لؤلؤ و مرجان (کتاب)

ویکی شیعہ سے
لولو و مرجان
مقام اشاعتایران
زبانفارسی، عربی
مجموعہ1 جلد
موضوعمقتل
اسلوبحدیث و روایت
ناشرمختلف


لؤلؤ و مرجان میرزا حسین نوری کی تالیف ہے جو انہوں نے مجالس خوانی کے موضوع کے متعلق لکھی ہے ۔ اس کتاب میں اخلاص اور صداقت کو خطیبوں اور اہل منبر کیلئے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ واقعۂ عاشورا کی تاریخ میں تحریف کا شکار ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔واقعۂ کربلا کے موضوع پر تحقیقی کام کرنے والوں اور شہید مطہری نے اسے سراہا ہے ۔

مؤلف

مرزا محدث نوری، جناب محمد تقی محدث مازندرانی طبرسی کے فرزند ہیں جو چودھویں صدی ہجری کے معروف ترین علماء میں سے جانے جاتے ہیں۔ خاتم المحدثین، علامہ نوری، میرزا نوری، محدث نوری اور حاجی نور ان کے القاب میں سے ہیں۔ تنباکو کی حرمت کا فتوا دینے والے آیت اللہشیخ فضل اللہ نوری کے چچا اور ان کی اہلیہ کے والد ہیں۔ یہ فقیہ 18 شوال 1254 ق کو مازندران میں نور نامی شہر کے تحت ایک گاؤں "یال رود" میں پیدا ہوئے. آپ کا 27 جمادی 1320 ق کو 64 سال کی عمر میں سامرا میں انتقال ہوا. انہیں نجف میں حرم امیر المؤمنین علی علیہ السلام میں دفنایا گیا ۔ لؤلؤ و مرجان انکی تصانیف میں سے ہے ۔

کتاب

سبب تالیف

مؤلف نے کتاب کے شروع میں لکھا ہے :

علمائے ہند میں سید محمد مرتضی ہندی جونپوری نے ہندوستان کے ذاکرین اور خطباء کا گلہ کیا اور محدث نوری سے درخواست کی کہ اس موضوع کے بارے میں کتاب لکھیں۔ نیز مرتضی ہندی نے کہا کہ ان کے علاقہ میں ذاکرین اور خطباء جھوٹ بولنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتے ہیں بلکہ بعض تو امام حسین ؑ پر گریہ کروانے کیلئے جھوٹ بولنے کو جائز سمجھتے ہیں۔محدث نوری کہتے ہیں : مرتضی ہندی یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ صرف ہند وپاک میں ہی رائج ہے حالانکہ مقامات مقدسہ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ آپ نے اس کے بارے میں علماء پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے علماء کیوں اس معاملے میں تسامح سے کام لیتے ہیں نیز مجالس خوانی اور مصائب خوانی کو کیوں کھلا چھوڑ رکھا ہے ۔[1]

مقدمۂ کتاب

کتاب کے مقدمے میں رونے کی فضیلت اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رلانے کی فضیلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :

کسی پر یہ مخفی نہ رہے کہ حضرت امام حسین ؑ اور ان اہل بیت پر نازل ہونے والی مصیبتوں پر مؤمنین کو رلانا اور ان کی تشویق کرنا، ان کیلئے مرثیہ خونی اور ندبہ کرنے کا عظیم ثواب ہے اور یہ عبادات مستحسنہ میں سے ہے جس کیلئے خدا کے ہاں ثواب جمیلہ مقرر ہے ۔[2]

مذکورہ کتاب میں اس عبادت کے قبول ہونے کیلئے دو اساسی شرائط اخلاص اور صداقت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔[3] پھر آخر میں جھوٹ سننے کی نا پسندیدگی اور دروغگو اہل منبر کے مقابلے میں ہماری شرعی ذمہ داری کے بارے میں بات ہوئی ہے ۔[4]

پہلی فصل

پہلی فصل میں منبر کی پہلی اور اساسی شرط اخلاص کے بارے میں بات کی ہے ۔جن لوگوں نے منبر کو تجارت اور روزی کمانے کا وسیلہ بنا لیا ہے ان پر تنقید کی ہے اور انہیں ریاکار[5] مستاکل بہ آل محمد [6]اور آخرت کو دنیا کے مقابلے میں بیچنے والا سمجھتے ہیں[7] ۔نیز اس کے مقابلے میں روایات کی روشنی میں مجالس پڑھنے والوں کو ہدیہ دینے کی تعریف کی ہے [8]۔

دوسری فصل

دوسری فصل میں منبر کی دوسری اور اساسی شرط صداقت کے بارے میں بحث کی ہے ۔یہ فصل کتاب کے آدھے حصے سے زیادہ پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں بنیادی ہدف مستندکے بغیر روایات کو پڑھنے سے روکنا ھے خاص طور پر عاشورا مے واقعات میں کثرت سے ایسی روایات پڑھی جاتی ہیں اور اہل منبر حضرات مجلس کو زیادہ بہتر بنانے اور مصائب آل محمد میں زیادہ سوز پیدا کرنے کیلئے انہیں پڑھتے ہیں۔

اس فصل کو صداقت کی تعریف اور جھوٹ کی مذمت سے شروع کیا ہے اور روایات آل محمد ؐ سے صداقت کی مدح بیان کی ہے ۔ہر حصے میں مختلف عناوین کے تحت احادیث ذکر کی ہیں[9]۔اس کے بعد جھوٹ کی اقسام اور ان کے فقہی احکام بیان کئے ہیں اور فقیہانہ بحث بیان کی ہے[10] ۔ پھر بحث کا جاری رکھتے ہوئے خدا اور معصومین پر جھوٹ جیسے گناہ کبیرہ کی بحث کو ذکر کیا ہے[11]۔نہایت تفصیل کےساتھ جھوٹ کی اقسام اور انکے احکام کوبیان کیا ہے ۔[12]

اقوال

  • حاج مولا علی واعظ خیابانی

واعظ خیابانی وقائع الایام میں لکھتے ہیں :"محترم برادر! انصاف نہیں کہ اس کتاب کو کم ارزش نہ سمجھا جائے کیونکہ ایسے لؤلؤ اورمرجان کسی بادشاہ کے خزانے میں نہیں پائے جاتے ہیں۔ اسے بار بار پڑھو ،اس کا مطالعہ کرو، اس کے مضامین میں غور وخوض کرو اور اس کے مطالب کی گہرائی اور عمق میں غور کرو ۔ ایسی معلومات فراہم کرنا ، تحقیقات اور تالیفات ہر مؤلف کے بس کی بات نہیں ہے ۔لہوف کی وضع، منتخب، ابی مخنف،اسرار الشہادۃ، مخزن ، محرق اور ان جیسی دیگر کتابوں کے بارے میں ، صحت اور سقم کا جاننا اور مطالب کے ضعف اور قوت سے آگاہی ان میں سے ہر ایک کے بارے میں اطلاع حاصل کریں ۔شخص ہمیں آدھی سطر میں کہتا ہے کیوں اس کی قدر نہ جانیں اور اس کا حق کیوں ضائع کریں ؟میں نے سنا ہے تہران میں لوگوں کی ایک جماعت میں لؤلؤ و مرجان کے بارے میں بات ہوئی تو بعض نے برا بھلا کہا ایک عظیم فساد برپا ہوا اور قتل ہوا۔تبریز کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا ۔ ان برے کلمات کے بارے میں اللہ سے پنا طلب کرتے ہیں!ایک اور جگہ لوگوں میں میں بھی موجود تھا کہ اس کتاب کے بارے میں بات ہوئی تو میں نے اس کتاب کے بارے میں لوگوں سے شبہ کو دور کیا اور احباب کو متقاعد اور قائل کیا"۔[13]

  • شہید مرتضی مطہری

حماسۂ حسینی میں لکھتے ہیں:"مرحوم حاجی نوری کا لؤلؤ و مرجان کی تالیف کرنا ایک مقدس وظیفۂ شرعی تھا جو اس بزرگ نے انجام دیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا حصہ اس حدیث :إذا ظهرت البدع فلیظهر العالم علمه کا مصداق ہے ۔ایسے مقامات پر علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی پردہ پوشی کی بجائے لوگوں کے سامنے حقائق بیان کریں اگرچہ لوگ اس سے ناپسند ہی کریں ۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹوں کا مقابلہ کریں اور جھوٹ بولنے والوں کو روکیں "۔[14]

حوالہ جات

  1. حاج مرزا نوری ،ص29۔
  2. حاجی مرزا نوری ص 33
  3. حاجی مرزا نوری ص 41
  4. حاجی مرزا نوری ص 271
  5. حاجی مرزا نوری ص 48
  6. حاجی مرزا نوری ص 52
  7. حاجی مرزا نوری ص 54
  8. حاجی مرزا نوری ص 88
  9. حاجی مرزا نوری ص 142
  10. حاجی مرزا نوری صص 104 ،130
  11. حاجی مرزا نوری صص 132 تا 142
  12. حاجی مرزا نوری صص 143 تا167
  13. آنلائن کتابخانۂ تبیان
  14. دیکھیں :

ماخذ