ابوذر غفاری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابوذر غفاری
ابوذر
جلیل القدر صحابی
پیدائش ہجرت سے 33 سال قبل
وفات ۳۲ق؛ ربذه
وجۂ وفات جلاوطنی میں موت
اولاد ذر
دینی معلومات

ابوذر غفاری کا اصل نام جندب بن جنادہ بن سفیان الغفاری ہے اور وہ ابوذر غفاری کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا شمار پیغمبر اکرم(ص) کے ان بزرگ صحابیوں، اور امام علی(ع) کے ان محبوں میں سے ہوتا ہے جن کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت دونوں فرقوں کے علماء بہت ساری صفات و فضائل اور مناقب بیان کرتے ہیں۔ علماء علم رجال کے نزدیک ابوذر، علم رجال میں ارکان اربعہ (معتبرترین چار صحابی) میں سے شمار ہوتے ہیں۔ تیسرے خلیفہ عثمان کی کارکردگی پر معترض ہونے کی وجہ سے آپ شام جلا وطن ہوئے اور پھر وہاں سے ربذہ بھیجا گیا اور وہیں پر ہی دنیا سے چل بسے۔

امام علی(ع) کا ابوذر کو ربذہ کی جانب جلا وطنی کے وقت خطاب:

"اے ابوذر! تم نے خدا کی خاطر غصہ کیا ہے، لہذا اسی ذات پر امید رکھنا جس کی خاطر غصہ کیا ہے۔ یہ لوگ اپنی دنیا میں تم سے خوفزدہ ہوئے، اور تم کو اپنے دین کی خاطر ان سے ڈر ہے۔ لہذا جس چیز کی خاطر وہ تم سے ڈرے ہیں، وہ چیز ان کے لئے چھوڑ دو۔ اور جس وجہ سے تم ان سے ڈرے ہو اس کو ان سے دور لے جاؤ۔ تم نے جس کام سے انکو روکا ہے، انکو اسکی کتنی ضرورت ہے، اور تم کتنے بے نیاز ہو اس سے جس سے وہ تمہیں روکتے ہیں۔ تمہیں بہت جلدی پتا چل جائے گا کہ کل اس کا نفع کس کو ملے گا، اور جس کو اس کا زیادہ نقصان ملے گا، وہ کون ہو گا۔ اگر آسمانوں اور زمین کو کسی انسان کے لئے بند کیا جائے، لیکن وہ خدا سے ڈرے، اس کے لئے وہ دونوں کھلے ہیں۔ خدا خود تمہارا مونس اور مددگار ہے، اور سوائے باطل کے تمہیں نہیں ڈرا سکے گا۔ اگر تم ان کی دنیا کو قبول کرتے وہ تم سے دوستی کرتے، اور اگر ان کی خاطر قرض لیتے تو ان کو سکون ملتا۔"

نہج البلاغہ، ترجمہ شہیدی، خطبہ ۱۳۰، ص۱۲۸-۱۲۹

ولادت، والدین اور ظاہری صفات

اسلام کے آنے سے بیس سال پہلے،ابوذر نے قبیلہ غِفار کے ایک خاندان میں آنکھ کھولی، جن کا شمار عرب کے اصیل قبیلوں میں ہوتا ہے۔[1] آپکے والد "جنادہ" جو کہ غفار کے فرزند تھے اور والدہ گرامی کا نام "رملہ بنت الوقیعہ" تھا جن کا تعلق بنی غفار بن ملیل خاندان سے تھا۔[2] مورخین کا کہنا ہے کہ ابوذر کے والد کے نام میں اختلاف ہے اور ان کے لئے یزید، جندب، عشرقہ، عبداللہ اور سکن جیسے نام بھی ذکر ہوئے ہیں۔[3]

ابن حجر عسقلانی لکھتا ہے: ابوذر لمبے قد، گندمی رنگ اور کمزور جسم کے مالک تھے۔ [4] جبکہ ابن سعد کا کہنا ہے کہ آپ کا قدلمبا اور بال اور داڑھی سفید تھی۔[5] اور ذہبی کے کہنے کے مطابق آپ، لمبے قد، صحت مند جسم اور لمبی داڑھی کے مالک تھے۔[6]

نام اور لقب

آپ کے فرزند کا نام ذر ہونے کی وجہ سے آپ کو ابوذر کا نام دیا گیا۔ لیکن ان کے اصلی نام میں اختلاف ہے اور تاریخی کتابوں میں، ان کے مختلف نام ذکر ہوئے ہیں جیسے کہ بدر بن جندب، بریر بن عبداللہ، بریربن جنادہ، بریرہ بن عشرقہ، جندب بن عبداللہ جندب بن سکن اور یزید بن جنادہ وغیرہ۔[7] لیکن جو مشہور اور صحیح سمجھا جاتا ہے وہ جندب بن یزید ہے۔[8]

زوجہ اور فرزند

جو کچھ منابع میں ذکر ہوا ہے اس کے مطابق آپ کا "ذر" نامی ایک بیٹا تھا اور کلینی نے باب وفات میں ایک روایت بیان کرتے ہیں جس میں ان کے فرزند کا نام ذر لکھا گیا ہے۔ [9] اور ان کی زوجہ کو ام ذر کہا گیا ہے۔[10]

اسلام قبول کرنا

آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔[11] بعض کا کہنا ہے کہ ابوذر اسلام سے پہلے بھی ایک خدا کو مانتے تھے اور حضرت پیغمبر(ص) کی بعثت سے تین سال پہلے بھی خدا کی عبادت کرتے تھے۔[12] ابن حبیب بغدادی کہتا ہے، کہ ابوذر جاہلیت کے زمانے میں بھی شراب اور ازلام کو حرام سمجھتا تھا۔[13] اور اسلام کے ظہور کے بعد رسول اکرم(ص) پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ روایت ہے کہ ابوذر نے کہا کہ میں اسلام لانے والوں میں سے چوتھا فرد تھا اور حضرت پیغمبر(ص) کے پاس گیا کہا: تم پر سلام ہو اے اللہ کے رسول؛اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی اللہ نہیں ہے اور محمد اس کا بندہ اور بھیجا ہوا پیغمبر ہے۔ پھر آپ(ص) کے چہرے پر خوشی اور مسرت دیکھی۔ تھی۔[14] ابن عباس، نے ابوذر کے اسلام لانے کے بارے میں یوں روایت کی ہے کہ جب ابوذر کو مکہ میں حضرت پیغمبر(ص) کی بعثت کی خبر ملی، تو آپ نے اپنے بھائی انیس سے کہا کہ اس سر زمین پر جاؤ اور مجھے اس مرد کے علم کے بارے میں خبر لے آو جس کا دعوی ہے کہ اسے آسمان سے خبریں آتی ہیں، ان کی باتوں کو سن کر میرے پاس واپس آجاو۔ اس کا بھائی مکہ پہنچا، اور حضرت پیغمبر(ص) کی باتوں کو سن کر واپس ابوذر کے پاس پہنچا۔ پھر ابوذر مکہ گیا اور حضرت پیغمبر(ص) کی تلاش میں نکلا۔ ابوذر کہتا ہے: جب صبح ہوئی تو میں امام علی(ع) کے ہمراہ حضرت پیغمبر(ص) کے گھر گیا اور اسلامی رسم کے مطابق کہا، آپ پر سلام ہو اے رسول خدا(ص)، اور میں پہلا فرد تھا جو آپ(ص) پر اسطرح سلام بھیجتا تھا۔۔۔ اور پھر رسول خدا(ص) نے مجھے اسلام کی پیشکش دی اور میں نے شہادتین اپنی زبان پر جاری کیا۔[15] ابوذر کا اسلام لانے کا ماجرا شیعہ کتابوں میں کسی اور طریقے سے بیان ہوا ہے اور کلینی نے ابوذر کا اسلام لانے کے ماجرا کو امام صادق(ع) سے منقول ایک روایت میں بیان کیا ہے۔[16] (ناتمام)

فضائل اور مناقب

حضرت پیغمبر(ص) اسے یوں خطاب فرماتے تھے: مرحبا اے ابوذر! تم ہمارے اہل بیت سے ہو۔[17] اور ایک اور جگہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ابوذر سے زیادہ سچے آدمی پر نہ آسمان کا سایہ پڑا ہے اور نہ ہی زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اندر جگہ نہ دی ہے۔[18] ایک اور روایت میں رسول خدا(ص) نے ابوذر کو زہد اور عاجزی میں حضرت مریم(ع) سے تشبیہ دی ہے۔ [19] امام علی(ع) سے ابوذر کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام(ع) نے فرمایا: اس کے پاس ایسا علم ہے جس سے لوگ محروم ہیں اور وہ ایسے علم سے مستفید ہو رہا ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔[20] امیرالمومنین(ع) ابوذر کا شمار ان افراد میں کرتے تھے جن کی جنت مشتاق ہے۔[21] امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں: رسول خدا(ص) کے بعد سب لوگ امام علی(ع) کو چھوڑ گئے اور آپ کا انکار کیا سوائے تین لوگوں کے، سلمان، ابوذر اور مقداد۔ عمار نے بھی آپ(ع) کو چھوڑا لیکن دوبارہ آپ(ع) کی جانب واپس پلٹ آیا۔[22] امام جعفر صادق(ع) نے ابوذر کی عبادت کے بارے میں فرمایا کہ ابوذر کی بیشتر عبادت غور و فکر تھی۔۔۔ خدا کے خوف سے اس قدر رویا کہ آنکھیں زخمی ہو گئیں۔[23] امام جعفر صادق(ع) نے ایک اور روایت میں فرمایا ہے کہ ابوذر کہتا ہے کہ مجھے تین ایسی چیزیں جنہیں لوگ ناپسند کرتے ہیں میں ان کو پسند کرتا ہوں، موت، غربت، بیماری۔ امام(ع) نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ابوذر کا مطلب یہ ہے کہ موت خدا کی اطاعت میں اس زندگی سے بہتر ہے جس میں خدا کی معصیت ہو اور بیماری خدا کی اطاعت میں اس صحت سے بہتر ہے جس میں خدا کی نافرمانی ہو اور غربت خدا کی اطاعت میں اس فقیری سے بہتر ہے جس میں خدا کی معصیت ہو۔[24] شیعہ کتابوں میں، سلمان، مقداد اور عمار کے ساتھ ابوذر غفاری کو اسلام میں موجود چار ارکان میں سے ایک قرار دیا ہے۔[25] شیخ مفید، امام موسی کاظم علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن، ایک ندا آئے گی کہ کہاں ہیں رسول خدا(ص) کے وہ حواری جنہوں نے عہد نہیں توڑا تھا؟ تو اس وقت سلمان، مقداد اور ابوذر اپنی جگہ سے اٹھیں گے۔[26]

آغا بزرگ تہرانی نے ابوذر کی حالات زندگی اور فضائل کے بارے میں دو کتابیں، ابو منصور ظفر بن حمدون بادرائی کی کتاب اخبار ابی ذر،[27] اور شیخ صدوق کی کتاب، اخبار ابی ذر الغفاری و فضائلہ[28] کا ذکر کیا ہے۔ سید علی خان مدنی ابوذر کے بارے میں یوں لکھتا ہے: وہ بڑے عالم اور عبادت گزار و بلند مرتبہ تھے، اور سال میں چار سو دینار غرباء میں تقسیم کرتے تھے اور کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔[29]

بحر العلوم، ابوذر کو حواریوں میں سے ایک سمجھتے ہیں جو سیدالمرسلین کی راہ پر چلے، اور اہل بیت(ع) کے فضائل بیان کرنے اور ان کے دشمنوں کے عیوب اور نقص بیان کرنے میں بڑے سخت تھے۔[30] ابو نعیم اصفہانی کہتا ہے: ابوذر نے حضرت پیغمبر(ص) کی خدمت کی اور اصول سیکھے اور باقی سب کچھ ترک کیا۔ابوذر نے اسلام اور اللہ کی شریعت کے نازل ہونے سے پہلے بھی کبھی سود نہ لیا تھا۔ حق کی راہ میں، الزام لگانے والے کبھی اس پر کوئی الزام نہیں لگا سکے اور حکومتی طاقت کبھی اسے خوار نہ کر سکی۔[31]

امام علی(ع) سے دوستی

اربلی ایک روایت نقل کرتا ہے کہ ابوذر نے امام علی(ع) کو اپنا وصی بنایا اور کہا: خدا کی قسم میں نے برحق امیرالمومنین(ع) کو وصیت کی ہے۔ خدا کی قسم وہ ایسی بہار ہے کہ جس کے ساتھ سکون ملتا ہے اگرچہ تم لوگوں سے جدا ہو گیا اور ان سے خلافت کا حق چھین لیا گیا۔[32] ابن ابی الحدید لکھتا ہے: ابوذر نے ربذہ میں ابن رافع سے کہا کہ بہت جلد ایک فتنہ ایجاد ہو گا، پس خدا سے ڈرو اور علی بن ابی طالب(ع) کی حمایت کرو۔[33] اس کی حضرت علی(ع) سے دوستی اور محبت کی یہ حد تھی کہ رات کی تاریکی میں حضرت فاطمہ(س) کے جنازے کی تشییع میں شرکت کی۔[34]

خلفاء کا دور

ابوذر نے امام علی(ع) کو ولایت کا حق دار سمجھنے ہوئے اس کے دفاع میں ابو بکر کی بیعت سے انکار کیا۔[35] اور دوسرے خلیفہ کے دور میں ابوذر کا ان لوگوں میں سے شمار ہوتا تھا چنہوں نے خلیفہ کی طرف سے دیا ہوا تدوین حدیث کی ممنوعیت کے حکم کو ماننے سے انکار کیا اور کہتا تھا خدا کی قسم اگر میری زبان پر تلوار رکھیں اور اور کہیں کہ میں پیغمبر اکرم کی حدیث نقل نہ کروں تو میں اپنی زبان کٹوانے کو رسول اللہ کی احادیث بیان نہ کرنے پر ترجیح دیتا ہوں۔[36] اور اسی حدیث نقل کرنے کی وجہ سے عمر کے زمانے میں ابوذر دوسرے چند افراد کے ساتھ زندان میں رہا۔[37]

جلا وطنی

شام

ابن ابی الحدید کا کہنا ہے کہ عثمان کی طرف سے مروان بن حکم، زید بن ثابت اور چند دوسرے لوگوں کو بیت المال سے مال دینا اور اس پر ابوذر کی مخالفت اور احتجاج باعث بنا کہ اسے شام جلا وطن کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابوذر گلی کوچوں میں علنی طور اعتراض کرتا تھا اسی وجہ سے عثمان نے اسے مدینہ سے شام جلاوطن کردیا۔[38]لیکن ابوذر شام میں معاویہ کے کاموں پر اعتراض کرتا تھا اور ایک دن معاویہ نے 300 دینار ابوذر کے لیے بھیج دیا تو ابوذر نے دینار لانے والے سے کہا : اگر یہ بیت المال سے میرا اس سال کا حصہ ہے جو اب تک نہیں دیا تھا تو میں اسے رکھ دیتا ہوں لیکن اگر ہدیہ ہے تو اس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسے واپس کردیا۔ جب معاویہ نےدمشق میں قصر خضراء بنایا تو ابوذر نے کہا: اے معاویہ! اگر اس قصر کو بیت المال کے پیسوں سے بنایا ہے تو خیانت ہے اور اگر اپنے پیسوں سے بنایا ہے تو اسراف ہے۔ اس طرح سے ہمیشہ معاویہ سے کہتا تھا: خدا کی قسم تم نے ایسے کام انجام دیا ہے جنہیں میں نہیں جانتا ہوں؛ اور خدا کی قسم! ایسے کام نہ تو اللہ کی کتاب میں ہیں اور نہ ہی پیغمبر اکرم کی سنت میں؛ میں ایسے حق کو دیکھ رہا ہوں جو بجھا جارہا ہے اور ایسے باطل کو دیکھ رہا ہوں جو زندہ ہو رہا ہے، سچ کو دیکھ رہا ہوں جسے جھٹلایا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ ابوذر کی انہی باتوں کی وجہ سے ایک دن معاویہ نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا اور اسے اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ٹھہرایا۔ ابوذر نے بھی جواب میں کہہ دیا: میں نہ تو اللہ کا دشمن ہوں اور نہ ہی اللہ کے رسول کا، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن تو تم اور تمہارا باپ ہے جنہوں نے دکھاوے کے طور پر اسلام لایا لیکن دل میں کفر چھپا رکھا اور اللہ کے رسول نے یقینا تم پر لعنت کی اور کئی بار تمہیں بد دعا کی کہ تمہارا پیٹ کبھی نہ بھرے۔ معاویہ نے کہا: وہ شخص میں نہیں ہوں۔ تو ابوذر نے کہا: کیوں نہیں تم ہی وہ شخص ہو؛ میں رسول اللہ کے پاس تھا آپ نے مجھ سے ہی کہا اور میں نے خود سنا ہے کہ فرماتے تھے: یا اللہ اس (معاویہ) پر لعنت بھیج اور اس کا پیٹ کبھی نہ بھردے مگر مٹی سے۔ یہ سن کر معاویہ نے ابوذر کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔[39] [40] اور اسی طرح کہا گیا ہے کہ ابوذر شام میں لوگوں کو پیغمبر(ص) اور اہل بیت(ع) کے فضائل بیان کرنے کی تلقین کرتا تھا۔ اسی لیے معاویہ نے لوگوں کو اس کی محفل میں شرکت کرنے سے منع کر دیا، اور عثمان کو خط لکھ کر ابوذر کے کاموں سے آگاہ کیا اور عثمان کے جواب ملنے کے بعد معاویہ نے ابوذر کو مدینہ کی جانب روانہ کردیا۔[41]

ربذہ

ابوذر نے مدینہ میں عثمان سے ملاقات کی لیکن خلیفہ کی طرف سے دیے گئے دینار کو قبول نہیں کیا اور عثمان سے بھی ابوذر برداشت نہ ہوا اور بدترین حالت میں ربذہ کی جانب جلاوطن کر دیا۔ ابوذر اور عثمان کے درمیان گفتگو اور اس کی ربذہ جلاوطنی کی تفصیل بہت سی تاریخی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔[42]

عثمان نے ابوذر کو ربذہ بھیجتے وقت حکم دیا کہ کوئی اسے ہمراہی نہ کرے اور مروان بن حکم کو حکم دیا کہ وہ ابوذر کو مدینے سے خارج کرے۔ اس طریقے سے، کسی نے اس کے ساتھ جانے کی جرات نہ کی، ایسے میں، امام علی(ع) اور آپ کے بھائی عقیل اور امام حسن وحسین(ع) اور عماریاسر اس سے خدا حافظی کے لئے آئے اور اسے الوداع کیا۔[43]

وفات

پیغمبر(ص) نے فرمایا: اے ابوذر! تم اکیلے زندگی گزارو گے، اور اکیلے میں موت آئے گی، اور اکیلے مبعوث ہو گے اور اکیلے جنت میں داخل ہو گے۔ اور تمہاری وجہ سے، خوش قسمت ہوں گے عراق کے وہ لوگ جو تمہیں غسل و کفن اور دفن کریں گے۔[44] ابوذر ذی الحجہ سنہ٣٢ھ ق اور عثمان کی دورہ خلافت کے زمانے میں ربذہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔[45] ابن کثیر کہتا ہے: وفات کے وقت ان کی بیوی اور بچوں کے علاوہ کوئی اس کے پاس موجود نہ تھا۔[46] زرکلی کہتا ہے: ابوذر اس حال میں دنیا سے چلا گیا کہ گھر میں اسے کفن دینے کے لئے کچھ نہ تھا۔[47] مہران بن میمون بیان کرتا ہے: جو کچھ میں نے ابوذر کے گھر دیکھا اس کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی۔ [48] بیان ہوا ہے کہ جب ابوذر کی بیوی ام ذر روتے ہوئے کہتی تھی کہ تم جنگل میں مر جاؤ گے اور میرے پاس تمہیں کفن دینے کے لئے کوئی کپڑا تک نہیں، تو ابوذر کہتا تھا: تم رونا مت بلکہ تم خوش رہو کیونکہ ایک دن رسول خدا(ص) نے لوگوں کے درمیان جہاں میں بھی موجود تھا تو فرمایا: تم میں سے ایک فرد جنگل میں اس دنیا سے جائے گا اور مومنین کی ایک جماعت اسے دفن کرے گی۔ اور اب وہ تمام لوگ جو میرے اس وقت میرے ہمراہ اس محفل میں تھے وہ شہر میں اور تمام لوگوں کے سامنے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے جو کچھ پیغمبر(ص) نے فرمایا تھا وہ میرے بارے میں فرمایا ہے۔[49] پھر اس کے بعد عبداللہ بن مسعود اور اس کے بعض دوسرے ساتھیوں کا وہاں سے گزر ہوا جس میں حجر بن ادبر، مالک اشتر اور انصار کے بعض دوسرے جوان بھی تھے انہوں نے غسل اور کفن دیا اور عبداللہ ابن مسعود نے نماز جنازہ پڑھائی۔[50] [51] [52] تاریخ یعقوبی کے مطابق جلیل القدر حذیفہ بن یمانی بھی تدفین کرنے والوں میں شامل تھے[53] الحلحال بْن دري الضبي کہتا ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعود کے ساتھ حج پر جارہے تھے کہ ہم نے ربذہ میں ابوذر کے جسد کو دیکھا تو ہم نے اسے غسل و کفن دیا اور دفن کیا۔[54] اور تمام منابع کے مطابق، ابوذر کی قبر ربذہ میں ہے۔[55]تیسری صدی کے حنبلی عالم حربی نے اپنی کتاب المناسک میں ذکر کیا ہے کہ ربذہ میں ایک مسجد پیغمبر اکرم کے صحابی ابوذر کے نام تھی اور کہا گیا ہے کہ ابوذر کی قبر بھی اسی مسجد میں ہے[56]

حوالہ جات

  1. اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۲۵۔
  2. الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۲۔
  3. مشاہیر علماء الامصار، ص ۳۰۔ الثقات، ج ۳، ص ۵۵۔ تقریب التہذیب، ج ۲، ص ۳۹۵۔
  4. الاصابہ، ج ۷، ص ۱۰۷۔
  5. طبقات کبری، ح ۴، ص ۲۳۔
  6. سیر اعلام النبلاء، ج ۲، ص ۴۷۔
  7. اسد الغابہ، ج ۵، ص ۱۸۶۔ تہذیب الکمال، ج ۳۳، ص ۲۹۴۔ سیر اعلام النبلاء، ج ۲، ص ۴۹۔ اعیان الشیعہ، ح ۴، ص ۲۲۵۔
  8. الاستیعاب، ج ۴، ص ۱۶۵۲۔
  9. کافی، ج ۳، ص ۲۵۔
  10. شرح نہج البلاغہ، ج ۱۵، ص ۹۹۔
  11. تاریخ الاسلام، ج ۳، ص ۴۰۶۔ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۲۔
  12. قاموس الرجال، ج ۱۱، ص ۳۲۲۔
  13. المحبر، ص ۲۳۷۔
  14. صحیح ابن حبان، ج ۱۶، ص ۸۳۔
  15. الاستیعاب، ح ۴، ص ۱۶۵۴۔
  16. کافی، ج ۸، ص ۲۹۷ و ۲۹۸۔
  17. امالی طوسی، ص ۵۲۵۔ مکارم الاخلاق، ص ۲۵۶۔
  18. بحارالانوار، ج ۲۲، ص۴۰۴۔
  19. بحارالانوار، ج ۲۲، ص ۴۲۰۔
  20. الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۵۔
  21. الخصال، ص ۳۰۳۔
  22. الاختصاص، ص ۱۰۔
  23. خصال، ص ۴۰ و ۴۲۔
  24. کافی، ج ۸، ص ۲۲۔
  25. رجال طوسی، ص ۵۹۸۔ الاختصاص، ص ۶ و ۷۔
  26. الاختصاص، ص ۶۱۔
  27. الذریعہ، ج ۱، ص ۳۱۶۔
  28. الذریعہ، ج ۱، ص ۳۱۷۔
  29. الدرجات الرفیعہ، ص ۲۲۶۔
  30. الفوائد الرجالیہ، ج ۲، ص ۴۹۔
  31. حلیہ الاولیاء، ج ۱، ص ۱۵۶ و ۱۵۷۔
  32. کشف الغمہ، ج ۱، ص ۳۵۳۔
  33. شرح نہج البلاغہ، ج ۱۳، ص ۲۲۸۔
  34. تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۱۵۔
  35. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ آیتی، ج۱، ص۵۲۴۔
  36. طبقات کبری، ج ۲، ص ۳۵۴۔
  37. المجروحین، ج ۱، ص ۳۵۔
  38. شرح نہج البلاغہ، ج ۸، ص ۲۵۶۔
  39. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ۱۳۷۸ق، ج۸، صص ۲۵۶-۲۵۸.
  40. امین، اعیان الشیعة، ج۴، ص۲۳۷.
  41. اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۳۷۔
  42. تاریخ یعقوبی، ج ۱، ص ۱۷۱ و ۱۷۲۔ طبقات ابن سعد، ج ۴، ص ۲۲۶ - ۲۲۹۔ تاریخ طبری، ج ۳، ص ۳۳۶۔
  43. مسعودی، مروج الذہب، ج۱، ص۶۹۸۔
  44. تفسیر قمی، ج١، ص٢٩٥
  45. تاریخ طبری، ج ۳، ص ۳۵۴۔
  46. البدایہ و النہایہ، ج ۷، ص ۱۸۵۔
  47. الاعلام، ج ۲، ص ۱۴۰۔
  48. اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۲۹۔
  49. اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۴۱۔
  50. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۵۳.
  51. ابن خیاط، طبقات خلیفه، ۱۴۱۴ق، ص۷۱.
  52. ابن حبان، الثقات، ۱۳۹۳ق، ج۳، ص۵۵.
  53. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمه آیتی، ج۲، ص۶۸.
  54. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۱، ص۲۵۳؛ طبقات خلیفہ بن خیاط، ص ۷۱؛ ۔
  55. معجم البلدان، ج ۳، ص ۲۴۔ مجمع البحرین، ج ۲، ص ۱۳۱۔
  56. حربی، المناسک، ۱۹۶۹م، ص۳۲۷.