ابو بکر بن علی بن ابی طالب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


ابو بکر بن علی کا نام کربلا کے شہیدوں میں سے شمار کیا گیا ہے ۔ آپ کے والد حضرت علی ؑ اور والدہ کا نام لیلی بنت مسعود بن خالد تمیمی ہے ۔بعض منابع میں روز عاشورا حضرت علی کی اولاد میں سے آپ کو پہلا شہید شمار کیا گیا ہے ۔

تعارف

بعض نے آپ کا نام " عبد اللہ "[1] اور بعض نے "عبید اللہ "[2] لکھا ہے جبکہ بعض " محمد اصغر" کہتے ہیں[3] ۔قول مشہور کی بنا پر آپ کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود نہشلی ہے[4] اور ایک قول کی بنا پر فاطمہ بنت حزام کلبی ام البنین بھی مذکور ہوا ہے[5] ۔

شہادت

بعض تاریخ کتب نے انہیں کربلا کے شہیدوں می سے شمار کیا ہے[6] جبکہ طبری ، ابو الفرج اصفہانی ،ابن شہر آشوب ان کی کربلا میں شہادت کے متعلق مشکوک ہیں[7]۔ شیخ مفید نے ان کا نام کربلا کے شہیدوں میں ذکر کیا ہے لیکن ابوبکر کو محمد اصغر کی کنیت کہا ہے[8] ۔

بعض نے انہیں حضرت علی کی اولاد میں سے پہلا شہید کہا ہے جو اجازت لینے کے بعد میدان جہاد کی طرف روانہ ہوئے [9]۔امام باقر ؑ کی روایت کے مطابق ہمدان قبیلے کے شخص نے انہیں شہید کیا ہے[10]۔ ایک اور نقل کے مطابق زجر بن قیس غنوی ان کا قاتل ہے[11] جبکہ بعض نے کہا ہے کہ ان کی نعش پانی کے ایک نالے میں پائی گئی اور ان کا قاتل نا معلوم شخص ہے[12] ۔بعض نے ان کا مدفن "گنج شہدا" کہا ہے [13]۔ تاریخی مستندات میں ان کی اولاد مذکور نہیں ہے [14]۔

زیارت ناحیہ

السَّلَامُ عَلَیک یا أَبَا بَکرٍ بْنَ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ مَا أَحْسَنَ بَلَاءَک وَ أَزْکی سَعْیک وَ أَسْعَدَک بِمَا نِلْتَ مِنَ الشَّرَفِ وَ فُزْتَ بِهِ مِنَ الشَّهَادَةِ فَوَاسَیتَ أَخَاک وَ إِمَامَک وَ مَضَیتَ عَلَی یقِینِک حَتَّی لَقِیتَ رَبَّک صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیک وَ ضَاعَفَ اللَّهُ مَا أَحْسَنَ بِهِ إِلَیک[15]

حوالہ جات

  1. ابن اعثم، الفتوح، ج ۵، ص ۱۱۲؛ المجدی، ص ۱۵
  2. وسیلہ الدارین، ص ۲۵۵؛ اعیان الشیعہ، ج ۲، ص ۳۰۲
  3. التنبیہ و الاشراف، ص ۲۷۵؛ الارشاد، ج ۱ ص ۲۵۴
  4. الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۱۴؛ المعارف، ص ۲۱۰؛ رجال طوسی، ص ۸۱، المنتظم، ج ۵، ص ۶۹
  5. الامامہ و السیاسہ، ج ۲، ص ۶؛ العقد الفرید، ج ۴، ص ۳۸۵
  6. تاریخ خلیفہ، ص ۱۴۵؛ المنتظم، ج ۵، ص ۶۹؛ الکامل ابن اثیر، ج ۴، ص ۹۲؛ لباب الانساب، ج ۱، ص ۳۹۹
  7. تاریخ طبری، ج ۵، ۱۵۴؛ مناقب، ج ۴، ص ۱۲۲؛ مقاتل الطالبین، ص ۸۶
  8. الارشاد، ج ۱، ص ۳۵۵
  9. ابن اعثم الفتوح، ج ۵، ص ۱۱۲؛ اعیان الشیعہ، ج ۲، ص ۳۰۲
  10. مقاتل الطالبین، ص ۸۶؛ لباب الانساب، ج۱، ص ۳۹۹
  11. الارشاد، ج ۱، ص ۳۵۵؛ ابن اعثم، الفتوح، ج ۵، ص ۱۱۲
  12. مقاتل الطالبین، ص ۸۶
  13. لباب الانساب، ج ۱، ص ۳۹۹
  14. الطبقات الکبری، ج ۳، ص ۱۴؛ تاریخ یعقوبی، ج ۳، ص ۲۱۳
  15. بحار الانوار، ج ۹۸، ص ۲۴۵


مآخذ

  • منبع اصلی: نگاہی نو بہ جریان عاشورا: ص ۱۳۰ـ۱۲۹.
  1. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعہ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار،‌دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  2. ابن اعثم کوفی، تحقیق علی شیری، ج ۵، چاپ دوم: بیروت، دارالاضواء، ۱۴۱۱ق.
  3. مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الاشراف، ترجمہ ابوالقاسم پاینده، چاپ دوم: تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۵۶ش.
  4. شیخ مفید، الارشاد، موسسہ آل البیت، ج ۱، چاپ اول: قم، انتشارات الموتمر العالمی، ۱۴۱۳ق.
  5. ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق عبدالقادر عطا، ج ۳، چاپ دوم: بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق.
  6. دینوری، ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق ثروت عکاشہ، چاپ ششم، الهیئۃ المصریۃ للکتاب.
  7. شیخ طوسی، رجال، چاپ اول: نجف، المکتبۃ الحیدریہ، ۱۳۸۰ق.
  8. ابن جوزی، المنتظم، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر، ج ۵، چاپ اول: بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ق.
  9. دینوری، ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، تحقیق علی شیری، ج۲، چاپ اول: بیروت، دارالاضواء، ۱۴۱۰ق.
  10. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، تحقق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج ۵، بیروت، بی‌تا.
  11. ابن فندق، لباب الانساب، تحقیق مہدی رجایی و محمود مرعشی، ج۱، چاپ اول: کتابخانہ آیت الله مرعشی، ۱۴۱۰ق.
  12. یعقوبی، احمد بن واضح، تاریخ یعقوبی، ج۲، چاپ ششم: بیروت، دارصادر، ۱۴۱۵ق.