کمیل بن زیاد نخعی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مرقد کمیل بن زیاد
معلومات اصحاب امام(ع)
مکمل نام 'کُمَیل بن زِیاد بن نَہِیک نَخَعی صُہبانی کوفی،
نسب قبیلۂ نخع
ولادت سنہ 12ھ
مسکن کوفہ
وفات/شہادت سنہ 82ھ
کیفیت وفات/شہادت بدست حجاج بن یوسف ثقفی
مدفن ثوّیہ - کوفہ
کارہائے نمایاں والی ہیت
اساتذہ امام علی(ع) و امام حسن(ع)

کُمَیل بن زِیاد بن نَہِیک نَخَعی صُہبانی کوفی،(سنہ12 - 82 ھ) تابعین اور امام علی(ع) اور امام حسن(ع) کے مشہور صحابیوں میں سے ہیں۔ کمیل ان پہلے افراد میں شامل ہیں جنہوں نے عثمان کی معزولی اور امام علی(ع) کی خلافت کی تجویز دی۔ امیرالمؤمنین(ع) کی خلافت میں کچھ عرصہ علاقۂ ہیت کے والی رہے۔ جب معاویہ کی سپاہ نے ہیت میں لوٹ مار مچائی تو امام علی(ع) نے شہر کے دفاع میں قصور و کوتاہی کے بموجب ان کی سرزنش کی۔ شیعہ مآخذ میں ان سے بہت ساری احادیث و روایات نقل ہوئی ہیں اور دعائے کمیل ان کی مشہور ترین روایت ہے۔ گوکہ اہل سنت کے مآخذ میں انہیں قلیل الحدیث یا پھر مذموم قرار دیئے گئے ہیں۔

نسب اور خاندان

کمیل قبیلۂ نَخَع سے ہیں اور ان کے والد کا نام زیاد بن نَہِیک ہے۔ رسول خدا(ص) نے قبیلۂ نخع کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا ہے: "اَللّہمَ بارِك فِی النَخَع"؛ ترجمہ: اے اللہ! قبیلۂ نخع کو برکت دے۔[1]۔[2] نہج البلاغہ کے مترجم محمد دشتی نے لکھا ہے کہ طفلان مسلم کا قاتل اور عبیداللہ بن زیاد کا ساتھی حارث بن زیاد، کمیل بن زیادہ کا بھائی تھا۔[3] تاریخی مآخذ میں کمیل بن زیاد کی تاریخ ولادت کہیں بیان نہیں ہوئی ہے تاہم زِرِکْلی کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 12 ہجری کو پیدا ہوئے ہیں۔[4]

امام علی(ع) کا دور

کمیل امام علی(ع) اور امام حسن(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔[5]۔[6] وہ ان شیعیان اہل بیت میں سے ہیں جنہوں نے امیرالمؤمنین علی(ع) کی خلافت کے پہلے دن ہی بیعت کی اور جنگ صفین سمیت آپ(ع) پر مسلط کردہ جنگوں میں شریک تھے۔[7]۔[8] وہ امیرالمؤمنین(ع) کے اصحاب سِرّ میں بھی شامل تھے۔

کمیل اور عمرو بن زرارہ بن قیس نخعی ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کے معاملات سلجھانے کے لئے عثمان کی معزولی اور امام علی(ع) کی خلافت کی تجویز دی تھی۔[9] کمیل ان 10 افراد میں شامل تھے جنہیں عثمان نے اپنی خلافت کے دوران جلاوطن کرکے شام بھجوا دیا۔[10]

علی(ع) کے والی

کمیل امیرالمؤمنین(ع) کے دور خلافت میں شہر "ہیت"[11] کے والی تھے جو بغداد کی جانب واقع تھا۔[12]

کمیل کو معلوم ہوا کہ معاویہ کا لشکر سفیان بن عوف کی سرکردگی میں ہیت پر یلغار کا ارادہ رکھتا ہے تو انھوں نے گماں کیا کہ دشمن قرقیسیا میں ہے چنانچہ اپنی فوج کے صرف 50 افراد کو شہر کی حفاظت پر مامور کیا اور باقی افراد کو لے کر قرقیسیا کی جانب عازم ہوئے۔ دشمن کے لشکر نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ہیت پر حملہ کیا جس کی بنا پر ایک مراسلے کے ذریعے امیرالمؤمنین(ع) کی سرزنش کا نشانہ بنے۔[13] نہج البلاغہ میں سرزنش پر مبنی اس مکتوب کا شمارہ 61 ہے۔[14]

کمیل امام علی(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبی(ع) کے اصحاب میں شامل تھے۔[15]

روایت

کمیل بن زیاد نخعی نے امام علی(ع)، خلیفۂ ثانی، خلیفۂ ثالث، ابن مسعود اور ابو ہریرہ وغیرہ سے اور عبدالرحمن بن عابس، ابو اسحاق سبیعی، عباس بن ذریح، عبداللہ بن یزید صہبانی، اعمش، عبدالرحمن بن جندب وغیرہ نے ان سے روایت کی ہے۔[16]

شیعہ مآخذ میں ان سے بہت سی حدیثیں نقل ہوئے ہیں تاہم اہل سنت نے انہیں قلیل الحدیث قرار دیا ہے؛ ابن حبان اور ابن معین نے انہیں ثقہ مانا ہے جبکہ بعض سنی منابع میں ان کی مذمت ہوئی ہے۔[17]

دعائے کمیل

اصل مضمون: دعائے کمیل

دعائے خضر کو امام علی(ع) سے کمیل بن زیاد نخعی نے نقل کیا ہے۔ کیونکہ کمیل نے اس کو علی(ع) سے سیکھا اسی بنا پر دعائے کمیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ انہیں کوفہ کے زُہّاد اور عُبّاد میں شمار کیا گیا ہے۔[18]

بحار الانوار نیز وسائل الشیعہ میں کمیل کے نام امیرالمؤمنین(ع) کی بعض وصیتیں بھی نقل ہوئی ہیں۔[19]۔[20]۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag۔[21]۔[22]۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag۔[23]۔[24]۔[25]۔[26]۔[27]۔[28] ان وصایا کا خلاصہ تحف العقول میں بھی منقول ہے۔[29]

شہادت

امام علی(ع) نے کمیل کی شہادت کی پیشنگوئی کی تھی۔[30]۔[31] زيادہ تر مؤرخین نے ان کی وفات کا سال سنہ 82 ہجری بیان کیا ہے۔[32]۔[33]۔[34] تاہم طبری نے لکھا ہے کہ کمیل سنہ 83 ھ‍ کو قتل ہوئے ہیں[35] اور ابن حجر العسقلانی نے یحیی بن معین کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی وفات سنہ 88 ھ‍ کو ہوئی ہے۔[36] کمیل 70 سال کی عمر میں شہید ہوئے ہیں[37] جبکہ الذہبی نے المدائنی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وفات کے وقت ان کی عمر 90 برس تھی۔[38]

کمیل بن زیاد نخعی کو حجاج بن یوسف ثقفی کے حکم پر شہید کئے گئے۔[39]

حجاج نے کمیل کو بلوایا تو وہ فرار ہوگئے لیکن جب حجاج نے ان کے قبیلے اور اعزاء و اقارب کو تنگ کرنا شروع کیا تو کمیل حجاج کے پاس پہنچے اور مختصر سی گفتگو کے بعد حجاج نے ان کے قتل کا حکم جاری کیا۔[40]

کمیل کا مزار نجف اور کوفہ کے راستے میں علاقۂ ثوّیہ (حی الحنانہ) میں مسجد حنانہ کے قریب واقع ہے۔[41]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، أسدالغابۃ، ج‏1، ص75۔
  2. ابن سعد، الطبقات ‏الكبری، ج‏1، ص261۔
  3. محمد دشتی، ترجمہ نہج البلاغہ، ص599، مکتوب نمبر 61 کا پاورقی حاشیہ۔
  4. زِرِکْلی، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء، ج5، ص234۔
  5. قطب راوندی، منہاج البراعہ، ج21، ص219۔
  6. مفید، اختصاص، ص7۔
  7. طبقات ابن سعد، ج6، ص217۔
  8. مفید، اختصاص، ص108۔
  9. البلاذری، أنساب‏ الأشراف، ج‏5، ص517۔
  10. تاریخ‏ الطبری/ترجمہ، ج‏6، ص2195، 2199۔
  11. ہِیت، عراق کا ایک شہر اور شام کی سرحد پر دریائے فرات کے ساحل پر واقع ہے جو موجودہ زمانے میں عراقی صوبے الرمادی میں شامل ہے۔ عراق اور سرزمین عرب کے جنوبی علاقوں کے قافلے ہیت کے راستے سے شام کے شہر حلب کا سفر اختیار کرتے تھے۔ ہیت ایک آباد شہر تھا جو مضبوط حصار میں گھرا ہوا تھا۔
  12. محمد دشتی، ترجمہ نھج البلاغہ، ص591۔
  13. البلاذری، أنساب‏ الأشراف، ج‏2، ص473
  14. محمد دشتی، ترجمہ نہج البلاغہ، ص599(مکتوب61)۔
  15. شیخ طوسی، رجال الطوسی‏، ص97۔
  16. الإصابۃ، العسقلانی، ج‏5، ص486۔
  17. التمیمی السمعانی، الأنساب، ج‏13، ص68۔
  18. کوفہ کے زاہدین و عابدین میں آٹھ افراد شامل تھے: اویس قرنی، عمرو بن عتبہ، یزید بن معاویہ النخعی، ربیع بن خثیم، ہمّام بن حارث، معضد الشیبانی، جندب بن عبداللہ اور کمیل بن زیاد النخعی۔
  19. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج5، ص119، ج16، ص354۔
  20. مجلسی، بحارالانوار، ج1، ص187، 189 و ص223، 258
  21. وہی ماخذ، ج33، ص399۔
  22. وہی ماخذ، ج58، ص84۔
  23. وہی ماخذ، ج74، ص271،276، 278۔
  24. وہی ماخذ، ج74، ص714۔
  25. وہی ماخذ، ج74، ص414۔
  26. وہی ماخذ، ج75، ص75۔
  27. وہی ماخذ، ج80، ص284۔
  28. وہی ماخذ، ج81، ص229 و...۔
  29. الحرانی، تحف العقول، ص171-176۔
  30. المجلسی، بحارالانوار، ج41، ص316۔
  31. ابن شہرآشوب، المناقب، ج2، ص271۔
  32. العسقلانی، الإصابۃ، ج‏5، ص486۔
  33. خليفہ بن خياط، تاریخ خلیفہ، ص222۔
  34. الذہبی، تاریخ اسلام، ج6، ص177۔
  35. طبری، ج8، ص3716۔
  36. العسقلانی، تہذیب التہذیب، ج8، ص402۔
  37. العسقلانی، الإصابۃ، ج‏5، ص486۔
  38. الذہبی، تاریخ اسلام، ج6، ص177۔
  39. العسقلانی، الإصابۃ، ج‏5، ص486۔
  40. العسقلانی، الإصابۃ، ج‏5، ص486۔
  41. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، ص145۔


مآخذ

  • ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالكتب العلمیۃ، ط الأولی، 1415ھ‍/1995ع‍
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالب (ع)، مؤسسہ انتشارات علامہ، قم، 1379ھ‍
  • أبو سعید عبد الكریم بن محمد بن منصور التمیمی السمعانی، الأنساب، تحقیق عبد الرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدر آباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، ط الأولی، 1382ھ‍/1962ع‍
  • حسن بن شعبہ حرانی، تحف العقول، یك جلد، انتشارات جامعہ مدرسین قم، 1404ھ‍
  • خليفۃ بن خياط بن أبي ہبيرۃ الأخباري العصفري ابوعمرو (م 240 ہ‍ / 854 ع‍)، تاريخ خليفۃ بن خياط، المحقق: سہيل زكار، دار الفكر بيروت لبنان 1993 ع‍ / 1414 ہ‍
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دارالعلم للملایین، ط الثامنۃ، 1989ع‍
  • دشتی، محمد، ترجمہ نہج البلاغہ، انتشارات مشرقین، چ: چہارم، قم، 1379ھ‍ ش
  • شیخ طوسی‏، رجال الطوسی‏، ناشر: جامعہ مدرسین‏، قم‏، 1415ھ‍
  • عزالدین بن الأثیر أبوالحسن علی بن محمد الجزری، أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفكر، 1409ھ‍/1989ع‍
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار، مؤسسۃ الوفاء، بیروت، 1404ھ‍
  • علوی، احمد، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم: معروف، 1389ھ‍ ش