قرہ بن قیس حنظلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قرہ بن قیس حنظلی
ذاتی کوائف
نام قرہ بن قیس تمیمی حنظلی
نسب/قبیلہ قبیلۂ بنی تمیم کی شاخ بنی حنظلہ
واقعہ کربلا میں کردار
اقدامات عمر بن سعد کی طرف سے امام حسین(ع) کو پیغام پہچانے والا •
نمایاں کردار لشکر عمر بن سعد کا سپاہی • واقعات کربلا کا راوی •


قُرَّہ بن قیس تَمیمی حَنظَلی، واقعہ کربلا میں عمر بن سعد کے لشکر کے سپاہیوں میں سے ہے۔ روز عاشورا کے بعض واقعات جیسے حر بن یزید کا امام حسین (ع) سے ملحق ہونا، امام (ع) کے اہل بیت کو شہداء کے جنازوں کے پاس سے گذارنا اور حضرت زینب (ع) کی گفتگو (جب وہ بھائی کے لاشہ کے پاس سے گذریں)، اس سے نقل ہوئے ہیں۔

قرہ بن قیس نے تین محرم کو عمر بن سعد کا پیغام امام حسین (ع) کی خدمت میں پہچایا اور امام کا جواب عمر بن سعد تک پہچانے سے پہلے حبیب بن مظاہر نے اس سے چاہا کہ وہ امام حسین کے لشکر میں شامل ہو جائے۔

نسب

قرہ بن قیس حنظلی[1] تمیمی[2] ریاحی[3] کا تعلق قبیلہ بنی تمیم کی شاخ بنی حنظلہ سے تھا۔[4] وہ ماں کی طرف سے حبیب بن مظاہر سے نسبت رکھتا تھا۔[5] اسی طرح سے وہ میدان کربلا میں اپنے لشکر کے سردار حر بن یزید کا ہم قبیلہ بھی تھا۔[6]

واقعہ کربلا

تین محرم کو عمر بن سعد نے اسے امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا تا کہ وہ پتہ کرے کہ امام کے یہاں آنے کا سبب کیا ہے۔[7] اس نے عمر کا پیغام امام تک پہچایا۔ امام نے اس کے جواب میں کہا: تمہارے شہر (کوفہ) کے لوگوں نے مجھے خط لکھ کر یہاں آنے کی دعوت دی ہے۔ میں ان کی دعوت پر یہاں آیا ہوں اگر تم اس سے ناراض ہو تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔

قرہ نے امام کی باتیں سننے کے بعد واپس ہونا چاہا تا کہ امام کی گفتگو عمر بن سعد تک پہچا دے۔ حبیب بن مظاہر نے اس سے چاہا کہ وہ امام حسین (ع) کے لشکر سے ملحق ہو جائے۔ قرہ نے حبیب کے جواب میں کہا: عمر بن سعد کے پاس جا کر امام کا پیغام پہچانے کے بعد تمہارے مشورے کے بارے میں غور کروں گا۔ وہ عمر کے پاس گیا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔[8]

روز عاشورا جب حر بن یزید امام حسین (ع) کے لشکر میں شامل ہونے کا قصد کر رہے تھے تو وہ اس وقت ان کے پاس تھا۔[9]

نقل واقعہ

اس نے روز عاشورا کربلا میں پیش آنے والے بعض واقعات کو نقل کیا ہے جن میں ایک اہل بیت کی خواتین کو شہداء کے لاشوں کے پاس سے گذارنا شامل ہے۔ وہ کہتا ہے:

میں سب کچھ بھول سکتا ہوں مگر زینب بنت فاطمہ (ع) کی یہ بات نہیں بھول سکتا ہوں جو انہوں نے مقتل کی زمین پر پڑے اپنے بھائی کے لاشہ کے پاس سے گذرتے ہوئے کہی: وہ کہہ رہی تھیں: یا محمداه، یا محمداه! صلی علیک ملائکة السماء، هذا الحسین بالعراء، مرمل بالدماء، مقطع الأعضاء، یا محمداه! و بناتک سبایا، و ذریتک مقتله، تسفی علیها الصبا۔ اے نانا فریاد ہے، آپ کے جنازے پر آسمان کے فرشتوں نے نماز پڑھی اور یہ حسین ہے جس کا جنازہ زمین پر پڑا ہوا ہے، خون میں غلطاں، ٹکڑے ٹکڑے، اے نانا فریاد ہے اور آپ کی بیٹیاں قیدی ہیں، آپ کے بیٹے قتل کر دیئے گئے ہیں اور ان کے لاشے ہوا کی زد پر ہیں۔ زینب کی ان باتوں نے دوست و دشمن سب کو گریہ کرنے پر مجبور کر دیا۔[10]

اسی طرح سے اس نے حر بن یزید کے امام حسین کے اعوان و انصار میں شامل ہونے کے واقعہ کو بھی نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

جس وقت حر امام حسین (ع) کے لشکر میں شامل ہونے قصد کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اپنے گھوڑے کو پانی نہیں پلانا چاہتے ہو؟ قرہ نے دعوی کیا ہے کہ اگر حر نے اسے اپنے ارادہ سے آگاہ کیا ہوتا تو وہ بھی ان کے ہمراہ امام (ع) کی نصرت کے لئے جاتا۔[11]

ابو مخنف نے ابو زہیر عبسی کے واسطہ سے اس سے روایت نقل کی ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۷؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ج۵، ص۸۷.
  2. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۵۵.
  3. سماوی، ابصارالعین، ص۲۰۸.
  4. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۵، ص۸۷؛ سماوی، ابصارالعین، ص۱۰۳.
  5. حبیب بن مظاہر نے اسے اپنا بھانجا کہا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یا وہ ان کا بھانجا ہے یا یہ کہ اس کی ماں کا تعلق حبیب کے قبیلہ سے ہے۔ ر.ک به: طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۱؛ سماوی، ابصارالعین، ص۱۰۳.
  6. ابو مخنف، وقعة الطف، ص۳۷.
  7. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۷.
  8. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۷؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ج۵، ص۸۷؛ سماوی، ابصارالعین، ص۱۰۳؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۱۸۳-۱۸۵؛ طبرسی، اعلام الوری، ص۲۳۳.
  9. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۷، ۴۵۶؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۳۷؛ سماوی، ابصارالعین، ص۲۰۸؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۲۱۳-۲۱۴؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص۵۹.؛ طبرسی، اعلام الوری، ص۲۴۲؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۹.
  10. ابن کثیر، البدایه و النہایه، ج۸، ص۱۹۳؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۵۶؛ ابو مخنف، وقعة الطف، ص۲۵۹-۲۶۰؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص۸۴؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۸۵-۸۶.
  11. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۷، ۴۵۶؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۳۷؛ سماوی، ابصارالعین، ص۲۰۸.؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۲۱۳-۲۱۴؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ص۵۹؛ طبرسی، اعلام الوری، ص۲۴۲؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۹.
  12. ابو مخنف، وقعة الطف، ص۳۷؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۵۵.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دار صادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ ء
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، دار الأضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ء
  • ابن‌ کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النهایہ، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶ء
  • ابن نما حلی، مثیر الأحزان، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، قم، ۱۴۰۶ق
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام، دانشگاه شہید محلاتی، قم، ۱۴۱۹ق
  • ابو مخنف کوفی، وقعة الطف، جامعہ مدرسین، چاپ سوم، قم، ۱۴۱۷ق
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌ الأشراف(ج۳)، تحقیق: محمد باقر المحمودی، دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۹۷۷ق/۱۳۹۷ء
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری،‌دار الکتب الإسلامیہ، تہران
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبو الفضل ابراہیم، دار التراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ء
  • مفید، الإرشاد، انتشارات کنگره جہانی شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق