قیس بن سعد بن عبادہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قیس بن سعد بن عبادہ
معلومات
مکمل نام قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی
کنیت ابوالفضل، ابوعبد اللہ یا ابو عبدالملک
وجہ شہرت صحابئ پیغمبر و علی
مہاجر/انصار انصار
نسب قیس بن سعد بن عبادۃ بن دلیم بن أبی‌حلیمۃ
مشہوراقارب سعید بن سعد بن عبادہ
شہادت/وفات ۶۰ ہجری قمری یا ۸۵ ہجری قمری
مدفن مدینہ یا تفلیس
اصحاب رسول اللہ،امام علی،امام حسن
جنگ رسول اللہ کی اکثر جنگیں، جنگ جمل،جنگ صفین،جنگ نہروان
دیگر کارنامے حاکم مصر، حاکم آذربائیجان


قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی،(متوفا ۶۰ہ ق) پیغمبر(ص) کے انصاری صحابی، قبیلۂ خزرج کے بزرگ، علوی حکومت کے عامل ، حضرت علی و حسن علیہما السلام کی سپاہ کے سردار اور عرب کے مشہور سخی تھے۔

قیس نے رسول اللہ اور حضرت علی کے ساتھ اکثر جنگوں میں شرکت کی اور جنگ صفین میں لشکر کے علمبردار اور سپہ سالار تھے۔ وہ حضرت علی کی طرف سے مصر کے کارگزار اور پھر آذربائیجان کے کارگزار مقرر ہوئے۔ قیس امام حسن(ع) کے دور امامت میں بھی فوج کے سپہ سالار تھے جیسا کہ بعض تاریخی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاویہ کے ساتھ صلح پر راضی نہیں تھے۔ قیس نے پیغمبر سے احادیث بھی نقل کی ہیں نیز امینی نے الغدیر میں انہیں پہلی ہجری قمری کے ان شاعروں میں سے گنا ہے جنہوں نے واقعہ غدیر اشعار کی صورت میں بیان کیا ہے۔

تعارف

مؤرخین نے قیس کے باپ کا نام سعد بن عبادۃ بن دلیم بن أبی‌حلیمۃ لکھا ہے۔ قیس اور اس کے باپ کے خزرج سے ہونے کی وجہ سے خزرجی کہا جاتا ہے اور خزرج مدینہ کا ایک قبیلہ تھا۔[1] قیس کا بھائی سعید حدیث غدیر کے راویوں اور علوی حکومت کے عاملین میں سے ہے۔

ابوالفضل، ابوعبد اللہ یا ابو عبدالملک کنیت تھی۔ والدہ کانام فکیہہ بنت عبید بن دلیم بن حارثہ تھا۔ نسابہ قیس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہوشیار، باہوش، صاحب رائے اورجنگی چالوں کا ماہر تھا۔ منقول ہے کہ اس نے اپنے بارے میں کہا: اگر پیامبر نے یہ نہ کہا ہوتا کہ مکر و فریب کی جگہ جہنم ہے تو میں عرب کا مکارترین اور فریب کارترین شخص ہوتا۔[2]

اخلاقی خصوصیات

قیس، قیس کا باپ اور جد سب اپنے قبیلے کے بزرگان میں سے تھے۔ [3] اسے عرب کا سخاوتمند ترین شخص شمار کرتے ہیں اور پیغمبر اکرم(ص) سے مروی ہے: قیس خاندان سخاوت اور بخشش سے ہے۔ کہتے ہیں قیس کا باپ ہمیشہ رسول اکرم کے ساتھ رہتا اور مدینہ میں ہر روز رسول خدا کیلئے غذا بھجواتا۔[4]

واقدی کے مطابق جب پیامبر غزوہ غابہ کے موقع پر مدینہ سے دور تھے تو سعد نے اپنے بیٹے قیس کے ہمراہ کھجور کے چند کیسے رسول اللہ (ص) کی خدمت میں بھجوائے۔ پیامبر(ص) قیس کو گھوڑے پر سوار دیکھ کر خوشحال ہوئے اور اس کے باپ کی تعریف کی۔ خزرجی لوگ جب آپ (ص) کے پاس ھے تو آپ نے انہیں مخاطب ہو کر فرمایا: یہ خاندان لوگوں کی مشکلات اور مصیبتوں میں ان کے مدددگار رہا نیز رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:خیارکم فی الاسلام، خیارکم فی الجاہلیہ اذا فقہوا فی الدین؛ جو تم میں سے جاہلیت کے دور کے اچھے لوگ ہی اسلام کے بعد بھی وہی اچھے لوگ ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ دین خدا میں فہم حاصل کریں۔ [5] واقدی نے نقل کیا: سریہ خبط مسلمان سپاہ بھوک اور غزائی قلت کا شکار ہوئے قیس نے بڑی فراخ دلی سے چند صحت مند گوسالے اور بکریاں ایک شخص سے نسیہ پر خریدیں اور لشکر اسلام کو چند روز کی بھوک سے نجات دی۔جب مدینہ واپس آیا اسکے باپ نے اس قرض کو ادا کیا اور اس نے اس کام کی وجہ سے اسے بہت سا مال بخشا نیز اس ماجرا میں رسول اللہ نے قیس اور اسکے خاندان کی سخاوت کی تعریف کی۔[6]

دورہ پیامبر(ص)

پیغمبر(ص) کے زمانہ میں قیس ایک نوخیز جوان تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر وہ پرچمدار پیامبر(ص) تھا۔ یہ حدیثلو كان العلم متعلقا بالثریا لنالہ ناس من فارس؛دانش اگر ثریا میں بھی ہوتی تو فارس کے جوان اس تک رسائی حاصل کر لیتے۔ قیس نے رسول اللہ سے روایت کی ہے۔[7]

خلفا کا دور

وہ سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود تھا۔ لیکن پہلے تین خلفا کے حکومتی امور میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا تھا۔ نیز دیگر کوئی تفصیلی معلومات اس دور کے متعلق مذکور نہیں ہے۔ بعض روایات کی بنا پر اس کی طرف سے خلیفہ اول[8] اور دوم کے ساتھ سخت رویہ نقل ہوا ہے۔نمونے کے طور ہر کہا گیا : سقیفہ بنی ساعدہ میں جب بشیر بن سعد نے قبیلہ اوس کے بزرگ کی حیثیت سے ابوبکر کی بیعت کی تو اژدھام کی وجہ سے سعد بن عبادہ نے نے مجھے مار دیا، یہ سننا تھا کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا: سعد کو قتل کر کہ خدا اسے قتل کرے؟ اس بات کو سن کر قیس عمر پر حملہ آور ہوا لیکن ابوبکر نے اسے عمر کو صبر کی تلقین کی۔[9]

زمانہ امام علی(ع

امام علی(ع) نے قیس بن سعد کو ۳۶ ہجری قمری میں مصر کا حاکم منصوب کیا۔[10] بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اس کے زمانے میں مصر معاویہ کی دسترس میں رہا اور معاویہ نے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں دیکھا کہ اسے چالاکی سے مصر سے نکالا جائے ۔ اس نے بڑی چالاکی سے اس بات کو مشہور کر دیا کہ عثمان کی خونخواہی میں اس کے ساتھ ہے۔ جب یہ خبر زیادہ مشہور ہو گئی تو امام علی نے اسے حاکمیت سے معزول کر دیا ۔[11] بعض مصادر میں مذکور مصر کا حاکم بنتے ہی معاویہ نے اسے تہدید اور لالچ کے ذریعے اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ہوئی اور اس نے اپنے آخری خط میں قیس کو بہت سخت لہجے میں دھمکیاں دیں۔[12] پھر ایک جعلی خط بنایا جس کے مطابق قیس اس سے ہمدردی رکھتا تھا۔ اس خط کو شامیوں کیلئے اس نے پڑھا ۔قیس کے معاویہ سے ہمدردی کے شائعات حضرت علی تک پہنچے آپ نے یقین نہیں کیا لیکن آپ نے اپنے نزدیکی حسنین(ع) اور عبداللہ بن جعفر سے مشورہ کیا۔ عبداللہ بن جعفر نے اسے برطرف کرنے کا مشورہ دیا۔[13] جبکہ حضرت علی(ع)اسکی برطرفی کے مخالف تھے اور اسے اپنا وفادار سمجھتے تھے۔ [14]

یہاںتک کہ قیس کی طرف سے آپ کو خطوط ملے۔ قیس نے ان خطوط میں لکھا تھا کہ جن لوگوں نے مصر میں علی بیعت نہیں کی اور نہیں کریں گے مین ان سے سختی کے ساتھ آؤں ۔ امام نے جواب میں تاکید کی کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی صورتحال مشخص کریں کہ وہ علی کے ساتھ ہیں یا معاویہ کے ساتھ ہیں لہذا قیس ان سے بیعت لے۔

[15] قیس نے اپنے مصالحت پسندانہ رویے اور جنگ سے کنارہ گیری کی بدولت امام علی کے اس فرمان سے سرپیچی، پس امام علی(ع) نے اسے مصر کی حاکمیت سے برطرف کر دیا ۔ [16] قیس شروع میں تو مدینہ آیا اور بعض گزارشوں کے مطابق مصر کی حاکمیت پر قیس کے برطرف کرنے پر ناراحت تھے، لیکن قیس کو مدینے میں موجود معاویہ کے عاملین کی طرف سے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا۔[17] اس وجہ سے وہ کچھ مدت بعد مدینہ چھوڑ کر کوفہ چلا گیا۔[18]

جنگوں میں شمولیت

قیس امام علی کے زمانے میں ہونے والی جنگوں میں امام کے ساتھ تھا۔مصادر کے مطابق قیس نے جنگ جمل، میں آن حضرت کو مقابلے کی تشویق کرتا رہا اور انصار کو امام کی مدد کیلئے دعوت دی۔[19] امام علی(ع) نے مصر سے معزولی کے بعد اسے آذربائیجان کی حاکمیت سپرد کی۔ آپ نے جنگ صفین کے موقع پر قیس کو خط میں عبداللہ بن شمیل احمسی کو اپنی جگہ چھوڑ کر کوفہ آنے کا کہا [20] لہذا اس نے قوج کے کے بڑے سپہ سالار کی حیثیت سے اس جنگ میں شرکت کی۔[21] اس نے اس جنگ میں اپنی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرا کیا۔ کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں حضرت علی نے رسول اللہ کا پرچم اس کے ہاتھوں میں دیا۔ جنگ نہروان میں امام علی نے قیس اور ابوایوب انصاری کو خوارج سے بات چیت کیلئے بھیجا تا کہ وہ جنگ سے پرہیز کریں۔[22]

جنگ صفین قیس کے اشعار:


ہذا اللواء الّذي كنّا نحفّ بہ مع النبيّ و جبريل لنا مدد
ما ضرّ من كانت الأنصار عيبتہ ألّا يكون لہ من غيرہم أحد
وأنتم أعد عدة و أكثر ونحن أوفی منكم و أصبر
قوم إذا حاربوا طالت أكفّہم بالمشرفيۃ حتى يفتح البلد


زمانہ امام حسن(ع)

کہا گیا کہ قیس وہ پہلا شخص ہے جس نے ۴۰ قمری میں با امام حسن(ع) کی بیعت کی تھی۔[23] امام حسن(ع) کے زمانے میں قیس امام حسن کا سپہ سالار تھا۔کہتے ہیں کہ وہ امام کی آن حضرت کی معاویہ کے ساتھ صلح میں موافق نہیں تھا۔ جب معاویہ کے ساتھ امام حسن کے صلح کرنے کا خط اسے پہنچا جس میں لوگوں کو بیعت معاویہ اور امام کے بغیر جنگ کے درمیان مخیّر کیا۔ جبکہ لوگوں نے معاویہ کی بیعت کو انتخاب کیا۔[24]

عبدالحسین امینی نے قیس کا نام ان پہلی صدی ہجری قمری کے شعرا میں ذکر کیا ہے جنہوں نے اس صدی میں واقعہ غدیر کو اشعار کی صورت میں بیان کیا ۔[25] ناصر وردیانی نے عربی زبان میں الاسباط کے نام سے ٹیلی ویژن سیریل میں قیس بن سعد کا کردار ادا کیا ہے۔

وفات

قیس کی تاریخ وفات اور دفن کے مقام میں اختلاف ہے۔اس کی تاریخ وفات خلافت معاویہ کا آخری سال [26]، ۶۰ ہجری قمری[27] اور ۸۵ ہجری قمری [28] ذکر کرتے ہیں۔ استیعاب میں اس کا مقام دفن مدینہ[29] اور زرکلی کی اعلام تفلیس ذکر ہوا ہے۔[30] آخری قول کے مطابق قیس معاویہ کے ڈر سے ۵۸ ہجری قمری تفلیس فرار کر گیا اور وہاں ۸۵ ہجری قمری میں عبدالملک بن مروان کی حکومت کے دوران فوت ہوا۔[31]

حوالہ جات

  1. نک: ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۲، ۵۹۵.
  2. ابن اثیر، أسدالغابۃ، ج‌۴، ص۱۲۶.
  3. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۳، ص ۱۲۹۰.
  4. ابن اثیر، أسدالغابۃ، ج‌۲، ص۲۰۴.
  5. واقدی، المغازی، ج۲، ص۵۴۷.
  6. واقدی، المغازی، ج‌۲، ص۷۷۵.
  7. الاستیعاب، ج۳، ۱۲۹۰؛ ابن اثیر، أسدالغابۃ، ج‌۴، ص۱۲۶.
  8. دیلمی، ارشادالقلوب، ج۲، ص۳۷۹-۳۸۱.
  9. طبرسی، الاحتجاج، ج۱، ص۷۲.
  10. دینوری، الأخبارالطوال، ص۱۴۱؛ ابن خلدون، تاریخ ، ج‌۲، ص۶۲۳.
  11. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج‌۳، ص۱۲۹۰.
  12. ثقفی، الغارات/ترجمہ، ص۱۰۴.
  13. ثقفی، الغارات/ترجمہ، ص۱۰۶.
  14. ثقفی، الغارات/ترجمہ،ص۱۰۶
  15. ثقفی، الغارات/ترجمہ، ص۱۰۶
  16. نک: ثقفی، الغارات/ترجمہ،ص۱۰۶- ۱۰۸.
  17. بلاذری، أنساب ‌الأشراف ،ج‌۲، ص۳۰۰.
  18. نک: ثقفی، الغارات/ترجمہ،ص۱۱۰.
  19. نک: دینوری، الإمامۃوالسیاسۃ ،ج ۱، ص۲۶.
  20. یعقوبی،‌ تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۰۲-۲۰۳.
  21. نک: ثقفی، الغارات/ترجمہ،ص۱۱۰.
  22. دینوری، اخبارالطوال،‌ص۲۰۷.
  23. طبری، تاریخ ، ج۵، ص۱۵۸.
  24. طبری، تاریخ الطبری، ج۵، ص۱۶۰؛ دینوری، اخبارالطوال، ص۲۱۸.
  25. امینی، الغدیر، ج۲، ص۵۱.
  26. خلیفہ بن خیاط، تاریخ، ص۱۴۰؛ ابن حجر، الاصابہ،‌ ج۵،‌ ص۳۶۱.
  27. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۳، ص۱۲۹۰؛ زرکلی، الاعلام، ج۵، ص۲۰۶.
  28. ابن حبان،‌ مشاہیر علماء الامصار، ص۷۹.
  29. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۳، ص۱۲۹۰.
  30. زرکلی، الاعلام، ج۵، ص۲۰۶.
  31. ابن حبان،‌ مشاہیر علماء الامصار، ص۷۹.

مآخذ

  • ابن حبان،‌ محمد بن احمد، مشاہیر علماء الامصار، تحقیق: مجدی بن منصور بن سید شوری،‌ دارالکتب العلمیہ، بیروت،.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، درالکتب العلمیہ، ط: الاولی، ۱۹۹۵م-۱۴۱۵
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ بن محمد، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ط: الاولی، ۱۴۱۲ق-۱۹۹۲م.
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر، مرکز الغدیر،‌ قم، ۱۴۱۶ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، كتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق: سہیل زكار و ریاض زركلی، بیروت، دار الفكر، ط الأولی، ۱۴۱۷ق-۱۹۹۶م.
  • ثقفی كوفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق: جلال الدین حسینی ارموی، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۵۳ش.
  • خلیفۃ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، تحقیق: فواز، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ط: الاولی، ۱۹۹۵-۱۴۱۵ق.
  • دیلمی، حسن بن محمد، ارشادالقلوب الی الصواب، الشریف الرضی، قم، ۱۴۱۲ق.
  • دینوری، ابن قتیبۃ، الامامہ و السیاسہ، الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء، أب، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.
  • دینوری، ابن قتیبۃ، امامت و سیاست (تاریخ خلفاء، ترجمہ سید ناصر طباطبائی، تہران، ققنوس، ۱۳۸۰.
  • دینوری، احمد بن داود، الأخبارالطوال، تحقیق: عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال،قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، دارالعلم للملایین، بیروت، ۱۹۸۹م.
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اہل اللجاج، مصحح: محمد باقر خراسان، نشر مرتضی، مشہد، ۱۴۰۳ق.
  • واقدی، محمد بن عمر، كتاب المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ط الثالثۃ، ۱۴۰۹ق-۱۹۸۹م.
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی‌تا.