیر بن اعین
  • ثعلبہ بن میمون
  • حمزة ‌بن حبیب
  • خالد بن ابی اسماعیل کوفی
  • خالد بن ابی کریمہ
  • خالد بن جریر بجلی
  • خالد بن عبدالرحمان عطار
  • خالد بن ماد قلانسی
  • صفوان بن مہران جمال
  • خلید بن اوفی
  • خلیل بن احمد فراہیدی(کتاب العین لغت کا مصنف اور نحوی)
  • خیثمہ بن عبدالرحمان
  • داؤد بن سرحان
  • داوود بن فرقد
  • عبداللہ بن میمون قداح
  • عبیداللہ بن علی حلبی
  • علی بن یقطین
  • فضل بن عبدالملک بقباق
  • لیث بن بختری مرادی
  • یقطین بن موسی بغدادی
  • سیف بن عمیره نخعی
  • حریز بن عبداللہ سجستانی
  • حمران بن اعین
  • بہلول
  • خلاد سندی
  • سلیمان بن مہران اعمش
  • داؤد بن نعمان
  • فضیل بن عیاض
  • زکریا بن ادریس اشعری قمی
  • ......

اہل سنت راوی

اہل سنت کی رجال اور حالات زندگی سے مربوط کتب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل سنت کے بعض معروف علما اور عہدے دار یا قضاوت جیسے عہدوں پر فائز افراد امام صادق کے شاگرد رہے ہیں۔صحابہ کے خاندان کے افراد ،خلفا نیز چند معروف متکلمین سیرت نگار اور مفسرین بھی امام صادق کے شاگر رہے ہیں۔ [83]

امام صادق ؑ کے بعض اہل سنت علما کے اسمائے گرامی:

  • ابوحنیفہ
  • مالک بن انس
  • سفیان ثوری
  • یحیی بن سعید انصاری
  • سفیان بن عیینہ
  • ابن جریح
  • ایوب سختیانی
  • یحیی بن سعید قطان
  • ایوب سجستانی
  • محمد بن اسحاق بن یسار
  • حسن بصری
  • واصل بن عطاء[84]

کشف الغمہ کے مؤلف نے بھی کچھ ایسے تابعین کے اسما ذکر کیے ہیں جو حضرت امام صادق (ع) سے روایت نقل کرتے ہیں جیسے : ابوعمرو بن العلاء و یزید بن عبداللہ، شعبہ بن حجاج، عبداللہ بن عمرو، روح بن قاسم، سلیمان بن بلال، حاتم بن اسماعیل، عبدالعزیز بن مختار، وہب بن خالد اور ابراہیم بن طہمان[85].

اقوال اکابرین

شیعہ

اہل سنت

  • ذہبی(748ق) نے سیر اعلام النبلاء میں کہا :
جعفر بن محمد بنی ہاشم کے بزرگ، صادق،ابو عبداللہ قرشی،علوی،نبَوی ، مدنی اور اَعلام میں سے ایک ہیں۔صحابہ میں سے انس بن مالک اور سہل بن سعد نے انہیں دیکھا ہے۔مسلم نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔وہ مدینے کے جید علما میں تھے۔انکی اکثر روایات اپنے والد سے منقول ہیں۔دراوردی کے بقول مالک نے بنی عباس کی حکومت میں اس سے روایت نقل کی۔
ذہبی نے امام جعفر صادق سے روایت نقل کرنے والوں کی جماعت میں سے 32 افراد کے نام ذکر کیے ہیں۔
عمر بن ابی مقدام کہتا ہے: میں نے جعفر کو جمرہ کے پاس یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے سوال کرو مجھ سے سوال کرو.
صالح بن ابی اسود نے جعفر صادق سے سنا: مجھ سے سوال کرو اس سے پہلے کہ میں موجود نہ رہوں کیونکہ میرے بعد تم میں سے کوئی شخص مجھ جیسی حدیث بیان نہیں کرے گا۔
ابن عقدہ نے ابو حنیفہ سے نقل کیا: جب اس سے سب سے بڑے فقیہ کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا میں نےان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔پھر اس کا سبب بیان کرتے ہوئے منصور عباسی کے دور کا واقعہ بیان کیا جس میں بادشاہ نے ابو حنیفہ سے تقاضا کیا کہ مشکل ترین فقہی مسائل کے ذریعے جعفر کا امتحان لو تو میں نے 40 سوال تیار کئے اور دربار میں بادشاہ کے حضور اس سے جو سوال پوچھتا وہ کہتا تم یہ کہتے ہو اہل مدینہ یہ کہتے ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں ۔یہانتک کہ جعفر نے تمام سوالوں کے جواب دیے ۔منصور کو اس چیز متحیر کر دیا ۔[86]
  • محمد بن اسماعل اصفہانی(535ق) کہتا ہے:
جعفر بن محمد کو صادق کہا جاتا ہے۔ عمرو بن ابی مقدام نے کہا : میں نے جب بھی جعفر بن محمد کی جانب نگاہ کی تو میں نے جان لیا کہ وہ سلالۂ انبیاء میں سے ہے۔[87]
  • مؤلف إكمال تہذيب الكمال في أسماء الرجال:
بستی نے انہیں ثقات میں سے مانا ہے اور کہا: یہ اہل بیت کے علما، فضلا اور فقہا میں سے ہیں۔انکی روایات سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
مصعب زبیری نے مالک سے نقل کیا : میں مختلف اوقات میں جعفر بن محمد کے پاس گیا میں نے انہیں حالت نماز ،روزے یا قرآن کی تلاوت میں ہی مشغول پایا اور وہ ہمیشہ حالت طہارت کے ساتھ رسول اللہ کی حدیث نقل کرتے تھے۔(خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ)ایک سال میں نے انکے ساتھ حج کیا جب وہ تہلیل کہنے لگتے تو وہ اپنے جد علی بن حسین کی طرح خوف خدا سے غش کر جاتے ....۔اگر ہم جعفر بن محمد کے حلم اور علم کے متعلق لکھنا چاہیں تو تہذیب الکمال میں مزی کی تحریر سے کہیں زیادہ موجود ہے جو لکھا جائے۔ ہم نے اہل بیت سے منسوب بعض افراد ابن النعمان اور نصر الکاتب جیسے افراد کی ایک جماعت کو جانتے ہیں کہ جنہوں نے ان کے متعلق مستقل تالیفیں لکھی ہیں۔[88]
  • ابن حجر ہی سے مروی ہے کہ ابن حبان نے کہا: فقہ، علم اور فضیلت میں اہل بیت(ع) کے سرداروں میں سے تھے۔[89]

متعلقہ حوالہ جات

حوالہ جات

  1. مناقب، ج4، ص280؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص85.
  2. شہیدی، 1384، ص5۔
  3. المفید، 1380ش. صص526-527
  4. اربلی،کشف الغمہ 2/368۔
  5. ابو خشاب بغدادی،تاریخ موالید الائمہ(المجوعہ) 32
  6. شہیدی، 1384، ص3.
  7. اللہ ہر چیز کا خلق کرنے والا ہے: کلینی، الکافی، ج 6، ص 473۔
  8. خداوندا تو میرا سہارا اور قابل اعتماد ہے پس اپنی مخلوق کے شر سے مجھے محفوظ رکھ: کلینی، وہی ماخذ۔کلینی، الکافی، ج 6، ص 473
  9. نوری، حسین بن محمدتقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج3، ص302۔ابن حیون، نعمان بن محمد، دعائم الإسلام‏، ج2، ص165۔
  10. ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400
  11. رمضان لاوند - الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة -ص 27 - 28
  12. فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212. ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400. تاج المواليد (المجموعة) - الشيخ الطبرسي - ص 43
  13. مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400.۔فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212 ۔تاج المواليد (المجموعة) - الشيخ الطبرسي - ص 43
  14. ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212 ۔ شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 43 شيخ طبرسي ،إعلام الورى بأعلام الہدى -- ج 1 - ص 514 - 516
  15. طبرسی،تاج الموالید42۔عمدۃ الطالب - ابن عنبہ - ص 195۔كشف الغمہ - ابن أبي الفتح الإربلي - ج 2 - ص 368۔الفصول المہمہ في معرفہ الأئمہ - ابن الصباغ - ج 2 - ص 910۔رمضان لاوند - الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة -ص 27 - 28
  16. طبری،دلائل الامامہ 246۔الكافي - الشيخ کلینی - ج 1 - ص 472۔الفتال النيسابوري -روضہ الواعظين - ص 212۔الإرشاد - الشيخ المفيد - ج 2 - ص 179 - 180۔مناقب آل أبي طالب - ابن شہر آشوب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدى - ج 1 - ص 514 - 516
  17. ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400
  18. شيخ مفيد -الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400. فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212۔ابن أبي الفتح إربلي -كشف الغمہ - ج 2 - ص 368۔ابن الصباغ - الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 910۔ شيخ طبرسي - تاج المواليد (المجموعة) -ص 43۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدى - ج 1 - ص 514 - 516
  19. کلینی،الکافی1/473 باب مولد ابی جعفر۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب3/362۔
  20. ابن شبہ،تاریخ المدینہ1/17۔طبری ،تاریخ طبری 6/284۔تاریخ کامل 5/593۔ذہبی،تاریخ الاسلام9/54۔
  21. ابن خیاط،تاریخ خلیفہ،353۔
  22. مجلسی، بحارالانوار، ج47، صص1-2؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص85۔
  23. شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472۔ قاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308۔ شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔ حسين بن حمدان -خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247۔ ابن عنبہ -عمدۃ الطالب - ص 195۔على بن محمد العلوي -المجدي في أنساب الطالبين - ص 94۔يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381۔ شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
  24. مناقب، ج4، ص280؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص85۔
  25. اربلی،کشف الغمہ،2/371۔
  26. شہیدی، 1384، صص85-86.
  27. المعارف، ص215؛ بحوالہ نقل شہیدی، 1384، ص4۔
  28. ابن عنبہ -عمدۃ الطالب - ص 195
  29. شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔ شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472 ج 1 - ص 472۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45 ۔ ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
  30. فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45۔ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516
  31. شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45
  32. رمضان لاوند -الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة - ص 27 - 28
  33. قاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308۔شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔حسين بن حمدان -خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247 ۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45۔يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
  34. شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔ حسين بن حمدان خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247۔شيخ مفيد -الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180.شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516
  35. يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381
  36. لقاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308 .ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
  37. لقاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308
  38. مفید،الارشاد ص53.
  39. مفید، الارشاد ص553.
  40. الطبرسی، إعلام الورى بأعلام الهدى ج1، ص546.
  41. مفید، الارشاد، ص553-554.
  42. المفید، 1380ش. ص527.
  43. طبرسی، اعلام الوری، ج1، 1417ق، ص514.
  44. ر.ک: المفید، الارشاد صص526-527.
  45. مفید، الارشاد صص528-527.
  46. مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی 59ویں آیت ِاطیعوااللہواطیعوا الرسول و اولی الامر منکم نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علی(ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی 33ویں آیت انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایةالأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ(ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
  47. شہیدی، 1384، ص60.
  48. شہیدی، 1384، ص47.
  49. قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمائش امام جعفر صادق، ص۱۰۰
  50. شہیدی، 1384، ص61.
  51. کشف الغمة، ج2، ص166؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص61.
  52. احمد بن حجر ہیتمی، 1385ه. ق. ص201۔
  53. کلینی، کافی، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۶
  54. کلینی، کافی، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۵
  55. عبداللہ بن عدی ،الکامل، 2/132۔
  56. شہیدی، زندگانی امام جعفر صادق، ص60-61۔
  57. "قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ٭ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ" ۔(ترجمہ: ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، اس پر ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا ٭ ارشاد ہوا کس چیز نے تجھے منع کیا جو تو سجدہ نہ کرے باوجودیکہ میں نے تجھے حکم دیا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے)۔(سورہ اعراف آیات 11 و 12)۔
  58. الاخبار الموفقیات، ص76-77؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص1۹7؛ به نقل شہیدی،زندگانی امام جعفر صادق، ص62.
  59. اصول کافی، ج1، ص171-173؛ مناقب، ج2، ص243-244؛ کشف الغمہ، ج2، صص173-175؛ امین الاسلامی طبرسی، اعلام الوری، صص280-283۔
  60. شہیدی، 1384، ص57.
  61. شہیدی، 1384، ص34.
  62. عیون اخبار الرضا، ج۱، صص۱۹۴-۱۹۵؛شہیدی،زندگانی امام جعفر صادق، ص۳۷.
  63. صدوق، امالی، ص۹۴
  64. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ج۲، ص۶۸، بحوالۂ الحیاه السیاسیہ و الفکریہ للزیدیہ فی المشرق الاسلامی، ص۷۷-۷۸ و الوافی بالوفیات، ج۲، ص۳۷-۳۸
  65. کشی، ج۲، ص۶۵۲، صدوق، امالی، ۴۳۰-۴۳۱
  66. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۲۳۲-۲۳۳
  67. ابن طقطقی، الفخری فی الاداب السلطانیہ، ص۲۰۷-۲۰۸
  68. مسعودی، مروج الذہب، ج۳، ص۲۵۴
  69. بلاذری، انساب الاشراف، ج۴، ص۲۲۵-۲۲۶
  70. ابونعیم، حلیۃ الابرار، ج۳، ص۱۹۸؛ ابن طلحه، مطالب السؤل، ص۲۸۶
  71. تاریخ طبری، ج۸، ص۸۱؛ ابن طقطقی، الفخری فی الاداب السلطانیہ، ص۲۰۹
  72. ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج۶، ص۲۶۲
  73. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۱۸۵-۱۸۶
  74. پاکتچی، امام جعفر صادق، دائره المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۸، ص۱۸۶-۱۸۷
  75. اصول کافی، ج2، صص243-242؛ شہیدی، 1384، ص34-37.
  76. شہیدی، سیدجعفر، 1384، ص102.
  77. شہیدی، 1384، ص103.
  78. عیون الاخبار؛ ج3، ص175؛ به نقل شہیدی، 1384، ص103.
  79. رجال طوسی، ص۴۱۲-۶۷۷
  80. قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق، ص۱۰۲
  81. شہیدی، ۱۳۸۴، ص۶۵.
  82. قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق، ص۱۰۶-۱۱۰
  83. واعظ زاده خراسانی،محمد، نقش امام صادق(ع) در نہضت علمی صدر اسلام، مشکاة، شماره ۳۲، ص۱۷
  84. پایگاه اطلاع رسانی حوزه
  85. اربلی، کشف الغمہ، ج۲، ص۷۲۰
  86. ذہبی،سير أعلام النبلاء ط الرسالة (6/ 255)ابن عدی جرجانی،الکامل فی الضعفاء الرجال2/358 ذیل جعفر بن محمد بن علی، طبع الكتب العلميہ - بيروت-لبنان
  87. إسماعيل بن محمد أصبہاني،سير السلف الصالحين (ص: 721)دار الرايۃ للنشر والتوزيع، الرياض
  88. مغلطاي بن قليج،إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال، 3/تلخیص از جعفر بن محمد بن علی/
  89. تہذیب التہذیب، ص104. بحوالہ شہیدی، سید جعفر، 1384، ص4.

مآخذ

  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج2، حیدرآباد، مطبعہ نظامیہ، 1325ہجری۔
  • ابو خشاب بغدادی،تاریخ موالید الائمہ(المجوعہ)، مكتب آيتاللہالعظمى المرعشي النجفي - قم
  • إربلي ابن أبي الفتح،کشف الغمہ،دار الأضواء - بيروت - لبنان
  • احمد بن حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، مکتبۃ القاہرہ، 1385، ہجری۔
  • شہیدی، سیدجعفر، زندگانی امام صادق جعفر بن محمد (ع)،تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1384.
  • صدوق، عیون اخبار الرضا (ع)، ترجمه علی اکبر غفاری، ج2،تہران: نشر صدوق، 1373.
  • صدوق، من لا يحضره الفقيہ، ج4، قم: مؤسسہ النشر الإسلامي، 1404.
  • طبرسی، الفضل بن الحسن، اعلام الوری باعلام الہدی، تحقیق موئسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم: موئسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ج1، 1417 ہجری۔
  • عبداللہبن عدی ،الکامل فی الضعفا، دار الفكر للطباعۃ والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان
  • المفید، الارشاد، ترجمه و شرح فارسی: محمدباقر ساعدی، تصحیح: محمدباقر بہبودی، بیجا، انتشارات اسلامیہ، 1380ہجری شمسی۔
معصوم ہفتم:
امام محمد باقر علیہ السلام
14 معصومین
امام جعفر صادق علیہ السلام
معصوم نہم:
امام موسی کاظم علیہ السلام
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام