کربلا

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کربلا
تصویری هوایی از شهر کربلا.jpg
عمومی معلومات
ملک عراق
صوبہ کربلا
رقبہ 52856 مربع کیلومٹر
آبادی 1 میلین
نام کربلا
زبان عربی عراقی
قومیت عربی
ادیان اسلام
مذہب شیعہ
تاریخی خصوصیات
قدیمی نام نینوا، غاضریہ، طف، نوانویس
سال تأسیس سن 2 ہجری قمری
تاریخ قبل از اسلام عصر بابلی
اہم واقعات واقعہ کربلا، تخریب حرم امام حسین(ع)، انتفاضہ شعبانیہ، وہابیوں کا کربلا پر حملہ، نجیب پاشا کا واقعہ
تاریخی مقامات قلعہ الأخیضر، خان الربع مسافر خانہ(النخیلہ)
اماکن
مساجد مسجد رأس الحسین، مسجد عمران‌ بن شاہین، مسجد سردار حسن‌خان، مسجد ناصری، مسجد آقا باقر بہبہانی، مسجد صاحب حدائق۔
امام بارگاہیں حسینیہ تہرانیہا، حسینیہ محمدصالح، حسینیہ اسکویی حائری، حسینیہ مازندرانی۔


کربلا یا کربلائے معلی عراق میں شیعوں کے زیارتی شہروں میں سے ایک ہے اور اس شہر کی اہمیت اور تقدس کی اصل وجہ سنہ 61ھ 10محرم الحرام کو واقعۂ عاشورا میں امام حسین(ع) اور آپ کے با وفا اصحاب کی شہادت اور امام حسین(ع) اور آپ کے بھائی حضرت علمدار عباس(ع) کی ضریح مقدس کا وہاں ہونا ہے۔ اہل تشیع پوری دنیا سے ہر سال مختلف موقعوں پر زیارت کے لئے کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ اس سفر کا عروج محرم اور صفر خاص طور پر اربعین کے مراسم میں نمایاں ہوتا ہے جس میں دنیا جہاں سے کئی لاکھ لوگ زیارت اربعین کے لئے کربلائے معلی کا رخ کرتے ہیں جو آخری سالوں میں دنیا کی سب سے بڑی مذہبی مناسبتوں میں تبدیل ہوئی ہے۔

کربلا کی قدمت اسلام سے پہلے بابلی دور کی طرف پلٹتی ہے۔ اسلامی فتوحات کے بعد فرات کے کنارے بعض قبیلے بستے تھے۔ اور دس محرم کو امام حسین(ع) کی شہادت اور آپ کا کربلا میں دفن ہونے کے بعد لوگ آپ کی زیارت کے لیے وہاں کی طرف سفر کرتے تھے۔ اور امام حسین اور شہداے کربلا کی زیارت کی اہمیت کے پیش نظر کربلا شیعوں کی بسنے کی جگہ قرار پائی۔ اور دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد کربلا میں تعمیرات اور آبادی شروع ہوگئی۔ اور آل بویہ کے دور میں کربلا کی ساخت میں بڑی پیشترفت ہوئی لیکن سب سے زیادہ کام صفویوں اور قاجاریہ دور میں ہوگیا۔ کربلا کی ترقی کے ساتھ ساتھ تیسری صدی ہجری میں دینی مدرسے بھی قائم ہوئے اور کربلا کا حوزہ علمیہ نے تاریخ میں بہت سارے نشیب و فراز دیکھے۔ کربلا میں دینے مدرسے کے قیام کے بعد بہت سارے شیعہ خاندان دینی تعلیم کے حصول کے غرض سے کربلا میں سکونت پذیر ہوئے۔

محل وقوع

شہر کربلا صوبہ کربلا کا دارالخلافہ ہے۔ یہ صوبہ شمال میں صوبہ الانبار، جنوب میں صوبہ نجف، مشرق میں صوبہ بابل اور مغرب میں بادیہ شام اور سعودیہ عرب سے ملتا ہے۔ شہر کربلا دریائے فرات کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ یہ شہر بغداد کے جنوب مغرب میں 105 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

دیگر اسامی

  • کربلا
اس لفظ کے معنی کے بارے میں کئی اقوال ہیں:

الف: بعض کا کہنا ہے کہ کربلا، لفظ "کربَلَہ" سے ماخوذ ہے جس کے معنی قدموں کے سست پڑنے کے ہیں۔[1]

ب: کربلا لفظ "کربل" سے ماخوذ ہے اور کربال کے معنی چھانٹی کرنے اور تمیز کرنے کے ہیں۔ اس شہر کو ریت، پتھر اور درخت وغیرہ سے عاری ہونے کی وجہ سے کربلا کہا جاتا ہے۔ [2]

ج: کربلا، دو لفظ "کرب" اور "ایلا" سے مرکب ہے جس کے معنی خدا کا حرم اور خدائی بندوں کا گھر کے ہیں۔[3]

د: یہ لفظ اصل میں فارسی زبان کا ایک لفظ تھا جو دو لفظ "کار" اور "بالا" سے ماخوذ ہے جس کے معنی آسمانی یا باارزش کام کے ہیں دوسرے لفظوں میں نماز اور راز و نیاز کی جگہ۔[4]

ه: اصل میں یہ لفظ "کوَر بابل" تھا جس کے معنی شہر بابل کے گاوں کے ہیں۔[5]

و: امام حسین(ع) اور آپ کے والد گرامی حضرت علی(ع) اور آپ کے نانا رسول اکرم(ص) نے کربلا کو "کرب و بلا" یعنی درد، بلا، آزمائش اور ابتلاء سے تفسیر کیا ہے۔[6]

قدیمی‌ ترین شعر جس میں کربلا کا نام آیا ہے، "معن بن اوس" کا ہے جس نے عصر جاہلیت کو درک کیا: [7]

  • حائر

تفصیلی مضمون:حائر حسینی

حائر لغت میں مادہ "حار - یحیر" سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اس جگہ کو کہا جاتا ہے جس میں پانی جمع ہوتا ہو اور باہر جانے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ کربلا کو حدیثی [8]اور فقہی[9] کتابوں میں اکثر اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور فقہاء "حائر حسینی" کے حدود اور احکام کے بارے میں مختلف مسائل بیان فرماتے ہیں۔

  • نواویس

یہ نام مسیحی اور سریانی نقطہ نگاہ سے بولا جاتا ہے چونکہ کربلا کے شمال مغرب میں مسیحیوں کا قبرستان ہے۔ آجکل یہ قبرستان دریائے سلیمانیہ کے کنارے پر واقع "براز علی" نامی گاؤں میں واقع ہے۔ [10]. امام حسین(ع) نے بھی اسی نام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔[11]

  • طفّ

تفصیلی مضمون:طف

"طف" دریا کے ساحل کے معنی میں ہے اور چونکہ امام حسین(ع) کی شہادت ساحل فرات پر واقع ہوئی اس لئے اسے طف کہا جاتا ہے۔[12]

  • غاضریہ

تفصیلی مضمون:غاضریہ

کربلا کو غاضریہ بھی کہا جاتا ہے وہ اسلئے کہ کربلا کے نزدیک بنی اسد کا ایک قبیلہ بنام بنی غاضر نامی رہتے تھے۔[13]

  • نینوا

تفصیلی مضمون:نینوا

  • عقر

"عقر" لغت میں شگاف اور دو جگہوں کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔[14] جب  امام حسین(ع) اس جگہ پر پہنچے تو اس جگہ کا نام پوچھا تو کسی نے کہا کہ اس کا نام "عقر" ہے تو امام(ع) نے فرمایا "عقر" سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔[15]

تاریخ کے آئینے میں

اگرچہ سنہ 61 ہجری قمری عاشورا کے دن امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد کربلا شیعوں کے یہاں ایک زیارتی اور مذہبی شہر بن گیا اور امام عالی مقام سے عشق و محبت رکھنے والے دور دراز سے آپ کی زیارت کی خاطر یہاں آتے ہیں لیکن یہ شہر اس واقعے کے کئی سال بعد سکونت اور محل زندگی قرار پایا۔

اسلام سے پہلے کربلا کے بارے میں کوئی خاص معلومات تاریخ میں ثبت نہیں ہے لیکن کربلا کو اگر لفظ "کور بابل" یعنی بابل کا دیہات، سے ماخوذ قرار دیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کربلا "بابلیوں" کے دور میں محل سکونت تھی اور لوگ یہاں زندگی گزارتے تھے۔ اسی طرح اس سرزمین کو "نواویس" یعنی مسیحیوں کا قبرستان، بھی کہا جاتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے کسی زمانے میں یہاں مسیحی بستے تھے۔

لیکن ظہور اسلام اور امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد یہ سرزمین خاندان پیغمبر(ص) سے محبت اور عشق رکھنے والوں کیلئے ایک زیارت گاہ بن گئی۔ اور رفتہ رفتہ یہاں پر لوگ بسنے لگے۔ لیکن سنہ 236 ہجری قمری میں متوکل عباسی کے حکم سے کربلا میں موجود قبرستان اور ان کے آس پاس موجود گھروں کو ویران کر دیا گیا۔[16]

سنہ 247 ہجری قمری میں منتصر عباسی نے متوکل کے مرنے کے بعد دوبارہ اہل بیت(ع) کے متبرک آثار کو واپس کر دیا اور کربلا کی دوبارہ تعمیر کی گئی اس کے بعد کافی لوگ یہاں آباد ہو گئے۔ شاید پہلے علوی شخص جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ کربلا میں ساکن ہوئے سید ابراہیم مجاب فرزند محمد بن موسی بن جعفر (ع) تھے۔

تاریخی نشیب و فراز

متوکل عباسی کے دور خلافت کے بعد کربلا کئی دفعہ دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنی اور کئی دفعہ دوبارہ تعمیر ہوئی۔ کربلا کی اس تاریخ میں درج ذیل نشیب و فراز ہیں۔

سال رویداد توضیحات
۲۸۰ حرم امام حسین(ع) کیلئے پہلی بار گنبد بنایا گیا؛ حرم کے اطراف میں پناہ گاہ اور زائرین و مجاورین کیلئے محل سکونت تعمیر کیا گیا گرگان کے حاکم محمد بن زید کے حکم سے
  ۳۶۶ ھ امیر عز الدولہ آل بویہ کے کربلا سفر کرنے کے بعد شیعوں کی کربلا کی طرف مہاجرت میں اضافہ
 ۳۶۹ ھ ضبہ بن محمد اسدی کا کربلا پر حملہ اور حرم کے اموال کی غارت گری اور لوگوں کا قتل عام شہر عین تمر کے حاکم
۳۷۲ ھ پہلی بار شہر کے اردگرد پناہ گاہ کی تعمیر؛ تجارتی اور مسکونی مکانات کی تعمیر؛ عضدیہ اور مسجد رأس الحسین کی تعمیر[17]    عضد الدولہ آل بویہ کے حکم سے
 ۴۰۷  تا  ۴۱۲ ھ دوسری بار شہر کے اردگرد پناہ گاہ کی تعمیر اور شہر کے چار مقامات پر لوہے کے دروازے لگائے گئے۔ آل بویہ کے وزیر حسن بن فضل بن سہلان رامہرمزی[18]
 ۴۸۹ ھ شہر خفاجہ کے لوگوں کا کربلا پر حملہ[19]؛ اور حلب کے فرمانروا کے بھیجے گئے لشکر کے ذریعے باغیوں کی سرکوبی
 ۷۹۵ ھ تیمور لنگ کا کربلا حملہ اور اس پر قبضہ
 ۸۵۸ ھ بصرہ کے خودمختار حکمران "علی مشعشعی" کا کربلا پر حملہ اور حرم کی غارتگری اور لوگوں کا قتل عام اور بعض اہل کربلا کی اسیری
 ۹۱۴ ھ شاه اسماعیل صفوی کے حکم سے امام حسین(ع) کے حرم کی تعمیر نو۔[20]
  ۹۵۳ ھ عثمانی ترکوں کا عراق پر قبضہ؛ حرم امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضے کی تعمیر نو؛ عثمانی حکمران سلیمان قانونی کے توسط سے نہر سلیمانی کی تعمیر
 ۱۰۱۳ھ "قبیلہ آل مہنا" کے قبیلے کے سردار "ناصر بن مہنا" کی سرکردگی میں کربلا پر حملہ
۱۰۴۱ ھ شاہ عباس صفوی کا کربلا پر قبضہ اور اسے ایران کے ساتھ الحاق کرنا
۱۰۴۷ھ دوبارہ عثمانی ترکوں کا کربلا پر قبضہ
 ۱۲۱۶ھ سعود بن عبدالعزیز کی سرکردگی میں وہابیوں کا کربلا پر حملہ؛ لوگوں کا قتل عام؛ حرم مطہر امام حسین(ع) کے گنبد کی تخریب اور مال اموال کی غارتگری
 ۱۲۱۶ھ ہندوستان کے ایک پادشاہ کے حکم سے حرم کے بعض ویران ہونے والے حصوں کی تعمیر نو
 ۱۲۱۷ ه‍.ق سید علی طباطبائی (صاحب الریاض) کی کوششوں سے تیسری بار کربلا کیلئے پناہ گاہ کی تعمیر اور 6 دروازوں کا نصب کرنا
 ۱۲۴۱ ه‍.ق عثمانیوں کا کربلا پر حملہ اور لشکریوں کے ذریعے شہر کا تاراج
 ۱۲۵۸ھ محمد نجیب پاشا کا کربلا پر حملہ
 ۱۲۸۵ھ شہر کے پناہ گاہ کی تعمیر، عباسیہ محلہ کی تعمیر
۱۳۳۲ھ شہر میں جدید عمارتوں کی تعمیر
۱۳۳۸ھ غیر مسلموں کے عراق کی حکمرانی پر انتخاب کے خلاف شیخ محمد تقی حائری شیرازی کے فتووں کی بنیاد پر عراق میں کربلا سے انقلاب کا آغاز
۱۳۹۷ھ اربعین حسینی پر حرم مطہر امام حسین(ع) کی زیارت پر آنے والے زائرین کا بعث پارٹی کے کارندوں کے ہاتھوں قتل عام
۱۴۱۱ھ بعثیوں کا کربلا اور حرم امام حسین(ع) پر حملہ، انتفاضہ شعبانیہ کے دوران صدام حسین کی حکومت کی طرف سے لوگوں کا قتل عام

زیارات اور مزارات

اصل مضمون: حائر حسینی
اصل مضمون: حرم حضرت عباس(ع)

امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے مقدس روضوں کے علاوہ بہت سارے مشاہیر اور بزرگوں کی قبور کربلا میں موجود ہیں جو درج ذیل ہیں:

امام حسین(ع) کے باوفا اصحاب کے قبور

اصل مضمون: گنج شہداء

امام حسین(ع) کے اکثر با وفا اصحاب جو عاشورا کے دن کربلا میں شہید ہوئے وہ امام حسین(ع) کی ضریح مبارک کے ساتھ مدفون ہیں؛ لیکن امام کے بعض اصحاب مختلف دلائل کی بنا پر دوسرے مقامات پر مدفون ہیں:

ان کے قبیلے والوں نے ان کا جنازہ میدان جنگ سے اٹھا کر کربلا کے مغرب میں 9 کلومیٹر کے فاصلے پر کسی گاؤں میں سپرد خاک کیا۔ یہ گاؤں آج کل آپ کی قبر مبارک کی وجہ سے آپ کے نام کے ساتھ منسوب ہوا ہے۔ ان کی ضریح سنہ  ۳۷۰ ق میں عضدالدولہ دیلمی کے حکم سے پہلی مرتبہ بنائی گئی  جبکہ سنہ ۹۱۴ ق میں شاہ اسماعیل صفوی نے ان کی قبر مطہر کی زیارت کے بعد اس کی تعمیر نو کا حکم صادر کیا۔[21]

موجودہ کربلا - بغداد، شاہراہ کے کنارے پر ایک شان و شوکت والا مزار ہے جو عون بن عبداللہ کا مزار ہے۔ ایک قول کی بنا پر آپ عون بن عبداللہ بن جعفر طیار فرزند زینب کبری(س) ہیں جو روز عاشورا امام حسین(ع) کے ساتھ شہید ہوئے۔ لیکن ایک دوسری روایت کے مطابق یہ مزار عون بن عبد اللّٰہ، امام حسن مجتبی(ع) کے ایک پوتے کا مزار ہے۔ یہ آخری قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت زینب(س) کے فرزند عون کے نیز دوسرے شہداء کے ساتھ گنج شہداء میں دفن ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔[حوالہ درکار]

موجودہ کربلا - بغداد، شاہراہ کے کنارے کربلا سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مسیب نامی شہر کے مضافات میں طفلان مسلم (سفیر حسین(ع) حضرت مسلم بن عقیل) کے بیٹوں کا مزار ہے۔ [حوالہ درکار]

سادات اور علماء

اس سرزمین کے تقدس اور اہمیت کی وجہ سے قدیم الایام سے ہزاروں علماء اور سادات کرام حرم حسینی کے اندر اور باہر مدفون ہیں جن میں سے بعض کی مشخص اور معین قبریں بھی موجود ہیں۔ سادات کرام میں امام موسی کاظم(ع) کی اولاد میں سے "محمد بن نبی"، "اخرس بن کاظم(ع)" اور "سید احمد ابو ہاشم" کا نام لیا جا سکتا ہے۔ جبکہ علماء میں سید مرتضی، سید رضی، ابن فہد حلی، شیخ یوسف بحرانی، وحید بہبہانی سید کاظم رشتی، شریف العلماء اور علامہ محمد تقی شیرازی کا نام نمایاں طور پر لیا جا سکتا ہے۔[حوالہ درکار]

مدفون بادشاہ اور سیاسی شخصیات

آل بویہ کے بادشاہ

آل بویہ کے بادشاہ حرم امام حسین(ع) کے صحن میں مدفون ہیں۔ پرانے زمانے میں ان کی قبر کے اوپر گنبد سا بنا ہوا تھا جسے سنہ ۱۲۶۸ ق میں ہٹا دیا گیا۔ [حوالہ درکار]

عہد قاجار کے بادشاہ اور سیاسی شخصیات

وہ عہد قاجار کے فرمانرواوں میں سے ہے جس نے سنہ  ۱۳۲۴ ق میں مشروطیت کا حکم نامہ صادر کیا اور اسی سال دنیا سے چل بسا۔ ان کی اپنی وصیت کے مطابق انہیں کربلا میں سپرد خاک کیا گیا اور ان کی قبر پادشاہوں کے مقبرے میں موجود ہے۔

محمد علی شاہ فرزند مظفر الدین شاہ اپنے والد کے برخلاف مشروطہ کا مخالف تھا جس نے پارلیمنٹ کو توپ خانے سے اڑا دیا۔ اس نے سنہ۱۳۴۱ ق میں وفات پائی اور اپنے باپ کے ساتھ پادشاہوں کی مقبرے میں مدفون ہیں۔

احمد شاہ فرزند محمد علی شاہ جو عہد قاجار کا آخری پادشاہ تھا۔ ان کے دور حکومت میں سنہ1299 ہجری میں رضاخان نے بغاوت کی۔ احمد شاہ سنہ1348 قمری کو اس دنیا سے چل بسا اور اپنے والد کی قبر کے ساتھ مدفون ہے۔

میرزا تقی خان جو امیر کبیر کے نام سے مشہور تھا، ناصرالدین شاہ کے صدر اعظم تھے اور خود انہی کے حکم سے سنہ  ۱۲۹۸ ق میں کاشان کے حمام فین میں قتل کیا گیا اور انہیں بھی کربلا میں بادشاہوں کے مقبرے میں دفن کیا گیا۔

  • معیر الممالک

دوست علی خان معیر الممالک، عصر ناصری کے خزانہ داری اور ٹکسال کے انچارج تھے یہ بھی اسی مقبرے میں دفن ہیں۔ ان کی قبر ایک چھوٹے سے کمرے میں شیشہ کاری کی گئی ہے۔

  • حاجی میرزا آغاسی

عصر محمد شاہ قاجار کے وزیروں میں سے تھا انہیں بھی مذکورہ مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

  • ظل السلطان

 ظل السلطان فرزند ناصرالدین شاہ عصر ناصری اور مظفری میں اصفہان کا حاکم تھا۔ ان کی قبر بھی مذکورہ مقبرے میں ہیں۔

خاندان قاجار کے علاوہ ہندوستان سے بھی کئی بادشاہ حرم حسینی میں مدفون ہیں جن میں سے اہم ترین: زاہد الدین شاہ،"سلطان برہان نظام شاہ" سلطان احمد ہندی کے فرزند ہیں۔[حوالہ درکار]

تاریخی آثار

کربلا ایک ایسا شہر ہے جو تاریخی اور ثقافتی حوالے سے قدیم الایام سے ہی روشن اور درخشان تاریخی آثار کا حامل ہے۔ آج کل اگرچہ بہت سارے تاریخی آثار محو ہو چکے ہیں لیکن وہی موجودہ تاریخ آثار بھی اس کے روشن ماضی پر واضح دلیل ہے۔

قلعے اور محلیں

  • قلعہ اخیضر

یہ قلعہ اسی نام کے ایک علاقے میں کربلا کے مغرب میں 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر زمانہ قدیم میں ہوئی ہے اور اس کے بنانے والوں کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ قلعے کے اندر ایک مسجد ہے اور قلعے کے اردگرد بڑی بڑی دیواریں بنائی گئی ہیں۔

  • قلعہ ہندی

آقا محمد خان قاجار نے شہر کربلا کی حفاظت کی خاطر ایک مضبوط اور مستحکم قلعہ تعمیر کرایا۔ یہ قلعہ شہر سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے آقا محمد خان کے مرنے کے بعد نیمہ کارہ باقی پڑا رہا اور سید علی طباطبائی اس کا خرجہ ہندوستان سے لایا اور آصف الدولہ ہندی نے تیرہویں صدی کی ابتداء میں اس پر کمرے اور مکانات تعمیر کیا تاکہ کربلا میں آنے والے زائرین وہاں رات کو ٹہر سکیں اسی وجہ سے یہ قلعہ "ہندی قلعہ" کے نام سے معروف ہوا ہے۔ اس کی مساحت تقریبا 3000 مربع میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس قلعے نے کئی بار کربلا کے زائرین کو ڈاکووں اور راہزنوں کے ہاتھوں سے چھڑایا ہے۔

  • قصر عطشان

اس محل کی تعمیر عباسی دور حکومت میں ہوئی اور کربلا کے جنوب مغرب میں 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آجکل اس کی دیواروں اور کمروں کے کچھ حصے باقی ہیں جو بہت ہی مضبوط قسم کے اینٹوں سے بنائی گئی ہے۔ یہ دیواریں اور کمرے اسلحہ خانہ اور زائرین کیلئے پناہ گاہ کے طور پر بنائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ ابن مقاتل جیسے محل اور کربلا کی دیواریں چودہویں صدی ہجری قمری تک موجود تھے جو آج کل تخریب ہو چکی ہیں۔ [حوالہ درکار]

مقامات

حرم امام حسین علیہ السلام کے کنارے جعفریات نامی سرزمین میں ایک گنبد اور زیارت گاہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام صادق(ع) جب امام حسین(ع) کی زیارت کا قصد کرتے تھے تو اسی مقام پر نہر فرات میں غسل زیارت انجام دیتے تھے۔ یہ منطقہ نہر علقمہ کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور اس کا گنبد کاشی کاری کے ساتھ مزین ہے۔

نہر علقمہ کے بائیں طرف آج کل ایک حسینیہ بنا ہوا ہے جو کربلا اور مقام امام صادق(ع) میں وارد ہونے کا دروازہ ہے یہاں پر بھی ایک گنبد بنایا گیا ہے۔ یہ گنبد مقام امام زمانہ(عج) ہے۔

تیرہویں صدی ہجری(۱۲۱۷ق) کی ابتداء میں ابو طالب خان، مشہور سیاح، خیمہ گاہ یا مقام امام زین العابدین(ع) کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس پر آصف الدولہ کی زوجہ نے ایک عمارت بنوائی تھی۔ یہ مقام آج کل امام حسین علیہ السلام ہاسپیٹل کی جگہ پر تھا اور بعض اسی کو خیمہ گاہ کی اصلی جگہ قرار دیتے ہیں۔[حوالہ درکار]

کربلا کی مساجد

کربلا میں تقریبا 100 سے زیادہ مساجد ہیں جن میں سے مشہورترین مساجد یہ ہیں: مسجد رأس الحسین(ع)، مسجد عمران بن شاہین، مسجد شہید ثانی، مسجد سردار حسن خان، مسجد ناصری، مسجد شہرستانی، مسجد حمیدیہ، مسجد سید علی نقی طباطبائی، مسجد کبیس، مسجد شیخ یوسف بحرانی، مسجد شیخ خلف، مسجد اردبیلی‌ہا، مسجد حاج نصر اللہ، مسجد خیمہ گاہ.[حوالہ درکار]

امام بارگاہیں

اس بات کے پیش نظر کہ کربلا ایک زیارتی شہر ہے اور ہر سال لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف ممالک سے مولا ابا عبداللہ الحسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کی زیارت کیلئے تشریف لاتے ہیں، اس بنا پر مختلف شہر اور ممالک کے لوگوں نے یہاں پر امام بارہگاہیں اور حسینیہ جات تعمیر کئے ہیں جنکی تعداد سو سے بھی زیادہ ہیں جن میں سے مشہور امام بارگاہیں یا حسینیہ جات یہ ہیں: حسینیہ تہرانیہا، اصفہانیہا، مازندرانیہا، قمیہا وآذربایجانیہا اس کے علاوہ دسیوں دیگر حسینیہ جات تھے جن میں سے اکثر ان آخری چند سالوں کے دوران خراب ہو چکے ہیں۔ [حوالہ درکار]

دینی مدارسے

حوزہ علمیہ کربلا شیعہ قدیمی حوزات میں سے ہے اور اہمیت کے اعتبار سے نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔ کربلا کے اہم ترین مدارس درج ذیل ہیں:

  • مدرسہ سردار حسن خان(۱۱۸۰ق)

شریف العلماء مازندرانی اور سید جمال الدین اسد آبادی نے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہیں اس مدرسہ کو سنہ۱۹۹۱ عیسوی میں بعث پارٹی نے خراب کردیا ہے۔

  • مدرسہ سید مجاہد(۱۲۷۰ق)

یہ مدرسہ سنہ ۱۹۸۰ عیسوی میں اطراف حرم میں توسعہ کے بہانے بعثی حکومت کے ہاتھوں خراب ہوا ہے۔

  • مدرسہ صدر اعظم نوری(۱۲۶۸ق)

شیخ عبدالحسین تہرانی نے اس مدرسے کو امیر کبیر کے اموال کے تیسرے حصے سے بنایا یہ مدرسہ بھی سنہ ۱۳۶۸ق میں تخریب ہوا۔

  • مدرسہ زینبیہ(۱۲۷۶ق)

یہ مدرسہ ناصر الدین شاہ قاجار کے حکم سے عبدالحسین تہرانی کے ہاتھوں تعمیر اور سنہ۱۳۶۸ق کو تخریب ہوا۔

  • مدرسہ ہندیہ کبری
  • مدرسہ بادکوبہ(ترک)(۱۲۷۰ق)

اس مدرسے کو حاج بادکوبی نے تأسیس کیا اور اس میں ایک بڑی لائبریری بھی تھی۔ یہ مدرسہ بھی سنہ ۱۹۸۰ عیسوی میں تخریب ہوا۔

  • مدرسہ بقعہ(۱۲۸۹ق)

یہ مدرسہ بھی سنہ ۱۹۸۰ عیسوی میں تخریب ہوا۔

  • مدرسہ سلیمیہ(۱۲۵۰ق)

یہ مدرسہ سالوں سال درس و تدریس کیلئے آمادہ تھا لیکن سنہ ۱۹۹۱ عیسوی کو بعثی حکومت نے اسے اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ مہدیہ(۱۲۸۴ق)

اس مدرسہ کے اکثر طلاب غیر عراقی تھے اور سنہ ۱۹۹۱ عیسوی میں اسے بھی بعثی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ میرزا کریم شیرازی(۱۲۸۷ق)

بعثی حکومت نے سنہ ۱۹۷۴ عیسوی میں اس مدرسے کے معلم "شیخ عبدالزہراء کعبی" کو گرفتار کرنے کے بعد اس مدرسے کو بھی اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ ہندیہ صغری(۱۳۰۰ق)

ہندوستان اور افغانستان کے طلاب اس مدرسے میں پڑھتے تھے۔

یہ مدرسہ ابن فہد حلی کے مزار کے ساتھ تعمیر ہوا ہے اور اب تک دو دفعہ اس کی تعمیر و توسعہ ہوئی ہے۔ یہ مدرسہ اب بھی چل کر رہا ہے اور اس کی تعلیمی پروگرام اس سائٹ [1] پر قابل مشاہدہ ہے۔

  • مدرسہ بروجردی(۱۳۸۰ق)

یہ مدرسہ آیت اللہ بروجردی کے حکم سے تعمیر ہوا۔ لیکن بعثی حکومت نے سنہ ۱۹۷۵ عیسوی میں اسے اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ شریف العلماء

اس مدرسے کو بعثی حکومت نے سنہ ۱۹۸۳ عیسوی میں اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ امام باقر(۱۳۸۱ق)

اس مدرسے کو بعثی حکومت نے سنہ 1975 عیسوی میں اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ حسنیہ(۱۳۸۸ق)

یہ مدرسہ سنہ ۱۴۱۱ق میں بعثی حکومت کے ہاتھوں تخریب ہوا۔

  • مدرسہ مازندرانی

شیخ محمد مہدی مازندرانی متوفی سال ۱۳۸۴ق، نے اس مدرسے کو تاسیس کیا۔ لیکن اس مدرسے کو بعثی حکومت نے سنہ۱۳۸۰ق میں اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ خوئی(۱۳۹۵ق)

آیت اللہ خوئی نے اس مدرسے کو تأسیس کیا۔ اس مدرسے کو بعثی حکومت نے سنہ۱۴۱۳ق میں اپنے اختیار میں لے لیا۔

  • مدرسہ خطیب(۱۳۷۵ق)

ان مدارس کے علاوہ بعض دیگر مدارس جیسے: مدرسہ احمدیہ، مدرسہ الکتاب و العترہ، مدرسہ پاکستانیہ، مدرسہ جعفریہ، مدرسہ فیصلیہ و مدرسہ رضویہ بھی کربلا میں موجود تھے۔ [22]

لائبریریاں

کربلا کی لائبریریاں

عمومی لائبریری

کربلا کی عمومی لائبریریاں یہ ہیں: جعفریہ لائبریری، سید الشہدا (ع) لائبریری، مرکزی عمومی لائبریری، ابو الفضل العباس (ع) لائبریری، روضہ حسینیہ لائبریری، سید علی اکبر حائری لائبریری، مولی عبد الحمید فراہانی لائبریری، رسول اعظم (ص) لائبریری، نہضت اسلامی لائبریری، حضرت زینب کبری (س) لائبریری اور قرآن کریم لائبریری۔

خصوصی لائبریریاں

کربلا کی خصوصی لائبریریاں یہ ہیں: حرم مطہر امام حسین (ع) لائبریری، سید نصر اللہ حائری لائبریری، شیخ عبد الحسین تہرانی لائبریری، سید عبد الحسین کلیدار آل طعمہ لائبریری، سید حسین قزوینی لائبریری، سید محمد باقر حجہ طباطبائی لائبریری، شیخ احمد بن زین الدین حائری لائبریری، شیخ محسن ابو الحب لائبریری، شیخ محمد بن داود خطیب لائبریری، سید مہدی حکیم شہرستانی لائبریری اور سید محسن جلالی کشمیری لائبریری۔

تعلیمی مراکز

  1. کربلا یونیورسٹی [23]
  2. اہل البیت یونیورسٹی [24]
  3. الحسین انجینیرنگ یونیورسٹی۔

فوٹو گیلری

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. کتاب العین، ج۵، ص۴۳۱
  2. موسوعۃ العتبات المقدسۃ، ج ۸ ، قسم کربلا، ص ۹
  3. مدینۃ الحسین(ع)، ص ۱ 
  4. مدینۃ الحسین(ع)، ص ۱
  5. نہضۃ الحسین(ع)، ص ۶۶ 
  6. نہضۃ الحسین(ع)، ص ۶۶
  7. الاغانی، ج۱۲، ص۳۰۹
  8. کامل الزیارات، ص۲۷۱؛ الباب التاسع و الثمانون فضل الحائر و حرمتہ
  9. الاستبصار فیما اختلف من الأخبار، ج‌۲، ص۳۳۴؛ بَابُ أَنَّهُ یسْتَحَبُّ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ فِی حَرَمِ الْکوفَةِ وَ الْحَائِرِ عَلَی سَاکنِیهِمَا السَّلَامُ وَ الصَّلَاةُ‌
  10. آل طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص۲۵
  11. ابن طاووس، اللہوف علی القتلی الطفوف، ص۵۳.
  12. لسان العرب، ج‌۹، ص۲۲۱
  13. معجم البلدان، ج۴، ص۱۸۳
  14. کتاب العین، ج‌۱، ص۱۵۱
  15. معجم البلدان، ج۴، ص۱۳۶
  16. البدایۃ والنہایۃ،ج۱۰، ص۳۱۵
  17. دایره المعارف تشیع، ج۱، ص۷۵
  18. ابن جوزی، المنتظم، ج۷، ص۲۸۳
  19. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۱۰، ص۱۷۷
  20. صفویہ در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست، ج۲، ص۷۵۸
  21. دایرۃ المعارف تشیع، ج۱، ص۷۳.
  22. عمارۃ کربلاء؛ دراسہ عمرانیۃ و تخطیطیۃ، ص۱۹۱-۱۹۹.
  23. جامعہ کربلاء
  24. جامعہ اہل البیت

مآخذ

  • طوسی، ابو جعفر، محمد بن حسن‌، الاستبصار فیما اختلف من الاخبار. تہران:‌دار الکتب الإسلامیۃ‌، ۱۳۹۰ ق.
  • اصفہانی، ابوالفرج، الاغانی. بیروت:‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۵ق.
  • الدمشقی، ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ. بیروت:‌دار الفکر، ۱۴۰۷ ق.
  • فراہیدی، خلیل بن احمد‌، العین. قم: نشر ہجرت، ۱۴۱۰ ق.
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ. بیروت:‌دار صادر-‌دار بیروت، ۱۳۸۵ ق.
  • ابن طاووس٬ علی بن موسی،اللہوف علی قتلی الطفوف. مشہد: سازمان کتابخانہ ہا، موزہ‌ہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰متن کتاب
  • المنتظم
  • آل طعمہ، سلمان ہادی، تاریخ مرقد الحسین و العباس. بیروت:بی جا،۱۴۱۶ ق.
  • آل طعمہ، سلمان‌ہادی، تراث کربلاء. بیروت: موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ ق.
  • صدر حاج سیدجوادی، احمد، دایرۃ المعارف تشیع. تہران: موسسہ تحقیقات و نشر معارف اہل البیت(ع)، ۱۳۷۵.
  • ادیب الملک مقدم مراغہ‌ای، عبدالعلی، سفرنامہ ادیب الملک بہ عتبات. تہران:دادجو، ۱۳۶۴ ش.
  • جعفریان، رسول، صفویہ در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست. تہران: پژوہشکدہ حوزہ و دانشگاہ، ۱۳۷۹ ش.
  • الانصاری،رئوف محمد جمیل، عمارۃ کربلاء؛دراسہ عمرانیۃ و تخطیطیۃ. دمشق : مؤسسۃ الصالحانی، ۲۰۰۵م.
  • قمّی، ابن قولویہ، ابو القاسم، جعفر بن محمد‌، کامل الزیارات. نجف اشرف:‌دار المرتضویۃ، ۱۳۹۸ق.
  • ابن منظور، ابو الفضل، جمال الدین، محمد بن مکرم‌، لسان العرب. بیروت:‌دار الفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع-‌دار صادر‌، ۱۴۱۴ق.
  • حمودی، یاقوت، معجم البلدان. بیروت:‌دار صادر، ۱۹۹۵م.
  • خلیلی، جعفر، موسوعۃ العتبات المقدسۃ. بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌تا.متن کتاب
  • نہضۃ الحسین