حضرت عباس علیہ السلام

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
عباس بن علی بن ابی طالب(ع)
حرم حضرت عباس.jpg
کردار امام زادہ، شہید کربلا، واقعۂ کربلا میں علمدار امام حسین(ع)
نام عباس بن علی بن ابی طالب(ع)
کنیت ابوالفضل، ابوالقاسم
میلاد 4 شعبان 26 ہجری
مولد مدینہ
وفات 61ہجری
مدفن کربلا
مسکن مدینہ اور کوفہ
والد حضرت علی (ع)
والدہ ام البنین
شریک حیات لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس
اولاد فضل، عبید اللہ
عمر 34 سال
مشہور امامزدگان
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبدالعظیم حسنی، احمد بن موسی،سید محمد، سیدہ نفیسہ
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسین (ع) کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسین(ع)
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تعزیہ • مجلس • زنجیر زنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


حضرت عباس علیہ السلام کے روضے کا گنبد اور منارہ

حضرت عباس علیہ السلام جو "ابوالفضل" اور "علمدار کربلا" کے نام سے مشہور ہیں، امام علی (ع) اور ام البنین(س) کے فرزند ہیں۔

حضرت عباس، شیعوں کے نزدیک، ائمہ کی اولاد میں اعلی ترین مقام و مرتبت رکھتے ہیں اور اسی اعلی مرتبت کی بنا پر محرم کا نواں دن (تاسوعا) آپ سے مختص کیا گیا ہے اور اس روز حضرت عباس(ع) کی عزاداری کی جاتی ہے۔

شیعہ مصادر و منابع میں آپ سے متعلق بہت سے کرامات نقل ہوئی ہیں۔ اسی طرح آپ کو ادب، شجاعت اور سخاوت کا مظہر، وفا کا پیکر اور امام معصوم کی اطاعت میں نمونۂ کاملہ سمجھا جاتا ہے۔آپ کو نہایت خوش چہرہ نوجوان ہونے کے ناطے قمر بنی ہاشم کا لقب دیا گیا ہے۔

آپ کربلا میں اپنے بھائی حسین بن علی(ع) کی سپاہ کے علمدار اور سقا تھے اسی بنا پر شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان علمدار کربلا اور سقا‏ئے دشت کربلا کے لقب سے مشہور ہیں۔

تاریخی اسناد کے مطابق کربلا میں خیام حسینی میں پانی کی قلت کے بعد آپ ایک دفعہ سات محرم کے دن امام حسین(ع) کے اہل خانہ اور اصحاب کے لئے پانی لانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسری دفعہ عاشورا کے دن بھی آپ پانی لانے کی غرض سے فرات کے کنارے پہنچ گئے اور پانی بھی اٹھا لیا لیکن خیام کی طرف لوٹتے ہوئے گھات لگائے اشقیاء نے پانی کے مشکیزے کو تیر کا نشانہ بنایا اور آپ کے دونوں ہاتھ قلم کردیئے اور آپ کو شہید کردیا۔

نسب

حضرت عباس(ع) کے والد ماجد حضرت امام علی(ع) اور والدہ حضرت ام البنین(س) تھیں جن سے علی(ع) نے حضرت زہراء(س) کی شہادت کے بعد کئی سال بعد ازدواج کیا جس کے نتیجے میں آپ کو خدا نے چار بیٹے عطا کئے اسی لئے آپ ام البنین کے عنوان سے مشہور ہوئیں۔[1]

القاب اور کنیتیں

حضرت عباس علمدار(ع) کے متعدد القاب اور کنیتیں تاریخ میں ثبت ہیں:

کنیتیں

حضرت عباس(ع) کی مشہور ترین کنیت "ابو الفضل‏" ہے.[2] کہا جاتا ہے کہ حضرت عباس(ع) کے فضائل کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کنیت سے جانا جاتا تھا۔[3] اسی کنیت ہی کے ناطے آپ کو ابو فاضل اور ابو فضائل بھی کہا جاتا ہے۔

"ابو القاسم" آپ کی دوسری کنیت ہے۔ مؤرخین نے زیارت اربعین میں موجود لفظ ابو القاسم کو حضرت عباس(ع) کی کنیت قرار دیا ہے۔ جہاں جابر انصاری آپ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

"اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا أبَا الْقاسِمِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَبّاس بنَ عَلِيٍ". (ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے قاسم کے باپ سلام ہو آپ پر اے عباس فرزند علی(ع).[4]

القاب

  • قمر بنی‏ ہاشم [5] حضرت عباس(ع) نہایت نورانی چہرہ کے مالک تھے جو آپ کے کمال و جمال کی نشانیوں میں شمار ہوتا تھا اسی بنا پر آپ کو قمر بن ہاشم کا لقب دیا گیا تھا۔[6]
  • باب الحوائج [7] حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے مشہور القاب میں سے ایک باب الحوائج ہے اور آپ کا یہ لقب آشناترین اور مشہورترین القاب میں سے ہے۔[8] حضرت عباس علمدار(ع) دو جہت سے باب الحوائج کہا جاتا ہے ایک یہ کہ آپ واقعہ کربلا میں اہل بیت اطہار کی ہر مشکل گھڑی میں ان کا سہارا تھا اور ہر ایک کی حاجت روائی فرماتے تھے۔ دوسری علت یہ ہے کہ آپ کا روضہ آج بھی لوگوں کی مشکلات اور حاجت روائی کا مرجع ہے دنیا جہاں سے ہزاروں لاکھوں حاجت مند آپ کے روضے سے اپنی مرادیں پوری کرکے واپس ہوئے ہیں اس بنا پر بھی آپ کو باب الحوائج یعنی مرادیں پوری کرنے والا در کہا جاتا ہے۔
  • طیار [9] یہ لقب عالم قدس اور بہشت جاویدان کی فضاؤں میں حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی شان و مرتبت کو نمایاں کرتا ہے. امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا: "عباس کے ہاتھ حسین(ع) کی حمایت میں قلم ہونگے اور پروردگار متعال اس کو دو شہ پر عطا فرمائے گا اور وہ اپنے چچا جعفر طیار(ع) کی مانند جنت میں پرواز کرے گا. [10]
  • الشہید: [11] شہادت ابوالفضل(ع) کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے جو آپ کی حیات مبارکہ کے افق پر چمک رہا ہے اور آپ کے اس لقب کی بنیاد آپ کی شہادت ہی ہے.
  • سقّا [12] یہ لقب آپ کو کربلا میں اہل بیت پر دشمن کی جانب سے پانی بند کرنے کے باوجود بھی کئی بار اہل بیت اطہار کے گھرانے کو پانی پلانے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ علامہ قرشی لکھتے ہیں: سقا حضرت عباس کے اہم ترین القاب میں سے ایک لقب ہے جو حضرت عباس(ع) کو بہت پسند تھا.[13]
  • بَطَلُ العَلقَمی: (علقمہ کا پہلوان) اس لقب کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عباس(ع) نہر علقمہ کے کنارے شہید ہوئے. علقمہ اس نہر کا نام تھا جس پر اموی لشکر کا بھاری پہرا تھا تاکہ اصحاب حسین(ع) میں سے کوئی وہاں تک رسائی حاصل نہ کر سکے اور حسین(ع) اور آپ کے اہل بیت اور اصحاب پیاسے رہیں.[14] لیکن آپ نے بہادری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی بار اس نہر پر قبضہ کیا اور وہاں سے پانی لا کر اہل بیت کو سیراب کیا اسی وجہ سے آپ کو یہ لقب دیا گیا ہے۔
  • عبد صالح [15] یہ وہ لقب ہے جس کی طرف امام صادق(ع) نے بھی آپ کے زیارتنامے میں اشارہ فرمایا ہے. : "اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصّالِحُ الْمُطيعُ للهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاَِميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ والْحُسَيْنِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ". (ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے خدا کے نیک بندے اے اللہ، اس کے رسول، امیرالمؤمنین اور حسن و حسین علیھم السلام، کے اطاعت گزار و فرمانبردار...". [16]
  • علمدار [17] حضرت عباس کے مشہور القاب میں علمدار (حامل اللواء) شامل ہے؛ حضرت عباس(ع) روز عاشور اہم ترین اور قابل قدر ترین پرچم کے حامل تھے جو سیدالشہداء امام حسین(ع) کا پرچم تھا.[18]
  • کبش الکتیبہ: وہ لقب ہے جو سپہ سالاری کے زمرے میں اعلی ترین رتبے کے حامل سپہ سالار کو دیا جاتا ہے جس کی بنیاد حُسنِ تدبیر اور شجاعت و دلاوری نیز ماتحت افواج کو محفوظ رکھنے جیسے اوصاف ہوتے ہیں.[19]
  • سپہ سالار: آپ روز عاشور بھائی کے لشکر کر اعلی ترین سپہ سالار تھے اور سپاہ حسین(ع) کے عسکری قائد تھے؛ چنانچہ آپ کو یہ لقب عطا ہوا ہے.[20]
  • حامى الظعینہ (خواتین کا حامی): حضرت عباس علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ایک حامی الظعینہ ہے. سید جعفر حلى نے اپنے عمدہ قصیدے میں حضرت ابوالفضل کے سوگ میں اظہار غم کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے:

"حامى الظعینہ کہاں، ربیعہ کجا، حامى الظعینہ کے باپ امام المتقین کہاں اور مکدّم کجا".[21]

ولادت تا وفات

والدہ ماجدہ اور ولادت

بنت الرسول(ص) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کو 10 برس ہوچکے تھے لیکن زہراء کا غم فراق ہنوز علی(ع) کے دل میں پوری قوت سے باقی تھا. خاندان رسالت کو عجیب صورت حال سے دوچار کیا گیا تھا اور بنی ہاشم اپنی عظمتوں اور کرامتوں کے باوجود مظلومیت کے عالم میں جی رہے تھے.
اس اثناء میں علی(ع) کو مستقبل کی فکر بھی تھی اور کربلا کا واقعہ بھی آپ کی نظروں میں مجسم ہورہا تھا. چنانچہ آپ نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ بھائی عقیل سے مشورہ کیا جو نسب شناس تھے اور عرب کے تمام قبائل اور ان کی اخلاقی اور روحانی خصوصیات سے بخوبی واقف تھے. آپ نے عقیل سے کہا: میرے لئے ایک زوجہ تلاش کریں جو شائستہ اور مناسب خاتون ہو اور ایسے قبیلے سے ہو جس کے اجداد شجاع اور بہادر ہوں تاکہ یہ خاتون میرے لئے ایک شجاع، بہادر اور شہسوار فرزند پیدا کرے.
کچھ دن بعد عقیل نے علی(ع) کو قبیلہ بنی کلاب کی ایک خاتون فاطمہ بنت حزام الکلابیہ کا رشتہ مانگنے کی تجویز دی جن کے آباء و اجداد باپ کی طرف سے بھی نامور عرب شجاعوں میں سے تھے اور والدہ کی طرف سے بھی نجیب و شریف تھیں.
عقیل علی(ع) کی ہدایت پر رشتہ مانگنے گئے تو حزام بن خالد نے اس رشتے کا خیرمقدم کیا چنانچہ امیر المؤمنین(ع) اس شریف خاتون کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے. فاطمہ کلابیہ سراپا نجابت و پاکیزگی اور خلوص تھیں. جب امیر المؤمنین(ع) کے گھر میں دلہن بن کر آئیں تو حسن اور حسین علیہما السلام دونوں بیمار تھے. انھوں نے سرداران جوانان جنت کی تیمارداری کی اور بہت زيادہ مہربانی سے پیش آئیں. کہا جاتا ہے کہ جب انہیں فاطمہ کے نام سے پکارا گیا تو کہنے لگیں: مجھے فاطمہ کہہ کر نہ پکارا کریں، تاکہ آپ کی والدہ فاطمہ کے غموں اور دکھوں کی یاد آپ کو نہ ستائے؛ مجھے اپنی خادمہ سمجھیں؛ چنانچہ اس کے بعد انہیں ام البنین کے نام سے پکارا جانے لگا اور اسی نام سے مشہور ہوئیں.
ام البنین سے امیرالمؤمنین(ع) کی شادی کا نتیجہ چار بیٹوں کی صورت میں برآمد ہوا اور اس مبارک رشتے کا سب سے پہلا ثمرہ حضرت عباس علمدار(ع) تھے. حضرت عباس(ع) علی(ع) اور ام البنین کی توجہات و عنایات خاصہ اور خاندانی عظمت و شرافت سے بہرہ مند تھے. خاندانی شرافت کے ساتھ ساتھ ام البنین کا دل اہل بیت علیہم السلام کی محبت و معرفت سے مالامال تھا اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت میں اخلاص کی مرتبت پر فائز تھیں اور دوسری طرف سے خاندان رسالت میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا. اس بات کی دلیل یہ ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا کے واقعے کے بعد مدینہ واپسی پر ان کے گھر گئیں اور عباس اور آپ کے تین بھائیوں کی شہادت کے سلسلے میں انہیں تعزیت پیش کی اور اس کے بعد مسلسل ان کے گھر آیا جایا کرتی تھیں اور ان کے غموں میں شریک تھیں.
مروی ہے کہ جب آنہیں عباس اور دوسرے بیٹوں کی شہادت کی خبر دی گئی تو انھوں نے کوئی توجہ دیئے بغیر امام حسین(ع) کا حال پوچھا اور زہرا(س) کے فرزند آپ کے لئے اپنے بیٹوں سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے. عباس ایسی خاتون کے دامن میں پلے بڑھے تھے اور ایسی حق شناس اور صاحب معرفت خاتون کے بیٹے تھے. اور کہنا یہی چاہئے کہ "ایسی ماں کا بیٹا ایسا ہی ہونا چاہئے". [22] بہر حال حضرت عباس(ع) 4 شعبان المعظم سنہ 26 ہجری کو پیدا ہوئے اور 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو [[کربلا] میں جام شہادت نوش کرگئے.[23]

نام

عباس عربی کے قواعد کے مطابق، صیغۂ مبالغہ ہے یعنی بہت زیادہ غضبناک، لفظ عباس، کا مادہ عبس ہے جس کے معنی ترش روئی کے ہیں جیسا کہ منقول ہے کہ إن الأسماء تنزل من السماء؛ (ترجمہ: بے شک اسماء (نام) آسمان سے نازل ہوتے ہیں).[24] عباس کا نام بھی ایک الہامی نام تھا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مؤمنین کے لئے خدا کے مقرر کردہ قاعدے [25] کے تحت دشمنان خدا کے لئے ترشرو اور جنگ میں غیور اور صاحب ہیبت تھے. امیر المؤمنین(ع) نے اپنے علم خاص کے ذریعے اس حقیقت کو دیکھ لیا تھا کہ وہ اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں اسی لئے آپ کو عباس یعنی غضبناک اور بیشہ کے شیر کا نام دیا. چنانچہ لڑکپن اور نوجوانی میں دشمنان آل رسول(ص) کی طرف سے مسلط کردہ جنگوں میں جب بھی عباس(ع) نے میدان کارزار کا رخ کیا دشمن کو اپنے اوپر موت کے سائے منڈلاتے ہوئے نظر آئے. عباس(ع) کی شان میں کہے گئے اشعار اور ادبی قطعات نے اس حقیقت کی تصویر کشی ہے: "جب موت کے خوف نے دشمن کے چہروں کو کڑوا کردیا تھا عباس بیچ میں خندان و متبسم کھڑے نظر آرہے تھے". منتخب طریحی اور دیگر کتب میں آپ کے وصف میں کہا گیا ہے: (امیرالمؤمنین(ع) کا بہادر فرزند جنگوں میں عرب بہادروں کے ساتھ پنجہ آزمائی کرکے مردانگی کے جوہر جگاتے تھے اور جرأت اور قوت انہیں حیدر کرار سے ورثے میں ملی تھی".[26]حضرت عباس(ع) کی شجاعت و دلاوری کی نشانیاں تو اسی دن سے ظاہر ہونا شروع ہوئی تھی جب امیر المؤمنین(ع) نے بھائی عقیل سے ایسا رشتہ ڈھونڈنے کی ہدایت کی تھی کہ آپ کی ایسی خاتون سے شادی کرا دیں جو بہادر بچوں کی ماں بنے اور وہ بچے حریم ولایت کا تحفظ کریں.[27] یہ مقدس پیوند روز جمعہ 4 شعبان سنہ 26 ہجری کو علمدار کربلا(ع) کی ولادت پر منتج ہوئی.[28] امیرالمؤمنین(ع) نے حکم دیا: میرا بیٹا میرے پاس لائیں؛ حضرت عباس(ع) کو آپ کے پاس لایا گیا اور آپ نے رسول اللہ(ص) کی سنت کے مطابق بیٹے کے دائیں کان میں اذان کہی اور بائیں کان میں اقامت اور پھر بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور ان کے بازو چھوم لئے اور آنکھوں میں اشک حلقہ زن ہوئے. ام البنین فکرمند ہوئیں کہ مبادا امام علیہ السلام کو نومولود کے بازؤوں میں کوئی نقص نظر آیا ہے. چنانچہ امام علیہ السلام سے آنسو بہانے کا سبب پوچھا. تو امام(ع) نے ایک دردناک حقیقت سے پردہ اٹھایا اور فرمایا: یہ بازو امام حسین علیہ السلام کو امداد پہنچانے میں یہ دونوں بازو قلم کئے جائيں گے. اور مزید فرمایا: اے ام البنین! آپ کا یہ نور دیدہ اللہ کے ہاں عظیم منزلت رکھتا ہے اور خداوند متعال ان دو قلم شدہ بازؤوں کے عوض اس کو دو شہپر عطا کرے گا جن کے ذریعے یہ جنت میں پرواز کرے گا. جیسا کہ اس سے پہلے یہی لطف ان کے چچا جعفر بن ابی طالب(ع) پر ہوا تھا.[29]

عہد طفولیت اور نوجوانی

عہد طفولیت

حضرت عباس(ع) کا عہد طفولیت والد بزرگوار امام علی علیہ السلام، اور دو بھائیوں حسن اور حسین کے سائے میں گذرا اور حضرت عباس(س) نے ان کی دانش و بصیرت سے فیض حاصل کیا. حضرت علی(ع) اپنے اس فرزند ارجمند کے کمال اور تربیت و پرورش کے بارے میں فرماتے ہیں: "إن ولدي العباس زقّ العلم زقّاً". (ترجمہ: میرے بیٹے عباس نے ـ کبوتر کے بچے کی مانند جو اپنی ماں کے منہ سے دانہ پانی لیتا ہے ـ طفولیت میں ہی مجھ سے علم سیکھا).[30] اور یہ بدیع ترین تشبیہ و استعارہ ہے کیونکہ "زقّ"پرندوں کے ـ خود کچھ کھانے سے عاجز ـ بچوں کو دانہ پانی دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہاں امام علی علیہ السلام نے اس لفظ کو عباس(ع) کی تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کیا ہے؛ جو خود اسالیب کلام سے واقف ہیں اور ہم اس لفظ سے یہی سمجھتے ہیں کہ بےشک ابوالفضل(ع) میں حتی کہ طفولیت اور شیرخوارگی کے ایام میں علوم و معارف کے حصول کی پوری صلاحیت موجود تھی؛ اور حقیقت بھی ایسا ہی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے.[31] مثال کے طور پر جس وقت عباس(ع) کی زبان پر پہلی بار الفاظ جاری ہونے لگے اور آپ بولنے لگے تو ایک دن امام(ع) نے اپنے فرزند دلبند سے فرمایا: کہو "واحد" (ایک) عباس نے کہا: "احد" امام(ع) نے فرمایا: کہو "اثنان" (دو) عباس نے اثنان کہنے سے اجتناب کیا اور عرض کیا: شرم آتی ہے مجھے کہ جس زبان سے میں نے اللہ کی یکتائی کا اقرار کیا ہے اس پر "اثنان" (دو) جاری کروں.[32] ـ [33] کہا جاتا ہے کہ جب بھی امام(ع) اعجاز امامت کی نگاہ سے عباس(ع) کے مستقبل پر نظریں جماتے تو غم کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے تھے اس وقت جی حضرت عباس کی مادر گرامی ام البنین(س) سبب پوچھتیں تو آپ فرماتے تھے کہ "عباس کے ہاتھ میرے بیٹے حسین(ع) کی حمایت کرتے ہوئے قلم کر دئے جائیں گے۔ پھر اپنے فرزند کی عظمت و مرتبت کے بارے میں یوں خبر دیتے تھے۔ "پروردگار متعال اس کو دو شہ پر عطا فرمائے گا اور یہ اپنے چچا جعفر طیار(ع) کی مانند جنت میں پرواز کرے گا. [34]

نوجوانی

حضرت علی(ع) نے خاص عنایات و توجہات کے ذریعے عباس(ع) کو اسلامی اخلاق و آداب سے روشناس کرایا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آپ کو پروان چڑھایا.[35] حضرت عباس (ع) نے والد کے سائے میں 14 سال اور 47 دن گذارے اور اس عرصے میں ہمہ وقت والد بزرگوار کے ہمراہ رہے.[36] اور خلافت کے دشوار ایام میں لمحہ بھر بھی آپ سے جدا نہ ہوئے.[37] جب سنہ 37 ہجری میں جنگ صفین چھڑ گئی تو عباس(ع) 12 سال کے تھے مگر آپ نے اس جنگ میں قابل قدر کارنامے سر انجام دیئے.[38]

جنگ صفین میں شرکت

سقائے صفین

معاویہ کا پچاسی ہزار افراد پر مشتمل لشکر صفین میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے "ابو الاعور اسلمی" کو بڑی نفری دے کر فرات پر متعین کیا اور حکم دیا کہ علی(ع) کے لشکر کو پانی نہ اٹھانے دیا جائے تاکہ وہ پیاس کی وجہ سے جنگ لڑے بغیر شکست کھا جائیں. جب علی(ع) کا لشکر آپہنچا تو فوجی تھکاوٹ اور پیاس میں مبتلا تھے چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) نے مجبور ہوکر صعصعہ بن صوحان اور شبث بن ربعی کو پانی لے کر آنے کی ذمہ داری سونپ دی. ان دو افراد نے کچھ نفری لے کر دریا پر تعینات معاویہ کے سپاہیوں پر حملہ کیا اور پانی کی ضرورت پوری کرنے میں کامیاب ہوئے. اس حملے میں حسین بن علی اور عباس بن علی بھی شریک تھے.[39]

جنگ صفین میں ابوالفضل کا جنگی کارنامہ

صفین میں جنگ زوروں پر تھی اتنے میں اچانک ایک کم عمر نقاب پوش لڑکا لشکر علی سے جدا ہوا۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ اس لڑکے کی عمر غالبا 13 سال تھی۔ معاویہ کے لشکر کے سامنے آکر رکا اور ہل من مبارز کی صدا بلند کی۔ معاویہ نے اپنے لشکر کے طاقتور ترین پہلوان ابو شعثاء سے میدان میں نکل کر اس نوجوان کا جواب دینے کا حکم دیا مگر اس نے کہا: شام والے سمجھتے ہیں کہ میں ایک ہزار گھڑسواروں کے برابر ہوں اور تم مجھے اس نوجوان کے سامنے بھجوا رہے ہو؟ میرے سات بیٹے ہیں جو اس نوجوان کا جواب دے سکتے ہیں چنانچہ اس نے اپنا ایک بیٹا میدان کارزار میں روانہ کیا جو چند ہی لمحوں میں اس نوجوان کے ہاتھوں اپنے خون میں نہا گیا. ابو شعثاء بڑی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے اپنا دوسرا بیٹا نئی ہدایات دے کر میدان میں اتارا لیکن نتیجہ وہی تھا اور یوں ابو شعثاء کے سات بیٹے اس نوجوان کے ہاتھوں مارے گئے.

آخر کار ابو شعثاء [شاید سات بیٹوں کا بدلہ لینے] نوجوان کا جواب دینے کے لئے میدان میں اترا لیکن وہ بھی چند ہی لمحوں میں اس نوجوان کی ایک کاری ضرب کا شکار ہوکر اپنے بیٹوں سے جا ملا. مزید معاویہ کے لشکر میں کسی میں اس نوجوان کا جواب دینے کی جرأت نہ تھی اور دوسری طرف سے سپاہ امیرالمؤمنین(ع) میں بھی سب حیرت زدہ ہوکر اس نوجوان کو داد تحسین دے رہے تھے. بالاخر کوئی حریف نہ پاکر اپنی سپاہ کی طرف لوٹا اور امیرالمؤمنین(ع) نے آپ کا نقاب اٹھایا اور بیٹے کے چہرے سے دھول ہٹا دی...[40]

|امام حسن مجتبی کے ہمراہ

حضرت عباس(ع) امام حسن(ع) کے دور امامت میں آپ(ع) کی خدمت میں پا برکاب تھے اور امام حسن(ع) کو درپیش معاویہ اور اس کے کارگزاروں کی جانب سے مسلسل مخالفتوں اور دشمنیوں اور سازشوں کے باوجود ـ جو ہر وقت آپ(ع) کے لئے خطرات کا سبب تھیں ـ عباس(ع) پوری قوت سے بھائی کی حفاظت میں کوشاں رہے. عباس(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) کے دور میں شیعیان آل رسول(ص) اور امام کے درمیان واسطہ تھا جو غریبوں اور محتاجوں کو اپنے بھائی کے الطاف و عنایات سے بہرہ مند کرتے رہتے تھے. سائلین اور غرباء و مساکین ـ جو اپنی حاجتیں امام حسن(ع) کے پاس لے آتے تھے ـ اپنے مسائل باب الحوائج کے سامنے بیان کرتے تھے اور آپ ان کے مسائل بھائی امام حسن(ع) کے لئے بیان کرتے تھے اور ان کے سلسلے میں بھائی کے جاری کردہ حکم پر عمل کرتے تھے.

نیز، جس وقت امام حسن(ع) اسلام دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور دشمنوں نے آپ کے جسم مبارک کو مدینہ میں تیروں کا نشانہ بنایا گیا، علوی و ہاشمی غیرت نے عباس(ع) کا ہاتھ تلوار کے قبضے تک پہنچا دیا؛ لیکن آپ کو اپنے شہید بھائی کی بات یاد آئی چنانچہ امام وقت کی خالص پیروی ـ جو آپ کی زندگی میں حرف اول تھی ـ نے آپ کو صبر و حلم کی دعوت دی.[41]

یقینا امام حسن مجتبی(ع) کے حضور حضرت عباس(ع) کے فعال کردار کا بہترین گواہ امام صادق(ع) کا قول ہے؛ امام نے حضرت عباس(ع) کے زيارتنامے میں فرمایا: [سلام ہو آپ پر اے اللہ کے صالح بندے اور اس کے رسول، امیر المؤمنین، حسن اور حسین ـ صلی اللہ علیہم _ کے مطیع و فرمانبردار.[42]

زوجہ اور اولاد

عباس(ع) لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے[43] لبابہ بنت عبید اللہ اپنے زمانے کی پاکیزہ اور بزرگ خواتیں میں شمار ہوتی تھیں اور قرآن کے سائے اور اہل بیت کی محبت و اطاعت سے مالامال ماحول میں پرورش پا چکی تھیں. لبابہ بنت عبید اللہ کی والدہ اُمّ حكیم جویری بنت خالد بن قرظ كنانی، تھیں. [44] حضرت عباس(ع) کی شادی 40 سے 45ہجری میں انجام پائی اور آپ شادی کے وقت 20 سالہ نوجوان تھے. جس کا ثمرہ دو بیٹے "فضل اور عبید اللہ" تھے. [45]

ایک روایت کے مطابق حضرت عباس کی پانچ اولادیں تھیں؛ چار بیٹے: "عبیدالله، فضل، حسن، قاسم" اور ایک بیٹی.[46] بہر حال آپ کی اولاد کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے؛ بعض منابع سے منقول ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے: عبیدا لله، حسن اور قاسم [47] بعض نے کہا ہے کہ آپ کے دو بیٹے: عبید اللہ اور محمد[48] تھے. کربلا میں حضرت عباس(ع) کی شہادت کے بعد لبابہ زید بن امام حسن مجتبی(ع) کے حبالہ نکاح میں آئیں اور خدا نے انہیں نفیسہ نامی بیٹی عطا کی[49] اور بعض نے کہا ہے کہ لبابہ نے زید بن حسن کے لئے ایک بیٹی "نفیسہ" اور ایک بیٹے "حسن" کو جنم دیا چنانچہ کہا جاتا ہے کہ حسن زید کا بیٹا تھا جو غلطی سے عباس(ع) کے فرزندوں کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے.[50]

بہر صورت حضرت عباس(ع) کی نسل عبید اللہ سے چلی. عبید اللہ کے دو بیٹے تھے: عبد اللہ اور حسن.[51] عبد اللہ لا ولد تھے جبکہ حسن کے پانچ بیٹے تھے: عبید اللہ جو ایک عرصے تک مکہ اور مدینہ کے والی اور قاضی تھے؛ عباس، جو خطابت و فصاحت میں صاحب و نام و نشان تھے؛ حمزة الاکبر اور ابراہیم جردقہ جو فقہاء، ادباء اور زاہدین میں شمار ہوتے تھے [52] عباس(ع) کے ان تمام وارثین نے فاضل، عالم اور دانشور فرزند اپنے پیچھے چھوڑے ہیں جن میں مثال کے طور پر محمد بن علی بن حمزہ بن حسن بن عبید اللہ بن عباس بن علی بن بن ابیطالب خاص طور پر مشہور تھے.[53]

حضرت عباس ائمہ کے کلام کی روشنی میں

امام سجاد(ع)

امام سجاد(ع) نے فرمایا:"رَحِمَ اللَّهُ عمِّي الْعَبَّاسَ فَلَقَدْ آثَرَ وَ أَبْلَى وَ فَدَى أَخَاهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى قُطِعَتْ يَدَاهُ فَأَبْدَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِمَا جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ كَمَا جَعَلَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَ إِنَّ لِلْعَبَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى مَنْزِلَةً يَغْبِطُهُ بِهَا جَمِيعُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

ترجمہ: اللہ رحمت کرے میرے چچا عباس بن علی(ع) پر، جنہوں نے ایثار اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان اپنے بھائی (امام حسین(ع)) پر قربان کردی حتی کہ دشمنوں نے ان کے دونوں ہاتھ قلم کردیئے چناچہ خداوند متعال نے ہاتھوں کے بدلے انہیں اپنے چچا جعفر طیار(ع) کی طرح دو شہ پر عطا کئے جن کے ذریعے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں. بےشک خدا کی بارگاہ میں عباس(ع) کو وہ مرتبت و منزلت ملی ہے کہ تمام شہداء روز قیامت آپ کا مقام دیکھ کر رشک و غبطہ کرتے ہیں [اور اس مقام کے حصول کی آرزو کرتے ہیں].[54]

امام صادق (ع)

امام صادق (ع) مختلف عبارتوں کے ضمن میں حضرت عباس(ع) کو مختلف صفات کا حامل قرار دیتے ہیں:

بصیرت شعار، دوراندیش، مضبوط ایمان کا حامل، جانباز اور ایثار کی حد تک جہاد کرنے والا، اپنے زمانے کے امام کی راہ میں جان نچھاور کرنے والا، رسول(ص) خدا کے جانشین کے سامنے سراپا تسلیم ہونے والا، وفاداری میں استوار اور زندگی کے آخری لمحے تک جدوجہد کرنے والا و...[55]

امام زمان (عج)

امام زمانہ(ع) شہدائے کربلا کو سلام کہتے ہوئے فرماتے ہیں:"السلام على أبي الفضل العباس بن أمير المؤمنين، المواسي أخاه بنفسه، الآخذ لغده من أمسه، الفادي له، الواقي الساعي إليه بمائه المقطوعة يداه - لعن الله قاتله يزيد بن الرقاد الجهني، وحكيم بن الطفيل الطائي".

ترجمہ: سلام ہو ابوالفضل العباس بن امیرالمؤمنین(ع) پر، جنہوں نے اپنے بھائی پر اپنی جان نچھاور کردی، دنیا کو اپنی آخرت کا ذریعہ قرار دیا [دنیا کو بیچ کر آخرت خرید لی]، وہ جو محافظ تھے اور لب تشنگانِ حرم تک پانی پہنچانے کی بہت کوشش کی اور ان کے دونوں ہاتھ قلم ہوئے. خداوند متعال کی نفرت و نفرین ہو ان کے قاتلوں یزید بن رقاد اور حکیم بن طفیل طائی پر؛ [خداوند متعال ان دونوں کو اپنی رحمت سے دور رکھے].[56]

معرفتِ امام

حضرت عباس(ع) کی عظمت کا سب سے بڑا عامل آپ کی امام شناسی اور اپنے زمانے کے امام کی اطاعت ہے؛ چنانچہ یہاں اس حوالے سے بعض نمونے پیش کئے جاتے ہیں:

  • حضرت امام صادق(ع) حضرت عباس(ع) کے زیارتنامے میں آپ کو خدا و رسول و [اپنے زمانے کے] ائمہ کے مطیع کے عنوان سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں:
... الْمُطيعُ للَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِاَميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِمُ؛ (ترجمہ: [سلام ہو آپ پر اے بندہ صالح اے] اللہ، اس کے اس کے رسول، امیر المؤمنین اور حسن اور حسین ـ صلی اللہ علیہم _ کے مطیع و فرمانبردار.[57]
  • تاسوعا کی شام کو شمر نے حضرت عباس(ع) اور آپ کے تین بھائیوں ("عثمان، جعفر اور عبداللہ") کے لئے امان نامہ لایا مگر حضرت عباس(ع) نے کوئی توجہ نہ دی اور اس کو جواب نہیں دیا. حتی کہ آپ کو اپنے امام کا حکم ملا کہ "جاؤ اور شمر کو جواد دو" اس وقت عباس(ع) نے فرمایا: کیا کہنا چاہتے ہو؟ شمر نے کہا: "تم اور تمہارے بھائی ("عثمان [58]، جعفر اور عبداللہ") امان میں ہو".

عباس نے کہا:

تبّت يداك ولعن ما جئت به من امانك يا عدوّا للَّه، أ تأمرنا ان نترك اخانا وسيّدنا الحسين بن فاطمة، وندخل فی طاعة اللّعناء واولاد اللّعناء! اتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له؟!".
ترجمہ: ٹوٹ جائیں تیرے ہاتھ اور [خدا کی] لعنت ہو اس امان نامے پر جو تو نے لایا ہے، کیا تو ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے سید و سرور حسین فرزند فاطمہ(س) کو ترک کردیں اور لعینوں اور لعین زادوں کی اطاعت قبول کریں؟ حیرت ہے، کیا تو ہمیں امان دے گا اور ہمارے سید و آقا حسین(ع) فرزند رسول خدا(ص) کے لئے امان نہيں ہے!.[59]

حضرت عباس اور عاشورا

سقائے دشت کربلا

ویسے تو آپ صفین میں بھی سقایت کا فریضہ انجام دے چکے تھے لیکن سات محرم سنہ 61 ہجری کو جب عمر سعد کو یزید کے گورنر ابن زياد کا حکمنامہ ملا کہ "امام حسین(ع) پر عرصہ حیات تنگ کرو اور انہیں آب فرات سے استفادہ نہ کرنے دو"، تو امام(ع) نے حضرت عباس(ع) کو بلا کر 30 سواروں اور 20 پیادوں کا ایک دستہ دیا اور ہدایت کی کہ جاکر اپنے مشکوں میں پانی بھر کر لائیں. حضرت عباس(ع) نے ان افراد کی مدد سے شریعۂ فرات پر تعینات یزیدی لشکر کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور خیام تک کافی مقدار میں پانی پہنچانے میں کامیاب ہوئے.[60] آخر کار حضرت عباس یزید بن رقاد جہنی، حکیم بن طفیل طائی اور ایک تیسرے ملعون کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[61]

امام(ع) کی طرف سے پیغام رسانی

نویں محرم کے دن یا اسی دن رات کے وقت جب عمر بن سعد لشکر اشقیاء کے سامنے کھڑے ہوکر آواز دی: اے خدا کے فوجیو!! اپنی سواریوں پر بیٹھ جاؤ اور جنت کی بشارت وصول کرو! .[62] تو امام حسین(ع) نے حضرت عباس(ع) کو ہدایت کی کہ جاکر دشمن کے حملے کو کل (عاشورا) تک مؤخر کروائیں چنانچہ آپ دشمن کی لشکرگاہ میں جاکر ایک رات مہلت لینے میں کامیاب ہوئے اور جنگ مؤخر ہوئی؛[63]

خیام کی حفاظت

شب عاشورا حضرت عباس(ع) نے خیام کی پہرہ داری کی ذمہ داری سنبھال لی اور طلوع فجر تک حرم رسول اللہ(ص) کی حفاطت کی۔ درست ہے کہ آپ نے اس رات کو دشمن سے مہلت لی تھی لیکن دشمن کچھ زیادہ قابل اعتماد نہ تھا چنانچہ احتیاط کرتے ہوئے خیام کے اطراف میں نگہبانی میں مصروف تھے۔ اس وقت زہیر آپ کے پاس چلے آئے[64] اور کہا: کیا آپ کو ایک ایسا قصہ نہ سناؤں جو میں نے خود سنا ہے؟ عباس(ع) نے کہا: کیوں نہيں! اور پھر زہیر نے ام البنین سے امیرالمؤمنین(ع) کی شادی کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین(ع) نے آپ کو اسی دن کے لئے مانگا تھا لہذا اپنے بھائی کی نصرت میں کوتاہی نہ کرنا. حضرت عباس(ع) غضبناک ہوئے اور فرمایا: اے زہیر! کیا تم ان باتوں کے ذریعے مجھے ترغیب دلا رہے ہو اور میرا حوصلہ بڑھانا چاہتے ہو؟ خدا کی قسم! موت کے لمحے تک بھائی کی نصرت و حمایت سے دستبردار نہيں ہونگا اور آپ(ع) کی امداد و حمایت میں کوئی کوتاہی نہیں کرونگا۔ کل (روز عاشورا) میں اس مدعا کو اس طرح سے ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ اس سے قبل تم نے اس کی مثال نہ دیکھی ہوگی. [65]

فوج کی سپہ سالاری

صبح عاشورا جب امام(ع) نماز فجر ادا کرچکے تو دشمن کے لشکر نے جنگی صورت اختیار کرتے ہوئے اعلان جنگ کیا تو امام(ع) نے بھی اپنے افراد کو دفاع کے لئے تیار کیا۔ [تاریخ کا] یہ [بےمثل] لشکر 32 سواروں اور چالیس پیادوں پر مشتمل تھا۔

امام(ع) نے اپنے لشکر اسلام کا میمنہ (دایاں بازو) زہیر بن قین کے سپرد کیا اور میسرہ کی قیادت حبیب بن مظاہر کو سونپ دی اور حضرت عباس(ع) کو قلب لشکر میں علم دے کر فوج کا سپہ سالار قرار دیا.[66]

دشمن کا گھیرا توڑ ڈالنا

جنگ کے ابتداء میں ہی سپاہ حسینی کے چار افراد "عمرو بن خالد صیداوی"، "جابر بن حارث سلمانی"، "مجمع بن عبداللہ عائذی" اور"عمر بن خالد کے غلام "سعد"" نے مل کر لشکر یزید کے قلب پر حملہ کیا. دشمن نے انہیں گھیرے میں لینے کا منصوبہ بنایا اور حسین(ع) کے یہ چاروں اصحاب دشمن کے محاصرے میں آگئے چنانچہ عباس(ع) نے انہیں خطرے میں پاکر تنہا، دشمن کی صفوں پر حملہ کیا اور محاصرہ توڑ کر ان افراد کو دشمن کے نرغے سے باہر نکالا.[67]

پانی کے حصول کے لئے کنواں کھودنا

دن کے وسط میں جب بچوں، خواتین اور حتی کہ سپاہیوں پر پیاس کا دباؤ شدت اختیار کرگیا، امام(ع) نے بھائی عباس(ع) کو کنواں کھودنے کی ہدایت کی؛ کیونکہ سرزمین کربلا پانی سے بھرے ہوئے دریا کے کنارے واقع تھی اور کنوا کھود کر پانی تک پہنچنے کا امکان پایا جاتا تھا. حضرت عباس(ع) کنواں کھودنے میں مصروف ہوئے لیکن کچھ دیر بعد پانی تک پہنچنے سے مایوس ہوکر باہر آئے اور دوسرا کنواں کھودنا شروع کیا مگر نئے کنویں سے بھی پانی نہ مل سکا.[68]

بھائیوں کو جنگ کے لئے روانہ کرنا

ابوالفضل عباس(ع) نے ہاشمی اور غیر ہاشمی شہیدوں کے بےجان جسموں کو دیکھا تو اپنے بھائیوں ("عثمان، جعفر اور عبداللہ") کو بلایا اور فرمایا: "اے بھائیو! قدم بڑھاؤ تا کہ خدا اور رسول خدا(ص) کی راہ میں تمہاری جانفشانی کا مشاہدہ کروں چنانچہ انھوں نے میدان میں جاکر دلیری کے ساتھ لڑ کر جام شہادت نوش کیا.[69]

شجاعت اور جوانمردی کا مظاہرہ

میدان جنگ میں آپ کو تین افراد کا سامنا کرنا پڑا؛ پہلے شخص کا نام "مارد بن صُدَیف" تھا جس نے نیزے سے آپ پر حملہ کیا. عباس(ع) نے اس کے نیزہ کی انّی پکڑ لی اور نیزہ اس کے ہاتھ میں گھما کر اس سے چھین لیا اور اسی نیزے سے اس کو ہلاک کر ڈالا. [70]

دوسرا شخص "صَفوان بن ابطح" تھا جو پتھر اور نیزہ پھینکنے کا ماہر تھا. وہ چند لمحے لڑنے کے بعد زخمی ہوا تاہم حضرت عباس(ع) نے اس کو اپنے حال پر چھوڑ کر اس کو نئی زندگی دی.

تیسرا شخص "عبد اللہ بن عقبہ غنوی" تھا. آپ اس کے باپ کو جانتے تھے اور اس کو نہیں مارنا چاہتے تھے چنانچہ فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں معلوم نہ تھا کہ جنگ میں تیرا مجھ سے واسطہ پڑ سکتا ہے؛ میرے والد کے تمہارے باپ پر احسانات ہیں، ان ہی احسانات کے واسطے مجھ سے لڑنے سے پرہیز کرو مگر وہ نہ مانا اور جب جنگ شروع ہوئی تو اس کو اپنی موت نظر آنے لگی چنانچہ اس نے میدان چھوڑ کر بھاگ نکلنے میں عافیت سمجھی اور شکست کھا کر رسوا کن انداز سے فرار ہوگیا. [71] بھاگتے ہوئے دشمن کا تعاقب ویسے بھی مکتب علی(ع) میں عار سمجھا جاتا تھا.

شہادت

تاریخ نگاروں نے حضرت عباس(ع) کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں:

شیخ مفید اس بارے میں فرماتے ہیں:

"عباس بن علی -خدا ان پر رحمت فرمائے- نے جب دیکھا کہ بہت سارے اصحاب حسینی شہید ہو چکے ہیں تو اپنے بھائیوں عبداللّہ، جعفر اور عثمان سے فرمایا: اے میری ماں کے بیٹو! آپ لوگ مجھ سے پہلے میدان میں چلے جائیں تاکہ میں خدا اور اس کے رسول کیلئے آپ لوگوں کا اخلاص دیکھ سکوں ہے کیوںکہ آپلوگوں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس موقع پر عبداللہ میدان میں گیا اور نہایت شدید جنگ کی یہاں تک کہ وہ اور ہانی بن ثبیت حضرمی کے درمیان ضربات کا رد و بدل ہوا اور ہانی نے انہیں شہید کردیا۔ اس کے بعد حعفر بن علی ابن ابی طالب آگے آیا تو ہانی نے انہیں بھی شہید کردیا اور جب عثمان اپنے بھائیوں کی جگہ آیا تو خولی بن یزید اصبحی اس کے جان کے در پی ہوا اور اس کی جانب ایک تیر رسید کیا جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر گئے اس کے بعد قبیلہ بنی دارم سے ایک شخص نے ان پر حملہ کیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ اس موقع پر عمر ابن سعد کے سپاہیوں نے خیمہ گاہ حسینی پر حملہ کیا اور امام مغلوب ہوئے اور جب پیاس کی شدت بڑی تو امام فرات کی جانب رخ کیا اس موقع پر آپ کے بھائی عباس بھی آپ(ع) کے ساتھ تھے۔ عمر سعد کی فوج نے ان کا راستہ روک لیا اس وقت ان کے درمیان سے قبیلہ بنی دارم کے ایک شخص نے کہا: وای ہو تم لوگوں پر انہیں فرات تک پہنچنے سے منع کرو اور وہاں پہنچنے نہ دو۔ امام حسین(ع) نے فرمایا: خدایا اسے پیاسے ہلاک فرما وہ شخص غصے میں آیا اور امام(ع) کی طرف ایک تیر پھینکا جو امام(ع) کے تھوڈی کے نیچے جا لگا۔ امام حسین(ع) نے تیر کو باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں کو تھوڈی کے نیچے لے آیا تو آپ کا ہاتھ خون سے بھر گیا امام نے خون کو زمین پر گرایا اور فرمایا: خدایا تیرے نبی زادی کے بیٹے کی ساتھ یہ امت جو کچھ کر رہا ہے اس کے بارے میں، میں تیری بارگاہ میں شکایت کرتا ہوں۔ اس کے بعد دوبارہ اپنی جگہ واپس آیا حالنکہ پیاس نے آپ پر غلبہ کیا تھا۔ عمر سعد کی فوج نے حضرت عباس کو ہر طرف سے محاصرہ کیا اور اسے امام حسین(ع) سے جدا کیا۔ عباس تنھائی ان سے جنگ کیا یہاں تک کہ شہید ہوا۔ زخموں کی کثرت کی وجہ سے جب آپ میں حرکت کرنے کی سکت باقی نہ رہی تو زید بن ورقاء حنفی اور حکیم بن طفیل سنبسی حضرت عباس(ع) کو شہید کردیا۔" [72]

خوارزمی کہتے ہیں: عباس(ع) میدان کارزار میں اترے اور رجز خوانی کرتے ہوئے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے اور متعدد دشمنوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے۔ اس وقت امام(ع) بھائی کے سرہانے حاضر ہوئے اور فرمایا:

الآن انْكَسر ظهری وقَلّت حيلتي؛ (ترجمہ: اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے سہارا ہوگیا).[73]

سید ابن طاووس (سید رضى الدین، على بن موسى بن جعفر بن طاووس الحسنی)، اور ابن نما حلی (نجم الدین، جعفر بن محمد بن جعفر بن هبة الله بن نما حلی) نے لکھا ہے کہ جب پیاس نے امام حسین(ع) کو ستایا تو آپ بھائی عباس(ع) کے ساتھ فرات کی طرف روانہ ہوئے. دشمن بھائیوں کے بیچ حائل ہوا اور حضرت عباس(ع) اسی اثناء میں شہید ہوئے.[74]

ابن شہر آشوب نے آپ کی شہادت کے بارے میں لکھا ہے: "عباس، سقّا، قمر بنی ہاشم اور علمدار امام حسین(ع) جو اپنے دوسرے سگے بھائیوں سے بڑے تھے، پانی کے حصول کے لئے باہر نکلے. دشمن نے آپ پر حملہ کیا. جنگ کے بعد کمزوری آپ پر طاری ہوئی اسی اثناء میں ایک درخت کے اوٹ میں گھات لگائے حکیم بن طفیل سنبسی نے آپ کے داہنے ہاتھ پر وار کیا تو آپ نے کہا:

خدا کی قسم! اگر تم میرا دایاں ہاتھ کاٹو پھر بھی؛ میں یقینا اپنے دین کی حمایت ابد تک جاری رکھوں گا؛ اور صادق الیقین امام(ع) کی حمایت؛ جو پاک و طاہر و نبيِ امین(ص) کے فرزند ہیں؛ جاری رکھوں گا.[75]

تھوڑی دیر بعد دوسری ضربت آپ کے بائیں ہاتھ پر لگی.[76] اس دوران عباس نے رجز کے طور پر یہ اشعار پڑھے:

اے میری جان کافروں سے خوفزدہ نہ ہونا، میں تجھے پیغمبر اکرم(ص) کی مصاحبت کی بشارت دیتا ہوں، انھوں نے ظلم و ستم کرکے میرا بایاں ہاتھ قلم کردیا، اے میرے پروردگار! انہيں دوزخ کی کڑکڑاتی آگ میں پھینک دے.

اس کے بعد ایک ملعون نے [77] (حکیم بن طفیل) نے آہنی عمود کا وار کرکے حضرت عباس کو شہید کردیا.[78]

عباس بن علی بن ابی طالب(ع)، سید الشہداء(ع) کے اصحاب اور آل ابی طالب کے آخری شہید تھے اور آپ کے بعد آل ابی طالب کئی نہتے بچے شہید ہوئے ہیں.[79] شہادت کے وقت حضرت عباس(ع) کی عمر 34 سال سے کچھ زيادہ تھی.[80]

متعلقہ مآخذ

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. محسن امین، وہی ماخذ، ص429/شیخ عباس قمی، نفس المہموم، ص285.
  2. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص254، / مقاتل الطالبین، ص‏89
  3. عمدۃ الطالب، ص‏280
  4. مجلسی، بحارالانوار، ج 101، ص 330
  5. ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص90/ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص254.
  6. باقرشریف قرشى، زندگانى حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام، فارسی ترجمہ از سید حسن اسلامی.
  7. العباس بن ‏علی(ع)، ص 30
  8. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  9. بطل العلقمی، ج 2، ص 108 -109
  10. قمر بنی ‏ہاشم، ص‏19/ مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 60
  11. وہی ماخذ
  12. محسن امین العالملی، اعیان الشیعہ، ج7، ص429-الطبری، محمد بن جریر؛ تاریخ الأمم و الملوک(تاریخ الطبری، ج5، صص412-413؛ ابوالفرج الاصفہانی، وہی ماخذ، صص117-118 /عمدۃ الطالب، ص‏280
  13. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  14. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  15. ابوالفرج الاصفہانی، وہی ماخذ، ص 124.
  16. شیخ عباس قمی، مفاتيح الجنان، الْمَطْلَبُ الثّاني في زِيارَۃ الْعَبّاسِ بْن عَلىّ بْن اَبي طالِب(عليهم السلام).
  17. عمدۃ الطالب، ص‏280.
  18. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  19. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  20. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  21. باقرشریف قرشى، وہی ماخذ.
  22. جواد محدثی، مقالہ بعنوان: حضرت اباالفضل العباس(علیه السلام).
  23. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص254 سید محسن امین، اعیان الشیعه، ج‏7، ص‏429.
  24. یہ جملہ بعض جگھوں پر عربی ضرب المثل قرار دیا گیا ہے لیکن وسائل الشیعہ میں منقولہ روایت اس کی تصدیق کرتی ہے: امام صادق(ع) نے فرمایا: "إذا أتى للمولود سبعة أيّام سمّي بالاسم الّذي سمّاه الله عزّوجلّ به". (ترجمہ: نومولود کی ولادت کے ساتویں دن بچے کو وہی نام دیا جاتا ہے جو اللہ عزّ و جلّ نے اس کو عطا کیا ہے). الوسائل : ج 15 ص 150 ح 4.
  25. ارشاد الہی ہے: "مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ ". (ترجمہ: محمد اللہ کے پیغمبر ہیں اور وہ جو ان کے ساتھی ہیں، کافروں کے مقابلے میں سخت ، آپس میں بڑے ترس والے ہیں) سورہ الفتح (48) آیت 29. ترجمہ، سید علی نقی (نقن).
  26. باقرشریف قرشى / گزیده اى ازکتاب زندگانى حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام.
  27. نفس المهموم، شيخ عباس قمى، قم، مكتبة بصيرتى، 1405 ق.، ص 332.
  28. اعيان الشيعه، سيد محسن امين، بيروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1406 ق.، ج7، ص429.
  29. خصائص العباسية، محمدابراهيم كلباسى، مؤسسة انتشارات خامه، 1408 ق.، صص 119 و 120.
  30. علي بن الحسين الہاشمي النجفي، ثمرات الاعواد، ج1 ص105./ مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 62.
  31. السيّد عبد الرزّاق الموسوي المُقرّم، العباس عليه السلام، ص94.
  32. فرسان الہیجاء، ج 1، ص 190/ مستدرک وسائل الشیعہ، ج‏3، ص 815.
  33. جامع أحادیث الشیعۃ، ج‏26، ص867.
  34. قمر بنی ‏ہاشم، ص‏19/ مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 60
  35. مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 60
  36. وہی ماخذ، ص‏63
  37. بطل العلقمی، ج 2، ص‏6
  38. وسیلۃ الدارین، ص‏269/ مولد العباس بن‏ علی (ع)، ص 64.
  39. معالی السبطین، محمد مهدی حائری مازندرانی، ج1، ص437
  40. سید عبدالرزاق الموسوی المقرم، العباس علیہ ‏السلام، ص153؛ کبریت الاحمر، محمدباقر بیرجندی، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، 1377 ق.، ص385. مروی ہے کہ ابو الشعثاء نے انتہائی غیظ و غضب کی حالت میں نکل کر رجز خوانی کرتے ہوئے نکلا اور کہا: اے نوجوان تم نے میری پوری اولاد کو قتل کیا خدا کی قسم میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہاری عزا میں بٹھا دوں گا. چنانچہ لڑا اور مارا گیا اور جب یہ نقاب پوش نوجوان واپس لشکرگاہ میں آیا تو امیرالمؤمنین(ع) نے اس کے چہرے سے نقاب ہٹایا اور سب نے دیکھا کہ وہ عباس بن علی(ع) تھے.(رجوع کریں: العباس، ص 275؛ معالی السبطین، ص 267؛ فرسان الهیجاء، ج 1، ص 193).
  41. سپهسالار عشق، ص47
  42. کامل الزیارات، ص786
  43. البخاری، وہی ماخذ، ص90
  44. عبدالرزاق المقرم، العباس(ع)، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195.
  45. ابن صوفی نسابہ، وہی ماخذ، ص436. السید عبد المجید الحائری، ذخیرۃ الدارین، نجف، مطبعۃ المرتضویۃ، 1345 ق، ج 1، ص 145 ؛ وسیلۃ الدارین، ص 278.
  46. عبدالرزاق المقرم، العباس(ع)، نجف، مطبعۃ الحیدریۃ، بی تا، ص 195.
  47. بطل العلقمی، ج 3، ص 429.
  48. سید محسن امین العاملی، اعیان الشیعۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 610.
  49. نسب قریش، ج 1، ص 32 ؛ العباس(ع)، ص 198.
  50. محمد تقی سپہر، ناسخ التواریخ، تہران، كتاب فروشی اسلامیہ، 1368 ش، ج 1، ص 279.
  51. ابن صوفی نسابہ، وہی ماخذ، صص436 و ابن عنبہ، وہی ماخذ، ص328.
  52. ابن عنبہ، وہی ماخذ، ص 281.
  53. ابی نصر، سر السلسلۃ العلویۃ، ص90؛ ابن عنبہ، وہی ماخذ، صص 281و282
  54. خصال شیخ صدوق، ج 1، ص 68. نیز دیکھئے: [امام کا بہترین ماموم عباس علمدار علیہ السلام].
  55. ابن عنبہ؛ عمدۃ الطالب، ص280 / محسن امین، وہی ماخذ، ص430.
  56. محمد باقر مجلسی، ج45 ص66. عبدالواحد المظفر، بطل العلقمی، ج 2، ص 311
  57. کامل الزیارات ص786
  58. امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا: میں نے اپنے بھائی اور صحابی رسول(ص) عثمان بن مظعون (متوفی' سنہ 3ہجری]] کے نام کے سبب اپنے بیٹے کا نام عثمان رکھا. رجوع کریں: ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص 84.
  59. ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94 و حائری، محمد مہدی، معالی السبطین، ج1، ص433/ ابی مخنف، وقعۃ الطف، ص 220و219.
  60. تاریخ‏ الطبری، ج5، ص412/ تذکرۃ الخواص، 152/ اعیان‏ الشیعہ، ج7، ص430و مقاتل ‏الطالبیین، ص78/ ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص92
  61. ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبيين ص 59. محمد باقر مجلسی، بجار الانوار ج45 صص41 و42.
  62. عمر بن سعد کی دنیا پرستی کا قصہ متواتر ہے چنانچہ وہ رے اور ہمدان کی حکومت پانے کے لئے کربلا آیا تھا اور اس کے اس اقدام کے کوئی دینی اور مذہبی محرکات نہ تھے. چنانچہ وہ نہ اپنے آپ کو اور نہ ہی اپنے لشکر کو اللہ کا لشکر نہیں سمجھتا تھا لیکن اموی روایت کی پیروی کرتے ہوئے اس نے اپنی سپاہ کو جنت کی بشارت دی جبکہ اس کو اپنے اور اپنی سپاہ کے انجام بخیر نہ ہونے کا یقین تھا. روایت ہے کہ جب ابن زياد نے اس کو امام حسین(ع) کے قتل کا حکم دیا تو اس نے ابتداء میں انکار کیا لیکن جب ابن زياد نے دھمکی دی کہ اسے رے اور ہمدان کی حکومت نہ ملے گی [یا بروایتے اگر اطاعت کرے تو اسے رے و ہمدان کی حکومت ملے گی] تو اس نے سرتسلیم خم کیا کاتب رجوع کریں: واقدی، محمد بن سعد بن منیع‏، الطبقات الکبری‏، ج 5، ص 128، دار الکتب العلمیة، بیروت، چاپ دوم، 1418ہجری.
  63. الإرشاد، ص335/ مناقب آل‏ ابی ‏طالب، ج4، ص98/ بحارالأنوار، ج44، ص391/طبرسی، اعلام الوری، ج1ص454و455/ تاریخ الطبری، ج5، ص416/ اعیان الشیعة، ج7، ص430/ سید عبدالرزاق مقرم لکھتے ہیں: امام حسین(ع) نے حضرت ابوالفضل(ع) سے کہا: اس قوم سے کہہ دو کہ شب عاشورا مجھے مہلت دے کیونکہ خدا جانتا ہے کہ "إني أُحِبُّ الصلوة له" یعنی میں اس کی بارگاہ میں نماز کو دوست رکھتا ہوں؛ اور امام حسین(ع) اور اصحاب و انصار نیز حرم کی خواتین نے وہ رات اللہ کی عبادت میں گذاری. رجوع کریں: سید عبدالرزاق مقرم موسوی، مقتل الحسين(ع)، ص256.
  64. بحرالعلوم، مقتل ‏الحسین(ع)، ص314/ معالی‏ السبطین، ج1، ص443.
  65. مقتل ‏الحسین(ع) بحرالعلوم، ص314/ کبریت الأحمر، ص386/ بطل ‏العلقمی، ج1، ص97
  66. شیخ مفید، الارشاد، ص338/بحارالأنوار، ج 45، ص4/ تذکرۃ‏الخواص، ج2ص161 / طبرسی، اعلام الوری، ج1، ص457/الأخبارالطوّال، ص25
  67. تاریخ ‏الطبری، ج5، ص446/ الکامل ‏فی‏ التاریخ، ج3، ص293/ اعیان ‏الشیعۃ، ج7، ص430/ معالی‏ السبطین، ج1، ص443‏
  68. ینابیع ‏المودۃ، ج2، ص340/ مقتل‏ ابی ‏مخنف، ص57/ بطل ‏العلقمی، ج2، ص357.
  69. بحارالأنوار، ج45، ص38/ مقاتل‏ الطالبیین، ص54/ اعلام الوری، ج1، ص466/ الإرشاد، ص 348. نیز رجوع کریں: [ابوالفضل العباس کا مقتل امام خامنہ ای کے زبانی].
  70. کبریت الأحمر، ص387.
  71. کبریت الأحمر، ص387.
  72. مفید، ارشاد، ج۱، ترجمہ: موسوی مجاب، حسن، قم: سرور، ۱۳۸۸، ص۴۱۲-۴۱۱؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۱۰-۱۰۹.
  73. الخوارزمی، الموفق بن احمد؛ مقتل الحسین(ع)، ج2، ص34/حادثہ کربلا در مقتل مقرم، ص262.
  74. سید بن طاؤس؛ اللہوف، صص117-118 و حلی، ابن نما؛ مثیر الاحزان، ص257.
  75. لواعج الأشجان، ص179 و معالم المدرستین ج3ص130.
  76. عبدالرزاق موسوی مقرم، حادثہ کربلا در مقتل مقرم، ص262
  77. بحار الانوار ج45 ص41 پر لفظ مکتوب ہے:"فضربہ ملعون بعمود من حديد" یعنی پس "ایک ملعون" نے آہنی عمود کا وار کرکے آپ کو شہید کیا اور ابن شہرآشوب، نے مناقب آل ابی طالب(ع) میں لکھا ہے: "فقتلہ الملعون بعمود من حديد" پس "اس ملعون" نے آہنی عمود سے آپ کو شہید کردیا اور قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ "وہ ملعون" سے مراد "حکیم بن طفیل" ہی ہے.
  78. ابن شہرآشوب، وہی ماخذ، ج4، ص108
  79. ابومخنف، وہی ماخذ، ص180 و الاصفہانی، ابوالفرج؛ مقاتل الطالبیین، ص89.
  80. ابن عنبہ؛ عمدۃ الطالب فی انساب آل ابیطالب، ص280 و طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، ص395.حضرت عباس کے مصائب کے لئے رجوع کریں: [شہ ملک وفا، حضرت عباس (ع) کے مصائب].

مآخذ

  • بروجردی، آقا حسین عدہ‌ای از فضلاء، منابع فقہ شیعہ (ترجمہ جامع أحادیث الشیعۃ )، انتشارات فرہنگ سبز، تہران‏، 1386 ق‏، نوبت چاپ: اول‏
  • حلی، ابن نما، مثیر الاحزان، ترجمہ علی کرمی، قم، نشر حاذق، اول، 1380 ش
  • الناصری، مولد العباس بن‏ علی(ع)،
  • ابن قولویہ قمی، کامل الزیاراۃ، ترجمہ محمد جواد ذہنی تہرانی، تہران، انتشارات پیام حق، دوم، 1377ش
  • المقرم، عبدالرزاق، حادثہ کربلا در مقتل مقرم، ترجمہ محمد جواد مولائی نیا، قم، انتشارات جلوہ کمال، سوم، 1387ش
  • ابی نصر؛ سر السلسلۃ العلویہ، تحقیق محمد صادق بحر العلوم، نجف، المکتبۃ الحیدریہ، 1382ق/1963م
  • الطبری، محمد بن جریر؛ تاریخ الأمم و الملوک(تاریخ الطبری )، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، 1967،
  • ع‍ب‍دال‍واح‍د ال‍م‍ظف‍ر، ل‍ع‍ب‍اس‌ الاک‍ب‍رب‍ن‌ الام‍ام‌ ام‍ی‍رال‍م‍وم‍ن‍ی‍ن‌ ع‍ل‍ی‌ب‍ن‌ اب‍ی‌طال‍ب‌ ع‍ل‍ی‍ہ‍م‍اال‍س‍لام‌
  • سید محسن امین، اعیان الشیعہ
  • حسنی، ابن عنبہ؛ عمدۃ الطالب فی انساب آل ابیطالب، قم، انصاریان، 1417
  • العباس علیہ ‏السلام، ص153؛
  • کبریت الاحمر، محمدباقر بیرجندی، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، 1377
  • طبرسی؛ فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الہدی، قم، موسسۃآل البیت لاحیا التراث، 1417 ق
  • شیخ صدوق، خصال، تحقیق علی اکبرغفاری، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، الاولی، 1410/1990
  • الاصفہانی، ابوالفرج؛ مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1408ق/1987م
  • خصائص العباسیہ
  • سید بن طاوس؛ اللہوف، تہران، جہان، 1348ش،
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء1403ق/1983م
  • کبریت الاحمر، محمدباقر بیرجندی، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، 1377 ق.
  • شیخ عباس قمی، نفس‏ المہموم، ترجمہ ابوالحسن شعرانی، ہجرت، سوم، 1376
  • بحرالعلوم، مقتل ‏الحسین(ع)،
  • موسوعۃ کلمات الحسین علیہ‌السلام،
  • الخوارزمی، الموفق بن احمد؛ مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، انوار الہدی، الاولی، 1418ق
  • شیخ مفید، الارشادفی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، الناشر سعید بن جبیر، الاولی، 1428ق
  • ابی مخنف، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، تحقیق ہادی یوسفی غروی، المجمع العالمی لاہل البیت، 1427ق
  • قمر بنی ‏ہاشم
  • ابی عنبۃ الاصغر، کتاب عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، القاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، 1421ق/2001
  • سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، تحقیق حسین تقی زادہ، مرکز الطباعۃ و النشر للمجمع العالمی لاہل البیت، الاولی، 1426ق
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، بیروت، دار الاضواء، بی‌تا
  • الکوفی، ابن اعثم؛ الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، 1411ق/1991م
  • حائری مازندرانی، محمد مہدی، معالی السبطین، بیروت، مؤسسۃ النعمان، 1412ق/1992م
  • الدینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود؛ الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات رضی، 1368ش
  • ابن شہرآشوب؛ مناقب آل ابیطالب، قم، علامہ، 1379ق
  • لقمانی، احمد، سپہ سالارعشق