مصعب بن عمیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مُصعَب بن عُمَیر
معلومات شخصیت
مکمل نام مُصعَب بن عُمَیر بن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالدار قُصی
کنیت ابوعبداللہ
لقب مصعب الخیر
مہاجر/انصار مہاجر
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت جنگ بدرجنگ احد
ہجرت حبشہ • مدینہ
وجہ شہرت قاری قرآنتبلیغ اسلامصحابہ


مُصعَب بن عُمَیر بن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالدار قُصی (متوفی ) پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد میں شرکت کی اور آخر کار جنگ احد میں شہید ہوئے۔

مصعب ان افراد میں سے تھے جنہوں نے ارقم کے گھر میں اسلام قبول کیا اور حبشہ کی طرف مہاجرت کی۔ رسول خداؐ نے انہیں اسلام کی تبلیغ کیلئے یثرب روانہ فرمایا تھا۔

کنیت اور لقب

صحابی رسول مصعب بن عمیر کی کنیت ابوعبداللہ ہے۔[1] اسی طرح وہ مصعب الخیر کے لقب سے بھی ملقب تھے۔[2]

ان کی والدہ خناس قریش کے مالدار شخص مالک کی بیٹی تھیں۔ مصعب ایک امیر گھرانے میں پلا بڑھا۔ اسلام لانے سے پہلے ان کے والدین ان کو بہت چاہتے تھے اسی بنا پر ان کے لئے اس وقت کے بہترین کپڑے پہناتے تھے۔[3]

زینب بنت مصعب بن عمیر ان کی زوجہ حمنہ کے بطن سے متولد ہوئی اور مصعب کی نسل اسی لڑکی سے آگے چلی ہے۔[4]

اسلام لانا

مصعب سب سی پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے اور انہوں جس وقت پیغمبر اکرم ارقم کی گھر میں مخفیانہ طور پر اسلام کی دعوت دینے میں مشغول تھے، اسلام لے آیا۔ مسلان ہونے کی بعد اس چیز کو اس نے اپنی ماں اور رشتہ داروں سے مخفی رکھا ہوا تھا اور کبھی کبھار چھپ کر پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں مشرف ہوتے تھے یہاں تک کہ عثمان بن طلحہ نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور ان کے مسلمان ہونے کی خبر ان کے رشتہ داروں تک پہنچایا۔ ان کے رشتہ داروں نے مصعب کو گھر میں قید کر دیئے اور حبشہ ہجرت کرنے تک وہ قید میں تھے۔[5] شعب ابی طالب میں رسول خدا اور بنی ہاشم کے ساتھ محصور ہونے والوں میں مصعب بھی تھے۔[6]

مبلغ اسلام

بعث کے بارہویں سال بیعت عقبہ کے بعد مدینہ کے کچھ لوگوں نے پیغمبر اکرمؐ کی بیعت کیں، اسعد بن زرارہ نے مدینہ کے تازہ مسلمانوں کی نمائندگی میں پیغمبر اکرمؐ سے درخواست کیا کہ آپ ایک ایسے شخص کو ان کے یہاں بھیج دیں جو انہیں قرآن اور اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرا سکے، رسول خداؐ نے مصعب کو ان کے ساتھ مدینہ روانہ فرمایا۔[7] مدینے میں ان کی تبلیغ کے باعث سعد بن معاذ، اسید بن حضیر اور عباد بن بشر بن وقش جیسے لوگوس نے اسلام قبول کیا۔[8] مصعب پہلے مہاجر تھے جو رسول خدا سے پہلے مدینہ آئے۔[9]

مدینہ میں نماز جمعہ کا قیام

موجودہ دور میں شہدائے احد کی قبریں

مصعب بن عمیر نے سب سے پہلے مدینہ میں نماز جمعہ قائم کیا؛ اس سلسلے میں انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کو خط لکھا کہ انہیں مدینہ والوں کے ساتھ نماز جمعہ برگزار کرنے کی اجازت دی جائے جس پر حضورؐ نے انہیں نماز جمعہ برگزار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ انہوں نے پہلی بار مسلمانوں کو سعد بن خیثمہ کے گھر اکھٹے کیا اور 12 افراد کے ساتھ پہلی نماز جمعہ برگزار کیا۔[10]

رسول خداؐ نے مصعب اور ابو ایوب انصاری کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔[11] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے سعد ابی وقاص اور ذکوان بن عبدالقیس کے ساتھ بھی مصعب کا عقد اخوت جاری فرمایا۔[12]

جنگ بدر میں شرکت

جنگ بدر میں مسلمان سپاہیوں کی دائیں طرف کا پرچم مصعب بن عمیر کے ہاتھ میں تھا۔[13] اس جنگ میں ان کے بھائی زرارۃ بن عمیر مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ اس موقع پر بعض نے مصعب سے اپنے بھائی کو آزاد کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے جواب دیا: میں نے ان کے ہاتھوں کو مضبوطی سے باندھنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہماری والدہ جو ایک ثروت مند خاتون ہیں، سے ان کی آزادی کے بدلے فدیہ لے سکیں۔[14]

وقتی دلی(جب کوئی دل)، مصعب سے متعلق ایک ناول

شہادت

مصعب بن عمیر جنگ احد میں بھی اسلامی فوج کے علمدار تھے[15] جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے مال غنیمت جمع کرنا شروع کیا تو دشمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر پیچھے سے حملہ کیا، ابن قمیئہ لیثی نے مصعب پر حملہ کیا اور ان کا دائیں ہاتھ کاٹ ڈالا، اتنے میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ رسول خداؐ کو شہید کر دیا گیا ہے، اس پر مصعب نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 144 کی تلاوت کی۔ جب مصعب نے پرچم کو بائیں ہاتھ میں تھاما تو ابن قمیئہ نے ان کا بائیں ہاتھ بھی کاٹ دیا اس کے بعد انہوں نے پرچم کو اپنے سینے سے لگا لیا اور ابن قمیئہ کے وار سے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔[16] پیغمبر اکرمؐ نے ان کے قاتل ابن قمیئہ پر نفرین فرمایا۔[17]

رسول خداؐ جنگ کے اختتام پر مصعب کے جنازے کے قریب تشریف لائے اور سورہ احزاب کی آیت نمبر 33 کی تلاوت فرمائی جو شہداء سے متعلق ہے۔[18] جب انہیں کفن کرنے کیلئے کوئی کپڑا نہ ملا تو آپؐ نے اپنا عبا ان کے جنازے کے اوپر ڈال دیا لیکن یہ اس کے پورے بدن کو ڈھانپنے کیلئے کافی نها اسلئے آپ نے فرمایا اس کے ذریعے ان کے سر کو ڈھانپ لیں اور ان کے پاؤوں کو پتوں اور گھاس بوس کے ذریعے ڈھانپ دیں۔[19] جب اصحاب مصعب کے جنازے کو لے جا رہے تھے تو پیغمبر اکرمؐ ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات یاد کر کے فرمانے لگے:

"میں اس وقت کو فراموش نہیں کر سکتا جب تمہیں مکہ میں ایسے قیمتی کپڑوں میں دیکھتا تھا جو تمھارے سوا کسی اور کے بدن پر نہیں ہوا کرتا تھا لیکن آج نمہارا خون آلود سر کپڑے میں لپیٹا گیا ہے۔"[20]

شہادت کے وقت ان کی عمر 40 سال سے زیادہ ذکر کی گئی ہے۔[21] رسول خداؐ کے حکم پر انہیں ان کے بھائی ابو الروم، عامر بن ربیعہ اور سویبط بن حرملہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں فنا دیا گیا۔[22]

ان کی زوجہ حمنہ بھی زخمیوں کو پانی دینے کیلئے احد کے علاقے میں آئی ہوئی تھی، بعد میں اس نے طلحۃ بن عبیداللہ سے شادی کی اور محمد بن طلحۃ بن عبیداللہ ان کے بطن سے متولد ہوا۔[23] پیغمبر اکرمؐ نے جب حمنہ کو دیکھا تو کئی بار آیت استرجاع کی تلاوت فرمائی، جب حمنہ نے سؤال کیا کہ یہ آیت آپ نے کس کیلئے تلاوت فرمائی تو آپؐ پہلی اور دوسری دفعہ ان کے ماموں حمزہ اور ان کے بھائی کا نام لیا لیکن تیسری دفعہ ان کے شوہر کا نام لیا، جب حمنہ نے اپنے شوہر کا نام سنا تو چیخ اٹھی وای ہو مجھ پر۔[24]

ناول

مصعب بن عمیر کی زندگی پر فارسی زبان میں ایک ناول لکھی گئی ہے جس کا عنوان "وقتی دلی" (جب کوئی دل) ہے۔ یہ ناول محمد حسن شہسواری کی لکھی ہوئی ہے جو سنہ 1391ش میں شایع ہوئی ہے۔

حوالہ جات

  1. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۳؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۹۸
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۵
  3. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۴؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۵۔
  4. ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۶، ص۱۳۴
  5. ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۴۰۶؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۹۸؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۵۔
  6. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۴
  7. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۹۸
  8. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۶۰۲؛ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۱۲؛ ج۲، ص۲۲۱؛ ج۳، ص۴۶؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۳۴؛ ج۳، ص۷۱
  9. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۹۸؛ ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۷۲۰؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۹۸؛ مقریزی، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۵۲
  10. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۳؛ ابن کثیر دمشقی، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۷۳
  11. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۴۲۶؛ ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۵۷۲؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۰۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۸؛ ابن کثیر دمشقی، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۲۲۷
  12. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۸
  13. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۵۵؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۵؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۵۷۵
  14. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۴۰۔
  15. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۲۵؛ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۵؛ ابن کثیر دمشقی، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۵
  16. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۳۸-۲۳۹؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۸
  17. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۴۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۳
  18. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۱۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۹؛ ابن کثیر دمشقی، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۲۵
  19. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۰۹-۴۱۰
  20. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۱۰؛ مقریزی، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۷۴
  21. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۷۴؛ ابن الاثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۴۰۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۱۰
  22. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۱۱؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۱۰
  23. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۱۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۴۱۰
  24. واقدی، کتاب المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۹۱؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۹۲؛ مقریزی، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۶۹


مآخذ

  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت،‌دارالجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲۔
  • ابن الاثیر الجزری، علی بن محمد، أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، تحقیق مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ط الثالثۃ، ۱۴۰۹/۱۹۸۹۔
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۵/۱۹۹۵۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زَکّار و ریاض زِرِکْلی، بیروت، دارالفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶۔
  • مقریزی، احمد بن علی، إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، تحقیق محمد عبدالحمید النمیسی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۲۰/۱۹۹۹۔
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷/ ۱۹۸۶۔