ابو طالب علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
(ابوطالب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو طالب علیہ السلام
قبرستان ابو طالب(مکہ مکرمہ، سعودی عرب)
معلومات
مکمل نام عبد مناف بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف
کنیت ابو طالب
لقب سيد البطحاء
وجہ شہرت کفالت حضرت رسول خدا، والد حضرت علی
محل زندگی مکہ مکرمہ
نسب بنو ہاشم
مشہوراقارب محمد بن عبد اللہ، علی بن ابی طالب،عبد المطلب بن ہاشم
شہادت/وفات پندرہ شوال یا یکم ذوالقعدہ
مدفن قبرستان حجون یا قبرستان ابی طالب یا جنت المعلی (المعلاة)
دیگر کارنامے پشت پناہی رسول اکرم (ص)


عبد مناف بن عبد المطلب بن ہاشم المعروف ابو طالب زعمائے مکہ میں سے ہیں جن کا تعلق قبیلۂ بنو ہاشم سے ہے؛ امام علی علیہ السلام کے والد ماجد اور محمد بن عبداللہ(ص) کے چچا ہیں۔ دیوان ابو طالب میں رسول اللہ(ص) پر ان کے کام ایمان کے واضح ثبوت ہیں۔ ان کی شاعری کی مجموعی دلالت کو متواتر جانا گیا ہے؛ اور ان کے اشعار ایک موضوع میں اشتراک رکھتے ہیں اور وہ مشترکہ موضوع رسول اللہ(ص) کی نبوت و رسالت کی تصدیق ہے۔[1]

ابو طالب حجاج کی رفادت اور سقایت (سقایۃ الحاج اور رفادۃ الحاج) (میزبانی کرنے اور سیراب کرنے) کے منصب کے عہدیدار تھے اور گندم اور عطریات کی تجارت سے منسلک منسلک تھے۔ انھوں نے اپنے والد عبد المطلب علیہ السلام کی وفات کے بعد رسول خدا(ص) کی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا ذمے لی اور اور آپ(ص) کی رسالت کے دوران آپ کی ہمہ جہت حفاظت و حمایت کی۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: اگر جناب ابو طالب اور ان کا بیٹا (علی(ع)) نہ ہوتے تو اسلام کبھی بھی معرض وجود میں نہ آتا۔ برپا نہ ہوتا اور اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوتا؛ پس ابو طالب مکہ میں رسول خدا(ص) کو پناہ دی اور آپ(ص) کی حمایت کی اور ان کے بیٹے (علی(ع)) نے یثرب میں اسلام کی حفاظت کے لئے موت کے بھنوروں میں غوطہ زن ہوئے۔[2] حتی کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا: جب تک ابوطالب بقید حیات تھے قریش سے مجھ سے خائف رہتے تھے۔[3]۔[4]

شیخ مفید لکھتے ہیں: "ابو طالب(ع) کی وفات کے وقت جبرائیل رسول اکرم(ص) پر نازل ہوئے اور اللہ کا حکم پہنچایا کہ "مکہ کو چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ اب اس شہر میں آپ کا کوئی یار و مددگار نہيں رہا"۔[5]

رسول اللہ(ص) ابو طالب(ع) کی وفات کے دن شدت سے مغموم و محزون تھے اور رو رہے تھے۔ آپ(ص) نے امام علی(ع) کو ہدایت کی کہ انہیں غسل و کفن دیں اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ اور جب ان کے مدفن میں پہنچے تو ان سے مخاطب ہوکر اپنے ساتھ ان کے حسن سلوک اور مدد و حمایت کا ذکر کیا اور کہا: "چچا جان! میں اطرح سے آپ کے لئے استغفار کرون اور آپ کی شفاعت کروں گا کہ جن و انس حیرت زدہ ہوجائیں گے"۔ ابو طالب(ع) کو قبرستان حجون یا قبرستان ابی طالب یا جنت المعلی (المعلاة)م میں اپنے والد عبد المطلب علیہ السلام عبد المطلب(ع) کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

ابوطالب نہ ہوتے تو دین قد سیدھا نہ کر سکتا

ولولا ابوطالب وابنه لما مثل الدین شخصاً فقاما فذاك بمكة آوی وحامی و هذا بیثرب جس الحماما تكفل عبدُ منافٍ بأمر وأودی فكان عليٌ تماماً
اگر ابو طالب اور ان کے فرزند (علی نہ ہوتے تو دین کا ستون بپا نہ ہوتا؛ ابو طالب(ع) نے مکہ میں دین کو پناہ دی اور اس کی حمایت کی اور علی(ع) نے مدینہ میں دین کے کبوتر کو اڑنے کے قابل بنایا؛ ابو طالب(ع) نے ایک کام کا آغاز کیا اور جب رخصت ہوئے تو علی(ع) نے اس کو سرانجام تک پہنچایا.

ابن ابی الحدید، ج14، ص84۔

ولادت اور نسب

عبد مناف بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف المعروف ابوطالب زعماء و اکابرین مکہ و قبیلۂ بنی ہاشم میں سے نیز خاندان بنی ہاشم کے سربراہ ہیں۔ انہیں سقایت و رفادت کے عہدے انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملے ہیں۔ وہ امام علی علیہ السلام کے والد ماجد اور محمد بن عبداللہ(ص) کے چچا اور جان نثار حامی ہیں۔ وہ اپنی کنیت ابو طالب سے مشہور ہیں اور ان کا مشہور نام "عبد مناف" ہے۔[6]۔[7] رسول خدا(ص) کے اعلان نبوت کے بعد پورے وجود سے آپ(ص) کی حمایت کا اہتمام کیا اور جب مشرکین قریش نے بنو ہاشم کا سماجی اور معاشی محاصرہ کرکے انہیں شعب ابی طالب تک محدود کیا، تو ابو طالب(ع)بھی شعب میں چلے گئے اور محاصرہ و ناکہ بندی کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد شعب ابی طالب میں جھیلے مصائب اور رنج و تکلیف کی وجہ سے بعثت کے دسویں سال کے ماہ شوال ذوالحجہ میں وفات پاگئے۔[8]۔[9] ابن عنبہ کہتے ہیں: ابو طالب کو "عمران" کا نام دینے والی روایت ضعیف ہے۔[10] ابو طالب(ع) رسول خدا(ص) کی ولادت سے 35 سال قبل پیدا ہوئے؛ ان کا سال پیدا‏‏ئش سنہ 535عیسوی ہے اور یوں وہ 75 سال قبل از بعثت پیدا ہوئے ہیں۔[11] ان کے والد ماجد رسول خدا(ص) کے دادا جناب عبد المطلب ہیں۔ تمام عرب قبائل ابوطالب کے والد اور رسول اللہ کے دادا کو بزرگی اور تعظيم کے ساتھ یاد کرتے تھے اور انہیں توحید و یکتا پرستی اور دین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبلغ کے طور پر جانتے تھے۔ ابو طالب(ع) اور رسول خدا(ص) کے والد عبداللہ بن عبد المطلب کی والدہ ماجدہ عمرو بن عائذ مخزومی کی بیٹی فاطمہ بنت عمرو مخزومی ہیں۔[12]

زوجہ اور اولاد

حضرت ابو طالب(ع) کی زوجہ جناب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبدمناف[13] تھیں اور پہلی ہاشمی خاتون تھیں جو ایک ہاشمی مرد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور صاحب اولاد ہوئیں[14]۔[15] حضرت علی(ع) سمیت، ابوطالب(ع) کے تمام فرزندوں کی ماں فاطمہ بنت اسد ہیں۔[16] چنانچہ حضرت علی(ص) پہلے ہاشمی ہیں جن کے والدین دونوں ہاشمی ہیں۔[17]۔[18]۔[19] ابن سعد لکھتے ہیں: ابو طالب(ع) کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں جن کے نام عمر کی ترتیب کے لحاظ سے، یہ ہیں:

بیٹے:

بیٹیاں:

ابو طالب(ع) کے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کی والدہ فاطمہ بنت اسد علیہا السلام ہیں۔ مروی ہے کہ ان کا ایک پانچواں بیٹا بھی تھا جس کا نام طلیق تھا اور اس کی والدہ کا نام "علّہ" تھا۔[20]


سماجی منزلت، پیشے اور مناصب

ابو طالب(ع) مکہ میں حجاج کی رفادت (میزبانی) اور سقایت (آب رسانی) کے مناصب پر فائز تھے۔[21] وہ تجارت سے بھی منسلک تھے اور عطریات اور گندم کی خرید و فروخت کرتے تھے۔[22]

امیرالمؤمنین(ع) سے منقولہ ایک روایت ـ نیز مؤرخین کے اقوال کے مطابق ـ حضرت ابو طالب(ع) تہی دست ہونے کے باوجود قریش کے عزیز اور بزرگ تھے اور ہیبت و وقار اور حکمت کے مالک تھے۔[23]۔[24] كان أبو طالب رضي الله عنه سيد البطحاء وشيخ قريش ورئيس مكة، وكان رحمه الله شيخا جسيما وسيما ، عليه بهاء الملوك ووقار الحكماء، قيل لاكثم بن صيفي حكيم العرب، ممن تعلمت الحكمة والرياسة والحلم والسيادة ؟ قال: من حليف الحلم والادب سيد العجم والعرب ابى طالب بن عبد المطلب.
ترجمہ: ابو طالب(ع) بطحاء کے سردار، قریش کے زعیم اور مکہ کے رئیس و سربراہ تھے، اور وہ ـ جن پر اللہ کی رحمت ہو ـ تناور اور صاحب جمال بزرگ تھے، بادشاہوں کے جلال کے مالک تھے اور حکماء کا وقار رکھتے تھے؛ کہا گیا ہے کہ وہ بادشاہوں کے جلال کے مالک تھے اور حکماء کا وقار رکھتے تھے؛ حکیم العرب اکثم بن صیفی سے پوچھا گیا: آپ نے حکمت و ریاست و اور بردباری و سیادت کس سے سیکھی؟ تو انھوں نے جواب دیا: "میں نے یہ سب حلم و ادب کے حلیف، سید عرب و عجم حضرت ابوطالب بن عبدالمطلب(ع) سے سیکھا۔[25]۔[26]

ابو طالب(ع) کی فیاضی اور جود و سخا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "جس دن وہ لوگوں کو کھانے پر بلاتے قریش میں سے کوئی بھی کسی کو کھانے پر نہیں بلاتا تھا۔[27]

ابو طالب(ع) نے سب سے پہلے عصر جاہلیت میں حلف اور قسم کو، مقتول کے وارثوں کی شہادت میں، لازمی قرار دیا اور اسلام نے اس کی تائید و تصدیق کی۔[28]

حلبی کہتے ہیں: ابو طالب(ع) نے اپنے والد ماجد حضرت عبد المطلب بن ہاشم(ع) کی مانند شراب نوشی کو اپنے اوپر حرام کردیا تھا۔[29]

رسول اکرم(ص) کی کفالت اور سرپرستی

ابو طالب(ع) نے اپنے والد کی ہدایت پر اپنے آٹھ سالہ بھتیجے حضرت محمد(ص) کی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا۔[30]۔[31]

ابن شہرآشوب کہتے ہیں: جناب عبد المطلب نے وقت وصال ابو طالب(ع) کو بلوایا اور کہا:

"بیٹا! تم رسول خدا(ص) اور کی نسبت میری محبت کی شدت سے آگاہ ہو، اب دیکھو کہ ان کے حق میں میری وصیت پر کس طرح عمل کرتے ہو"۔ ابو طالب(ع) نے جوابا کہا:
"ابا جان! مجھے رسول خدا(ص) کی سفارش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ میرا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے۔

ابن شہر آشوب مزید کہتے ہیں: "عبد المطلب(ع)" کا انتقال ہوا تو ابو طالب(ع) نے رسول خدا(ص) کو کھانے پینے اور لباس و پوشاک میں اپنے اہل خانہ پر مقدم رکھا۔[32] ابن ہشام لکھتے ہیں: "ابو طالب(ع) رسول خدا(ص) کو خاص توجہ دیتے تھے؛ اور آپ(ص) پر اپنے بیٹوں سے زیادہ احسان کرتے تھے، بہترین غذا آپ(ص) کے لئے فراہم کرتے تھے اور آپ(ص) کا بستر اپنے بستر کے ساتھ بچھا دیتے تھے اور ان کو ہمیشہ ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے تھے"۔[33]

ابو طالب(ع) جب بھی اپنے بیٹوں بیٹیوں کو کھانا کھلانے کے لئے دسترخوان بچھاکر کہا کرتے تھے کہ "رک جاؤ کہ میرا بیٹا (رسول خدا(ص)) آجائے۔[34]

رسول اللہ(ص) کے حامی و پشت پناہ

تاریخی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو طالب(ع) نے قریش کے دباؤ، سازشوں دھونس دھمکیوں اور ان کی طرف لاحق خطرات کے مقابلے میں رسول اکرم(ص) کے بےشائبہ اور بےدریغ حمایت جاری رکھی۔ گوکہ ابو طالب(ع) کی عمر رسول اللہ(ص) کی بعثت کے وقت پچھتر برس ہوچکی تھی، تاہم انھوں نے ابتداء ہی سے آپ(ص) کی حمایت و ہمراہی کو ثابت کرکھ ے دکھایا۔ انھوں نے قریش کے عمائدین کے سے باضابطہ ملاقاتوں کے دوران رسول اللہ(ص) کی غیر مشروط اور ہمہ جہت حمایت کا اعلان کیا۔[35] قریشیوں نے کہا: رسول خدا(ص) کو ہمارے حوالے کریں تا کہ ہم انہیں قتل کریں؛ ہم ان کے بدلے مکہ کا انتہائی خوبصورت نوجوان "عماره بن ولید مخزومی" آپ کے سپرد کریں گے؛ تو مؤمن قریش نے جواب دیا: "اچھا تو تم میرا بیٹا مجھ سے لے کر قتل کرو گے اور میں تمہارے بیٹے کو پالوں گا اور کھلاؤنگا اور پلاؤنگا؟"۔ ابو طالب(ع) نے فریشیوں پر لعنت ملامت کی اور انہيں دھمکی دی کہ اگر رسول اللہ(ص) کے خلاف اپنی سازشوں سے باز نہ آئیں تو انہيں ہلاک کردیں گے۔[36]۔[37]

یہ حمایت اور محبت اس حد تک تھی کہ جناب ابو طالب(ع) اور ان کی زوجہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت اسد(س) رسول اللہ(ص) کے لئے ماں باپ کی صورت اختیار کرگئے۔[38]

رسول اکرم(ص) نے حضرت ابو طالب(ع) کے روز وفات غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

مَا زَالَتْ قُرَیْشٌ كَاعَّةً (اَو قَاعِدَةً) عَنِّی حَتَّی تُوُفِّیَ اَبُو طَالِبٍ۔
ترجمہ: جب تک ابوطالب بقید حیات تھے قریش سے مجھ سے خائف رہتے تھے۔[39]۔[40]۔[41]۔[42]

عبدالرحمن بن کثیر کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے عرض کیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ابوطالب آگ کی تالاب میں ہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا: جھوٹ بول رہے ہیں؛ جبرائیل (علیہ السلام) یہ بات لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل نہیں ہوئے۔

میں نے عرض کیا کہ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کیا لاکر نازل ہوئے؟
امام (علیہ السلام) نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور رسول اللہ(ص) سے عرض کیا: اے رسول خدا(ص)! آپ کا پروردگار آپ پر سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: بتحقیق اصحاب کہف نے ایمان کو خفیہ رکھا اور شرک کا اظہار کیا پس اللہ نے انہیں ان کو دو گنا اجر عطا فرمایا اور بتحقیق ابو طالب(ع) نے ایمان کو خفیہ رکھا اور شرک ظاہر کیا اور اللہ نے انہیں دوگنا اجر عطا فرمایا اور وہ دنیا سے نہیں اٹھے حتی کہ اللہ تعالی کی جانب سے انہیں جنت کی بشارت ملی۔ امام صادق(ع) نے مزید فرمایا: یہ ملعون لوگ کیونکر ابو طالب(ع) کے بارے میں ایسی بات کر سکتے ہیں جبکہ جبرائیل اللہ کا پیغام لے کر ابو طالب(ع) کے انتقال کی رات رسول اللہ(ص) پر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے رسول خدا(ص)! مکہ سے نکل جائیں کیونکہ ابوطالب(ع) کے بعد اب آپ کا کوئی مددگار نہیں ہے!۔[43] شیخ مفید لکھتے ہیں: "ابو طالب(ع) کی وفات کے وقت جبرائیل رسول اکرم(ص) پر نازل ہوئے اور اللہ کا حکم پہنچایا کہ "مکہ کو چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ اب اس شہر میں آپ کا کوئی یار و مددگار نہيں رہا"۔[44]

اشعار

اصل مضمون: دیوان ابوطالب

ابو طالب(ع) کے قصائد اور منظوم کلام اور حکیمانہ اور ادیبانہ منظوم اقوال تقریبا ایک ہزار ابیات (اشعار) پر مشتمل ہیں اور یہ مجموعہ "دیوان ابو طالب" کے نام سے مشہور ہے۔ جو کچھ ان اشعار اور اقوال میں آیا ہے سب رسول خدا(ص) کی رسالت و نبوت کی تصدیق و تائید پر مبنی ہے۔ ان کا مشہور ترین قصیدہ قصیدہ لامیہ کے عنوان سے مشہور ہے۔[45]

ایمان

اصل مضمون: ایمان ابی طالب

شک نہیں کہ ابو طالب(ع) رسول خدا(ص) کے سرپرست اور اور دشوار ترین ایام میں آپ(ص) کے حامی تھے لیکن [امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان گھٹانے کے لئے ان کے ایمان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور ایمان ابوطالب پر کافی بحث ہوئی ہے۔ شیعیان اثنا عشری ابو طالب(ع) کے ایمان اور اسلام پر یقین کامل رکھتے ہیں اور علمائے شیعہ ائمۂ اہل بیت(ع) کی روایات کی روشنی میں ان کے ایمان پر اجماع رکھتے ہیں؛ [اور بہت سے علمائے اہل سنت ابو طالب(ع) کے اشعار و اقوال نیز رسول اللہ(ص) کی حمایت کے حوالے سے ان کے اقدامات اور اس راہ میں ان کی جھیلی ہوئی صعوبتوں کی روشنی ان کے صاحب ایمان ہونے پر یقین رکھتے ہیں] اور ان کے مقابلے میں بعض علمائے اہل سنت کا خیال ہے کہ ابو طالب(ع) شریعت اسلام پر ایمان نہیں لائے اور حالت شرک میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں:

إن مثل ابي اطالب مثل اصحاب الكهف اسروا الإيمان و اظهروا الشرك فاتاهم الله اجرهم مرتين۔
ترجمہ: بےشک ابو طالب(ع) کی مثال اصحاب کہف کی مثال ہے جنہوں نے اپنا ایمان صیغہ راز میں رکھا اور شرک کا اظہار کیا پس خداوند متعال نے انہیں دوگنا اجر عطا کیا۔

فخار بن معد لکھتے امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں:

أتى جبرئيل... فقال: يا محمد إن ربك يقرئك السلام ويقول لك: إن اصحاب الكهف أسروا الايمان واظهروا الشرك فآتاهم الله اجرهم مرتين، وإن ابا طالب اسر الايمان وأظهر الشرك فآتاه الله اجره مرتين، وما خرج من الدنيا حتى أتته البشارة من الله تعالى بالجنة... ۔
ترجمہ: جبرائیل(ع) اترے اور عرض کیا: اے رسول خدا(ص)! آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: بتحقیق اصحاب کہف نے ایمان کو خفیہ رکھا اور شرک کا اظہار کیا پس اللہ نے انہیں ان کو دو گنا اجر عطا فرمایا اور بتحقیق ابو طالب(ع) نے ایمان خفیہ رکھا اور شرک ظاہر کیا اور اللہ نے انہیں دوگنا اجر عطا فرمایا اور وہ دنیا سے نہیں اٹھے حتی کہ انہیں اللہ تعالی کی جانب سے جنت کی بشارت ملی۔[46][47][48]۔[49]۔[50]

شیخ مفید لکھتے ہیں: پس انھوں نے ایمان کو خفیہ رکھا اور ظاہر کیا ایمان میں سے صرف اتنا، جس کا اظہار ممکن تھا اس مصلحت کی بنا پر حتی کہ اسلام کی بنیادوں کو استوار کرنے اور دعوت کے استحکام اور رسول اللہ(ص) کی رسالت کی استقامت و استحکام جیسے مقاصد تک پہنچ سکیں اور وہ اس سلسلے میں کہف والے مؤمنوں کی طرح تھے جنہوں نے ایمان تقیہ مصلحت خواہی کی بنا پر خفیہ رکھا اور ایمان کی مخالفت کو ظاہر کیا پس اللہ نے انہیں دوگنا اجرت و پاداش عطا کی اور ہماری اس بات کی دلیل ابو طالب(ع) کا یہ قول ہے کہ

ودعوتني وزعمت أنك ناصح ولقد صدقت وكنت ثم أمينا
آپ نے مجھے دعوت دی اور میں آپکو ناصح سمجھتا ہوں میں تصدیق کرتا ہوں کہ آپ میرے خیر خیر خواہ تھے
ولقد علمت بان دين محمد من خير اديان البرية دينا
اور میں جانتا ہوں کہ دین محمد تمام نیک ادیان میں اچھا دین ہے

پس انھوں نے اس شعر میں رسول اللہ(ص) کی خیرخواہی اور صداقت کی گواہی دی اور آپ(ص) کی نبوت کو تسلیم کیا اور ایمان خالص ہے جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا تھا۔[51]

وفات اور عام الحزن

ابو طالب(ع) کی تاریخ وفات کے بارے میں بھی مختلف اقوال پائے جاتے ہیں لیکن بعض شیعہ منابع میں ان کی تاریخ وفات 26 رجب ہے جب کہ اس سے صرف تین روز قبل حضرت خدیجہ(س) وفات پاچکی تھیں۔ ابو طالب(ع) 85 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔[52]۔[53] بعض منابع میں مروی ہے کہ ابو طالب(ع) پندرہ شوال یا یکم ذوالقعدہ کو دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اور رسول خدا(ص) نے حضرت خدیجہ(س) اور حضرت ابو طالب(ع) کے سال وفات کو عام الحزن (دکھوں کا سال) قرار دیا۔[54]

رسول اللہ(ص) ابو طالب(ع) کی وفات کے دن شدت سے مغموم و محزون تھے اور رو رہے تھے؛ اور حضرت ابو طالب(ع) کے لئے طلب رحمت و مغفرت کررہے تھے۔[55]۔[56] اور جب ان کے مدفن میں پہنچے تو ان سے مخاطب ہوکر اپنے ساتھ ان کے حسن سلوک اور مدد و حمایت کا ذکر کیا اور کہا: "چچا جان! میں اطرح سے آپ کے لئے استغفار کرون اور آپ کی شفاعت کروں گا کہ جن و انس حیرت زدہ ہوجائیں گے"۔[57] ابو طالب(ع) کو قبرستان حجون یا قبرستان ابی طالب یا جنت المعلی (المعلاة)م میں اپنے والد عبد المطلب(ع) کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔[58]

شاید ماہ رمضان المبارک سنہ 10 بعد از بعثت کو دوران رسالت یا حتی کہ حیات رسالتمآب(ص) کا سخت ترین اور دشوار ترین سال قرار دیا جاسکے۔ کیونکہ اس سال اور اس ماہ میں آپ(ص) اپنے مؤثرترین حامی حضرت ابوطالب(ع) کے وجود سے محروم ہوئے جو قریش کے مقابلے میں شجاعت کے ساتھ آپ(ص) کا دفاع و تحفظ کرتے رہے تھے اور قریشیوں کی دشمنیوں کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے۔ کچھ دن بعد[59] حضرت خدیجہ(س) کا انتقال ہوا جو قبل ازاں آپ(ص) کی مالی اور معاشی لحاظ سے حمایت کرتی رہیں تھیں اور آپ(ص) کے سکون و آسائش کے اسباب فراہم کرتی تھیں۔[60]۔[61]

متعلقہ مآخذ


حوالہ جات

  1. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج14، ص 78۔
  2. معتزلي، ابن أبي الحديد، شرح نهج البلاغة، ج14 صص83 و84۔
  3. معتزلي، إبن أبي الحديد، شرح نهج البلاغة ج14 ص65 تا 84۔
  4. قمی، شیخ عباس، سفينة البحارج2 ص87 تا 90۔
  5. شیخ مفید، ایمان ابی طالب، ص 24.
  6. انساب الاشراف، ج 2، ص 288۔
  7. طبقات ابن سعد، ج1، ص 121.
  8. ابن هشام، سیرة ابن هشام، ج1، ص189۔
  9. بلاذری، انساب الاشراف، ج1 ص85۔
  10. عمده الطالب، ص 20۔
  11. بیهقی، احمد بن حسین، دلائل النبوة و معرفة أحوال صاحب الشریعة، ج1، ص75۔
  12. تاریخ طبری، ج 2، ص 2. تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 111.
  13. خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، ص46۔
  14. ابن المغازلی‏، على بن محمد، مناقب الإمام على بن أبى طالب علیهما السلام، ص57۔
  15. امین عاملى، سید محسن، أعیان الشیعة، ج1، ص325۔
  16. ابن الجوزى، تذکرة الخواص، ص 22۔
  17. طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدى، ج1، ص306۔
  18. العاملى، جعفر مرتضى، الصحیح من السیرة النبی الأعظم، ج1 ص234 و 235۔
  19. ابن الجوزى، تذکرة الخواص، ص21 و 22۔
  20. ابن سعد، طبقات الکبری، ج1، ص121 و 122۔
  21. تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 13۔
  22. ابن قتیبه، محمد، المعارف، ص 575.
  23. تاریخ یعقوبی، ج2، ص14۔
  24. قمی، عباس، الکنی و الالقاب، ج1، ص108 و 109۔
  25. القمي، الشيخ عباس، الكنى والألقاب ج1 ص109۔
  26. مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج5 ص431۔
  27. انساب الاشراف، ج2، ص288۔
  28. سنن نسایی، ج 8، ص 2 – 4۔
  29. سیره حلبی، ج 1، ص 184۔
  30. سیره ابن‌هشام، ج 1، ص 116۔
  31. دلائل النبوه، ج 2، ص 22۔
  32. مناقب، ج 1، ص 36۔
  33. طبقات ابن‌سعد، ج 1، ص 119۔
  34. ابن شہر آشوب، مناقب، ج 1، ص 37۔
  35. سیره ابن هشام، ج1، ص172 و 173۔
  36. سیره ابن هشام، ج1، ص173۔
  37. انساب الاشراف، ج 1، ص 31۔
  38. تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 14۔
  39. معتزلي، إبن أبي الحديد، شرح نهج البلاغة ج14 ص65 تا 84۔
  40. قمی، شیخ عباس، سفينة البحارج2 ص87 تا 90۔
  41. تاریخ مدینه دمشق، ج 66، ص 339۔
  42. ابن کثیر، البدایة و النهایة، ج3، ص164۔
  43. فخار بن معد اپنی، الحجة على الذاهب إلى تكفير ابي طالب، ص17۔
  44. شیخ مفید، ایمان ابی طالب، ص 24۔
  45. شیخ مفید، ایمان ابی طالب، ص 18۔
  46. فخار بن معد، الحجة على الذاهب إلى تكفير ابي طالب، ص17۔
  47. فتال نیشابوری، روضة الواعظین وبصیرة المتعظین (طبع قدیم)، ج2 ص 121۔
  48. صدوق، الامالى، ص366۔
  49. امینی، عبدالحسین، الغدير،ج 7،ص 390۔
  50. ابن ابى الحديد، شرح نهج البلاغه، ،ج 3،ص .312۔
  51. شیخ مفید، الفصول المختارہ، ص285 و 286۔
  52. جنات الخلود، ص 16۔
  53. تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 35.
  54. امتاع الاسماع، ج 1، ص 45۔
  55. بحارالانوار، ج 35، ص 163۔
  56. تذکره الخواص، ج 1، ص 145۔
  57. شرح نهج البلاغه، ج 7، ص 76.
  58. انساب الاشراف، ج 1، ص 29۔
  59. وفات ابو طالب(ع) کی تاریخ مختلف منابع میں مختلف بتائی گئی ہے؛ ایک قول یہ ہے کہ ان کا انتقال 26 رجب المرجب، کو ہوا اور روایات مختلفہ کی بنیاد پر حضرت خدیجہ(س) ان کی وفات کے 35، 25، 5 یا 3 دن بعد دنیا سے رخصت ہوئیں؛ رجوع کریں: جعفریان، رسول، تاريخ سياسى اسلام، ص304۔
  60. العسقلانی، ابن حجر، الاصابة، ج8، ص103۔
  61. ابن اثیر، اسد الغابة، ج5، ص438۔


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، تحقیق محمد ابوالفضل ابراهیم، بی جا، دار احیاء الکتب العربیه، 1378ہجری۔
  • ابن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکره الخواص، قم، محمع جهانی اهلبیت، 1426ہجری۔
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر، بی‌تا.
  • ابن شهرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، علامه، 1379ہجری۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینه دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، 1415ہجری۔
  • ابن عنبه، احمد بن علی، عمده الطالب فی انساب آل ابی طالب، نجف، المطبعه الحیدریه، 1380ہجری۔
  • ابن قتیبه، محمد، المعارف، قاهره، دار المعارف، بی‌تا.
  • ابن کثیر، ابوالفداء اسماعیل، البدایه و النهایه، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1408ہجری۔
  • ابن هشام، محمد بن عبدالملک، السیره النبویه، تحقیق محی الدین عبدالحمید، قاهره، مکتبه صبیح، 1383ہجری۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، دارالفکر، 1420ہجری۔
  • بیهقی، ابوبکر، دلائل النبوه، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1405ہجری۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن ترمذی، تصحیح عبدالوهاب عبداللطیف، بیروت، دارالفکر، 1403ہجری۔
  • خاتون آبادی، جنات الخلود، مصطفوی، قم، 1363ہجری شمسی۔
  • قمی، عباس، الکنی و الالقاب، تهران، مکتبة الصدر، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسه الوفاء، 1403ہجری۔
  • مفید، محمد بن نعمان، ایمان ابی طالب، بیروت، دارالمفید، 1414ہجری۔
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع، تحقیق عبدالحمید النمیسی، بیروت، دارالکتب، 1420ہجری۔
  • نسایی، احمد بن شعیب، سنن نسایی، بیروت، دارالفکر، 1348ہجری۔
  • یعقوبی، ابن واضح، تاریخ یعقوبی، نجف، المکتبه الحیدریه، 1384ہجری۔
  • فتال نیشابوری، روضة الواعظین وبصیرة المتعظین (طبع قدیم)۔
  • سید شمس الدین فِخار بن مَعَدّ موسوی، (متوفٰی 630ہجری) الحجة على الذاهب إلى تكفير ابي طالب۔
  • على بن محمد الشيباني المعروف بابن الاثير، اسدالغابة في معرفة الصحابة۔
  • العسقلاني، أحمد بن علي بن حجر، المتوفى سنة 852، الاصابة في تميز الصحابة۔