ابن ابی الحدید

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معلومات
مکمل نام عِزّ الدین ابو حامد عبدالحمید بن ہبۃ اللہ
لقب ابن ابی الحدید
وجہ شہرت شرح نہج البلاغہ
پیدائش 1 ذی‌الحجہ 586ھ/ 30 دسمبر 1190ء
محل زندگی مدائن، بغداد
شہادت/وفات 656ھ/1258ء
مدفن بغداد


عِزّ الدین ابو حامد عبد الحمید بن ہبۃ اللہ (586-650ھ/1191-1253ء)، ابن ابی الحدید کے نام سے مشہور ہیں۔ اپنے زمانے کے شاعر، ادیب اور نہج البلاغہ کے شارح تھے۔ وہ فقہی اعتبار سے شافعی اور کلامی اعتبار سے معتزلی تھے لیکن اس کے باوجود امام علیؑ کو باقی تینوں خلیفوں سے افضل سمجھتے ہوئے آپؑ کے خلاف قیام کرنے والوں کو باغی، فاسق اور اہل دوزخ سمجھتے تھے مگر یہ کہ وہ توبہ کریں۔ امیرالمؤمنین(ع) کی شان میں ان کا لکھا ہوا قصیدہ عینیہ امامؑ کی ضریح کے گرد لکھا گیا ہے۔

سوانح حیات

عزالدین ابوحامد عبدالحمید بن ہبۃاللہ بن محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن ابی‌ الحدید مداینی، اول ذی الحجہ ۵۸۶ھ/۱۱۹۱م، کو مدائن میں پیدا ہوا اور اسی شہر میں پلا بڑھا۔ مستعصم عباسی کا شیعہ وزیر ابن علقمی سے رفاقت کی وجہ سے دار الخلافہ کا دیوان نویس بن گیا۔ [1] شروع میں دار التشریفات کا کاتب رہا اور ۶۲۹ھ کو خزانے کے کتاب کا عہدہ سنبھالا اور اس کے کچھ عرصہ بعد دیوان کا کاتب بنا۔ صفر ۶۴۲ھ /جولائی ۱۲۴۴ء کو حلہ کا ناظر معین ہوا۔ پھر "امیر علاءالدین طَبّرْس" کے بچوں کا استاد اور پھر عَضُدی ہسپتال کا ناظر اور آخر کار بغداد کی لائبریری کا ناظر بن گیا۔[2]

ابن ابی‌الحدید کے ابن علقمی سے گہرے روابط تھے اور انہیں وزیر کی حمایت حاصل تھی۔ اسی لئے شرح نہج البلاغہ اور قصاید السبع کو وزیر کے نام تقدیم کیا اور ان سے نفیس انعام وصول کیا۔ [3] جب ۶۴۲ھ/۱۲۴۴ء کو مغول نے بغداد پر حملہ کیا تو عباسی فوج نے شرف الدین اقبال شرابی کی سپہ سالاری میں مغول کو شکست دی، اور ابن ابی الحدید نے اس کامیابی کو ابن علقمی کی تدبیر کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کی شان میں ایک قصیدہ لکھا جس کے کچھ بیت شرح نہج البلاغہ کی شرح[4] میں درج ہوئے ہیں۔ ۶۵۵ھ/۱۲۵۷ء کو بغداد پر ہلاکو خان کے حملے میں ابن ابی الحدید اور ان کا بھائی موفق‌ الدین مغلوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور انہیں قتل کرنے کا حکم سنادیا گیا لیکن ابن علقمی اور خواجہ نصیرالدین طوسی کی وساطت سے موت سے نجات پائے۔[5]

بغداد کا مغولوں کے ہاتھ آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی ابن ابی‌ الحدید وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بارے میں مورخوں کا اختلاف ہے اور بعض مآخذ میں 655ھ قرار دیا گیا ہے۔ [6]جبکہ بعض دوسروں نے سنہ ۶۵۶ھ قرار دیا ہے۔[7]

علمی زندگی

ابتدائی تعلیم اپنے وطن مدائن میں حاصل کیا اور وہیں پر کلامی مذاہب سیکھا اور معتزلہ مکتب کی طرف مائل ہوگیا۔ [8] پھر بغداد جاکر وہاں کے علما سے کسب فیض کیا۔ جن میں سے اکثر شافعی مذہب کے ماننے والے تھے۔ وہاں کتابیں پڑھنے اور علم کے حصول اور علمی اور ادبی محافل میں شرکت کرنے لگے اور بسمۃ السحر کے مولف کے بقول وہ معتزلی جاحظی بن گیا۔[9] اسی طرح ابوالبقاء عکبری اور ابوالخیر مصدق بن شبیب واسطی سے علم ادب سیکھا[10]

ابن ابی الحدید شاعری میں بڑے ماہر تھے اور مختلف مضامین میں اشعار پڑھا کرتے تھے لیکن ان کی مناجات اور عرفانی اشعار بہت مشہور ہیں۔ صدر اسلام کی تاریخ کا ابھی انہیں بڑا علم تھا۔ علامہ حلی (متوفی ۷۲۶ھ/ ۱۳۲۶ء) نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابن ابی الحدید سے روایت کی ہے۔[11]

مذہب

آپ اصول میں معتزلی اور فروع میں شافعی مسلک تھے۔ اور کہا گیا ہے کہ سنی اور شیعہ سے یک درمیانی طریقہ اپنایا تھا۔ شرح نہج البلاغہ میں عقیدتی مسائل میں خود کو جاحظ کے موفق ہونے کی تصریح کی ہے؛[12] اسی لئے انہیں معتزلی جاحظی کہا گیا ہے۔ شرح نہج البلاغہ میں تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابن کثیر کے برخلاف کہ شیعہ غالی قرار دیا تھا[13] انہیں معتدل معتزلی قرار دیا جاسکتا ہے۔ آپ اپنی کتاب کے آغاز میں ابوبکر کی بیعت شرعی طور پر صحیح ہونے پر معتزلی شیوخ (متقدم، متاخر، بصریون، بغدادیون) سے کا اتفاق ہونے کا ذکر کیا ہے اور کہتا ہے کہ رسول خداؐ کی طرف سے اس بیعت پر کوئی نص نہیں آئی ہے لیکن صرف عوام کا انتخاب کہ جسے اجماع اور غیر اجماع دونوں طریقوں سے پیشوا معین کرنے کا راستہ قرار دیا ہے اور یہ صحیح ہے۔ [14]

امام علیؑ کے بارے میں عقیدہ

ابن ابی الحدید معتزلہ مذہب کی پیروی کرتے ہوئے امام علیؑ کو باقی تینوں خلفاء سے برتر سمجھتے ہیں اور تصریح کرتے ہیں کہ وہ کثرت ثواب اور فضل اور صفات حمیدہ کے اعتبار سے دوسروں سے افضل ہے۔[15] اس کے باوجود ان کے عقیدے میں امام کا افضل ہونا ضروری نہیں ہے اسی وجہ سے کتاب کے آغاز میں خطبے میں کہا: اس اللہ کا شکر ہے جس نے مفضول کو افضل پر مقدم کیا۔ [16]

جنگ جمل برپا کرنے والوں کے بارے میں ابن ابی الحدید کہتا ہے: یہ سب ہمارے معتزلہ دوستوں کے نزدیک نابود ہیں سوائے تین آدمی عائشہ، طلحہ اور زبیر کے، کیونکہ ان تینوں نے توبہ کیا ہے اور توبہ کے بغیر ان کا حکم بغاوت پر مصر ہونے کی وجہ سے جہنم ہے۔[17]

آپ صفین میں شام کی فوج کے بارے میں کہتے ہیں: یہ لوگ ہمارے معتزلی دوستوں کے نزدیک نابود ہیں؛ کیونکہ بغاوت پر اصرار کیا ہے اور اسی حالت میں مر گئے ہیں؛ ان کے سرابراہان ہوں یا ان کی پیروی کرنے والے۔ [18] اسی طرح خوارج کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ لوگ ہم معتزلیوں کے نزدیک بغیر کسی اختلاف نظر کے سب جہنمی ہیں۔ [19] کلی طور پر ہمارے مکتب کے علماء جو بھی فاسق فسق کی حالت میں مرتا ہے تو اسے جہنمی کہتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برحق امام کے خلاف بغاوت کرنے والے اور خروج کرنے والے فاسق ہیں۔[20]

تالیفات

ابن الحدید کی 15 تالیفات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے مندرجہ ذیل مشہور ہیں:

شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید.jpg
  • شرح نہج البلاغہ

یہ کتاب 20 جز پر مشتمل ہے۔ اور اسی کتاب کی وجہ سے ہی ابن ابی الحدید مشہور ہوئے ہیں اور اس کتاب میں ادب، تاریخ، کلام، اور اسلامی تہذیب کا ایک عظیم مجموعہ ہے۔ [21] یہ کتاب کئی بار چھپ چکی ہے۔ [22] اور خاص کر شیعوں میں بڑی شہرت کے حامل ہے۔ اس شرح کے قدیمی ترین نسخوں میں سے ایک نسخہ جو امام رضاؑ کے حرم کی لائبریری میں موجود ہے جس پر ابن علقمی کی طرف سے شرح کی اجازت موجود ہے۔ اور احتمال قوی ہے کہ یہ سب ابن ابی الحدید کی حیات میں ہی لکھی گئی ہیں۔[23]

  • الفلک الدائر علی المثل السائر، یہ ضیاء الدین ابن اثیر جزری موصلی (۵۵۸ -۶۳۷ھ/۱۱۶۳-۱۲۳۹ء) کی کتاب المثل السائر فی ادب الکاتب و الشاعر پر نقد کے طور پر لکھا ہے۔ یہ کتاب علم بلاغت کی اہم کتابوں میں سے ہے اور نقد کی دنیا میں معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔[24] اس کتاب کو تیرہ دنوں میں لکھا ہے۔ [25]
ان سات قصیدوں میں سے ایک، قصیدہ «عینیہ» امیرالمؤمنینؑ کی مدح میں ہے جس کو امامؑ کی ضریح کے چاروں طرف سونے سے لکھا گیا ہے۔الطباطبائی، ص۳۸۳</ref>
  • نظم کتاب الفصیح ثعلب اس کو ابن ابی الحدید نے ایک ہی رات میں نظم کی شکل میں لکھ دیا ہے۔[27]یہ کتاب اصل میں ابوالعباس احمد بن یحیی المعروف، ثعلب کوفی نحوی (۲۰۰-۲۹۱ھ/ ۸۱۶ -۹۰۴ء) کی ہے، مختصر اور چھوٹی سی ادبی کتاب جو بہت ساروں کو اپنی طرف جلب کر سکی ہے۔[28]

دیگر تالیفات

آپ نے غزالی کی کتاب المستصفی من علم الاصول کو بھی نقد کیا ہے اور علم کلام میں زمخشری کی آیات البینات زمخشری، طب میں منظومہ ابن سینا کی شرح کی ہے۔ [33]

حوالہ جات

  1. ابن کثیر، ج۱۳، ص۱۹۹-۲۰۰
  2. ابن فوطی، ج۴، بخش۱،ص۱۹۰-۱۹۱؛ عباس، ابو الفضل ابراہیم، وہی کتاب
  3. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۳-۴؛ آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج ۱۴، ص۱۵۸-۱۵۹
  4. ۸/۲۴۲-۲۴۳
  5. ہندوشاہ، ۳۵۹
  6. الصفدی، الوافی بالوفیات، ص۴۶
  7. شرح نہج البلاغہ، مقدمہ ابو الفضل ابراہیم، ص۱۸
  8. شرح نہج البلاغہ، مقدمہ ابوالفضل ابراہیم، ص۱۴
  9. شرح نہج البلاغہ، مقدمہ ابوالفضل ابراہیم، ص۱۵
  10. عباس، ج۷، ص۳۴۲
  11. قمی، ج۱، ص۱۹۳
  12. ابن ابی الحدید، عبدالحمید، ج۱، ص۱۸۶-۱۸۵
  13. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۱۳، ص۱۹۹
  14. ابن ابی الحدید، ۱/۷
  15. ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۹
  16. ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۳
  17. ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۹.
  18. ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۹
  19. ابن ابی الحدید، ج ۱، ص ۹
  20. ابن ابی الحدید ج ۱، ص ۹.
  21. دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۲، ص۶۴۱.
  22. مثلاً: تہران، ۱۲۷۱، ۱۳۰۲-۱۳۰۴ھ؛ قاہرہ، ۱۳۲۹ھ؛ بیروت، ۱۳۷۸ھ
  23. آستان، ۵/۱۱۲-۱۱۳
  24. ابن خلکان، ۵/۳۹۱؛ I/۳۳۵-۳۳۶ ؛ GAL, سرکیس، ۳۰
  25. الصفدی، ج۱۸، ص۴۶.
  26. آقابزرگ، ج۱۳، ص۳۹۱-۳۹۲
  27. کتبی، ج۲، ص۲۵۹
  28. حاجی خلیفہ، ج۲، ص۱۲۷۲-۱۲۷۳
  29. عباس، ج۷، ص۳۴۲
  30. حاجی خلیفہ، ج۲، ص۱۶۱۴- ۱۶۱۵
  31. فروخ، ج۳، ص۵۸۰
  32. بغدادی، ص۴۸۴؛ حاجی خلیفہ،ج۱، ص۷۹۹
  33. ۹۲۳) I/۸۲۳, S..(GAL,

مآخذ

  • آستان قدس، فہرست؛
  • آقابزرگ، الذریعۃ؛
  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغۃ، بہ کوشش محمدابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق/۱۹۵۹-۱۹۶۴م؛
  • ابن خلکان، وفیات؛
  • ابن فوطی، عبدالرزاق، تلخیص مجمع الآداب، بہ کوشش مصطفی جواد، دمشق، ۱۹۶۳م؛
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، قاہرہ، ۱۳۵۱ق؛
  • ابوالفضل ابراہیم، محمد، مقدمہ بر شرح نہج البلاغۃ؛
  • استادی، رضا، کتابنامہ نہج البلاغہ، تہران، بنیاد نہج البلاغہ؛
  • بغدادی، اسماعیل، ایضاح المکنون، استانبول، ۱۳۶۴ق/۱۹۴۵م؛
  • حاجی خلیفہ، کشف الظنون، استانبول، ۱۳۶۰ق/۱۹۴۱م؛
  • حرّ عاملی، محمد، امل الآمل، بہ کوشش سید احمد حسینی، بغداد، ۱۳۸۵ق؛
  • خطیب، عبدالزہراء حسینی، مصادر نہج البلاغۃ و اسانیدہ، بیروت، ۱۳۹۵ق؛
  • زریاب خویی، عباس، بزم آورد، تہران، ۱۳۶۷ش؛
  • ذہبی، تاریخ الاسلام، تحقیق: عمر عبدالسلام تدمری، بیروت: دارالکتب العربی، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م؛
  • سرکیس، چاپی؛
  • صفدی، الوافی بالوفیات، تحقیق: احمد الارناؤوط و ترکی مصطفی، بیروت: دار احیاء التراث، ۱۴۲۰ق/۲۰۰۰م؛
  • طباطبائی، سید عبدالعزیز، اہل البیت(ع) فی المکتبۃ العربیۃ، قم: مؤسسۃ آل البیت(ع)، ۱۴۱۷ق؛
  • عباس، احسان، تعلیقات بر وفیات الاعیان ابن خلکان؛
  • عزّاوی، عباس، تاریخ الادب العربی فی العراق، ۱۳۸۱ق/ ۱۹۶۱م؛
  • فروخ، عمر، تاریخ الادب العربی، بیروت، ۱۴۰۱ق/ ۱۹۸۱م؛
  • قمی، عباس، الکنی و الالقاب، بہ کوشش محمد ہادی امینی، تہران، ۱۳۹۷ق؛
  • کتبی، محمد، فوات الوفیات، بہ کوشش احسان عباس، بیروت، ۱۹۷۳م؛
  • ہندوشاہ بن سنجر، تجارب السلف، بہ کوشش عباس اقبال آشتیانی، تہران، ۱۳۵۷ش.

بیرونی روابط