امام حسن مجتبی علیہ السلام

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Basmala.svg
امام حسن مجتبی علیہ السلام
بقیع.JPG
منصب شیعوں کے دوسرے امام
نام امام حسن مجتبی علیہ السلام
کنیت ابو محمد
القاب سید، تقی، طیب، زکی، سبط
ولادت 15 رمضان، سال 3 ہجری۔
مولد مدینہ
مسکن مدینہ، کوفہ
والد امام علی
والدہ حضرت فاطمہ
اولاد زید، ام الحسن، ام الحسین، حسن، عمرو، قاسم، عبداللہ، عبدالرحمن، حسین، طلحہ، فاطمہ، ام عبداللہ، ام سلمہ، رقیہ
مدفن بقیع، مدینہ
عمر 48 سال
ائمہ معصومین(ع)

امام علی • امام حسن • امام حسین • امام سجاد • امام باقر • امام صادق • امام موسی (کاظم) • امام رضا  • امام جواد • امام ہادی • امام حسن عسکری • امام مہدی


امام حسن مجتبیؑ شیعوں کے دوسرے امام ،چوتھے معصوم اور اصحاب کسا میں سے ہیں۔ آپ امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔امام حسن مجتبیؑ 37 سال کی عمر میں امامت اور خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور سنہ 41 ہجری کو معاویہ کے ساتھ صلح کی۔ آپ کی حکومت کا دور چھ مہینے اور تین دن تھا۔ صلح کے بعد مدینہ چلے گئے اور 10 سال تک مدینہ میں رہے اور وہیں جام شہادت نوش کیا[1] اور بقیع میں سپرد خاک کئے گئے۔

امامت اور خلافت کی بھاری ذمہ داری کو بخوبی نبھانا، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و ہم بستگی کی فضا قائم کرنے اور انہیں انتشار و افتراق سے بچانے کی خاطر نہایت اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ اس کے لئے آخر کار آپؑ کو معاویہ کے ساتھ صلح کرنی پڑی۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو آپ کی مستحکم شخصیت اور حلم و بردباری کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ آپ کی خلافت اور معاویہ کے ساتھ صلح آپؑ کی زندگی نیز صدراسلام کے اہم ترین واقعات میں سے شمار ہوتی ہے۔ اس دور کو مد نظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے اپنے زمانے میں بھی اتحاد کے اسباب فراہم کئے اور اپنے بعد کے ادوار اور پوری تاریخ ،مسلمانوں اور خاص طور پر شیعوں کے لئے ایک دینی اور اخلاقی نمونہ عمل بنے۔طاقت و اقتدار، جنگ اور امن وغیرہ جیسے مفاہیم پر گہرے اور حیرت انگیز اثرات مرتب کئے۔[2]

تعارف

نسب

حسن بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہاشمی و قرشی امام حسن مجتبیؑ کے نام سے معروف ہیں۔ آپ پیغمبراسلامؐ کے بڑے نواسے اور حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔[3]


ولادت

امام حسنؑ مدینے میں پیدا ہوئے۔[4][5] قول مشہور کے مطابق، آپؑ کی تاریخ ولادت، 15 رمضان سنہ تین ہجری ہے۔[6][7] البتہ بعض مآخذ نے آپؑ کا سال ولادت سنہ دو ہجری بیان کیا ہے۔[8][9][10]

ولادت کے بعد پیامبرؐ نے آپؑ کے کان میں اذان کہی[11][12][13] اور ولادت کے ساتویں دن ایک دنبے کا عقیقہ دیا۔[14][15][16]

تسمیہ

لفظ "حسن" کے معنی صاحب حسن کے ہیں اور یہ نام رسول اللہؐ نے آپؑ کیلئے رکھا[17][18][19] بعض احادیث میں اس نام کا تعین وحی الہی سے منسوب ہے[20][21] بعض اقوال کے مطابق "حسن اور حسین" کے نام ہارونؑ کے بیٹوں "شبر اور شبیر" کے ناموں کے معادل اور ہم معنیٰ ہیں۔[22] قابل ذکر ہے کہ یہ دو نام بہشتی ناموں میں سے ہیں اور اس سے پہلے عربوں میں یہ نام رواج میں نہ تھے۔[23] اہل سنت کے مآخذ میں روایت ہے کہ امیرالمؤمنینؑ نے، رسول اللہؐ کی طرف سے "حسن" کا نام رکھے جانے سے قبل اپنے بیٹے کے لئے "حمزہ"[24] یا حرب[25] کا نام منتخب کیا تھا تاہم آپؑ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ بیٹے کے نامگزاری میں رسول اللہؐ سے سبقت نہیں لیں گے۔[26] اور یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے جبرائیل کو حکم دیا کہ تہنیت اور مبارکباد کے لئے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں اور کہہ دیں کہ "اللہ کا ارشاد ہے اپنے اس بیٹے کا نام "ہارون" کے بیٹے کے نام پر "شبر" رکھیں"، جبرائیل نے پیغام پہنچایا تو رسول اللہؐ نے فرمایا: میری زبان عربی ہے۔ تو جبرائیل نے عرض کیا "اس فرزند کا نام "حسن" رکھیں اور رسول خداؐ نے آپؑ کا نام "حسن" رکھا۔[27]

کنیت

تقریبا تمام تر مآخذ میں امام حسنؑ کی کنیت "ابو محمد" ہے۔[28][29][30] خصیبی نے ابو محمد کے علاوہ "ابوالقاسم" کو بھی آپؑ کی کنیت کے عنوان سے نقل کیا ہے۔[31]

القاب

کتاب القاب الرسول و عترتہ میں حسنین کے مشترکہ القاب، کچھ یوں ہیں:

  • سبط رسول اللہ یا سبط الرسولؐ
  • ریحانۃ نبی اللہؐ؛
  • سید شباب اہل الجنہ؛
  • قرۃ عین البتول؛
  • عالم؛
  • مُلہم الحق؛
  • قائد الخلق۔[32]

ابن ابی الثلج نےالْأَمِیرُ، الْحُجَّهُ، الکَفِیُّ، السِّبطُ اور الْوَلِیّ کو آپ(عج) کے القاب کے طور پر نقل کیا ہے،[33] ابن شہر آشوب اور دوسروں نے سبط اول، امام ثانی، مقتدی ثالث، ذکر رابع، اور مُباہل خامس[34] وغیرہ۔ امام حسن مجتبی کے لئے شیعہ مآخذ میں بہت سے اسماء اور القاب تلاش کئے جاسکتے ہیں۔[35] "مجتبی، زکی، تقی اور کریم اہل بیت"، شیعیان اہل بیت کے ہاں آپؑ کے معروف القاب ہیں۔ ابن طلحہ شافعی "تقی" کو آپؑ کا مشہور ترین اور "سید" کو مقدس ترین لقب قرار دیتے ہیں، اس لئے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: "[36]

نقش

امام حسن مجتبیؑ کی انگشتری کے دو نقش منقول ہیں:

الْعِزَّةُ لِلَّهِ؛[37]۔[38] اور حَسْبِی اللَّهُ۔[39]

ازواج اور اولاد

امام حسنؑ :

عقل کا آغاز لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے اور عقل ہی ہے جس کے ذریعے دنیا اور آخرت، دونوں کو، حاصل کیا جاسکتا ہے اور جن کے پاس عقل کا فقدان ہے وہ دنیا اور آخرت، دونوں [میں بھلائی] سے محروم ہے۔

نہج السعادہ، ج7، ص366۔

ازواج

امام حسنؑ کی شادیوں اور زوجات کی تعداد کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔[40] بعض نے آپؑ کی زوجات کی تعداد 300،[41][42] بعض نے 200،[43] بعض نے 90،[44] اور بعض نے 70 تک[45] بتائی ہے؛ جبکہ امامؑ کی یہ مبالغہ آمیز تعداد معتبر مآخذ میں مذکور آپؑ کی ازواج اور اولاد کے اسماء کے ساتھ کسی طور پر ہمآہنگ اور متناسب نہیں ہے۔[46] بعض کتب نے ان روایات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag خاص طور پر قبول کرنا پڑے گا کہ مآخذ میں دی ہوئی معلومات بہت مبہم اور غیر واضح ہیں اور حتی کہ اس معصوم کی زوجات کا نام ذکر نہيں کیا گیا ہے۔ ان زوجات میں صرف جعدہ بنت [اشعث بن قیس]] کا نام واضح ہے جس نے ـ روایات کے مطابق ـ امامؑ کو زہر دینے کے اسباب فراہم کئے۔ زوجات کے ناموں کے حوالے سے ابہام کے باوجود، منابع و مآخذ میں امامؑ کی اولاد کی تعداد کے سلسلے میں مطابقت پائی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر ان کی ماؤں کا تعین ممکن ہوجاتا ہے؛ منجملہ خولہ بنت منظور بن زّبان فزاری، ام بشیر بنت عقبہ بن عمرو خزرجی، ام اسحق بنت طلحہ بن عبیداللہ تیمی، ابوبکر بن ابی قحافہ کی پوتی حفصہ اور ہند بنت سہیل بن عمرو۔ [47]

مؤرخین نے ائمہؑ کی حیات طیبہ کے بارے میں وسیع ترین تحقیق کے باوجود، 18 خواتین کو آپؑ کی زوجات کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی ہے جن میں سے پانچ کے نام مذکور نہیں ہیں بلکہ صرف ان کے قبائل کے نام مذکور ہیں۔[48] آپؑ کی بعض ازواج کے نام ـ جنہیں اکثر مآخذ نے نقل کیا ہے ـ حسب ذیل ہیں:

اولاد

امام حسنؑ کی اولاد کی تعداد میں اختلاف ہے۔ شیخ مفید کے مطابق آپؑ کے اولاد کی تعداد 15 ہے:

علامہ مجلسی ایک بیٹے ابوبکر کو آپؑ کی اولاد میں گنتے ہیں۔[50]

شیخ طبرسی کے مطابق، آپؑ کی اولاد میں 9 بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں۔[51]

ابن جوزی، ابن ہشام اور واقدی کے نزدیک آپؑ کے اولادوں میں 15 بیٹے اور 8 بیٹیاں شامل ہیں۔[52]

جہاں تک معلوم ہے، آپؑ کی بیٹیوں میں سے ام الحسین عبداللہ بن زبیر کے حبالۂ نکاح میں آئیں، ام عبداللہ امام سجادؑ کی زوجیت میں آئیں اور ام سلمہ عمرو بن منذرین زبیر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔[53]

نسل امام حسن

مفصل مضمون: حسنی سادات

امام حسن مجتبیؑ کے فرزندوں میں سے"حسن مثنی، زید، عمر اور حسین اثرم صاحب اولاد ہوئے۔ حسین اثرم اور عمرو کی اولاد بہت جلد ختم ہوئی اور صرف حسن مثنی اور زید بن حسن کی نسل باقی رہی۔[54]

امام حسنؑ کی اولاد حسنی سادات کے نام سے مشہور ہے۔[55] اس خاندان نے تاریخ میں متعدد سیاسی اور سماجی تحریکوں کی قیادت کی ہے۔ انھوں نے دوسری اور تیسری صدی ہجری میں متعدد تحریکیں چلائیں اور اسلامی دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتیں قائم کی جن میں سے بعض حکومتیں اب تک قائم ہیں۔ سادات کا حسنی سلسلہ بعض ممالک میں "اشراف" کے نام سے مشہور ہے۔ طباطبائی، مدرس، حکیم، شجریان اور گلستانہ نامی خاندان، حسنی سادات کی شاخیں ہیں۔


امامت سے پہلے

بنو امیہ

سلاطین

عنوان


معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
معاویہ بن یزید
مروان بن الحکم
عبدالملک بن مروان
ولید بن عبدالملک
سلیمان بن عبدالملک
عمر بن عبدالعزیز
یزید بن عبدالملک
ہشام بن عبدالملک
ولید بن یزید
ولید بن عبدالملک
ابراہیم بن الولید
مروان بن محمد

مدت سلطنت


41-61
61-64
64-64
64-65
65-86
86-96
96-1176
1176-101
101-105
105-125
125-126
126-126
126-127
127-132

مشہور وزراء اور امراء

مغیرة بن شعبہ ثقفی
زیاد بن ابیہ
عمرو بن عاص
مسلم بن عقبہ مری
عبیداللہ بن زیاد
ضحاک بن قیس
حسان بن مالک کلبی
حجاج بن یوسف ثقفی
مسلمة بن عبدالملک
خالد بن عبداللہ قسری
یوسف بن عمر ثقفی
یزید بن عمر ابن ہبیرہ

ہم عصر شخصیات

علی بن ابی طالب(ع)
حسن بن علی(ع)
حسین بن علی(ع)
علی بن الحسین(ع)
محمد بن علی الباقر(ع)
جعفر بن محمد الصادق(ع)
زید بن علی
مختار بن ابی عبید ثقفی
عبداللہ بن زبیر
مصعب بن زبیر
عبدالرحمن بن اشعث
یزید بن مہلب
خالد بن عبداللہ قسری
عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز
عبداللہ بن معاویہ علوی
ضحاک بن قیس شیبانی
ابوحمزہ مختار بن عوف خارجی
ابومسلم خراسانی
قحطبہ بن شبیب طایی

اہم واقعات

صلح امام حسن
واقعۂ عاشورا
واقعۂ حرہ
زبیریوں کا قیام
قیام مختار
زید بن علی کا قیام
مغیرة بن سعید عجلی کا قیام
مروان بن محمد کا قیام
عبداللہ بن معاویہ علوی کا قیام
ضحاک بن قیس شیبانی کا قیام
ابوحمزہ مختار بن عوف خارجی کا قیام

رسول اللہؐ کے حضور

امام حسن علیہ السلام نے اپنی عمر کے سات سال رسول اللہؐ کے دور میں بسر کئے۔[56][57] امام حسنؑ نے نہ صرف رسول اللہؐ کے حضور کا ادراک کیا بلکہ ہجرت کے دور کے بہت سے واقعات میں بھی آپؐ ہمراہ تھے؛ جیسے واقعۂ مباہلہ۔ آپؑ حدیث کساء اور آیت تطہیر کے مصادیق میں سے ہیں، اور یہ آپؑ کی عصمت کے دلائل میں سے بھی ہے۔ علاوہ ازیں، آپؑ اپنے بھائی حسینؑ کی معیت میں بیعت رضوان میں بھی حاضر تھے۔[58]

شیعہ اور سنی مآخذ میں امام حسن مجتبیؑ کی شان و منزلت میں قابل توجہ روایات پیغمبر اسلامؐ سے وارد ہوئی ہیں۔ براء کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پیغمبرؐ نے حسن بن علیؑ کو اپنے کندھے پر سوار کیا تھا اور اسی حال میں اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرتے ہوئے التجا کررہے تھے:یا رب! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔[59]

ایک حدیث میں مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے حسن اور حسینؑ کو اپنے زانو پر بٹھائے ہوئے بارگاہ رب میں التجا کررہے تھے: اے اللہ! یہ دو میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، خدایا! میں انہیں دوست رکھتا ہوں، پس تو بھی انہیں دوست رکھ اور ان لوگوں کو دوست رکھ جو انہیں دوست رکھتے ہیں۔[60]

پیغمبر اکرمؐ نے حسنینؑ کی شان میں فرمایا: حسن اور حسین جوانان جنت کے دو سردار ہیں۔[61][62] اور میرے یہ دو بیٹے اس دنیا سے میرے دو خوشبودار پھول ہیں۔[63][64]اور حسن اور حسینخطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag امام ہیں خواہ یہ قیام کریں خواہ صلح کریں؛ نیز اگر عقل ایک مرد کے وجود میں مجسم ہوتی تو بے شک وہ مرد حسن کے سوا کوئی نہ ہوتا۔[65]

خلفائے ثلاثہ کا دور

خلفائے ثلاثہ پر امام حسنؑ کے اعتراض کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں؛ بطور مثال سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں نقل کیا ہے کہ بچپنے کے ایام میں ایک دن امام حسنؑ ابوبکر کے منبر رسو پر خطبہ دینے کے دواران آئے تو امام حسنؑ نے گرج کر ابوبکر پر اعتراض کیا اور فرمایا: میرے والد کے منبر سے نیچے اترو۔ ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم! آپ سچ بول رہے ہیں یہ منبر یقینا آپ کے والد کا ہے نہ کہ میرے والد کا۔[66]

ایران کی فتح پر ختم ہونے والی جنگوں میں امام حسن اور امام حسینؑ کی شرکت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سید جعفر مرتضی عاملی جیسے کئی محققین کے مطابق امام حسن اور امام حسینؑ نے ان جنگوں میں شرکت نہيں کی اور جن روایات سے ایران کے ساتھ جنگ میں امام حسنؑ کی شرکت ظاہر ہوتی ہے، ان کی تاریخی بنیاد بہت ضعیف ہے[67]

عمر سے اگلے خلیفہ کی طرف اقتدار کی منتقلی اور اس شوریٰ کی تشکیل ـ جو آخرکار تیسرے خلیفہ کے عنوان سے عثمان کے انتخاب پر ختم ہوئی ـ میں عمر نے امام حسنؑ سے درخواست کی کہ شوری میں بطور شاہد، کردار ادا کریں اور یہ بات اہمیت کے بہت اعلی درجے پر ہے۔ یہ امر ایک طرف سے اہل بیت رسولؐ کے ایک رکن کی حیثیت سے امام حسنؑ کے معاشرتی مرتبت و منزلت کا ثبوت ہے تو دوسری طرف سے مہاجرین اور انصار کے درمیان آپ کی سماجی عظمت و اہمیت اور ذاتی منزلت کی دلیل ہے۔[68][69][70][71]

جب عثمان نے ابوذر کو ربذہ جلاوطن کیا تو حکم دیا کہ کوئی بھی ابوذر کو وداع کرنے نہ جائے اور نہ ہی ان کی ہمراہی کرے، نہ ہی ان کے ساتھ کوئی کلام کرے؛ اور مروان کو ہدایت کی کہ ابوذر کو مدینے سے نکال باہر کرے!۔ جس وقت ابوذر شہر سے باہر جارہے تھے کسی میں ان کے ساتھ چلنے کی جرأت نہ تھی اور صرف علىؑ، آپ کے بھائی عقیل، حسن، حسین‏ؑ اور عمار نے مدینے سے باہر تک ابوذر کی ہمراہی کی اور ان سے وداع کیا۔[72]


خلیفۂ ثالث کے خلاف عوامی جماعتوں کی شورش کے وقت، امام علیؑ نے اپنے نوجوان بیٹوں حسنینؑ کو خلیفہ کی رہائشگاہ بھجوا دیا، البتہ مآخذ میں اس واقعے کی تفصیلات مختلف روشوں سے نقل ہوئی ہیں۔[73][74][75][76][77][78]

حضرت علیؑ کا دور

امام حسن ؑ اور امام حسینؑ نے اپنے والد کے ہمراہ جمل، صفین اور نہروان میں شرکت کی۔[79] امام علی علیہ السلام کے ہاتھ پر لوگوں کی بیعت سے لے کر آپ کی شہادت تک امام حسن مجتبیؑ نے آپ کے طاقتور ترین بازو کا کردار ادا کیا۔ بیعت کے دوران آپ پوری سنجیدگی سے حاضر و فعال تھے. ناکثین، قاسطین اور مارقین کے خلاف (جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان) کی جنگوں میں موجود تھے۔ جنگ جمل سے قبل بھی عمار یاسر اور قیس بن سعد کو ساتھ لے کر کوفہ پہنچے اور ابو موسی اشعری کا فتنہ ناکام بنانے کے بعد عوام کو بصرہ میں ناکثین کے خلاف لڑنے کے لئے آمادہ کیا۔ کبھی کبھی آپ اپنے والد امیرالمؤمنینؑ کی جگہ نماز جمعہ بپا کیاکرتے تھے۔[80]

جنگ جمل

مفصل مضمون:جنگ جمل

جب کوفہ کے والی ابوموسی اشعری نے جنگ جمل بپا کرنے والے باغیوں کی بغاوت کا سد باب کرنے کے سلسلے میں امیرالمؤمنینؑ کے ایلچیوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا، تو امام علیؑ نے بیٹے امام حسنؑ کو ایک خط دے کر عمار یاسر کے ہمراہ کوفہ روانہ کیا۔ امام حسنؑ نے مسجد کوفہ میں عوام سے خطاب کیا اور تقریبا 10000 کوفیوں کو عثمانی (کہلوانے والے) باغیوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا۔[81]

امام حسنؑ نے جنگ جمل سے قبل خطبہ دیا۔[82] اور امیرالمؤمنینؑ نے اس جنگ میں آپ کو اپنی سپاہ کے میمنہ (دائیں بازو) کا کمانڈر قرار دیا۔ [83] مروی ہے کہ اس جنگ میں حضرت علیؑ نے بیٹے محمد بن حنفیہ سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ نیزہ اٹھاؤ اور جمل [یعنی عائشہ کے اونٹ، جس کے سامنے بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے تھے] کی کونچ کاٹ دو۔ محمد آگے بڑھے لیکن تیروں کی شدید بارش کی وجہ سے پسپا ہوئے۔ نیزہ امام حسنؑ نے اٹھایا اور جا کر اونٹ کی کونچیں کاٹ دیں۔[84]

جنگ صفین

مفصل مضمون: جنگ صفین

جنگ صفین میں جب امام علیؑ نے امام حسنؑ کی رزم آرائی کا مشاہدہ کیا تو آپ نے امام حسن اور آپ کے بھائی امام حسین (علیہما السلام) کی جان کا تحفظ کرنے کی خاطر انہیں واپس بلوانے کا حکم دیا۔ امام علیؑ نے فرمایا: "میرے بیٹوں کو جنگ سے باز رکھو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ان کی جانیں خطرے سے دوچار نہ ہوجائیں اور مجھے خدشہ ہے کہ مبادا رسول اللہؐ کی نسل ہی منقطع ہوجائے۔[85]

جنگ میں جب معاویہ نے امام حسنؑ کے معرکہ کا مشاہدہ کیا تو مختلف وعدوں کے ذریعے آپ کو میدان سے نکلنے کی پیشکش کی۔ اسی مقصد سے معاویہ نے دوسرے خلیفہ کے چھوٹے بیٹے عبیداللہ بن عمر کو میدان جنگ میں بھیجا اور اس کے ذریعے امام حسنؑ کو خلافت کا وعدہ دے کر میدان چھوڑنے کی تلقین کی۔ عبیداللہ نے امام حسنؑ کو جنگ میں مصروف پایا لیکن اس کے باوجود قریب آیا اور امام حسنؑ سے کہا: ""، امام حسنؑ نے جنگ ترک کردی اور عبیداللہ کے قریب آئے۔ عبیداللہ نے معاویہ کا پیغام آپ کو پہنچایا تو امام مجتبیؑ نے کھرا سا جواب دیا اور فرمایا: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آج یا کل مارے جاؤگے لیکن شیطان نے یہ کام تمہارے لئے خوبصورت بنایا ہے، اس دن تک جب شام کی عورتیں تیری لاش پر گریہ کریں، بہت جلد خداوند متعال تمہیں منہ کے بل زمین پر گرا دے گا اور تمہاری لاش منہ کے بل ہی زمین پر گھسیٹے گا۔ عبیداللہ اسی حال میں خیمے کی طرف لوٹا تو معاویہ نے اس کا چہرہ دیکھ کر امام حسنؑ کے جواب کا اندازہ لگا لیا اور کہا: "بےشک وہ اسی باپ کا بیٹا ہے[86]

حضرت علیؑ نے حَکَمِیَت کے بعد فتنہ واقع ہونے اور عوام کے درمیان اختلاف پڑنے کا سد باب کرنے کے لئے امام حسنؑ کو بلوایا تاکہ آپؑ دلیل و برہان کے ساتھ خطبہ دے کر حقائق کو عوام کے سامنے رکھیں اور امام حسنؑ نے ایسا ہی کیا۔[87]

نہج البلاغہ میں درج خط نمبر اکتیس امام حسنؑ کے نام امام علیؑ کا معروف اخلاقی وصیت نامہ ہے جو امیرالمؤمنینؑ نے صفین سے واپسی کے وقت حاضرین نامی علاقے میں تحریر فرمایا۔

امامت

امام علیؑ روز جمعہ 21 رمضان المبارک سنہ 40 ہجری کی شام کو ابن ملجم مرادی نامی خارجی کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگئے اور امام حسن مجتبیؑ نے مسلمانوں کی ہدایت و امامت کی ذمہ داری سنبھال لی اور کوفہ کے عوام نے بڑے بڑے گروہوں کی شکل میں حاضر ہوکر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امامؑ نے کارگزار اور والی اور امراء متعین کئے اور عبداللہ بن عباس آپ کے فرمان پر بصرہ کے والی مقرر ہوئے۔ آپؑ 10 سال کے عرصے تک مسلمانوں کے امام تھے۔[88]

دلائل امامت

امام حسنؑ :

تقوی اللہ کی خوشنودی کی انتہا، ہر توبہ کا سر آغاز، ہر حکمت کا راز اور ہر کام کا شرف ہے۔

حرانی، تحف العقول، ص232۔

1۔ رسول اللہؐ سے منقولہ حدیث ابناي هذان امامان قاما او قعدا۔ (میرے یہ دو بیٹے [حسن و حسین]، امام ہیں خواہ قیام کریں خواہ قیام نہ کریں)۔[89] امام حسنؑ اور امام حسینؑ پر دلالت کرتی ہے۔ نیز حدیث ائمۂ اثنا عشر: "هم خلفائي يا جابر وأئمة المسلمين من بعدي أوّلهم علي بن ابي طالب ثمّ الحسن والحسين و...۔[90][91] ائمۂ اثنا عشر کے بارے میں رسول اللہؐ سے متعدد حدیثیں نقل ہوئی ہیں اور یہ حدیثیں امام حسن مجتبیؑ سمیت تمام ائمہؑ کی ولایت و امامت کی تائید کرتی ہیں۔[92][93][94][95] جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 ("يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ (ترجمہ: اے ایمان لانے والو!فرماں برداری کرو اللہ کی اور فرماں برداری کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں فرماں روائی کے حق دار ہیں) [ نساء–59] ")؛ نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں۔۔[96][97][98] امیرالمؤمنینؑ سے مروی ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 ("إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً (ترجمہ: اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے اے اس گھر والو! اللہ تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے) [ احزاب–33] ")؛ نازل ہوئی تو پیغمبرؐ نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے اور فرمایا کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں۔[99][100] عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہؐ کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپؐ نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ [101]

امیرالمؤمنینؑ نے اپنے وصیت نامے میں امام حسنؑ کی امامت پر تاکید فرمائی۔[102] امام علیؑ نے اپنے بیٹے حسن کو وصیت کی اور اپنے بیٹوں حسین، محمد بن حنفیہ اور اپنے تمام فرزندوں، شیعہ عمائدین اور اپنے خاندان کو اپنی وصیت پر گواہ بنایا؛ اس کے بعد کتاب اور اسلحہ امام حسن کے سپرد کیا اور فرمایا: "بیٹا! رسول اللہؐ نے مجھے فرمان دیا کہ تمہیں اپنا وصی قرار دوں اور اپنی کتب اور اسلحہ تمہارے سپرد کروں، جس طرح کہ رسول اللہؐ نے مجھے اپنا وصی قرار دیا اور اپنی کتابیں اور اسلحہ میرے حوالے کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں ہدایت کروں کہ جب اپنے وجود میں موت کی نشانیاں دیکھو تو یہ امانتیں بھائی حسینؑ کے سپرد کرو[103]

3۔ آپؑ کی امامت پر رسول اللہؐ اور خاندان رسولؐ کا اجماع۔[104]

عصمت اور افضلیت امامت کے شرائط میں شامل ہے۔ امام حسنؑ کے زمانے میں آپؑ ہی ان صفات کے حامل تھے۔[105]

خلافت سے صلح تک

امیرالمؤمنین کی شہادت کے بعد لوگ امام حسنؑ کے ہاتھ پر بیعت کے لئے لپکے۔ آپؑ منبر پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ دیا۔ خطبے کے اختتام پر عبداللہ بن عباس نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا۔ امامؑ نے عراقیوں کی بیعت اس شرط پر قبول کرلی کہ آپؑ جس کے ساتھ بھی جنگ لڑنا چاہیں، وہ لڑیں گے اور جس کسی کے ساتھ صلح کرنا چاہیں وہ بھی صلح کرلیں۔[106][107] معاویہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار بعض لوگوں نے امامؑ کے کلام سے یہ سمجھا کہ گویا آپؑ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔[108] انھوں نے امام حسین سے رجوع کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ "میں اپنے بھائی کا فرمانبردار ہوں"؛اسکے بعد وہ دوبارہ امام حسنؑ کے پاس واپس آئے اور بیعت کی۔ یوں مسلمانوں نے عراق، حجاز اور ایران سمیت مختلف سرزمینوں کے مسلمانوں نے حسن بن علیؑ کی خلافت کو تسلیم کیا؛ لیکن معاویہ کے زیر اثر شام کی عوام بیعت کرنے والوں میں شامل نہیں تھی۔[109][110][111]

بعض روایات کے مطابق امام حسنؑ نے والد کی شہادت اور اپنی بیعت کے بعد 50 روز تک جنگ یا صلح کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا۔[112] بیعت کے بعد امامؑ کا سب سے پہلا اقدام یہ تھا کہ آپؑ نے اپنے فوجیوں کی تنخواہ میں 100٪ اضافہ کیا۔[113]

معاویہ سے جنگ

امام حسنؑ :

تم پر لازم ہے فکر و تدبر کرنا، کیونکہ فکر، بصیرت رکھنے والے دلوں کی حیات اور ابواب حکمت کی کنجی ہے۔

دیلمی، اعلام الدین، ص297۔


معاویہ کو امام علی کی شہادت اور آپؑ کے فرزند امام حسنؑ کے ساتھ لوگوں کی بیعت کی خبر ملی تو اس نے دو افراد جاسوسی اور لوگوں کو امام حسنؑ کے خلاف مشتعل کرنے کی غرض سے کوفہ اور بصرہ روانہ کئے۔ امام حسنؑ کے حکم پر ان دونوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا اور ان خطوط میں امام حسنؑ نے خلافت کے لئے اپنا استحقاق ثابت کردیا۔[114] امام حسنؑ نے معاویہ کو لکھا کہ ہتھیار ڈال دے تو معاویہ نے جوابا لکھا: "لشکر شام کے آگے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں آپؑ کو عراق کے اموال میں سے ـ جتنا چاہیں ـ اٹھانے کی اجازہ ہوگی اور معاویہ کی چل بسنے کی صورت میں خلافت کا عہدہ آپؑ ہی کو ملے گا۔[115][116][117]

عراقی عوام کی بیعت اور حجاز، یمن اور فارس کی ضمنی تائید نیز معاویہ کو دیئے گئے امامؑ کے دو ٹوک جواب پانے کے بعد، اقتدار پر قبضہ جمانے کے خواب دیکھنے والے معاویہ کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ چنانچہ وہ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوا،[118] اپنے کارگزاروں سے، خطوط لکھ کر، تقاضا کیا کہ عراق کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دیں۔ اس نے عراق کی طرف پیشقدمی کا آغاز کیا اور لشکر کی قیادت خود سنبھالی اور ضحاک بن قیس فہری کو اپنے دارالحکومت میں اپنا جانشین قرار دیا۔ معاویہ کے لشکر میں جنگجؤوں کی تعداد 60000 اور بعض اقوال کے مطابق اس سے بھی زیادہ تھی۔[119][120] معاویہ کی سپاہ نے دریائے فرات پر پل مَنْبج کو پار کیا تو امام حسنؑ نے کوفیوں کو حکم دیا کہ جہاد کی تیاری کریں اور حجر بن عدی کو عوامی لام بندی کی ذمہ داری سونپ دی،[121] مختلف علاقوں کے امراء کو آپؑ کا فرمان پہنچانے اور جہاد کی دعوت دینے کے لئے روانہ کیا۔ دعوت وصول کرنے والوں نے ابتدا میں سستی برتی مگر آخر کار روانہ ہوئے۔[122] امامؑ نے مغیرۃ بن نوفل کو کوفہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود نُخَیلہ کی طرف روانہ ہوئے۔[123]

سپاہ کوفہ کی جنگ کی طرف عزیمت کے ساتھ ہی امامؑ ساباط مدائن میں اپنی سپاہ سے جا ملے اور ایک خطبے کے ضمن میں لوگوں کو اتحاد اور یکجہتی اور یک دلی کی دعوت دی اور اصلاح ذات البین کو تفرقہ اور کینے اور دشمنی سے بہتر قرار دیا۔ بعض لوگوں ںے ایک بار پھر امامؑ کے کلام کی اپنی سی تاویل کرتے ہوئے یہی سمجھا کہ گویا آپؑ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انھوں نے امامؑ پر کفر کا الزام لگایا!!! اور آپؑ کے خیمے پر حملہ کیا اور بہت سے لوگ آپؑ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔[124][125]

امامؑ نے معاویہ کو عراق سے دور کرنے کی غرض سے[126] عبیداللہ بن عباس 12000 افراد کا لشکر دے کر [127] روانہ کیا۔ عبیداللہ بن عباس نے "مَسکِن" کے علاقے میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو وہیں دشمن کا سامنا کرنا پڑا۔ عبیداللہ بن عباس جس کے دو بیٹوں کو معاویہ کے کارندے بسر بن ارطاۃ نے یمن میں شہید کردیا تھا]] [128] ادھر معاویہ نے عبیداللہ بن عباس کو خط لکھ کر ظاہر کیا کہ امامؑ نے اسے صلح کی پیشکش کی ہے اور اگر وہ فوری طور پر معاویہ کی طرف جائے گا تو بہت سارا مال اور سرکاری منصب پائے گا چنانچہ عبیداللہ مال و منصب اور دنیاوی مفاد کی خاطر دو تہائی لشکر لے کر[129][130] امامؑ سے غداری کرکے رات کی تاریکی میں معاویہ کی لشکرگاہ میں بھاگ گیا۔ مسکن سے عبیداللہ کے فرار کی وجہ سے امامؑ کی لشکرگاہ میں بد دلی پیدا ہو گئی اور یہ صورت حال "مدائن" تک بھی سرایت کرگئی اور رفتہ رفتہ کمر توڑ مصیبت میں بدل گئی۔[131]

دوسری طرف سے معاویہ نے اپنے جاسوسوں کے توسط سے لشکر عراق میں افواہ اڑائی کہ عبیداللہ بن عباس کا جانشین اور عراقی لشکر کا موجودہ کمانڈر مارا گیا ہے۔ یہ افواہ سن کر لشکر میں شامل افراد نے ایک دوسرے کے اموال لوٹنا شروع کیا اور لوٹ مار کا یہ سلسلہ امامؑ کی خیمہ گاہ تک بھی پہنچا یہاں تک کہ انھوں نے قالیچے کو بھی امامؑ کے پیروں کے نیچے سے کھینچ لیا اور آپ کے کندھوں سے ردا تک کھینچ لی۔[132] معاویہ، نے مغیرہ بن شعبہ، عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمن بن حَکَم کو امام حسنؑ کے پاس بھجوایا جو مدائن میں امامؑ سے ملنے کے بعد باہر جاتے ہوئے کہہ رہے تھے: خداوند متعال نے فرزند رسول خداؐ کے وسیلے سے خون کو محفوظ کیا اور فتنے کی آگ بجھا دی اور آپؑ نے صلح کی تجویز قبول کرلی۔ لوگوں نے یہ باتیں سن کر امام حسنؑ پر حملہ کیا اور آپ کے خیموں میں جو کچھ تھا لوٹ لیا اور غارت کرکے لے گئے۔[133] [گویا معاویہ کے ایلچیوں کی نیت بھی یہی تھی]۔ لشکر میں شامل افراد کے حوالے سے امام حسنؑ کے مصائب یہیں ختم نہيں ہوئے بلکہ منحرفین اور خوارج نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور آپ پر تین مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن تینوں مرتبہ بال بال بچ گئے۔[134]

لوگوں میں جنگ سے اکتاہٹ کا احساس، اپنی اور شیعیان آل رسولؐ کی جانوں کی حفاظت، لوگوں کی طرف سے امامؑ کی عدم حمایت، خونریزی کا راستہ روکنا، دین کا تحفظ، خوارج کے خطرات اور غیر متوازن لشکر وہ اسباب ہیں جنہیں صلح امام حسنؑ کے اسباب قرار دیا جاسکتا ہے۔

ان سارے واقعات کے زیر اثر کئی عراقی قبائل نے خطوط لکھ کر معاویہ کی حمایت کی۔ ادھر معاویہ نے قیس بن سعد ـ جو عبیداللہ کے بعد لشکر عراق کے سپہ سالار بن چکے تھے ـ کو بھی مال و منصب کے وعدوں سے ورغلانے کی کوشش کی لیکن انہیں فریب دینے میں ناکام ہوا۔[135][136][137] ان ہی حالات میں معاویہ نے اپنے دو نمائندے صلح کی غرض سے امام حسنؑ کی طرف روانہ کئے۔

معاویہ کے ساتھ صلح

امام حسنؑ :

خدا کی قسم! جس چیز نے مجھے معاویہ کے ساتھ جنگ سے باز رکھا وہ نہ تو شک تھا اور نہ ہی ندامت تھی، بلکہ (سبب یہ تھا کہ) اس سے قبل شامیوں کے ساتھ ہماری جنگ فکری سلامتی اور استقامت پر استوار تھی لیکن اب دشمنی سلامتی کو لے ڈوبی ہے اور بےچینی استقامت کو؛ اور تم کوفی اپنے امر کے آغاز اور صفین میں، اپنے دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے لیکن آج تم اپنی دنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہو۔

حرانی، تحف العقول، ص234۔

مفصل مضمون: صلح امام حسن علیہ السلام

معاویہ نے دو نمائندے صلح کی تجویز دینے کے لئے امام حسنؑ کے پاس روانہ کئے۔ ان نمائندوں نے بیان کیا کہ "خونریزی کا سد باب کرنا چاہئے" اور امامؑ کو صلح کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ خلافت کا منصب معاویہ کے بعد امامؑ کو ملے گا۔ معاویہ نے ان افراد کے ہاتھوں ایک ایک سفید کاغذ امام حسنؑ کے لئے ارسال کیا تھا جس پر اس نے اپنی مہر ثبت کی تھی تا کہ امامؑ جو چاہیں اس پر لکھیں۔[138][139][140]

صلح کے نکات تاریخ و حدیث کے مختلف مآخذ میں نوعیت اور تعداد کے لحاظ سے مختلف ہیں۔[141][142][143][144][145] بلاذری کی نقل کے مطابق،درج ذیل شرائط کے ساتھ معاویہ کو زمام حکومت سونپا گیا۔ اس صلح کے نکات درج ذیل ہیں:

  1. معاویہ کتاب خدا ، سنت نبویہ اور خلفائے صالح کی سیرت اور روش کے مطابق عمل کرے گا۔
  2. معاویہ کسی کو اپنے بعد ولیعہد کے طور پر معین نہیں کرے گا اور اس کے بعد اختیار مسلمانوں کی شوری کے سپرد کیا جائے گا۔
  3. لوگوں کا جان و مال اور ان کی اولاد ـ چاہے وہ جہاں بھی ہوں ـ محفوظ ہونگے۔
  4. معاویہ اعلانیہ اور نہ ہی خفیہ طور پر کسی بھی صورت میں حسنؑ کے خلاف کوئی سازش اور فتنہ انگیزی نہیں کرے گا اور اس کے اصحاب اور پیروکاروں کو پریشان نہیں کرے گا۔

عبداللہ بن حارث اور عمرو بن سلمہ اس صلح نامے کے گواہ ہیں۔[146][147]

وقتِ صلح کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں؛ منجملہ ربیع الاول یا جمادی الاول یا جمادی الثانی سنہ 41ھ ق۔[148][149] مسعودی نے اپنی کتاب التنبیہ و الاشراف میں ربیع الاول کو زیادہ مشہور اور زیادہ صحیح گردانا ہے۔[150]

صلح سے شہادت تک

امام حسن صلح کے بعد مدینہ چلے گئے اور مدینہ میں آپ علمی، دینی، معاشرتی اور سیاسی مرجعیت کے حامل تھے۔ آپ نے مدینہ اور دمشق میں معاویہ اور اس کے حامیوں کے خلاف موقف اپنایا اور معاویہ کے ساتھ کئی بار مناظرے کئے جنہیں طبرسی نے اپنی کتاب الاحتجاج میں جمع کیا ہے۔ [151]

امام حسنؑ نے مسلمانوں کی جان کے تحفظ اور دین کا پرنور چہرہ مخدوش ہونے سے بچانے کی خاطر، معاویہ کے ساتھ معاہدہ صلح پر دستخط کئے تو آپؑ نے اپنی حیات طیبہ کے دشوار ترین دور کا آغاز کیا؛ دوستوں کی ملامت، سیاسی روابط کی رعایت، بیان ناہونے والے والے حالات میں شیعیان اہل بیت کی امامت کے بہت سے دوستوں کی شہادت یا دور ہوجانا، اس دور کی سختیوں میں شامل ہیں۔

امام حسنؑ کی حیات طیبہ کا یہ دور، ظاہری گوشہ نشینی اور خانہ نشینی کے باوجود آن جنابؑ کی زندگی کا مؤثر ترین اور دشوار ترین دور سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف سے شیعوں کی امامت کی ذمہ داری آپ(عج) کے دوش پر تھی اور دوسری طرف سے نئی سیاسی صورت حال اور معاویہ کے ساتھ روابط میں آنے والی تبدیلیاں، آپؑ کو شیعیان آل رسولؐ کے مسائل دیکھنے اور حل کرنے میں مشکل سے دوچار کررہی تھیں۔

امام حسنؑ صلح کے بعد لوگوں کے درمیان حاضر ہوئے اور ایک خطبے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا: معاویہ نے آپؑ کے مسلّمہ حق میں آپؑ کے ساتھ نزاع کیا ہے اور صلح کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں نے لوگوں کی جان کے تحفظ اور خونریزی کا راستہ روکنے کے لئے صلح کرلی۔[152][153] معاویہ نے بھی صلح کے بعد اور کوفہ میں اپنی پہلی موجودگی کے وقت، خطاب کرتے ہوئے امامؑ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو مکمل طور پر پامال کرکے رکھ دیا اور دعوی کیا کہ امام حسنؑ صلح کے خواہاں تھے اور پھر امیرالمؤمنینؑ کے خلاف زبان درازی کی جس کے بعد امام حسنؑ نے خطبہ دیتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور فصیح و بلیغ کلام سے معاویہ کو اپنے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی توہین کا جواب دیا۔[154][155]

معاویہ امامؑ کی منزلت سے آگاہ تھا چنانچہ بظاہر آپؑ کی حرمت کا خیال رکھتا تھا؛ بطور مثال ایک بار ـ جب زیاد بن ابیہ کوفہ کا والی تھا ـ تو معاویہ نے اس کی طرف سے امامؑ کے ایک صحابی کو آزار و اذیت پہنچائے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایک خط کے ذریعے اس کو غیر شائستہ اور نازیبا حرکتوں سے باز رکھا۔ ایک دفعہ زیاد نے امامؑ کے خط کا جواب نازیبا انداز سے دیا تھا تو آپؑ نے اس کے خط کا تاریخی جواب دینے کے ساتھ ساتھ، معاویہ کو بھی واقعے سے آگاہ کیا تھا اور معاویہ نے امامؑ کے مطالبے کے مواقق، زیاد کی شدید مذمت کی۔

امامؑ کی تنقید کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ معاویہ اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کے اقتدار کے لئے ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا؛ اور یہ مسئلہ امامؑ کی کڑی تنقید کا نشانہ بنا کیونکہ آپؑ ہرگز راضی نہیں ہوسکتھے تھے کہ ایک لا ابالی شرابخور نوجوان شخص کو ایک عظیم مسند پر بٹھایا جائے اگرچہ امامؑ نے معاویہ کی نسبت آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر کا کردار ادا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھائی؛ حتی کہ بعض مواقع پر معاویہ کو قرآن و سنت رسولؐ کی پیروی کی دعوت دیتے تھے۔[156]

جب کہ امام معصوم کی تنقید کا معاویہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اور آپؑ کے مطالبات کو توجہ نہیں دی جاتی تھی لیکن آپؐ کا رویہ معاویہ کی حیات تک مقابلے پر مبنی نہیں تھا اور اسی بات پر تاکید فرمایا کرتے تھے۔ امامؑ نے کوفہ سے مدینہ جاتے ہوئے اپنے اصحاب کو دعوت دی کہ مناسب وقت کے لئے تیاری کریں۔[157]

ایک دفعہ جب ہوازن کے کچھ لوگوں نے "ستورد بن عُلفہ" کی قیادت میں معاویہ کے خلاف خروج کیا اور معاویہ جنگ کی تیاری کرنے لگا تو اس نے امام حسنؑ سے اپنی تائید و حمایت کی درخواست کی؛ وہ در حقیقت امامؑ کے اپنے ساتھ کھڑا کرنا ضروری سمجھتا تھا لیکن امامؑ نے نہایت فھم و ذکاوت کا ثبوت دیتے ہوئے، کافروں کے خطاکاروں سے جدا کرنے کے سلسلے میں امیرالمؤمنینؑ کے کلام سے استفادہ کیا[158] اور معاویہ کی پیروی اور اس کی درخواست قبول کرنے کو ضروری نہیں سمحھا جبکہ آپؑ کے اس موقف سے معاویہ کے ساتھ روابط کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔[159][160]

روایت ہے کہ معاویہ نے ظاہری طور پر قابل قبول رویہ اپنانے کے برعکس خفیہ طور پر شیعیان علیؑ کے تعاقب اور گرفتاری اور منبروں پر امیرالمؤمنینؐ کی شان میں سب و شتم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ کوفہ میں زیاد بن ابیہ کی بحیثیت والی تعیناتی کا مقصد بھی یہی تھا۔

امامؑ کے اصحاب جن میں سے بعض صحابہ رسول کے زمرے میں شمار ہوتے تھے وہ معاویہ اور اس کے جیسے زیاد بن ابیہ جیسے والیوں کا رویہ دیکھ کر کبھی کبھی اعتراض کر دیتے تھے نیز وہ ہمیشہ حکومت کی طرف سے آزار و تشدد کا نشانہ بنتے تھے۔ عمرو بن حمق خزاعی کو اپنی عمر کے آخری عشروں میں جس طرز سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اس حقیقت کی ناقابل انکار مثال ہے، عمرو نے معاویہ کے رویوں پر تنقید کی تو ان کی گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے اور کوفہ کے قید خانے میں شہید کئے گئے اور ان کا سر معاویہ کے لئے بھجوایا گیا اور بعض روایات کے مطابق، اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو کسی حکمران کے لئے بھجوایا گیا۔[161][162][163]

امام حسنؑ کو اپنے نانا کے اور والد گرامی کے ساتھی اور صحابی جناب عمرو بن حمق کی شہادت کی خبر ملی تو ایک خط کے ذریعے معاویہ کی شدید مذمت کی۔[164] معاویہ کی عہد شکنی کے دیگر نمونوں میں حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اس کی بدسلوکی شامل ہے جو کوفہ میں معاویہ اور اس کے والی کے کرتوتوں پر تنقید کے نتیجے میں گرفتار اور دمشق روانہ اور آخر کار شہید کئے گئے۔[165] خلاف ورزیوں اور معاویہ کے ہاتھ قتل ہونے والے شہداء کی اس فہرست میں امیرالمؤمنینؑ کے پارسا اور زاہد صحابی جناب رشید ہجری کا نام بھی درج ہوا ہے جنہیں صلح نامے کے نکات کے ضمن میں امام حسنؑ کی مرضی کے برعکس، شہید کیا گیا۔[166]

بحیثیت مجموعی، حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی حیات طیبہ کا آخری مرحلہ ـ حجاز اور دمشق کے درمیان کئی بار آمد و رفت پر مشتمل ہے ـ[167] نہایت دشوار مرحلہ تھا اور امامؑ نے فھم اور صبر و استقامت سے اس مرحلے کو طے کیا اور عملی طور پر اپنے بھائی امام حسینؑ کی امامت کے لئے حالات فراہم کیا۔

بعض امویوں کا مقابلہ

  • ابن زیاد
  • عمرو بن عثمان
  • عمرو بن عاص
  • ولید بن عقبہ
  • عتبہ بن ابوسفیان
  • مغیرہ بن شعبہ
  • مروان بن حکم

شہادت

مرقد امام حسن مجتبیؑ در قبرستان بقیع

قول مشہور کے مطابق امام حسنؑ کی شہادت سنہ 50 ہجری میں واقع ہوئی۔[168][169][170] آپؑ کی تاریخ شہادت سے متعلق زیادہ تر روایات سے صفر کے آخری ایام[171]، بطور خاص 28 صفر المظفر کا اشارہ ملتا ہے جبکہ بعض روایات میں 7 صفر المظفر کو[172]، حتی بعض میں ربیع الاول کے ایک دن کو[173] کو امام ؑ کا روز وفات قرار دیا گیا ہے۔ شیخ مفید کے مطابق، امام حسنؑ شہادت کے وقت 48 سال کے تھے۔[174] اگرچہ روز وفات کے سلسلے میں اختلاف روایات کے تناسب سے آپؑ کی مدت عمر کے متعلق بھی اختلاف ہے۔[175]


زیادہ تر شیعہ اور سنی مآخذ کے نزدیک امام حسنؑ کو زہر دلوا کر شہید کیا گیا۔[176][177] اگرچہ بعض غیر شیعہ مآخذ میں کہا گیا ہے کہ امامؑ کی موت طبیعی تھی اور آپؑ بیماری کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔[178][179]

روایت کے مطابق معاویہ نے کسی شخص کو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کے پاس روانہ کیا اور اس کو وعدہ دلوایا : " اگر تم حسن کو زہر دے دو تو میں تمہیں اپنے بیٹے یزید کے حبالۂ نکاح میں لاؤں گا"؛معاویہ نے اس کے لئے ایک لاکھ درہم کی پیشگی رشوت بھی بھجوائی۔[180] چنانچہ جعدہ نے امامؑ کو زہر دیا اور معاویہ کی بھجوائی ہوئی رقم بھی اسے مل گئی[181]؛ لیکن معاویہ نے اسے یزید کے حبالہ نکاح میں لانے سے انکار کیا۔ ادھر محمد بن سعد زہری سے منقول ہے کہ امام حسنؑ اپنے کسی خادم کے ہاتھوں مسموم ہوئے ہیں۔[182] ایک اور نقل کے مطابق یہ عمل معاویہ کی ترغیب پر امامؑ کی زوجہ سہیل بنت عمرو کے ہاتھوں انجام پایا[183] بلاذری نے امام حسن کی ازواج میں اس کا نام ہند بنت سہیل بن عمرو ذکر کیا تھا[184]۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس دور میں معاویہ امام حسنؑ کو اپنے بیٹے یزید کی ولیعہدی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا، لہذا معاویہ کی ترغیب پر جعدہ بنت اشعث کے ہاتھوں آپؑ کی شہادت کی روایت زیادہ معتبر نظر آتی ہے۔[185]

معاویہ نے کئی بار امام حسنؑ کو زہر لوا کر قتل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔[186][187][188] یعقوبی لکھتے ہیں: "امام حسنؑ نے شہادت کے وقت اپنے بھائی امام حسینؑ سے فرمایا: مجھے تیسری مرتبہ زہر دیا گیا ہے لیکن اس بار میری مسمومیت پہلے کی مانند نہیں ہے، اور میں آج دنیا سے اٹھنے والا ہوں، پس جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو مجھے نانا رسول اللہؐ کے پہلو میں دفن کرنا، کیونکہ کوئی بھی میرے نانا سے قربت کے حوالے سے مجھ سے زیادہ اہلیت نہیں رکھتا، سوا اس کے کہ آپ کو اس کام سے روکا جائے؛ کہ اگر آپ کو روکا گیا تو ایک حجامت جتنی خونریزی سے بھی پرہیز کرنا[189]

تدفین

شیخ طوسی کی منقولہ روایت کے مطابق[190] امام حسنؑ نے بھائی امام حسینؑ کو وصیت کی تھی کہ آپؑ کو مدفن رسولؐ میں سپرد خاک کریں۔لیکن اگر کسی نے اس اقدام کے سامنے رکاوٹ ڈالی تو ہرگز اصرار نہ کریں اور ہرگز خونریزی نہیں ہونی چاہئے۔ ایک دوسری نقل کے مطابق امام حسنؑ نے وصیت کی تھی کہ غسل کے بعد آپؑ کی میت تجدید عہد کی غرض سے رسول اللہؐ کے پاس لے جائيں اور پھر آپؑ کی دادی فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفنا دیں۔[191]

میت کو زیارتِ قبر رسولؐ کے لئے لایا جانے لگا تو مروان ایک ہزار افراد کی سرکردگی میں موقع پر حاضر ہوا اور زیارت کے مراسمات میں رکاوٹ بنا۔[192] ابوالفرج اصفہانی کی روایت کے مطابق اس عمل میں عائشہ بھی مروان کا ساتھ دے رہی تھیں؛[193] لیکن عائشہ سے منقولہ روایت کے مطابق، جب انھوں نے حالات کا یہ رخ دیکھا تو انھوں نے حالات زیادہ خراب ہونے کا سد باب کرنے کی غرض سے امام حسنؑ کو رسول خداؐ کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیا۔[194] آخر کار امام حسینؑ نے بھائی کی میت کو قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا۔[195]

ایک روایت کے مطابق، امام حسنؑ شہید ہوئے تو امام حسینؑ نے میت کو قبر رسولؐ کی طرف لے کر گئے تاکہ اپنے نانا کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ عائشہ، مروان اور بنی امیہ میں سے ان کے حامی ـ جو سمجھ رہے تھے کہ امام حسینؑ بھائی کو رسول اللہؐ کے پہلو میں دفنانا چاہتے ہیں ـ مسلح ہوکر سامنے آئے تاکہ امام حسنؑ کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن نہ ہونے دیں۔ قریب تھا کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان لڑائی چھڑ جائے؛ لیکن ابن عباس نے جھگڑا نہيں ہونے دیا۔ یوں امام حسنؑ کی میت بقیع منتقل کر کے اپنی دادی فاطمہ بنت اسدؑ کے پہلو میں سپرد خاک کی گئی۔[196]

مروی ہے کہ مدینہ کے حاکم سعید بن عاص نے امام حسینؑ کی درخواست پر، امامؑ کی نماز میت ادا کی؛[197] لیکن روایت ہے کہ امام معصوم کو امام معصوم ہی غسل دے سکتا ہے اور امام معصوم پر امام ہی نماز پڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ احتمال قوی یہ ہے کہ امام حسینؑ نے پہلے ہی بھائی کی نماز جنازہ ادا کی تھی؛ اور قبرستان بقیع میں بطور تقیہ سعید بن عاص کو تکلفا نماز میت پڑھنے کی دعوت دی اور انھوں نے یہ دعوت قبول کی ہے۔[198]

خصوصیات اور فضائل

مفصل مضامین: اہل البیت علیہم السلام، اصحاب کساء، مباہلہ، آیت تطہیر اور حدیث ثقلین

امام حسنؑ کردار، طرز سلوک اور شباہت کے لحاظ سے رسول اللہؐ کے ساتھ سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔[199] رسول اللہؐ نے امام حسنؑ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "<fontcolor = blue ></font>"۔[200] امام حسنؑ کا قد متوسط اور ریش مبارک گھنی تھی[201] جسے آن جناب سیاہ رنگ سے خضاب کرتے تھے۔[202]

امام حسنؑ اصحاب کساء میں سے ایک ہیں [203][204] اور رسول اللہؐ مباہلہ کے موقع پر امام حسنؑ، امام حسینؑ، حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کو بھی خدا کے حکم سے، اپنے ساتھ لے گئے۔[205][206] آیت تطہیر امام حسنؑ اور اہل بیتؑ کے دیگر افراد کے لئے عظیم فضیلت کا ثبوت ہے۔[207]

امام حسنؑ 25 مرتبہ پیدل حج بیت اللہ مشرف ہوئے اور آپ نے تین مرتبہ اپنا پورا مال راہ خدا میں تقسیم کیا یہاں تک کہ آپ نے اپنے جوتے بھی بخش دیئے اور اپنے لئے صرف چپلیں رکھ لیں۔ [208][209][210]

حوالہ جات

  1. اربلی، کشف الغمۃ، ج 2، ص 289۔
  2. حاج منوچہری، فرامرز، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج 20، مدخل امام حسنؑ، ص 532۔
  3. المفید، الارشاد،۱38۰، ج۲، ص3.
  4. مفید، الارشاد، 1380، ج2، ص3۔
  5. شیح طوسی، تہذیب الاحکام، ج6، ص40
  6. کلینی، الکافی، بیروت 1401، ج1، ص461۔
  7. مقدسی، کتاب البدء و التاریخ، پاریس، ج5، ص20
  8. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، بیروت، ص158۔
  9. ؛ کلینی، الکافی، بیروت 1401، ج1، ص461۔
  10. شیح طوسی، تہذیب الاحکام، ج6، ص39۔
  11. ابن حنبل، مسند، ج6، ص391۔
  12. ترمذی، سنن الترمذی، ج3، ص36۔
  13. ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامہ و التبصرة من الحیرة، ج2، ص42
  14. نسائی، احمد بن علی، سنن النسائی، ج4، ص166۔
  15. کلینی، الکافی، بیروت 1401، ج6، ص32-33۔
  16. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج4، ص237۔
  17. کلینی، الکافی، بیروت 1401، ج6، ص33ـ34
  18. ابن حنبل، المسند، ج1، ص98، 118۔
  19. بخاری، الادب المفرد، ص177۔
  20. ابن بابویہ، علل الشرایع، نجف 1385ـ1386، ج1، ص137ـ138۔
  21. طوسی، الامالی، 1414، ص367ـ368
  22. ابن عساکر، تاریخ مدینہ الدمشق، ج13، ص171
  23. ابن اثیر، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج2، ص10
  24. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج13، ص170
  25. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص165
  26. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج2، ص25
  27. صدوق، امالی، ص 134۔
  28. برائے نمونہ: ابن قتیبہ، المعارف، ص211۔
  29. مفید، الارشاد، بیروت 1414، ج2، ص5۔
  30. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج13، ص172۔
  31. خصیبی، حسین بن حمدان، الهدایہ الکبری، ص183۔
  32. راوندی، القاب الرسول و عترته، ص247ـ248۔
  33. ابن ابی الثلج، تاریخ الائمہ، ص28۔
  34. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، قم، ج3، ص172ـ173۔
  35. اربلی، کشف الغمہ،ج 2 ص 296۔
  36. ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ج2، ص9۔
  37. عزت و قدرت اللہ کے لئے ہے: کلینی، الکافی، ج6 ص474۔
  38. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج2 ص56۔
  39. خدا ہی میرے لئے کافی ہے: کلینی، وہی ماخذ، ص473۔
  40. بلاذری، انساب الاشراف، 1417ق، ج4، ص253۔
  41. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، نجف 1367، ج3، ص199۔
  42. مجلسی، بحار الانوار، بیروت 1403، ج44، ص169۔
  43. مقدسی، البدء و التاریخ، قاهره، ج5، ص74۔
  44. مجلسی، بحار الانوار، بیروت 1403، ج44، ص173۔
  45. بلاذری، انساب الاشراف، 1417ق، ج3، ص20۔
  46. مجموعہ مقالات ہمایش سبط النبی، ج1، ص71۔
  47. دیکھئے: یعقوبی، ج 2 ص 228؛ مفید، الارشاد، ج 2 ص 20؛ ابن صوفی، ص 19 اور بعد کے صفحات؛ بخاری، سہل، ص 5؛ ابن شہرآشوب، مناقب ج 3 ص 192؛ ابن عنبہ، ص 68؛ بحوالہ حاج منوچہری، فرامرز، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج 20، مدخل امام حسنؑ، ص 545۔
  48. زمانی، حقایق پنہان، ص338۔
  49. مفید، الارشاد، ج 2، ص 16۔
  50. مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، مؤسسۃ الوفا، بیروت، 1403ق، چ دوم، ج44، ص163۔
  51. طبرسی، فضل بن الحسن، اعلام الوری، دارالتعارف للمطبوعات، بیروت 1406ق، ص212۔
  52. سبط ابن جوزی، تذکره الخواص، مؤسسه اهل البیت، بیروت 1401ق، ص194۔
  53. مصعب بن‌عبدالله، کتاب نسب قریش، چاپ لوی پرووانسال، قاہره 1953، ص50۔
  54. المجدی فی أنساب الطالبیین، ص202۔
  55. بلاذری، انساب الاشراف، ج‌4، ص159۔
  56. محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1410، ج1، ص245۔
  57. ابن عبدالبر قرطبی، الاستیعاب، تحقیق عادل احمد عبدالموجود، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1415، ج1، ص384۔
  58. دیلمی، شیخ حسن، غررالأخبار و درر الآثار، قم، دلیل ما، ص268۔
  59. بخاری، صحیح بخاری، جلد 2، ص 432؛ سیوطی، جلال الدین، تاریخ الخلفاء، تحقیق: لجنہ من الادباء، توزیع دار التعاون عباس احمد الباز، مکہ المکرمہ، ص 206۔
  60. سیوطی، جلال الدین، وہی ماخذ، ص207۔
  61. سیوطی، وہی ماخذ۔
  62. صدوق، امالی، ص333
  63. سیوطی، وہی ماخذ۔
  64. مجلسی، بحار الأنوار، ج‏37، ص 73۔
  65. جوینی،فرائد السمطین، ج2، ص68۔
  66. سیوطی، تاریخ الخلفا، ص 80۔
  67. عاملی، تحلیلی از زندگی امام حسن مجتبی، ص170۔
  68. ابن قتیبہ، الامامۃ والسیاسۃ، ج1، ص30۔
  69. ابن عبدالبر، ج1، ص391۔
  70. نیز دیکھئے: جوہری، السقیفۃ و فدک، پوری کتاب۔
  71. دانشنامۂ بزرگ اسلامی، ج 20، مدخل حسنؑ، امام، ص 534۔
  72. مسعودی، مروج ‏الذہب، ج‏1، ص 698۔
  73. ابن قتیبہ،الامامہ والسیاسہ، قاہره، ج1، ص40 کے بعد۔
  74. بلاذری، احمد، انساب الاشراف، 1394ق، ج2، ص216-217۔
  75. مالقی، محمد، التمہید و البیان، ص119، 194۔
  76. مقدسی، مطہر البدء و التاریخ، ج5، ص206۔
  77. عاملی، جعفر مرتضی، الحیاة السیاسیۃ للامام الحسن، ص140 اور بعد کے صفحات۔
  78. دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج20، مدخل حسنؑ، امام، ص534۔
  79. الامین، السید محسن، اعیان الشیعہ، ج 2، حققہ و اخرجہ السید محسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، 1418ق/1998م، ص 370۔
  80. دانشنامہ رشد۔ مدخل امام حسن محتبی علیہ السلام۔
  81. جعفریان حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص124۔
  82. مفید، الجمل، ص 327
  83. مفید، الجمل، ص 348۔
  84. قرشی، موسوعہ سیرة اہل البیت، ج10، ص403 پاورقی۔
  85. قرشی، حیاۃ الحسن، ص 219۔
  86. قرشی، حیاة الحسن، ص 218
  87. قرشی، حیاة الحسن، ص 245
  88. المفید، الارشاد، ص 350۔
  89. مفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق، ص 290۔
  90. اربلی، کشف الغمہ، ج3، ص314۔
  91. صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، ج1، ص253۔
  92. مفید، الاختصاص، ص211۔
  93. گلپایگانی، شیخ لطف اللّه صافی، منتخب الاثر، ص97۔
  94. طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181۔
  95. عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔
  96. مجلسی، بحارالأنوار ج 23 ص290۔
  97. عاملی، اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123۔
  98. ابن شہر آشوب، المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔
  99. مجلسی، بحارالأنوار ج36 ص337۔
  100. خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر، ص157۔
  101. قندوزی حنفی، ینابیع المودة (فارسی ترجمہ)، ج2، ص387–392، باب 76۔
  102. کلینی، محمد بن یعقوب،اصول کافی، ج1، ص298۔
  103. کلینی، اصول کافی، ج1، ص297۔
  104. شافعی، محمد بن طلحہ، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ج3، ص141۔
  105. شافعی، محمد بن طلحه، طالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ج3، ص141۔
  106. ابن قتیبہ، الامامہ والسیاسہ، بیروت، ج1، ص183-184۔
  107. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص29۔
  108. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص29۔
  109. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج1، ص140ـ141۔
  110. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص7 اور بعد کے صفحات۔
  111. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج4، ص283۔
  112. بلاذری، ج3، ص29۔
  113. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص64۔
  114. مفید، الارشاد، ص 350۔
  115. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص31۔
  116. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج2، ص1311ـ1314۔
  117. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص62، 64ـ67۔
  118. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص68ـ69۔
  119. قرشی، زندگانی امام حسنؑ، ترجمہ فخرالدین حجازی، صص335ـ334۔
  120. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج2، ص1315۔
  121. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین 1408ق، ص69-70۔
  122. مفید، الارشاد، ص 351۔
  123. قرشی، زندگانی امام حسنؑ، ترجمہ فخرالدین حجازی، ص 338۔
  124. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج2، ص1315۔
  125. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین 1408ق، ص71ـ72۔
  126. مفید، الارشاد، ص 354
  127. قرشی، حیاة الحسن، ص 338
  128. قرشی، زندگانی امام حسنؑ، ترجمہ فخرالدین حجازی، ص 354
  129. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، نجف 1385ق، ص42۔
  130. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، قاہره 1379ق، ج16، ص42-43۔
  131. راضی آل یاسین، صلح الحسن، ص192۔
  132. طبری، تاریخ طبری، ج4، ص122۔
  133. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ص 142
  134. قرشی، زندگانی امام حسنؑ، ترجمہ فخرالدین حجازی، ص 361
  135. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج4، ص288-289۔
  136. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص42ـ43۔
  137. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج16، ص43ـ44۔
  138. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص37ـ42۔
  139. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج2، ص1316ـ1317۔
  140. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408ق، ص72ـ74۔
  141. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص42۔
  142. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج2، ص1318۔
  143. مفید، الارشاد، ج2، ص14۔
  144. شیخ صدوق، علل الشرایع، ج1، 212۔
  145. ابن شخر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج4، ص33ـ34۔
  146. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص41-42۔
  147. شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام، ص162۔
  148. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص181۔
  149. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج2، ص14ـ15۔
  150. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص300۔
  151. طبرسی، الاحتجاج، ج 2، صص 65-45.
  152. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص43
  153. ابن اعثم کوفی، الفتوح، (دار الأضواء، بیروت 1411ه ق) ج2، ص293-294۔
  154. طبری، تاریخ، ج4، ص124-125، 128-129
  155. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص45 اور بعد کے صفحات۔
  156. مجلہ، موسوعہ، 161ـ164۔
  157. قرشی، حياة الإمام الحسنؑ، ج2، ص285-286۔
  158. امام علیؑ، نهج البلاغه، خطبه 61۔
  159. صدوق، علل الشرایع، ج1، ص218ـ219۔
  160. مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص13۔
  161. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج4، ص623ـ624۔
  162. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص1173ـ1174۔
  163. مقدسی،البدء و التاریخ، ج6، ص5۔
  164. آل یاسین، صلح الحسن، ص471۔
  165. طبری، تاریخ، ج4، ص198، ج5، ص108؛ ابن حجر، الاصابة، ج2، ص37ـ38۔
  166. ذہبی، تذکرة الحفاظ، ج1، ص84۔
  167. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج1، ص387۔
  168. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  169. شوشتری، رسالہ فی تواریخ النبی، ص33۔
  170. نیز آپؑ کا سال شہادت کتب میں مختلف ہے جیسے: سنہ 48، 49، 51، 57، 58 اور 59ھ ق۔
  171. کلینی، الکافی، بیروت، ج1، ص461۔
  172. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ج2، ص7۔
  173. رجوع کریں: ابن قتیبہ، المعارف، ص212۔
  174. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  175. رک: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج13، ص298- 300، 302۔
  176. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408ق، ص80-81۔
  177. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  178. ابن قتبیہ، الامامہ و السیاسہ، بیروت، ج1، ص196۔
  179. بلاذری، 1397ق، ج3، ص59۔
  180. مفید،الارشاد ج 2 ص 13
  181. مفید، الارشاد، 1380، ج2، ص15۔
  182. ابن سعد، طبقات الکبری، ج6، ص386۔
  183. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص55۔
  184. بلاذری، انساب الاشراف، 1417ق دار الفکر، ج3، ص20۔
  185. Madelung, The Succession T0 Muhamad, p.331
  186. مفید، الارشاد، ص357۔
  187. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص55۔
  188. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408ق، ص81۔
  189. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص154۔
  190. شیخ طوسی، الامالی، 1414، ص160۔
  191. شیخ مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص17۔
  192. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص60۔
  193. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408، ص82۔
  194. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص61۔
  195. بلاذری، ایضا، ص66۔
  196. مفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق، صص280-281۔
  197. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408، ص83۔
  198. رسولی محلاتی، زندگانی امام حسن، ص452۔
  199. اربلی،کشف الغُمَّہ، ج2، ص290
  200. مجلسی، بحارالانوار، ج43، ص294.
  201. ابن شهر آشوب،مناقب، ج4، ص28۔
  202. ابن سعد، طبقات الکبری، ج6، ص379۔
  203. صدوق،خصال، ج2، ص550۔
  204. صدوق، عیون اخبار الرضا، آقا نجفی، ج1،ص 55۔
  205. علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ج 1، ص 104۔
  206. زمخشری، کشاف، ج 1 ص 368۔
  207. علی بن ابراهیم قمی، تفسیر قمی، ج2، ص193۔
  208. بیہقی، السنن الکبری، ج4، ص331۔
  209. ترجمہ الامام علیؑ من تاریخ دمشق ص142، ح 236۔
  210. منتخب فضائل النبی و اہل بیتہ علیہم السلام من الصحاح الستہ و غیرہا من الکتب المعتبرة عند اہل السنہ، ص279۔

مآخذ

  • ابن ابی اثلج، تاریخ الائمہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ، چاپ محمود مرعشی، قم: کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1406۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، بہ کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ 1379ق۔
  • ابن اثیر، اسد الغابہ، بیروت: دارالکتاب العربی۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد، الفتوح، بیروت، 1411۔
  • ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، قم 1363ش۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، چاپ احسان عباس، بیروت 1968-1977
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنہ من اساتذہ النجف الاشرف، نجف: مکتبہ الحیدریہ، 1376۔
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم۔
  • ابن صوفی، علی، المجدی فی انساب الطالبیین، بہ کوشش احمد مہدوی دامغانی، قم: 1409ق/1989م۔
  • ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، چاپ ماجد بن احمد عطیہ، بیروت 1420ق۔
  • ابن عبدالبر، یوسف، الاستیعاب، بہ کوشش علی محمد بجاوی، بیروت، 1412ق۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت، 1415ـ1421۔
  • ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب، بہ کوشش محمدحسن آل طالقانی، نجف: 1380ق/19601م۔
  • ابن قتیبہ،الامامۃ والسیاسۃ، بہ کوشش طہ محمد زینی، قاہرہ، مؤسسۃ الحلبی۔
  • ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسیہ، المعروف بتاریخ الخلفاء، چاپ علی شیری، بیروت 1410/1990
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ، 1960
  • ابن حنبل، احمد، مسند الامام احمد بن حنبل، بیروت: دارصادر۔
  • اربلی، کشف الغمہ، ناشر مجمع جہانی اہل بیتؑ 1426ق۔
  • اصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، چاپ احمد صقر، بیروت 1408ق۔
  • اصفہانی،ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، نجف 1385ق۔
  • الامین، السید محسن، اعیان الشیعۃ، حققہ و اخرجہ السید محسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، 1418ق/1998م۔
  • البخاری، سہل، سر السلسلۃ العلویۃ، بہ کوشش محمدصادق بحرالعلوم، نجف: 1381ق/1962م۔
  • الزمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج1، قم، نشر البلاغہ، الطبعۃ الثانیۃ، 1415 ق۔
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌تا
  • الطوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تہران، 1390۔
  • العاملی، جعفر مرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، قم، 1363ش۔
  • العطاردی، عزیزاللہ، مسند الامام المجتبی، قم: عطارد، 1373ش۔
  • القاب الرسول و عترتہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ۔
  • القرشی، موسوعۃ سیرۃ اہل البیت، ج10(الامام الحسن بن علیؑ، تحقیق: مہدی باقر القرشی، قم: دارالمعروف، 1430ق/2009م۔
  • المحمودی، نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ، ج7، نجف: 1385ق/1965م۔
  • مسعودی، علی بن حسین، كتاب التنبیہ والاشراف، چاپ دخویہ، لیدن 1894
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، چاپ شارل پلّا، بیروت 1965-1979
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ خراسانی انتشارات علمیہ اسلامیہ 1380
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، بیروت، 1414۔
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، سعید بن جبیر، 1428ق
  • المفید، الجمل، ناشر مکتب الاعلام الاسلامی، 1371
  • بخاری، صحیح بخاری، ناشر دارالفکر
  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، 1394ق۔
  • بلاذری، انساب الاشراف، بیروت: دارالتعارف، 1397ق۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، چاپ عبدالوہاب عبداللطیف، بیروت، 1403/1983۔
  • جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، انتشارات انصاریان 1381
  • جوہری، احمد، السقیفہ و فدک، بہ کوشش محمدہادی امینی، تہران، 1401ق/1981م۔
  • جوینی، فرائد السمطین، مؤسسہ المحمودی بیروت، 1980 م۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، چاپ یوسف عبدالرحمان مرعشلی، بیروت 1406۔
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، 1406/1986
  • راضی یاسین، صلح الحسن، ترجمہ سید علی خامنہ‌ای، انتشارات گلشن چاپ سیزدہم 1378
  • رسائل الامام حسنؑ، بہ کوشش زینب حسن عبدالقادر، قاہرہ، 1411ق/1991م۔
  • زمانی، احمد، حقایق پنہان، قم: دفتر تبلیعات اسلامی، چ 3، 1380۔
  • سیوطی، تاریخ الخلفاء، بی‌جا بی‌تا
  • سیوطی، جلال الدین، تاریخ الخلفاء، تحقیق: لجنۃ من الادباء، توزیع‌دار التعاون عباس احمد الباز، مکۃ المکرمۃ۔
  • شوشتری، محمدتقی، رسالۃ فی تواریخ النبی، قم1423۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ، قم 1412ـ1414۔
  • شہیدی، سیدجعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران: مرکز نشر دانشگاہی، 1390ش۔
  • شیخ صدوق، امالی، انتشارات کتابخانہ اسلامی1362
  • شیخ صدوق، امالی، ترجمہ کمرہ‌ای 1363
  • شیخ صدوق، علل الشرایع، نجف، 1385ـ1386ق۔
  • شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، ترجمہ آقا نجفی۔
  • طبرسی، الاحتجاج انتشارات اسوہ 1413 ہ‍۔ق
  • عاملی، جعفر مرتضی، تحلیلی از زندگی امام حسن مجتبی، مترجم: سپہری، انتشارات دفتر تبلیغات، 1376
  • عقیقی بخشایشی، عبدالرحیم، چہاردہ نور پاک، تہران: 1381ش۔
  • علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ناشر مکتبۃ الہدی نجف۔
  • قرشی، باقر شریف، الحیاۃ الحسن، ترجمہ فخرالدین حجازی، انتشارات بعثت، 1376۔
  • قرشی، باقرشریف، حیاۃ الامام الحسن بن علیؑ: دراسۃ و تحلیل، بیروت: 1413ق/1993م۔
  • کلینی، اصول کافی، دارالحدیث
  • كلینی، محمد بن یعقوب، الكافی، چاپ علی اكبر غفاری، بیروت 1401
  • مالقی، محمد، التمہید و البیان، بہ کوشش محمدیوسف زاید، قطر، 1405ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار (ط - بیروت)،
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت: مؤسسہ الوفا، 1403۔
  • مجموعہ مقالات ہمایش بین‌‌المللی سبط النبی، قم: مجمع جہانی اہل بیت، 1393۔
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، مطہر البدء و التاریخ، قاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، کتاب البدء و التاریخ، چاپ کلمان ہوار، پاریس، 1899-1919۔
  • منتخب فضائل النبی و اہل بیتہ علیہم السلام من الصحاح الستۃ و غیرہا من الکتب المعتبرۃ عند اہل السنۃ، تقدیم: محمد بیومی مہران، بیروت: الغدیر، 1423/2002۔
  • نسائی، احمد بن علی، سنن النسائی، بشرح جلال‌الدین سیوطی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ۔
  • نرم افزار جامع الاحادیث، نسخہ 3/5 مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
  • نرم افزار نورالسیرہ 2، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور۔
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی انتشارات علمی و فرہنگی 1362
  • Madelung, W., The Succession to Muhammad, Cambridge, 1977.

بیرونی روابط

معصوم سوئم:
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
14 معصومین
امام حسن مجتبی علیہ السلام
معصوم پنجم:
امام حسین علیہ السلام
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام ہادی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام