انس بن حارث کاہلی

ویکی شیعہ سے
انس بن حارث کاہلی
حرم امام حسینؑ میں بعض شہدائے کربلا کی آرامگاہ
حرم امام حسینؑ میں بعض شہدائے کربلا کی آرامگاہ
کوائف
نام:اَنَس بن حارِث کاہلی
نسببنی‌تَیْم
مشہور اقاربحارث بن نبیہ
شہادتروز عاشورا 61ھ
شہادت کی کیفیتلشکر عمر بن سعد کے پہلے حملے میں
مقام دفنحرم امام حسینؑ
اصحابصحابی پیغمبر اکرمؐ و امام حسینؑ


انس بن حارث کاہلی ان اصحاب پیغمبر میں سے ہیں جو کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کی معیت میں شہید ہوئے.وہ رسول اللہ سے حضرت امام حسین ؑ کے کربلا میں شہید ہونے والی روایت کے راوی ہیں.

تعارف

انس بن حارث بن نبیہ تھا. بلاذری اور ابن نما نے انہیں " کاہلی" کہا ہے. [1]. ابن مندہ اور عجلی نے انس کو" کوفی" شمار کیا ہے اور عجلی نے اسے "ثقہ" اورابن سکن نے فی حدیثه نظر کہا ہے. عجلی نے ان کے والد کا نام لقیط ذکر کیا ہے لیکن اصابۃ اور دیگر کتب میں ان کے والد کا نام "حارث" مذکور ہے. [2]

صحابی

انس بن حارث رسول اللہ کے اصحاب میں سے تھے [3]. کہتے ہیں کہ وہ جنگ بدر اور جنگ حنین میں شریک ہوئے.ان کے متعلق ذہبی کے عدم صحابیت کے نظریے کو رد کرتے ہوئے ابن حجر نے کہا ہے :

انس کی روایت کو کیسے مرسل کہا جا سکتا ہے جبکہ انس نے:" سمعت رسول اللہ " کہا ہے نیز بغوی،ابن سکن ، ابن شاہین،دغولی، ابن زبر، باوردی،ابن مندہ، ابو نعیم وغیرہ نے اسے صحابی کہا ہے[4].

نیز ابن اثیر نے ابو عبد الرحمن سلمی کے حوالے سے حارث بن نبیہ کو اصحاب رسول خدا اور اصحاب صفہ میں سے شمار کیا ہے.[5].

شیعہ مصادر میں سے شیخ طوسی اور ابن شہر آشوب نے انس بن حارث کے رسول خدا کے صحابی ہونے کاذکر کیا ہے. نیز علامہ حلی اور ابن داؤد حلی نے صحابی رسول کی تصریح کے بغیر کربلا میں امام حسین ؑ کے ساتھ شہادت کا ذکر کیا ہے[6].

روایت

رسول اللہ سے انس کی درج ذیل روایت سنی اور شیعہ مستندات میں پائی جاتی ہے :

إنّ ابنی هذا -يعني الحسين- يقتل بأرض يقال لها كربلاء فمن شهد ذلك منكم فلينصره [7]
بے شک میرا یہ بیٹا ایسی زمین پر قتل کیا جائے گا جسے کربلا کہا جاتا ہے پس جو شخص بھی تم میں سے موجود ہو اسے چاہئے کہ وہ اس کی مدد کرے.

کچھ اختلاف سے یہی روایت ابن اثیر نے انس کے والد حارث بن نبیہ سے نقل کی ہے:

قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، والحسين في حجره، يقول: " إن ابني هذا يقتل في أرض يقال لها: العراق، فمن أدركه فلينصره ". فقتل أنس بن الحارث مع الحسين.[8]
حارث کہتے ہیں :میں نے رسول اللہ سے اسوقت سنا جب حسین انکی گود میں تھے:بے شک میرا یہ بیٹا زمین عراق میں قتل کیا جائے گاپس جو اسے پا لے اسے چاہئے کہ وہ اسکی مدد کرے.
لہذا انس بن حارث امام حسین ؑ کے ساتھ قتل ہوا.

امام کے انصار میں شمولیت

بلاذری کے مطابق انس کوفہ میں رہتا تھا.جنگ میں شرکت نہ کرنے کی خاطر کوفہ سے باہر نکل گیا. قصر بنی مقاتل کے مقام پر امام حسین ؑ عبید اللہ بن حر جعفی کی گفتگو سنی تو امام سے مخاطب ہوا : میں بھی عبید اللہ کی طرح کوفہ سے نکل کر آیا ہوں لیکن خدا نے میرے دل میں تمہاری مدد کرنے کا خیال میرے دل میں ڈال دیا ہے اور مجھے تمہاری مدد کرنے پر ابھارا ہے.[9] ابن عساکر کے مطابق وہ کربلا آیا اور امام حسین ؑ کے ساتھ شہید ہوا. [10]

روزعاشورا

مصادر قدیمی میں آپ کی شہادت کی تفصیل مذکور نہیں ہے.البتہ قندوزی (1294ق) نے کسی مستند کے بغیر کہا ہے کہ عاشور کے روز امام حسین نے خطبہ دینے کے بعد انس بن حارث کو نصیحت کی غرض سے قوم کے پاس بھیجا.انس سلام کے بغیر عمر کے پاس وارد ہوئے تو عمر نے کہا :تم نے مجھے سلام نہیں کیا.کیا میں مسلمان نہیں ہوں ؟انس نے جواب دیا :قسم بخدا !تو مسلمان نہیں ہے کیونکہ تو نے فرزند رسول ؐ کے قتل کا ارادہ کیا ہے.عمر نے سر جھکا کر جواب دیا : خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ اسے قتل کرنے والا جہنمی ہے لیکن فرمان عبید اللہ پر عمل ناگزیر ہے.انس واپس آئے اور امام کو اس سے آگاہ کیا.[11].

شیخ صدوق کے مطابق روز عاشور انس امام سے اجازت لے کر میدان گئے اور درج ذیل اشعار پڑھے:

قَدْ عَلِمَتْ كَاهِلُهَا وَ دُودَا وَ الْخِنْدِفِيُّونَ وَ قَيْسُ عَيْلَانَ
بِأَنَّ قَوْمِي قُصَمُ الْأَقْرَانِ يَا قَوْمِ كُونُوا كَأُسُودِ الْجَانِ
آلُ عَلِيٍّ شِيعَةُ الرَّحْمَنِ وَ آلُ حَرْبٍ شِيعَةُ الشَّيْطَان‏

قبائل کاہل،خندفی اور قیس علان جانتے ہیں کہ میری قوم بہادروں کو پچھاڑنے والی ہے.اے میری قوم! شیروں کی مانند غراؤ. علی کی آل رحمان کا گروہ اور آل حرب شیطان کا گروہ ہے.[12]

حوالہ جات

  1. بلاذری ،انساب الاشراف ،ذیل خروج الحسین من مکہ الی الکوفہ.ابن نما ،مثیر الاحزان ص46
  2. بخاری ،تاریخ کبیر ج2 ص 30؛رازی ،الجرح و التعدیل ج 2ص 287؛ابن حبان ،الثقات ج 4 ص 49؛عجلی ،معرفۃ الثقات ج 1 ص 17 و236؛ابن حجر ،الاصابہ، ج1 ص 270؛شیخ طوسی،رجال طوسی 21؛حلی ،خلاصۃ الاقوال 75؛.
  3. بخاری ،تاریخ کبیر ج2 ص 30؛رازی ،الجرح و التعدیل ج 2ص 287؛ابن حبان ،الثقات ج 4 ص 49؛ابن حجر ،الاصابہ، ج1 ص 270؛
  4. ابن حجر ،الاصابہ، ج1 ص 270؛
  5. ابن اثیر ،اسد الغابہ ،ج1 ص 349.
  6. علامہ حلی ،خلاصۃ الاقوال ص75؛ابن داؤد حلی ، رجال ابن داؤد ، ص52
  7. ابن عساکر ،تاریخ مدینہ دمشق ج14 ص223؛ابن اثیر ،اسد الغابہ ج1 ص349؛ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ج1 ص122؛ اس میں کربلا کی بجائے عراق کا ایک حصہ مذکور ہے.
  8. ابن اثیر ،اسد الغابہ ج1 ص349
  9. بلاذری ،انساب الاشراف ج 3 ص 173
  10. ابن عساکر ، تاریخ مدینہ دمشق ج 14 ص 224
  11. قندوزی،ینابیع المودۃ ج 3 ص 69
  12. شیخ صدوق ، الامالی ،ص 116

مآخذ

  • أنساب الأشراف، احمد بن یحیی بلاذری،‌ دار الفکر، اول، بیروت، ۱۴۱۷ق.
  • الإصابۃ في تمييز الصحابۃ، ابن حجر عسقلانى‏، دار الكتب العلميۃ، بيروت‏، اول، 1415ق‏.
  • التاریخ الکبیر،بخاری. ناشر : المكتبۃ الإسلاميۃ - ديار بكر - تركيا
  • خلاصۃ الاقوال، علامہ حلی ،مؤسسۃ النشر الإسلامي،ناشر : مؤسسۃ نشر الفقاهۃ
  • تاریخ مدینہ دمشق، ابن عساکر،دار الفكر للطباعۃ والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان
  • الجرح و التعدیل ، رازی ، دار إحياء التراث العربي - بيروت.
  • اسد الغابہ ، ابن اثیر،ناشر : دار الكتاب العربي - بيروت - لبنان.
  • الثقات ، ابن حبان ،ناشر : مؤسسۃ الكتب الثقافيۃ
  • معرفۃ الثقات، عجلی،ناشر : مكتبۃ الدار - المدينۃ المنورة
  • رجال طوسی ، شیخ طوسی،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفۃ
  • ينابيع المودة لذو القربى‏، سليمان بن ابراهيم قندوزى‏، اسوه‏، قم‏، دوم،1422ق.
  • أمالي الصدوق‏، شيخ صدوق‏، اعلمى‏، بيروت‏، پنجم، 1400ق‏