علی بن جعفر کاشف الغطاء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
علی بن جعفر کاشف الغظاء
ذاتی معلومات
مکمل نام علی بن جعفر کاشف الغطاء مالکی نجفی
تاریخ وفات ۱۲۵۳ ھ
مدفن نجف
نامور اقرباء والد: شیخ جعفر کاشف الغطاء، بھائی: حسن بن جعفر کاشف الغطاء
علمی معلومات
اساتذہ شیخ جعفر کاشف الغطاء
شاگرد شیخ انصاری • سید ابراہیم قزوینی • شیخ جعفر شوشتری
تالیفات الخیارات • النّور السّاطع فی الفقہ النّافع • الرّسالہ الصّومیہ • البیع • حاشیہ بر بغیه الطّالب
سیاسی-سماجی فعالیت
سماجی اہل بیت کی مدح و مرثیہ میں اشعار • تدریس فقہ • مرجع تقلید • حسن بن جعفر کاشف الغطاء کو حلہ بھیجنا۔

علی بن جعفر کاشف الغطاء مالکی نجفی، (۱۱۹۷۔۱۲۵۳ ھ) تیرہویں صدی ہجری کے شیعہ فقہاء میں سے ہیں۔ جنہیں ان کے بھائی موسی بن جعفر کاشف الغطاء کی رحلت کے بعد شیعہ مرجعیت کی ذمہ داری عطا ہوئی۔

انہوں نے اپنے والد شیخ جعفر کاشف الغطاء کے پاس تعلیم حاصل کی۔ بہت سے علماء جن میں شیخ انصاری بھی شامل ہیں، کربلا میں ان کے فقہ کے درس میں شرکت کرتے تھے۔ نجف میں ان کے فقہ تدریس کرنے کا سلسلہ سبب بنا کہ شریف العلماء کے بعض ایرانی شاگرد کربلا سے نجف ہجرت کریں۔ علی بن جعفر کاشف الغطاء نے ہمارے درمیان فقہ و اصول کی تصنیفات اپنی یادگار چھوڑیں ہیں اور اسی طرح سے اہل بیت (ع) کی مدح و رثاء میں کہے گئے ان کے اشعار محفوظ ہیں۔

خاندان

آل کاشف الغطاء، تیرہویں و چودہویں صدی ہجری کے شیعہ علمی خاندان میں سے ہے جو اطراف حلہ اور اس کے بعد نجف میں مقیم تھا۔ جس کا سلسلہ نسب مالک اشتر سے ملتا ہے۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء اس خاندان کے مشہور ترین عالم ہیں۔ اخباریت سے مقابلہ اور شیخ وحید بہبہانی کے اصولی افکار و نظریات کی ترویج اس خاندان کے علماء کے امتیازات میں سے تھی۔

ان کے والد

کاشف الغطاء کے لقب سے مشہور جعفر بن خضر بن یحیی جناجی حلّی نجفی (۱۱۵۶-۱۲۲۷ق)، شیخ علی بن جعفر کاشف الغطاء کے والد ہیں۔ آل کاشف الغظاء، شیخ جعفر کاشف الغطاء سے منسوب ہیں۔ وہ کتاب کشف الغطاء کے مصنف اور تیرہویں صدی ہجری میں شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء پہلے شیعہ عالم ہیں جنہوں نے وہابیت کے رد میں کتاب لکھی۔[1] اسی طرح سے وہ اخباریت سے مقابلہ میں سر گرم رہے۔[2]

شیخ جعفر کاشف الغطاء کو بعض منابع میں مالکی بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ عنوان عرب قبایل میں سے ایک آل مالک اور عراق کے سواد قریہ کے حزب سے ان کی وابستگی کی حکایت کرتا ہے۔[3]

اولاد

محمد،[4] مہدی اور جعفر ان کے بیٹے ہیں۔ مہدی اور جعفر، سید جعفر بن مہدی قزوینی کہ جو ان کے بھانجے تھے، کے فقہ کے استاد ہیں۔[5]

مرجعیت

موسی بن جعفر کاشف الغطاء کے بعد ان کے بھائی شیخ علی بن جعفر اور صاحب جواہر کے درمیان مرجعیت میں شبہہ پیدا ہو گیا۔ عوام نے خضر بن شلال عفکاوی نجفی سے ان دونوں میں سے ایک کی اعلمیت کے سلسلہ میں رجوع کیا تو ابن شلال نے شیخ علی بن جعفر کو صاحب جواہر پر ترجیح دی۔[6] نقل ہوا ہے کہ اس کے بعد سے صاحب جواہر نے اپنی فعالیت کو تدریس تک محدود کر دیا۔[7] شیخ علی فتوی دینے میں احتیاط سے کام لیتے تھے۔[8]

ان کی مرجعیت کے دوران حلہ کی عوام نے ان سے اپنے یہاں ایک جامع عالم بھیجنے کی درخواست کی تو انہوں نے وہاں اپنے بھائی شیخ حسن کو بھیجا جو شیخ علی کے انتقال تک حلہ میں ہی رہے۔[9]

سید محسن امین عاملی نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ[10] اور حرز الدین معارف الرجال[11] میں نے مختلف الفاظ میں ان کی مدح کی ہے۔ حسین بن محمد بن مبارک نجفی جزائری، نے ان کے اور ان کے بیٹے محمد کی مدح میں ایک قصیدہ نظم کیا ہے۔[12]

اساتذہ و تلامذہ

شیخ علی کاشف الغطاء نے فقہ اور تمام علوم نقلی و عقلی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔[13] وہ اپنے والد کی سفر میں ان کے ہمراہ رہتے تھے۔ وہ سال میں ۳ یا ۴ ماہ کربلا میں قیام کرتے تھے اور کربلا کے حوزہ علمیہ میں تدریس فرماتے تھے۔[14] محمد حرز الدین کے قول کے مطابق، تقریبا ایک ہزار افراد ان کے درس میں شریک ہوتے تھے۔[15] جن میں سے بہت افراد ایرانی اور شریف العلماء کے شاگردوں میں سے تھے۔[16] ان کے درس میں حاضر ہونے والے ان کے بعض شاگردوں کا تذکرہ یہاں ہر کیا جا رہا ہے:

  • سید ابراہیم قزوینی
  • شیخ مرتضی انصاری (۱۲۸۱ق)[17]
  • علی بن عبدالله حرزالدین
  • میر فتاح، صاحب العناوین
  • شیخ راضی (۱۲۹۰ق)
  • سید مهدی قزوینی (۱۳۰۰ق)
  • شیخ مشکور حولاوی
  • زین العابدین گلپایگانی
  • سید حسین کوه کمره ای
  • احمد بن عبدالله جیلی
  • حسین بن احمد نصار
  • ملا علی تہرانی
  • عیسی بن زاہد
  • شیخ طالب بلاغی
  • شیخ جعفر شوشتری (۱۳۰۳ق)[18]
  • محمد تقی گلپایگانی(تقریبا ۱۲۱۸- ۱۲۹۸ق)[19]
  • موسی بن حسن بن احمد فلاحی[20]
  • عبد الله آل نعمہ[21]
  • محمد حسین آل یس[22]

نجف میں ان کے فقہ کے درس کی تدریس شروع کرنے کے ساتھ ہی شریف العلماء کے بہت سے ایرانی شاگرد کربلا سے نجف چلے گئے اور نجف ایرانی اہل علم حضرات کے لئے مرکز بن گیا۔ سید حسن امین عاملی کے بقول اس کے پہلے تک نجف میں کوئی بھی ایرانی طالب علم نہیں تھا۔[23]

آثار و تصنیفات

  • الخیارات، جزءِ اوّل، تہران، ۱۳۱۹ق۔[24]
  • النّور السّاطع فی الفقہ النّافع، ۲ جلد، نجف، ۱۳۸۴ق۔
  • الرّسالة الصّومیة؛ جس کا خطی نسخہ آقا بزرگ تہرانی کے بقول نجف میں مدرسہ بروجردی کے کتب خانہ میں موجود ہے۔[25]
  • البیع؛ جو شرح لمعہ کی کتاب البیع کی شرح ہے۔
  • بغیة الطّالب؛ جو ان کے والد کی توضیح المسائل ہے اس پر حاشیہ۔[26]
  • مسائل اصولی: حجّیت ظن، قطع، برائت و احتیاط پر ان کی کتاب۔[27]
  • کاشف الغطاء نے امام علی (ع) کی شان میں قصیدہ اور امام حسین (ع) کے سوگ میں مرثیہ کہا ہے۔ سید محسن امین عاملی نے اعیان الشیعہ میں اہل بیت (ع) کی مدح میں ان کے قصائد ذکر کئے ہیں۔[28] جن میں بعض درج ذیل ہیں:
background-image: -moz-linear-gradient(top, #E6F2FF, #FAFCFF); background-image: -ms-linear-gradient(top, #E6F2FF, #FAFCFF); background-image: -o-linear-gradient(top, #E6F2FF, #FAFCFF); background-image: -webkit-linear-gradient(top, #E6F2FF, #FAFCFF); background-image: linear-gradient(top, #E6F2FF, #FAFCFF); ; float:center; padding:0.2em; z-index:-1;"
مررت بکربلاء فهاج وجدی مصارع فتیة غر کرام
حماة لا یضام لهم نزیل أماجد برئوا من کل ذام
اسائل ربعها عن ساکنیه ولاة العز و الرتب السوامی
و مثل لی الحسین بها غریبا عنائی للغریب المستضام
تکاد النفس ان ذکرته یوما تفر من الحیاة إلی الحمام
یحامی عن حقیقته وحیدا بنفسی ذلک البطل المحامی۔[29]

وفات

شیخ علی کاشف الغطاء نے سن ۱۲۵۳ ھ میں روضہ امام حسین (ع) نے وفات پائی۔ ان کے جنازہ کو نجف میں منتقل کرنے کے بعد والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ بعد میں ان کے ۵ بیٹوں کو جن کے نام یہ ہیں: مہدی، محمد، حبیب، جعفر و عباس، ان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔[30]

حوالہ جات

  1. آقا بزرگ تہرانی، طبقات علماء الشیعہ، ص ۲۵۱
  2. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج ۷، ص ۳۷
  3. امین، اعیان‌ الشیعہ، ج ۸، ص ۱۷۷
  4. سبحانی، موسوعة طبقات‌ الفقهاء، ج ۱۳، ص ۷۱۷
  5. حسینی، جلالی، فہرس‌ التراث، ج ۲، ص ۱۷۷
  6. حرز الدین، معارف‌ الرجال، ج ۲، ص ۹۵
  7. امین، اعیان‌ الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷
  8. امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷
  9. حرز الدین، معارف‌ الرجال، ج ۲، ص ۹۵
  10. امین، اعیان‌ الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷
  11. حرز الدین، معارف‌ الرجال، ج ۲، ص۹۴،۹۵
  12. موسوعة طبقات‌ الفقہاء، ج ۱۳، ص ۷۱۷
  13. حرز الدین، معارف الرجال، ج ۲، ص ۹۴
  14. امین، اعیان‌ الشیعہ، ج ۸، ص ۱۷۷، ۱۷۸
  15. حرز الدین، معارف الرجال، ج ۲، ص ۹۴
  16. امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ص ۱۷۸
  17. سبحانی، موسوعة طبقات‌ الفقهاء، ج ۱۳، ص ۶۵۵
  18. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۷۷؛ حرز الدین، معارف الرجال، ج۲، ص۹۴
  19. سبحانی، موسوعة طبقات‌ الفقہاء، ج۱۳، ص۵۵۲
  20. سبحانی، موسوعة طبقات‌ الفقہاء، ج ۱۳، ص ۶۶۹
  21. سبحانی، موسوعة طبقات‌ الفقہاء، ج‌ ۱۴، قسم‌ ۱، ص ۳۷۹
  22. سبحانی، موسوعة طبقات الفقہاء، ج‌۱۴، قسم‌۲، ص۶۷۶
  23. امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۸
  24. حرز الدین، معارف الرجال، ج ۲، ص ۹۴؛ امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷
  25. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج ۱۱، ص ۲۰۶
  26. امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷
  27. حرز الدین، معارف الرجال، ج ۲، ص ۹۴ و ۹۵
  28. امین، اعیان الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۸-۱۷۹
  29. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۷۸
  30. حرز الدین، معارف الرجال، ج ۲، ص ۹۵؛ امین، اعیان‌ الشیعہ، ج ۸، ج ۱۷۷


مآخذ

  • سبحانی، جعفر، موسوعة طبقات الفقہاء، مؤسسہ امام صادق، قم، ۱۴۱۸ق
  • حسینی جلالی، سید محمد حسین، فہرس التراث، انتشارات دلیل ما، قم، ۱۳۸۰ش/۱۴۲۲ ق
  • حرز الدین، محمد، معارف الرجال فی التراجم العلماء و الادباء، تعلیق: محمد حسین حرز الدین، منشورات مکتبہ آیت الله العظمی المرعشی النجفی، قم، ۱۴۰۵ق
  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء
  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلی تصانیف الشیعہ، اسماعیلیان قم و کتابخانہ اسلامیہ تہران، ۱۴۰۸ق