عبد اللہ بن یحیی حضرمی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن یحیی
معلومات شخصیت
مکمل نام عبد اللہ بن یحیی حضرمی
کنیت ابو الرضا، ابو الرضی
مقام سکونت کوفہ
معروف رشتہ دار یحیی حضرمی (والد، صحابی امام علیؑ)
شہادت کی کیفیت معاویہ کے حکم سے زیاد بن ابیہ کے ذریعہ قتل ہوئے۔
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت جنگ جمل
وجہ شہرت شرطۃ الخمیس، اصحاب امام علیؑ


عبد اللہ بن یحیی حضرمی، شرطۃ الخمیس کے ارکان میں سے ہیں اور جنگ جمل میں شریک تھے۔ صلح امام حسنؑ کے بعد معاویہ کے حکم سے شہید کئے گئے۔ امام حسنؑ نے معاویہ کو لکھے ایک خط میں عہد نامہ کی خلاف ورزی اور عبد اللہ بن یحیی کے قتل کی طرف اشارہ کیا ہے۔

نام و نسب

عبد اللہ بن یحیی حضرمی، یمن کے شہر حضرموت سے منسوب ہیں۔ بعض نسخوں میں ان کا نام عبد اللہ بن بحر[1] و عبد اللہ بن نُجی[2] (عبد اللہ بن یحیی کی تصحیف کے ساتھ)[3]) بھی ثبت ہوا ہے۔ ان کی کنیت ابو الرضا[4] یا ابو الرضی[5] ذکر ہوئی ہے۔ ان کے والد یحیی حضرمی بھی امام علیؑ کے اصحاب اور شرطۃ الخمیس[6] میں سے تھے۔ وہ جنگ صفین میں امام کے ہمراہ تھے۔[7]

جنگ جمل میں شرکت

عبد اللہ، امام علیؑ کی خلافت کے زمانہ میں شرطۃ الخمیس میں سے تھے؛[8] اسی طرح جنگ جمل میں بھی حاضر تھے۔ نقل ہوا ہے کہ حضرت علیؑ نے جنگ کے دوران ان سے فرمایا:

« تمہیں بشارت ہو اے عبد اللہ، بلا شبہ تم اور تمہارے والد شرطۃ الخمیس میں شامل ہو۔ پیغمبر اکرمؐ نے تمہارا اور تمہارے والد کا نام شرطۃ الخمیس کی فہرست میں ہونے کی خبر مجھے دی ہے۔ خداوند عالم نے اپنے رسولؐ کی زبان سے تمہیں شرطۃ الخمیس کے نام سے موسوم کیا ہے۔»[9]

شہادت

امام علیؑ کی شہادت کے بعد سے عبد اللہ ہمیشہ آپؑ کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔[10] زیاد بن ابیہ نے معاویہ کو حضرت علیؑ سے ان کی بے پناہ محبت کے بارے میں بتایا تو اس نے عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔[11]

علامہ امینی اپنی کتاب الغدیر میں المحبر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ زیاد نے انہیں کوفہ میں اپنے گھر کے باہر کئی دنوں تک تختہ دار پر لٹکا کر رکھا[12] اور جیسا کہ امام حسنؑ کے معاویہ کو لکھے گئے خط جو تحریر کیا ہے، سے معلوم ہوتا ہے کہ زیاد نے ان کے بدن کو مثلہ بھی کیا تھا۔[13]

حسنینؑ کا رد عمل

شیخ صدوق نے کتاب الفروق بین الاباطیل و الحقوق کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ جب معاویہ نے عہد نامہ کی خلاف ورزی کی تو امام حسنؑ نے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کے ذریعہ کی گئی صلح نامے کی خلاف ورزیوں کو بیان کیا اور اس کی ابتداء میں عبد اللہ بن یحیی حضرمی کے قتل کی طرف اشارہ فرمایا۔[14]

امام حسینؑ نے بھی معاویہ کو ایک خط عبد اللہ یحیی کے قتل پر اس کی مذمت کی۔[15]

مقام حدیثی

شیخ طوسی نے ان کا نام امام علیؑ کے راویوں میں کیا ہے۔[16] شیعہ و سنی منابع میں بعض روایات خود عبد اللہ سے یا ان کے والد کے حوالے سے حضرت علیؑ سے نقل ہوئی ہیں۔[17]

حوالہ جات

  1. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۳۵۰.
  2. طوسی، رجال طوسی، 1413ھ ص71
  3. امین، أعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۳۵۰.
  4. طوسی، رجال طوسی، ۱۴۱۳ھ، ص۷۱.
  5. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ھ، ص۳.
  6. خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۳۷۲ش، ج۲۰، ص۹۸.
  7. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۸، ص۱۹۹.
  8. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ق، ص۳.
  9. کشی، رجال، ۱۳۴۸ش، ص۶.
  10. آل یاسین، صلح الحسنؑ، ۱۴۱۲م، ص۳۴۷.
  11. آل یاسین، صلح الحسن(ع)، ۱۴۱۲م، ص۳۴۷.
  12. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱۱، ص۷۹-۸۰.
  13. طبرسی، الإحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۲۹۷.
  14. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۲۱۲.
  15. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۲۹۷.
  16. طوسی، رجال، ۱۴۱۳ق، ص۷۱
  17. مثال کے طور پر مراجعہ کریں: أبومعاش، الأربعین في حُبّ أمیرالمومنین، ۱۳۷۸ش، ج۶، ص۱۱۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۸، ص۳۰۴.


مآخذ

  • آل یاسین، راضی، صلح الحسن علیہ‌السلام، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۲م.
  • ابن کثیر دمشقی، البدایۃ و النہایۃ، بیروت،‌ دار الفکر، بی‌تا.
  • ابومعاش، سعید، الأربعین في حب أمیر المؤمنین علي بن أبي طالب علیہ السلام، قم، نشر الاعتصام، ۱۳۷۸شمسی ہجری۔
  • امین، محسن، أعیان الشیعۃ، بیروت،‌ دار التعارف، ۱۴۰۳ھ۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۶ھ۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، قم، الثقافۃ الاسلامیۃ، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
  • صدوق، علل الشرایع، نجف، منشورات المکتبۃ الحیدریۃ، ۱۳۸۵ھ۔
  • طبرسی،‌ احمد، الاحتجاج علی أہل اللجاج، مشہد، مرتضی، ۱۴۰۳ھ۔
  • طوسی، رجال الطوسی، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، ۱۴۱۳ق/۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • کشی، رجال الکشی (اختیار معرفۃ الرجال)، مشہد، دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۸شمسی ہجری۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ھ۔
  • مفید (منسوب)، الإختصاص، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔