نماز میت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

نماز میت واجب نمازوں میں سے ایک ہے ۔ اسے مسلمان شخص کے جنازہ پر پڑھا جاتا ہے ۔ یہ نماز پانچ تکبیروں پر مشتمل ہوتی ہے اور پہلی چار تکبیروں میں ہر تکبیر بعد ایک مخصوص دعا پڑھی جاتی ہے اور پانچویں تکبیر کے ساتھ اس نماز کو ختم کیا جاتا ہے ۔اس نماز میں رکوع سجدہ اور تشہد نہیں ہے نیز اس کیلئے وضو ،تیمم اور غسل وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ ان کی رعایت کرنا بہتر ہے ۔اس نماز کو جماعت کے ساتھ اور فرادا دونوں طرح پڑھا جاتا ہے ۔جماعت کی صورت میں ماموم کو چاہئے کہ دعائیں خود پڑھے ۔

اہمیتِ نماز

نماز میت واجب کفائی ہے یعنی اگر اسے کوئی ایک شخص ادا کر دے تو باقی مسلمانوں سے اس کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے ۔کسی بھی مسلمان کے فوت ہو جانے پر تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اسے غسل دینے کے بعد کفن حنوط کریں اور پھر اس پر نماز میت کو پڑھیں اور اسے دفن کریں ۔کسی ایک مسلمان کے انجام دینے سے دیگر تمام مسلمانوں سے اس کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے ۔ اہم اشخاص کیلئے ایک سے زیادہ نماز میت پڑھی جا سکتی ہیں ۔نیز نماز میت فرادا اور جماعت دونوں صورتوں میں ادا کی جاسکتی ہے ۔

اس نماز کی اہمیت اس قدر ہے کہ اگر کسی جنازہ کو نماز میت کے بغیر دفن کر دیا جائے یا درست نہ پڑھی جائے تو واجب ہے کہ اس کی قبر پر نماز پڑھی جائے اور بعض حالات میں میت کو قبر سے باہر نکال کر نماز میت پڑھ کر اسے دفنایا جائے ۔

چھ سال سے اوپر کی مسلمان میت پر نماز جنازہ واجب اور غیر مسلم پر یہ نماز پڑھنا حرام ہے ۔

شرائط

دیگر واجب نمازوں کی طرح اس نماز میں طہارت کی شرط ضروری نہیں ہے ۔پس اس نماز کو وضو تیمم اور غسل کے بغیر بھی پڑھا جا سکتا ہے ۔نیز اسے پڑھتے ہوئے پاؤں سے جوتے اتارنا ضروری نہیں ہے ۔

البتہ دیگر اس کی مخصوص شرائط کا لحاظ کرنا ضروری ہے ۔

کیفیت نماز

میت کو غسل ، کفن اور حنوط کرنے کے بعد نماز پڑھنے والا قبلہ رخ ہو کر اسے اپنے سامنے اس طرح رکھے کہ میت کا سر اس کے دائیں جانب اور اس کے پاؤں بائیں جان ہوں ۔نماز گزار حالت قیام میں قربت الہی کی نیت سے پانچ تکبیر نماز پڑھنے کی نیت کرے اور پہلی تکبیر کہے ۔ اس کے بعد اس تکبیر کے مخصوص ذکر پڑھے جس میں خدا کی وحدانیت اور رسول اللہ کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے ۔دوسری تکبیر کے بعد محمد اور آل محمد پر درود بھیجے ،تیسری تکبیر کے بعد تمام مؤمنین کی مغفرت کی دعا کرے ،چوتھی تکبیر کے بعد موجود میت کی مغفرت کی دعا کرے اور پانچویں تکبیر کہہ کر اپنی نماز کو ختم کرے ۔درج ذیل دعاؤں کو پڑھے :

تکبیر واجب دعا مستحب دعا
پہلی اَشْهَدُ اَنْ لا الهَ الَّا اللَّهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَسوُلُ اللَّهِ اَللَّهُ اَکبَرُ اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اللَّهُ وَحْدَهُ لاشَریک لَهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ اَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشیراً وَ نَذیراً بَینَ یدَی السّاعَةِ
دوسری اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بارِک عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَ آلَ مُحَمَّدٍ کاَفْضَلِ ما صَلَّیتَ وَ بارَکتَ وَ تَرَحَّمْتَ عَلی اِبْرهیمَ وَ آلِ اِبْرهیمَ اِنَّک حَمیدٌ مَجیدٌ وَ صَلِّ عَلی جَمیعِ الاَنْبِیآءِ وَالْمُرْسَلینَ
تیسری اَللَّهُمَّ اْغفِرْ لِلْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمینَ وَالْمُسْلِماتِ الاَحْیآءِ مِنْهُمْ وَالاَمْواتِ تابِعْ بَینَنا وَ بَینَهُمْ بِالْخَیراتِ اِنَّک مُجیبُ الدَّعَواتِ اِنَّک عَلی کلِّشَیئٍ قَدیرٌ
چوتھی مرد کیلئے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِهذَا المَیت

عورت: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِهذِهِ المَیت

مرد کیلئے: اَللّهُمَّ اِنَّ هذا عَبْدُک وَابْنُ عَبْدِک وَابْنُ اَمَتِک نَزَلَ بِک وَ اَنْتَ خَیرُ مَنْزُولٍ بِهِ اَللّهُمَّ اِنّا لا نَعْلَمُ مِنْهُ اِلاّ خَیراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنّا اَللّهُمَّ اِنْ کانَ مُحْسِناً فَزِدْ فی اِحْسانِهِ وَ اِنْ کانَ مُسَّیئاً فَتَجاوَزْ عَنْهُ وَاغْفِرِ لَهُ اَللّهُمَّ اجْعَلْهُ عِنْدَک فی اَعْلا عِلِّیینَ وَاخْلُفْ عَلی اَهْلِهِ فِی الْغابِرینَ وَارْحَمْهُ بِرَحْمَتِک یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ

عورت کیلئے: اَللّهُمَّ اِنَّ هذِهِ اَمَتُک وَابْنَةُ عَبْدِک و انبنَةُ اَمَتِکَ نَزَلَتْ بِک وَ اَنْتَ خَیرُ مَنْزوُلٍ بِهِ اَللّهُمَّ اِنّا لا نَعْلَمُ مِنْها اِلاّ خَیراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهامِنّا اَللّهُمَّ اِنْ کانَتْ مُحْسِنَةً فَزِدْ فی اِحْسانِها وَ اِنْ کانَتْ مُسیئةً فَتَجاوَزْ عَنْها وَاغْفِرْ لَها اَللّهُمَّ اجْعَلْها عِنْدَک فی اَعْلا عِلِّیینَ وَاخْلُفْ عَلی اَهْلِها فِی الْغابِرینَ وَارْحَمْها بِرَحْمَتِک یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ

پانچویں اختتام اختتام

احکام

  • چھ سال سے بڑے ہر مسلمان کی میت پر نماز جنازہ پڑھنا واجب ہے ۔بچے پر نماز جنازہ پڑھنا واجب نہیں ہے ۔
  • چھ سال سے کم عمر بچے پر نماز جنازہ پڑھنا مستحب ہے اگرچہ وہ پیدا پوتے ہی فوت ہو جائے۔
  • غسل و کفن وغیرہ کے بعد اور دفن سے پہلے نماز جنازہ پڑھا جائے ۔[1]
  • غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں ہے۔[2]

ناقابل فراموش نماز میت

حوالہ جات

  1. سید محسن حکیم ،مستمسک العروۃ الوثقیٰ ،4/113۔
  2. نجفی،جواہر الکلام 12/58
  3. توضیح المسائل مراجع