سمیہ بنت خباط

ویکی شیعہ سے
سمیہ بنت خباط
قبرستان ابو طالب، سمیہ و یاسر اولین شہداء اسلام کا مدفن
کوائف
مکمل نامسمیہ بنت خباط
محل زندگیمکہ
اقارببیٹے: عمار یاسر، شوہر: یاسر
مدفنقبرستان ابو طالب، مکہ
دینی معلومات
اسلام لانااولین اسلام لانے والوں میں سے
وجہ شہرتصحابی، اولین شہیدہ اسلام


سُمَیِّہ بنت خباط، پیغمبر اکرم (ص) کے مشہور صحابی عمار یاسر کی والدہ، سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے اور اسلام کی پہلی شہیدہ خاتون ہیں۔

نسب اور اسلام سے پہلے کی زندگی

سمیہ، خباط کی بیٹی اور ابی الحذیفہ بن المغیرہ (قبیلہ بنی مخزوم کے سردار) کی کنیز تھیں۔[1] ان کے شوہر یاسر، عامر کے بیٹے اور یمن کے عنسی، مذجحی، قحطانی عرب قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جو اپنے دو بھائیوں حارث اور مالک کے ہمراہ یمن سے مکہ آئے تا کہ وہ اپنے گمشدہ چوتھے بھائی کو تلاش کر سکیں جو قحطی و خشک سالی اور حکومت یمن کے خراب حالات کی وجہ سے لا پتہ ہو گئے تھے۔ جب تینوں بھائی اپنے بھائی کی تلاش سے مایوس ہو گئے تو مالک اور حارث اپنے وطن واپس لوٹ گئے جبکہ یاسر مکہ میں ہی رک گئے اور بنی مخزوم قبیلہ کے رئیس حذیفہ بن مغیرہ کے ساتھ ہم پیمان ہو گئے۔[2]

ابو حذیفہ نے خباط کی بیٹی سمیہ کی جو ان کی سب سے شریف و عفیف کنیز تھیں، یاسر سے شادی کرا دی اور اس کے بعد سمیہ کو آزاد کر دیا اور یہ مقرر کیا کہ ان دونوں سے ہونے والی اولاد بھی آزاد شمار کی جائیں گی۔

سمیہ کا اسلام لانا

جس وقت پیغمبر اکرم (ص) مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ یاسر، سمیہ اور ان کے بیٹے عمار اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور تمام پیش آنے والے خطروں کی پرواہ کئے بغیر اسے دل و جان سے تسلیم کیا۔

یاسر و سمیہ مشرکین کے زیر شکنجہ

اس گھرانے کے اسلام لانے کے ساتھ ہی کفار قریش کی طرف سے آزار و اذیت اور انہیں شکنجہ دینے کا شروع ہو گیا اور دن بہ دن اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ مکہ کے گرم ریگزار میں ابو جہل انہیں سزا دیتا تھا۔ جلاد ان تینوں کے سینوں پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور بیحد سختی کے ساتھ انہیں ایذا و تکلیف پہچایا کرتے تھے۔

ابو جہل کہتا تھا:

ان تینوں کاموں میں سے کوئی ایک تمہاری نجات اور آسایش کا ذریعہ بن سکتے ہیں: ۱۔ سب و شتم پیغمبر (ص) ۲۔ پیغمبر (ص) سے اظہار برائت ۳۔ لات و عزی کی طرف رجوع۔ لیکن ان کی زبانوں سے ان جملوں: اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، لات و عزی کی برائی اور آنحضرت (ص) کا نہایت عزت و احترام کا ساتھ نام لینے کے علاوہ کوئی چیز سننے میں نہیں آتی تھی۔[3]

ابو جہل ان کے جسموں پر آہنی زرہیں پہنا کر انہیں مکہ کے صحرا اور ریگزار میں تپتی ہوئی دھوب میں زیر آسمان باندھ دیتا تھا۔ جس کے نتیجہ میں تمازت آفتاب اور لوہے کی حدت ان کے جسموں جلا اور دماغوں کو برما دیتی تھی۔[4]

پیغمبر کی یاسر و سمیہ سے ہمدردی

پیغمبر اکرم (ص) یاسر و سمیہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ان کی احوال پرسی کے لئے ان کے پاس جاتے تھے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے دست مبارک سے ان کے زخموں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے:

صَبراً یا آلِ یاسر فَاِنَّ مَوعدَکُمُ الجَنَّة،[5] اے آل یاسر صبر کرو کہ تمہاری وعدہ گاہ جنت ہے اور کبھی آسمان کی طرف رخ کرتے اور فرماتے تھے: پروردگارا آل یاسر کی مغفرت فرما، ان کے سلسلہ میں جو مجھ سے ممکن تھا میں نے انجام دیا۔[6]

ایک دن عمار نے پیغمبر (ص) سے کہا:

یا رسول الله: بَلَغَ العَذابُ مِن اُمّی کُلَّ مَبلَغٍ، اے رسول خدا، میری ماں پر (کفار قریش کی طرف سے) کئے جانے مظالم اپنی حد پار کر چکے ہیں: آپ نے فرمایا: صبراً یا اَبَا الیقظانِ! اَللَّهُمَّ لا تُعَذِّب اَحَداً مِن آلِ یاسِر بِالنًّار ، اے ابا یقظان صبر کرو اور آسمان کی طرف رخ کیا اور فرمایا: پروردگارا، آل یاسر میں سے کسی کو بھی اپنے عذاب اور آتش جہنم میں مبتلا نہ فرما۔[7]

سمیہ کی شہادت

آخر کار شکنجہ کے سبب یاسر کی شہادت ہو گئی۔ ان کی اہلیہ سمیہ ضعیفی کے باوجود تحمل اور مقاومت کر رہیں تھیں۔ شوہر کی شہادت کے بعد ابو جہل ہر وقت انہیں برا بھلا کہتا تھا۔ ایک دن ابو جہل نے غصہ میں حکم دیا کہ ان کے دونوں پیروں کو دو اونٹوں کے پیروں میں باندھ کر انہیں مخالف سمت میں چلایا جائے۔[8] آخر کار ابو جہل غصہ سے پاگل ہو گیا اور خنجر یا نیزہ سے ان کے شکم کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس طرح سے اس نے اس با صلابت خاتون کو شہید کر دیا۔[9]

تدفین

قریش کے جوان جو اس منظر کو دیکھ رہے تھے، انہوں نے اسلام دشمنی کے اپنے مشترکہ منافع کے باوجود عمار کو زخمی حالت میں ابو جہل کے پنجے سے آزاد کرایا تا کہ وہ اپنے ماں باپ کے جنازہ کو دفن کر سکیں۔[10]

حوالہ جات

  1. بحار الانوار، ج ۱۸، ص۲۴۱؛ معارف و معاریف، ج ۶، ص۳۳۴
  2. منتہی الآمال، ص۱۶۰- ۱۶۱
  3. عمار یاسر، پیشاہنگ اسلام و پرچمدار علی(ع)، ص۷۱
  4. قمی، منتہی الآمال، ج۱، ص۳۰۵
  5. قمی، منتہی الآمال، ج۱، ص۳۰۵
  6. عمار یاسر، پیشاہنگ اسلام و پرچمدار علی(ع)، ص۷۲
  7. قمی، منتہی الآمال، ج۱، ص۳۰۶
  8. امین، اعیان الشیعه، ج۸، ص۲۷۲
  9. ابن اثیر، الکامل، ص۸۸۵؛ مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۸، ص۲۴۱
  10. صحابی، فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام، ص ۱۱۷

مآخذ

  • ابن اثیر، عز الدین؛ الکامل، ترجمہ محمد حسین روحانی، تہران، اساطیر، ۱۳۷۰ ش، چاپ اول
  • امین، سید محسن؛ اعیان الشیعه، بیروت، دارالتعارف
  • شرف الدین صدر الدین، عمار یاسر، پیشاہنگ اسلام و پرچمدار علی(ع)، مترجم: سیدغلام‌ رضا سعیدی، تہران، آیین جعفری، بی‌ تا
  • صحابی، جعفر، فرازہایی از تاریخ پیامبر اسلام، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، معاونت آموزش و تحقیقات، ۱۳۷۱ ش
  • قمی، شیخ عباس، منتہی الآمال، قم، نشر دلیل، ۱۳۷۹ ش
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، محقق محمد باقر محمودی، عبد الزہرا علوی، بیروت، دار احیاء التراث العربی