غاضریہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

غاضریہ کربلا کی سر زمین کا دوسرا نام ہے ۔حقیقت میں یہ مقام کوفہ کے پاس اور کربلا کے نزدیک بنی اسد قبیلہ کا مقام سکونت تھا ۔امام حسین ؑ جب کربلا میں پہنچے تو امام نے اس جگہ پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن حر بن یزید ریاحی سے اس سے مانع ہوا کیونکہ حر بن یزید ریاحی عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے بے آب و گیاہ جگہ پر امام حسین کو پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنے پر مامور تھا۔

محل وقوع

غاضریہ بنی غاضرہ سے منسوب ایک دیہات ہے کہ جو بنی اسد قبیلہ کی ایک ذیلی شاخ ہے اور وہاسلام کے ابتدائی دور میں عراق آ کر آباد ہو گئے ۔[1] یہ علاقہ کربلا سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔اس زمین کو اراضی حسینیہ بھی کہتے ہیں ۔طول تاریخ میں دوسرے ناموں کی طرح کربلا کی زمین کیلئے بھی یہ نام استعمال ہوتا رہا ہے ۔حقیقت میں غاضریہ کربلا کے قریب ایک جگہ کا نام ہے ۔[2]

واقعات

جب امام حسین(ع) کربلا پہنچے تو امام نے اس جگے کے متعلق استفسار کیا جواب میں اس زمین کا نام پوچھا تو جواب میں ناموں کے ساتھ غاضریہ بھی کہا گیا ۔

دیگر بعض تاریخی گزارشوں میں آیا ہے کہ جب امام حسین نینوا میں پہنچے تو عبید اللہ بن زیاد کا بھیجا ہوا شخص حر بن یزید ریاحی کیلئے ایک خط لایا ۔اس خط میں مذکور تھا کہ امام حسین بیابان کو صحرا میں پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرو۔ حر نے امام حسین(ع) کو اس خط سے آگاہ کیا اور کہا کہ عبید اللہ بن زیاد نے اپنے کارندے کو دستور دیا تھا کہ وہ اسکے فرمان کو جاری کرنے پر نگرانی کرے ۔ امام حسین(ع) نے کہا: ہمیں کچھ اور آگے جانے کی مہلت دو تا کہ ہم غاضریہ میں پہنچ جائیں۔حاکم کا دستور ہے کہ آپ کو بیابان و صحرا میں پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کروں اور حاکم کے فرمان کی اطاعت کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے ۔[3]

زمین کی خریداری

بعض تاریخی گزارشوں میں آیا ہے کہ جہاں اسوقت امام علیہ السلام کی قبر ہے یہ جگہ امام نے اہل نینوا سے 60000درہم کے بدلے میں خریدی تھی اور یہ زمین اس شرط پر انہیں صدقہ دے دی کہ وہ لوگوں کو امام کے قبر کی طرف راہنمائی کریں گے اور تین دن تک انکی مہمان نوازی کریں گے۔[4]

شہدا کی تدفین

بنی اسد میں سے غاضریہ کے اہالی عاشورا کے روز امام کی شہادت کے ایک دن یا تین بعد عمر بن سعد کے لشکر کے کربلا سے چلے جانے کے بعد وہاں آئے اور انہوں نے امام حسین ؑ کو اسی جگہ دفن کیا جہاں آج انکا مزار ہے نیز ان کے اہل بیت اور اصحاب کو ان کے نزدیک دفن کیا اور حضرت عباس کو اسی جگہ دفن کیا جہاں آج ان کا مزار موجود ہے ۔[5][6][7]

غاضریہ کے متعلق امام باقر ع کی روایت

امام باقر(ع) سے منقول روایات میں آیا ہے : غاضریہ میں وہی بقعہ ہے جہاں خدا نے حضرت موسی کے ساتھ بات کی اور حضرت نوح کے ساتھ مناجات کی تھی۔زمین کا یہ ٹکڑا خدا کے نزدیک نہایت قابل احترام ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا اپنے اولیا اور اپنے رسولوں کے فرزندان کو ودیعہ نہ کرتا ۔پس غاضریہ میں ہماری قبروں کی زیارت کیا کریں .[8]

حوالہ جات

  1. حموی، معجم‌البلدان، ج۴، ص۱۸۳.
  2. دینوری، اخبارالطوال، ج۱، ص۲۵۲.
  3. دینوری، اخبارالطوال، ج۱، ص۲۵۱ ـ۲۵۲.
  4. طریحی، مجمع‌البحرین، ج۵، ص۴۶۲-۴۶۲؛ نوری، مستدرک‌الوسائل، ج۱۰، ص۳۲۱.
  5. ابن کثیر دمشقی‌، البدابہ و النہابہ، ج۸، ص۱۸۹.
  6. طبرسی، اعلام الوری، ج۱، ص۲۵۱ و ۴۷۰.
  7. مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۱۴.
  8. مجلسی، بحارالانوار، ج۹۸، ص۱۰۹، ج۱۰۱، ص۱۰۸.


ماخذ

  • یاقوت حموی، شہاب الدین ابوعبدالله، معجم البلدان، بیروت، دارصادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م.
  • دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داود، الاخبار الطوال، تحقیق: عبدالمنعم عامر، مراجعہ: دكتر جمال‌الدین شیال، قاہره،‌دار احیاء الكتب العربی، ۱۹۶۰م.
  • فخرالدین طریحی، مجمع البحرین، تہران، مرتضوی، چاپ سوم، ۱۳۷۵ش.
  • مجلسی، بحارالانوار، تحقیق: محمد باقر محمودی/ عبدالزہراء علوی، بیروت، داراحیاء‌التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • ابن کثیر دمشقی، البدایہ و النہایہ،‌ دار الفکر، بیروت، بی‌جا، بی‌تا.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی،‌ دار الکتب الاسلامیہ، تہران، چاپ سوم، ۱۳۹۰ق.
  • مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، ج۲، ص۱۱۴، کنگره شیخ مفید، قم، چاپ اول، ۱۴۱۳ق.
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، تحقیق و تصحیح: گروه پژوہش مؤسسہ آل البیت علیہم السلام‌، بیروت، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام‌، ۱۴۰۸ق.