امام حسن مجتبی علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
امام حسن مجتبی علیہ السلام
بقیع.JPG
منصب شیعوں کے دوسرے امام
نام حسنؑ بن علیؑ
کنیت ابو محمد
القاب سید، تقی، طیب، زکی، سبط
ولادت 15 رمضان، سن 3 ہجری۔
مولد مدینہ
مسکن مدینہ، کوفہ
والد امام علی
والدہ حضرت فاطمہ
ازواج ام بشیر، خولہ، ام اسحق، حفصہ، ہند، جعدہ۔
اولاد زید، ام الحسن، ام الحسین، حسن، عمرو، قاسم، عبداللہ، عبدالرحمن، حسین، طلحہ، فاطمہ، ام عبداللہ، ام سلمہ، رقیہ۔
شہادت 28 صفر، 50 ہجری۔
مدفن بقیع، مدینہ
عمر 48 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


حسن بن علی بن ابی طالب جو امام حسن مجتبیؑ(3-50ھ) کے نام سے مشہور ہیں، شیعوں کے دوسرے امام، حضرت علیؑ اور حضرت زہرا(س) کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ دس سال تک (40-50ھ) امامت اور تقریبا 7 مہینے تکے خلافت کے عہدے پر فائز رہے۔ اہل سنت آپ کو خلفائے راشدین میں سے آخری خلیفہ مانتے ہیں۔

تاریخی شواہد کی بنا پر آپ کا اسم گرامی "حسن"، پیغمبر اکرمؐ نے رکھا تھا اور حضورؐ آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزاری اور بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔

خلیفہ اول اور دوم کے زمانے میں آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص بات تاریخ میں ثبت نہیں۔ سوائے اس کے کہ خلیفہ دوم کی طرف سے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں بطور گواہ حاضر تھے۔ اسی طرح خلیفہ سوم زمانے کے بعض جنگوں میں بھی آپ کی شرکت کے حوالے سے تاریخ میں بعض شواہد ملتے ہیں۔ عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت کے دوران امام علیؑ کے حکم سے آپ عثمان کے گھر کی حظافت پر مأمور ہوئے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے میں آپ زخمی بھی ہوئے تھے۔ امام علیؑ کی خلافت کے دروان آپ اپنے والد گرامی کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے۔

21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کیں۔ معاویہ نے آپ کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور شام سے لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوئے۔ امام حسنؑ نے عبید اللہ بن عباس کی سربراہی میں ایک لشکر معاویہ کی طرف بھیجا اور آپؑ خود ایک گروہ کے ساتھ ساباط کی طرف روانہ ہوئے۔ معاویہ نے امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان مختلف شایعات پھیلا کر صلح کیلئے زمینہ ہموار کرنے کی کوشش کیا۔ یہاں تک کہ ایک خوارج کے ہاتھوں امام پر سوء قصد بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں آپؑ زخمی ہوئے اور علاج کیلئے آپ کو مدائن لے جایا گیا۔ اسی دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے معاویہ کو خط لکھا جس میں امامؑ کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کرنے یا آپ کو شہید کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ معاویہ نے کوفہ والوں کے خطوط کو بھی امامؑ کی طرف بھیجا اور آپ کو صلح کرنے کی پیشکش کی۔ امام حسنؑ نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت کو معاویہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوگا، اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے کا اور تمام لوگوں خاص کر شیعیان علیؑ کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا۔ لیکن بعد میں معاویہ نے مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ معاویہ کے ساتھ ہونے والے صلح کی وجہ سے بعض شیعہ آپ سے ناراض ہوگئے یہاں تک کہ بعض نے آپ کو "مذلّ المؤمنین" (مؤمنین کو خوار و ذلیل کرنے والا) کے نام سے یاد کرنے لگا۔

صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی مقام و منزلت کے حامل تھے۔

معاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کی بعنوان ولیعہد بیعت لینے کا ارادہ کیا تو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ کیلئے سو دینار بھیجا تاکہ وہ امام کو زہر دے کر شہید کریں۔ کہتے ہیں کہ آپؑ زہر سے مسموم ہونے کے 40 دن بعد شہید ہوئے۔ ایک قول کی بنا پر آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے اس کام سے منع کیا یوں آپ کو بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کسا کا چوتھا رکن جن کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر شیعہ ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ بھی آپؑ اور آپ کے والد، والدہ اور بھائی کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔

آپ نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ آپ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 دفعہ پیدل حج ادا کیا۔

آپؑ کی احادیث اور مکتوبات کا مجموعہ نیز آپ کے 138 راویوں کا نام مسند الامام المجتبیؑ نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔

مختصر تعارف

حسن بن علی بن ابی‌ طالب امام علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کے سب سے بڑے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔[1] آپ کا نسب بنی‌ہاشم اور قریش تک منتہی ہوتا ہے۔[2]

  • نام، کنیت اور القاب

"حَسَن" عربی زبان میں نیک اور اچھائی کے معنی میں آتا ہے اور یہ نام پیغمبر اکرمؐ نے آپ کیلئے انتخاب کیا تھا۔[3] بعض احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے یہ نام آپ کیلئے خدا کے حکم سے رکھا تھا۔[4]

"حسن" اور "حسین" عبرانی زبان کے لفظ "شَبَّر" اور "شَبیر"(یا شَبّیر)،[5] کے ہم معنی ہیں جو حضرت ہارون کے بیٹوں کے نام ہیں۔[6] اسلام حتی عربی میں اس سے پہلے ان الفاظ کے ذریعے کسی کا نام نہیں رکھا گیا تھا۔[7]

آپؑ کی کنیت "ابومحمد" اور "ابوالقاسم" ہیں۔[8] آپ کے القاب میں مجتبی(برگزیدہ)، سَیّد (سردار) اور زَکیّ (پاکیزہ) مشہور ہیں۔[9] آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں "سیّد شباب اہل الجنۃ"، "ریحانۃ نبیّ اللہ"[10] اور "سبط" ہیں۔[11] پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں یوں آیا ہے: "حسن" اسباط میں سے ایک ہے"۔[12] آیات و روایات کی رو سے "سبط" اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔[13]

امامت

حسن بن علی شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپؑ 21 رمضان سنہ 40ھ کو اپنے والد ماجد امام علیؑ کی شہادت کے بعد امامت کے عہدے پر فائز ہوئے اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔[14] شیخ کلینی(متوفی 329ھ) نے اپنی کتاب کافی میں امام حسنؑ کو منصب امامت پر نصب کئے جانے سے مربوط احادیث کو جمع کیا ہے۔[15] ان روایات میں سے ایک کے مطابق امام علیؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی اولاد اور شیعہ بزرگان کے سامنے اس کتاب اور تلوار کو اپنے فرزند ارجمند امام حسنؑ کو عطا فرمایا جو امامت کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنے بعد آپ کے فرزند "حسن بن علیؑ" کو اپنا جانیشن اور وصی مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔[16] ایک اور حدیث کے مطابق امام علیؑ نے کوفہ تشریف لے جانے سے پہلے امامت کی مذکورہ نشانیوں کو ام سلمہ کے حوالے فرمایا جسے امام حسنؑ نے کوفہ سے واپسی پر ام سلمہ سے اپنی تحویل میں لیا تھا۔[17] شیخ مفید (متوفی 413ھ) نے اپنی کتاب ارشاد میں یوں تحریر کیا ہے کہ حسن بن علیؑ ان کی خاندان میں اپنے والد ماجد امام علیؑ کے جانشین اور وصی ہیں۔[18]

اسی طرح آپؑ کی امامت پر رسول خدا سے نقل ہونے والی بعض احادیث بھی صراحتا دلالت کرتی ہیں: اِبنای ہذانِ امامان قاما او قَعَدا(ترجمہ این یہ میرے دونوں بیٹے(حسنؑ اور حسینؑ) تمہارے امام ہیں چاہے یہ قیام کریں یا صلح۔[19] اسی طرح حدیث ائمہ اثنا عشر[20] سے بھی آپ کی امامت پر استدلال کیا جاتا ہے۔[21]

امام حسنؑ اپنی امامت کے ابتدائی مہینوں میں جس وقت آپ کوفہ میں تشریف رکھتے تھے، منصب خلافت پر بھی فائز تھے لیکن بعد میں معاویہ کے ساتھ کے بعد خلافت سے دستبردار ہوئے خلافت سے کنارہ کشی کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔

انگوٹھی کا نقش

امام حسن مجتبیؑ کی انگشتری کے دو نقش منقول ہیں: الْعِزَّۃُ لِلَّہِ؛[22]۔[23] اور حَسْبِی اللَّہُ۔[24]

بچپن اور جوانی کا زمانہ

مشہور قول کی بنا پر آپ کی تاریخ ولادت 15 رمضان سنہ 3 ہجری ہے۔[25] لیکن بعض منابع میں آپ کی تاریخ ولادت سنہ 2 ہجری بھی لکھا گیا ہے۔[26] آپ مدینہ میں پیدا ہوئے[27]، پیغمبر اکرمؐ نے آپ کی کان میں اذان دی [28] اور ولادت کے ساتویں روز ایک گوسفند کے ذبح کر کے آپ کا عقیقہ کیا گیا۔[29]

بعض منابع کے مطابق امام علیؑ نے پیغمبر اکرمؐ کی توسط سے آپ کا نام "حسن" رکھنے سے پہلے اپنے بیٹے کا نام حمزہ[30] یا حرب[31] رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جب رسول خدا نے امام علی سے سوال کیا کہ اپنے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے تو آپ نے فرمایا میں اس کام میں خدا اور اس کے رسول پر پہلی نہیں کرونگا۔[32]

بچپن اور نوجوانی

آپ کی بچپن اور نوجوانی کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات میسر نہیں۔[33] آپ نے صرف آٹھ سال سے بھی کم عرصہ اپنے نانا رسول خداؐ کی زندگی کو درک کیا[نوٹ 1]اس بنا پر آپ کا نام پیغمبر اکرمؑ کے اصحاب کے آخری طبقے میں ذکر کیا جاتا ہے۔[34]

آپؑ اور آپ کے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی بے پناہ محبت کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت منابع میں بہت سی واقعات ذکر کی گئی ہیں۔[35]

آپ کی زندگی کے اس دور کا اہم ترین واقعہ اپنے والدین، بھائی اور نانا رسول خداؐ کے ہمراہ نجران کے عیسائیوں ساتھ ہونے والے مباہلے میں شرکت ہے اور آیہ مباہلہ میں موجود لفظ "اَبناءُنا" کا مصداق بنا۔[36] سید جعفر مرتضی کے بقول آپؑ بیعت رضوان میں بھی موجود تھے اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ نے بھی حضورؐ کی بیعت کیں۔[37] قرآن کی بعض آیات آپ اور اصحاب کساء کے دوسرے ارکان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔[38] کہا جاتا ہے کہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے نانا رسول خداؐ کے مجالس میں شرکت فرماتے اور جو کچھ حضورؐ پر وحی ہوتی اس بارے میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کو مطلع کرتے تھے۔[39]

سلیم بن قیس (متوفی پہلی صدی کے اواخر) نے نقل کیا ہے کہ رسول خداؐ کی رحلت کے بعد ابوبکر نے جب خلافت پر قبضہ کیا تو حسن بن علی اپنے والد ماجد امام علی، والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اور بہائی امام حسینؑ کے ساتھ رات کو انصار کے گھروں میں جاتے تھے اور ان کو حضرت علیؑ کی مدد کرنے کی دعوت دیتے تھے۔[40] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ آپ منبر رسول پر ابوبکر کے بیٹھنے کا مخالف تھا اور اس حوالے سے اپنی نارضایتی کا اظہار کرتے تھے۔[41]

جوانی

امام حسنؑ کے ایام جوانی سے متعلق معلومات انتہائی محدود ہیں، کتاب "الامامۃ و السیاسۃ" کے مطابق خلیفہ دوم کے حکم سے حسن بن علیؑ خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں گواہ کے عنوان سے حاضر ہوئے۔[42]

اہل سنت کے بعض منابع میں آیا ہے کہ حسنینؑ سنہ 26 ہجری قمری کو جنگ افریقیہ[43] اور سنہ 29 یا 30 ہجری قمری کو جنگ طبرستان[44] میں شریک تھے۔ البتہ ان احادیث کی صحت و سقم سے متعلق محدثین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ان احادیث کے سندی اشکالات اور ائمہ معصومین کی جانب سے فتوحات کی مخالفت پر منی طرز زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض علماء من جملہ جعفر مرتضی عاملی نے ان احادیث کو جعلی قرار دیئے ہیں اور اپنی بات کی تائید میں امام علیؑ کی طرف سے حسنینؑ کو جنگ صفین میں شرکت کی اجازت نہ دینے کو بطور شاہد پیش کیا ہے۔[45] ویلفرد مادلونگ کہتے ہیں کہ امام علیؑ اپنے فرزند ارجمند کو عالم جوانی میں جنگی امور سے آشنا کرکے ان امور سے متعلق آپ کے تجربات میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔[46] بعض علماء کا خیال ہے کہ حسنین شریفین کا خلفاء کے دور میں مختلف فتوحات میں شامل ہونا امت اسلامی کی مصلحت اور امام علیؑ کو اسلامی معاشرے کے گوشہ و کنار سے آگاہ کرنے نیز لوگوں کو اہل بیتؑ سے آشنا کرنے کیلئے تھا۔[47]

آپ کی زندگی کے اس دور سے متعلق نقل ہونے والے دیگر اہم واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ عثمان کے خلاف حضرت علیؑ کی خدمت میں شکایت لے آتے ہیں اس موقع پر امام علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کو عثمان کے پاس بھجتے ہیں۔[48] بعض منابع میں آیا ہے کہ عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں لوگوں نے ان کے خلاف شورش کی، ان کے گھر کو محاصرے میں لے لیا، ان پر پانی بند کر دیا اور آخر کار انہیں قتل کر دیا گیا ان تمام واقعات میں امام حسنؑ اپنے بھائی امام حسینؑ اور دیگر جوانان بنی ہاشم کے ساتھ امام علیؑ کے حکم سے عثمان کے گھر کی حفاظت پر مأمور تھے۔[49] قاضی نعمان مغربی (متوفی 363ھ) جو کتاب دلائل الامامۃ کے مصنف بھی ہیں کے بقول جب شورشیوں نے عثمان پر پانی بند کر دیا تو امام حسنؑ اپنے والد ماجد امام علیؑ کے حکم پر عثمان کے گھر پانی پہنچاتے تھے۔[50] بعض منابع میں اس واقعے میں آپ کے زخمی ہونے کے اطلاعات بھی موجود ہیں۔[51]

ازواج اور اولاد

اصل مضمون: ازواج امام حسن

امام حسنؑ کی ازواج کی تعداد کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تاریخی میں آپ کے صرف 18 ازواج کا نام درج ہے،[52] ان کی تعداد 250،[53] 200،[54] 90[55] اور 70[56] تک بیان کی گئی ہیں۔

بعض منابع میں آپ کو شادی اور طلاق کی کثرت کی وجہ سے "مِطلاق" (بہت زیادہ طلاق دینے والا) کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔[57] اس کے علاوہ آپ کی بعض کنیزیں بھی تھیں جن سے آپ صاحب فرزند بھی تھے۔[58]

البتہ آپ کو "مطلاق" کہنے والی بات کو بعض پرانے اور معاصر منابع میں تاریخی، سندی اور محتوایی اعتبار سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔[59]

مادلونگ کے بقول پہلا شخص جس نے یہ شایع کیا تھا کہ امام حسنؑ کی زوجات کی تعداد 90 ہیں، وہ "محمد بن کلبی" تھا اور یہ تعداد "مدائنی" (225ھ) کی جعلیات میں سے تھی۔ اس کے باوجود خود کلبی نے آپ کی گیارہ زوجات کا نام لیا ہے جن میں سے 5 کا امام کی ازواج میں سے ہونا بھی مشکوک ہے۔[60] قرشی اس خبر کو بنی عباس کا سادات حسنی کے مقابلے میں اٹھایا جانے والے اقدامات میں شمار کرتے ہیں۔[61]

آپ کی اولاد کی تعداد میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیخ مفید نے آپ کی اولاد کی تعداد 15 ذکر کئے ہیں۔[62]

ازواج اولاد
جعدہ ...
ام بشیر زید، ام الحسن و ام الحسین
خولہ حسن مثنی
حفصہ ...
ام اسحاق حسین، طلحہ و فاطمہ
ہند ...
نَفیلہ یا رَملہ عمر، قاسم و عبداللہ
بعض دیگر ازواج عبدالرحمن، ام عبداللہ، ام سلمہ و رقیہ

طبرسی نے امام حسنؑ کی اولاد کی تعداد 16 بتاتے ہوئے ابوبکر کو بھی آپ کی اولاد میں شمار کیا ہے جو واقعہ عاشورا میں شہید ہوئے تھے۔[63]

  • نسل امام حسن
اصل مضمون: سادات حسنی

نسل امام حسنؑ حسن مثنی، زید، عمر اور حسین اثرم سے چلی ہے۔ حسین اور عمر کی نسل کچھ عرصہ بعد ختم ہوئی اور صرف حسن مثنی اور زید بن حسن کی نسل باقی رہی،[64] جنہیں سادات حسنی کہا جاتا ہے۔[65] آپ کی نسل سے بہت ساری شخصیات نے دوسری اور تیسری صدی کے دوران بنی عباس کی حکومت کے خلاف مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں کی قیادت کی اور اسلامی دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں مختلف حکومتیں قائم کی ہیں۔ یہ شخصیات بعض مناطق میں شُرَفاء کے نام سے معروف‌‌ تھے۔[66]


امام علی کا دور خلافت اور کوفہ میں قیام

امام حسن مجتبیؑ امام علیؑ کے چار سالہ دور خلافت میں شروع سے لے کر آخر تک اپنے والد گرامی کے ساتھ رہے۔[67] کتاب الاختصاص کے مطابق حسن بن علیؑ نے لوگوں کی طرف سے امام علیؑ کی بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کے بعد اپنے والد ماجد کے حکم سے ممبر پر تشریف لے جا کر لوگوں سے خطاب فرمایا۔[68] وقعۃ صفین نامی کتاب کے مطابق امام علیؑ کا کوفہ میں آنے کے پہلے دن سے ہی حسن بن علی بھی اپنے والد ماجد کے ساتھ کوفہ میں قیام پذیر ہوئے۔[69]

جنگ جمل میں

اصل مضمون: جنگ جمل

ناکثین کی عہد شکنی اور شورش کے بعد امام علیؑ لشکر لے کر ان کا مقابلہ کرنے کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں امام حسنؑ نے امام علیؑ کو اس جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی۔[70] [نوٹ 2]شیخ مفید (متوفی413ھ) کے مطابق امام حسنؑ اپنے والد گرامی کی طرف سے عمار بن یاسر اور قیس بن سعد کے ساتھ کوفہ جا کر لوگوں کو امام علیؑ کے لشکر میں شامل ہونے کیلئے آمادہ کرنے پر مأمور ہوئے۔[71] آپ نے کوفہ میں لوگوں سے خطاب کیا اور امام علیؑ کے فضائل اور آپ کے مقام و منزلت نیز ناکثین (طلحہ‌ و زبیر) کی عہد شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں کو امام علیؑ کی مدد کرنے کی درخواست کی۔[72]

جنگ جمل میں جب عبداللہ بن زبیر نے امام علیؑ پر عثمان کے قتل کی تہمت لگائی تو امام حسنؑ نے ایک خطبہ دیا جس میں عثمان کے قتل میں طلحہ اور زبیر کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کیا۔[73] امام حسن مجتبیؑ اس جنگ میں لشکر اسلام کے دائیں بازو کی سپہ سالاری کر رہے تھے۔[74] ابن شہر آشوب سے منقول ہے کہ امام علیؑ نے اس جنگ میں اپنا نیزہ محمد حنفیہ کو دیا اور عایشہ کی اونٹنی کو مار دینے کا کہا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اس کے بعد امام حسنؑ نے اس کام کی ذمہ داری سنبھالی اور عایشہ کی اونٹنی کو زخمی کرنے میں کامیاب ہوئے۔[75] بعض منابع میں آیا ہے کہ جنگ جمل کے بعد امام علیؑ بیمار ہوئے اس موقع پر آپ نے بصرہ میں نماز جمعہ پڑھانے کی ذمہ داری امام حسنؑ کے سپرد کیا۔ آپ نے نماز جمعہ کے خطبے میں اہل بیتؑ کے مقام و منزلت اور ان کے حق میں کوتاہی کرنے کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔[76]

جنگ صفین میں

اصل مضمون: جنگ صفین
جنگ صفین میں امام علیؑ کا امام حسنؑ کے بارے میں ارشاد

اس جوان کو [جنگ کے قصد سے] روکو کہیں یہ میری کمر نہ توڑ دیں۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں موت ان دونوں (حسنؑ اور حسینؑ) کو اپنی آغوش میں نہ لے لیں جس سے رسول خداؐ کی نسل منطقع ہو جائے گی۔

نہج البلاغۃ، ترجمہ شہیدی، ص۲۴۰.

نصر بن مزاحم (متوفی 212ھ) کے بقول امام حسنؑ نے صفین کی طرف لشکر کے روانہ ہونے سے قبل ایک خطبہ دیا جس میں لوگوں کو جہاد کی ترغیب دی۔[77] بعض احادیث کے مطابق جنگ صفین میں آپ اپنے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ لشکر کے دائیں بازو کی سپہ سالاری کر رہے تھے۔[78] اسکافی (متوفی 240ھ) نقل کرتے ہیں کہ جب حسنؑ بن علیؑ کا جنگ کے دوران لشکر شام کے کسی بزرگ سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے امام حسنؑ کے ساتھ لڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا میں نے رسول خداؐ کو اونٹ پر سوار ہو کر میری طرف آتے دیکھا اور آپ ان کے آگئے اسی اونٹ پر سوار تھے۔ میں نہیں چاہتا رسول خداؐ سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ آپ کا خون میرے گردن پر ہو۔[79]

کتاب وقعۃ صفین میں آیا ہے کہ عبیداللہ بن عمر (فرزند خلیفہ دوم) نے حسن بن علیؑ سے ملاقات میں آپ کو اپنے والد گرامی کی جگہ خلافت قبول کرنے کی پیشکش کی کیونکہ قریش علیؑ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ امام حسنؑ نے جواب میں فرمایا: خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔اس کی بعد فرمایا: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم آج یا کل مارے جاؤگے اور شیطان نے تمہیں دھوکا دیا ہوا ہے۔ مذکورہ کتاب کے مطابق عبیداللہ بن عمر اسی جنگ میں مارا گیا۔[80] جنگ کے خاتمے اور حکمیت کے واقعے پر بعد امام حسنؑ نے اپنے والد ماجد کے حکم سے لوگوں سے خطاب فرمایا۔[81]

صفین سے واپسی پر راستے میں امام علیؑ نے اخلاقی تربیتی موضوع پر مشتمل ایک خط اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام لکھا،[82] جو نہج البلاغہ میں مکتوب نمبر 31 کے عنوان سے آیا ہے۔[83]

کتاب "الاستیعاب" میں آیا ہے کہ حسن بن علیؑ نے جنگ نہروان میں بھی شرکت کی۔[84]

اس دور سے متعلق دیگر واقعات میں سے ایک امام علیؑ کی وصیت کے تحت آپ کی جانب سے انجام پانے والے خیریہ امور جیسے وقف اور صدقات وغیرہ کی نگرانی آپؑ بعد امام حسنؑ کے سپرد کیا جانا ہے۔[85] کافی کے مطابق یہ وصیت 10 جمادی الاولی سنہ 37ھ کو لکھی گئی۔[86] بعض احادیث میں آیا ہے کہ امام علیؑ اپنی زندگی کے آخری ایام میں معاویہ کے ساتھ مقابلہ کیلئے دوبارہ تیاری کر رہے تھے جس میں آپ نے اپنے بیٹے امام حسنؑ کو اپنی فوج کے دس ہزار نفری کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔[87]

خلافت کا مختصر دور

امام حسن مجتبیؑ 21 رمضان سنہ 40ھ[88] کو اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد 6 سے 8 مہینے تک خلافت کے عہدے پر فائز رہے۔[89] اہل سنت پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ایک حدیث کی رو سے آپ کو خلفائے راشدین میں سے آخری خلیفہ جانتے ہیں۔[90] آپ کی خلافت عراق کے لوگوں کی بیعت اور دوسرے مناطق کی حمایت سے شروع ہوئی۔[91] لیکن شام والوں نے معاویہ کی قیادت میں اس بیعت کی مخالفت کی۔[92] معاویہ لشکر لے کر شام سے اہل عراق کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے روانہ ہوا۔[93] آخر کار یہ جنگ امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان صلح نیز خلافت کو معاویہ کے سپرد کرنے کے ساتھ اختتام ہوا یوں معاویہ خلافت بنی کا پہلا خلیفہ بن گیا۔[94]

مسلمانوں کی بیعت اور اہل شام کی مخالفت

شیعہ اور اہل سنت منابع کے مطابق امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد سنہ 40ھ کو مسلمانوں نے حسن بن علیؑ کی بعنوان خلیفہ بیعت کیں۔[95] بلاذری (متوفی 279ھ) کے مطابق عبید اللہ بن عباس پیکر امام علیؑ کو دفن کرنے بعد لوگوں کے درمیان آئے اور آپ کی شہادت سے لوگوں کو باخبر کرتے ہوئے کہا: آپ ایک شایستہ اور بردبار جانشین ہماری درمیان چھوڑ کر گئے ہیں۔ اگر چاہیں تو ان کی بیعت کریں۔[96] کتاب الارشاد میں آیا ہے کہ 21 رمضان جمعہ کے دن صبح کو حسن بن علیؑ نے مسجد میں ایک خطبہ دیا جس میں اپنے والد گرامی کی شایستگی اور فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ اپنی قرابتداری، اپنی ذاتی کمالات نیز اہل بیت کے مقام و منزلت کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان فرمایا۔[97] آپ کی تقریر کے بعد عبداللہ بن عباس اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے یوں مخاطب ہوا: اپنے نبی کے بیٹے اور اپنے امام کی جانشین کی بیعت کریں۔ اس کے بعد لوگوں نے نے آپ کی بعنوان خلیفہ بیعت کیں۔[98] منابع میں آپ کی بیعت کرنے والوں کی تعداد 40 ہزار سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔[99] بعض منابع کے مطابق قیس بن سعد بن عبادہ جو لشکر امام علیؑ کے سپہ سالار تھے نے سب سے پہلے امام حسنؑ کی بیعت کی۔[100]

حسین محمد جعفری اپنی کتاب تشیع در مسیر تاریخ میں کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کے بہت سارے اصحاب جو اس وقت کوفہ میں مقیم تھے، نے امام حسنؑ کی بیعت کی اور انہیں بطور خلیفہ قبول کیا۔[101] جعفری بعض قرائن و شواہد کی بنا پر کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے مسلمان بھی حسن بن علیؑ کی بیعت میں عراق والوں کے ساتھ موافق تھے اور صرف آپ کو اس مقام کیلئے سزاوار جانتے تھے۔[102] وہ کہتے ہیں کہ یمن اور فارس کے لوگوں نے بھی اس بیعت کی تائید کی تھی یا کم از کم اس کے مخالف نہیں تھے۔[103]

بعض منابع میں آیا ہے کہ بیعت کے وقت بعض شرائط کا بھی ذکر کیا گیا تھا، کتاب "الامامۃ و السیاسۃ" کے مطابق انہی شرائط کے ضمن میں جسن بن علیؑ نے لوگوں سے کہا: آیا میری اطاعت کرنے کی بیعت کرتے ہو؟۔ آیا جس سے میں جنگ کروں اس سے جنگ اور جس سے میں صلح کروں اس سے صلح کروگے؟ لوگ ان باتوں کو سننے کے بعد شک و تردید میں پڑ گئے اور حسین بن علیؑ کے پاس گئے تاکہ ان کی بیعت کی جائے، لیکن آپ نے فرمایا: میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں جب تک میرے بھائی حسنؑ زندہ ہیں تم لوگوں سے بیعت نہ کروں۔ اس کے بعد لوگ دوبارہ حسن بن علیؑ کے پاس لوت آئے اور ان کی بیعت کیں۔[104] طبری (متوفی 310ھ) کہتے ہیں: قیس بن سعد نے بیعت کرتے وقت یہ شرط رکھی کہ آپ کتاب خدا اور سنت پیغمبر پر عمل کریں گے اور ان لوگوں سے جنگ کریں گے جو مسلمانوں کا خون حلال سمجھتے ہیں۔ لیکن امام حسنؑ نے صرف کتاب خدا اور سنت رسول پر عمل پیرا ہونے کی شرط کو قبول کیا اور دوسری شرط کو پہلے شرط سے ماخوذ قرار دیا۔[105] اس طرح کے مختلف واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ امام حسنؑ ایک صلح پسند اور جنگ‌ گریز شخیت کے مالک تھے اور آپ کی سیرت اپنے والد گرامی اور بھائی امام حسینؑ سے مختلف تھی۔[106]

رسول جعفریان معتقد ہیں کہ ان شرائط کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حسن بن علیؑ ابتداء سے ہی جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ ان شرائظ کو ذکر کرنے کا اصلی مقصد اسلامی معاشرے کے رہبر اور پیشوا کے حق حاکمیت کو زندہ کرنا تھا تاکہ آئندہ پیش آنے والے مسائل میں آزادی کے ساتھ تصمیم گیری کر سکیں۔ اسے کے علاوہ خلافت پر فائز ہونے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ معاویہ کے ساتھ جتگ کرنے پر زیادہ مصر تھے۔[107] بعد احادیث میں آیا ہے کہ امام حسنؑ کے خلافت پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلا اقدام سپاہیوں کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ تھا۔[108]

معاویہ کے نام امام حسنؑ کے خط کا ایک حصہ

جب پیغمبر اکرمؐ رحلت فرما گئے تو عربوں نے ان کی جانشینی پر اختلاف کھڑا کیا، قریشیوں نے کہا: ہم پیغمبرؐ کے ہم قوم اور رشتہ دار ہیں لہذا ان کی جانشینی پر ہم سے اختلاف سزاوار نہیں۔ عربوں نے قریش والوں کی اس دلیل کو قبول کیا لیکن جب ہم نے قریش والوں سے وہی کہا جو انہوں نے دوسرے عربوں سے کہا تھا تو انہوں نے عربوں کے بر خلاف ہمارے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا۔ اے معاویہ آج اس منصب کی طرف تمہاری نظریں اٹھنے سے سب کو حیرت میں ڈھوبنا چاہئے کیونکہ تم اس کا اہل ہی نہیں ہو، تم اسلام مخالف ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہو، قریش میں رسول خداؐ کے سب سے بدترین دشمن تم ہو۔ جب حضرت علیؑ شہید ہوئے تو مسلمانوں نے خلافت میرے حوالے کئے ہیں۔ پس باطل سے ہاتھ اٹھا کر میری بیعت کرو اور تم خود اس بات کو اچھی طرح جانتے ہو کہ اس منصب کیلئے خدا کے نزدیک میں سب سے زیادہ سزاوار ہوں۔

ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۴۔
امام حسنؑ کے نام معاویہ کے خط کا ایک حصہ

اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ تہذیب، امت اسلام کی مصلحت اندیشی، سیاست، اور مال و دولت جمع کرنے نیز دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مجھ سے بہتر اور طاقتور ہوتے تو میں آپ کی بیعت کرتا لیکن چونکہ میں ایک طولانی مدت تک بر سر اقتدار رہنے کی وجہ سے زیادہ باتجریہ اور سیاستمدار ہوں نیز عمر کے لحاظ سے بھی میں آپ سے بڑا ہوں پس سزاوار ہے کہ آپ میری حاکمیت کو قبول کریں۔

ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۷۔

معاویہ کے ساتھ جنگ اور صلح

امام حسنؑ کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ معاویہ کے ساتھ جنگ تھا جو صلح پر اختتام پذیر ہوا۔[109] جب عراق کے مسلمانوں نے امام حسنؑ کی بیعت کی تو دوسرے اسلامی مناطق من جملہ حجاز، یمن اور فارس[110] والوں نے اس بیعت کی تائید اور حمایت کی لیکن شام والوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے معاویہ کی بیعت کی۔[111] معاویہ شام والوں کی اس بیعت کو قانونی اور شرعی شکل دینے کا ارادہ رکھا تھا جسے وہ اپنی تقاریر اور امام حسنؑ کے ساتھ ہونے والے خط و کتابت میں برملا اظہار کرتا تھا۔[112] معاویہ جو عثمان کے قتل کے بعد خلافت کیلئے پر طول رہا تھا،[113] لشکر لے کر شام سے عراق کی طرف روانہ ہو گیا۔[114] تاریخی قرائن و شواہد کے مطابق امام حسنؑ نے اپنے والد گرامی کی شہادت اور عراق والوں کی آپ کے ہاتھ پر بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کے 50 دن تک جنگ یا صلح کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔[115] لیکن جب آپ کو معاویہ کے شام سے حرکت کرنے کی خبر دی گئی تو آپ بھی لشکر لے کر کوفہ سے راونہ ہو گیا اور عبیداللہ بن عباس کی سربراہی میں ہراول دستہ معاویہ کی طرف روانہ کیا۔[116]

دونوں سپاہیوں کے درمیان جنگ

دونوں سپاہیوں کے درمیان پہلی تصادم کے بعد جس میں معاویہ کے سپاہیوں کو شکست ہوئی، معاویہ نے رات کی تاریکی میں عبیداللہ کو یہ پیغام بھیجا کہ حسن بن علیؑ نے مجھے صلح کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ خلافت میرے حوالے کرے گا۔ ساتھ ساتھ معاویہ نے عبیدالله کو ایک میلین درہم دینے کا بھی وعدہ دیا یوں عبیدالله معاویہ کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بعد قیس بن سعد نے لشکر کی کمانڈ سنبھالی۔[117] بلاذری (متوفی 279ھ) کے مطابق عبیداللہ کے معاویہ کی طرف جانے کے بعد معاویہ اس خیال سے کہ اب امام حسنؑ کا لشکر کمزور ہ گیا ہے، ان پر بھر پور حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن امام کے سپاہیوں نے قیس کی قیادت میں شامیوں کو شکست دیا۔ معاویہ نے قیس کو بھی عبیداللہ کی طرح لالچ دے کر اسے بھی راستے سے ہٹانا چاہا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوا۔[118]

ساباط میں امام کی صورت حال

امام حسنؑ بعض سپاہیوں کے ساتھ ساباط تشریف لے گئے۔ شیخ مفید کے مطابق امام حسنؑ نے لوگوں کو آزمانے کیلئے ایک خطبہ دیا جس میں فرمایا: "میں تمہارے حق میں جدائی اور تفرقہ کی نسبت وحدت اور ہمدلی کو بہتر سمجھتا ہوں جسے تم لوگ پسند نہیں کرتے...؛ جو تدبیر میں نے تمہارے لئے سوچا ہے وہ اس تدبیر سے بہتر ہے جسے تم نے انتخاب کیا ہے..."

امام کے ان کلمات کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا پس حسن بن علیؑ معاویہ کے ساتھ صلح کر کے خلافت معاویہ کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی بہانے بعض لوگوں نے امام کے خیمے پر حملہ کیا اور اسے غارت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ امامؑ کی جائے نماز تک کو بھی آپ کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ کر لے گئے۔[119] لیکن یعقوبی (متوفی 292ھ) کے مطابق اس حادثے کی علت یہ تھی کہ معاویہ نے مذاکرات کیلئے چند لوگوں کو امام حسنؑ کے پاس بھیجا تھا۔ ان لوگوں نے جب امام کے پاس سے واپس آئے تو بلند آواز میں لوگوں تک آواز پہنچاتے ہوئے ایک دوسرے سے کہا: خدا نے فرزند رسول خدا کے توسط سے مسلمانوں کے خون کی حفاظت فرمایا اور فتنہ کو خاموش کیا اور حسن بن علیؑ نے صلح کو قبول کیا۔ جب باتیں امام کے سپاہیوں نے سنی تو وہ غصے میں آگئے اور امام کے خیمے پر حملہ آور ہوئے۔[120] اس واقعے کے بعد امامؑ کے اصحاب نے آپ کی حفاظت اپنے ذمے لئے لیکن رات کی تاریکی میں ایک خارجی[121] آپ کے قریب آیا اور کہا: اے حسن آپ مشرک ہو گئے ہو جس طرح آپ کے والد علی بن ابی طالب مشرک ہو گئے تھے؛ یہ کہہ کر اس نے ایک خنجر سے امام پر وار کیا جس سے امام کا ران زخمی ہوا اور آپ گھوڑے سے زمین پر گر پڑے۔[122] وہاں سے آپ کو مدائن لے جایا گیا جہاں پر آپ زخم ٹھیک ہونے تک سعد بن مسعود ثقفی کے گھر مقیم رہے۔[123]

معاویہ اور امام حسنؑ کے درمیان جنگ آخر کار صلح کی قرارداد پر طرفین کے دستخط کے اختتام پذیر ہوئی۔ رسول جعفریان کے مطابق لوگوں کی جنگ سے خستگی، زمانے کا تقاضا اور شیعوں کی حفاظت امام حسنؑ کو صلح قبول کرنے پر مجبور کیا۔[124] اس قرارداد کے مطابق خلافت معاویہ کے سپرد کیا گیا۔[125]

معاویہ سے صلح کا واقعہ

صلح سے شہادت تک

امام حسن صلح کے بعد مدینہ چلے گئے اور مدینہ میں آپ علمی، دینی، معاشرتی اور سیاسی مرجعیت کے حامل تھے۔ آپ نے مدینہ اور دمشق میں معاویہ اور اس کے حامیوں کے خلاف موقف اپنایا اور معاویہ کے ساتھ کئی بار مناظرے کئے جنہیں طبرسی نے اپنی کتاب الاحتجاج میں جمع کیا ہے۔ [126]

امام حسنؑ نے مسلمانوں کی جان کے تحفظ اور دین کا پرنور چہرہ مخدوش ہونے سے بچانے کی خاطر، معاویہ کے ساتھ معاہدہ صلح پر دستخط کئے تو آپؑ نے اپنی حیات طیبہ کے دشوار ترین دور کا آغاز کیا؛ دوستوں کی ملامت، سیاسی روابط کی رعایت، بیان ناہونے والے والے حالات میں شیعیان اہل بیت کی امامت کے بہت سے دوستوں کی شہادت یا دور ہوجانا، اس دور کی سختیوں میں شامل ہیں۔

امام حسنؑ کی حیات طیبہ کا یہ دور، ظاہری گوشہ نشینی اور خانہ نشینی کے باوجود آن جنابؑ کی زندگی کا مؤثر ترین اور دشوار ترین دور سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف سے شیعوں کی امامت کی ذمہ داری آپ(عج) کے دوش پر تھی اور دوسری طرف سے نئی سیاسی صورت حال اور معاویہ کے ساتھ روابط میں آنے والی تبدیلیاں، آپؑ کو شیعیان آل رسولؐ کے مسائل دیکھنے اور حل کرنے میں مشکل سے دوچار کررہی تھیں۔

امام حسنؑ صلح کے بعد لوگوں کے درمیان حاضر ہوئے اور ایک خطبے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا: معاویہ نے آپؑ کے مسلّمہ حق میں آپؑ کے ساتھ نزاع کیا ہے اور صلح کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں نے لوگوں کی جان کے تحفظ اور خونریزی کا راستہ روکنے کے لئے صلح کرلی۔[127][128] معاویہ نے بھی صلح کے بعد اور کوفہ میں اپنی پہلی موجودگی کے وقت، خطاب کرتے ہوئے امامؑ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو مکمل طور پر پامال کرکے رکھ دیا اور دعوی کیا کہ امام حسنؑ صلح کے خواہاں تھے اور پھر امیرالمؤمنینؑ کے خلاف زبان درازی کی جس کے بعد امام حسنؑ نے خطبہ دیتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور فصیح و بلیغ کلام سے معاویہ کو اپنے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی توہین کا جواب دیا۔[129][130]

معاویہ امامؑ کی منزلت سے آگاہ تھا چنانچہ بظاہر آپؑ کی حرمت کا خیال رکھتا تھا؛ بطور مثال ایک بار ـ جب زیاد بن ابیہ کوفہ کا والی تھا ـ تو معاویہ نے اس کی طرف سے امامؑ کے ایک صحابی کو آزار و اذیت پہنچائے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایک خط کے ذریعے اس کو غیر شائستہ اور نازیبا حرکتوں سے باز رکھا۔ ایک دفعہ زیاد نے امامؑ کے خط کا جواب نازیبا انداز سے دیا تھا تو آپؑ نے اس کے خط کا تاریخی جواب دینے کے ساتھ ساتھ، معاویہ کو بھی واقعے سے آگاہ کیا تھا اور معاویہ نے امامؑ کے مطالبے کے مواقق، زیاد کی شدید مذمت کی۔

امامؑ کی تنقید کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ معاویہ اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کے اقتدار کے لئے ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا؛ اور یہ مسئلہ امامؑ کی کڑی تنقید کا نشانہ بنا کیونکہ آپؑ ہرگز راضی نہیں ہوسکتھے تھے کہ ایک لا ابالی شرابخور نوجوان شخص کو ایک عظیم مسند پر بٹھایا جائے اگرچہ امامؑ نے معاویہ کی نسبت آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر کا کردار ادا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھائی؛ حتی کہ بعض مواقع پر معاویہ کو قرآن و سنت رسولؐ کی پیروی کی دعوت دیتے تھے۔[131]

جب کہ امام معصوم کی تنقید کا معاویہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اور آپؑ کے مطالبات کو توجہ نہیں دی جاتی تھی لیکن آپؐ کا رویہ معاویہ کی حیات تک مقابلے پر مبنی نہیں تھا اور اسی بات پر تاکید فرمایا کرتے تھے۔ امامؑ نے کوفہ سے مدینہ جاتے ہوئے اپنے اصحاب کو دعوت دی کہ مناسب وقت کے لئے تیاری کریں۔[132]

ایک دفعہ جب ہوازن کے کچھ لوگوں نے "ستورد بن عُلفہ" کی قیادت میں معاویہ کے خلاف خروج کیا اور معاویہ جنگ کی تیاری کرنے لگا تو اس نے امام حسنؑ سے اپنی تائید و حمایت کی درخواست کی؛ وہ در حقیقت امامؑ کے اپنے ساتھ کھڑا کرنا ضروری سمجھتا تھا لیکن امامؑ نے نہایت فھم و ذکاوت کا ثبوت دیتے ہوئے، کافروں کے خطاکاروں سے جدا کرنے کے سلسلے میں امیرالمؤمنینؑ کے کلام سے استفادہ کیا[133] اور معاویہ کی پیروی اور اس کی درخواست قبول کرنے کو ضروری نہیں سمحھا جبکہ آپؑ کے اس موقف سے معاویہ کے ساتھ روابط کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔[134][135]

روایت ہے کہ معاویہ نے ظاہری طور پر قابل قبول رویہ اپنانے کے برعکس خفیہ طور پر شیعیان علیؑ کے تعاقب اور گرفتاری اور منبروں پر امیرالمؤمنینؐ کی شان میں سب و شتم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ کوفہ میں زیاد بن ابیہ کی بحیثیت والی تعیناتی کا مقصد بھی یہی تھا۔

امامؑ کے اصحاب جن میں سے بعض صحابہ رسول کے زمرے میں شمار ہوتے تھے وہ معاویہ اور اس کے جیسے زیاد بن ابیہ جیسے والیوں کا رویہ دیکھ کر کبھی کبھی اعتراض کر دیتے تھے نیز وہ ہمیشہ حکومت کی طرف سے آزار و تشدد کا نشانہ بنتے تھے۔ عمرو بن حمق خزاعی کو اپنی عمر کے آخری عشروں میں جس طرز سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اس حقیقت کی ناقابل انکار مثال ہے، عمرو نے معاویہ کے رویوں پر تنقید کی تو ان کی گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے اور کوفہ کے قید خانے میں شہید کئے گئے اور ان کا سر معاویہ کے لئے بھجوایا گیا اور بعض روایات کے مطابق، اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو کسی حکمران کے لئے بھجوایا گیا۔[136][137][138]

امام حسنؑ کو اپنے نانا کے اور والد گرامی کے ساتھی اور صحابی جناب عمرو بن حمق کی شہادت کی خبر ملی تو ایک خط کے ذریعے معاویہ کی شدید مذمت کی۔[139] معاویہ کی عہد شکنی کے دیگر نمونوں میں حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اس کی بدسلوکی شامل ہے جو کوفہ میں معاویہ اور اس کے والی کے کرتوتوں پر تنقید کے نتیجے میں گرفتار اور دمشق روانہ اور آخر کار شہید کئے گئے۔[140] خلاف ورزیوں اور معاویہ کے ہاتھ قتل ہونے والے شہداء کی اس فہرست میں امیرالمؤمنینؑ کے پارسا اور زاہد صحابی جناب رشید ہجری کا نام بھی درج ہوا ہے جنہیں صلح نامے کے نکات کے ضمن میں امام حسنؑ کی مرضی کے برعکس، شہید کیا گیا۔[141]

بحیثیت مجموعی، حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی حیات طیبہ کا آخری مرحلہ ـ حجاز اور دمشق کے درمیان کئی بار آمد و رفت پر مشتمل ہے ـ[142] نہایت دشوار مرحلہ تھا اور امامؑ نے فھم اور صبر و استقامت سے اس مرحلے کو طے کیا اور عملی طور پر اپنے بھائی امام حسینؑ کی امامت کے لئے حالات فراہم کیا۔

بعض امویوں کا مقابلہ

شہادت

مرقد امام حسن مجتبیؑ در قبرستان بقیع

قول مشہور کے مطابق امام حسنؑ کی شہادت سنہ 50 ہجری میں واقع ہوئی۔[143][144][145] آپؑ کی تاریخ شہادت سے متعلق زیادہ تر روایات سے صفر کے آخری ایام[146]، بطور خاص 28 صفر المظفر کا اشارہ ملتا ہے جبکہ بعض روایات میں 7 صفر المظفر کو[147]، حتی بعض میں ربیع الاول کے ایک دن کو[148] کو امام ؑ کا روز وفات قرار دیا گیا ہے۔ شیخ مفید کے مطابق، امام حسنؑ شہادت کے وقت 48 سال کے تھے۔[149] اگرچہ روز وفات کے سلسلے میں اختلاف روایات کے تناسب سے آپؑ کی مدت عمر کے متعلق بھی اختلاف ہے۔[150]


زیادہ تر شیعہ اور سنی مآخذ کے نزدیک امام حسنؑ کو زہر دلوا کر شہید کیا گیا۔[151][152] اگرچہ بعض غیر شیعہ مآخذ میں کہا گیا ہے کہ امامؑ کی موت طبیعی تھی اور آپؑ بیماری کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔[153][154]

روایت کے مطابق معاویہ نے کسی شخص کو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کے پاس روانہ کیا اور اس کو وعدہ دلوایا : " اگر تم حسن کو زہر دے دو تو میں تمہیں اپنے بیٹے یزید کے حبالۂ نکاح میں لاؤں گا"؛معاویہ نے اس کے لئے ایک لاکھ درہم کی پیشگی رشوت بھی بھجوائی۔[155] چنانچہ جعدہ نے امامؑ کو زہر دیا اور معاویہ کی بھجوائی ہوئی رقم بھی اسے مل گئی[156]؛ لیکن معاویہ نے اسے یزید کے حبالہ نکاح میں لانے سے انکار کیا۔ ادھر محمد بن سعد زہری سے منقول ہے کہ امام حسنؑ اپنے کسی خادم کے ہاتھوں مسموم ہوئے ہیں۔[157] ایک اور نقل کے مطابق یہ عمل معاویہ کی ترغیب پر امامؑ کی زوجہ سہیل بنت عمرو کے ہاتھوں انجام پایا[158] بلاذری نے امام حسن کی ازواج میں اس کا نام ہند بنت سہیل بن عمرو ذکر کیا تھا[159]۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس دور میں معاویہ امام حسنؑ کو اپنے بیٹے یزید کی ولیعہدی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا، لہذا معاویہ کی ترغیب پر جعدہ بنت اشعث کے ہاتھوں آپؑ کی شہادت کی روایت زیادہ معتبر نظر آتی ہے۔[160]

معاویہ نے کئی بار امام حسنؑ کو زہر لوا کر قتل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔[161][162][163] یعقوبی لکھتے ہیں: "امام حسنؑ نے شہادت کے وقت اپنے بھائی امام حسینؑ سے فرمایا: مجھے تیسری مرتبہ زہر دیا گیا ہے لیکن اس بار میری مسمومیت پہلے کی مانند نہیں ہے، اور میں آج دنیا سے اٹھنے والا ہوں، پس جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو مجھے نانا رسول اللہؐ کے پہلو میں دفن کرنا، کیونکہ کوئی بھی میرے نانا سے قربت کے حوالے سے مجھ سے زیادہ اہلیت نہیں رکھتا، سوا اس کے کہ آپ کو اس کام سے روکا جائے؛ کہ اگر آپ کو روکا گیا تو ایک حجامت جتنی خونریزی سے بھی پرہیز کرنا[164]

تدفین

شیخ طوسی کی منقولہ روایت کے مطابق[165] امام حسنؑ نے بھائی امام حسینؑ کو وصیت کی تھی کہ آپؑ کو مدفن رسولؐ میں سپرد خاک کریں۔لیکن اگر کسی نے اس اقدام کے سامنے رکاوٹ ڈالی تو ہرگز اصرار نہ کریں اور ہرگز خونریزی نہیں ہونی چاہئے۔ ایک دوسری نقل کے مطابق امام حسنؑ نے وصیت کی تھی کہ غسل کے بعد آپؑ کی میت تجدید عہد کی غرض سے رسول اللہؐ کے پاس لے جائيں اور پھر آپؑ کی دادی فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفنا دیں۔[166]

میت کو زیارتِ قبر رسولؐ کے لئے لایا جانے لگا تو مروان ایک ہزار افراد کی سرکردگی میں موقع پر حاضر ہوا اور زیارت کے مراسمات میں رکاوٹ بنا۔[167] ابوالفرج اصفہانی کی روایت کے مطابق اس عمل میں عائشہ بھی مروان کا ساتھ دے رہی تھیں؛[168] لیکن عائشہ سے منقولہ روایت کے مطابق، جب انھوں نے حالات کا یہ رخ دیکھا تو انھوں نے حالات زیادہ خراب ہونے کا سد باب کرنے کی غرض سے امام حسنؑ کو رسول خداؐ کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیا۔[169] آخر کار امام حسینؑ نے بھائی کی میت کو قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا۔[170]

ایک روایت کے مطابق، امام حسنؑ شہید ہوئے تو امام حسینؑ نے میت کو قبر رسولؐ کی طرف لے کر گئے تاکہ اپنے نانا کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ عائشہ، مروان اور بنی امیہ میں سے ان کے حامی ـ جو سمجھ رہے تھے کہ امام حسینؑ بھائی کو رسول اللہؐ کے پہلو میں دفنانا چاہتے ہیں ـ مسلح ہوکر سامنے آئے تاکہ امام حسنؑ کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن نہ ہونے دیں۔ قریب تھا کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان لڑائی چھڑ جائے؛ لیکن ابن عباس نے جھگڑا نہيں ہونے دیا۔ یوں امام حسنؑ کی میت بقیع منتقل کر کے اپنی دادی فاطمہ بنت اسدؑ کے پہلو میں سپرد خاک کی گئی۔[171]

مروی ہے کہ مدینہ کے حاکم سعید بن عاص نے امام حسینؑ کی درخواست پر، امامؑ کی نماز میت ادا کی؛[172] لیکن روایت ہے کہ امام معصوم کو امام معصوم ہی غسل دے سکتا ہے اور امام معصوم پر امام ہی نماز پڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ احتمال قوی یہ ہے کہ امام حسینؑ نے پہلے ہی بھائی کی نماز جنازہ ادا کی تھی؛ اور قبرستان بقیع میں بطور تقیہ سعید بن عاص کو تکلفا نماز میت پڑھنے کی دعوت دی اور انھوں نے یہ دعوت قبول کی ہے۔[173]

خصوصیات اور فضائل

مفصل مضامین: اہل البیت علیہم السلام، اصحاب کساء، مباہلہ، آیت تطہیر اور حدیث ثقلین

امام حسنؑ کردار، طرز سلوک اور شباہت کے لحاظ سے رسول اللہؐ کے ساتھ سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔[174] رسول اللہؐ نے امام حسنؑ سے مخاطب ہوکر فرمایا: [175] امام حسنؑ کا قد متوسط اور ریش مبارک گھنی تھی[176] جسے آن جناب سیاہ رنگ سے خضاب کرتے تھے۔[177]

امام حسنؑ اصحاب کساء میں سے ایک ہیں [178][179] اور رسول اللہؐ مباہلہ کے موقع پر امام حسنؑ، امام حسینؑ، حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کو بھی خدا کے حکم سے، اپنے ساتھ لے گئے۔[180][181] آیت تطہیر امام حسنؑ اور اہل بیتؑ کے دیگر افراد کے لئے عظیم فضیلت کا ثبوت ہے۔[182]

امام حسنؑ 25 مرتبہ پیدل حج بیت اللہ مشرف ہوئے اور آپ نے تین مرتبہ اپنا پورا مال راہ خدا میں تقسیم کیا یہاں تک کہ آپ نے اپنے جوتے بھی بخش دیئے اور اپنے لئے صرف چپلیں رکھ لیں۔ [183][184][185]

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۔
  2. ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۳۔
  3. ابن حنبل، المسند، دار صادر، ج۱، ص۹۸، ۱۱۸؛ کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۶، ص۳۳ـ۳۴
  4. ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۳، ص۳۹۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۴۴۔
  5. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۳۹۳؛ زبیدى، تاج العروس، ۱۴۱۴ق، ج۷، ص۴۔
  6. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۱۷۱۔
  7. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸م، ج۶، ص۳۵۷؛ ابن اثیر، اسدالغابہ، بیروت، ج۲، ص۱۰۔
  8. ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۹؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج‏۴۴، ص۳۵۔
  9. ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۹۔
  10. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمۃ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۷۵۹۔
  11. قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۱۴۸۔
  12. ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۹۰۔
  13. ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۴۷۴-۴۷۷۔
  14. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۵۔
  15. کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲ش، ص۲۹۷-۳۰۰۔
  16. کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲ش، ص۲۹۸۔
  17. کلینی، کافی، ج۱، ۱۳۶۲ش، ص۲۹۸۔
  18. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷۔
  19. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۰۔
  20. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۲۵۳۔
  21. طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۰۷؛ شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۷، ص۴۸۲۔
  22. عزت و قدرت اللہ کے لئے ہے: کلینی، الکافی، ج6 ص474۔
  23. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج2 ص56۔
  24. خدا ہی میرے لئے کافی ہے: کلینی، وہی ماخذ، ص473۔
  25. کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۱، ص۴۶۱؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۵۳۷۔
  26. کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۱، ص۴۶۱؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۳۹۰ش، ج۶، ص۳۹
  27. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۳۹۰ش، ج۶، ص۴۰
  28. ابن حنبل، مسند، دار صادر، ج۶، ص۳۹۱؛ ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۳، ص۳۶؛ ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۴۲
  29. نسائی، سنن النسائی، دارالکتب العلمیۃ، ج۴، ص۱۶۶؛ کلینی، الکافی، بیروت ۱۴۰۱، ج۶، ص۳۲-۳۳؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۰۶ق، ۱۴۰۶ق، ج۴، ص۲۳۷
  30. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ الدمشق، ج۱۳، ص۱۷۰
  31. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۰۶ق، ج۳، ص۱۶۵
  32. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۳۹-۲۴۴؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۳۹، ص۶۳۔
  33. مہدوی دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۴۔
  34. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۶۹۔
  35. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج‏۴۳، ص۲۶۱-۳۱۷؛ ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۳-۳۲۲؛ احمد بن حنبل، المسند، دار صادر، ج۵، ص۳۵۴؛ ابن حبان، صحیح ابن حبان، ۱۹۹۳م، ج۱۳، ص۴۰۲؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۸۷۔
  36. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸، ج۶، ص۴۰۶ـ۴۰۷؛ شیخ صدوق، عون اخبار الرضا، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۸۵؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۶۸۔
  37. عاملی، الصحیح من السیرۃ النبی الأعظم، ۱۴۲۶ق، ج۲۱، ص۱۱۶۔
  38. زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ذیل آیہ ۶۱ آل عمران؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۰۵ق، ذیل آیہ ۶۱ سورہ آل عمران،احمد بن حنبل، دارصادر، مسند احمد، ج ۱، ص۳۳۱؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۷۹۹؛ شوکانی، فتح القدیر، عالم الکتب، ج۴، ص۲۷۹۔
  39. ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۷۔
  40. سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی‏، ۱۴۰۵ق، ص۶۶۵ و ۹۱۸۔
  41. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۶-۲۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۰۰۔
  42. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۴۲۔
  43. ابن خلدون، العبر، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۷۳-۵۷۴۔
  44. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۲۶۹۔
  45. جعفرمرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، دارالسیرۃ، ص۱۵۸۔
  46. http://www۔iranicaonline۔org/articles/hasan-b-ali
  47. زمانی، حقایق پنہان، ۱۳۸۰ش، ص۱۱۸-۱۱۹۔
  48. ابن عبد ربہ، العقد الفرید، دارالکتب العلمیہ، ج۵، ص۵۸-۵۹۔
  49. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۵، ص۵۵۸-۵۵۹
  50. قاضی نعمان، المناقب و المثالب، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۱؛ طبری، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۶۸۔
  51. دیار بکری، تاریخ الخمیس، دارالصادر، ج۲، ص۲۶۲۔
  52. حقایق پنہان، پژوہشی در زندگانی سیاسی امام حسن، ص۳۳۹-۳۴۰؛ قرشی، حیاۃ الإمام الحسن بن على،۱۴۱۳ق، ج۲، ص۴۵۵-۴۶۰
  53. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۳۰۔
  54. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۷۴
  55. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۵
  56. مجلسی، بحار الانوار، بیروت ۱۳۶۳ش، ج۴۴، ص۱۷۳
  57. ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۲۹۰ و ۳۰۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۵؛ کلینی، الکافى، ۱۳۶۲ش، ج۶، ص۵۶۔
  58. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۷۳۔
  59. مہدوی دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۹۔
  60. مادلونگ، جانشینى محمد، ۱۳۷۷ش، ص۵۱۴-۵۱۵۔
  61. قرشی‏، حیاۃ الامام الحسن بن على، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۴۵۳-۴۵۴۔
  62. المفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۰۔
  63. طبرسی، اعلام الورى، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۱۶۔
  64. المجدی فی أنساب الطالبیین، ص۲۰۲۔
  65. الأنساب، ج‌۴، ص۱۵۹۔
  66. یمانی، موسوعۃ مکۃ المکرمہ، ۱۴۲۹ق، ج۲، ص۵۸۹۔
  67. دامغانی، «حسن بن علی، امام»، ص۳۰۴.
  68. شیخ مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ق، ص۲۳۸.
  69. نصر بن‌مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص۶.
  70. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ق، ج۴، ص۴۵۸؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۳۲، ص۱۰۴.
  71. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص ۲۴۴ و ۲۶۱.
  72. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۶۳.
  73. ابن أعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج‏۲، ص۴۶۶-۴۶۷؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۳۲۷.
  74. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۳۴۸؛ ذہبی، تاریخ الإسلام‏، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۴۸۵.
  75. ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۲۱.
  76. مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۳۱، شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۸۲؛ اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۳۶.
  77. نصر بن‌مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص۱۱۳-۱۱۴.
  78. ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱، ج۳، ص۲۴؛ ابن شهرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۶۸.
  79. اسکافی، المعیار و الموازنۃ، ۱۴۰۲ق، ص ۱۵۰ - ۱۵۱.
  80. نصر بن‌مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص۲۹۷ - ۲۹۸.
  81. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۵۸؛ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۹۳.
  82. سید رضی، نہج البلاغۃ، ترجمہ شہیدی، ۱۳۷۸ش، ص۲۹۵.
  83. محمدی، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، جدول اختلاف نسخ انتہای کتاب، ۱۳۶۹ش، ص۲۳۸.
  84. ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۳، ص۹۳۹.
  85. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷.
  86. کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۷، ص۴۹.
  87. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۹۳-۹۴؛ قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج‏۳ ، ص۴۴۴.
  88. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۔
  89. منابع میں معاویہ کو خلافت تفویض کرنے کی تاریخ 25 ربیع‌الاول(مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۶۔) یا ربیع الاخر یا جمادی الاولی(ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۵۔) سنہ 41ھ ثبت ہے۔
  90. مسعودی، مروج‏ الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۹؛ مقدسى، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۲۳۸؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۶، ص۲۵۰۔
  91. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸-۱۶۱۔
  92. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۲۱۔
  93. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۴، ص۲۸۶۔
  94. جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۴۷-۱۴۸۔
  95. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۴؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ق، ج۵، ص۱۵۸؛ مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۲۶۔
  96. بلاذری، انساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۸۔
  97. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۷-۹؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۶۲۔
  98. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۸-۹۔
  99. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۵۸، ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۸۵،دیار بکری، تاریخ الخمیس، دار صادر، ج۲، ص۲۸۹، نویری، نہایۃ الأرب، ۱۴۲۳ق، ج۲۰، ص۲۲۹۔
  100. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۸ق، ج۵، ص۱۵۸۔
  101. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸
  102. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۸-۱۶۰
  103. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱
  104. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۸۴۔
  105. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۵۸۔
  106. http://www۔iranicaonline۔org/articles/hasan-b-ali، جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۲ش، ص ۱۶۱۔
  107. جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۳۲۔
  108. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۰۸ق، ص۶۴
  109. ہاشمى نژاد، درسى كہ حسین بہ انسان‌ہا آموخت، ۱۳۸۲ش، ص۴۰۔
  110. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱۔
  111. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج۸، ص۲۱۔
  112. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دار المعرفہ، ص۶۷ بہ بعد؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۲۵ بہ بعد۔
  113. جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۱۔
  114. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۴، ص۲۸۶۔
  115. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۲۹
  116. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۷۱۔
  117. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۷۳-۷۴۔
  118. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۳۸۔
  119. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۔
  120. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۱۴۔
  121. دینوری، الأخبارالطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۱۷۔
  122. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲۔
  123. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۳۵۔
  124. جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۴۸-۱۵۵۔
  125. آل یاسین، صلح الحسن، ۱۴۱۲ق، ص۲۵۹-۲۶۱۔
  126. طبرسی، الاحتجاج، ج 2، صص 65-45۔
  127. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص43
  128. ابن اعثم کوفی، الفتوح، (دار الأضواء، بیروت 1411ہ ق) ج2، ص293-294۔
  129. طبری، تاریخ، ج4، ص124-125، 128-129
  130. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص45 اور بعد کے صفحات۔
  131. مجلہ، موسوعہ، 161ـ164۔
  132. قرشی، حياۃ الإمام الحسنؑ، ج2، ص285-286۔
  133. امام علیؑ، نہج البلاغہ، خطبہ 61۔
  134. صدوق، علل الشرایع، ج1، ص218ـ219۔
  135. مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص13۔
  136. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج4، ص623ـ624۔
  137. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص1173ـ1174۔
  138. مقدسی،البدء و التاریخ، ج6، ص5۔
  139. آل یاسین، صلح الحسن، ص471۔
  140. طبری، تاریخ، ج4، ص198، ج5، ص108؛ ابن حجر، الاصابۃ، ج2، ص37ـ38۔
  141. ذہبی، تذکرۃ الحفاظ، ج1، ص84۔
  142. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج1، ص387۔
  143. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  144. شوشتری، رسالہ فی تواریخ النبی، ص33۔
  145. نیز آپؑ کا سال شہادت کتب میں مختلف ہے جیسے: سنہ 48، 49، 51، 57، 58 اور 59ھ ق۔
  146. کلینی، الکافی، بیروت، ج1، ص461۔
  147. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ج2، ص7۔
  148. رجوع کریں: ابن قتیبہ، المعارف، ص212۔
  149. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  150. رک: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج13، ص298- 300، 302۔
  151. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408ق، ص80-81۔
  152. مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص15۔
  153. ابن قتبیہ، الامامہ و السیاسہ، بیروت، ج1، ص196۔
  154. بلاذری، 1397ق، ج3، ص59۔
  155. مفید،الارشاد ج 2 ص 13
  156. مفید، الارشاد، 1380، ج2، ص15۔
  157. ابن سعد، طبقات الکبری، ج6، ص386۔
  158. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص55۔
  159. بلاذری، انساب الاشراف، 1417ق دار الفکر، ج3، ص20۔
  160. Madelung, The Succession T0 Muhamad, p۔331
  161. مفید، الارشاد، ص357۔
  162. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص55۔
  163. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408ق، ص81۔
  164. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص154۔
  165. شیخ طوسی، الامالی، 1414، ص160۔
  166. شیخ مفید، الارشاد، 1414، ج2، ص17۔
  167. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص60۔
  168. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408، ص82۔
  169. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص61۔
  170. بلاذری، ایضا، ص66۔
  171. مفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق، صص280-281۔
  172. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، 1408، ص83۔
  173. رسولی محلاتی، زندگانی امام حسن، ص452۔
  174. اربلی،کشف الغُمَّہ، ج2، ص290
  175. مجلسی، بحارالانوار، ج43، ص294۔
  176. ابن شہر آشوب،مناقب، ج4، ص28۔
  177. ابن سعد، طبقات الکبری، ج6، ص379۔
  178. صدوق،خصال، ج2، ص550۔
  179. صدوق، عیون اخبار الرضا، آقا نجفی، ج1،ص 55۔
  180. علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ج 1، ص 104۔
  181. زمخشری، کشاف، ج 1 ص 368۔
  182. علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ج2، ص193۔
  183. بیہقی، السنن الکبری، ج4، ص331۔
  184. ترجمہ الامام علیؑ من تاریخ دمشق ص142، ح 236۔
  185. منتخب فضائل النبی و اہل بیتہ علیہم السلام من الصحاح الستہ و غیرہا من الکتب المعتبرۃ عند اہل السنہ، ص279۔

مآخذ

  • ابن ابی اثلج، تاریخ الائمہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ، چاپ محمود مرعشی، قم: کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1406۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، بہ کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ 1379ق۔
  • ابن اثیر، اسد الغابہ، بیروت: دارالکتاب العربی۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد، الفتوح، بیروت، 1411۔
  • ابن بابویہ، علی بن حسین، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، قم 1363ش۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، چاپ احسان عباس، بیروت 1968-1977
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنہ من اساتذہ النجف الاشرف، نجف: مکتبہ الحیدریہ، 1376۔
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم۔
  • ابن صوفی، علی، المجدی فی انساب الطالبیین، بہ کوشش احمد مہدوی دامغانی، قم: 1409ق/1989م۔
  • ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، چاپ ماجد بن احمد عطیہ، بیروت 1420ق۔
  • ابن عبدالبر، یوسف، الاستیعاب، بہ کوشش علی محمد بجاوی، بیروت، 1412ق۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت، 1415ـ1421۔
  • ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب، بہ کوشش محمدحسن آل طالقانی، نجف: 1380ق/19601م۔
  • ابن قتیبہ،الامامۃ والسیاسۃ، بہ کوشش طہ محمد زینی، قاہرہ، مؤسسۃ الحلبی۔
  • ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسیہ، المعروف بتاریخ الخلفاء، چاپ علی شیری، بیروت 1410/1990
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ، 1960
  • ابن حنبل، احمد، مسند الامام احمد بن حنبل، بیروت: دارصادر۔
  • اربلی، کشف الغمہ، ناشر مجمع جہانی اہل بیتؑ 1426ق۔
  • اصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، چاپ احمد صقر، بیروت 1408ق۔
  • اصفہانی،ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، نجف 1385ق۔
  • الامین، السید محسن، اعیان الشیعۃ، حققہ و اخرجہ السید محسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، 1418ق/1998م۔
  • البخاری، سہل، سر السلسلۃ العلویۃ، بہ کوشش محمدصادق بحرالعلوم، نجف: 1381ق/1962م۔
  • الزمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج1، قم، نشر البلاغہ، الطبعۃ الثانیۃ، 1415 ق۔
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بی‌تا
  • الطوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تہران، 1390۔
  • العاملی، جعفر مرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، قم، 1363ش۔
  • العطاردی، عزیزاللہ، مسند الامام المجتبی، قم: عطارد، 1373ش۔
  • القاب الرسول و عترتہ، در مجموعۃ نفیسۃ فی تاریخ الائمہ۔
  • القرشی، موسوعۃ سیرۃ اہل البیت، ج10(الامام الحسن بن علیؑ، تحقیق: مہدی باقر القرشی، قم: دارالمعروف، 1430ق/2009م۔
  • المحمودی، نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ، ج7، نجف: 1385ق/1965م۔
  • مسعودی، علی بن حسین، كتاب التنبیہ والاشراف، چاپ دخویہ، لیدن 1894
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، چاپ شارل پلّا، بیروت 1965-1979
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ خراسانی انتشارات علمیہ اسلامیہ 1380
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، بیروت، 1414۔
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، سعید بن جبیر، 1428ق
  • المفید، الجمل، ناشر مکتب الاعلام الاسلامی، 1371
  • بخاری، صحیح بخاری، ناشر دارالفکر
  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، 1394ق۔
  • بلاذری، انساب الاشراف، بیروت: دارالتعارف، 1397ق۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، چاپ عبدالوہاب عبداللطیف، بیروت، 1403/1983۔
  • جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، انتشارات انصاریان 1381
  • جوہری، احمد، السقیفہ و فدک، بہ کوشش محمدہادی امینی، تہران، 1401ق/1981م۔
  • جوینی، فرائد السمطین، مؤسسہ المحمودی بیروت، 1980 م۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، چاپ یوسف عبدالرحمان مرعشلی، بیروت 1406۔
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، 1406/1986
  • راضی یاسین، صلح الحسن، ترجمہ سید علی خامنہ‌ای، انتشارات گلشن چاپ سیزدہم 1378
  • رسائل الامام حسنؑ، بہ کوشش زینب حسن عبدالقادر، قاہرہ، 1411ق/1991م۔
  • زمانی، احمد، حقایق پنہان، قم: دفتر تبلیعات اسلامی، چ 3، 1380۔
  • سیوطی، تاریخ الخلفاء، بی‌جا بی‌تا
  • سیوطی، جلال الدین، تاریخ الخلفاء، تحقیق: لجنۃ من الادباء، توزیع‌دار التعاون عباس احمد الباز، مکۃ المکرمۃ۔
  • شوشتری، محمدتقی، رسالۃ فی تواریخ النبی، قم1423۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ، قم 1412ـ1414۔
  • شہیدی، سیدجعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران: مرکز نشر دانشگاہی، 1390ش۔
  • شیخ صدوق، امالی، انتشارات کتابخانہ اسلامی1362
  • شیخ صدوق، امالی، ترجمہ کمرہ‌ای 1363
  • شیخ صدوق، علل الشرایع، نجف، 1385ـ1386ق۔
  • شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، ترجمہ آقا نجفی۔
  • طبرسی، الاحتجاج انتشارات اسوہ 1413 ہ‍۔ق
  • عاملی، جعفر مرتضی، تحلیلی از زندگی امام حسن مجتبی، مترجم: سپہری، انتشارات دفتر تبلیغات، 1376
  • عقیقی بخشایشی، عبدالرحیم، چہاردہ نور پاک، تہران: 1381ش۔
  • علی بن ابراہیم قمی، تفسیر قمی، ناشر مکتبۃ الہدی نجف۔
  • قرشی، باقر شریف، الحیاۃ الحسن، ترجمہ فخرالدین حجازی، انتشارات بعثت، 1376۔
  • قرشی، باقرشریف، حیاۃ الامام الحسن بن علیؑ: دراسۃ و تحلیل، بیروت: 1413ق/1993م۔
  • کلینی، اصول کافی، دارالحدیث
  • كلینی، محمد بن یعقوب، الكافی، چاپ علی اكبر غفاری، بیروت 1401
  • مالقی، محمد، التمہید و البیان، بہ کوشش محمدیوسف زاید، قطر، 1405ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار (ط - بیروت)،
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت: مؤسسہ الوفا، 1403۔
  • مجموعہ مقالات ہمایش بین‌‌المللی سبط النبی، قم: مجمع جہانی اہل بیت، 1393۔
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، مطہر البدء و التاریخ، قاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، کتاب البدء و التاریخ، چاپ کلمان ہوار، پاریس، 1899-1919۔
  • منتخب فضائل النبی و اہل بیتہ علیہم السلام من الصحاح الستۃ و غیرہا من الکتب المعتبرۃ عند اہل السنۃ، تقدیم: محمد بیومی مہران، بیروت: الغدیر، 1423/2002۔
  • نسائی، احمد بن علی، سنن النسائی، بشرح جلال‌الدین سیوطی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ۔
  • نرم افزار جامع الاحادیث، نسخہ 3/5 مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
  • نرم افزار نورالسیرہ 2، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور۔
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی انتشارات علمی و فرہنگی 1362
  • Madelung, W۔, The Succession to Muhammad, Cambridge, 1977۔

بیرونی روابط

معصوم سوئم:
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
14 معصومین
امام حسن مجتبی علیہ السلام
معصوم پنجم:
امام حسین علیہ السلام
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام


خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "نوٹ", but no corresponding <references group="نوٹ"/> tag was found, or a closing </ref> is missing