مالک اشتر نخعی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مالک اشتر.jpg
آرامگاہ مالک اشتر نخعی
کوائف
مکمل نام مالک ابن حارث
لقب اشتر
تاریخ/محل ولادت یمن
محل زندگی یمن، کوفہ
مشہوررشتےدار ابراہیم ابن مالک اشتر فرزند
تاریخ و مکان شہادت 39ق قلزم
کیفیت شہادت معاویہ کے ہاتھوں زہر سے مسموم ہو کر
مدفن مصر
دینی خدمات
صحابہ امام علی(ع) کے اصحاب میں سے تھے
جنگ جنگ جمل، جنگ صفین

مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں امام علی(ع) کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ عثمان کے دور خلافت میں ابوذر کی حمایت اور کوفہ کے گورنر پر اعتراض کرنے کے جرم میں انہیں حُمص شہر بدر کیا گیا۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد لوگوں نے ان کو ہی کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ عثمان کے خلاف ہونے والے قیام کے دوران ان کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں سے تھے اسی وجہ سے معاویہ کے کارندوں نے ان پر عثمان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

عثمان کے قتل ہونے کے بعد لوگوں کو امام علی(ع) کی بیعت کی طرف دعوت کرنے والوں میں سے تھے۔ امام کی خلافت ظاہری کے دوران جنگ جمل اور جنگ صفین میں امام علی(ع) کے لشکر کے کمانڈروں میں تھے اور آپ کی حکومت کے دوران مصر کی گورنری پر منصوب ہوئے۔ امام علی(ع) نے آپ کو خدا کی تلوار کا لقب دیا اور عہدنامہ مالک اشتر نامی مشہور عہد نامہ جسے آپ نے مالک اشتر کے نام لکھا تھا تاریخ میں ثبت ہے۔ مالک اشتر مصر پہنچنے سے پہلے ہی شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کے بیٹے ابراہیم مختار ثقفی کے ساتھ امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے والوں میں سے تھے۔


لقب

مالک بن حارث "اشتر" کے نام سے معروف تھے کیونکہ فتح روم کے دوران آپ کی آنکھ میں تیر لگا تھا اس کے بعد سے آپ کو مالک اشتر کہا جاتا تھا۔[1] "ابن عساکر" اس حادثے کو "جنگ یرموک" کے واقعات میں سے ذکر کرتے ہیں۔[2]

نسب

ابن ابی الحدید کے مطابق مالک اشتر کا نسب یوں ہے: مالک بن حارث بن عبد یغوث بن مسلمۃ بن ربیعۃ بن خزیمظ بن سعد بن مالک ابن نخع بن عمرو بن علۃ بن خالد بن مالک بن أدد۔[3]

یمن سے کوفہ تک کی زندگی

مالک اشتر کی تاریخ ولادت اور مکان ولادت کے بارے میں کوئی معلومات تاریخ میں ثبت نہیں ہے لیکن اس بات میں شک نہیں کہ آپ یمن میں پلے بڑے ہیں اور سنہ 11 یا 12 ہجری قمری کو وہاں سے ہجرت کی۔[4] آپ نے زمان جاہلیت کو بھی درک کیا ہے اور اپنی قوم کے سرکردگان میں سے تھا۔ یمن سے آنے کے بعد کوفہ میں مقیم ہوئے اور ان کے بعد کوفہ میں ان کی نسل باقی رہی ہے۔ جنگ یرموک میں شرکت کیا اور اسی جنگ میں ان کی ایک آنکھ پر تیر لگا اور آپ آیک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ جنگ یرموک میں آپ نے دشمن کے ۱۳ افراد کو واصل جہنم کیا۔[5]

مالک اشتر ہمیشہ امام علی(ع) کے ساتھ رہے۔ جنگ جمل میں محمد بن طلحہ کو قتل کیا۔ مورخین نے ان کی کافی مدح سرائی کی ہے اور ان کے حق میں اشعار بھی تاریخ میں ثبت ہیں۔[6]

ابوذر کی تدفین میں شرکت

ابن ابی الحدید جو ایک سنی اور معتزلیعالم ہے ابوذر غفاری کے توسط سے پیغمبراکرم(ص) سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں آیا ہے کہ مؤمنین کا ایک گروہ ابوذر کے جنازے میں شرکت کرے گا۔ اور چونکہ مالک اشتر قطعا ابوذر کے جنازے میں شریک تھے اور انہیں غسل و کفن اور دفن کیا اسی لئے ابن ابی الحدید اس حدیث کو مالک اشتر کے مؤمن ہونے پر دلیل سمجھتے ہیں۔ [7] اس گروہ نے ابوذر کی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے مالک اشتر کو امام بنایا اور ان کی اقتداء میں ابوذر کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔[8]

شام اور حمص میں شہر جلاوطنی

سعید بن عاص جو عثمان کی طرف سے کوفہ کا گورنر تھا، نے ایک دفعہ کسی محفل میں کہا کہ سواد (عراق کا ایک منطقہ جو باغات پر مشتمل ایک سرسبز علاقہ تھا) قریش اور بنی امیہ کی ملکیت ہے۔ مالک اشتر اور بعض دوسرے افراد نے اس کے ان باتوں کی مخالفت کی اور سخت اعتراض کیا جس کی وجہ سے کوفہ کے لشکر کے کمانڈر سے ان کی لڑائی ہوئی۔ اس واقعے کے بعد سعید بن عاص نے عثمان کے حکم پر مالک اشتر سمیت 9 افراد کو شام کی طرف جلاوطن کر دیا۔[9]

ابن ابی الحدید کے مطابق مالک اشتر کے ساتھ شام میں جلاوطن ہونے والے افراد میں: مالک بن کعب ارحبی، اسود بن یزید نخعی، علقمۃ بن قیس نخعی، صعصعۃ بن صوحان عبدی وغیرہ شامل تھے۔ شام میں مالک اشتر اور انکے ساتھیوں کا معاویہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں معاویہ نے عثمان سے انہیں دبارہ کوفہ پلٹانے کی درخواست کی۔ کوفہ واپس آنے کے بعد انہوں نے سعید بن عاص اور عثمان کی مخالفت جاری رکھی یوں سعید بن عاص کی جانب سے ان کی فعالیتوس کے بارے میں عثمان کو دی گئی رپورٹ پر عثمان نے انہیں حمص میں عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ہاں دوبارہ جلاوطن کیا۔[10]

ایک اور نقل کے مطابق جب معاویہ کو مالک اشتر اور شام کے بعض سرکردگان کے درمیان ہونے والی مذاکرات کا پتہ چلا تو اس بات سے خوفزدہ ہو کر کہ کہیں مالک اشتر کی باتیں ان پر اثر نہ کرے مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں کو خمص بھیجا۔ سعید بن عاص نے عثمان کو جو خط لکھا اس میں موجود افراد کے نام یوں ہے: عمرو ابن زرارۃ، کمیل بن زیاد، مالک بن حارث (مالک اشتر)، حرقوص ابن زہیر، شریح بن اوفی، یزید بن مکنف، زید بن صوحان، صعصعۃ بن صوحان، جندب بن زہیر۔ [11]

چنانچہ ابن شبہ (متوفای ۲۶۲ق) کہتے ہیں کہ مالک اشتر اور اس کے ساتھی سعید بن عاص کو کوفہ سے اخراج کرنے تک خمص میں مقیم رہے اس کے بعد کوفیوں کے خطوط ملنے پر یہ افراد کوفہ واپس آگئے۔[12]

کوفہ کی گورنری

خمص سے کوفہ واپس آنے کے بعد کوفہ کے بزرگان نے مالک اشتر کے ساتھ عہد و پیمان باندھا کہ سعید کو مدیہ گیا ہوا تھا، کو دوبارہ کوفہ آنے نہیں دیا جائے گا۔ یوں مالک اشتر کوفہ کا گورنر بن گیا اور انہوں نے نماز جمعہ کی امامت کا عہدہ سنبھالیا جبکہ دوسرے نمازوں کی امامت کا فریضہ کسی قاری کے سپرد کیا گیا اور ایک اور شخص کو بیت المال کی تقسیم پر مأمور کیا۔[13]

مالک اشتر نے عثمان کے ساتھ خطوط کے ذریعے ابوموسی اشعری اور حذیفہ کی کوفہ پر گورنری پر رضایت کا اظہار کیا۔ یوں عثمان نے ان دونوں کو خط لکر کی انہیں کوفہ کا گورنر بنایا۔[14]

عثمان کا محاصرہ

جب عثمان گورنروں اور حکومتی منصب داروں کی کارکردگی پر اعتراض کرنے والے مدینہ میں جمع ہو گئے تو مالک اشتر کوفہ والوں کا سردار تھا؛ لیکن جب بات عثمان کے گھر کا محاصرہ اور اسے قتل کرنے کی دھمکی تک پہنچی تو مالک اشتر مخالفین سے جدا ہوگئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئی حکیم بن جبلۃ بصرہ والوں کا سردار بھی پیچھے ہٹ گیا لیکن ابن عدیس اور انکے ساتھی جو مصری تھے، نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا۔[15]

مالک اشتر اور جریر بن عبداللہ بجلی کے درمیان ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ مالک عثمان کے قاتلین میں سے نہیں تھا ۔ جریر امام علی(ع) کی طرف سے مذاکرات کیلئے شام گیا تھا لیکن بغیر کسی نتیجے کے واپس آیا۔ اس وقت مالک اشتر نے امام علی(ع) سے کہا اے امیر المؤمنین(ع) اگر جریر کی جگہ مجھے بھیجا ہوتا تو اچھا تھا۔ جب جریر نے یہ بات سنی تو کہا خدا کی قسم اگر تم جاتے تو یہ لوگ تجھے قتل کر دیتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ تم عثمان کے قاتلین میں سے ہے۔[16] اس گفتگو میں جو لفظ "زعم" آیا ہے اس کا ترجمہ گمانہ زنی ہے اور وہ بھی باطل طور پر یعنی ان کا یہ گمان باطل ہے۔ اگر مالک اشتر عثمان کے قاتلین میں سے ہوتا تو جریر کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ تمہیں عثمان کے قاتلین میں سے جانتے ہیں، کہنا چاہئے تھا۔ نہ یہ کیہ کہیں کہ ان کا خیال ہے کہ تم عثمان کے قاتلین میں سے ہو۔

عثمان کے قتل ہونے کے بعد مالک اشتر نے لوگوں کو امام علی(ع) کی بیعت کی طرف دعوت دی اور آپ کی بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت کی۔[17]

امام علی(ع) کی جنگیں

جنگ جمل

مالک اشتر جنگ جمل میں امام علی(ع) کے لشکر کی دائیں طرف کا سپہ سالار تھا۔[18] اس جنگ میں مالک اشتر عبداللہ بن زبیر جو عایشہ کے اونٹ کا لگام تھاما ہوا تھا، کے ساتھ فیس ٹو فیس لڑا اور دونوں زمین پر گر گئے لیکن مالک اوپر تھا اور عبداللہ بن زبیر نیچے تھا اس وقت ابن زبیر نے چیخنا شروع کیا کہ اقتلونی و مالکا / اقتلوا مالکاً معی یعنی مجھے مالک کے ساتھ قتل کر دو اس وقت ان کے ساتھی آئے اور ابن زبیر کو نجات دیا۔[19]

جنگ جمل کے اختتام پر مالک عائشہ کے پاس گیا اور کہا:

اس خدا کا شکر جس نے اپنے ولی کو فتح نصیب کیا اور اس کے دشمنوں کو ذلیل خوار کیا ترجمہ: حق آیا اور باطل نابود ہوا بتحقیق باطل ہمیشہ نابود ہونے والا ہے۔"[20] اور عایشہ سے کہا! خدا نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟
عائشہ نے کہا: تمہاری ماں تیرے غم میں روئے تم کون ہو؟
مالک نے کہا: میں اشتر کا بیٹا ہوں۔
عائشہ نے کہا: جھوٹ بولتے ہو میں تہماری ماں نہیں ہوں۔
مالک نے کہا: کیوں نہیں راضی نہ ہو تو بھی۔
عائشہ نے کہا: وہ تم تھے جو میری بہن "اسماء" کو اس کے بیٹے یعنی عبداللہ ابن زبیر کا عزادار بنانا چاہتا تھا؟
مالک نے کہا: پہلے خدا سے پھر آپ سے معذرت چاہتے ہوئے، خدا کی قسم! اگر تین دن کا بھوکا نہ ہوتا تو اسے کام پورا کر دیا ہوتا۔ [21]

جنگ کے اختتام پر مالک اشتر نے ایک قیمتی اونٹ خریدا اور اسے عایشہ کو دے دیا اس اونٹ کے بدلے میں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔[22]

جنگ صفین

مالک اشتر جنگ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے لشکر کے سپہ سالار تھے اور جب آپ معاویہ کے لشکر کو چھیرتے ہوئے معاویہ کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہوئے اس وقت جب معاویہ کو اپنی شکست اور امام علی(ع) کی کامیابی کے آثار نمایاں دکھائی دینے لگے تو اس نے امام علی کے سادہ لوح سپاہیوں کو فریب دینے کی خاطر قرآن کو نیزوں پر اٹھایا اور قرآن کی حکمیت کی طرف دعوت دیا۔ امام علی(ع) کے سپاہیوں میں سے تقریبا 20000 سپاہی امام کے گرد جمع ہوگئے اور آپ(ع) سے مالک اشتر کو واپس بلانے کی درخواست کی اور نہ مانے کی صورت میں امام علی(ع) کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ امام علی(ع) نے ان کو معاویہ اور عمرو عاص کی فریبکاری سے باخبر کرایا اور کچھ اور لمحوں کی مہلت مانگی تاکہ برائی اور فتنہ و فساد کے آخری ٹھکانے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن انہوں نے امام کی بات نہ سنی اور مالک اشتر کو واپس بلانے پر اصرار کرنے لگے یوں امام علی(ع) نے مجبور ہوکر مالک کو واپس بلا لیا۔

مالک اشتر لیلۃ الہریر کی صبح معاویہ کے لشکر کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہو رہے تھے اسلئے قاصد کو واپس بھیجا اور کہا کہ اب میرے واپس آنے کا وقت نہیں ہے مجھے اور تھوڑی بہت مہلت دے دیں تو شاید خدا آج میرے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا لذا مجھے واپس نہ بلایا جائے۔

قاصد امام کی خدمت میں آیا اور مالک کا پیغام پہنچایا اس وقت معترضین امام سے بھی بدبین ہوگئے اور کہا کہ کیا آپ نے مالک کو بلایا بھی ہے کہ نہیں؟ امام نے فرمایا میں نے تھمارے سامنے اسے پیغام بھیجا ہے اور تم نے خود میری باتوں کو سنا بھی ہے۔ انہوں نے امام کو دوبارہ مالک کی طرف پیغام بھیجنے پر مجبور کیا اور کہا کہ اگر تم واپس نہیں آؤگے تو ہم آپ خلافت سے عزل کرینگے۔ اس وقت امام نے قاصد سے کہا کہ مالک سے کہو واپس آجائیں کیوں کہ فتنے نے سر اٹھایا ہے۔ قاصد نے مالک کے پاس جا کر جب یہ پیغام سنایا تو انہوں نے کہا کہ آیا یہ فتنہ اس قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کی وجہ سے ہے؟ قاصد نے جواب دیا ہاں۔ اس وقت مالک نے کہا خدا کی قسم جب قرآن نیزوں پر بلند ہوا تو میں سمجھ گیا تھا کہ یہ چیز ہمارے درمیان اختلاف کا سبب بنے گا لیکن کیا اس سنہرے موقع(فتح) کو ہاتھ سے جانے دینا عقل مندی کا کام ہے؟ قاصد نے مالک سے کہا اچھا کیا تمہیں پسند ہے کہ تم یہاں معاویہ پر جیت جاو اور وہاں امیر المؤمنین اپنے لشکریوں کے ہاتھوں شہید ہو جائے؟ مالک نے کہا سبحان اللہ ہرگز مجھے ایسا پسند نہیں ہے۔ قاصد نے کہا انہوں نے امام سے کہا ہے کہ یا مالک واپس آئے یا ہم آپ کو شہید کر دینگے جس طرح عثمان کو قتل کیا ہے یا یہ کہ آپ کو دشمن کے حوالے کر دینگے۔

یوں مالک میدان جنگ سے واپس آئے۔ جنگ سے واپس آکر آپ نے مخالفین سے مذاکرات کئے اور ان کی سرزنش کی اور ایک دوسرے سے لڑنے لگے یہاں تک کہ امام(ع) نے ان کو ٹوکا اور اس کام سے انہیں باز رکھا۔ مالک اشتر حکمیت کے مخالف تھے لیکن چونکہ امام(ع) نے اسے قبول کیا تھا اسلئے آپ نے امام(ع) کی پیروی کی۔[23]

مصر کی طرف مسافرت اور آپ کی شہادت

آرامگاہ مالک اشتر

مالک اشتر جنگ صفین سے واپس آنے کی بعد جزیرہ میں رہ رہے تھے لیکن چونکہ اس وقت مصر جس کی گورنری محمد بن ابی بکر کر رہے تھے، کی حالات نہایت پرآشوب تھی اسلئے امیرالمؤمنین(ع) نے مالک اشتر کو جو اس وقت نصیبین میں تھا، بلایا اور اسے مصر کی گورنری پر منصوب کیا۔[24] جب معاویہ کے جاسوسوں نے مالک اشتر کا مصر کی گورنری پ منصوب ہونے کی خبر پہنچائی تو وہ سمجھ گیا کہ اگر مالک اشتر کے قدم مصر تک پہنچ جائے تو مصر پر قبضہ کرنا بہت ہی دشوار ہو جائے گا۔ لہذا اس نے ایک شخص کو پیغام بھیجا جس سے وہ مالیات لیتا تھا، کہ اگر تم مالک اشتر کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو جب تک میں اور تم زندہ ہو میں تم سے مالیات نہیں لونگا۔ جب مالک اشتر قلزم نامی جگہے پر پہنچے تو اس شخص نے جسے معاویہ نے مالک کی قتل پر مأمور کیا تھا بھی اسی جگہ سے اس کا تعلق تھا، مالک کا استقبلا کیا اور اسے وہاں قیام کرنے کی دعوت دی اور اس کیلئے کھانے شانے کا بندوبست کیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوا تو مالک کیلئے زہر ملا ہوا شربت لایا گیا جب اس نے وہ شربت پیا تو اس سے مسموم ہوا یوں مالک اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ [25]

ابن ابی الحدید کہتا ہے: مالک سنہ ۳۹ق کو امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی جانب سے مصر پر حکومت کرنے کیلئے مصر کی طرف مسافرت کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوا۔ ابن ابی الحدید مالک اشتر کی شہادت کے بارے میں لکھتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اسے زہر دیا گیا جبکہ یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ وہ طبیعی موت اس دنیا سے چل بسا ہے۔[26] الغارات کے مصنف (متوفای ۲۸۳ه‍.ق.) نے معاویہ کے ہاتھوں مالک اشتر کے مسموم ہونے کے حوالے سے مختلف احادیث نقل کیا ہے۔[27]

علقمه بن قیس نخعی کہتے ہیں: امام علی(ع) مالک اشتر کی موت پر ہمیشہ افسوس فرماتے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ صرف امام(ع) اس کی موت پر غمگین اور مصیبت زدہ ہیں نہ قبیلہ نخع۔ اور امام کے چہرہ اطہر پر یہ غم و اندوہ کئی دنوں تو آشکار رہا۔[28]

مالک اشتر کے نام امام علی(ع) حکم نامہ

تفصیلی مضمون:مالک اشتر کے نام امام علی(ع) حکم نامہ

امام علی(ع) نے جب مالک اشتر کو مصر کی گورنری پر منصوب فرمایا تو اس کے نام ایک خط تحریر فرمایا۔ اس خط کا عمدہ حصہ حکومت کے عہدہ داروں اور مسئولین کا مسلمان اور غیر مسلمان رعایا کے ساتھ سلوک و رفتار کی کیفیت اور ملک و قوم کی ترقی اور خشحالی میں حکومت کے کردار کے بارے میں ہے۔ اس خط کا کئی زبانوں میں کئی بار ترجمہ اور شرح لکھی گئی ہے۔

مالک اشتر دوسروں کی نگاہ میں

امیرالمؤمنین(ع)

امام علی(ع) جب مالک اشتر کو مصر کی گورنری کیلئے بھیج رہا تھا تو مصریوں کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کیلئے مالک اشتر کی یوں معرفی فرمائی:

"... میں نے خدا کے بندوں میں سے ایک بندے کو تہماری طرف روانہ کیا ہوں جس کی یہ صفات ہیں کہ خوف و خطر کی ایام میں اس کی آنکھوں میں کبھی نید نہیں آتی اور دشمن کے ظلم و ستم اور مصائب سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور ظالموں اور جابروں پر یہ آگ سے بھی سخت ہے۔ وہ مالک بن حارث مذحج کے قبیلے سے اس کا تعلق ہے۔ اس کی اطاعت کریں اور اس کی باتوں پر عمل کریں کیونکہ وہ خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ جس کی ضربت محکم اور اس کی دھار تیز اور برندہ ہے۔ اگر تمہیں کوچ کرنے کا حکم دیں تو کوچ کریں اور اگر قیام کا حکم دیں تو قیام کریں کیونکہ یہ اگر کوئی اقدام عمل میں لاتا ہے تو وہ میرے حکم سے ہے۔ میں نے تمہارے حوالے سے اپنے اوپر اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ تمہارے بارے میں اس کے خلوص اور تمہارے دشنموں کی مقابلے میں اس کی سرسختی سے آگاہ ہوں۔"[29]

جب مالک اشتر کی شہادت کی خبر امیر المؤمنین(ع) تک پہنچی تو فرمایا:

"مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔"[30]

اسی طرح کہتے ہیں کہ امام(ع) نے مالک اشتر کی موت پر فرمایا:

"خدا مالک پر اپنی رحمتیں نازل کرے وہ میرے لئے اسی طرح تھا جس طرح میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کیلئے تھا۔"[31]

معاویہ

معاویہ جب مالک اشتر کی موت سے آگاہ ہوا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: "اما بعد، علی کے دو بازوں تھے ایک کو صفین میں قطع کیا گیا جو عمار بن یاسر تھا اور دوسرے کو آج قطع کیا گیا جو مالک اشتر تھا"[32]

ابن ابی الحدید

مالک اشتر ایک شجاع گھڑسوار، سردار (قبیلہ کا) اور شیعہ بزرگان میں سے تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی دوستی اور حمایت میں ثابت قدم تھا۔ [33] "مالک نے نرم خوئی کو خشونت کے ساتھ جمع کرتے تھے۔ سخت‌گیری کے وقت سختی کرتے تھے، اور جہاں نرمی دکھانا ہوتا وہاں نرمی سے پیش آتے تھے۔[34]

معاویہ کے سامنے مالک اشتر کا تذکرہ

معاویہ کی محفل میں مالک اشتر کا تذکرہ ہوا قبیلہ نخع کا ایک آدمی وہاں تھا تو اس نے کہا خاموش رہو تم لوگ ایک ایسے شخص کے بارے میں بحث کر رہے ہو جس کی شہادت عراق والوں کیلئے مایہ ذلت بنا جبکہ اس کی حیات اور زندگی اہل شام والوں کیلئے مایہ ذلت تھی۔ معاویہ نے اس کے مقابلے میں سکوت اختیار کیا اور کچھ بھی نہیں کہا۔[35]

اولاد اور نسل

  • مختار ثقفی جب امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے کیلئے قیام کیا تو ابراہیم بن مالک اشتر اس کے ساتھیوں میں سے تھا۔[36]
  • نعمان بن ابراہیم بن مالک اشتر[37]
  • محمد بن مالک بن ابراہیم بن مالک اشتر[38] محدیثین میں سے تھا۔
  • جعفر بن محمد بن عبداللہ بن قاسم بن ابراہیم بن مالک اشتر جو محدثین میں سے تھا[39]
  • ابی الحسین، ورام بن ابی فراس عیسی بن ابی النجم، بن ورّام ابن حمدان بن خولان بن إبراہیم بن مالک اشتر.
  • ابوالقاسم النخعی الکوفی الفقیہ، معروف بہ ابن کاس، مالک اشتر کی نسل سے تھا۔[40]

حوالہ جات

  1. ترجمہ الفتوح،متن،ص:۱۴۵
  2. تاریخ مدینۃ دمشق، ج ۵۶، ص ۳۸۰
  3. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۱۵، ص ۹۸.
  4. المہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۳۳
  5. تاریخ مدینۃ دمشق، ج۵۶، ص ۳۸۰
  6. امینی، ترجمہ اعلام نہج البلاغہ، ص ۳۹-۴۰.
  7. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ۱۵، صص ۹۹-۱۰۰.
  8. روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین (ط - القدیمۃ)، ج۲، ص۲۸۴
  9. الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۴۰.
  10. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ۲، صص ۱۳۰-۱۳۳.
  11. ابن شبۃ النمیری، تاریخ المدینۃ المنورۃ، ج ۳، صص ۱۱۴۲-۱۱۴۱.
  12. ابن شبۃ النمیری، تاریخ المدینۃ المنورۃ، ج ۳، ص ۱۱۴۲.
  13. مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۶۲.
  14. البلاذری، انساب الاشراف، ج ۵، ص ۵۳۵-۵۳۶؛ مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۶۳.
  15. الطبری، تاریخ الطبری، ج ۳، ص ۴۱۱؛ الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۴۱.
  16. الامین، اعیان الشیعہ، ج۴، ص ۷۵.
  17. الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۴۱.
  18. مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۸۳.
  19. مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۸۴.
  20. اسراء|آیت نمبر 81۔
  21. المفید، الجمل، ص۳۷۰؛ دوانی، اصحاب امام علی(ع)، ص۵۰۹.
  22. الطبری، ج ۴، ص ۵۴۲؛ طبق نقل مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص ۸۴.
  23. الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۳۹.
  24. الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۳۸.
  25. الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، صص ۳۸-۳۹.
  26. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۱۵، ص ۱۰۱.
  27. الثقفی، الغارات، ج ۱، صص ۲۶۳-۲۶۴.
  28. الثقفی، الغارات، ج ۱، صص ۲۶۵-۲۶۶.
  29. امینی، ترجمہ اعلام نہج البلاغہ، ص ۴۰.
  30. نهج البلاغه، ص ۴۴۰، کلمات قصار،ش ۴۴۳.
  31. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۱۵، ص ۹۸.
  32. امینی، ترجمہ اعلام نہج البلاغہ، ص ۴۰؛ الثقفی، الغارات، ج ۱، ص ۲۶۲.
  33. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۱۵، ص ۹۸.
  34. شرح نہج البلاغہ، ج۱۵، ص۱۰۲
  35. أنساب الأشراف،ج۵،ص:۳۵(چاپزکار،ج۵،ص:۴۱)
  36. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۲، ص۲۰۰.
  37. الاعلام ج۸ص ۳۵
  38. التحصین، ابن طاوس،ص:۵۴۲
  39. کمال الدین و تمام النعمۃ، ج۲، ص: ۴۰۷
  40. تاریخ الإسلام،ج۲۴،ص:۱۵۹


مآخذ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۷.
  • الأمین، السیدمحسن، أعیان الشیعۃ، تحقیق وتخریج: حسن الأمین، بیروت:‌دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳/۱۹۸۳م.
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، ج ۱۵،‌دار احیاء الکتب العربیۃ، ۱۳۷۸/۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • الثقفی الکوفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق: السیدجلال الدین الحسینی الارموی المحدث، بی‌جا، بی‌تا (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: احسان عباس، بیروت: جمعیۃ المستشرقین الألمانیۃ، ۱۴۰۰-۱۹۷۹م.
  • دوانی، علی، اصحاب امام علی(ع)، در دانشنامہ امام علی علیہ‌السلام، ج۸، زیر نظر: علی اکبر رشاد، تہران: مرکز نشر آثار پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، ۱۳۸۰.
  • زرلکی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌دار العلم للملایین، ط الثامنۃ، ۱۹۸۹.
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌تا (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).
  • المفید، الجمل والنصرۃ لسید العترۃ، تحقیق: السید علی میرشریفی، مصنفات الشیخ المفید، المجلد الاول، قم: مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۳ق.
  • المہاجر، جعفر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، بیروت:‌دار المؤرخ العربی، موسسۃ تراث الشیعۃ، ۱۴۳۲ق.
  • امینی، محمدہادی، ترجمہ اعلام نہج البلاغہ، مترجم: ابوالقاسم امامی، تہران: بنیاد نہج البلاغہ، ۱۳۵۹، (نسخہ موجود در لوح فشردہ دانشنامہ علوی).
  • النمیری، ابن شبۃ، تاریخ المدینۃ المنورۃ، تحقیق: فہیم محمد شلتوت، قم: دارالفکر، ق۱۴۱۰-ش۱۳۶۸ (نسخہ موجود در لوح فشردہ کتابخانہ اہل بیت(ع)، نسخہ دوم).