عمر بن خطاب

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمر بن خطاب بن نفیل (وفات ٢٣ق) حضرت پیغمبر(ص) کے صحابی اور مسلمانوں کا دوسرا خلیفہ(خلافت: ١٣-٢٣ق) تھا۔ انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا۔ عمر بن خطاب نے پہلے خلیفہ(ابو بکر) کی وصیت کی وجہ سے خلافت کا مقام حاصل کیا اور تقریباً دس سال حکومت کی اور سنہ ٢٣ ہجری کو ابولؤلؤ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اسامہ بن زید کے لشکر کے ساتھ جانے سے انکار، حدیث دوات کا ماجرا، سقیفہ کے واقعہ میں حاضر ہونا، اہل بیت بالخصوص حضرت زہراء کے ساتھ برتاؤ اور بیت المال کی تقسیم کے طریقہ کار میں من مانی تبدیلی ایسے امور ہیں جو انہوں نے اپنی خلافت کے دوران انجام دئیے جن کی وجہ سے وہ اہل تشیع کی تنقید کا نشانہ بنا اور یہ امور شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف کا سبب بھی بنی ہوئی ہیں۔

زندگی نامہ

نسب

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب عام الفیل کے تیرہویں سال مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی کنیت ابو حفص تھی۔ آپکے والد- خطاب بن نفیل- اور والدہ-حنتمہ ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی (نہ کہ ہشام بن مغیرہ کی بیٹی اور ابوجہل کی بہن) [1] کے بارے میں کوئی خاص معلومات موجود نہیں۔ [2] جاہلیت کے زمانے میں اونٹ اور دوسرے حیوانوں کو چرانے کا کام کرتے تھے۔ اپنے زمانے کی جنگوں میں قریش کا سفیر بھی رہا ہے۔ [3] آپ کے نو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں جن میں عبداللہ، عاصم، عبیداللہ، عبدالرحمان، زید اور حفصہ شامل ہیں۔ [4]

اسلام قبول کرنا

عمر بن خطاب اسلام قبول کرنے سے قبل مسلمانوں کو آزار و اذیت دیتا تھا. [5] اور حتی پیغمبر(ص) کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. لیکن اپنی بہن کی وجہ سے جس نے تازہ اسلام قبول کیا تھا،اور خباب بن ارت کا سورہ طہ کے تلاوت کرنے کی وجہ سے اسلام کی طرف مائل ہوا. [6] بعض دلائل کے مطابق عمر نے ٤٥ مردوں اور ٢١ عورتوں کے بعد بعثت کے چھٹے یا نویں سال اسلام قبول کیا. [7] بعض اہل سنت منابع میں لکھا ہے کہ دین اسلام عمر کے اسلام لانے سے مضبوط اور عزیز ہوا اور اس قول کو حضرت پیغمبر(ص) سے منسوب کرتے ہیں. [8]

مکہ اور مدینہ کی زندگی

عمر بن خطاب کے مکہ میں فعالیت کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات نہیں ملتی ہیں. اس نے عیاش بن ابی ربیعہ کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں حضرت پیغمبر(ص) کے حکم سے ابوبکر کے ساتھ اخوت کا وعدہ کیا. [9] اس نے بہت سی جنگوں میں شرکت کی اور بعض جنگوں میں دستے کا لیڈر بھی رہا. اور ان سب کے باوجود کسی منبع میں اس کی دلاوری کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملتی. اور بعض جگہ پر دشمںوں کے سامنے شکست اور جنگ سے فرار جیسی خبریں بھی اس کے بارے میں موجود ہیں. [10]

میدان جنگ میں ثابت قدم نہ ہونا

اکثرجنگوں میں شرکت کی اور بعض جنگوں میں سپہ سالاری کے فرائض بھی انجام دئے ۔اسکے باوجود تاریخی کتب میں انکی شجاعت کا کوئی قابل ذکر کارنامہ مذکور نہیں ہے البتہ اس کے برعکس بعض جنگوں میں میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے کا تذکرہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔[11] مذکور ہے کہ عمر ایک جمعہ کے خطبے میں درج ذیل آیت پر پہنچے إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ آل عمران: ۱۵۵(ترجمہ:بے شک دو طائفوں کے آمنے سامنے کے وقت کچھ لوگوں پشت دکھائی۔)تو کہنے لگے :احد کے روز جب مسلمان شکست سے دو چار ہوئے تو میں نے میدان جنگ سے پشت کی اور نزدیکی پہاڑ پر چلا گیا...میں نے ایک شخص سے سنا :محمد قتل ہو گئے ہیں ۔ میں نے کہا جو ایسا کہے گا میں اسے قتل کر دوں گا اور سب نے پہاڑ پر پناہ لی ۔اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔[12] اسی طرح جنگ حنین میں بھی ہوا [13] بخاری کے بقول حضرت عمر جنگ حنین میں فرار کو خدا اور رسول کا حکم سمجھتے تھے ۔.[14] ابن حجر عسقلانی نے حضرت عمر کی اس گفتگو کے متعلق کہا اس سے انکی الہی قضا و قدر مراد ہے .[15]

اسامہ کا لشکر

ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح اور کچھ دیگر صحابہ نے حضرت پیغمبر(ص) کی حیات میں شام پر تسلط حاصل کرنے کے ارادے سے اسامہ بن زید کے سپاہ میں شرکت کی. [16] واقدی [17] اور ابن سعد،[18] کی روایت کے مطابق حضرت پیغمبر(ص) نے اپنی وفات سے کچھ دن قبل حکم دیا کہ روم کے ساتھ جنگ کے لئے تیاری کریں اور اس کے دوسرے دن اسامہ کو بلایا اور اسے لشکر کا سردار بنایا [19] لیکن یہ لشکر حضرت پیغمبر(ص) کی زیادہ تاکید کے باوجود حرکت نہ کر سکا جس کی وجہ مختلف تھیں ایک یہ کہ بعض صحابہ نے اسامہ کے جوان ہونے پر اعتراض کیا، یا یہ کہ سفر کی تیاری نہ ہونے پر یا یہ کہ جب اسامہ کو رسول خدا(ص) کی شدید بیماری کے بارے میں اطلاع ملی تو وہ واپس مدینہ لوٹ آیا. ابو بکر، عمر اور بعض دیگر اصحاب پیغمبر(ص) کے حکم کی وجہ سے جرف سے مدینہ واپس آ گئے. [20]

حدیث قرطاس

مفصل مضمون: حدیث قرطاس

حضرت پیغمبر(ص) نے ہجرت کے گیارہویں سال، اپنی رحلت کے چار دن پہلے جب کچھ صحابہ آپکی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے تو آپ(ص) نے فرمایا: کہ کاغذ قلم اور دوات لے آئیں، تاکہ کچھ لکھ سکیں تا کہ آپ(ص) کے بعد گمراہ نہ ہوں، بعض روایات کے مطابق عمر رسول خدا(ص) کی درخواست کے بعد مخالفت کے لئے کھڑا ہو گیا اور کہا: ان النبی قد غلب علیه الوجع وعندکم القرآن حسبنا کتاب الله [21][22][23][24]

خلیفۂ اول کا زمانہ

ابوبکر کی خلافت اور سقیفہ کے واقع میں عمربن خطاب کا بہت زیادہ کردار تھا. اہل سنت قول کے مطابق اس نے بنی ہاشم کے تجمع کے بعد حضرت علی(ع) اور حضرت زہراء(س) کو دھمکی دی کہ وہ انکے گھر کو آگ لگائے گا[25] لیکن اہل تشیع کے قول کے مطابق اس نے گھر کو آگ لگائی تھی. [26] اور ابوبکر کی خلافت میں اس نے پوری ہمراہی کی اور خلیفہ کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق دوسرے خلیفہ کے طور پر منتخب کیا گیا.

حضرت زہراء(س) کی ناخوشی

ابن قتیبہ لکھتا ہے: جب حضرت فاطمہ(س) ابوبکر اور عمر پر (فدک کے ماجرے پر) ناراض ہوئیں، وہ دونوں آپکو راضی کرنے کے لئے دروازے پر آئے اور داخل ہونے کے لئے اجازت مانگی، لیکن حضرت فاطمہ(س) نے اجازت نہ دی، جس کی وجہ سے وہ امام علی(ع) کے پاس گئے اور آپ سے مدد مانگی اور امام علی(ع) ان دونوں کو فاطمہ(س) کے گھر لے گئے، لیکن فاطمہ(س) نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر دیا اور ان دونوں کے سلام کا جواب نہ دیا. ابوبکر نے کچھ گفتگو کی اور اس کے بعد فاطمہ(س) نے ان دونوں سے پوچھا: اگر حضرت پیغمبر(ص) کی حدیث تم لوگوں کو سناؤں تو کیا اس پر عمل کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں. فاطمہ(س) نے فرمایا: خدا کی قسم دے کر تم لوگوں سے کہتی ہوں کہ آیا رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: فاطمہ کی خوشی میری خوشی ہے، اور فاطمہ کا غضب اور ناراضگی میری ناراضگی ہے، اور جو بھی میری بیٹی فاطمہ سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، اور جو فاطمہ کو خوش کرتا ہے گویا وہ مجھے خوش کرتا ہے، اور جو بھی فاطمہ کو ناراض کرتا ہے وہ مجھے ناراض کرتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم نے یہ رسول خدا(ص) سے سنا ہے. فاطمہ(س) نے فرمایا: میں خدا اور اس کے فرشتوں کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا اور خوش نہیں کیا، اور اگر پیغمبر(ص) کو دیکھوں تو تم دونوں کی شکایت کروں گی. اور یہاں پر ابوبکر نے کچھ گفتگو کی لیکن حضرت فاطمہ نے اپنے جواب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: خدا کی قسم ہرنماز پڑھنے کے بعد تم کو بدعا دوں گی. [27] حضرت فاطمہ(س) کی ناراضگی اور خشم اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ نہ صرف شیعہ بلکہ اہل سنت نے بھی رسول خدا(ص) نے روایت نقل کی ہیں کہ: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور جس نے اسے ناراض کیا گویا اس نے مجھے ناراض کیا ہے. [28] اور فدک پر قبضہ کرنے والوں نے کچھ اور ادعا بھی کئے ہیں جنکو فاطمہ(س) نے جھوٹا ثابت کیا اور وہ اپنے ادعا کو ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ خود قرآن نے آیت تطہیر میں فاطمہ(س) کو ہر طرح کی پلیدی سے پاک قرار دیا ہے.

دوران حکومت

عمربن خطاب ابوبکر کی وصیت کے مطابق سنہ تیرہ ہجری کو خلیفہ مقرر ہوا. ایک قول کے مطابق وہ پہلا شخص تھا جس نے خود کو امیرالمومنین کہا. [29] عمرنے لوگوں سے بدرفتاری کے باوجود، سادہ زندگی بسر کی. وہ تجارت کرتا تھا اس کو تجمل گرائی اور مال کو اپنے شخصی امور میں استعمال کرنے سے شدید نفرت تھی، اس لئے کئی بار اپنے کام کرنے والوں کی تجمل گرائی کی وجہ سے برکنار یا جرمانہ کیا. لیکن معاویہ کو اس کام سے معاف کیا. [30]

فتوحات

عمر نے اپنی دس سالہ خلافت کے دوران سیاست کی وسعت اور فتح کا کام سھنبالا اور مختلف ممالک جیسے شام، ایران اور عراق میں بھی دخالت کی. ان ممالک کے لوگ اپنی مرکزی حکومت کے ضعف اور مسلمانوں کی قاطعیت سے روبرو ہوئے اور دوسری طرف اپنے بادشہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ گئے تھے اسی وجہ سے تیزی سے اسلام کی جانب رخ کیا یا صلح کی درخواست کی. شام، ایران اور عراق میں جن مقامات کو فتح کیا گیا وہ درج ذیل ہیں: اردن، فلسطین، مصر، اسکندریہ، حمص، قتسرین حلب، منبج، قادسیہ، بصرہ، حیرہ، نہاوند، آذربایجان، اہواز، اصطخر، ہمدان اور اصفہان. [31]

ان علاقوں کی فتح کے باعث مسلمانوں نے اسلام کو تمام جہان میں پھیلانے میں مدد کی، لیکن عربوں کا اس فتح میں شرکت کرنے کا سب سے اہم انگیزہ غنائم پر قبضہ اور خراج کو دریافت کرنا تھا. [32] اس کے سبب نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا زاہد اور اسلامی ہونا تجمل گرائی اور دنیا طلبی میں تبدیل ہو گیا اور اسی وجہ سے تیسرے خلیفہ کو بھی بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑھا. [33]

حکومتی عوامل

دوسرے خلیفہ نے سنہ ١٦ ق کو حضرت علی(ع) کے مشورے سے رسول خدا(ص) کی ہجرت کو تاریخ میں میں لکھا[34]. اور یمن میں ایک دیوان بنانے کا مشورہ دیا اور اس دیوان کا اختیار ان لوگوں کے سپرد کیا جو اسلام لا چکے تھے. اس نے بعض علاقے جیسے: مدینہ، مصر، جزیرہ، کوفہ، بصرہ، شام، فلسطین، موصل اور قنسرین کو شہر کا نام دیا خیبر کے یہودیوں کو حجاز سے باہر نکالا اور عربوں کو فتح شدہ ممالک کی طرف بھیج دیا سنی. اہل سنت کے بعض منابع کے مطابق وہ پہلا شخص تھا جس نے تازیانہ ہاتھ میں لیا، زمین کے لئے مالیات اور اہل کتاب کے مختلف طبقات کے لئے فدیہ قرار دیا، ہر شہر کے امور کو ایک شخص کے سپرد کیا، مسجد النبی کو خراب کیا اور عباس بن عبدالمطلب کے گھر کو وسعت دی، مدینے کے مردوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ امام جماعت کا انتخاب کیا. [35]

بدعت

مفصل مضمون: بدعت

عمر نے اپنی شخصی نظر پر عمل کرتے ہوئے بدعت کو دین میں داخل کیا، جیسے کہ

  • متعۃ الحجکو حرام قرار دینا[36][37] یعنی حج کی تین اقسام قران افراد اور تمتع میں سے حج تمتع کرنے والا شخص پہلے عمرہ کے تمام افعال انجام دینے کے بعد حج بجا لاتا ہے ۔ عمرہ انجام دینے کے بعد ایک دفعہ محل ہوتا ہے اور پھر ترویہ کے روز حج کے احرام دوبارہ باندھتا ہے ۔حج تمتع میں عمرے اور حج کے درمیان محل ہونا ضروری ہے ۔ حضرت عمر نے اس محل ہونے کے حکم کو حرام قرار دیا ۔
  • نکاح متعہ کو حرام کیا جو کہ رسول خدا(ص) اور ابوبکر کے زمانے میں عام تھا.[38]
  • نماز تراویح (جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم)ديا۔[39]
  • ایک نشست میں دی گئی تین طلاقوں کو تین قرار دیا جبکہ رسول اللہ ،حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے ابتدائی دور میں انہیں ایک طلاق مانا جاتا تھا ۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag

نقل حدیث کا منع کرنا

ایک کام جو ابوبکر کی خلافت سے شروع ہوا اور عمر نے بھی اس کو جاری رکھا وہ یہ تھا کہ رسول خدا(ص) کی احادیث کو نقل کرنے پر پابندی لگائی گئی اور اس نے اس بات کی دلیل یہ پیش کی کہ اس کام سے ممکن ہے خدا کی کتاب پر توجہ نہ دی جا سکے، ہر طرح کی حدیث لکھنے سے منع کر دیا. اسی لئے حکم دیا، کہ روایات کو جمع کر کے خلیفہ کے پاس لایا جائے اور انکو جلا دیا. عمر نے حتی عبداللہ بن مسعود، ابودرداء اورابو مسعود انصاری کو حدیث نقل کرنے سے منع کیا اور انکو مدینہ سے باہر جانے کی اجازت نہ دی. اور ابوہریرہ اور کعب الاحبار کو بھی حدیث نقل کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اگر وہ اس کام سے باز نہ آئے تو انکو سرزمین دوس [42] اور میمون کی طرف تبعید کر دے گا. [43] حالانکہ یہ اس وقت تھا جب وہ کعب الاحبار کے بعض اقوال کو قبول کرتا تھا [44] اور اسلام میں پہلی بار عبید بن عمیر اور تمیم داری جیسے افراد کو اجازت دی کہ رسول خدا(ص) کی مسجد میں حاضر ہوں اور تورات و انجیل کے بارے میں گفتگو کریں اور لوگوں کو اس کی توضیح دیں. [45]

کام کے لئے افراد کا انتخاب

عمر کی خلافت کے زمانے میں بہت سے علاقے فتح ہوئے اور اسلامی حکومت قائم کی گئی اس لئے اس نے ہر علاقے کے لئے ایک امیر معین کیا. دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے کے کام میں بہت سخت گیر تھا، اس لئے بہت سے والیوں کو معزول کیا اور ان کی جگہ نئے لوگوں کو رکھا. معروف و مشہور صحابہ کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور انہیں بہت کم امور میں دخالت کا حق دیا [46] دوسرے خلیفہ کے تحت مختلف ممالک میں کام کرنے کرنے والوں کے نام درج ذیل ہیں [47]

قتل

عمر بن خطاب دس سال اور چھ ماہ کی حکومت کے بعد ٢٠ ذی الحج سنہ ٢٣ ق کو ٦٠ یا ٦٣ سال کی عمر میں ابولؤلؤ کے ہاتھوں زخمی اور اسی وجہ سے تین دن کے بعد ٢٣ ذی الحج وفات پائی. صھیب رومی نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور عائشہ سے اجازت لینے کے بعد اس کو ابوبکر کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا. [48] عمر جب اپنی عمر کے آخری ایام میں زخمی حالت میں یہ کہہ رہا تھا : ای کاش میں کچھ نہ ہوتا، ای کاش مجھے میری ماں نے پیدا نہ کیا ہوتا، ای کاش میں بھول چکا ہوتا، ای کاش میں رنج و مشقت میں زندگی گزارتا. [49]

خلافت کے لئے شورا کی تشکیل

عمر بن خطاب نے اپنا خلیفہ انتخاب کرنے کے لئے اپنے سے پہلے خلیفہ کی روش پر عمل نہ کیا اور کہا کہ ابوبکر کا انتخاب مسلمانوں کی نظر کے مطابق نہ تھا اور اس کے بعد ان سے مشورہ کر کے یہ کام ہو گا. [50] ٦ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جو افراد درج ذیل ہیں علی (ع)، عثمان، عبدالرحمان بن عوف، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص. انکو اپنے بعد خلیفہ بنانے کے لئے تعین کیا اور کچھ شرائط کو قرار دیا جن میں سے بعض یہ ہیں کہ اگر ایک فرد کے حمایت کرنے والے چار نفر ہوئے تو اور مخالفت کرنے والے دوافراد ہوئے تو ان کی گردن اڑا دو یا اگر تین افراد کے دو گروہ ہوئے اور دونوں گروہوں کی نظر مختلف ہو تو اس گروہ کی بات مانو جس میں عبدالرحمان ہے اور سامنے والے تین مخالف افراد کو قتل کر دو اور اگر یہ کمیٹی تین دن کے اندر ایک افراد کو انتخاب نہ کر سکیں تو ان سب کو قتل کر دیا جائے. [51] اس شورا کا نتیجہ یہ ہوا کہ عثمان بن عفان کا تیسرے خلیفہ کے طور پر انتخاب کیا گیا. [52] اگرچہ اس شورای کا نتیجہ معلوم کرنے کے لئے شاہد مل سکتے ہیں. [53]

حضرت عمر اپنے بارے میں

اہل سنت کی کتب میں منقول ہے کہ انہوں نے اپنے بارے میں کہا :

  • تمام افراد حتا کہ حجلہ نشین خواتین بھی عمر سے زیادہ دانا ہیں۔[54][55][56] [57]
  • لو لا علی لہلک عمر[58]
  • كل أحد أفقه من عمر مرتين أو ثلاثاً[59][60]
  • اللهم غفراً ، كل الناس أفقه [61]
  • كُلُّ النَّاسِ أفْقَهُ مِنْ عُمَرَ حَتَّي‌ ربات الحجال.[62]

حوالہ جات

  1. الاستیعاب، ج۳، ص۱۱۴۴
  2. نسب قریش، زبیری، ج۱، ص۱۱۵؛ تاریخ خلیفہ بن خیاط، خلیفہ بن خیاط، ص۱۱۲؛ الاصابہ، ا بن حجر، ج۴، ص۴۸۴.
  3. الاستیعاب، ابن عبدالبرّ، ج۳، ص۱۱۴۵.
  4. نسب قریش، ج۱، ص۱۱۵؛ تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۱۶۰؛ تاریخ الامم و الملوک، ج۳، صص ۲۶۹-۲۷۰؛ التّنبیہ و الاشراف، ص۲۵۲.
  5. أنساب الأشراف، ج۱۰، ص۲۸۶
  6. الطبقات‌الکبری، ج۳، صص ۲۶۷-۲۶۸؛ سیره ا بن اسحاق، محمّد بن اسحاق، ج۲، ص۱۶۰؛ تاریخ الاسلام، ذہبی، ج۱، ص۱۸۱. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۲۸۷ و ۲۸۸.
  7. مروج‌الذّہب، مسعودی، ج۱، ص۲۹۹؛ الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۶۹؛ تاریخ الامم و الملوک، ج۳، ص۲۷۰.
  8. انساب الاشراف، ج۱، ص۱۰، ص۲۸۶ - ۲۸۹
  9. الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۷۲ اس کتاب میں ان افراد کا نام لیا گیا ہے: معاذ بن عفراء، عویم بن ساعده و عتبان بن مالک .
  10. ذہبی، شمس الدین محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفای۷۴۸ه)، تاریخ الإسلام ووفیات المشاہیر والأعلام، ج۲، ص۴۱۲، تحقیق د. عمر عبد السلام تدمری، بیروت،‌دار الکتاب العربی، الطبعہ الأولی، ۱۴۰۷ه - ۱۹۸۷م و نیز إبن أبی شیبہ الکوفی، أبو بکر عبد اللہ بن محمد (متوفای۲۳۵ ه)، المصنف فی الأحادیث والآثار، ج۶، ص۳۶۷، ح ۳۲۰۸۰، تحقیق کمال یوسف الحوت، ریاض، مکتبہ الرشد، الطبعہ الأولی، ۱۴۰۹ه؛ و نیسابوری، محمد بن عبداللہ أبو عبداللہ الحاکم (متوفای۴۰۵ ه)، المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۳۹، تحقیق مصطفی عبد القادر عطا، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۱ه - ۱۹۹۰م؛ الإیجی، عضد الدین (متوفای۷۵۶ه)، کتاب المواقف، ج۳، ص۶۳۴، تحقیق عبد الرحمن عمیره، بیروت،‌دار الجیل، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۷ه، ۱۹۹۷م.
  11. تاریخ الامم و الملوک، ج۲، ص۱۶۹،۱۹۹،۳۰۰،۳۰۸؛ الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۷۲.
  12. طبری، جامع البیان،ج ۷، ص۳۲۷؛ سیوطی، جامع الاحادیث، ج۱۴، ص۵۲۹؛اندلسی، المحرر الوجیز،ج ۱، ص۵۲۹
  13. صالحی، سبل الہدی والرشاد فی سیرة خیر العباد، ج۵، ص۳۳۱،
  14. صحیح البخاری، ج۴ ص۵۸، ح۳۱۴۲، کتاب فرض الخمس، ب ۱۸، باب مَنْ لَمْ یخَمِّسِ الأَسْلاَبَ و ج۵ ص۱۰۰، کتاب المغازی، ب ۵۴، باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی (وَیوْمَ حُنَین...، ح ۴۳۲۱،
  15. ابن حجر، فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج۸، ص۲۹
  16. ابن حجر، فتح الباری، ج۸، ص۱۲۴
  17. واقدی، ج۲، ص۱۱۱۷
  18. ابن سعد، ج۲، ص۱۸۹-۱۹۰
  19. ر ک: طبری، تاریخ، ج۳، ص۱۸۴؛ ابن ہشام، ج۴، ص۲۵۳
  20. طبری، تاریخ، ج۳، ص۱۸۶؛ ابن ابی الحدید، ج۱، ص۱۵۹-۱۶۲
  21. صحیح بخاری، ج۷، ص۹
  22. صحیح مسلم، ج۵، ص۷۶
  23. مسند احمد حنبل، ج۱، ص۳۳۶
  24. نسائی، ج۳، ص۴۳۳
  25. طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۴۳
  26. مسعودی،اثبات الوصیہ، ص 154 و 155۔دار الاضواء بیروت
  27. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج۱، ص۳۱؛ کحّالہ، اعلام النساء، ج۴، ص۱۲۳-۱۲۴.
  28. صحیح البخاری، ج۴، ص۲۱۰.
  29. الاستیعاب، ج۳، ص۱۱۵۱
  30. الطبقات‌الکبری، ج۳، صص ۲۷۵ - ۲۷۸؛ نثرالدر، آبی، ج۱، ص۱۱۹؛ العقدالفرید، اندلسی، ج۱، ص۳.
  31. تاریخ الیعقوبی، ج۲، صص ۱۴۱-۱۵۷.
  32. الاخبار الطوال، دینوری، ص۱۱۶؛ تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۱۵۴.
  33. مروج‌الذّہب، ج۱، ص۳۰۵.
  34. طبری میں مذکور ہے رسول اللہ نے خود مدینے میں ہجرت کے بعد ربیع الاول کے مہینے کو تاریخ ہجری کا آغاز قرار دیا تھا(تاریخ الامم و الملوک، ج۲، ص۱۱۰).
  35. تاریخ الیعقوبی، ج۲، صص ۱۴۵ و ۱۵۳ و ۱۵۴؛ تاریخ الامم و الملوک، ج۲، صص ۱۱۱و۱۱۲ و ج۳، ص۲۷۸؛ الطبقات‌الکبری، ج۳، صص ۱۸۸ و ۲۸۱ - ۲۸۳.
  36. ابن اثیر جزری،جامع الاصول،1/115 نے نسائی ،السنن،5/153 سے صحیح حدیث نقل کی ہے۔
  37. ابن اثیر جزری،جامع الاصول،3/116 صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن نسائی سے صحیح سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے ۔
  38. ابن اثیر جزری،جامع الاصول،11/451 پر صحیح مسلم سے صحیح حدیث روایت نقل کی ہے ۔
  39. ابن اثیر جزری،جامع الاصول،6/123 موطا امام مالک اور صحیح بخاری سے حدیث صحیح نقل کی ہے۔
  40. ابن اثیر جزری،جامع الاصول،6/30 پر صحیح مسلم سے منقول ہے ۔
  41. صحیح بخاری،1/122/592
  42. (لسان العرب، ابن منظور، ج۶، ص۹۰).
  43. الطبقات‌الکبری، ج۳، ص۲۸۷؛ تاریخ مدینہ دمشق، ا بن عساکر، ج۵۰، ص۱۷۲؛ تذکرة الحفاظ، ذہبی، ج۱، ص۸؛ کنزالعمال، ج۱۰، ص۲۹۳؛ کتاب الام، شافعی، ج۷، ص۳۵۸.
  44. البدایہ والنّہایہ، ا بن کثیر، ج۱، ص۱۹؛ حلیه الاولیاء، اصبہانی، ج۲، صص۴۴۰، ۴۴۸ و ۴۵۱.
  45. مسند احمد، ج۱، ص۱۷ و ج۳، ص۴۴۹؛ کنزالعمال، ج۱۰، ص۱۸۱.
  46. الطبقات الکبری، ج۳، صص ۲۸۳ و ۴۹۹.
  47. تاریخ خلیفہ بن خیاط، صص ۱۱۰- ۱۱۲؛ تاریخ الیعقوبی، ج۲، صص ۱۶۱و۱۶۲.
  48. الامامہ و السیاسہ، ج۱، ص۴۱ و ۴۲ و تاریخ الیعقوبی، ج۲، صص ۱۵۹ و۱۶۰؛ الاستیعاب، ج۳، صص ۱۱۵۵ و ۱۱۵۶.
  49. الزحد و الرقائق، ص۷۹-۸۰ و ۱۴۵-۱۴۶؛ حیاة الصحابہ، ج۲، ص۱۱۵، تاریخ المدینہ المنورة، ج۲، ص۹۲۰ و...
  50. المصنف، ج۵، ص۴۴۵؛ الطبقات‌الکبری، ج۳، ص۳۴۴.
  51. تاریخ‌الیعقوبی، ج۲، ص۱۶۰؛ انساب‌الاشراف، بلاذری، ج۲، ص۲۶۱.
  52. تاریخ‌الیعقوبی، ج۲، ص۱۶۲؛ تاریخ الامم والملوک، ج۳، ص۲۹۶ و ۳۰۲؛ المصنف، ج۵، ص۴۴۷؛ التّنبیہ و الاشراف، صص ۲۵۲ و ۲۵۳؛ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی‌الحدید، ج۱، ص۱۹۴؛ البدء و التّاریخ، ابن مطہر، ج۵، ص۱۹۲؛ السقیفہ و فدک، ص۸۷، (البتّہ طبری نے اس ماجرے میں عمرو بن عاص کے کردار ابن عوف کی شرط کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ .
  53. ر.ک به صحبت‌های امام علی(ع) در نهج البلاغه: نهج‌البلاغه، دشتی، ص۳۰؛ شرح نهج‌البلاغه، ابن ابی‌الحدید، ج۱، ص۱۸۸.
  54. خراسانی، سنن سعید بن منصور، ج۱، ص۱۹۵، ح۵۹۸؛ طحاوی، ج۱۳، ص۵۷
  55. ماوردی،الحاوی الکبیر فی فقہ الشافعی، ج۹، ص۳۳۱
  56. سرخسی، المبسوط، ج۱۰، ص۱۵۳
  57. بخاری، کشف الاسرار، ج۳،ص۳۴۶
  58. تاویل مختلف الاحادیث، ابن قتیبہ،152۔ابن عبد البر،الاستیعاب3/1103
  59. البيہقي - السنن الكبرى - كتاب الصداق ح13434
  60. زیلعی،تخريج الأحاديث والآثار1/295 زیلعی نے کہا مذکورہ روایت سنن اربعہ یعنی:سنن أبی داود ،سنن ترمذي ،سنن نسائي وسنن ابن ماجہ، کی کتاب النکاح میں مذکور ہے ۔
  61. إبن حجر - المطالب العالية - كتاب النكاح 1610
  62. ابن أبي الحديد،شرح نہج البلاغہ،1/182

مآخذ

  • الاخبارالطوال، دینوری،‌دار احیاء الکتب العربی، منشورات شریف الرّضی، قاہره، ۱۹۶۰م.
  • الاستیعاب، ابن‌عبدالبر، دارالجیل، بیروت، ۱۴۱۲ق.
  • الاصابہ، ابن‌حجر، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۵ق.
  • الامامہ و السّیاسہ، ابن‌قتیبہ، مؤسسہ الحلبی.
  • اندلسی، أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عطیہ المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، تحقیق عبد السلام عبد الشافی محمد، دار الکتب العلمیہ لبنان، الطبعہ الاولى، ۱۴۱۳ق.
  • انساب‌الاشراف، أحمد بن یحیی بن جابر البلاذری، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت،‌ دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶
  • البدء و التّاریخ، مطہر بن طاہر المقدسی، بور سعید، مکتبہ الثقافہ الدینیہ، بی‌تا
  • البدایة و النّہایہ ابن‌کثیر،‌ دار احیاء التّراث العربی، بیروت، ۱۴۰۸ق.
  • تاریخ‌الاسلام، ذہبی، دارالکتاب العربی، بیروت، ۱۴۰۷ ق.
  • تاریخ الامم و الملوک، طبری، مؤسّسہ الاعلمی، بیروت، چہارم، ۱۴۰۳ق.
  • طبری، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن،المحقق أحمد محمد شاكر، مؤسسہ الرسالہ، الطبعہ الأولى، ۱۴۲۰ق.
  • تاریخ‌الیعقوبی، یعقوبی، دارصادر، بیروت.
  • تاریخ خلیفہ بن خیاط، خلیفہ بن‌ خیاط، دارالفکر، بیروت.
  • تاریخ مدینہ دمشق، ابن‌عساکر، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۵ق.
  • تذکرةالحفاظ، ذہبی،‌ دار احیاء التّراث العربی، بیروت.
  • التنبیہ و الاشراف، مسعودی، دارصعب، بیروت.
  • حلیةالاولیاء، اصبہانی، دارالکتاب العربی، بیروت، چہارم، ۱۴۰۵ق.
  • خراسانی، سعيد بن منصور، سنن سعيد بن منصور، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، الدار السلفيہ، ہند، الطبعہ الأولى، ۱۴۰۳ق.
  • السقیفةو فدک، جوهری، شرکہ الکتبی للطباعہ والنّشر، بیروت، دوم، ۱۴۱۳ق.
  • سیره ابن‌اسحاق، ابن‌اسحاق، معہدالدراسات والابحاث للتّعریف.
  • سرخسی، محمد بن أبی سہل، المبسوط، دار المعرفہ، بيروت.
  • شرح نہج‌البلاغہ، ابن ابی‌الحدید، داراحیاءالکتب العربیہ، ۱۳۷۸.
  • الطبقات‌الکبری، ابن‌سعد، دارصادر، بیروت.
  • طحاوی، أحمد بن محمد، شرح مشكل الآثار، تحقيق شعيب الأرنؤوط، مؤسسہ الرسالہ، لبنان، بيروت، الطبعہ الأولى، ۱۴۰۸ق.
  • العقد الفرید، اندلسی، المکتبہ الشاملہ.
  • کتاب الام، شافعی، دارالفکر، بیروت، دوم، ۱۴۰۳ق.
  • کنزالعمال، متّقی ہندی، مؤسّسہ الرّسالہ، بیروت، ۱۴۰۹ق.
  • لسان‌العرب، ابن‌منظور، ادب الحوزه، قم، ۱۴۰۵ق.
  • مروج الذہب و معادن الجوہر، أبو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی، تحقیق اسعد داغر، قم،‌ دار الہجرة، چ دوم، ۱۴۰۹ق
  • مسنداحمد، احمدبن‌حنبل، دارصادر، بیروت.
  • المصنف، صنعانی، عبدالرزاق، تحقیق: عنی بتحقیق نصوصہ وتخریج أحادیثه والتعلیق علیه الشیخ المحدث حبیب الرحمن الأعظمی، بی‌جا، بی‌تا
  • نثرالدر، ابی، نرم‌افزارالمکتبہ الشاملہ.
  • نسب قریش، زبیری، المکتبہ الشاملہ.
  • نہج‌البلاغہ، دشتی، مؤسّسہ فرہنگی انتشاراتی شاکر، ۱۳۸۴ش.
  • ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبه‌الله، شرح نهج‌البلاغه، به کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہره، ۱۳۷۸ق، ص۱۹۵۹م.
  • ابن ہشام، السیره النبویہ، بہ کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہره، ۱۳۵۵ق، ص۱۹۳۶م
  • واقدی، محمدبن عمر، المغازی، بہ کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶م
  • بخاری، صحیح البخاری،‌دار الفکر للطباعہ والنشر والتوزیع(طبعہ بالأوفست عن طبعہ دارالطباعہ العامرة بإستانبول)، ۱۴۰۱ق/ ۱۹۸۱م.
  • بخاری، عبد العزيز بن أحمد، كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، عبد اللہ محمود محمد عمر،دار الكتب العلميہ، بيروت، ۱۴۱۸ق.
  • صالحی شامی، محمد بن یوسف، سبل الہدى والرشاد فی سیرة خیر العباد، تحقیق عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الکتب العلمیہ، بیروت، الطبعہ الأولى، ۱۴۱۴ق.
  • ابن حجر، عسقلانی الشافعی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، تحقیق محب الدین الخطیب، دار المعرفہ، بیروت.
  • ماوردی، علي بن محمد، الحاوي الكبير في فقہ مذہب الإمام الشافعي وهو شرح مختصر المزني، تحقيق شيخ علي محمد معوض، دار الكتب العلميہ، بيروت، لبنان، الطبعہ الأولى، ۱۴۱۹ق.
  • مسلم النیسابوری، صحیح مسلم، دارالفکر، بیروت.
  • أحمد بن حنبل، مسند أحمد، دارصادر، بیروت.
  • نسائی، السنن الکبری، تحقیق: عبدالغفار سلیمان البنداری، سید کسروی حسن، دارالکتب الاسلامیہ، بیروت، ۱۴۱۱/۱۹۹۱م.