زہیر بن قین بجلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زہیر بن قین
ذاتی کوائف
نام کامل زہیر بن قین بجلی
محل زندگی کوفہ
وفات/شہادت عاشورا سنہ ۶۱ ہجری قمری
مدفن کربلا
دیگر فعالیتیں
سیاسی صحابی امام حسین(ع) اور واقعہ کربلا میں حاضری

زہیر بن قین بجلی "قبیلہ بجلیہ" کے بزرگان میں سے تھے جو کوفہ میں زندگی گزارتے تھے۔[1] آپ کوفہ کے بہادر اور شریف افراد میں شمار ہوتے تھے اور مختلف جنگہوں اور فتوحات میں حصہ لینے کی وجہ سے ایک خاص سماجی شخصیت کا حامل تھا۔[2] بعض تاریخی منابع میں "قین" -زہیر کے والد- کو رسول خدا(ص) کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔[3] زہیر امام حسین(ع) کے باوفا اصحاب میں سے تھے اور کربلا کے مقام پر واقعہ عاشورا میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہوئے۔[4]

واقعہ کربلا سے پہلے کی زندگی

زہیر عثمان کے حامیوں میں سے تھا۔ سنہ 60 ہجری کو زہیر اپنی بیوی اور بعض دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ مناسک حج سے واپسی پر کوفہ کے راستے میں کسی مقام پر امام حسین(ع) کے ساتھ ان کا آمنا سامنا ہوا۔ "دینوری" کے بقول یہ ملاقات "زَرُود" نامی جگہ پر ہوئی تھی۔[5]

امام حسین(ع) نے کسی شخص کو زہیر کے پاس بھیجا اور اس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ زہیر نے ابتداء میں اس ملاقات میں کوئی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا لیکن اس کی بیوی "دیلم" یا "دلہم" کے کہنے پر اس ملاقات پر راضی ہو گیا[6] اور امام حسین(ع) کے محضر مبارک میں حاضر ہوا۔ اس ملاقات نے زہیر کی زندگی کی کایہ ہی پلٹ کر رکھ دی۔ اس ملاقات کے بعد خوشی خوشی اپنے اہل عیال اور رشتہ داروں کے پاس لوٹ کر آیا اور حکم دیا کہ اس کا خیمہ بھی امام حسین(ع) کے خیمے کے نزدیک نصب کیا جائے۔[7]

زہیر نے اپنی بیوی سے وداع کیا اور ایک قول کی بنا پر اس نے بیوی کو طلاق دیا اور اس سے کہا: "میں امام حسین(ع) کے ساتھ شہادت کیلئے نکلتا ہوں، تم اپنے بھائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلی جا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے تجھے خوبیوں کے علاوہ کسی غم یا مصیبت میں گرفتار ہو۔"[8]

زہیر نے اپنی بیوی کے ساتھ وداع کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا: "جو کوئی بھی شہادت کا طالب ہو وہ میرے ساتھ آجائے ورنہ چلا جائے یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی۔"[9]

زہیر نے انہیں ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا: جس وقت "جنگ بلنجر" کیلئے گیا تھا تو فتح کے ساتھ بہت زیادہ غنائم نصیب ہوئے تو ہم بہت خوش ہوئے۔ سلمان فارسی - بعض منابع میں سلمان فارسی کی جگہ سلمان باہلی کا ذکر آیا ہے-[10] جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے کہا: "جب آل محمد(ص) کے جوانوں کے سردار سے ملاقات کرے اور اس کے ساتھ جنگ اور ان کی رکاب میں شہادت نصیب ہونے پر اس سے زیادہ خوشی کا اظہار کرو۔[11]

بعض منابع میں آیا ہے کہ زہیر کا چچا زاد بھائی سلمان بن مضارب نے زہیر کا ساتھ دیا اور امام حسین(ع) کے ساتھ ملحق ہو گئے۔

زہیر کا امام(ع) کے ساتھ ملحق ہونے کی کیفیت کو قبیلہ بنی فزارہ اور بجیلہ کی ایک جماعت نے یوں نقل کیا ہے:

"ہم زہیر بن قین کے ساتھ مکہ سے حج کرکے واپس آرہے تھے اور جب بھی امام حسین(ع) کسی منزل پر پڑاؤ ڈالتے تو ہم کسی اور جگہ پڑاؤ ڈالتے تھے لیکن بعض منازل اوقات ناچار ہمیں بھی اسی جگہ پڑاؤ ڈالنا پڑتا جس مقام پر امام حسین(ع) نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ منزل زرود پر جب پہنچے تو امام حسین(ع) نے اپنا قاصد ہمارے پاس بھیجا۔ [12]

ذو حسم کے مقام پر زہیر کی تقریر

امام حسین(ع) نے حر کے لشکر کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد ذو حُسَم نامی جگہے پر ایک خطبہ دیا جس میں دنیا کے حالات اور اس پر معاشرے پر حاکم حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور دنیاوی زندگی کے پست اور خقیر ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: "...کیا نہیں دیکھتے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے منع نہیں کیا جا رہا، ایسے میں مؤمن کو حق کا حامی اور اپنے پروردگا کی ملاقات کیلئے تیار ہونا چاہئیے۔ میں موت کو شہادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت اور رسوائی کے کچھ نہیں سمجھتا ہوں۔"[13]

امام(ع) کی تقریر ختم ہونے کے بعد زہیر پہلا شخص تھا جس نے امام عالی مقام کے فرمائشات پر عمل پیرا ہونے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"یابن رسول اللہ! ہم نے آپ کے کلام میں موجود بلند و بالا معارف کو سنا، اے فرزند رسول خدا(ص) اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہم ہمیشہ اس دنیا میں زندہ رہیں گے اور اس کے تمام سہولیات سے متفید ہونگے تو پھر ہھی ہم آپ کے رکاب میں شہید ہونے کو ترجیح دیتے"۔ اس موقع پر امام حسین(ع) نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور اسے اپنی لطف و مہربانی سے مستفید کرایا۔[14]

حر کے ساتھ جنگ کی تجویز

امام حسین(ع) کا قافلہ جمعرات کے دن 2 محرم کو سرزمین نینوا پر پہنچے تو حر بن یزید ریاحی کے عبیداللہ بن زیاد کا خط آیا جس میں ابن زیاد نے حر سے یو کہا:

"جب میرا قاصد میرا خط لے کر تہمارے پاس پہنچے تو حسین(ع) کے ساتھ سختی سے پیش آؤ اور اسے کسی بیابان میں قیام کرنے پر مجبور کرو۔ میں نے قاصد کو حکم دیا ہے کہ تم سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ میرے احکامات کے اجراء کرنے کی خبر مجھ تک پہنچا دے والسلام"۔

حر نے خط کے مضمون سے امام حسین(ع) کو آگاہ کیا تو امام(ع) نے اس سے فرمایا: "مجھے سرزمین "نینوا" یا غاضریہ یا شُفَیہ میں قیام کرنے دو۔"

حر نے کہا: "نا ممکن ہے، کیونکہ عبیداللہ نے اس خط لانے والے قاصد کو مجھ پر جاسوس مقرر کیا ہے"۔

زہیر نے کہا: "خدا کی قسم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد ہمارے اوپر مزید عرصہ تنگ ہوجائیگی۔ یابن رسول اللہ(ص)! ابھی اس مختصر جماعت [حر کا لشکر] کے ساتھ جنگ کرنا ہمارے لئے آسان ہے اس جنگ سے جو ان کے بعد ہم سے لڑنے آئینگے۔ میری جان کی قسم ان کے بعد ایک ایسی جماعت آ رہی ہے جس سے جنگ کرنا ہماری بس کی بات نہیں ہے۔ امام(ع) نے فرمایا: "ہم جنگ میں پہل کرنے والے نیہں بنیں گے۔"

زہیر نے کہا: "یہاں سے نزدیک فرات کے کنارے ایک آبادی ہے جو قدرتی طور ایک مستحکم جگہ ہے ہم وہاں پڑاؤ ڈالیں گے۔ امام حسین(ع) نے اس جگہے کا نام پوچھا تو زہیر نے کہا اس کا نام عقر ہے۔ امام(ع) نے فرمایا: "میں خدا کی پناہ مانگتاہوں "عقر!" سے۔[15]

زہیر تاسوعا کے دن

تاسوعا کے دن عصر کو جب عمر بن سعد کی فوج نے امام حسین(ع) کے خیموں کی طرف ہجوم لایی اور جنگ کا آغاز کرنا چاہی تو امام حسین(ع) نی اپنی بھائی حضرت عباس(ع) کو بلایا اور فرمایا کہ ان کے پاس جا کر ان کا مقصد دریافت کریں کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔

حضرت عباس(ع) نے تقریبا 20 افراد منجملہ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر کو لے کر دشمن کی فوج کی طرف گیا اور ان سے کہا کہ تم لوگ کیا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا: اگر آپ لوگ یزید کی بیعت نہ کریں تو ہمیں آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حضرت عباس(ع) نے فرمایا: مجھے مہلت دے دو تاکہ میں تمہارا پیغام امام حسین (ع) تک پہنچا دوں۔

انہوں نے قبول کیا اور جواب کا منتظر رہا۔

اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئی حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے عمر سعد کی فوج کو نصیحت کرنا شروع کیا۔

حبیب بن مظاہر نے ان سے عترت پیغمبر(ص) اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پرہیز کرنے کو کہا۔

عزرہ بن قیس- جو عبیداللہ بن زیاد کی فوج میں سے تھا- نے حبیب سے مخطاب ہو کر کہا: جتنا ہو سکے اپنی تعریف کرو!

زہیر بن قین نے ان کے جواب میں کہا: "اے عزرہ خداوند متعال نے انہیں پاکیزہ اور ان کی ہدایت فرمائی ہے خدا سے ڈرو اور یہ جان لو کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خدا کیلئے نیک اور صالح بندوں کو قتل کرنے میں گمراہوں اور ظالموں کی مدد کرنے والے افراد میں سے مت جاؤ۔"

عزرہ نے کہا: اے زہیر! تم تو اس خاندان کے شیعہ اور پیروکاروں میں سے نہیں تھا بلکہ تم تو عثمان کے پیروکارں میں سے تھے۔

زہیر نے کہا: "آیا میرا یہاں ہونا میرے ان کے ساتھ ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ جان لو خدا کی قسم میں نے ہرگز حسین بن علی(ع) کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ کوئی قاصد ان کی طرف بھیجا ہوں اور نہ کبھی ان کی مدد کرنے کا وعدہ دیا ہوں لیکن راستے نے مجھے اور ان کو ایک ساتھ جمع کیا اور جب میں نے ان کو دیکھا تو رسول خدا(ص) اور ان کے ہاں امام حسین(ع) کے مقام و منزلت کی یاد تازہ ہوئی اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ دشمن کی طرف جا رہا ہے تو میں نے مصلحت اسی میں دیکھا کہ ان کی مدد کی جائے اور اس کے ساتھ رہوں اور اپنی جان ان کی جان پر قربان کردوں جس چیز کیلئے تم لوگوں نے خدا اور رسول خدا(ع) کا حق ضایع کیا ہے۔"[16]

زہیر اور شب عاشورا

شب عاشورا کو امام حسین(ع) نے جب اپنے اصحاب اور اپنی اہل بیت(ع) سے اپنی بیعت اٹھا لی اور انہیں امام(ع) کو چھوڑ کر جانے اور اپنی جان بچانے کی اجازت دے دی تو آپ کے باوفا اصحاب میں سے ہر ایک نے اپنی وفاداری اور ثابت قدمی کا اظہار کیا۔ آپ(ع) کے اہل بیت(ع) کی گفتگو کے بعد مسلم بن عوسجہ اور ان کے بعد زہیر بن قین کھڑے ہو کر عرض کیا: "خدا کی قسم مجھے مارا جائے پھر زندہ کیا جائے اور دبارہ مارا جاوں اس طرح ہزار مرتبہ بھی مجھے مارا جائے لیکن آپ(ع) اور آپ کے اہل بیت(ع) کو خدا محفوظ رکھے تو مجھے یہ چیز پسند ہے۔[17]

روز عاشورا امام کے لشکر کی دائیں بازو کی قیادت

صبح عاشورا نماز فجر کی ادائیگی کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب اور لشکر کو منظم اور مرتب کیا۔ زہیر کو دائیں بازوں اور حبیب بن مظاہر کو بائیں بازو کی قیادت اور اپنے بھائی حضرت عباس(ع) کو لشکر کا علم سونپ دیا۔[18]

لشکر عمر سعد کو نصیحت

روز عاشورا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنا سامنا ہوئے تو جنگ شروع ہونے سے پہلے امام(ع) نے دشمن کے سپاہیوں کو نصیحت کرنا شروع کیا۔

امام(ع) کی تقریر کے بعد زہیر بن قین نے امام(ع) سے کچھ گفتگو کرنے کی اجازت طلب کی اور کوفہ والوں سے مخاطب ہو کر کہا:

"اے کوفہ والو! میں تمہیں خدا کے غذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مسلمان کا دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور ایک دوسرے کیلئے خیر اور نیکی طلب کرے۔ جب تک تلوار ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دین کے پیروکار اور ایک ہی قوم ہیں اس بنا پر ہمارے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہاری نصیحت کریں لیکن جب تلوار ہمارے اور تہمارے درمیان فیصلہ کرے اور ہمارے اور تمہارے درمیان موجود رشتے کو توڑ ڈالے تو اس وقت ہم ایک ملت ہیں اور تم دوسری ملت۔ جان لو کہ خدا نے ہمیں پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت(ع) کے ذریعے آزمایا ہے تاکہ یہ دیکھ لیں کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ میں تمہیں ان کی حمایت اور عبیداللہ بن زیاد کے خلاف بغاوت کی دعوت دیتا ہوں۔ تم لوگوں نے عبیداللہ بن زیاد اور ان کے والد کی حکومت سے برائی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں پایا ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے تمہاری آنکھوں نکال دی تھیں[19]، تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے تھے، تمہیں مثلہ کر ڈالا تھا[20] اور تمہارے بزرگوں اور قاریوں جیسے حجر بن عدی اور ان کے ساتھی ہانی بن عروہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سولی پر چڑا دیا تھا۔"

عمر سعد کی فوج نے زہیر کو گالیاں اور عبیداللہ بن زیاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "خدا کی قسم ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک تمہارے مولا {امام حسین(ع)} کو قتل کریں یا انہیں عبیداللہ کے حوالے کریں۔"

زہیر نے کہا: "اے بندگان خدا، فاطمہ(س) کا لخت جگر دوستی اور حمایت کرنے میں سمیہ کے بیٹے سے زیادہ سزاوار ہے اور اگر اس کی مدد اور حمایت نہیں کرتے ہو تو خدا سے ڈرو اور ان کے خون سے اپنے دامن کو بچاؤ۔ آؤ حسین ابن علی(ع) کو اپنے چچا زاد -یزید بن معاویہ- کے ساتھ اپنے حال پر چھوڑ دو میری جان کی قسم حسین(ع) کی قتل کے بغیر بھی یزید تمہاری فرمانبرداری پر راضی ہے۔"

کوفیوں کے ہاں زہیر کی شہرت

کوفیوں کے ہاں زہیر ایک دلیر اور ممتاز شخصیت کا حامل تھا۔ اسی وجہ سے روز عاشورا کی صبح اوائل جنگ میں جب "زیاد بن ابیہ" اور "عبیداللہ بن زیاد" کے دو غلام "سالم" اور "یسار" کی طرف سے مبارزہ کیلئے پکارا گیا اور ان کے ساتھ مقابلہ کیلئے جب عبداللہ بن عمیر کلبی چلا گیا تو انہوں نے کہا ہم تمہیں نہیں پہچانتے جاؤ زہیر بن قین یا حبیب ابن مظاہر میں سے کسی ایک کو ہمارے ساتھ جنگ کیلئے بھیج دو۔"[21]

زہیر اپنی جگہ سے بلند ہوا تاکہ ان دونوں کے جنگ طلبی کا جواب دے لیکن امام حسین(ع) نے زہیر کو جنگ کی اجازت نہیں دی اور عبداللہ بن عمیر کو ہی ان کے ساتھ مقابلہ کیلئے بھیج دیا۔

خیمہ گاہ حسینی(ع) سے دشمن کے حملوں کا روک تھام

جنگ کے آغاز سے ہی شمربن ذی الجوشن نے اپنے ساتھیوں سمیت خیموں کے پشت سے امام حسین(ع) کے خیموں پر حملہ کیا اس نے ایک نیزے کے ساتھ امام حسین(ع) کے خیمے پر وار کیا اور فریاد بلند کیا: "آگ لے آؤ تاکہ اس گھر کو اس کے مکین سمیت آگ لگا دی جائے۔" اس حالت کو دیکھ کر امام(ع) نے آواز بلند فرمایا: "اے ذی الجوشن کے بیٹے! کیا تم آگ طلب کر رہے ہو تاکہ میرے گھر کو میرے خاندان سمیت آگ لگا دی جائے؟ خدا تجے آگ میں جلا ڈالے۔"

اس وقت زہیر نے اپنے دس ساتھیوں سمیت شمر اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور ان کو وہاں سے بھگا دیا۔[22]

تن بتن لڑائی

حبیب بن مظاہر کی شہادت کے بعد زہیر اور حر بن یزید ریاحی اکھٹے میدان کی طرف چلا گیا۔ وہ دونوں جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کر رہا تھا اور جب بھی ان میں سے ایک دشمن کے نرغے میں آتا تو دوسرا اس کی مدد کیلئے پہونچ جاتا تھا۔ یہ دونوں پے در پے جنگ میں مشغول تھا یہاں تک کہ حر شہید ہو گیا تو زہیر بھی خیمہ گاہ کی طرف لوٹ کر آیا۔[23]

ظہر عاشورا نماز گزاروں کی حفاظت

ظہر کی نماز کے وقت جب امام حسین(ع) نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز خوف کیلئے جب کھڑے ہو گئے تو زہیر بن قین اور "سعید بن عبداللہ حنفی" امام(ع) کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے خود کو دشمن کے تیروں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے کر دیا اس طرح امام(ع) اور دوسرے نماز گزاروں نے اپنی نماز قائم کیں۔[24]

شہادت

نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد زہیر نے امام(ع) کیلئے یہ اشعار پڑھا:

اقدم هدیت هادیاً مهدیا الیوم تلقی جدّک النّبیا(ص)
و حسناً(ع) و المرتضی علیا(ع) و ذا الجناحین الفتی الکمیا
و اسد الله الشّهید الحیا

"آگے بڑھتا جا اے ہدایت یافتہ اور لوگوں کا رہنما، آپ اپنے جد نبی اکرم(ص) سے ملاقات کروگے۔ اسی طرح حسن مجتبی(ع)، علی مرتضی(ع) اور جعفر طیار وہ دلیر انسان اور حمزہ شیر خدا شہید زندہ سے ملاقات کرو گے۔"

امام(ع) سے اجازت طلب کرنے کے بعد زہیر میدان کی طرف بڑھتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہا تھا:

انا زهیر و انا ابن القین اذودکم بالسیف عن حسین(ع)
ان حسیناً(ع) احد السبطین من عترة البر التقی الذی
ذاک رسول الله غیر المین اضربکم و لا اری من شین

"میں قین کا بیٹا زہیر ہوں اور اپنے تلوار سے امام حسین(ع) کی ناموس سے دفاع کرونگا۔ حسین(ع) رسول خدا(ص) کے دو نواسوں میں سے ایک ہے ایک ایسے خاندان سے ان کا تعلق ہے جن کی زینت نیکی اور تقوا ہے۔ اس وقت وہ خدا کی حجت ہے پیغمبر کے نسل سے اور میں تمہیں قتل کر دونگا اور اسے کوئی عیب نہیں جانتا ہوں۔"

نقل ہوا ہے کہ اس نے میدان جنگ میں دشمن کے 120 افراد کو ہلاک کیا۔آخر کار زہیر کثیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس تمیمی کے ہاتھوں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوا۔[25]

شہادت کے بعد زہیر کے حق میں امام حسین(ع) کی دعا

امام حسین(ع) نے زہیر کی شہادت کے بعد فرمایا: اے زہیر خدا تمہیں اپنی رحمت سے دور نہ کرے اور تمہارے قاتلوں پر خدا کی لعنت ہو، اور تمہارے قاتلوں کو بنی اسرائیل کے مسخ شدہ افراد کی طرح ہمیشہ کیلئے اپنی لعنت میں گرفتار کرے۔" [26]

زیارت ناحیہ میں زہیر کا تذکرہ

زیارت ناحیہ مقدسہ میں دو مقام پر زہیر کا نام آیا ہے: سلام ہو زہیر بن قین بجلی پر وہ مرد مجاہد جسے امام حسین(ع) نے واپس جانے کی اجازت دے دی تو اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم میں ہرگز رسول خدا(ص) کے بیٹے کو جس پر خدا کا درودھ و سلام ہو، تنہا نہیں چھوڑونگا، آیا رسول خدا(ص) کے بیٹے کو دشمن کے نرغے میں اسیری کی حالت میں چھوڑ دوں اور اپنے آپ کو نجات دے دوں؟ خدا مجھے ایسا دن نہ دکھائے۔[27]

متعقلہ صفحات

حوالہ جات

  1. تنقیح المقال ج۱، ص۴۵۲-۴۵۳.
  2. السماوی، محمد، ابصارالعین فی انصار الحسین(ع)، ص۱۶۱.
  3. السماوی، محمد، ابصارالعین فی انصار الحسین(ع)، ص۱۶۱.
  4. انساب الاشراف، ج۳، ص۱۸۷؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۰؛ الارشاد، ج۲، ص۹۵؛ الاخبار الطوال، ص۲۵۶.؛ الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۹.
  5. الاخبار الطوال، ص۲۴۶.
  6. انساب الاشراف ج۳، ص۱۶۷؛ تاریخ الطبری ج۴، ص۲۹۸.
  7. انساب الاشراف، ج۳، ص۱۶۷-۱۶۸؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص ۲۹۸؛ تنقیح المقال، ج۱، ص۴۵۲-۴۵۳.
  8. تاریخ الطبری، پیشین، ص ۳۹۶ و شیخ مفید، پیشین، ص ۷۲ - ۷۳ و فتال نیشابوری، محمد بن حسن؛ روضۃ الواعظین، ج ۲، ص ۱۷۸ و حلی، ابن نما؛ مثیر الاحزان، صص ۴۶ - ۴۷.
  9. الاخبار الطوال، ص۲۴۶-۲۴۷.
  10. تاریخ الطبری، ج۴، ص۲۹۹.
  11. تاریخ الطبری، ج۴، ص۲۹۹؛ الارشاد ج۲، ص۷۳؛ الكامل فی التاریخ، ج۴، ص۴۲؛ مقتل الحسین خوارزمی ج۱، ص۳۲۳؛ معجم ما استعجم ج۱، ص۲۷۶؛ شیخ مفید، ص۷۳؛ فتال نیشابوری، ج۲، ص۱۷۸؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۹۶۵، ج۴، ص۴۲.
  12. تاریخ الطبری، ص۳۹۶؛ شیخ مفید، ص۷۲-۷۳؛ فتال نیشابوری، روضة الواعظین، ج۲، ص۱۷۸؛ حلی، ابن‌ نما؛ مثیر الاحزان، ص۴۶-۴۷.
  13. تاریخ الطبری، ص۳۹۶.
  14. انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۱؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۰۵؛ الملہوف، ص۱۳۸.
  15. انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۶؛ الكامل فی التاریخ ج۴، ص۵۱-۵۲. الاخبار الطوال، ص۲۵۱-۲۵۲؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۰۹؛ ارشاد، ج۲، ص۸۳-۸۴.
  16. الفتوح، ج۵، ص۱۷۷-۱۷۸؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۸۴؛ مقتل الحسین خوارزمی ج۱، ص۳۵۳-۳۵۴؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۱۵-۳۱۶.
  17. تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۱۸؛ الارشاد ج۲ ص۹۲؛ الملہوف، ص۱۵۳.
  18. تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۰. انساب الاشراف ج۳، ص۱۸۷؛ الارشاد ج۲ ص۹۵؛ الاخبار الطوال، ص۲۵۶؛ الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۹؛ مقتل الحسین علیہ السلام، خوارزمی ج۲، ص۶-۷.
  19. کور کردن کسی با میل داغ کردہ. کور کردن و نابینا ساختن. نابینا کردن. ترکانیدن چشم با میل(لغت‌نامہ دہخدا)
  20. بریدن گوش و بینی یا چیزی دیگر از اطراف تن. بریدن عضوی از اعضای تن کسی(لغت‌نامہ دہخدا)
  21. تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۷؛ الارشاد، ج۲، ص۱۰۱.
  22. تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۴؛ الكامل فی التاریخ، ج۴، ص۶۹-۷۰؛ انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۴؛ الارشاد، ج۲، ص۱۰۵.
  23. تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۶؛ الکامل فی التاریخ ج۴، ص۷۱؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۹۵.
  24. مقتل الحسین خوارزمی ج۲، ص۲۰؛ الملہوف، ص۱۶۵.
  25. مناقب آل ابی طالب ج۳، ص۲۲۵؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۶؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۹۶؛ الیامل فی التاریخ، ج۴، ص۷۱.
  26. مقتل الحسین خوارزمی ج۲، ص۲۳.
  27. الاقبال ج۳، ص۷۷-۷۸.



مآخذ

  • احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، تحقیق محمدباقر محمودی، بیروت، دارالتعارف، چاپ اول، ۱۹۷۷م.
  • ابن اعثم الکوفی، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، ۱۹۹۱م.
  • ابن نما حلی، مثیر الاحزان، قم، مدرسہ امام مہدی(عج)، ۱۴۰۶ق.
  • الموفق بن احمد الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبۃ المفید، بی‌تا.
  • محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین(ع)، تحقیق محمد جعفر الطبسی، مرکز الدرسات الاسلامیہ لممثلی الولی الفقیہ فی حرس الثورۃ الاسلامیہ، چاپ اول.
  • محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۹۶۷م.
  • علی بن ابی الکرم ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، ۱۹۶۵م.
  • عبداللہ المامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، تحقیق محیی الدین المامقانی و محمدرضا المامقانی، قم، آل البیت(ع)، لاحیاء التراث، چاپ اول، ۱۴۳۰م.
  • فتال نیشابوری، محمد بن حسن، روضۃ الواعظین، ج۱، قم: رضی، بی‌تا.
  • سید بن طاوس، اقبال الاعمال، تہران: دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۷ش.
  • سید بن طاووس، اللہوف، قم، انوار الہدی، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • شیخ مفید، الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • الیعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، ج۲، بیروت، دار صادر، بی‌تا.