سلمان فارسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سلمان فارسی
مقبره سلمان فارسی.jpg
مدائن، سلمان پاک نامی قصبہ میں سلمان فارسی کا مقبرہ
معلومات
مکمل نام سلمان فارسی
لقب فارسی، محمدی، پاک
وجہ شہرت صحابی و اصحاب امام علیؑ
محل زندگی اصفہان، شام، عراق، مدینہ
شہادت/وفات سنہ 36 ہجری قمری سلمان پاک، مدائن
اسلام لانا سابقین میں سے
اصحاب پیغمبر اکرمؐ اور امام علیؑ
جنگ تمام غزوات
دیگر کارنامے عمر کے زمانے میں مدائن کا گورنر، فتح ایران میں مسلمان فوج کی رہنمائی؛ غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ کے گرد خندک کھودنے کا مشورہ


سلمان فارسی پیغمبرؐ کے مشہور صحابی اور امام علیؑ کے مددگاروں میں سے تھا۔

بعض روایات کے مطابق آپ ایک ایرانی کسان کا بیٹا اور آپ کا نام روزبہ تھا۔ بچپن میں آپ کے والدین کا مذہب زرتشت تھا۔ نوجوانی کے عالم میں آپ نے مسیحیت کو قبول کیا۔ شام کی جانب سفر کے دوران مسیحی علماء کی شاگردی اختیار کی۔ جب مسیحیوں کی زبانی حجاز میں ایک پیغمبر کے مبغوث ہونے کی پیشن گوئی سنی تو وہاں کا سفر کیا لیکن بنی کلب کے ہاتھوں اسیر ہو کر غلام کی حیثیت سے بنی قریظہ کے ایک شخص کے ہاتھوں فروخت ہوا۔ اپنے مالک کے ساتھ مدینہ آیا۔ وہاں پیغمبر اکرمؐ کی زیارت نصیب ہوئی تو ان پر ایمان لے آئے۔ پیغمبر اکرمؐ نے انہیں ان کے مالک سے خرید کر آزاد کیا اور سلمان نام رکھا۔

سلمان پیغمبر اکرمؐ کی حیات میں آپ کے بہترین صحابی اور آپؐ کے چاہنے والوں میں سے تھا یہاں تک کہ رسول خداؐ نے آپ کے بارے میں فرمایا: سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔ آپ نے پیغمبر اکمرؐ کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی اور جنگ خندق کے موقع پر مدینہ کی حفاظت کی خاطر اس کے اردگرد خندق کھودنے کا مشورہ بھی سلمان ہی نے دیا تھا جو مشرکین کی شکست کا موجب بنا۔ رسول خداؐ کی رحلت کے بعد آپ کا شمار حضرت علیؑ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ سقیفہ کے واقعے کا مخالف تھا لیکن ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے پھر اس کے بعد عمر کا خلافت پر آنے کے بعد ان کے ساتھ ہمکاری کرتا تھا۔ عمر کی خلافت کے دوران سلمان مدائن کے گورنر منصوب ہوئے لیکن اس کے باوجود ٹوکریاں بناتا تھا اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا تھا۔ سلمان فارسی ایک لمبی عمر کے بعد سنہ ٣٦ ہجری میں وفات پائی۔ اس کی وفات مدائن میں ہوئی. اور وئیں پر دفن کئے گئے آپ کا مقبرہ سلمان پاک کے نام سے مشہور ہے۔

پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
خداوندعالم نے مجھے چار اشخاص کو دوست رکھنے کا حکم دیا اور مجھے یہ خبر دی کہ ان افراد کو خدا خود بھی دوست رکھتا ہے۔ وہ افراد علیؑ، مقداد، ابوذر اور سلمان ہیں۔

ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۱.

اسلام لانے سے پہلے

حضرت سلمان فارسی کی ہجرت کا نقشہ

سلمان فارسی کا اصل نام روزبہ اور آپ کے والد کا نام خشفودان اور بعض دیگر اقوال کے مطابق بوذخشان تھا۔ [1] روایات کے مطابق اسلام لانے کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے آپ کا نام سلمان رکھا۔ سلمان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ولادت اصفہان کے ایک دیہات "جی" میں ہوئی [2] بعض اور روایات کے مطابق اس دیہات کا نام رامہرمز تھا۔ [3]

سلمان کا والد ایک ایرانی دہقان(کسان) تھا۔ ساسانیوں کے دور میں مالک، زمین دار، شہری یا دیہاتی سب کو دہقان کہا جاتا تھا۔ [4] اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہ سب قصہ گویی پر مشتمل ہیں۔ ان تمام روایات میں جس چیز پر تاکید ہوئی ہے وہ آپ کی محققانہ اور تجسسانہ ذہنیت ہے جس کے نتیجہ میں آپ بہترین دین کی تلاش میں طولانی سفر کی مشکلات تحمل کرنے میں آمادہ نظر آتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق وہ بجپن میں زرتشت تھا پھر دین مسیحیت سے آشنا ہو کر دین مسیحیت قبول کرتے ہیں اور اپنے شہر سے شام کی طرف سفر کرتے ہیں اور وہاں مسیحی علماء کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق سلمان کے والد کو آپ سے بہت پیار تھا اس لئے آپکو گھر میں رکھنا چاہتا تھا اور شام کی طرف یہ سفر ایک طرح سے ان کا گھر سے فرار محسوب ہوتا تھا۔ شام میں آپ کلیسا کی خدمت گزاری کرتے تھے اور بلند پایا اور پرہیزگار مسیحی علماء سے سے استفادہ کرنے کیلئے انہوس نے دوسرے شہروں جیسے موصل، نصیبین اور عموریہ کی طرف سفر کیا۔ [5]

پھر عموریہ سے حجاز کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مسحیی استاتذہ سے اس سرزمین میں ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی خبر سنی تھی۔ اس سفر میں آپ بنی کلب کے ایک کاروان کے ہمراہ تھے اور آخر کار انہی کے ہاتھوں اسیر ہوگئے جنہوں نے بعد میں آپ کو حجاز لے جا کر بنی قریظہ قبیلے کے ایک یہودی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا جس نے آپ کو مدینہ لے آیا۔[6]

غلامی سے آزادی اور اسلام قبول کرنا

آپ نے ہجرت کے پہلے سال جمادی الاول کے مہینے میں اسلام قبول کیا۔ سلمان نے سنا تھا کہ آخری پیغمبر کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صدقہ نہیں کھائے گا لیکن ہدیہ قبول کرے گا۔ اسی طرح اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے دو کندہوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی۔ اس لئے جب سلمان نے پیغمبر اکرمؐ سے ملاقات کی تو اس نے کجھوریں صدقہ کے طور پر آپؐ کو دے دئے جسے آپؐ نے اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیا اور خود ان میں سے نہیں کھائی۔ سلمان نے اسے نبوت کی تین نشانیوں میں سے ایک قررا دیا پھر کسی اور ملاقات میں اس نے کچھ کجھوریں تحفے کے طور پر پیش کیں تو آپؐ نے اس سے تناول فرمائیں۔ تیسری بار سلمان نے رسولؐ کو کسی کی تشیع جنازے میں دیکھا اور آپکے پیچھے چل پڑھا تا کہ تیسری نشانی کومشاہدہ کر سکے پیغمبرؐ کو معلوم ہوا کہ سلمان کس چیز کی جستجو میں ہے اس لئے آپؐ نے اپنے کپڑوں کو اس طریقے سے ہٹایا کہ مہر نبوت نظر آنے لگی سلمان نے مہر نبوت کو دیکھ لیا اس وقت سلمان نے خود کو پیغمبرؐ کے قدموں میں گرا دیا اور آپؐ کے بدن مبارک کے بوسے لینے لگا اور اسلام قبول کر لیا۔[7]

سلمان ہجرت کے پہلے سال ہی اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا گیا۔ [8] اس کی قیمت ٣٠٠ یا ٤٠٠ کھجوروں کے درخت اور ٤٠ اونس(ایک وزن جو تقریباً اڑھائی تولہ یا آدھی چھانک کے برابر ہوتا ہے (پونڈ کا سولھواں حصہ) سونا تھا جو کہ رسول خداؐ اور صحابہ کی مدد سے ادا کی گئی۔ [9] خود سلمان کہتا ہے کہ مجھے رسول خداؐ نے آزاد کیا اور میرا نام سلمان رکھا۔[10]

عقد بھائی چارگی

مسلمانوں کے درمیان جب مواخات قائم ہوئی تو بعض کے مطابق سلمان اور ابودرداء کے درمیان عقد برادری کے قائم ہوئی۔ لیکن بعض کے مطابق سلمان اور حذیفہ بن یمان، اور بعض کے مطابق سلمان اور مقداد کے درمیان عقد برادری کے قائم ہیں [11] لیکن شیعہ روایات کے مطابق سلمان اور ابوذر کے درمیان عقد برادری قائم ہوئی ہے [12] بعض روایات میں ملتا ہے کہ ابوذر کو سلمان کی اطاعت کرنے پر پابند کیا گیا تھا۔[13]

اہم کارنامے

جنگی مشورے

سلمان نے صدر اسلام سے ہی جنگوں میں شرکت شروع کی اور غزوہ خندق کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں تھی جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔ [14] شہر مدینہ کے ارد گرد خندق کھودنے کا مشورہ آپ نے ہی دیا تھا۔ [15] اس جنگ میں پیغمبر اکرمؐ نے ہر دس افراد کو چالیس ذراع زمین کی کھودائی کی ذمہ داری لگائی۔ سلمان کی جسمی لحاظ سے ایک طاقت شخص تھا جس کی وجہ سے مہاجرین اور انصار میں اختلاف ہو گیا ہر کوئی چاہتا تھا کہ سلمان ان کے گروہ میں شامل ہو مہاجرین کا اعتقاد تھا کہ کیونکہ سلمان ایران سے ہجرت کر کے آیا ہے اس لئے ہمارے گروہ میں شامل ہے اور انصار کہتے تھے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کے یثرب میں داخل ہوتے وقت یہاں موجود تھا اس لئے انصار ہے۔ [16]

بعض روایات کے مطابق سلمان نے جنگ طائف میں منجنیق استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس پر پیغمبر اکرمؐ نے اس وسیلے کے استعمال کا حکم دیا۔

ایران کی فتح کے وقت عمر نے سلمان اور حذیفہ کو اسلامی فوج کی راہنمائی کی لئے ہراول دستے میں شامل کیا۔[17] مدائن کی فتح کے وقت لشکر اسلام کی طرف سے ایرانی فوج کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری نیز سلمان کے گندے پر تھی۔

سقیفہ کے واقعے کی مخالفت

واقعہ سقیفہ کے بارے میں سلمان کا نظریہ

لو بایعوا علیا لأکلوا من فوقهم و من تحت أرجلهم(ترجمہ اگر حضرت علیؑ کی بیعت کی جاتی تو ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوتیں۔)

بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۵۹۱.

سلمان سقیفہ کے واقعے کے مخالفین میں سے تھا۔ اس واقعے سے باخبر ہونے کے بعد مقداد، سلمان، ابوذر، عبادہ بن صامت، ابوہیثم التیہان، حذیفہ اور عمار رات کے وقت اکٹھے ہوئے تا کہ خلافت کے مسئلے کو مہاجرین اور انصار پر مشتمل ایک شورای کے ذریعے حل و فصل کی جائے۔ [18] اس واقعے کی مخالفت میں سلمان اور ابی بن کعب نے سب سے زیادہ احتجاج کیا۔ [19] یہاں تک کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے صحابہ کو ابوبکر کی بعیت کرنے پر ملامت کرتے ہوئے ان سے کہتے تھے (ایک کام کو تو تم لوگوں نے انجام دے دئے لیکن ایک کام کو چھوڑ دئے ہو) [20] اس جملے کا مفہوم یہ تھا کہ خلیفہ کو تو تم لوگوں نے انتخاب کر ہی لیا لیکن رسول خداؐ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ سلمان ان دونوں یہ کہتا رہتا تھا کہ "ایک بوڑھے شخص کو خلیفہ بنا لئے ہو جبکہ رسول خداؐ کے خاندان کو چھوڑ دئے ہو!! اگر خلافت کو رسول خداؐ کے خاندان میں رکھتے تو حتی دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوتا اور اس درخت(خلافت) کا پھل زیادہ مزیدار اور اس کا نفع زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا۔ [21]

مدائن کی گورنری

سلمان فارسی، عمربن خطاب کے زمانے میں خلیفہ کی جانب سے مدائن کا گورنر مقرر ہوا۔ سلمان نے اس کام کو قبول کرنے کے لئے پہلے امیرالمومنینؑ سے اجازت لی پھر قبول کیا۔ سلمان موت کے وقت تک اس شہر کا والی تھا۔ [22] ایک گورنر ہونے کے عنوان سے بیت المال سے سلمان کا حصہ پانچ ہزار درہم تھا جسے وہ صدقے میں دے دیتا تھا [23] اور ٹوکریاں بنانے کے ذریعے اپنا پیٹ پالتا تھا۔

زوجہ، فرزند اور پوتے

بعض تاریخی منابع میں سلمان فارسی کی شادی کے حوالے سے دو نام رشتوں کا ذکر ملتا ہے۔ پہلا رشتہ عمر کی بیٹی اور حفصہ کی بہن کے ساتھ تھا، اس سلسلے میں شروق میں عمر نے مخالفت کی پھر جب رسول خداؐ کی زبانی سلمان کی قدر و منزلت بیان ہوئی تو عمر راضی ہو گیا لیکن اس بار سلمان نے اس رشتے کو ٹھکرا دیا۔ دوسری دفعہ سلمان نے ابودرداء کوایک لڑکی کا رشتہ مانگنے بھیجا۔ اس لڑکی کے خاندان والوں نے سللمان کے ساتھ اس رشتے کی مخالفت کی لیکن خود ابودرداء کے ساتھ اس لڑکی کی شادی کی موافقت کی یوں اس لڑکی سے ابودرداء نے خود شادی کر لی۔

آخر کار سلمان نے بنی کندہ کی ایک عورت سے شادی کی۔ سلمان کے دو بیٹے عبداللہ اور محمد تھے۔ عبداللہ نے اپنے والد سے حضرت فاطمہؑ کے لئے بہشتی تحفے والی حدیث روایت کی ہے۔ سلمان کی ایک بیٹی اصفہان میں اور دو بیٹیاں مصر میں تھیں۔

محدث نوری کے قول کے مطابق سلمان کے پوتے تقریباً ٥٠٠ سال تک شہر ری میں تھے۔ بدرالدین حسن بن علی بن سلمان جو علم حدیث کے ماہرین میں سے ہیں، نو پشتوں میں سلمان ملتے ہیں۔ ضیاء الدین فارسی (وفات، ٦٢٢ہ) عالم اور شاعر، بخارا میں شرعی امور کے پیشوا اور رازی کی کتاب "محصول" کے شارح سلمان کے پوتوں میں سے تھے۔ محدث نوری، شمس الدین سوزنی(متوفی ۵۶۲ یا ۵۶۹ ه) جو تاج الشعرا کے نام سے مشہور تھے، کو سلمان کے پوتوں میں سے قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح عبدالفتاح جو کچھ عرصہ سلمان کے مزار کے متولی رہے، ابوکثیر بن عبدالرحمن، جس نے سلمان فارسی کی آزادی کیلئے "اشتہل یہودی قریظی" کو لکھے گئے تحریر کو نقل کیا ہے، ابراہیم بن شہریار (وفات ٤٢٦ہ) پانچویں صدی کے عارف جو کہ ابواسحاق کازرونی کے نام سے مشہور تھے اور حسن بن حسن کہ جن کا نسبی سلسلہ محمد بن سلمان تک جاتا ہے یہ سلمان کے دیگر پوتوں میں سے تھے. [24]

سلمان پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کے کلام میں

پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد

خداوندعالم نے مجھے چار اشخاص کو دوست رکھنے کا حکم دیا اور مجھے یہ خبر دی کہ ان افراد کو خدا خود بھی دوست رکھتا ہے۔ وہ افراد علیؑ، مقداد، ابوذر اور سلمان ہیں۔

ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۱.

سلمان کے بارے میں رسول خداؐ کی سب سے مشہور روایت جس میں سلمان کے بارے میں آپؐ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے وہ "سلمان منا اھل البیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن سلمان مسجد میں داخل ہوا تو اصحاب نے آپ کا احترام کرتے ہوئے انهیں صدر محف میں جگہ دی لیکن عمر نے سلمان کے عجمی ہونے کے بہانے اس کام پر اعتراض کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے جب یہ مشاہدہ فرمایا تو منبر پر تشریف لے جا کر ایک خطبہ دیا جس میں آن نے قوم اور چہرے کے رنگ کے لحاظ سے انسانوں کے ایک دوسرے پر برتری نہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔

پیغمبرؐ کا یہ فرمان ایک اور روایت میں بھی نقل ہوا ہے: جس وقت اہل مدینہ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے اور سلمان چونکہ ایک طاقتور آدمی تھا اس لئے انصار اور مہاجرین میں سے ہر ایک سلمان کو اپنے ساتھ مختص کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت رسول خداؐ نے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔[25]

سلمان کی فضیلت کے بارے میں پیغمبرؐ کے مزید اقوال ہیں [26] جن میں سے ایک حدیث میں فرمایا کہ بہشت چار شخصیات کا مشتاق ہے اور وہ شخصیات علی، عمار، مقداد اور سلمان ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ خداوند عالم نے پیغمبر اکرمؐ کو علی، سلمان، مقداد اور ابوذر کو دوست رکھنے کا حکم دیا ہے۔[27]

سلمان کے بارے میں شیعہ منابع میں آئمہ معصومین کی زبانی بھی روایات موجود ہیں۔ آئمہ کے کلام میں معمولا آپ کو حقیقی اور دین میں ثابت قدم شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام علیؑ کی ایک حدیث میں ہے کہ "سلمان فارسی اور بعض دوسرے دوست جیسے ابوذر، عمار اور مقداد ایسے افراد ہیں کہ خداوند انکے وجود کی برکت سے لوگوں کو روزی دیتا ہے۔ [28] اسی طرح آپؑ سلمان کو علم اولین و آخرین کے مالک سمجھتے ہیں۔ [29] امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے روایت ہے کہ امام علیؑ کے حضور ایک مجلس میں سلمان فارسی کا نام آ گیا تو امام نے فرمایا کہ سلمان فارسی نہ کہئے بلکہ سلمان محمدی کہئے کیونکہ وہ ہم اہل بیت میں سے ہیں۔ [30]

وفات

آپ کی وفات سنہ ٣٦ق میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق آپکی وفات عثمان کے دور خلافت میں جبکہ بعض دوسری روایات میں آپکی رحلت کو عثمان کے دور خلافت کے بعد ہوئی ہے۔ [31]

روایات کے مطابق، سلمان فارسی کی عمر مبارک کافی طولانی تھی بعض نے آپ کی عمر ٣٥٠ سال لکھی ہے۔ [32] بعض روایات میں ہے کہ سلمان کی وفات کے بعد امام علیؑ مدینہ سے مدائن تشریف لائے اور ان کی تجہیز و تکفین کو آپ نے ہی انجام دیا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھا کر انہیں اپنے ہاتھوں سپرد خاک کیا۔[33]

سلمان نے اپنے کفن پر یہ شعر لکھا ہوا تھا۔[34]


وفدت علی الکریم بغیر زاد من الحسنات و القلب السلیم
میں کسی زاد راہ کے بغیر کریم کے پاس آیا ہوں نہ میرے پاس نیکیاں ہیں اور نہ قلب سلیم
و حمل الزاد اقبح کل شیء اذا کان الوفود علی الکریم
زاد راہ لے کر جانا سب سے بری بات ہے جب کریم کے پاس حاضر ہونا ہو


کتابوں کی معرفی

  • سلمان فارسی، تالیف:جعفر مرتضی عاملی
  • سلمان الفارسی عرض و تحلیل،تالیف: محمدجواد آل‌الفقیہ
  • نفس الرحمان فی فضائل سلمان (رض)، تالیف: المیرزا حسین النوری الطبرسی
  • سلمان فارسی، تالیف: عباس ملکی
  • سلمان فارسی استاندار مداین، تالیف:احمد صادقی اردستانی
  • امیر مدائن، زندگی‌نامہ سلمان فارسی، تالیف:حسن باقی‌زادہ (صادقی)

حوالہ جات

  1. تاریخ طبری، ج۳، ص۱۷۱
  2. الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶؛ انساب الاشراف، ج۱، ص۴۸۵
  3. تاریخ الطبری، ج۳، ص۱۷۱؛ الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶
  4. دہخدا
  5. ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۴-۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۷-۵۸
  6. سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۸-۵۹
  7. ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۹
  8. عاملی، سلمان فارسی، ص۴۰
  9. ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۱۸۹
  10. نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۶
  11. برای اطلاع از منابع این اقوال نک: عاملی، سلمان فارسی، ص۸۶-۸۷
  12. نک:کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۸۴
  13. دیکھیں: مجلسی، بحار الانوار، ج۲۲، ص۳۴۵
  14. عاملی، سلمان فارسی، ص۳۲
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳
  16. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۴، ص۶۲
  17. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۴۱
  18. نک: ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۲۱۹-۲۲۰
  19. عاملی، سلمان فارسی، ص۳۵
  20. نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان، ص۱۴۸
  21. عسکری، عبداللہ بن سبا، ج۱، ص۱۴۵
  22. مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۱۵
  23. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۸، ص۳۵
  24. دربارہ ہمسر و فرزندان سلمان نک: صادقی اردستانی، سلمان فارسی استاندار مداین، صص ۳۷۷-۳۹۰
  25. ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۶۲
  26. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۰۸-۴۲۴
  27. بلاذری، انساب الاشراف، ص۱۲۳؛ ذہبی، سر اعلام النبلاء، ج۲، ص۶۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ص۴۰۹-۴۱۱
  28. صدوق، الخصال، ص۳۶۱
  29. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۲۱
  30. طوسی، اختیار معرفہ الرجال، ج۱، ص۵۴؛ طوسی، الامالی، ص۱۳۳
  31. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۵۸-۴۵۹
  32. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج ۱، ص۱۷۶
  33. نک: مجلسی، بحارالانوار، ج۲۲، ص۳۸۰.
  34. نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۱۳۹

مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، محقق ابوالفضل ابراہیم، قم، کتابخانہ آیۃاللہ مرعشی نجفی.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ بی تا.
  • ابن عساکر، علی بن الحسن، تاریخ دمشق، محقق عمرو بن غرامۃ العمروی، دمشق، دارالفکر للطابعۃ و النشر و التوزیع،۱۴۱۵ق.
  • ابن‌ہشام، عبدالملک، سیرہ النبویہ، تصحیح مصطفی السقا وابراہیم الابیاری وعبدالحفیظ شبلی، بیروت، دارالمعرفۃ، بی‌تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، محقق محمدباقر محمودی و دیگران، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات.
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، محقق، مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ق.
  • دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، چاپ دوم، ۱۳۷۷ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، مصحح علی اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۳۶۲ش.
  • صادقی اردستانی، احمد، سلمان فارسی استاندار مداین، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، ۱۳۷۶ش.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، روایع الثرات العربی، بی تا .
  • عاملی، جعفر مرتضی، سلمان فارسی، ترجمہ محمد سپہری، بی جا، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۵ش.
  • عسکری، سیدمرتضی، عبداللہ بن سبا و دیگر افسانہ‌ہای تاریخی، بی جا، مجمع علمی اسلامی، ۱۳۷۵ش.
  • کشی، محمد بن عمر، إختیار معرفۃ الرجال، محقق میرداماد استر آبادی، قم، موسسۃآل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۴ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ترجمہ سعید و لطیف راشدی، قم، اجود، ۱۳۸۸ش.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، محقق محمدباقر محمودی و عبد الزہراء علوی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی تا.
  • مدنی، علیخان بن احمد، الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الشیعۃ، با مقدمہ محمد صادق بحر العلوم، بیروت، موسسہ الوفاء.
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الاختصاص، تحقیق علی اکبر غفاری و محمود محرمی زرندی، قم، الموتمر العالمى لالفیۃ الشیخ المفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ق
  • نوری الطبرسی، حسین، نفس الرحمان فی فضائل سلمان (رض)، قم، الرسول المصطفی، بی‌تا.
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیۃ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۲۷ق.