زبیر بن عوام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زبیر بن عوام
قبر زبیر در عراق.jpg
قبر زبیر بن عوام
ذاتی کوائف
نام کامل زبیر بن عوام قرشی اسدی
کنیت ابوعبداللہ
مشہور اقارب خدیجہ بنت خویلد
وفات/شہادت ۵۲جنگ جمل
کیفیت بدست عَمرو بن جُرموز
دینی فعالیتیں
اسلام قبول کرنا ابوبکر کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے
جنگوں میں حصہ تمام غزوات میں حصہ لیا
ہجرت حبشہ اور مدینہ
دیگر فعالیتیں
سیاسی سقیفہ اور خلفائے ثلاثہ کی مخالفت، عمر کے شورائے خلافت کا رکن اور امام علی(ع) کی خلافت کیلئے کوشش، عثمان کے قتل میں مشارکت اور امام علی کے خلاف جنگ جمل کے سرکردگان میں سے

زُبیر بن عَوّام بن خُوَیلَد رسول خدا(ص) کے صحابہ اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے جنہوں نے 8 یا 15 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور ہمیشہ پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ ساتھ رہے۔ حضرت محمد(ص) کی رحلت کے بعد انہوں نے سقیفہ کے حادثے میں انجام پانے والی بیعت کو قبول نہیں کیا اور حضرت علی(ع) کی خلافت کے دفاع میں عمر بن خطاب سے مناظرہ کیا۔ خلیفہ ثانی کی طرف سے خلیفہ کے انتخاب کیلئے بنائی گئی کونسل کے رکن تھے اور اس میں بھی حضرت علی(ع) کے حق میں ووٹ دیا۔ عثمان کے خلاف عوامی تحریک اور انہیں قتل کرنے اور حضرت علی(ع) کی خلافت کیلئے ان کا بڑا کردار رہا ہے۔ لیکن حضرت علی(ع) کی خلافت کے اوائل میں ہی طلحہ ، عایشہ اور بعض دیگر افراد کے ساتھ مل کر عہد شکنی کرنے کی وجہ سے ناکثین کے نام سے مشہور ہوئے یہاں تک کہ جنگ جمل میں حضرت علی(ع) کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا۔

نسب

زبیر بن عوام بن خُوَیلد بن اَسَد بن عبدالعُزّی بن قُصَیّ بن کِلاب بن مُرَّة بن کَعب بن لُؤَی قُرَشی اَسَدی جن کی کنیت ابو عبداللہ تھا۔ وہ حضرت خدیجہ کے بھتیجے ہیں۔ ان کے والد عوام (حضرت خدیجہ کا بھائی) جنگ فجار میں مارا گیا۔[1] ان کی ماں صفیہ جو عبدالمطلب کی بیٹی اور حضرت محمد(ص) اور حضرت علی(ع) کی پھوپھی ہیں۔[2]

بعض مورخین آل زبیر کو مصری‌ الاصل قرار دیتے ہوئے قریش کے اصلی خاندان سے ان کے تعلق کے منکر ہیں۔ یہ لوگ ایک روایت سے استناد کرتے ہیں جس کے مطابق خویلد بن اسد مصر کی طرف سفر کے دوران "عوام" (زبیر کے والد) کو اپنے ساتھ مکہ لے آئے یوں حقیقت میں "عوام" خویلد کا لے پالک بیٹا ہے نہ اصلی بیٹا۔[3]

ابوبکر کی بیٹی سے شادی

زبیر نےاسماء بنت ابوبکر سے شادی کیا۔[4] مورخین اس شادی کو اسلام میں متعہ کے ذریعے انجام پانے والی پہلی شادی قرار دیتے ہیں۔[5] کچھ عرصہ بعد اس نے اسماء کو طلاق دیا۔ [6] کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن زبیر نے باپ کو اس طلاق پر مجبور کیا تھا۔[7] بعض مورخین کہتے ہیں کہ زبیر نے اسماء کو بہت مارا پیٹا جس کی وجہ سے اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کی پناہ مانگ لی اور زندگی کی آخری لمحات تک اس کے ساتھ رہی۔[8]

اسلام قبول کرنا

تاریخی منابع میں زبیر کے اسلام لانے کو ابوبکر کے اسلام لانے کے بعد ذکر کیا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اس وقت اس کی عمر 8 سال تھی،[9] لیکن بعض مورخین نے اسلام قبول کرتے وقت اس کو 15 سالہ جوان قرار دیا ہے۔ [10] بعض تاریخی منابع میں آیا ہے کہ وہ حضرت علی(ع) کے ہم عمر تھا۔ [11] اس صورت میں اسلام لاتے وقت ان کی عمر 8 سال ہونا صحیح نہیں بلکہ اس وہی 15 سالگی ہی درست ثابت ہوتی ہے۔

زبیر کو اسلام لانے والا پانچواں یا چھٹا فرد جانا جاتا ہے۔[12] چونکہ ان کے اسلام لانے کی روایت کو ان کے اپنے پوتے ہشام بن عروۃ بن زبیر نے نقل کیا ہے،[13] اس لئے ان کے اسلام لانے کے حوالے سے مبالغے سے کام لینے کا احتمال زیادہ ہے۔ [14]

پیغمبر اکرم(ص) کی حیات مبارکہ میں

ہجرت سے پہلے

ہجرت سے پہلے زبیر کے بارے میں کوئی زیادہ روایات موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ انہیں بھی حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔[15] جس وقت زبیر اور دوسرے مہاجرین جبشہ میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے تھے یہ خبر شایع ہوئی کہ قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے، اس بنا پر بعض مہاجرین منجملہ زبیر مکہ واپس آگئے۔[16]

اخوت

مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے جن ضروری اقدامات کی طرف مبادرت کی ان میں سے ایک مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارا ہے۔ اس موقع پر پیغمبر اکرم(ص) نے زبیر اور عبداللہ بن مسعود کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔[17] کسی اور روایت میں زبیر اور "سَلَمَۃ بن سَلامَۃ بن وَقش" کے درمیان بھائی چارا قائم ہونے کا ذکر آیا ہے۔[18]

غزوات میں شرکت

زبیر کے جنگ بدر،[19] جنگ احد اور فتح مکہ میں شرکت کرنے کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں۔[20]

زبیر اور خلفائے ثلاثہ

خلافت ابوبکر کی مخالفت

اصل مضمون: چھ رکنی شورای

پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد زبیر سقیفہ کے مخالفین میں سے تھا اور جب حضرت علی(ع) کے گھر پر حملہ کیا گیا تو زبیر نے تلوار لے کر حملہ آوروں پر وار کرتے ہوئے کہا:

یا مَعشَرَ بَنی عَبدِالمُطلّب، أ یُفعَلُ هذا بِعَلی وَ اَنتُم أحیاء؟(ترجمہ اے عبدالمطلب کے بیٹے تم زندہ ہو اور علی(ع) کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائے؟)

خالد بن ولید نے کسی پتھر کے پیچھے سے ان پر وار کیا جس سے ان کی تلوار زمین پر گر گئی۔ عمر نے ان کی تلوار اٹھا لی اور اسے توڑ دیا۔[21]

زبیر ابوبکر کا داماد یعنی اسماء کے شوہر تھا، [22] انہوں نے اسماء کو طلاق دی۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طلاق ان کے بیٹے عبداللہ کی اصرار پر دی گئی۔[23]

عمر کا زبیر پر اتہام

عمر کے دور خلافت میں زبیر کا خلیفہ کے ساتھ رابطہ کچھ تھیک نہیں تھا۔ ایک رات عمر ابن عباس کے ساتھ مدینے میں گشت کر رہا تھا، اس موقع پر جب زبیر کی بات آگئی تو عمر نے کہا "زبیر ایک بے حوصلہ رنگارنگ شخص ہے، راضامندی کی حالت میں مؤمن اور غصے کی حالت میں کافر کی طرح ہے، ایک دن انسان اور ایک دن شیطان اور اگر کسی دن مقام خلافت پر پہنچے تو اس کی زندگی ایک مد جو کے بارے میں سودے بازی میں گذر جائے گی۔" [24]

عثمان کے قتل میں ملوث

خلیفہ کی انتخاب کیلئے عمر کی طرف سے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں زبیر نے عثمان کو ووٹ نہیں دیا جو اس کا عثمان کے ساتھ سازگاری نہ ہونے کی دلیل ہے۔ عثمان نے انہیں راضی کرنے کیلئے ۶۰۰/۰۰۰ دے دی۔ [25] لیکن ابھی کچھ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ زبیر نے لوگوں کو عثمان کی قتل پر اکسایا۔[26]

زبیر اور حضرت علی(ع) کی خلافت

زبیر، حضرت علی(ع) کے پھوپھی زاد تھا اور امام علی(ع) اور زبیر کا رابطہ بھی مختلف نشیب و فراز کا حامل رہا ہے۔ سقیفہ میں وہ حضرت علی(ع) کا حامی تھا اسی طرح وہ حضرت زہرا(س) کی وصیت کے گواہان میں سے تھا[27] اور حضرت زہرا(س) کے دفن کے وقت موجود تھے۔ [28] انہوں نے چھ رکنی کمیٹی میں حضرت علی(ع) کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

عثمان کے قتل ہونے کے بعد طلحہ اور زبیر کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد نے حضرت علی(ع) کے گھر کی طرف ہجوم لایا اور سب نے کہا کہ ہم آپ کی بعنوان خلیفہ بیعت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بہت زیادہ اصرار کے بعد حضرت علی(ع) نے قبول کیا۔[29] اس موقع پر زبیر نے طلحہ کے ساتھ مل کر مہاجرین کی بیعت کو یقینی بنایا۔[30] لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اپنی رائ سے پلٹ گیا اور حضرت علی(ع) کی مخالفت کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔[31] زبیر اور طلحہ نے جب یہ سنا کہ عایشہ نے بھی مکہ میں حضرت علی(ع) کی بعنوان خلیفہ منتخب ہونے پر راضی نہیں ہیں تو عمرہ کا بہانہ بنا کر مدینہ سے باہر چلا گیا۔

امام علی(ع) نے ان کے مدینہ سے خارج ہوتے وقت فرمایا: یہ لوگ خانہ خدا کی زیارت کیلئے نہیں جا رہے بلکہ مکر، حیلہ اور خیانت کی قصد سے مسافرت کر رہے ہیں۔[32]

طلحہ اور زبیر نے عایشہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور حضرت علی(ع) کے خلاف بغاوت کی قصد سے بہت بڑی لشکر لے کر عازم بصرہ ہوئے۔ انہوں نے یمن والوں کی طرف سے یعلی بن منبہ کے ذریعے حضرت علی(ع) کو بھیجی جانے والے مال و اموال کو غارت کرنے کے ذریعے باقاعدہ طور پر حضرت علی(ع) کے ساتھ اپنی مخالفت کا اعلان کر دیا۔[33]

جنگ جمل میں زبیر کا کردار

زبیر کو جنگ جمل کے مثلث کے تین ضلعوں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سنہ ۳۶ ہجری قمری میں طلحہ کے ساتھ مل کر عایشہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور انہیں بہی بصرہ پنچا دیا۔ یہ لوگ بصرہ میں داخل ہو گئے اور عثمان بن حنیف جو اس وقت حضرت علی(ع) کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا، کو مار پیٹ کر اسکا مثلہ کیا۔[34] حضرت علی(ع) نے فوج لے کر بصرہ کی جانب روانہ ہوا اور دونوں طرف سے بہت زیادہ مسلمانوں کی جانی اور مالی نقصان کے بعد آخر کار یہ جنگ امام علی(ع) کے حق میں اختتام کو پہنچا۔

میدان جنگ میں حضرت علی(ع) اور زبیر کی ملاقات

دونوں لشکر کے آمنا سامنا ہونے کے بعد حضرت علی(ع) نے زبیر بلایا، یہ ملاقات دونوں لشکروں کے صفوں کے درمیان انجام پایا۔ حضرت علی(ع) نے اپنے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی وصیت کو زبیر کے لئے یاد دلایا۔

واقعہ کچھ یوں ہے: پیغمبر(ص) نے ایک دن حضرت علی(ع) کی موجودگی میں زبیر سے فرمایا: آیا علی سے محبت کرتے ہو؟ زبیر نے کہا: میں کیوں علی سے محبت نہ کروں؟ پیغمبر(ع) نے فرمایا: اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تم ناحق ان سے جنگ کروگے؟![35]

زبیر ان مطالب کی یاد آوری کے بعد فوجی کیمپ سے جدا ہو گیا۔[36]

زبیر کا قتل

زبیر کا میدان جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد "عَمرو بن جُرموز" نے کچھ سپاہیوں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا اور کسی وادی میں اسے قتل کر دیا۔[37] اس کے بعد عمرو حضرت علی(ع) کے پاس گیا اور دربان سے کہا زبیر کے قاتل کیلئے داخل ہونے کی اجازت لے لیں۔ اس موقع پر حضرت علی(ع) نے فرمایا: اسے داخل ہونے کی اجازت دے دو اور اسے جہنم کی بشارت دے دو۔[38] پیغمبر(ص) نے بھی زبیر کے قاتل کے بارے میں فرمایا ہے: زبیر کے قاتل کا مقام جہنم میں ہے۔[39]

امام(ع) نے زبیر کے قتل پر اظہار افسوس کیا اور جب ان کی تلوار پر نظر پڑی تو صدر اسلام کے جنگوں میں زبیر کی بہادریوں کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: اس تلوار نے کئی بار رسول خدا(ص) کے چہرہ اقدس سے غم و اندو کو دور کیا تھا۔[40]

زبیر کی توبہ

زبیر کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث اور حضرت علی(ع) کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاید زبیر نے مرنے سے پہلے توبہ کی تهی. "یوسفی غروی" زبیر کے توبہ کرنے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: زبیر کا توبہ کرنا صرف اس صورت میں صحیح تھا کہ جب وہ اپنے زمانے کے امام کی پیروی کرتا اور خود کو اپنے امام کی خدمت میں قرار دیتا جبکہ حضرت علی(ع) کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے ایسا نہیں کیا اس بنا پر نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت علی(ع) اور ان سے پہلے پیغمبر اکرم(ص) کی زبیر کے قاتل کے بارے میں جہنم کی بشارت دینا زبیر کی توبہ کرنے کی نشانی ہے کیونکہ ممکن ہے زبیر کا قاتل امام کی اجازت کے بغیر زبیر کو قتل کرنے کی وجہ سے جہنم کا مستحق بنا ہو مخصوصا یہ کہ قاتل بعد میں خوارج میں شامل ہو گیا اور جنگ نہروان میں مارا گیا۔[41]

زبیر بن عوام کی قبر کی تصویر

قبر پر مسجد اور گنبد کی تعمیر

ابن جوزی حنبلی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: "سنہ ۳۸۶ ه‍.ق میں اہل بصرہ نے کچھ واقعات اور حوادث کے رونما ہونے کے بعد زبیر کی قبر پر ایک مسجد اور گنبد تعمیر کرکے بہت سارے اموال کو وہاں کیلئے وقف کر دئے۔" [42] لیکن شیخ مفید زبیر کے محل دفن کے بارے میں موجود شک و تردید کو کافی دلائل نہ ہونے کی بنا پر قبول نہیں کرتے ہیں۔ [43]

اولاد

عبداللہ ابن زبیر

زبیر کا سب سے مشہور بیٹا عبداللہ ہے۔ عبد اللہ بن زبیر ہجرت کے اوائل میں پیدا ہوا اور مدینے میں مہاجرین کا پہلا فرزند تھا جس کی بنا پر ان کے تولد کے وقت مسلمانوں نے تکبیر بلند کی تھا۔ یہ تکبیر کہنا زبیر یا ان کے بیٹے عبد اللہ کے مقام و منزلت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ شایع ہوا تھا کہ یہودیوں کے سحر کی وجہ سے مسلمان مہاجرین مقطوع النسل ہو گئے ہیں اس بنا پر مہاجرین کے پہلے فرزند کے تولد پر صدائے تکبیر بلند کی تھی۔[44] اس کے علاوہ عبداللہ کو متعہ کے ذریعے پیدا ہونے والے پہلے فرزند کا درجہ بھی حاصل ہے۔[45]

دیگر فرزندان

علمائے انساب نے عبداللہ کے علاوہ زبیر کے 10 بیٹوں اور 9 بیٹیوں کی خبر دیتے ہیں زبیر کے دوسرے فرزندان کے اسامی درج ذیل ہیں:

بیٹے:عروہ، منذر، عاصم، مہاجر، خالد، عمر، مصعب، حمزہ، جعفر۔

بیٹیاں: خدیجہ، ام حسن، عایشہ، حبیبہ، سورہ، ہند، رملہ، عبیدہ، زینب۔

مال و دولت

زبیر نے خلفائے ثلاثہ کی خلافت کے دوران بہت زیادہ مال و دولت اکھٹا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی میراث میں مدینہ میں گیارہ، بصرہ میں دو اور کوفہ اور مصر میں ایک ایک گھر شامل ہیں۔ [46] اس کے علاوہ ان کی موت کے بعد ان کی میراث کو ہزار دینار، ہزار گھوڑے، ہزار کنیز اور غلام ذکر کئے ہیں۔[47]

حوالہ جات

  1. ابن قتیبہ، المعارف، متن، ص ۲۱۹.
  2. مقدسی، البدءوالتاریخ، ج‏۵، ص ۸۳.
  3. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۱، ص ۶۷.
  4. سمعانی، الأنساب، ج‏۱، ص ۲۱۷.
  5. العقد الفرید، ج4، ص14 ؛طحاوی، شرح معانی الاثار، ج3، ص24؛ عسکری،ازدواج موقت در اسلام، ۵۲ ۵۰
  6. ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۵۳؛ ابن قتیبہ، عبداللہ، المعارف، ص۱۷۳؛ ابن عساکر، علی، تاریخ مدینة دمشق، ص۹ و نیز ص۱۶-۱۸.
  7. اسدالغابہ، ج۶، ص۱۰
  8. اسدالغابہ، ج۶، ص۱۰
  9. مقدسی، البدءوالتاریخ، ج‏۵، ص ۸۳.
  10. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج‏۲، ص ۵۱۰؛ابن اثیر، أسدالغابۃ، ج‏۲، ص ۹۸.
  11. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج‏۲، ص ۵۱۱.
  12. طبقات، ابن سعد، ج۳، ص۷۵.
  13. ابن ابی شیبه، ج۸، ص۴۵۰؛ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج۳، ص۷۵.
  14. فلاح زاده، ص۱۲۳.
  15. تاریخ‏ ابن‏ خلدون، ج‏۲، ص ۴۱۵.
  16. تاریخ‏ ابن‏ خلدون، ج‏۲، ص ۴۱۵.
  17. ابن سعد، الطبقات ‏الکبری، ج‏۳، ص۷۵.
  18. تاریخ‏ ابن‏ خلدون، ج‏۲، ص۴۲۳.
  19. سمعانی، الأنساب، ج‏۱، ص ۲۱۶؛ ابن سعد، الطبقات‏ الکبری، ج‏۳، ص ۷۷.
  20. ابن سعد، الطبقات‏ الکبری، ج‏۳، ص ۷۷.
  21. الاختصاص، ص۱۸۶؛ الامامہ والسیاسہ، ج ۱، ص ۲۸.
  22. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص ۱۷۸۱.
  23. الاصابہ، ج۸، ص۱۳.
  24. یعقوبی، ج۲، ص۱۵۸ .
  25. ابن سعد، طبقات کبری، ج ۳ص۷۹
  26. ابن قتیبه، الامامه و السیاسه ج۱، ص ۴۷؛ بلاذری، انساب الاشراف ج ۳، ص ۵۶.
  27. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج‏۴، ص ۲۴۴.
  28. فتال النیشابوری، روضة الواعظین، ج‏۱، ص ۳۴۹.
  29. الجمل، مفید، ص ۱۳۰
  30. تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۶۷.
  31. تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۶۹.
  32. شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۲۳۲.
  33. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج۱، ص ۶۳.
  34. ابن عبدالبر، الاستیعاب،،ج۱، ص۳۶۶- ۳۶۹؛ ابن اثیر، اسدالغابۃ، ج۱، ص۲۵۱.
  35. تاریخ مدینہ دمشق، ابن عساکر، ج۱۸، ص ۴۰۹؛ بحار، ج۱۸، ص ۱۲۳.
  36. بلاذری، انساب الاشراف، ج ۹، ص ۴۳۰.
  37. طبری، تاریخ، ج۴، ص۵۱۱.
  38. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۵۴
  39. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۸، ص۴۲۱.
  40. ابن سعد، طبقات کبری، ج۳، ص ۷۸.
  41. عسکری وادقانی، صحابہ پیامبراعظم، ج۵، ص ۱۳۷.
  42. ابن جوزی، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم، ج ۱۴، ص۳۸۳.
  43. ابن کثیر البدایۃ ( ج 11 - ص 319 )میں لکھتے ہیں: ... بعد میں شیخ مفید ره نے اپنی کتاب الجمل کے صفحہ نمبر206 انتشارات مكتبة الداوري - قم - ايران میں لکھتے ہیں:
  44. عسکری، الأوائل، ص ۲۲۰.
  45. طحاوی، شرح معانی الاثار، ج3، ص24؛ عسکری،ازدواج موقت در اسلام، ۵۲ ۵۰ ؛ العقد الفرید، ج4، ص14
  46. صحیح بخاری، ج۴؛ ابن ابی شیبہ، المصنف، ج ۸، ص۷۱۷.
  47. المسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۳۳۳.

مآخذ

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، قم، مکتبہ آبہ اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
  • ابن ابی شیبہ، المصنف، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ق.
  • ابن اثیر، عز الدین أبو الحسن علی بن محمد الجزری(م ۶۳۰)،أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹.
  • ابن جوزی، ابوالفرج عبدالرحمن، بن علی بن محمد(م۵۹۷)، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۲ق.
  • ابن خلدون، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرہم من ذوی الشأن الأکبر، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دار الفکر، ط الثانیۃ، ۱۴۰۸/۱۹۸۸.
  • ابن سعد، طبقات کبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، چاپ اول، بیروت، درالکتب العلمیہ، ۱۴۱۰ق.
  • ابن عساکر(۵۷۱ق)تاریخ مدینۃ دمشق، دار الفکر، بیروت،۱۴۱۵ ہ.
  • ابن عبدالبر، أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد (م ۴۶۳)، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • ابن عبدربہ، احمد بن محمد بن عبد ربہ(328ق)، العقد الفرید، دار إحیاء التراث العربی، بیروت لبنان، الطبعۃ الثالثۃ، 1420ق.
  • ابن قتیبہ، أبو محمد عبد اللہ بن مسلم الدینوری (۲۷۶)،الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء،، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰.
  • ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق ثروت عکاشۃ، القاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، ط الثانیۃ، ۱۹۹۲.
  • بلاذری، أحمد بن یحیی بن جابر(م ۲۷۹)،کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶.
  • سمعانی أبو سعید عبد الکریم بن محمد بن منصور التمیمی (م ۵۶۲)،الأنساب، تحقیق عبد الرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدر آباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، ط الأولی، ۱۳۸۲/۱۹۶۲.
  • صدوق(۳۸۱ ق‏)، من لا یحضرہ الفقیہ‏، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‏، قم‏، ۱۴۱۳ ق‏، چاپ دوم‏.
  • طبری، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ط الثانیۃ، ۱۳۸۷/۱۹۶۷.
  • طحاوی حنفی، أحمد بن محمد(321ق)، شرح معانی الآثار،تحقیق محمد زہری النجار، ناشر دار الکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃالأولى، 1399م.
  • عسکری،ابو ہلال،الأوائل، دار البشیر، طنطا، ۱۴۰۸ ق،چاپ اول.
  • عسکری وادقانی، عبدالرضا، دایرہ المعارف صحابہ پیامبراعظم، بہ اشراف محمدہادی یوسفی غروی، انتشارات پژوہشکدہ باقرالعلوم، بہار۱۳۹۱.
  • فتال نیشابوری‏(۵۰۸ق‏)، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین‏، دلیل ما، قم‏ ۱۴۲۳ ق‏
  • فلاح زادہ، احمد، جایگاہ ونقش آل زبیر در تاریخ اسلام، فصلنامہ تاریخ اسلام، سال یازدہم، شمارہ سوم و چہارم، پاییز و زمستان ۱۳۸۹، مسلسل ۴۴-۴۳.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی‏، بحار الأنوار(ط- بیروت)، ‏دار إحیاء التراث العربی‏، بیروت‏، ۱۴۰۳ ق‏، چاپ دوم‏.
  • مفید، الاختصاص، الموتمرالعالمی لالفیہ الشیخ مفید، ایران، قم، ۱۴۱۳.
  • مفید(۴۱۳ ق‏)، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ،کنگرہ شیخ مفید قم،‏ ۱۴۱۳ ق‏.
  • مقدسی، مطہر بن طاہر(م ۵۰۷)،البدء و التاریخ، بور سعید، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ،بی تا.
  • مسعودی، علی بن الحسين، مروج الذہب ومعادن الجوہر، قم، دار الہجرۃ، الطبعۃ الثانيۃ، ۱۹۸۴م.