عقیل بن ابی طالب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عقیل بن ابی طالب
صحابی
پیدائش عام الفیل کے دس سال بعد
مکہ
وجۂ وفات طبعی موت
رہائش مکہ مدینہ عراق شام
مذہب اسلام

عقیل بن ابی طالب رسول اللہ کے صحابی، حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کے بھائی اور حضرت مسلم کے والد ہیں۔

زندگی نامہ

عقیل کے والد کا نام ابو طالب بن عبد المطلب ہے۔ یزید نام کے بیٹے کی مناسبت سے کنیت ابو یزید تھی۔ حضرت علی سے 20 سال بڑے تھے۔[1][2]اس بنا پر عام الفیل کے 10 سال بعد عقیل کی ولادت ہوئی۔

علم انساب سے آگاہ اور ایسے حاضر جواب شخص تھے کہ اپنے مد مقابل شخص کی حیثیت کا لحاظ کئے بغیر فورا جواب دے دیتے۔[3] عقیل نے مجبوری کے ساتھ جنگ بدر میں مشرکوں کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں گرفتار ہوئے ان کی آزادی کیلئے ان کے چچا عباس بن عبد المطلب نے 4000 درہم فدیہ دیا۔[4]

اسلام قبول کرنا

اسلام قبول کرنے کے زمانے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ابن قتیبہ کے بقول عقیل نے جنگ بدر میں آزادی کے فورا بعد اسلام قبول کیا [5] جبکہ ابن حجر نے کہا کہ وہ فتح مکہ کے سال مسلمان ہوئے لیکن پھر کہتا ہے کہ بعض کے بقول صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے اور ہجرت کے آٹھویں سال کی ابتدا میں مدینہ ہجرت کی۔

جنگ موتہ میں شرکت کی اور ایک روایت مطابق جنگ حنین ان افراد میں ہیں جو لشکر کے فرار ہونے کے بعد رسول اللہ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔[6]

رحلت پیغمبر کے بعد

حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں انہیں دو افراد کے ہمراہ بلایا گیا تا کہ بیت المال کی تقسیم کے لئے لوگوں کے مراتب کے لحاظ سے فہرست بنائیں۔[7]

امام علی (ع) کے زمانہ میں

ابن ابی الحدید کے مطابق عقیل مدینے سے عراق پھر شام اور وہاں سے دوبارہ مدینہ واپس آئے۔ عقیل حضرت علی کے ساتھ کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے اگرچہ انہوں نے جنگ میں جانے کیلئے اپنے اور اپنے بیٹوں کی آمادگی کا بارہا اظہار کیا لیکن حضرت علی (ع) نے انہیں کسی جنگ میں طلب نہیں فرمایا۔

عقیل اور بیت المال

جب خلافت کی باگ ڈور کوفہ میں حضرت علی کے ہاتھوں میں تھی۔ اس وقت بیت المال کی کثیر تعداد آپ کے اختیار میں تھی؛ایک دن عقیل حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے میں مقروض ہوں اور اس کی ادائیگی میرے لئے سنگین ہے میرا قرض ادا کر دیجئے۔ جب حضرت نے انکا قرض ادا کرنا چاہا جو ایک ہزار درہم تھا تو آپ نے فرمایا: قسم بخدا! اس قدر قرض ادا کرنے کی توان میرے پاس موجود نہیں ہے تم صبر کرو بیت المال سے مجھے میرا حصہ مل جائے تو میں اپنی آخری توان کی حد تک تمہاری مدد کروں گا۔ عقیل نے کہا: بیت المال کا اختیار تو آپ کے پاس ہے اس سے دے دو ۔حضرت سے نے اس سے امتناع کیا۔[8] دہکتا لوہا عقیل کے پاس کیا کہ جو اس وقت نابینا تھے، وہ سمجھے کہ حضرت علی اسے درہم دینے لگے ہیں اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو اسے دہکتے لوپے کی حرارت محسوس ہوئی، حضرت علی نے فرمایا: تم اس آگ کی حرارت سہنے کی طاقت نہیں رکھتے، میں کس طرح جہنم کی آگ تحمل کروں۔[9][10]

معاویہ کے پاس جانا

مالی امداد کے حصول کیلئے عقیل شام میں معاویہ پاس گئے لیکن یہ روشن نہیں کہ یہ سفر حضرت علی کی زندگی میں کیا۔

بعض اس ملاقات کو امام علی (ع)‌ کے دور میں سمجھتے ہیں۔ اس گروہ کی یہ روایت دلیل ہے:ایک روز عقیل کی موجودگی میں معاویہ نے کہا: اگر یہ ابو یزید (عقیل کی کنیت) مجھے علی سے بہتر نہ سمجھتا تو علی کو چھوڑ کر میرے پاس نہ آتا۔ عقیل نے جواب دیا: دین میں میرے لئے میرا بھائی بہتر ہے اور دنیا میں تو بہتر ہے اور میں نے دنیا کو ترجیح دی اور خدا سے نیک عاقبت کا طلبگار ہوں۔

بعض اسے حضرت علی کی شہادت کے بعد سمجھتے ہیں۔ ابن ابی الحدید اسے ہی ترجیح دیتا ہے۔ یہ گروہ تائید میں حضرت علی دور کے آخری ایام میں عقیل کی جانب سے حضرت علی کو لکھے گئے خط اور حضرت کے جواب کو ذکر کرتے ہیں۔[11]

عقیل کا خط

واقعۂ حکمیت کے بعد اصحاب امیر المؤمنین کے پراگندہ ہوگئے تو ضحاک بن قیس فہری جو تین سے چار ہزار تک کے سپاہیوں کی کمان کر رہا تھا، نے شہروں اور دیہاتوں میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا، حاجیوں کے اموال لوٹنے شروع کئے اور بعض کو قتل کیا۔حضرت علی نے جواب میں کوفیوں سے اسے جواب دینے کیلئے کہا تو کوفیوں نے سستی کا مظاہرہ کیا۔ یہ خبر جب عقیل کو پہنچی تو اس نے آپ کو یہ خط لکھا:

فأف لحیاة فی دهر جرأ علیک الضحاک! وما الضحاک [إلا] فقع بقرقر، و قدتوهمت حیث بلغنی ذلک أن شیعتک و أنصارک خذلوک، فأکتب الی یابن أمی برأیک، فان کنت الموت ترید تحملت الیک ببنی أخیک و ولد أبیک، فعشنا منک ما عشت، و متنا معک إذا مت، فو الله! ما أحب أن أبقی فی الدنیا بعدک فواقاً. و أقسم بالاعزّ الاجلّ! ان عیشا نعیشه بعدک فی الحیاة لغیر هنئ و لامرئ و لانجیع، و السلام علیک و رحمة الله و برکاته.
ترجمہ: … ایسی زندگی پر اف جس میں ضحاک تم پر حملہ آور ہو۔ یہ ضحاک پست اور بد بخت ہے۔ جب مجھے ان امور (یعنی ضحاک کے حملے اور کوفیوں کی بے وفائی) کی خبر ملی تو میں نے سوچا کہ تجھے تہمارے شیعوں اور مددگاروں نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔اے میرے ماں جائے! مجھے اپنی رائے سے آگاہ کرو۔ اگر تم موت کے متمنی ہو تو میں اپنے بھائی کی اولاد اور اپنے باپ کی اولاد کو تمہارے پاس جمع کروں۔ ہمارا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ خدا کی قسم! میں تمہارے بعد لمحہ بھر زندہ رہنے کو دوست نہیں رکھتا ہوں۔ خدائے عز و جل کی قسم !تمہارے بعد ہماری زندگی میں کسی قسم کی پسندیدگی اور خوشگواری نہیں ہے۔ تم پر خدا کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔[12]

وفات

بعض ان کی وفات کو معاویہ کے زمانے میں اور بعض اسے یزید بن معاویہ کے ابتدائی دور میں واقعۂ حرہ سے پہلے سمجھتے ہیں۔[13]

اولاد

  1. مسلم
  2. عبداللہ اصغر
  3. عبیدلله
  4. ام عبد اللہ
  5. محمد
  6. رملہ
  7. عبدالرحمان
  8. حمزه
  9. علی
  10. جعفر اکبر
  11. جعفر اصغر
  12. عثمان
  13. زینب
  14. فاطمہ
  15. اسماء
  16. ام ہانئ
  17. یزید
  18. سعید
  19. ابو سعید
  20. جعفر اکبر
  21. عبداللہ اکبر

عقیل کی ان اولاد میں سے جعفر اکبر، مسلم، عبداللہ اکبر، عبدالرحمان اور محمد امام حسین (ع) کے ساتھ کربلا میں شہید ہونے والوں میں سے ہیں۔ بعض نے چھ افراد بتائے ہیں۔[14]

شیخ مفید نے ام لقمان کے نام سے ایک بیٹی کا نام بھی ذکر کیا ہے نیز کہا کہ اپنی دیگر بہنوں (ام ہانیء، اسماء، رملہ، و زینب) کے ہمراہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر خیام سے باہر آئیں اور انہوں نے آپ پر اشعار پڑھ کر گریہ کیا۔[15]

حوالہ جات

  1. الاستیعاب، ج۳،ص:۱۰۷۸
  2. بحار، مجلسی، ج۴۲، ص۱۲۱
  3. بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۶۹.
  4. الاستیعاب، ج۳،ص:۱۰۷۸
  5. ص ۱۵۶.
  6. ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج۴، ص۴۳۸.
  7. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۴۰.
  8. ابن شہرآشوب، مناقب، ج۲ص ۱۰۹
  9. شرح نہج البلاغہ، ابن أبی الحدید، ج۱۱، ص: ۲۴۵
  10. إرشاد القلوب إلی الصواب (للدیلمی)، ج۲، ص: ۲۱۶
  11. مدنی الشیرازی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۱۵۵.
  12. نہج السعادة فی مستدرک نہج البلاغہ، محمد باقر المحمودی، ج ۵، صص ۲۰۹- ۳۰۰.
  13. ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج۴، ص۴۳۹.
  14. بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۶۹-۷۰.
  15. المفید، الارشاد، ج۲، ص۱۲۴.


کتابیات

  • ابن ابی الحدید، عبد الحمید (۶۵۶ق) شرح نہج البلاغہ لابن أبی الحدید، مکتبہ آیت اللہ المرعشی النجفی، قم، ۱۴۰۴ ق، چاپ اول.
  • ابن حجر العسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج۴، بیروت: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق.
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی (۵۸۸ق)، مناقب آل أبی طالب علیہم السلام (لابن شہرآشوب)، علامہ، قم، ۱۳۷۹ ق، چاپ اول.
  • ابن عبد البر، ابو عمر یوسف نب عبدالله بن محمد (م ۴۶۳)، الاستیعاب فی معرفہ الأصحاب، علی محمد البجاوی، بیروت،‌ دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • البلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، ج۲، تحقیق: محمد باقر المحمودی، بیروت: مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۴ق-۱۹۷۴م.
  • دیلمی، حسن بن محمد (۸۴۱ق)، إرشاد القلوب إلی الصواب، الشریف الرضی، قم، ۱۴۱۲ ق، چاپ اول.
  • محمودی، محمد باقر، نہج السعادة فی مستدرک نہج البلاغہ، ج۵، بیروت: مؤسسہ التضامن الفکری، ۱۳۸۷ق-۱۹۶۸م. (سافٹ وئر: مکتبہ اہل البیت (ع)، نسخہ دوم).
  • المدنی الشیرازی، السید علی خان، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، تحقیق: السید محمد صادق بحر العلوم، قم: منشورات مکتبہ بصیرتی، ۱۳۹۷.
  • المفید، الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، تحقیق: مؤسسہ آل البیت (ع) لاحیاء التراث، قم: المؤتمر العالمی لالفیہ الشیخ المفید، ۱۴۱۳ق.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸.