جنگ صفین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جنگ صفین
صفین.jpeg
صفین کا جغرافیائی محل وقوع
تاریخ: صفر سنہ 37 ہجری
مقام: منطقۂ صفین
نتیجہ: جنگ حَکَمِیَت پر اختتام پذیر ہوئی۔
جنگ کے اسباب: معاویہ کی خلافت امیرالمؤمنین کے خلاف بغاوت
قلمرو: شام کا سرحدی علاقہ
جنگجو:
لشکر شام
سپہ سالار:
نقصان:
امیرالمؤمنینؑ کے 25 ہزار اصحاب کی شہادت
لشکر معاویہ کے 45 ہزار افراد کی ہلاکت

جنگ صفین صفر سنہ 37 ہجری میں امیرالمؤمنینؑ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صفین کے مقام پر لڑی گئی جنگ کا نام ہے۔ اس جنگ میں معاویہ اور اس کی سپاہ قاسطین (= ظالم و ستمگر) کے عنوان سے ملقب ہوئے۔ جنگ زوروں پر تھی اور سپاہ معاویہ کی شکست واضح ہوچکی تھی کہ اسی دوران شامی لشکر نے قرآن کے نسخے نیزوں پر اٹھا لئے جس کی وجہ سے امیرالمؤمنینؑ کی سپاہ کے ایک حصے نے جنگ جاری رکھنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ آخر کار فریقین کی طرف سے دو افراد فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کئے گئے اور جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ [1]۔[2]

جنگ کی تمہیدات

جنگ صفین کی کی شروعات اس وقت سے ہوئی جب امام علیؑ نے عہدہ خلافت سنبھالا؛ کیونکہ آپؑ نے ابتداء میں عبداللہ بن عباس کو شام کے والی کے طور پر روانہ کرنا چاہا اور معاویہ کو خط لکھا کہ "لوگوں نے مجھ سے مشورہ کئے بغیر عثمان کو قتل کیا لیکن اب مشورے اور اجتماع کے بعد انھوں نے مجھے خلیفہ کے طور پر منتخب کیا ہے چنانچہ تم اشراف شام کو لے کر مدینہ چلے آؤ"

امیرالمؤمنینؑ نے اپنے ایک خط میں معاویہ کو لکھا: "میری بیعت ایک عمومی بیعت اور تمام مسلمانوں پر مشتمل بیعت ہے؛ اس میں اہلیان مدینہ کے بشمول بصرہ اور شام کے عوام بھی شامل ہیں اور تم نے گمان کیا ہے کہ مجھ پر قتل عثمان کا بہتان لگا کر میری بیعت سے سرتابی کرسکتے ہو؟ سب جانتے ہیں کہ میں نے انہیں قتل نہیں کیا ہے کہ اب ان کا قصاص مجھ پر لازم آتا ہو اور وارثان عثمان ان کے خون کی طلب کے سلسلے میں تم سے زیادہ صاحب حق ہیں اور تم خود ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے ان کی مخالفت کی اور جس وقت انھوں نے تم سے مدد مانگی تم نے مدد نہ کی حتی کہ انہیں قتل کیا گیا۔[3] بلاذری کے بقول معاویہ نے خط کا جواب نہیں دیا۔[4]

امیرالمؤمنینؑ نے کئی مکاتیب میں تصریح فرمائی کہ "اے معاویہ! عثمان کے قاتل تم ہو اور جس دن تمہاری مدد عثمان کے کام آسکتی تھی تو نے مدد سے دریغ کیا"۔[5] یا یہ کہ "فوالله ما قتل ابن عمك غيرك(:ترجمہ پس اللہ کی قسم کہ تمہارے سوا کوئی بھی تمہارے چچازاد بھائی کا قاتل نہیں ہے)"۔[6] یا "ولعمري! ما قتله غيرك(:ترجمہ میری جان کی قسم! تمہارے سوا کوئی بھی عثمان کا قاتل نہیں ہے)"۔[7]۔[8]

منقول ہے کہ عثمان نے خط لکھ کر درد بھرے انداز سے معاویہ سے مدد مانگی اور جلدی کرنے کی درخواست کی[9] چنانچہ معاویہ 12000 کا لشکر لے کر مدینہ سے 30 کلومیٹر دور آکر خیمہ زن ہوا۔ لشکر کو وہیں چھوڑ کر مدینہ چلا آیا۔ عثمان نے پوچھا: تمہارا لشکر کہاں ہے؟ معاویہ نے کہا: لشکر یہیں قریب ہے میں حالات دیکھنے آیا ہوں۔ عثمان نے کہا: میں نے سب کچھ تمہیں لکھ دیا تھا اور کہا: نہیں، خدا کی قسم! تم چاہتے ہو کہ میں مارا جاؤں اور تم جا کر دعوی کرسکو کہ تم ہی میرے خون کے وارث و مالک ہو! جاؤ لشکر کے ساتھ آؤ۔ معاویہ چلا گیا اور واپس نہ آیا حتی کہ عثمان قتل کئے گئے۔[10]

یزید بن اسد کی روایت ہے کہ معاویہ اپنی امدادی فوج مدینہ میں نہیں لایا اور اس کو بیچ راستے روکے رکھا کیونکہ وہ عثمان کے قتل کا خواہاں تھا تاکہ وہ لوگوں کو اپنی بیعت کے لئے بلا سکے۔[11]۔[12]

طبری شبث بن ربعی سے نقل کرتا ہے: لوگوں نے معاویہ سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ تو نے عثمان کو مدد پہنچانے میں کوتاہی کی کیونکہ تمہاری خواہش یہی تھی کہ وہ مارے جائیں اور تم خود خلافت کو اپنے لئے قرار دو۔[13]۔[14]

ابو طفیل ـ جو صحابہ میں سے ہیں ـ نے معاویہ سے مخاطب ہوکر کہا: تم شام میں تھے اور یہاں سب تمہاری پیروی کرتے تھے اس کے باوجود تم نے عثمان کی مدد کیوں نہیں کی؟ معاویہ نے کہا: تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اٹھا ہوا ہوں؟ ابو طفیل نے کہا: ہاں میں جانتا ہوں لیکن شاعر کہتا ہے: "تو میری زندگی میں ایک بار بھی میرا حال پوچھنے نہیں آیا؛ اب تم میری موت کے بعد میرے لئے نالہ و فریاد کرتا ہے اور سینہ پیٹتا ہے!!![15]۔[16]۔[17]۔[18]

معاویہ کا وزير اور دست راست عمرو بن عاص بھی اس سلسلے میں خاموش نہیں رہ سکا اور معاویہ سے کہا: "بے شک عثمان کے اصل قاتل تم ہو۔[19]۔[20]

جنگ جمل کے بعد بھی امیرالمؤمنینؑ نے کوفہ میں قیام فرمایا اور کوشش کی کہ معاویہ کو اطاعت پر آمادہ کریں۔[21]

معاویہ کے مددگار

عمرو بن عاص (جو اس وقت فلسطین میں تھا اور معاویہ نے اس کے مشوروں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مصر کی حکومت کا وعدہ دے کر اس شام بلوایا)،[22] عبید اللہ بن عمر، عبدالرحمن بن خالد بن ولید، عبداللہ بن عمرو بن عاص، مروان بن حکم، معاویہ بن حدیج، ضحاک بن قیس، بسر بن ارطاۃ، شرحبیل بن سمط کندی اور حبیب بن مسلمہ۔[23]۔[24]۔[25]۔[26]

امیرالمؤمنینؑ کی دعوت جہاد

امام علیؑ نے فرمایا:
"نحن النجباء، وأفراطنا أفراط الانبیاء، وحزبنا لله حزب، وحزب الفئة الباغیة حزب الشیطان، و من سوّی بیننا وبین عدونا فلیس منا(:ترجمہ ہم منتخب اور برگزیدہ ہیں اور ہم سے گذرنا ـ (اور ہمیں نظرانداز کرنا) انبیاء سے گذرنے کے مترادف ہے اور ہماری جماعت اللہ کی جماعت ہے اور باغی جماعت شیطان کی جماعت ہے اور جو ہمیں اور ہمارے دشمنوں کو یکسان سمجھے وہ ہم سے نہیں ہے۔)

ابن حنبل، فضائل امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، ص310۔

امامؑ مطمئن ہوئے کہ معاویہ طاقت کی زبان کے سوا دوسری زبان نہیں سمجھتا اور دوسری جانب سے کوفہ کے زعماء شام کے ساتھ جنگ میں آپؑ کے ساتھ ہیں تو آپؑ نے خطبہ دے کر لوگوں کو جہاد کی دعوت دی۔ آپؑ نے عبداللہ بن عباس کو مکتوب روانہ کیا کہ بصرہ کے عوام کو آپؑ کا ساتھ دینے کی دعوت دیں اور یوں بصرہ کے بہت سے لوگ ابن عباس کے ساتھ کوفہ چلے آئے۔ نیز آپؑ نے اصفہان کے والی مخنف بن سلیم کو بھی خط لکھا اور ہدایت کی کہ اپنی سپاہ کے ساتھ آپؑ سے آملیں۔[27]

جنگ کا آغاز

آخر کار امام علی علیہ السلام کی سپاہ عراق اور شام کے شمال میں اور روم کی سرحد پر سپاہ شام کے آمنے سامنے قرار پائی۔ امیرالمؤمنینؑ نے مالک اشتر کو ان کی طرف روانہ کیا اور ان سے تاکید فرمائی کہ کسی طور بھی جنگ کا آغاز نہ کریں۔ مالک کے آنے کے ساتھ ہی سپاہ شام نے جنگ کا آغاز کردیا اور فریقین کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے بعد سپاہ شام پسپا ہوگئی۔[28]

بعض لوگوں کو یہ سوال درپیش تھا کہ امام علیؑ ان کے ساتھ کیونکر لڑ رہے ہیں جبکہ وہ مسلمان ہیں اور رسول اللہ(ص) نے فرمایا ہے کہ "ہمیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اس وقت تک کہ لوگ توحید کی گواہی دیں، اور جب گواہی دیں تب ان کی جان اور ان کا مال محفوظ ہے۔" لیکن عمار یاسر نے ان لوگوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: "یہ بات صحیح ہے لیکن یہ لوگ اسلام نہیں لائے ہیں، وہ باطن میں کفر ہی برتتے تھے آج تک کہ انھوں اعوان و انصار اپنے گرد جمع کئے ہیں۔ " [29]

جنگ میں خواتین کی موجودگی

کوفہ کی بعض خواتین بھی صفین میں موجود تھیں جو شعر کہتی تھیں جن میں وہ امیرالمؤمنینؑ کی مدح کرتی تھیں اور آپؑ کے فضائل بیان کرتی تھیں اور خلیفۃ المسلمین کی سپاہ کو باغی فوج کے خلاف جنگ کی ترغیب دلاتی تھیں۔ سورہ بنت عمارہ ہمدانی اور ام سنان،[30] زرقاء بن تعدی ہمدانی،[31] ام الخیر اور جروہ بنت مرہ بن غالب تمیمی ان ہی خواتین میں شامل تھیں۔[32]

جنگ بندی

اکا دکا لڑائیوں کے بعد محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتا ہے قرار پایا کہ جنگ روک دی جائے۔[33]

لیکن امیرالمؤمنینؑ اور معاویہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور معاویہ نے جنگ بندی کو عمار یاسر، عدی بن حاتم، مالک اشتر سمیت ان لوگوں کے قتل سے مشروط کردیا جو اس کے خیال میں قتل عثمان میں ملوث تھے! یہ شرط نہ تو امیرالمؤمنینؑ کے لئے قابل قبول تھی اور نہ ہی عراقی عوام کے لئے اور پھر ان افراد نے عثمان کے قتل میں کوئی کردار بھی ادا نہیں کیا تھا۔ یہ مسئلہ اس سے پہلے بھی مسجد کوفہ میں جب ابو مسلم خولانی نے معاویہ کا خط لا کر امیرالمؤمنینؑ سے عثمان کے قاتلوں کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی تب بھی مسجد میں موجود تمام افراد نے کھڑے ہوکر کہا تھا: "ہم سب عثمان کے قاتل ہیں"۔[34]

صفین میں یہی واقعہ دہرایا گیا اور سپاہ امیرالمؤمنینؑ میں سے 20000 افراد نے الگ ہوکر کہا: "ہم عثمان کے قاتل ہیں"۔[35]

معاویہ درحقیقت جنگ کا ارادہ رکھتا تھا اور یہ شرطیں وہ اس لئے لگا رہا تھا کہ اس کو معلوم تھا کہ امیرالمؤمنینؑ اس کا یہ مطالبہ کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے۔ وہ مذاکرات کے مواقع فراہم کرکے ان افراد کو دھوکہ دے کر اپنی طرف مائل کرانا چاہتا تھا جو اس کے خیال میں امامؑ سے منحرف ہوسکتے تھے! چنانچہ اس نے امامؑ کی طرف سے مذاکرات کے لئے آئے "زیاد بن حفصہ" سے کہا: "میں تم سے تقاضا کرتا ہوں کہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ آکر ہم سے آ ملو اور میں عہد کرتا ہوں کہ فتح کی صورت میں سے کوفہ اور بصرہ میں سے ایک شہر تمہارے سپرد کروں"۔ زیاد نے کہا: "جو نعمت مجھے اللہ نے عطا کی ہے اس کے لئے میرے پاس اللہ کی جانب سے واضح برہان موجود ہے اور ہرگز خطا کاروں کا حامی نہیں بننا چاہتا"۔[36] بہرحال جنگ بندی جاری نہ رہ سکی۔

جنگ کا دوبارہ آغاز

یکم صفر سنہ 37 ہجری کو دو لشکروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ہر روز امیرالمؤمنینؑ کا ایک سپہ سالار اگلی صفوں کی کمان سنبھالتا تھا، پہلے روز مالک اشتر، دوسرے روز ہاشم بن عتبہ، تیسرے روز عمار یاسر، چوتھے روز محمد حنفیہ اور پانچویں روز عبداللہ بن عباس سپاہ امیرالمؤمنینؑ کے سپہ سالار تھے۔[37]

حوالہ جات

  1. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص88 اور بعد کے صفحات۔
  2. خلیفة، تاریخ خلیفة بن خیاط، ص 144۔
  3. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغة، ج3، ص89۔
  4. بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص211۔
  5. امام علیؑ، نهج البلاغة، مکتوب37۔
  6. (ابن عبد ربه، العقد الفريد، دار الكتب العلمية، ج3، ص333۔
  7. امام علیؑ، نهج البلاغه، مکتوب 10 ۔
  8. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغة ج15، ص84۔
  9. إبن قتيبة الدينوري، الإمامة و السياسة، تحقيق شيري، ج1، ص54۔
  10. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر بیروت، ج2، ص175۔
  11. بلاذري، أنساب الأشراف، ج6، ص188۔
  12. ابن شبة، تاريخ مدينه، ج4، ص1289۔
  13. طبری، تاريخ الطبري، ج3، ص570۔
  14. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج3، ص286۔
  15. إبن الأثير، أسد الغابة، ج5، ص234۔
  16. إبن عبد البر، الإستيعاب، ج4، ص1697۔
  17. ۔إبن عساكر، تاريخ مدينة دمشق، ج26، ص116۔
  18. إبن قتيبة الدينوري، الامامة والسياسة تحقيق الشيري، ج1، ص215۔
  19. بلاذري، أنساب الأشراف، ج6، ص288۔
  20. إبن قتيبة الدينوري، الإمامة و السياسة، تحقيق الزيني، ج1، ص88۔
  21. ابن اعثم، الفتوح، ج2، ص375۔
  22. ابن اعثم، الفتوح، ج2، ص382۔
  23. ابن مزاحم، وقعة صفین، ص 195، 429، 461، 552 و 455۔
  24. ابن اثیر، اسد الغابة، ج 3، ص 436۔
  25. ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج 2، ص 392۔
  26. ذهبی، وہی ماخذ، 3، ص 91 ؛ ۔
  27. ابن مزاحم، وقعة صفین، ص 115۔
  28. جعفریان، تاریخ خلفاء، ص 276۔
  29. ابن مزاحم، وقعة صفین، ص215۔
  30. ابن اعثم، الفتوح، ج 2، ص 101۔
  31. ابن اعثم، الفتوح، ج 3، ص 142۔
  32. ابن بکار، الوافدات من النساء علی معاویه بن ابی سفیان، ص 36۔
  33. ابن مزاحم، وقعة صفین، ص 196۔
  34. دینوری، اخبار الطوال، ص 163۔
  35. دینوری، اخبار الطوال، مان، ص 170۔
  36. ابن مزاحم، وقعة صفین، ص 199۔
  37. بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص305۔