ابراہیم بن مالک اشتر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ابراہیم بن مالک اشتر نخعی (مقتول ٧٢ق/٦٩١م) مالک اشتر کے فرزند جنہوں نے مختار بن ابو عبید ثقفی کی حمایت میں امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اموی حکومت کے خلاف قیام کیا.

ابراہیم کی مختار کے ساتھ شمولیت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ملتیں. فقط یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے جنگ صفین میں امام علی(ع) کے چاہنے والوں کے ہمراہ معاویہ کے ساتھ جنگ کی. مختار کے قتل ہونے کے بعد، مصعب بن زبیر کے ساتھ مل گیا اور عبدالملک بن مروان کی فوج کے ہاتھوں سنہ ٧٢ق میں قتل کیا گیا.

اس نے کچھ عرصہ مختار اور مصعب کے حکم سے، موصل اور اس کے اطراف کے علاقوں کی حکومت بھی کی.

جنگ صفین میں شرکت

ابراہیم کی مختار کے ساتھ بیعت کرنے سے پہلے والی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ملتیں صرف یہ کہ آپ نے جنگ صفین میں امام علی(ع) کے چاہنے والوں اور اپنے والد مالک اشتر کے رکاب میں معاویہ سے جنگ کی.[1]

قیام مختار ثقفی کی حمایت

ابراہیم کی طرف سے قیام میں شرکت کرنے کی دعوت

سنہ ٦٦ ق/٦٨٥م میں مختار نے محمد بن حنفیہ کا نمایندہ بن کر، امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے کے لئے امویون کے خلاف قیام کیا. اس وقت کوفہ کے شیعہ جو مختار کے قیام کے حامی تھے انہوں نے ابراہیم کو اس کے والد کی امام علی(ع) کے ساتھ وفارداری کی وجہ سے اپنے گروپ میں داخل ہونے کی دعوت دی ابراہیم نے اس دعوت کو قبول کرنے کی شرط رکھی کہ وہ اس صورت میں اس گروپ میں داخل ہو گا کہ گروپ کی فرمان روائی اسے دی جائے، لیکن اہل تشیع نے یاد آوری کرائی کہ اس گروپ کا کمانڈر مختار ثقفی انتخاب ہو چکا ہے. کچھ دیر بعد مختار خود ابراہیم کے پاس گیا اور اسے ابن حنفیہ کا لکھا ہوا خط دیا جس میں ابراہیم کے لئے لکھا تھا کہ وہ امویون کے خلاف قیام میں مختار کی ہمراہی کرے.[2]

دعوت کی قبولیت

ابراہیم نے پہلے تو اس خط کے بارے میں شک کیا کہ کیا واقعی یہ خط ابن حنفیہ کی طرف سے ہے یا نہیں. [3] لیکن یزید بن انس اسدی، احمر بن شمیط بجلی اور عبداللہ بن کامل شاکری نے گواہی دی کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ محمد بن حنفیہ نے یہ خط ابراہیم کے لئے لکھا ہے.[4] اس کے بعد ابراہیم نے یہ دعوت قبول کی اور مختار کے ساتھ بیعت کی.

جنہوں نے مختار کے قیام میں شرکت کی ان میں سے اکثر کو محمد بن حنفیہ کو ابراہیم کے نام خط لکھنے کے بارے میں شک تھا اور بہت جستجو کے بعد ابو عمرہ کیسان نے خط کے صحیح ہونے کی گواہی دی اور کہا کہ وہ مختار کو مورد اعتماد سمجھتے ہیں، اور سب نے اس قول کو کہ یہ خط محمد بن حنفیہ کی طرف سے ہے قبول کیا اور اس کے صحیح ہونے کی گواہی دی. [5]

آغاز قیام

ابراہیم اور مختار نے آپس میں طے کیا کہ ربیع الاول کے وسط میں سنہ ٦٦ ق/ اکتوبر ٦٨٥م کو کوفہ سے قیام کی شروعات کی جائے، لیکن تیاری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہفتہ بعد اسی مہینے جمعرات کے دن قیام کا آغاز کیا. [6] اس دوران ابراہیم کا ہر وقت مختار کے پاس آنا جانا دیکھ کر عبداللہ بن مطیع جو کہ عبداللہ بن زبیرکی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا، اس کو شک ہو گیا. [7] اور قیام کے بارے میں باخبر ہو گیا، کوفہ کے ہیڈ ایاس بن مضارب سے کہا کہ حالات پر نظر رکھے اور کچھ لوگوں کو شہر کے حساس نقاط پر توجہ کرنے کا حکم دیا. ابراہیم بدھ کے دن، یعنی قیام سے ایک دن پہلے اپنے دوستوں کے ہمراہ جن کی تعداد بہت زیادہ تھی، مختار کے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ایاس بن مضارب سے روبرو ہوئے. ابراہیم نے ایاس کو مزاحمت ایجاد کرنے کی وجہ سے قتل کیا اور اس کے بعد جلدی ہی قیام شروع ہوگئی.

ایک طرف ابراہیم، مختار ثقفی اور ان کے طرفدار، دوسری طرف ابن مطیع و راشد بن ایاس، جن کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی راشد مارا گیا اور ابن مطیع پیچھے ہٹ گیا اور ابراہیم نے اسے محاصرے میں لے لیا. وہ کچھ دن کے بعد بھاگ گیا اور اس کے سب دوست مختار کے لشکر میں شامل ہو گئے. ابراہیم اور مختار طرفدار اکثر موالی تھے کہ جو لکڑی کے گرز سے لڑتے تھے، جن کو (خشیہ) کا نام دیا گیا. [8] اور بعض نے غلطی سے انکو (حسینیہ) کا نام دیا کیونکہ یہ قیام کے دوران (یا لثارات الحسین) کے نعرے لگاتے تھے. [9] لیکن اب رستہ[10] اور ابن قتیبہ[11] خشبیہ کو ابراہیم کا طرفدار کہا گیا ہے جنہوں نے عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ لکڑیوں سے جنگ کی تھی.

اس جنگ کے بعد، مختار کوفہ میں مستقر ہو گیا اور ساتھ ساتھ کوشش کی کہ عراق کے دوسرے شہروں میں بھی امام حسین(ع) کے قاتلوں سے مقابلہ کرے. اس کے باوجود جب موصل کی امارت ابراہیم بن مالک اشتر کو دی اور اس کو عبیداللہ بن زیادہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے عراق کی طرف روانہ کیا، (ذالحجہ،٦٦ ق/ جون ٦٨٦م) تو بعض کوفیوں کو مختار کو کمزور سمجھ کر اس پر حملہ کر دیا. جلد ہی مختار نے ایک آدمی کو ابراہیم کی طرف بھیجا. [12] اور ابراہیم فوراً واپس آیا اور مختار کے ہمراہ کوفہ کے ان علاقوں جنہوں نے فساد کی شروعات کی تھیں ان فسادات کو ختم کیا. [13]

عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ جنگ

بمب حملے سے پھلے

فساد کو خاموش کرنے کے بعد، ابراہیم ٨٠٠٠ سے ٢٠٠٠٠ کی تعداد کا لشکر جن میں زیادہ تر ایرانی تھے. [14] ٦ یا ٨ ذالحجہ [15] یا ٢١ ذالحجہ [16] کو کوفہ سے ابن زیاد کے ساتھ جنگ کرنے کی نیت سے خارج ہوا. ١٠ محرم سنہ ٦٧ (٦اکتوبر ٦٨٦م) زاب کے نزدیک موصل سے ٥ کیلو میٹر کے فاصلے پر [17] دونوں لشکروں کے درمیان جنگ شروع ہوئی. بلاذری کے بقول جنگ کے آغاز میں ابراہیم کی دائیں سائیڈ ٹوٹ گئی اور شاید یہی وجہ ہوئی کہ کوفہ میں ابراہیم کے قتل کی خبر پھیل گئی اور مختار کوفہ سے خارج ہوا. [18] ادھر ابراہیم کا لشکر ابن زیاد کے لشکر کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا. ابراہیم نے اس جنگ میں عبیداللہ اور کچھ دوسرے افراد جیسے حصین بن نمیر اور شرجیل بن ذی الکلاع جو کہ امام حسین(ع) کے قاتل تھے ان کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا. [19] اور کہا گیا ہے کہ ان کے جنازوں کو جلایا گیا. [20]

مصعب کے میدان میں حاضر ہونا

ابراہیم اس کامیابی کے بعد موصل چلا گیا اور اپنے کچھ دوست من جملہ اپنے سوتیلے بھائی عبدالرحمن کہ جن کے پاس، تسخیر اور دوسرے شہروں جیسے کہ نصیبین، حران، الزہا، سمیساط اور سنجار کی حکومت تھی. [21] ابراہیم ابھی تک موصل میں تھا کہ مصعب بن زبیر، کوفہ میں شورش بپا کرنے والی تحریک جو ابراہیم بن اشتر اور مختار سے بچ کر اس کے ساتھ ملحق ہوئے تھے، کے ساتھ مل کر کوفہ گیا اور مختار کے ساتھ جنگ کر کے اسے قتل کر دیا. (رمضان ٦٧ہجری/ اپرایل٦٨٧م) اس کے بعد ابراہیم سے کہا عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرو. [22] ابن اثیر کے بقول، عبدالملک بن مروان نے بھی ابراہیم کو اپنی اطاعت کرنے کے لئے کہا، لیکن کیونکہ ابراہیم نے امویوں کے ساتھ جنگ کے دوران، عبیداللہ بن زیاد اور شام کے کچھ اشراف کو قتل کیا تھا، اس لئے عبدالملک کے ساتھ ملنے سے خوفزدہ تھا اور مصعب کی دعوت قبول کر لی. [23]

موصل کی حکومت

مصعب نے موصل، جزیرہ، آذربایجان اور امینیہ کی حکومت کو اس سے واپس لے لیا اور اسے ارقہ کی جنگ پر بھیج دیا اور اس کی جگہ مہلب بن ابی صفرہ کو حکومت دے دی، لیکن دوبارہ مہلب کو اراقہ کی جنگ پر بھیج کر ان علاقوں کی حکومت ابراہیم کے سپرد کر دی. [24] اس کے بعد ابراہیم اس حکومت پر باقی رہا یہاں تک کہ عبدالملک بن مروان عراق چلا گیا. مصعب بن زبیر مقابلے کے لئے کھڑا ہو گیا اور ابراہیم کو اپنے قافلے کا سردار بنا کر خود جمیری، اوانا کے نزدیک چلا گیا. عبدالملک بن مروان جو کہ کوفہ اور بصرہ کے لالچ میں تھا، اس نے ابراہیم کو خط لکھا کہ اور فرات کے اطراف کی سرزمین دینے کا وعدہ کیا. [25]، ابراہیم نے وہ خط مصعب کو نہ دکھایا اور اس کے علاوہ، عبدالملک کی دعوت بھی قبول نہ کی، اور کوشش کی کہ مصعب اسے مکہ تبعید کرے، [26] لیکن مصعب نے قبول نہ کیا اور وہ عبدالملک کی طرف چل پڑھا اور "دیرالجاثلیق" میں اس سے ملا.

وفات

عبدالملک اور مصعب کے درمیان اصلی جنگ سے ایک دن پہلے، ابراہیم بن اشتر اور محمد بن مروان کے درمیان جنگ ہوئی، ابن اشتر بہت شجاعت کے بعد، عتاب بن ورقاء تمیمی کی خیانت کی وجہ سے گویا کہ اس نے پہلی جنگ میں عبدالملک کے ساتھ عقب نشینی اختیار کی تھی، [27] شکست کھائی اور قتل ہو گیا. اس وقت عبید بن میسرہ جو کہ بنی عذرہ کا موالی تھا جس نے ابراہیم کو قتل کیا تھا، اس کے سر کو اٹھایا اور حصین بن نمیر جو کہ جنگ خازر میں ابراہیم کے ہاتھوں قتل ہوا تھا، اس کے غلاموں نے ابراہیم کے جنازے کو جلا دیا. [28]

ابراہیم کے قتل ہونے کی تاریخ میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے. ابن اثیر [29] اور طبری [30] نے ایک روایت کے مطابق، ٧١ق/٦٩٠م ذکر کی ہے، لیکن اکثر مورخین نے ٧٢ق/٦٩١م [31] یا اسی سال جمادی الاخر/ نومبر کہا ہے. [32]

ابراہیم کے قتل کے بعد، بعض شاعروں نے اس کے لئے شعر پڑھے.[33] ابوالفرج اصفہانی نے اپنے کچھ بیت کی نسبت اس سے دی ہے. [34] ابن حبان کے قول کے مطابق، ابن حجر عسقلانی نے اسے "ثقہ" راویوں سے کہا ہے، کیونکہ اس نے اس کے والد اور عمر سے روایت نقل کی اور اس کے بیٹے مالک اور مجاہد نے بھی اس سے روایت نقل کی ہیں. [35]


تاریخ وفات

مقبرۂ ابراہیم بن مالک کا بمب دھماکے کے بعد کا منظر

ابراہیم کی وفات کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے. ابن اثیر اور طبری نے ایک روایت کے مطابق، ٧١ق/٦٩٠م کہا ہے، لیکن زیادہ تر مورخین نے اصلی تاریخ ٧٢ق/٦٩١، ایک صحیح قول کے مطابق اسی سال (جمادی الاخر/نومبر) کو کہا گیا ہے.

قبر

ابراہیم بن مالک کی قبر سامراء سے آٹھ کلو میٹر دور شہر دجیل کے جنوب میں واقع ہے. آپ کی قبر اہل تشیع کی زیارت گاہ تھی.[36] سنہ ٢٠٠٥ء میں اس مقبرے کو بم حملے سے مسمار کر دیا گیا ہے.

اسی طرح ایک اور قبر بحرین کے شہر "جزیرہ عسکر" میں بھی ابراہیم بن مالک کے نام سے ہے، ممکن ہے یہ قبر آپ کے کسی پوتے کی ہو[37].

حوالہ جات

  1. نصربن مزاحم، ۴۴۱
  2. بلاذری، ۵/۲۲۲
  3. نک: متن نامہدر بلاذری، ۵/۲۲۲؛ طبری، ۶/۱۶-۱۷؛ قس: وہی نامہدر دینوری، ۲۸۹ بالمآل ۵/۹۹
  4. ابن سعد، ۵/۹۹
  5. دینوری، ۲۹۰
  6. بلاذری، ۵/۲۲۳؛ طبری، ۶/۱۸
  7. ابن‌سعد، ۵/۹۹
  8. بلاذری، ۵/۲۲۴-۲۲۸، ۲۳۱
  9. ابن عبدربه، ۲/۴۰۸
  10. ج۷،ص۲۱۸
  11. ص ۶۲۲
  12. بلاذری، ۵/۲۳۰، ۲۳۱
  13. بلاذری، ۵/۲۳۱-۲۳۵
  14. دینوری، ۲۹۳؛ ابن‌سعد، ۵/۱۰۰؛ بلاذری، ۵/۲۴۸؛ ذہبی، ۲/۳۷۵
  15. بلاذری، ۵/۲۴۸
  16. طبری، ۶/۸۱
  17. طبری، ۶/۸۶
  18. طبری، ۵/۲۴۹-۲۵۰
  19. خلیفہبن خیاط، ۱/۳۳۲؛ ابن قتیبہ، ۳۴۷؛ دینوری، ۲۹۵
  20. بخاری، ۱/۱۷۸
  21. بلاذری، ۵/۲۵۱؛ طبری، ۶/۹۲؛ ابن اثیر، ۴/۲۶۵
  22. بلاذری، ۵/۳۳۲، ۳۳۶
  23. ج۴،ص۲۷۵
  24. بلاذری، ۵/۳۳۱، ۳۳۲، ۳۳۷؛ دینوری، ۳۰۹
  25. بلاذری، ۳۳۷؛ دینوری، ۳۱۲
  26. بلاذری، ۳۳۷
  27. مسعودی، ۳/۱۰۶؛ بلاذری، ۵/۳۳۸، ۳۳۹
  28. بلاذری، ۵/۳۳۸، ۳۳۹
  29. ج۴،ص۳۲۳
  30. ج۶،ص۱۵۸
  31. بلاذری، ۵/۳۴۲؛ مسعودی، ۳/۱۰۵؛ ذہبی، ۳/۱۰۸
  32. طبری، ۶/۱۶۲
  33. بلاذری، ۵/۳۴۲
  34. ج۱۶،ص۸۵
  35. ص ۲۰
  36. حرز الدین، مراقد المعارف، ج۱، ص۳۸؛ قائدان، عتبات عالیات عراق، ص۲۱۴
  37. سایت سنوات الجریش

مآخذ

  • ابن‌اثیر، الکامل، بیروت، ۱۴۰۲ق.
  • ابن‌حجر، احمدبن علی، تعجیل المنفعہ بزواید الرّجال الائمہ، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۴ق.
  • ابن رستہ، احمدبن عمر، الاعلاق النّفیسہ، دخویہ کی کوشش، لیدن، ۱۸۹۱م.
  • ابن‌سعد، محمد، طبقات الکبری،احسان عباس کی کوشش، بیروت، دارصادر.
  • ابن عبدربہ، احمد بن محمد، عقدالفرید،احمدالزین اور دوسروں کی کوشش، قاہره، ۱۹۵۲م.
  • ابن قتیبہ، عبدالله بن مسلم، المعارف، ثروت عکاشہ کی کوشش، قاہره، ۱۹۶۰م.
  • اصفہانی، ابوالفرج، الأغانی، قاہره، ۱۲۸۵ق.
  • بخاری، محمدبن اسماعیل، التاریخ الصّغیر،محمود ابراہیم زاید و یوسف مرعشی کی کوشش، بیروت، ۱۴۰۶ق.
  • بلاذری، احمدبن یحیی، انساب الاشراف، به کوشش ف. گواتن، بغداد، مکتبہ المثنی.
  • خلیفہ بن خیاط، تاریخ، سہیل زکار کی کوشش، دمشق، ۱۹۶۸م.
  • دینوری، احمدبن داود، اخبار الطوال، عبدالمنعم عامر کی کوشش، قاہره، ۱۹۶۰م.
  • ذہبی، شمس‌الدین محمد، تاریخ الاسلام، قاہره، ۱۳۶۸ق.
  • طبری، تاریخ، محمد ابوالفضل ابراہیم کی کوشش، قاہره، ۱۹۶۰-۱۹۶۸م.
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بیروت، ۱۹۶۶م.
  • نصربن مزاحم، وقعہ الصّفین، عبدالسلام محمد ہارون کی کوشش، قاہره، ۱۳۸۲ق.