غیر سلیس

امام حسن مجتبی علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام حسن مجتبی علیہ السلام
بقیع در 1308 قمری.jpg
سنہ 1308ھ میں ائمہ بقیعؑ کا مزار
منصب شیعوں کے دوسرے امام
نام حسنؑ بن علیؑ
کنیت ابو محمد
القاب سید، تقی، طیب، زکی، سبط
تاریخ ولادت 15 رمضان، سنہ 3 ہجری
جائے ولادت مدینہ
مدت امامت 10 سال (40-50ھ)
شہادت 28 صفر، 50 ہجری
سبب شہادت جعدہ کے زہر سے مسموم
مدفن بقیع، مدینہ
رہائش مدینہ، کوفہ
والد ماجد امام علی
والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ
ازواج ام بشیر، خولہ، ام اسحق، حفصہ، ہند، جعدہ
اولاد زید، ام الحسن، ام الحسین، حسن، عمرو، قاسم، عبداللہ، عبدالرحمن، حسین، طلحہ، فاطمہ، ام عبداللہ، ام سلمہ، رقیہ
عمر 48 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


حسن بن علی بن ابی طالب امام حسن مجتبیؑ(3-50ھ) کے نام سے مشہور شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ حضرت علیؑ اور حضرت زہراؑ کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ کی امامت کا دورانیہ دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے نیز آپ تقریبا 7 مہینے تک خلافت کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اہل سنت آپ کو خلفائے راشدین میں سے آخری خلیفہ مانتے ہیں۔

تاریخی شواہد کی بنا پر آپ کا اسم گرامی "حسن" پیغمبر اکرمؐ نے رکھا تھا اور حضورؐ آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔

خلیفہ دوم کی طرف سے اپنے بعد خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں بطور گواہ حاضر تھے۔ اس کے علاوہ خلیفہ اول اور دوم کے زمانے میں آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص بات تاریخ میں ثبت نہیں ہوئی۔ اسی طرح خلیفہ سوم کے دور میں ہونے والی بعض جنگوں میں بھی آپ کی شرکت کے حوالے سے تاریخ میں بعض شواہد ملتے ہیں۔ حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت کے دوران امام علیؑ کے حکم سے آپ عثمان کے گھر کی حظافت پر مأمور ہوئے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے میں آپ زخمی بھی ہوئے تھے۔ امام علیؑ کی خلافت کے دروان آپ اپنے والد گرامی کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے۔

21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کیں۔ معاویہ نے آپ کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور شام سے لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوئے۔ امام حسنؑ نے عبید اللہ بن عباس کی سربراہی میں ایک لشکر معاویہ کی طرف بھیجا اور آپؑ خود ایک گروہ کے ساتھ ساباط کی طرف روانہ ہوئے۔ معاویہ نے امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان مختلف شایعات پھیلا کر صلح کیلئے زمینہ ہموار کرنے کی کوشش کیا۔ یہاں تک کہ ایک خوارج کے ہاتھوں امام پر سوء قصد بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں آپؑ زخمی ہوئے اور علاج کیلئے آپ کو مدائن لے جایا گیا۔ اسی دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے معاویہ کو خط لکھا جس میں امامؑ کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کرنے یا آپ کو شہید کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ معاویہ نے کوفہ والوں کے خطوط کو بھی امامؑ کی طرف بھیجا اور آپ کو صلح کرنے کی پیشکش کی۔ امام حسنؑ نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت کو معاویہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوگا، اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے کا اور تمام لوگوں خاص کر شیعیان علیؑ کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا۔ لیکن بعد میں معاویہ نے مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ معاویہ کے ساتھ ہونے والے صلح کی وجہ سے بعض شیعہ آپ سے ناراض ہوگئے یہاں تک کہ بعض نے آپ کو "مذلّ المؤمنین" (مؤمنین کو خوار و ذلیل کرنے والا) کے نام سے یاد کرنے لگا۔

صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی مقام و منزلت کے حامل تھے۔

معاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کی بعنوان ولیعہد بیعت لینے کا ارادہ کیا تو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ کیلئے سو دینار بھیجا تاکہ وہ امام کو زہر دے کر شہید کریں۔ کہتے ہیں کہ آپؑ زہر سے مسموم ہونے کے 40 دن بعد شہید ہوئے۔ ایک قول کی بنا پر آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے اس کام سے منع کیا یوں آپ کو بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کسا کے چوتھے رکن ہیں جن کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر شیعہ ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ بھی انہی ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔

آپ نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ آپ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 دفعہ پیدل حج ادا کیا۔

آپؑ کی احادیث اور مکتوبات کا مجموعہ نیز آپ کے 138 راویوں کا نام مسند الامام المجتبیؑ نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔

مختصر تعارف

حسن بن علی بن ابی‌ طالب امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑکے سب سے بڑے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔[1] آپ کا نسب بنی‌ہاشم اور قریش تک منتہی ہوتا ہے۔[2]

  • نام، کنیت اور القاب

"حَسَن" عربی زبان میں نیک اور اچھائی کے معنی میں آتا ہے اور یہ نام پیغمبر اکرمؐ نے آپ کیلئے انتخاب کیا تھا۔[3] بعض احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے یہ نام آپ کیلئے خدا کے حکم سے رکھا تھا۔[4]

"حسن" اور "حسین" عبرانی زبان کے لفظ "شَبَّر" اور "شَبیر"(یا شَبّیر)،[5] کے ہم معنی ہیں جو حضرت ہارون کے بیٹوں کے نام ہیں۔[6] اسلام حتی عربی میں اس سے پہلے ان الفاظ کے ذریعے کسی کا نام نہیں رکھا گیا تھا۔[7]

آپؑ کی کنیت "ابومحمد" اور "ابوالقاسم" ہیں۔[8] آپ کے القاب میں مجتبی(برگزیدہ)، سَیّد (سردار) اور زَکیّ (پاکیزہ) مشہور ہیں۔[9] آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں "سیّد شباب اہل الجنۃ"، "ریحانۃ نبیّ اللہ"[10] اور "سبط" ہیں۔[11] پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں یوں آیا ہے: "حسن" اسباط میں سے ایک ہے"۔[12] آیات و روایات کی رو سے "سبط" اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔[13]

امامت

حسنؑ بن علیؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپؑ 21 رمضان سنہ 40ھ کو اپنے والد ماجد امام علیؑ کی شہادت کے بعد امامت کے عہدے پر فائز ہوئے اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔[14] شیخ کلینی(متوفی 329ھ) نے اپنی کتاب کافی میں امام حسنؑ کو منصب امامت پر نصب کئے جانے سے مربوط احادیث کو جمع کیا ہے۔[15] ان روایات میں سے ایک کے مطابق امام علیؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی اولاد اور شیعہ بزرگان کے سامنے اس کتاب اور تلوار کو اپنے فرزند ارجمند امام حسنؑ کو عطا فرمایا جو امامت کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنے بعد آپ کے فرزند "حسن بن علیؑ" کو اپنا جانیشن اور وصی مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔[16] ایک اور حدیث کے مطابق امام علیؑ نے کوفہ تشریف لے جانے سے پہلے امامت کی مذکورہ نشانیوں کو ام سلمہ کے حوالے فرمایا جسے امام حسنؑ نے کوفہ سے واپسی پر ام سلمہ سے اپنی تحویل میں لیا تھا۔[17] شیخ مفید (متوفی 413ھ) نے اپنی کتاب ارشاد میں یوں تحریر کیا ہے کہ حسن بن علیؑ ان کی خاندان میں اپنے والد ماجد امام علیؑ کے جانشین اور وصی ہیں۔[18]

اسی طرح آپؑ کی امامت پر رسول خدا سے نقل ہونے والی بعض احادیث بھی صراحتا دلالت کرتی ہیں: اِبنای ہذانِ امامان قاما او قَعَدا(ترجمہ: این یہ میرے دونوں بیٹے(حسنؑ اور حسینؑ) تمہارے امام ہیں چاہے یہ قیام کریں یا صلح۔[19] اسی طرح حدیث ائمہ اثنا عشر[20] سے بھی آپ کی امامت پر استدلال کیا جاتا ہے۔[21]

امام حسنؑ اپنی امامت کے ابتدائی مہینوں میں جس وقت آپ کوفہ میں تشریف رکھتے تھے، منصب خلافت پر بھی فائز تھے لیکن بعد میں معاویہ کے ساتھ کے بعد خلافت سے دستبردار ہوئے خلافت سے کنارہ کشی کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔

انگوٹھی کا نقش

امام حسن مجتبیؑ کی انگشتری کے دو نقش منقول ہیں: الْعِزَّۃُ لِلَّہِ؛[22] اور حَسْبِی اللَّہُ۔[23]

بچپن اور جوانی کا زمانہ

مشہور قول کی بنا پر آپ کی تاریخ ولادت 15 رمضان سنہ 3 ہجری ہے۔[24] لیکن بعض منابع میں آپ کی تاریخ ولادت سنہ 2 ہجری بھی لکھا گیا ہے۔[25] آپ مدینہ میں پیدا ہوئے[26]، پیغمبر اکرمؐ نے آپ کی کان میں اذان دی [27] اور ولادت کے ساتویں روز ایک گوسفند کے ذبح کر کے آپ کا عقیقہ کیا گیا۔[28]

بعض منابع کے مطابق امام علیؑ نے پیغمبر اکرمؐ کی توسط سے آپ کا نام "حسن" رکھنے سے پہلے اپنے بیٹے کا نام حمزہ[29] یا حرب[30] رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جب رسول خدا نے امام علی سے سوال کیا کہ اپنے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے تو آپ نے فرمایا میں اس کام میں خدا اور اس کے رسول پر پہلی نہیں کرونگا۔[31]

بچپن اور نوجوانی

آپ کی بچپن اور نوجوانی کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات میسر نہیں۔[32] آپ نے صرف آٹھ سال سے بھی