منا میں امام حسینؑ کا خطبہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
واقعۂ عاشورا تاریخ کے آئینے میں
سنہ 60 ہجری قمری
15 رجب وفات معاویہ
28 رجب مدینہ سے امام حسین ؑ کا خروج
3 شعبان امامؑ کا مکہ پہنچنا
10رمضان کوفیوں کا امام حسینؑ کے نام پہلا خط
12 رمضان کوفیوں کے 150 خطوط کا قیس بن مُسْہر، .... کے ذریعے امامؑ کو پہنچنا۔
14‌رمضان ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ذریعے بزرگان کوفہ کے خطوط کا پہنچنا
15رمضان مسلم کی مکہ سے کوفہ روانگی
5 شوال کوفہ میں مسلم بن عقیل کا ورود
8 ذی الحج مکہ سے خروج امام حسینؑ
8 ذی الحج کوفہ میں قیام مسلم بن عقیل
9 ذی الحج شہادت مسلم بن عقیل
سنہ 61 قمری
1 محرم قصر بنی مقاتل میں عبیداللہ بن حر جعفی اور و عمرو بن قیس کو امام کا دعوت دینا
2 محرم کربلا میں کاروان امامؑ کا پہنچنا
3 محرم لشکر عمر سعد کا کربلا میں پہنچنا
6 محرم حبیب بن مظاہر کا بنی اسد سے مدد مانگنا
7 محرم پانی کی بندش
8 محرم مسلم بن عوسجہ کا کاروان امام حسینؑ سے ملحق ہونا
9 محرم شمر بن ذی الجوشن کا کربلا پہنچنا
9 محرم امان‌ نامۂ شمر برائے فرزندان ام‌البنین.
9 محرم لشکر عمر سعد کا اعلان جنگ اور امامؑ کی طرف سے ایک رات مہلت کی درخواست
10 محرم واقعہ عاشورا
11 محرم اسرا کا کوفہ کی طرف سفر
11 محرم بنی اسد کا شہدا کو دفن کرنا
12 محرم بعض شہدا کا دفن
12 محرم اسیران کربلا کا کوفہ پہنچنا
19 محرم اہل بیتؑ کی کوفہ سے شام روانگی
1 صفر اہل بیتؑ اور سر مطہر امام حسینؑ کا شام پہنچنا
20 صفر اربعین حسینی
20 صفر اہل بیت کی کربلا میں واپسی
20 صفر اہل بیت کی مدینہ میں واپسی(بنا بر قول)


منا میں امام حسین(ع) کا خطبہ، اس شعلہ بیان اور احتجاجی خطبے کو کہا جاتا ہے جسے امام حسین(ع) نے معاویہ کی وفات سے دو سال قبل [1] یعنی سنہ 58 ہجری قمری کو بنی امیہ کی حکومت کے خلاف حج کے موسم میں منا میں دیا۔ جس میں امام(ع) نے معاویہ کی حکومت کے خلاف انکشافات کئے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ خطبہ جسے امام(ع) نے صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں دیا، امام حسین(ع) کی قیام کربلا کا ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ اس خطبے کا پہلا حصہ سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں جبکہ اس کا دوسرا اور تیسرا حصہ حسن بن شعبہ حرانی نے کتاب تحف العقول میں نقل کیا ہے۔

خطبہ کا مضمون

امام حسین(ع) کے اس خطبہ میں درج ذیل موضوعات پر بحث ہوئی ہے:

امام(ع) اس خطبہ کے آخر میں فرماتے ہیں: خدایا! جو کچھ ہم سے سرزد ہوتے ہیں اسے تو جانتا ہے، یہ چیز حکومت حاصل کرنے اور دنیا کی بے ارزش مال و دولت کے حصول کے لئے نہیں تھا، بلکہ یہ اس لئے تھا کہ تمہارے دین کی نشانیوں کو آشکار کر سکوں اور تیری زمین پر تیرے بندوں کی آرام و آسائش اور انہیں تیری احکام و وظائف پر عمل پیرا ہونے کیلئے زمینہ فراہم کر سکوں [4]

خطبہ کے منابع

اس خطبہ کے مستقل تین بخشوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مورخین، مُحدّثین، علما اور محقّقین میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی کتابوں یا مورد بحث موضوعات سے مربوط حصے کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہوئے خطبہ کی بقیہ حصوں کو نقل کرنے سے خوداری کی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات صرف ایک جملہ کو نقل کرنے اور بعض اوقات خطبے کے مضامین کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے۔مثلاً:

۱. سلیم بن قیس ہلالی (سنہ 90 ہجری قمری نے اپنی کتاب کے مطالب کی مناسبت سے صرف پہلے حصے کو نقل کرتے ہوئے اس خطبہ کے زمان و مکان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔[5]

۲. حسن بن شعبہ حرّانی جو چوتھے صدی کے محدثین میں سے ہیں نے تحف العقول[6] میں دوسرے اور تیسرے حصے کے ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ علامہ مجلسی نے بھی بحار الانوار[7] میں تحف العقول سے ان دو حصوں کو نقل کیا ہے۔

۳. احمد بن علی طبرسی (سنہ 588 ہجری قمری) نے اس خطبے کے اسباب و علل - جو کہ معاویہ کی حد سے زیادہ ظلم و زیادتی تھی - کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطبے کا خلاصہ‌ چند سطروں میں نقل کیا ہے۔ وہ تصریح کرتے ہیں کہ معاویہ کی وفات کے دو سال قبل مِنا میں کم از کم ہزار سے زیادہ مذہبی شخصیات کے سامنے امام حسین(ع) نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا ہے۔ [8]

خطبہ کے تسلسل میں شک و تردید

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اس خطبہ‌ کا وہ حصہ جو "تحف العقول" سے نقل ہوئی ہے وہ الگ ایک اور خطبہ ہے جسے امام حسین(ع) نے کسی اور سال ارشاد فرمایا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حصے کے مضامین اور مخاطبان مختلف ہیں۔[9]

خطبہ کا تاریخی پس منظر

امام حسین(ع) نے اس خطبہ کو سنہ 58 ہجری قمری، معاویہ کی وفات کے دو سال قبل منا میں ارشاد فرمایا ہے؛[10] اس زمانے میں معاویہ کی طرف سے شیعیوں پر ظلم و ستم اپنے عروج پر پہچا ہوا تھا اور اس وقت کی سیاسی اور سماجی حالات نہایت پیچیدہ اور مکدر تھی۔[11] چنانچہ سلیم بن قیس نے امام حسین(ع) کے اس خطبے کو ارشاد فرمانے کی علل اسباب اور اس وقت کے حالات و واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس خطبے کو ذکر کرنے سے پہلے معاویہ کی طرف سے اپنے کارندوں کو صادر ہونے والے چار حکم ناموں اور ان کے نتائج کو ذکر کرتے ہیں۔[12]

سلیم بن قیس کے مطابق معاویہ نے اپنے پہلے حکم نامے میں امام علی(ع) اور آپ کی خاندان کی فضیلت بیان کرنے والوں سے تبری کرتے ہوئے ان کی حمایت سے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح وہ یہ حکم بھی صادر کرتے ہیں کہ شیعوں کی گواہی قبول نہ کی جائے اور جس نے بھی عثمان کی کوئی فضیلت بیان کی اس کیلئے باقاعدہ تنخواہ اور وظیفہ مقرر کیا۔[13] اسی طرح معاویہ نے اپنے دوسرے حکم نامے میں حکم دیا کہ صحابہ بطور خاص عمر اور ابوبکر کی فضیلت میں احادیث نقل کرنے کا حکم دیا اور امام علی(ع) کے فضائل کی طرح دوسرے صحابہ کیلئے بھی فضائل بیان کرنے کا حکم دیا اور اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک اور امام علی(ع) کی ذلت قرار دیا۔[14]

سلیم بن قیس کے مطابق اس نے اپنی تیسرے حکم نامے میں لکھا کہ لوگوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور جو شخص بھی علی(ع) اور اس کے خاندان کی دوستی سے متہم ہو اس کا نام وظیفہ کی تقرری کے دفتر سے حذف کرنے اور بیت المال سے اس کا وظیفہ بند کرنے کا حکم دیا۔[15] معاویہ کے چوتھے حکم نامے میں آیا تھا: جو شخص بھی علی(ع) اور اس کے خاندان کی دوستی سے متہم ہو اس کو شدید تحت فشار لایا جائے اور اس کا گھربار خراب کیا جائے تاکہ یہ دوسروں کیلئے عبرت کا باعث بنے۔[16]

اس خطبہ کی اہمیت

محمدصادق نجمی اس خطبہ کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں: اس خطبہ میں ایک ہم نکتہ یہ تھا کہ اس خطبے کو ارشاد فرمانے سے پہلے امام(ع) نے ایک مناسب اور حساس موقع پر اسلام کے مختلف مذہبی شخصیات، بنی‌ہاشم، صحابہ، مہاجرین و انصار کے مرد اور خواتین میں سے تقریبا 200 چیدہ چیدہ افراد کو مدعو کیا اور ایک مجلس تشکیل دیا۔ ان افراد کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ انہیں پیغمبر اکرم(ص) کو درک کرنے کا موقع ملا تھا اسے کے علاوہ صحابہ اور تابعین میں سے تقریبا 800 سے زیادہ افراد اس مجلس میں شامل تھے۔[17]

یہ خطبہ معاویہ کی حکومت کے خلاف انکشافات اور واقعہ کربلا کا مقدمہ قرار پایا۔[18] امام(ع) نے اس زمانے کی سہولیات سے بہترین فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تدبیر کے ذریعے حضار مجلس میں ایک جوش اور ولولہ ایجاد کیا تاکہ حضار اس پیغام کو غائبین تک پہنچا سکیں اور ان کی بیداری کا زمینہ فراہم کر سکیں۔ [19]

خطبہ کا متن

سلیم بن قیس کہتے ہیں: معاویہ کی وفات سے ایک سال پہلے حسین بن علی(ع) نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کے ساتھ حج کا فریضہ انجام دیا۔ امام حسین(ع) نے بنی‌ہاشم اور انصار کے ان چیدہ افراد کو جو آپ اور آپ کے خاندان کی صحیح شناخت رکھتے تھے جمع کیا اس کے بعد کچھ افراد کو بھیجا اور کہا: پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ میں سے جو بھی اس سال حج‌ کا فریضہ انجام دینے کیلئے آیا ہے انہیں میرے پاس بلایا جائے۔

اس دعوت پر تقریبا 700 سے زیادہ افراد جن میں سے اکثر تابعین میں سے تھے اور اصحاب پیغمبر اکرم(ص) میں سے تقریبا 200 افراد کو منا میں ایک خیمہ میں جمع کیا۔ امام ان کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کی خاطر بلند ہوئے اور حمد و ثنائے پروردگار کے بعد فرمایا:

خطبہ کا پہلا حصہ[20]

اُنْشِدُکُمُ اللهَ اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ عَلِیَّ ابْنَ اَبی طٰالبٍ کٰانَ اَخٰا رَسُوْلِ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - حِیْنَ اَخیٰ بَیْنَ اَصْحٰابِہِ فَاَخیٰ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ نَفْسِہِ وَ قٰالَ : اَنْتَ أَخی وَ اَنٰا اَخُوْکَ فی الدُّنْیٰا وَ اْلآخِرَةِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ قٰالَ : اُنْشِدُکُمُ اللهَ ھَلْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللٰہِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - اِشْتَریٰ مَوْضِعَ مَسْجِدِہِ وَ مَنٰازِلِہِ فَابْتَنٰاہُ ثَمَّ ابْتَنیٰ فِیہِ عَشَرَةَ مَنٰازِلَ تِسْعَةً لَہُ وَ جَعَلَ عٰاشِرَھٰا فِی وَسَطِھٰا ِلاَبِی ثُمَّ سَدَّ کُلَّ بٰابٍ شٰارِعٍ اِلَی الْمَسْجِدِ غَیْرَ بٰابِہِ فَتَکَلَّمَ فی ذٰلِکَ مَنْ تَکَلَّمَ فَقٰالَ : مٰا اَنٰا سَدَدَْتُ اَبْوٰابَکُمْ وَ فَتَحْتُ بٰابَہُ وَ لَکِنَّ اللهَ اَمَرَنی بِسَدِّ اَبْوابِکُمْ وَ فَتْحِ بٰابِہِ ثُمَّ نَھی النّٰاسَ اَنْ یَنٰاموْا فی الْمسْجِدِ غَیْرَہُ، وَ کٰانَ یُجْنِبُ فی الْمسْجِدِ وَ مَنْزِلہُ فی مَنْزِلِ رَسُوْلِ اللهِ-صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - فَوُلدَ لِرَسُوْلِ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - وَ لَہُ
فیْہِ اوْلاٰدٌ ؟ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ فَتَعْلَمُوْنَ اَنّ عُمَرَ بْنَ الْخَطّٰابِ حَرِصَ عَلیٰ کُوَّةٍ قَدْرَ عَیْنِہِ یَدَعُھٰا فی مَنزِلِہِ اِلیٰ الْمَسْجِدِ فَاَبیٰ عَلَیْہِ ثُمَّ خَطَبَ فَقٰالَ : اِنَّ اللٰہَ اَمَرَنِی اَنْ اَبْنِیَ مَسْجِداً طٰاھِراً لاَ یُسْکِنُہُ غَیْری وَ غَیْرُ اَخِیْ وَ بَنِیْہِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اُنْشِدُکُمُ اللهَ اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْل اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - نَصَبَہُ یَوْمَ غَدِیْرِ خُمٍّ فَنٰادیٰ لَہُ بِالْوِلاٰیَةِ وَ قٰالَ : لِیُبَلِّغِ الشّٰاھِدُ الْغٰایِبَ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اُنْشِدُکُمُ اللهَ اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْل اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - قٰالَ لَہُ فی غَزْوَةِ تَبُوْکَ اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ ھٰارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی وَ اَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ مُوْمِنٍ بَعْدِی قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اُنْشِدُکُمُ اللهَ اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - حِیْنَ دَعٰا النَّصٰارٰی مِنْ اَھْلِ نَجْرٰانَ اِلٰی الْمُبٰاھَلَةِ لَمْ یَأتِ اِلاَّ بِہِ وَ بِصٰاحِبَتِہِ وَ ابْنَیْہِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اُنْشِدُکُمُ اللهَ اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ دَفَعَ اِلَیْہِ اللِّوٰاءَ یَوْمَ خَیْبَرَ ثُمَّ قٰالَ : لأَدْفَعَہُ اِلیٰ رَجُلٍ یُحِبُّہُ اللهُ وَ رَسُوْلُہُ وَ یُحِبُُّ اللهَ وَ رَسُوْلَہُ کَرّٰارٌ غَیْرُ فَرّٰارٍ یَفْتَحُھا اللهُ عَلیٰ یَدَیْہِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ بَعَثَہُ بِبَرٰائَةٍ وَ قٰالَ : لاٰ یَبْلُغُ عَنِیّ اِلاّٰ انٰا اَوْ رَجُلٌ مِنِّی قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْل اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - لَمْ تَنْزِلْ بِہِ شِدَّةٌ قَطُّ اِلاّٰ قَدَّمَہُ لَھٰا ثِقَةً بِہِ وَ اَنَّہُ لَمْ یَدْعُہُ بِاسْمِہِ قَطُّ اِلاٰ یَقُوْلُ یٰا اَخِیْ وَ ادْعُوْا لِیْ اَخِیْ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْل اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - قَضٰی بَیْنَہُ وَ بَیْنَ جَعْفَرٍ وَ زَیْدٍ فَقٰالَ : یٰا عَلِیُّ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنٰا مِنْکَ وَ اَنْتَ وَلِیُّ کُلِِّ مُوْمِنٍ بَعْدِیْ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ کٰانَتْ لَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - کُلَّ یَوْمٍ خَلْوَةٌ وَ کُلَّ لَیْلَةٍ دَخْلَةٌ اِذا سَئَلَہُ اَعْطٰاہُ وَ اِذٰا سَکَتَ أَبْدٰاہُ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - فَضَّلَہُ عَلیٰ جَعْفَرٍ وَ حَمْزَةٍ حِیْنَ قٰالَ : لِفٰاطِمَةَ - عَلَیْھٰا السَّلاٰمُ - زَوَّجْتُکِ خَیْرَ اَھْلَ بَیْتِیْ اَقْدَمَھُمْ سِلْماً وَ اَعْظَمُھُمْ حِلْماً وَ اَکْثَرُھُمْ عِلْماً قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - قٰالَ : اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ بَنِیْ آدَمَ وَ اَخِیْ عَلِیٌّ سَیِّدُ الْعَرَبِ وَ فٰاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِسآءِ اَھْلِ الْجَنَّةِ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدٰا شَبٰابِ اَھْلِ الْجَنَّةِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ - صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - اَمَرَہُ بِغُسْلِہِ وَ اَخْبَرَہُ اَنَّ جَبْرَئِیْلَ یُعِیْنُہُ عَلَیْہِ قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ قٰالَ : اَ تَعْلَمُوْنَ اَنّ رَسُوْلَ اللهِ - صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ - قٰالَ فِیْ آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَھٰا اِنِّیْ تَرَکْتُ فِیْکُمُ الثِّقْلَیْنِ کِتٰابَ اللٰہِ وَ اَھْلَ بَیْتی فَتَمَسَّکُوْا بِھِمٰا لَنْ تَضِلُّوْا قٰالُوْا : اَللَّھُمَّ نَعَمْ
ثُمَّ نٰاشَدَھُمْ اَنَّھُمْ قَدْ سَمِعُوْہُ یَقُوْلُ مَنْ زَعَمَ اَنَّہُ یُحِبُّنِیْ وَ یُبْغِضُ عَلِیّاً فَقَدْ کَذِبَ لَیْسَ یُحِبُّنِی وَ یُبْغِضُ عَلِیّاً فَقٰالَ لَہُ قٰائِلٌ : یٰا رَسُوْلَ اللهِ وَ کَیْفَ ذٰلِکَ؟ قٰالَ : لاَِنَّہُ مِنِّیْ وَ اَنٰا مِنْہُ مَنْ اَحَبَّہُ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ فَقَدْ اَحَبَّ اللهَ وَ مَنْ اَبْغَضَہُ فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَ مَنْ اَبْغَضَنِیْ فَقَدْ اَبْغَضَ اللهَ فَقٰالُوْا : اللَّھُمَّ نَعَمْ قَدْ سَمِعْنٰا …

ترجمہ

امام حسین نے فرمایاتمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتے ہو ہے کہ جب رسول الله نے اپنے اصحاب کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا تو اس وقت آنحضرت نے علی ابن ابی طالب کو اپنا بھائی قرار دیاتھااورفرمایا تھا کہ دنیا اور آخرت میں تم میرے اور میں تمہارا بھائی ہوں۔ سامعین نےکہا : بارالہا ! ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔ فرمایا : تمہیں خدا کی قسم دے کے پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله نے اپنی مسجد اور اپنے گھروں کے لئے جگہ خریدی۔ پھرمسجد تعمیر کی اور اس میں دس گھر بنائے۔ نو گھر اپنے لئے اور دسواں وسط میں میرے والد کے لئے رکھا۔ پھر میرے والد کے دروازے کے سوا مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کروا دیئے۔ اور جب اعتراض کرنے والوں نے اعتراض کیا تو فرمایا : میں نے نہیں تمہارے دروازے بند کئے اور علی کا دروازہ کھلارکھا، بلکہ الله نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے دروازے بند کروں اور ان کادروازہ کھلا رکھوں۔ اس کے بعد نبی اکرم نے علی کے سوا تمام افراد کو مسجد میں سونے سے منع فرمایا۔ چونکہ حضرت علی کا حجرہ مسجد میں رسول الله کے حجرے کے ساتھ ہی تھا لہذا علی مسجد میں مجنب ہوتے تھے۱ور اسی حجرے میں نبی اکرم اور علی کے لئے الله تعالی نے اولاد یں عطا کیں؟ سامعین نے کہا : بارالہا ! ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ عمر بن خطاب کو بڑی خواہش تھی کہ ان کے گھر کی دیوار میں ایک آنکھ کے برابر سوراخ رہے جو مسجد کی طرف کھلتا ہو لیکن نبی نے انہیں منع کر دیا۔ اور خطبے میں ارشاد فرمایا : الله نے مجھے حکم دیا ہے کہ پاک و پاکیزہ مسجد بناؤں لہذا میرے ، میرے بھائی علی اور ان کی اولاد کے سوا کوئی اور شخص مسجدمیں نہیں رہ سکتا۔ سامعین نے کہا : بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے دن علی کو بلند کیا اور انہیں مقام ولایت پر نصب کرنے کااعلان فرمایا۔ اور کہا کہ یہاں حاضرلوگ اس واقعے کی اطلاع یہاں غیر موجود لوگوں تک پہنچا دیں؟ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارے علم میں ہے کہ رسول الله نے غزوئہ تبوک کے موقع پر علی سے فرمایا : تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسٰی کے لئے ہارون اور فرمایا تم میرے بعد تمام مومنوں کے ولی اور سرپرست ہوگے۔ سامعین نے کہا : بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا: تمہیں الله کی قسم دے کر پوچھتاہوں کہ جب رسول الله نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلے کی دعوت دی، تو اپنے ساتھ، سوائے علی، ان کی زوجہ اور ان کے دو بیٹوں کے کسی اور کو نہیں لے کر گئے؟ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله نے جنگ خیبرکے دن لشکر اسلام کا پرچم حضرت علی کے سپرد کیا اور فرمایا کہ میں پرچم اس شخص کے سپرد کر رہا ہوں جس سے الله اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں اور وہ الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ ایسا حملہ کرنے والا کرار ہے کہ کبھی پلٹتا نہیں ہے غیرفرار اور خدا قلعہ خیبرکو اس کے ہاتھوں فتح کرائے گا۔سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول الله نے علی کو سورئہ برائت دے کر بھیجا اور فرمایا کہ میرا پیغام پہنچانے کا کام خود میرے یا ایسے شخص کے علاوہ جو مجھ سے ہو اور کوئی انجام نہیں دے سکتا۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول الله کو جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تھی تو آنحضرت حضرت علی پر اپنے خاص اعتمادکی وجہ سے انہیں آگے بھیجتے تھے اور کبھی انہیں ان کے نام سے نہیں پکارتے تھے ، بلکہ اے میرے بھائی کہہ کر مخاطب کرتے تھے ۔ سامعین نے کہا : بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول الله نے علی، جعفر اور زید کے درمیان فیصلہ سناتے وقت فرمایا : اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور میرے بعد تم تمام مومنوں کے ولی اور سرپرست ہو گے۔ سامعین نے کہا :بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ حضرت علی ہر روز، ہرشب تنہائی میں رسول الله سے ملاقات کرتے تھے۔ اگر علی سوال کرتے تو نبی اکرم اس کا جواب دیتے اور اگر علی خاموش رہتے تو نبی خود سے گفتگو کا آغاز کرتے۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بناکر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تمہیں علم ہے کہ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر حضرت علی کو جعفر طیار اور حمزہ سید الشہدا پر فضیلت دی ،جب حضرت فاطمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : میں نے اپنے خاندان کے بہترین شخص سے تمہاری شادی کی ہے ، جو سب سے پہلےاسلام لانے والا، سب سے زیادہ حلیم وبردبار اور سب سے بڑھ کر علم و فضل کا مالک ہے۔سامعین نے کہا: بارالہا! ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمام اولاد آدم کا سیدوسردار ہوں ، میرا بھائی علی عربوں کا سردار ہے، فاطمہ تمام اہل جنت خواتین کی رہبر ہیں اور میرے بیٹے حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا :کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول الله نے حضرت علی کو حکم دیا کہ وہی ان کے جسد اقدس کو غسل دیں اور فرمایا کہ جبرئیل اس کام میں ان کے معاون و مددگار ہوں گے۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول الله نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا : میں تمہارے درمیان دو گرانقدر امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ الله کی کتاب اور میرے اہل بیت۔ ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہو تاکہ گمراہ نہ ہو جاؤ۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

اس کے بعد جب امیر المومنین کے فضائل پر مشتمل امام کی گفتگو اختتام کو پہنچنے لگی تو آپ نے سامعین کو خداکی قسم دے کر کہا کہ کیا انہوں نے رسول الله سے یہ سنا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، جبکہ علی کا بغض اس کے دل میں ہوتو وہ جھوٹا ہے، ایسا شخص جو علی سے بغض رکھتا ہو، مجھ سے محبت نہیں رکھتا۔ اس موقع پر کسی کہنے والے نے کہا کہ یا رسول الله یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ رسول الله نے فرمایا : کیونکہ وہ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے الله سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے الله سے دشمنی کی ۔ سامعین نے کہا: بارالہا !ہم تجھے گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہاں! ایسا ہی تھا۔

خطبے کا دوسرا اور تیسرا حصہ[21]

اعْتَبروْا اَیّھا النّٰاس بمٰا وَعَظَ اللّٰہ بہ اَوْلیٰائَہ منْ سوْء ثَنٰائہ عَلیٰ الاَحْبٰار اذْ یَقوْل : لَوْلاٰ یَنْھٰاھم الرّّبّٰانیّوْنَ وَ الاَحْبٰار عَنْ قَوْلھم الاثْمَ وَ قٰالَ : لعنَ الَّذیْنَ کَفَروْا منْ بَنی اسْرٰائیْلَ - الٰی قَوْلہ - لَبئْسَ مٰا کٰانوْا یَفْعَلوْنَ وَ انَّمٰا عٰابَ الله ذٰلکَ عَلَیْھم لاَنَّھمْ کٰانوْا یَرَونَ منَ الظَّلَمَة الَّذیْنَ بَیْنَ اَظْھَرھم الْمنْکَرَ وَ الْفَسٰادَ فَلاٰ یَنْھَوْنَھمْ عَنْ ذٰلکَ رَغْبَةً فیمٰا کٰانوْا یَنٰالوْنَ منْھمْ وَ رَھْبَةً ممّٰا یَحْذَروْنَ وَ الله یَقوْل : فَلاَ تَخْشَوا النّٰاسَ وَ اخْشَوْن وَ قٰالَ : الْمؤْمنوْنَ وَ الْمؤْمنٰات بَعْضھمْ اَوْلیآء بَعْضٍ یامروْنَ بالْمَعْروْف وَ یَنْھَوْنَ عَن الْمنْکَر فَبَدَءَ الله باْلأَمْر بالْمَعْروْف وَ النَّھْی عَن الْمنْکَر فَریضَةً منْہ لعلْمہ باَنَّھٰا اذٰا ادّیَتْ وَ اقیْمَتْ اسْتَقٰامَت الْفَرائض کلّھٰا ھَیَّنھٰا وَ صَعْبھٰا وَ ذٰلکَ أَنَّ اْلاَمْرَ بالْمَعْروْف وَ النَّھْیَ عَن الْمنْکَر دعٰاءٌ الیٰ اْلاسْلاٰم مَعَ رَدّ الْمَظٰالم وَ مخٰالَفَة الظّٰالم وَ قسْمَة الْفَیء وَ الْغَنٰائم وَ اَخْذ الصَّدَقٰات منْ مَوٰاضعھٰا وَ وَضْعھٰا فی حَقّھٰا
ثمَّ اَنْتمْ أیَّتھا الْعصٰابَة عصٰابَةٌ بالْعلْم مَشْھوْرَةٌ وَ بالْخَیْر مَذْکوْرَةٌ وَ بالنَّصیْحَة مَعْروْفَةٌ وَ باللَّہ فی اَنْفس النّٰاس مَھٰابَةٌ یَھٰابکم الشَّریف وَ یکْرمکم الضَّعیف وَ یؤْثرکمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکمْ عَلَیْہ وَ لاٰ یَدَ لَکمْ عنْدَہ تشَفّعوْنَ فی الْحَوٰائج اذٰا امْتنعَتْ منْ طلاّٰبھٰا وَ تَمْشوْنَ فی الطَّریْق بھَیْبَة الْملوْک وَ کَرٰامَة اْلاَ کٰابر ، اَلَیْسَ کلَّ ذٰلکَ انَّمٰا نلْتموہ بمٰا یرْجٰی عنْدَکمْ منَ الْقیٰام بحَقّ اللّٰہ وَ انْ کنْتمْ عَنْ اَکْثَر حَقّہ تقَصّروْنَ فَاسْتَخْفَفْتمْ بحَقّ اْلاَئمَّة فَاَمّٰا حَقَّ الضّعَفٰاء فَضَیَّعْتمْ وَ اَمّٰا حَقَّکمْ بزَعْمکمْ فَطَلَبْتمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتموْہ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتمْ بھٰا للَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشیْرَةً عٰادَیْتموْھٰا فی ذٰات اللّٰہ
اَنْتمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہ وَ مجٰاوَرَةَ رسلہ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابہ لَقَدْ خَشیْت عَلَیْکمْ اَیّھا الْمتَمَنّوْنَ عَلیَ اللّٰہ اَنْ تَحلَّ بکمْ نقْمَةٌ منْ نَقمٰاتہ لاَنَّکمْ بَلَغْتمْ منْ کَرٰامَة اللّٰہ مَنْزلَةً فضّلْتمْ بھٰا وَ مَنْ یعْرَف باللّٰہ لاٰ تکْرموْنَ وَ اَنْتمْ باللّٰہ فی عبٰادہ تکْرَموْنَ وَ قَد تَرَوْنَ عھودَ اللّٰہ مَنْقوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعوْنَ وَ اَنْتمْ لبَعْض ذمَم آبٰائکمْ تَفْزَعوْنَ وَ ذمَة رَسوْل اللّٰہ مَخْفوْرَةٌ مَحْقوْرَةٌ وَ الْعمْی وَ الْبکْم وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائن مھْمَلَةٌ لاٰ ترْحَموْنَ وَ لاٰ فی مَنْزلَتکمْ تَعْمَلوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَملَ فیھٰا تعیْنوْنَ
وَ بالادّھٰان وَ الْمصٰانَعَة عنْدَ الظَّلَمَة تٰامَنوْنَ کلّ ذٰلکَ ممّٰا اَمَرَکم اللّٰہ بہ منَ النَّھْی وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتمْ عَنْہ غٰافلوْنَ وَ اَنْتمْ اَعْظَم النّٰاس مصیْبَةً لمٰا غلبْتمْ عَلَیْہ منْ مَنٰازل الْعلَمٰاء لَوْ کنْتمْ تَشْعروْنَ ذٰلکَ باَنَّ مَجٰاریَ اْلاموْر وَ اْلاَحْکٰام عَلیٰ اَیدي الْعلَمٰاء باللّٰہ اْلامَنٰاء عَلیٰ حَلاٰلہ وَ حَرٰامہ فَاَنْتم الْمَسْلوْبوْنَ تلْکَ الْمَنْزلَةَ وَ مٰا سلبْتمْ ذٰلکَ الاّٰ بتَفَرّقکمْ عَن الْحَقّ وَ اخْتلاٰفکمْ فی السّنَّة بَعْدَ الْبَیّنَة الْوٰاضحَة وَ لَوْ صَبَرْتمْ عَلیٰ الاَذٰی وَ تَحَمَّلْتمْ الْمَؤوْنَةَ فی ذٰات اللّٰہ کٰانَتْ اموْر اللّٰہ عَلَیْکمْ تَرد وَ عَنْکمْ تَصْدر وَ الَیْکمْ تَرْجع وَ لَکنَّکمْ مَکَّنْتم الظَّلَمَةَ منْ مَنْزلَتکمْ وَ اسْتَسلَمتم اموْرَ اللّٰہ فی اَیْدیْھمْ یَعْمَلوْنَ بالشّبَھٰات وَ یَسیْروْنَ فی الشَّھَوٰات سَلَّطَھمْ عَلیٰ ذٰلکَ فرٰارکمْ منَ الْمَوْت وَ اعْجٰابکمْ بالْحَیٰات الَّتی ھیَ مفٰارقَتکمْ فاَسْلَمْتمْ الضعَفٰاءَ فی اَیْدیھمْ فَمنْ بَیْن مسْتَعْبَدٍ مَقْھوْرٍ وَ بَیْن مسْتَضْعَفٍ عَلیٰ مَعیْشَتہ مَغْلوْبٍ یَتَقَلَّبوْنَ فی الْملْک بآرٰائھمْ وَ یَسْتَشْعروْنَ الْخزْیَ باَھْوٰائھمْ اقْتدٰاءً باْلاَشْرٰار وَ جرْأَةً عَلیٰ الْجَبّٰار فی کلّ بَلَدٍ منْھمْ عَلیٰ منْبَرہ خَطیْبٌ مصْقَعٌ فَاْلاَرْض لَھمْ شٰاغرَةٌ وَ اَیدیھمْ فیھٰا مَبْسوْطَةٌ وَ النّٰاس لَھمْ خَوَلٌ لاٰیَدْفَعوْنَ یَدَ لاٰمسٍ فَمنْ بَیْن جَبّٰارٍ عَنیْدٍ وَ ذی سَطْوَةٍ عَلیٰ الضَّعْفَة شَدیدٍ مطٰاعٍ لاٰ یَعْرف الْمبْدء المعیدَ فَیٰا عَجَباً وَمٰالی لاأعْجَب وَاْلأرض منْ غٰاشٍّ غَشومٍ وَمتَصدّقٍ ظلومٍ وعاملٍ عَلی المؤمنینَ بھمْ غَیْر رَحیمٍ، فَالله الْحٰاکم فیما فیہ تَنٰازَعْنٰا وَالقٰاضی بحکْمہ فیما شجَرَ بَیْنَنا۔
اَللَّھمَّ انَّکَ تَعْلَم اَنَّہ لَمْ یَکنْ مٰا کٰانَ منّٰا تَنٰافساً فی سلْطٰانٍ وَ لاٰالْتمٰاساً منْ فضول الْحطٰام و لَکنْ لنریَ الْمَعٰالمَ منْ دیْنکَ وَ نظْھرَ اْلاصْلاٰحَ فی بلاٰدکَ وَ یَأْمَنَ الْمَظْلوْموْنَ منْ عبٰادکَ وَ یعْمَلَ بفَرٰائضکَ وَ سنَنکَ وَ اَحْکٰامکَ فَانَّکمْ انْ لاتَنْصروْنٰا وَ تَنْصفوْنٰا قَويَ الْظَّلَمَة عَلَیْکمْ وَ عَملوْا فی اطْفٰاء نوْر نَبیّکم وَ حَسْبنٰا اللَّہ وَ عَلَیْہ تَوَکَّلْنٰا وَ الَیْہ اَنَبْنٰا وَ الَیْہ الْمَصیْر

ترجمہ

اے لوگو! الله تعالیٰ نے علمائے یہود کی سرزنش کر کے اپنے اولیاء کو جو نصیحت کی ہے، اس سے عبرت حاصل کرو ۔الله تعالیٰ نے فرمایا :یہودی علما اور دینی رہنما انہیں گناہ آلود باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے؟ اور فرمایا : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، انہیں لعن اور نفرین کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا : وہ ایک دوسرے کو برے اعمال کی انجام دہی سے منع نہیں کرتے تھے اور وہ کتنا برا کام کرتے تھے۔

درحقیقت الله تعالیٰ نے اس لئے انہیں برا قرار دیا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ ظالمین کھلم کھلا برائیوں کو پھیلا رہے ہیں ، انہیں ظالموں کو اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ انہیں،ان ظالموں کی طرف سے ملنے والے مال و متاع سے دلچسپی تھی اور ان کی طرف سے پہنچ سکنے والی سختیوں سے خوفزدہ تھے۔ جبکہ خداوند متعال کا ارشاد ہے کہ: لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور پروردگار نے فرمایا ہے: مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں، اچھائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ۔

اس آیت کریمہ میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے الله تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے آغاز کیا اور اسے اپنی طرف سے واجب قرار دیا کیونکہ پروردگار

جانتا ہے کہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام پائے اور معاشرے میں برقرار رکھا جائے تو تمام واجبات، خواہ وہ آسان ہوں یا مشکل، خودبخود انجام پائیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے اور ساتھ ہی مظلوموں کو انکے حقوق لوٹائے جائیں، ظالموں کی مخالفت کی جائے ،عوامی دولت اور مال غنیمت عادلانہ نظام کے تحت تقسیم ہو، اور صدقات یعنی زکات اور دوسرے واجب اور مستحب مالیات کو صحیح مقامات سے وصول کر کے حقداروں پر خرچ کیا جائے۔

اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، معاشرے کے کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔

اسکے باوجود آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان۱ نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو بھیمنع کرنے کے لئے کہا ہے ۔اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔

آپ پر آنے والی مصیبت دوسرے لوگوں پر آنے والی مصیبت سے کہیں بڑی مصیبت ہے ، اس لئے کہ اگر آپ سمجھیں تو علما کے اعلیٰ مقام و منزلت سے آپ کومحروم کر دیا گیا ہے ،کیونکہ مملکت کے نظم و نسق کی ذمہ داری علمائے الہٰی کے سپرد ہونی چاہئے، جو الله کے حلال و حرام کے امانت دار ہیں۔ اور اس مقام و منزلت کے چھین لئے جانے کا سبب یہ ہے کہ آپ حق سے دور ہو گئے ہیں اور واضح دلائل کے باوجود سنت کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں۔

اگر آپ اذیت و آزار جھیلنے اور الله کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے تو احکام الہٰی اجراء کے لئے آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے، آپ ہی سے صادر ہوتے اور معاملات میں آپ ہی سے رجوع کیا جاتا لیکن آپ نے ظالموں اور جابروں کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ سے یہ مقام و منزلت چھین لیں اور الله کے حکم سے چلنے والے امور وہ امور جن میں حکم الہٰی کی پابندی ضروری تھی اپنے کنٹرول میں لے لیں تاکہ اپنے اندازوں اور وہم و خیال کے مطابق فیصلے کریں اور اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کریں۔

وہ حکومت پر قبضہ کرنے میں ا س لئے کامیاب ہو گئے کیونکہ آپ موت سے ڈرکر بھاگنے والے تھے اور اس فانی اور عارضی دنیا کی محبت میں گرفتار تھے۔ پھر آپ کی یہ کمزوریاں سبب بنیں کہ ضعیف اور کمزور لوگ ان کے چنگل میں پھنس گئے اور نتیجہ یہ ہے کہ کچھ تو غلاموں کی طرح کچل دیئے گئے اور کچھ مصیبت کے ماروں کی مانند اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہو گئے۔ حکام اپنی حکومتوں میں خودسری، آمریت اور استبداد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں ذلت وخواری کا سبب بنتے ہیں، بدقماش افراد کی پیروی کرتے ہیں اور پروردگار کے مقابلے میں گستاخی دکھاتے ہیں۔

ہر شہر میں ان کا یک ماہر خطیب منبر پر بیٹھا ہے ۔ زمین میں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں یعنی جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں عوام ان کے غلام بن گئے ہیں اور اپنے دفاع سے عاجز ہیں۔ حکام میں سے کوئی حاکم تو ظالم، جابر اور دشمنی اور عناد رکھنے والا ہے اور کوئی کمزوروں کو سختی سے کچل دینے والا ،ان ہی کا حکم چلتا ہے جبکہ یہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز جزا کو ۔

تعجب ہے اور کیوں تعجب نہ ہو! ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے مالیاتی عہدیدار ظالم ہیں اور صوبوں میں اسکے مقرر کردہ گورنر مومنوں کے لئے سنگ دل اور بے رحم۔ آخر کار الله ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے اور وہی ہمارے اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا۔

امام نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا:

بارالہا! تو جانتا ہے کہ جوکچھ ہماری جانب سے ہوا بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے اورنہ ہی یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کر دیں اور تیری مملکت میں اصلاح کریں ، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور جو فرائض ، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو۔ اب اگر آپ حضرات حاضرین سے خطاب نے ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو ظالم آپ پر اور زیادہ چھا جائیں گے اور نور نبوت کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے۔ ہمارے لئے تو بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے۔

حوالہ جات

  1. کتاب سلیم بن قیس کے بعض نسخوں میں ایک سال قبل آیا ہے۔
  2. بخش اول خطبہ.
  3. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۰-۳۴۱.
  4. بخش دوم و سوم خطبہ.
  5. سلیم بن قیس، ص۲۰۶.
  6. حرانی، تحف العقول، ص۱۶۸.
  7. مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰۰، ص۷۹، ح۳۷.
  8. نجمی، ص۳۴۱-۳۴۲؛ رجوع کنید بہ: طبرسی، الاحتجاج، ج۲، ص۱۷.
  9. گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء، ج۱، ص۳۹۴، پاورقی ۱.
  10. نجمی، ص۳۴۰.
  11. گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء، ج۱، ص۳۹۲.
  12. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۳.
  13. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۳-۳۴۴.
  14. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۴.
  15. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۵.
  16. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۴۶.
  17. نجمی، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا، ص۳۶۸.
  18. حسینی، «افشای مفاسد معاویہ و یزید در سخنان امام حسین(ع)».
  19. گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء، ج۱، ص۳۹۴.
  20. اس خطبے کا یہ حصہ کتاب سلیم بن قیس میں آیا ہے۔ رجوع فرمائیں: سلیم بن قیس، ص۲۰۶.
  21. خطبے کے یہ حصے کتاب تحف العقول میں آیا ہے۔ حرانی، تحف العقول، ص۱۶۸.


منابع

  • حرانی، حسن بن شعبہ، تحف العقول، قم، انتشارات شریف رضی، ۱۳۸۰ق.
  • حسینی، سیدجواد، «افشای مفاسد معاویہ و یزید در سخنان امام حسین(ع)»، مجلہ پاسدار اسلام، ش۲۷۹-۲۸۰، ۱۳۸۴ش.
  • سلیم بن قیس ہلالی، کتاب سلیم، بیروت، دارالفنون.
  • طبرسی، الاحتجاج.
  • فرہنگ جامع سخنان امام حسین(ع)، تدوین: گروہ حدیث پژوہشکدہ باقرالعلوم، ترجمہ علی مؤیدی، چ۲، قم، نشر معروف، ۱۳۸۵ش.
  • گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء علیہ‌السلام، زیر نظر مہدی پیشوایی، چ۱، قم، انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی (رہ)، ۱۳۸۹.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، تہران، مکتبۃ الاسلامیۃ، ۱۳۶۳ش.
  • نجمی، محمدصادق، سخنان حسین بن علی(ع) از مدینہ تا کربلا، ویرایش دوم، چ۹، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۱ش.