عمر بن سعد بن ابی وقاص

ویکی شیعہ سے
(عمر بن سعد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمر بن سعد بن ابی وقّاص یا عمر سعد یا ابن سعد (ہلاکت سنہ 65 یا 66 یا 67 ہجری قمری/684 یا 685 یا 686عیسوی)، واقعہ کربلا میں عبیداللہ بن زیاد کا امیرِ سپاہ تھا۔ وہ رے کی حکومت کے شوق میں 4000 افراد کا لشکر لے کر کربلا پہنچا، اس نے امام حسین(ع) کی شہادت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ابن سعد نے امام(ع) کے خلاف جنگ میں اپنی سنجیدگی کا اظہار کرنے کے لئے، سب سے پہلا تیر خیام امام حسین(ع) کی طرف پھینکا۔ اس نے امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کی شہادت کے بعد حکم دیا کہ ان کے جسموں پر گھوڑے دوڑائے جائیں۔ ابن سعد واقعۂ عاشورا کے بعد رے کی حکومت حاصل نہ کرسکا اور سنہ 66 ہجری قمری میں مختار ثقفی کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔


نسب اور پیدائش

عمر بن سعد بن ابی وقاص بن مالک بن وہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ زہری مدنی ابن سعد کے نام سے معروف ہے۔

اس کی تاریخ پیدائش واضح نہیں ہے؛ بعض مؤرخین کے مطابق وہ رسول اللہ(ص) کے زمانے میں پیدا ہوا جبکہ دوسروں نے لکھا ہے کہ عمر سعد عمر بن خطاب کے قتل کے سال (سنہ 23 ہجری قمری/ 644 عیسوی) میں پیدا ہوا ہے۔[1] چونکہ طبری کے بقول[2] اس نے بسال 17 ہجری قمری / 638 عیسوی، اپنے باپ سعد بن ابی وقاص کے ساتھ فتح عراق میں شرکت کی ہے اور اس وقت وہ لڑکپن کی عمر سے گذر رہا تھا اور حتی کہ اس کو باپ کی طرف سے رأس العین کی فتح کا ہدف دیا گیا ہے، لہذا اس کی ولادت کے سلسلے میں پہلا قول درست ہونا چاہئے۔

الميۂ کربلا سے قبل

باپ کا دعوی خلافت کی ترغیب دلانا

سنہ 37 ہجری قمری / 657عیسوی، میں ـ جب دومۃ الجندل میں امیرالمؤمنین(ع) اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان حکمیت کا واقعہ رونما ہوا ـ اس نے سپاہ امیرالمؤمنین(ع) اور معاویہ کے درمیان اختلافات کا مشاہدہ کیا تو اپنے باپ کے پاس پہنچا اور اس کو خلافت کا دعوی کرنے کی ترغیب دلائی لیکن اس کے باپ نے انکار کیا۔[3]

حجر بن عدی کے خلاف جھوٹی گواہی

عمر بن سعد نے سنہ 51 ہجری قمری / 671 عیسوی میں زیاد بن ابیہ کی درخواست پر دوسرے افراد کے ساتھ مل کر [صحابی رسول(ص)] جناب حجر بن عدی کے خلاف جھوٹی گواہی دی کہ وہ فتنہ انگيزی کی نیت سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور [[کافر ہوچکے ہیں۔ یہی گواہی معاویہ کے لئے دستاویز بنی اور اس نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو مرج العذراء کے مقام پر شہید کیا۔[4]

امام حسین(ع) کی ہجرت مکہ کی روایت

خوارزمی نے ابن اعثم کوفی کے حوالے سے لکھا ہے کہ "امام حسین(ع) نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے مدینہ سے [ہجرت]] کی اور مکہ میں پناہ لی، عمر بن سعد، امیر [یا شاید مکہ کا امیر الحاج] تھا۔ اور جب اس نے حجاج بیت اللہ کی طرف سے امام حسین(ع) کا استقبال اور آپ(ع) کی طرف لوگوں کے رجحان کا مشاہد کیا تو وہ مدینہ چلا گیا اور یزید کو خط لکھا اور اس کو امام(ع) کی مکہ آمد کی خبر دی۔ (واضح رہے کہ ابن اعثم کی موجودہ تاریخ میں یہ روایت موجود نہیں ہے اور گویا جو نسخہ خوارزمی کے پاس تھا وہ موجودہ نسخوں سے مختلف تھا)۔[5]

مسلم بن عقیل کے ساتھ خیانت

مفصل مضمون: مسلم بن عقیل

جب مسلم بن عقیل امام حسین(ع) کے نمائندے کی حیثیت سے سنہ 60 ہجری قمری/ 680 عیسوی میں کوفہ پہنچے تا کہ امام(ع) کے لئے کوفیوں سے بیعت لیں تو ابن سعد نے بھی بعض دوسرے اشراف کی طرح یزید کو خط لکھا اور تجویز دی کہ اگر کوفہ کو بچانا چاہتا ہے تو اپنے والی نعمان بن بشیر کو برطرف کرے۔[6] جب مسلم بن عقیل کو عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر گرفتار کئے گئے تو مسلم نے رازداری میں ابن سعید کو وصیت کی لیکن ابن سعد نے ابن زیاد کو ان کی وصیت سے آگاہ کیا اور مسلم کے ساتھ خیانت کی۔[7]

کربلا میں موجودگی

مفصل مضمون: حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک

تاریخ میں ابن سعد کی شہرت وجہ کربلا کے خونی واقعے میں اس کی شرکت ہے جس میں امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب شہید ہوئے۔ اس واقعے نے ابن سعد کو تاریخ کے قابل نفرت چہروں میں قرار دیا۔

عبیداللہ بن زیاد کی کوفہ آمد کے بعد، ابن سعد ـ جس کو رے اور دَسْتبی[8]۔[9] کی حکومت سونپ دی گئی تھی اور مامور تھا کہ دیلمیوں کی شورش کو کچل دے[10] 4000 افراد کے لشکر کے ساتھ ـ جو کوفہ کے باہر خیمہ زن تھا ـ رے کی طرف عزیمت کے لئے تیار تھا لیکن کوفہ کی طرف امام حسین(ع) کی عزیمت کی خبر ابن زیاد کو ملی تو وہ مجبور ہوا کہ ابن سعد کو امام(ع) کا مقابلہ کرنے کے لئے کربلا روانہ کرے۔ ابن سعد نے ابتداء میں حکم ماننے سے انکار کیا لیکن ابن زیاد نے اس کو دھمکی دی کہ اگر امام(ع) کا مقابلہ نہ کیا تو اس کو رے کی حکومت کا فرمان واپس کرنا پڑے گا چنانچہ اس نے سر تسلیم خم کیا اور اپنے ماتحت سپاہیوں کے ہمراہ[11] کربلا کی جانب روانہ ہوا۔

امام حسین(ع) کے لئے ایلچی بھیجنا

ابن سعد بروز جمعہ 2 یا 3 محرم سنہ 61 ہجری قمری/ 680 عیسوی کو کربلا روانہ ہوا اور قرہ بن قیس حنظلی کو امام حسین(ع) کے پاس روانہ کیا تا کہ امام(ع) سے پوچھ لے کہ آپ(ع) عراق آئے ہیں؟

امام حسین(ع) نے جواب دیا: "مجھے کوفہ کے لوگوں نے دعوت دی ہے اسی بنا پر میں عراق آیا ہوں، اب اگر وہ اپنی دعوت پر استوار نہیں ہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں"۔

ابن سعد نے امام(ع) کا جواب ایک خط کے ضمن میں عبیداللہ بن زیاد کے لئے لکھا، تاہم عبیداللہ کے حاشیہ برداروں ـ منجملہ شمر بن ذی الجوشن اور دیگر نے جو جنگ کے حامی تھے ـ ابن سعد کو امام(ع) کے سامنے نرمی برتنے سے منع کیا اور ابن زیاد نے ابن سعد کو ـ جو کہ ابتداء میں اس موضوع کو مصالحت کے ذریعے فیصلہ دینا چاہتا تھا ـ لکھا کہ "یا حسین(ع) کے ساتھ جنگ کرے یا سپاہ کوفہ کی امارت شمر بن ذی الجوشن کے سپرد کر دے"،[12]۔[13]۔[14] لیکن ابن سعد نے اس خط کے جواب میں شمر سے کہا: "میں خود سپاہ کا امیر ہونگا اور امام حسین(ع) کے ساتھ لڑوں گا"؛ اور پھر یہ واضح کرنے کے لئے کہ وہ امام(ع) کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے پر عزم ہے، اس نے سب سے پہلا تیر امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کی طرف پھینکا۔[15]

شہداء کے جسموں کی پامالی

ابن سعد نے امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کی شہادت کے بعد حکم دیا کہ ان کے جسموں پر گھوڑے دوڑائے جائیں اور انہیں پامال کیا جائے[16] اور 12 محرم کو اس نے اپنی سپاہ کے ہالکین کو دفنا دیا، خاندان حسین(ع) کو اسیر بنایا اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا[17] اور جب عبیداللہ بن زیاد کے پاس پہنچا تو ابن زیاد نے کہا کہ امام حسین(ع) کے ساتھ جنگ کے سلسلے میں اس کا بھیجا ہوا خط واپس دے۔ ابن سعد نے دعوی کیا کہ وہ خط کہیں جل کر ضائع ہوچکا ہے۔ ابن زیاد نے کہا: میں وہ خط تم سے لے کر رہوں گا۔[18]

ابن سعد نے ـ جو ہر طرف سے مایوس ہوچکا تھا ـ اپنی حالت کو یوں بیان کیا ہے: "کوئی بھی مجھ سے بد تر حالت میں اپنے گھر کو نہیں پلٹا، کیونکہ میں ایک فاجر اور ظالم امیر کی اطاعت کرچکا ہوں اور عدل کو پامال کرچکا ہوں اور اپنی قرابت کے رشتوں کو منقطع کرچکا ہوں"۔[19]

ہلاکت

پہلی روایت

ابن سعد ـ امام حسین(ع) کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لئے سلیمان بن صُرَد خزاعی کوفی کی تحریک (سنہ 65ہجری قمری /684عیسوی) کے ایام میں اپنی جان کے خوف سے ـ راتوں کو دارالامارہ میں سویا کرتا تھا[20] اور اسکے بعد مختار بن ابی عبیدہ ثقفی نے سنہ 66ہجری قمری/685عیسوی میں امام حسین(ع) کی خونخواہی کی نیت سے قیام کیا اور کوفہ پر مسلط ہوئے تو ابن سعد محمد بن اشعث کے ساتھ ـ جو خود بھی جنگ کربلا میں شرکت کرچکا تھا ـ کوفہ سے فرار ہوکر چلا گیا۔[21] لیکن کوفیوں نے مختار کے خلاف بغاوت کی تو وہ کوفہ واپس آیا اور مختار کے دوسرے مخالفین کے ساتھ مل کر باغیوں کی قیادت کرنے لگا تاہم باغیوں کو شکست ہوئی تو وہ پھر بھی کوفہ چھوڑ کر بھاگ گیا اور بصرہ کی طرف چلا گیا تاکہ مصعب بن زبیر کے ہاں پناہ لے۔ مختار نے اپنے ایک سپہ سالار ابوقلوص شبامی کو ابن سعد اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب میں روانہ کیا۔ اس نے ابن سعد کو گرفتار کرکے مختار کے سامنے پیش کیا، اور ابن سعد اور اس کے بیٹے حفص بن عمر بن سعد ـ جو مجلس میں حاضر تھا ـ کو مختار کے حکم پر ہلاک کیا گیا۔ مختار نے ان کے جسموں کو آگ میں جلایا اور اور ان کے سروں کو مدینہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس بھجوایا۔[22]۔[23]

دوسری روایت

دوسری روایت میں منقول ہے کہ ابتداء میں مختار نے عبداللہ بن جعدہ بن ہبیرہ مخزومی کی شفاعت پر ابن سعد کو امان نامہ دیا،[24] کیونکہ مختار کی بیٹی یا بروایتے مختار کی بہن عمر بن سعد کی بیوی تھی؛[25] لیکن محمد بن حنفیہ نے مختار سے احتجاج کیا تو انھوں نے اپنی سپاہ کے ایک امیر کو حکم دیا کہ عمر سعد کو اس کے گھر سے گرفتار کرکے اس کا سر قلم کردے۔ جب عمر کا سر مختار کی مجلس میں لایا گیا تو اس کے بیٹے حفص بن عمر کو بھی ـ جو مختار کی مجلس میں موجود تھا ـ کو بھی ہلاک کیا گیا۔[26]

اہل سنت کے ہاں اس کے وثوق پر اختلاف

ابن سعد نے اپنے باپ سعد[27] اور ابو سعید خدری سے روایت کی ہے[28]، اور اس کے بیٹے ابراہیم، اس کے پوتے ابوبکر بن حفص، ابوالخطاب بصری، قتادہ بن دعامہ سدوسی، محمد بن مسلم بن شہاب زہری، ابواسحق سبیعی ہمدانی اور عمرو بن عبداللہ نے اس سے روایت کی ہے۔[29]۔[30]

عجلی نے اس کو ثقات میں شمار کیا ہے۔[31]

لیکن ابن ابی حاتم رازی[32] نے نقل کیا ہے کہ یحیی بن معین نے کہا ہے کہ: کیونکر ممکن ہے کہ حسین بن علی(ع) کے قاتل کو ثقہ گردانا جاسکے؟

ابن حجر نے ایک طرف سے اپنی کتاب تقریب التہذیب میں اس کو "صدوق" قرار دیا ہے[33] تو دوسری طرف سے تہذیب التہذیب میں[34] لکھا ہے کہ جو محدثین عمر بن سعد سے روایت نقل کرتے تھے انہیں راویوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اولاد

حفص، جو اپنے باپ کے ساتھ کربلا میں حاضر تھا اور مختار کے ہاتھوں مارا گیا۔

محمد جس نے عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کے ساتھ مل کر حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی اور مارا گیا۔ محمد کا بیٹا اسمعیل مدینہ کے فقہاء میں شمار کیا جاتا تھا۔

عامر، جس سے اہل سنت کے منابع حدیث میں بعض احادیث نقل ہوئی ہیں اور وہ سنہ 140 ہجری قمری میں انتقال کرگیا۔

مصعب، جس سے اہل سنت کے منابع حدیث میں بعض احادیث نقل ہوئی ہیں اور وہ سنہ 13ہجری قمری میں انتقال کرگیا۔

اور موسی۔[35]

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. ابن حجر، تهذیب التهذیب، ج7 ص451۔
  2. طبری، تاریخ، ج5 ص534 ۔
  3. طبری، تاریخ، ج5 ص67۔
  4. طبری، تاریخ، 5/269، 272-276۔
  5. خوارزمی، مقتل الحسین، ج1،ص190۔
  6. طبری، تاریخ، تاریخ، ج5 ص356۔
  7. دینوری، الاخبار الطوال، ص 241۔
  8. دشتپی، کا معرّب، جو رے اور ہمدان کے درمیان وسیع دشت کا نام ہے اور بعد میں قزوین میں شامل کیا گیا۔
  9. ابن فقیه، مختصر البلدان، ص282-283۔
  10. ابن فقیه، مختصر البلدان، 253۔
  11. بلاذری، انساب الاشراف، 3/176-177۔
  12. بلاذری، انساب الاشراف، 3/177-187، 411- 415۔
  13. طبری، تاریخ، 5/409-417۔
  14. مفید، ارشاد، 434-439۔
  15. طبرسی، اعلام الوری، 239۔
  16. بلاذری، انساب الاشراف، 3/204۔
  17. بلاذری، انساب الاشراف، 3/206-207۔
  18. طبری، تاریخ، 5/467۔
  19. بلاذری، انساب الاشراف، 3/211۔
  20. طبری، تاریخ، 5/587۔
  21. دینوری، الاخبار الطوال، 298۔
  22. دینوری، الاخبار الطوال، ص300-301۔
  23. یعقوبی، تاریخ، ج2 ص259۔
  24. خوارزمی، مقتل الحسین، 2/220۔
  25. خوارزمی، مقتل الحسین، 2/220۔
  26. ابن عبدربه، عقدالفرید، ج4،ص404- 405۔
  27. عجلی، تاریخ الثقات، 357۔
  28. ابن حجر، تهذیب التهذیب، 7/450۔
  29. ابن ابی حاتم، الجرح و التعدیل، ج3 ص111۔
  30. ابن حجر، تقریب التهذیب، ج7 ص450۔
  31. عجلی، تاریخ الثقات، ص3۔
  32. ابن ابی حاتم، الجرح و التعدیل، ج3، ص111-112۔
  33. ابن حجر، تقریب التهذیب، ج2، ص56۔
  34. ابن حجر، تهذیب التهذیب، ج7، ص451۔
  35. المعارف، متن، ص 244۔


مآخذ

  • ابن ابی حاتم رازی، عبدالرحمان، الجرح و التعدیل، حیدرآباد دکن، 1372ق / 1952عیسوی۔
  • ابن حجر، احمد، تقریب التهذیب، به کوشش عبدالوهاب عبداللطیف، بیروت، 1395ق /1975عیسوی۔
  • ابن حجر، تهذیب التهذیب، حیدرآباد دکن، 1325ق /1907عیسوی۔
  • ابن عبدربه، احمد، عقدالفرید، به کوشش احمد امین و دیگران، بیروت، 1402ق /1982عیسوی۔
  • ابن فقیه، احمد، مختصر البلدان، لیدن، 1302ق /1885عیسوی۔
  • ابن قتیبه، ابو محمد عبدالله بن مسلم، تحقيق ثروت عكاشة، القاهرة، الهيئة المصرية العامة للكتاب، ط الثانية،1992عیسوی۔
  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، به کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، 1397ہجری قمری /1977عیسوی۔
  • خوارزمی، موفق، مقتل الحسین، به کوشش محمد سماوی، قم، 1376ہجری قمری/1957عیسوی۔
  • دینوری، احمد، الاخبار الطوال، به کوشش عبدالمنعم عامر و جمال الدین شیال، بغداد، 1379ہجری قمری / 1959عیسوی۔
  • طبرسی، فضل، اعلام الوری، به کوشش علی اکبر غفاری، بیروت، 1399ہجری قمری / 1979عیسوی۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ، به کوشش محمد ابوالفضل ابراهیم، بیروت، 1960- 1968عیسوی۔
  • عجلی، احمد، تاریخ الثقات، به کوشش عبدالمعطی قلعجی، بیروت، 1405ہجری قمری / 1985عیسوی۔
  • مفید، محمد، ارشاد، به کوشش محمدباقر بهبودی، تهران، 1351ہجری شمسی۔
  • یعقوبی، احمد، تاریخ، بیروت، 1379ہجری قمری۔

بیرونی ربط