محرم کی عزاداری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


محرم کی عزاداری سے مراد واقعہ کربلا کی یاد میں منعقد ہونے والے خاص مراسم ہیں۔ شیعہ حضرات ہر سال محرم الحرام کے مہینے میں سنہ 61 ہجری قمری کے واقعے میں امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو یاد کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حضرت زینب، امام سجاد(ع)، ام البنین اور رباب وغیرہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے امام حسین(ع) پر عزاداری منعقد کئے۔ اسی طرح کمیت اسدی اور دعبل خزاعی نے امام باقر(ع)، امام صادق(ع) اور امام رضا(ع) کے زمانے میں امام حسین(ع) کی مصیبت میں اشعار کہے ہیں۔

شروع میں عزاداری کی ان محفلوں میں امام حسین(ع) کی مصیبت کو اشعار میں بیان کرنے کے ذریعے آپ(ع) پر گریہ و زاری کی جات تھی لیکن رفتہ رفتہ ان محافل میں مرثیہ سرائی، نوحہ خوانی اور سینہ زنی وغیرہ بھی انجام پانے لگا۔ ایران میں آل بویہ، صفویہ اور قاجاریہ کی حکومت کے دوران عزاداری کے مراسم پورے ملک میں پھیل گئے یہاں تک کہ خاندان صفویہ کے دور حکومت میں جہاں عزاداری کے مراسم میں وسعت آئی وہاں شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دے دیا گیا۔ البتہ ایران کے بعض حکمرانوں جیسے نادرشاہ افشار اور رضاشاہ پہلوی کے دور حکومت میں عزاداری کو محدود کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

شیخ عبدالکریم حائری یزدی جو اپنے زمانے میں حوزہ علمیہ قم کے سرپرست تھے، نے محرم اور صفر میں ملک کے مختلف شہروں میں دینی طلاب کو بعنوان مبلغ بھیجا اور قم میں تعزیہ خوانی پر پابندی لگا دی۔ اسی طرح شہید مرتضی مطہری اور ڈاکٹر علی شریعتی نے بھی اپنے دور میں عزاداری کے مراسم کو مختلف قسم کے خرافات سے دور رکھنے کی کوشش کی ہیں۔ جمہوری اسلامی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی اپنے ایک فتوے میں عزاداری میں قمہ زنی کو حرام قرار دیا اسی طرح قم میں موجود دوسرے مراجع جیسے ناصر مکارم شیرازی، محمد فاضل لنکرانی، میرزا جواد تبریزی، حسین نوری ہمدانی اور حسین مظاہری نے بھی اس طرح کے فتوے جاری کئے ہیں۔

تاریخی پس منظر

واقعہ عاشورا کے شہداء کا غم منانا اور ان پر عزاداری کرنا، سنہ 61 ہجری قمری کے اس واقعے پر فورا بعد آغاز ہوا جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ لیکن اس پوری تاریخ میں عزاداری کے طور طریقوں میں مختلف تبدیلیاں آتی گئیں اس طرح بہت ساری رسومات عزاداری میں شامل ہوئی ہیں۔

معصومین(ع) کے دور میں عزاداری

واقعۂ عاشورا کے بعد امام(ع) پر گریہ و زاری کرنے والی ہستیوں میں سب سے پہلے آپ(ع) کے فرزند امام زین العابدین(ع)، آپ(ع) کی بہن زینب بنت علی(س) اور ام کلثوم تھیں۔ مقاتل کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے کہ حضرت زینب(ص) جب اسیری کے وقت اپنے بھائی کی لاش کے قریب سے گزری تو بھائی کی لاش پر ان الفاظ میں نوحہ کیا جس نے دوست اور دشمن سب کو رلا کر رکھ دیا:

اے میرے نانا محمد(ص)! تجھ پر آسمان کے فرشتے سلام بھیجتے ہیں یہ صحرا کی گرم ریت پر پڑا ہوا لاشہ تیرے حسین(ع) کا ہے۔ اے نانا تیری بیٹیاں اسیر ہو کر شام جارہی ہیں اور ان کے چہروں پر مصیبت کے گرد و غبار آن پڑا ہے۔

ان کے علاوہ آپ(ع) کی بیٹیاں اور زوجۂ مکرمہ رباب بنت امرؤ القیس وغیرہ نے کربلا میں شہداء کے لاشوں پر[1] اور بعدازاں کوفہ[2] اور پھر شام[3] میں عزاداری اور مرثیہ سرائی کا اہتمام کیا۔ یہاں تک کہ جب اسیران کربلا کا قافلہ شام میں وارد ہوئے اور امام سجاد(ع) اور حضرت زینب(س) کے خطبوں سے جب لوگوں پر حقیقت عیاں ہوئی اور یزید اور اس کے کارندوں کے ظلم و ستم کا پتہ چلا تو بنی امیہ کی خواتین نے بھی شہدائے کربلا پر گریہ کیں اور شام میں تین دن [4] یا 7 دن [5] سوگ منایا گیا۔

جب اسیران کربلا کا قافلہ شام سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو امام سجاد(ع) کے حکم پر بشیر بن جذلم نے اشعار کے ذریعے اہل مدینہ کو اہل بیت(ع) کی آمد کی خبر دی تو اہل مدینہ نے اہل بیت کی مصیبت میں گریہ و زاری کئے[6]۔ اسی طرح مدینے میں موجود اہل بیت کی خواتین نے عزاداری برپا کر کے مدینے میں سوگ منائیں جن میں زینب بنت عقیل[7]، ام البنین[8] اور رباب‌ شامل ہیں[9]۔

امام باقر(ع) اور امام صادق(ع) کے دور امامت میں کمیت اسدی[10] اور امام رضا(ع) کے دور امامت میں دعبل خزاعی نامور شیعہ مرثیہ گو شعراء میں سے تھے جنہوں نے امام حسین(ع) کی شان میں مرثیہ خوانی کی ہیں۔[11] اس دور میں امام حسین(ع) کی مصیبت کو اشعار کی صورت میں حکایت کرنے والوں کو "مُنشِد" کہا جاتا تھا۔[12]

عزاداری میں وسعت

آل‌بویہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت وقت کی جانب سے شیعوں پر لگائے گئے پابندیوں کا خاتمہ ہوا[13] اور سنہ352 ق میں تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت کی جانب سے روز عاشورا کو سرکاری طور پر چھٹی اور سوگ کا اعلان کیا گیا اور اس دن خرید و فروخت پر پابندی لگا دی گئی، قصائیوں کو حکم دیا گیا کہ اس دن کے احترام میں کسی جانور کو ذبح نہ کیا جائے اور کھانے پینے کے مراکز میں کھانا وغیره تیار نہ کیا جائے اور بازاروں میں عزاداری کے خیمے نصب کئے گئے۔[14] آل‌بویہ کے دور میں شیعیان عزاداری کے مراسم کو "الناحیہ" یا "الرثا" کے عنوان سے منعقد کرتے تھے۔[15]

تیموریوں کے دور میں ذاکرین کھلے عام بغیر کسی روک ٹوک کے ائمہ(ع) کی شان میں منقبت پڑھا کرتے تھے[16] اور مداحی کی اصطلاح اسی زمانے سے رائج ہوئی[17] اسی طرح روضہ خوانی کی اصطلاح بھی اس دور کے بعد سے رواج پانے لگا جس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اسی دور میں ملا حسین واعظ کاشفی نے روضۃ الشہدا نامی کتاب تحریر کی جو ہر خاص و عام میں اس قدر مقبول ہوئی کہ عزاداری کی اکثر محفلوں میں اسی کتاب کے مطالب سے استناد کیا جانے لگا۔ یوں رفتہ رفتہ اس کتاب کے مطالب نقل کرنے والوں کو روضہ خوان کا نام دیا جانے لگا اور گذر زمان کے ساتھ امام حسین(ع) کی مصیبت بیان کرنے والے ہر شخص کو اس نام سے یاد کرنے لگا۔[18]

سلسلہ صفویہ میں شاہ اسماعیل صفوی کے حکم سے ایران کا سرکاری مذہب شیعہ قرار دینے کے بعد امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کی یاد میں عزاداری اپنے عروج پر پہنچ گئی اس دور میں باقاعدہ حکومتی پشت پناہی اور صفویہ خاندان کے بادشاہوں کی موجودگی میں نوحہ خوانی، سینہ زنی اور عزاداری کے مراسم برگزار ہونے لگے۔[19] اس کے بعد سے ایران میں باقاعدہ طور پر امام بارگاہوں اور عزاداری سے مربوط موقوفات تشکیل پائے۔[20] افشاریہ دور میں نادرشاہ نے عزاداری پر کچھ پابندیاں عاید کی۔[21] سلسلہ زندیہ میں پہلی بار تعزیہ اور شبیہ خوانی کے مجالس کا انعقاد ہوا۔[22]

سلسلہ قاجاریہ میں تعزیہ خوانی کا فروغ

قاجاریہ دور میں عزاداری خاص کر تعزیہ کے مراسم اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔[23] ناصرالدین‌شاہ عزاداری کے مجالس میں تجملات اور اشرافیت کا موجب بنا اور بعض اوقات محرم کے پہلے عشرے میں وہ واعظوں اور مجالس میں شرکت کرنے والوں کی طرف مٹھی بھر بھر کر سکے پھینکتے تھے۔[24] قمہ زنی سمیت "شمایل‌کشی"، زنجیرزنی اور رسم 41 منبر وغیرہ ناصرالدین‌شاه کے دور میں ایجاد یا رواج پانے ہونے والے مراسمات میں سے ہیں۔[25]

قاجاریہ دور میں عزاداری کے مراسمات میں آنے والی تبدیلوں میں سے ایک "میرزا ملکم خان" اور "میرزا فتح علی آخوندزادہ" جیسے روشنفکروں کے توسط سے عزاداری پر ہونے والے اعتراضات ہیں۔[26] شام غریبان کے مراسم کا رواج مظفرالدین شاہ کے دور میں ہوا۔ اس دور میں امام حسین(ع) کی عزاداری محرم کے علاوہ صفر میں بھی برگزار ہونے لگی۔[27]

رضا خان کے دور میں عزاداری پر پابندی

اگرچہ رضاخان اپنی اقتدار کے ابتدائی سالوں میں عزاداری کی مجالس میں شرکت کرتے تھے[28] لیکن بعد میں روشنفکری کے نام پر آہستہ آہستہ مجالس سے دور ہونے لگے اور یہ دوری آخر کار عزاداری پر مختلف پابندیاں عاید کرنے تک جا پہنچی۔ سن 1314 ہجری شمسی کو کشف حجاب کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے اس نے مختلف مناطق کے گورنروں کو حکم دیا کہ محرم اور صفر میں عزاداری کی جلوسیں نکالنے سے روکا جائے اور عزاداری کی مجلسوں میں لوگوں کو کرسیوں اور بینچوں پر بیٹھنے کی تشویق کی جائے۔ مشہد میں مسجد گوہرشاد کے واقعے کے بعد عزاداری کی مجالس پر پابندیوں میں اضافہ ہوا اور شہری پولیس کو عزاداری کی مجلسیں برگزار ہونے سے روکنے کی خصوصی احکامات جاری ہوئے۔ یہاں تک کہ بعض شہروں میں مجالس برپا کرنے والوں اور ان مجالس کے خطیبوں کو گرفتار کر کے قید خانوں تک پہنچایا گیا۔[29]

رضا خان کے مذکوره اقدامات کے مقابلے میں شیخ عبدالکریم حائری یزدی نے عزاداری کے مجالس کو جاری رکھنے کی بھر پور کوشش شروع کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے عزاداری کے ایام میں طلاب کو مختلف مناطق میں تبلیغ اور خطابت کیلئے بھیجنا شروع کیا۔[30] اسی طرح انہوں نے ان مجالس کی اصلاح کی خاطر بھی بعض اقدامات انجام دیئے۔ قم میں شبیہ‌ خوانی کی ممانعت کی اور تعزیہ خوانی کے مجالس کو روضہ‌خوانی میں تبدیل کیا۔[31]

سن 1320 ہجری شمسی کو رضاخان کی سرنگونی کے بعد عزاداری کی مجالس پر عاید پابندیاں بھی رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہنچیں یوں ایک دفعہ پھر قمہ‌زنی، قفل‌ بندی، زنجیرزنی، شاخ‌حسینی وغیرہ جیسے مراسم برپا ہونے لگے۔[32]

عاشورا اور ایام محرم میں عزاداری کی روشیں

عزاداری ایران میں

عزاداری کے ان مراسمات کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: متحرک اور ساکن؛

عزاداری کی یہ دونوں روشیں عام طور پر محرم الحرام کے پہلے دس ایام کے دوران بروئے کار لائی جاتی ہیں، سب سے زیادہ جذبات کی ادائیگی ان ہی ایام میں ہوتی ہے اور سب سے زیادہ مراسمات عاشورا کے دن منعقد کئے جاتے ہیں۔

متحرک عزاداری

عاشورا کی عزاداری کے سیّار یا متحرک مراسمات میں عوام اور شرکاء کے عزادار دستوں میں سینہ زن، زنجیر زن وغیرہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ عزا کے دستے حلقہ وار انداز سے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کے گوشے گوشے سے روانہ ہوکر ایک دوسرے سے جاملتے ہیں اور مراسمات ایک خاص مقام (جیسے امام زادگان کے مزارات، ائمہ(ع) کے مشاہد شریفہ، امام بارگاہوں اور حسینیات یا شہر یا گاؤں کے بزرگوں کے گھروں) پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

ایران میں عاشورا کے سیار یا متحرک عزاداری کے مراسمات کے ضمن میں عوام کے دستے نکلتے ہیں اور چار پھیوں پر المیۂ کربلا کی زندہ تصاویر رکھ کر پیش کی جاتی ہیں۔

شرکاء کے دستے تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

سینہ زن، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سینہ کوبی کرتے ہیں؛

زنجیر زن، وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر زنجیر زنی کرتے ہیں۔ پاک و ہند میں بعض لوگ چھریوں کی زنجیریں مار کر اپنی پیٹھ کر زخمی کرتے ہیں؛

قمہ زن، وہ لوگ جو اپنے سروں کو قمے مار مار کر زخمی کرتے ہیں؛

بعض لوگ پتھر مار کر اپنے آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔

بعض لوگ جو عَلَم کو امام حسین(ع) کے پرچم ـ جو کربلا میں ہے ـ کے طور پر اٹھاتے ہیں۔

بعض دستوں میں نخل (جو بڑا چوبی صندوق ہے کو بظاہر تابوت کے عنوان سے) اٹھاتے ہیں، کیونکہ حدیث کے مطابق امام حسین(ع) کا جسم بےسر کھجوروں کی شاخوں کی بنے ہو‏‏‏ئے چوپائے پر اٹھایا گیا تھا۔

بعض نخل اس قدر عظیم ہیں کہ انہیں اٹھانے کے لئے 150 افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

عسکری اور عزائی موسیقی [نقارہ اور بگل وغیرہ۔۔۔) کا دستہ ان دستوں کا ساتھ دیتا ہے۔

عظیم ترین اجتماعی حرکت عاشورا کے دن انجام پاتی ہے۔

عزاداروں ک عزا کے دستے حلقہ وار انداز سے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کے گوشے گوشے سے روانہ ہوکر ایک دوسرے سے جاملتے ہیں اور مراسمات ایک خاص مقام (جیسے امام زادگان کے مزارات، ائمہ(ع) کے مشاہد شریفہ، امام بارگاہوں اور حسینیات یا شہر یا گاؤں کے بزرگوں کے گھروں) پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

ساکن عزاداری

ساکن مراسمات، روضہ خوانی اور تعزیہ سے عبارت ہیں، روضہ خوانی میں میں کربلا کے خونی واقعے میں امام حسین(ع)، آپ(ع) کے خاندان اور اصحاب و پیروکاروں کی داستان نقل کی جاتی ہے۔

شیعہ شہداء کی تاریخ کا راوی (روضہ خوان)، اکٹھی ہونے والے عزاداروں کے سامنے ـ کسی خیمے میں، سائبان تلے، یا امام بارگاہ یا امام باڑے کے اندر ـ منبر پر بیٹھتا ہے اور سننے والے اور حاضرین واقعات کو سنتے ہیں، اشعار سنتے اور پڑھتے ہیں اور زار و قطار روتے ہیں اور ان کی جسمانی حرکات سے وجد اور شوریدگی کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔


تاہم ایران میں اہم ترین رسم عزاداری، تعزیہ ہے؛ یہ واحد سنجیدہ منظرنامہ نویسی یا ڈرامہ نگاری ہے جو عالم اسلام میں فروغ پاچکی ہے؛ تعزیے میں امام حسین(ع) شہادت کی روایت بیان ہوتی ہے اور دکھائی جاتی ہے۔

دسویں صدی ہجری/ سولہویں صدی عیسوی میں شیعہ کی ترویج اور تشیع کے معمول کے عقائد کے فروغ کے بعد، ایران اس سرزمین میں بدل گیا جس میں عاشورا کی رعایت بنیادی شرط ہے۔

پردہ خوانی کے مراسمات

پردہ داری اور پردہ خوانی، یک شخصی "تصویری اور کلامی قصہ گوئی"

یک شخصی تصویری اور زبانی قصہ گوئی ایک اور قسم کی نمائش ہے جس کے تحت راوی (نقال) کرباس (=) کے عظیم طومار پر روغنی تصاویر ـ جو میدان کربلا کے مناظر کی عکاسی کرتے ہیں ـ ہاتھ میں لیتا ہے۔

جس طرح کہ راوی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے، تصویروں کا ایک ورق لٹکا دیتا ہے اور شعر پڑھتا ہے اور قصہ بیان کرتا ہے اور ایک چھڑی کے ذریعے مناظر کی وضاحت کرتا ہے۔

عزاداری دوسرے ملکوں میں

پاک و ہند

ہند و پاک میں عاشورا کے مراسمات اور آداب میں ـ کچھ اضافات اور استثنائی آداب کے ساتھ ـ ایرانی روشوں کی پیروی کی جاتی ہے۔

تاہم دلچسپ امر یہ حقیقت ہے کہ وہاں حتی سنیوں سمیت مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھی عاشورا کے آداب و رسوم میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور ایام عزاداری میں سنی کے جداگانہ آداب و رسوم بھی ہیں۔

بر صغیر پاک و ہند میں عاشورا کے نمایاں آداب و رسوم کی خصوصیات میں سے حرم امام حسین(ع) کے عظیم ہنرمندانہ نمونے ہیں جو عزاداروں کے جلوس میں اٹھائے جاتے ہیں یا پھر پھیوں والے چوپایوں پر رکھے جاتے ہیں۔

روز عاشورا کے آخری اوقات میں ـ یہ نمونے جنہیں اصطلاحا تعزیہ کہا جاتا ہے ـ یا مقامی قبرستان میں کربلا سے موسوم کسی مقام پر دفنائے جاتے ہیں یا پانی کے سپرد کئے جاتے ہیں۔

بیان شہادت امام حسین(ع) ـ جس کو ایران میں روضہ خوانی اور ہندوستان اور پاکستان میں مجلس کہا جاتا ہے ـ یا تو کھلی فضا میں انجام پاتا ہے یا خاص قسم کی عمارتوں میں، جنہیں امام باڑہ، امام بارگاہ یا عاشور خانہ اور ماتم خانہ کہا جاتا ہے۔

جزائر غرب الہند

عاشورا کے بہت سے آداب و رسوم کو تیرہویں صدی ہجری کے نصف اول / انیسویں صدی عیسوی میں ہندوستانی مسلمانوں نے غرب الہند کے علاقے متعارف کرائے۔ آج ٹرینیڈاڈ میں کارناوال کے بعد دوسرے بڑے مراسمات عاشورا سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہاں عاشورا کے مراسمات کو حُسَی کہا جاتا ہے اور تین شب اور تین روز تک جاری رہتے ہیں۔

عاشورا کی آخری رات بھی زیادہ قابل دید ہے؛ امام حسین(ع) کے مرقد منور کے رنگے ہوئے نمونوں ـ جنہیں تجہ کہا جاتا ہے اور ان کی اونچائی 5/15 فٹ تک پہنچتی ہے ـ کو تاسہ اور نقارے کے ہمراہ نمائش دی جاتی ہے۔

عراق

جنوبی عراق میں، ماتمی جلوس اور مجالس عزاداری جیسے مراسمات ماہ محرم کے پہلے عشرے کے معمول کی خصوصیات میں شامل ہیں اور یہ مراسمات عاشورا کے دن عروج کو پہنچتے ہیں۔

لگتا ہے کہ کربلا سے دور واقع ممالک میں عاشورا کے مراسمات کی رعایت زیادہ دقیق ہے: مراسمات کی رعایت کے یہ نمونے ـ جو مرکز کی نسبت اطراف میں زیادہ قابل دید ہیں ـ وہ جانے پہچانے اور مانوس مثالیں ہیں جو بہت سے مذاہب میں دکھائی دیتے ہیں۔

عاشورا غیر اسلامی ادیان میں

عاشورا دین یہود میں

روز عاشورا ماضی میں یہودیوں کے نزدیک عظیم ایام میں شمار ہوتا تھا اور وہ اس دن روزہ رکھتے تھے؛ چنانچہ فیّومی مصباح المنیر میں لکھتے ہیں: رسول اللہ(ع) سے مروی ہے کہ عاشورا سے ایک دن قبل اور عاشورا کے ایک دن بعد بھی روزہ رکھو تا کہ یہود سے تشبہ کے شائبے سے نکل سکو جو صرف عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔[33]

اس روایت کا مضمون سنن دارمی[34]، سنن ابن ماجہ[35]، صحیح مسلم[36]، جمہرۃ اللغہ[37]، صحیح بخاری[38] اور نیل الأوطار[39] میں نقل ہوا ہے۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ روز عاشورا یہود کے نزدیک اہم اور محترم ایام میں سے تھا اور وہ اس دن روزہ رکھتے تھے۔

عاشورا دین مسیح میں

مصباح المنیر میں منقول ہے: إنّ رسول اللہ صام عاشوراء فقیل لہ: انّ الیہود والنصاری تعظمہ فقال: اذا کان العام المقبل صمنا التاسع ،
ترجمہ: رسول اللہ(ص) نے عاشورا کو روزہ رکھا تو لوگوں نے کہا: یہود اور نصاری اس دن کو احترام سے مناتے ہیں چنانچہ آپ(ص) نے فرمایا: اگلے سال ہم نویں محرم کو روزہ رکھیں گے۔[40]

مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی بھی عاشورا کی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔[41]

عاشورا جاہلیت کے زمانے میں اور قریش کے نزدیک

سنن دارمى میں روایت ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا: یہ دن عاشورا کا دن ہے اور قریش جاہلیت میں اس دن کو روزہ رکھتے تھے، پس تم مسلمانوں میں سے جو بھی چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے وہ روزہ ترک کرے۔[42]

کتاب موطا مالک[43]، صحیح بخارى[44] اور نیل الأوطار میں[45] اس روایت کا مضمون نقل ہوا ہے۔

حوالہ جات

  1. سیدبن طاؤس، الملہوف، ص180۔،ابن نماحلی، مثیر الاحزان، ص77۔، مقتل الحسین للخوارزمی، ج2، ص39۔
  2. شیخ مفید، الامالی، ص321۔، مطالب السؤول، ص76۔، سیدبن طاؤس، الملہوف، ص198۔
  3. سیدبن طاؤس، الملہوف، ص213؛ و ابن نماحلی، مثیر الاحزان، ص100، طبرسی، الاحتجاج، ج2، ص122، طبری،تاریخ، ج5، ص462۔
  4. نک:طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۶۹ش، ج۷، ص۳۰۷۴.
  5. نک:مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۱۹۶.
  6. حکیم، موسوعۃ الامام...، دار المورخ العربی، ج۵، ص۲۱۵۷.
  7. نک:ابن عبد ربہ، العقد الفرید، دار الکتب العلمیۃ،‌ ج۵، ص۱۳۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ج۳، ص۲۲۱.
  8. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، بیروت، ص۹۰.
  9. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، ج۴، ص۸۸.
  10. نک:خزاز رازی، کفایۃ الاثر، ۱۳۶۰ش، ص۲۴۸.
  11. ابن قولویہ، کامل الزیارات، قم، باب ۳۲ و ۳۳.
  12. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۳۳، بہ نقل از پوراحمدی، عزاداری امام حسین(ع) در محضر امامان شیعہ، فصلنامہ شیعہ شناسی، شمارہ۸، ص۱۱۸.
  13. سنت عزاداری و منقبت‌خوانی، ۱۳۸۶ش، ص۶۰؛ ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، بیروت، ج۲۴، ص۲۵۸-۲۶۰.
  14. سنت عزاداری و منقبت‌خوانی، ۱۳۸۶ش، ص۶۵-۶۶ بہ نقل از ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ج۱۱، ص۱۸۳؛ ابن الجوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج۷، ص۱۵؛ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج۳، ص۴۲۵؛ محمد بن عبدالملک الہمدانی، تکملہ تاریخ الطبری، ج۱، ص۱۸۳؛ ابی المحاسن، النجوم الزاہرہ فی ملوک مصر و القاہرہ، ج۲، ص۴۲۷.
  15. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۴۱.
  16. واصفی، بدایع الوقایع، ج۲، ص۲۴۷.
  17. سنت عزاداری و منقبت‌خوانی، ۱۳۸۶ش، ص۱۴۵ بہ نقل از سمرقندی، مطلع السعدین و مجمع البحرین، ج۲، ص۱۸۲-۱۸۳.
  18. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۵۵.
  19. سنت عزاداری و منقبت‌خوانی، ۱۳۸۶ش، ص۱۴۷ بہ نقل از نصراللہ فلسفی، زندگانی شاہعباس اول، تہران، انتشارات علمی، ج۳، ص۸۴۷.
  20. محرمی، «تاریخ عزاداری برای امام حسین»، ص۲۹۴.
  21. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۷۶.
  22. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۷۷.
  23. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۸۷.
  24. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۹۱ بہ نقل از ہمایونی، تعزیہ در ایران، شیراز، نوید شیراز، ۱۳۸۰ش، ص۱۲۹.
  25. نک: مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۲۴-۱۲۶.
  26. نک: مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۲۷-۱۴۰.
  27. نک: مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۴۱-۱۴۲.
  28. نک: مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۴۳-۱۴۶.
  29. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۴۷ بہ نقل از بصیرت منش، علما و رژیم رضاشاہ، تہران، عروج، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۳-۱۴۴.
  30. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۴۹ بہ نقل از بصیرت منش، علما و رژیم رضاشاہ، تہران، عروج، ۱۳۷۶ش، ص۲۵۴.
  31. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۴۹ بہ نقل از خمینی، کشف‌الاسرار، بی‌نا، بی‌تا، ص۱۷۳.
  32. مظاہری، رسانہ شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۴۹-۱۵۲.
  33. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: بیہقی، ج4، ص287۔
  34. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: سنن دارمی، ج2، ص22۔
  35. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: سنن ابن ماجہ، ج1، ص552۔
  36. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: صحیح مسلم، ج3، ص150۔
  37. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: جمہرة اللغة، ابن درید، ج3، ص390۔
  38. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: صحیح بخاری، ج3، ص57۔
  39. رضا استادی،عاشوراشناسی، ص37-38، بحوالہ از: نیل الأوطار، ج4، ص326۔
  40. مصباح المنیر، ص104؛ بحوالہ استادی، رضا، پیشینہ عاشورا، در عاشوراشناسی، ص38۔
  41. استادی، رضا، پیشینہ عاشورا، در عاشوراشناسی، ص38۔
  42. رضا استادی، پیشینہ عاشورا در عاشوراشناسی، ص39 بحوالہ از: سنن درامی، ج2، ص22۔
  43. رضا استادی، پیشینہ عاشورا در عاشوراشناسی، ص39 بحوالہ از: کتاب موطأ مالک، ج1، ص219۔
  44. رضا استادی، پیشینہ عاشورا در عاشوراشناسی، ص39۔ بحوالہ از: صحیح بخارى، ج3، ص31۔
  45. رضا استادی، پیشینہ عاشورا در عاشوراشناسی، ص39 بحوالہ از: نیل الأوطار، ج4، ص326۔


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ،‌دار صادر، بیروت.(از روی نسخہ کتابخانہ دیتاا ل نور)
  • ابن‌ تغری‌ بردی‌، یوسف‌، النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر و القاہرۃ، وزارۃ الثقافۃ و الارشاد القومی، الموسسۃ المصریۃ العامۃ، قاہرہ.
  • ابن طاوس، علی بن موسی، لہوف، ترجمہ ابوالحسن میرابوطالبی، دلیل ما، قم، ۱۳۸۰ش.
  • ابن عبد ربہ، احمد بن محمد، العقد الفرید، محقق: مفید محمد قمیحہ،‌دار الکتب العلمیہ، بیروت.
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، نشر الفقاہہ، قم.
  • ابوالفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، تحقیق: احمد صقر،‌دار المعرفۃ، بیروت.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف، تحقیق محمدباقر محمودی و دیگران، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت.
  • تنوخی، محسن بن علی، نشوار المحاضرۃ و أخبار المذاکرۃ، محقق: عبود شالجی، بی‌جا. بی‌تا. (از روی نسخہ کتابخانہ دیتاب ل نور)
  • حکیم، منذر، موسوعۃ الإمام السید عبدالحسین شرف الدین،‌دار المورخ العربی، بیروت.
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر فی النص علی الأئمۃ الإثنی عشر، محقق: عبد اللطیف حسینی کوہکمری، بیدار، قم، ۱۳۶۰ش.
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، محقق: عمر عبد السلام تدمری،‌دار الکتاب العربی، بیروت.
  • سنت عزاداری و منقبت خوانی در تاریخ شیعہ امامیہ (چاپ دوم)، با مقدمہ محمد تقی زادہ داوری، موسسہ شیعہ شناسی، قم، ۱۳۸۶ش.
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، تاریخ الخلفاء، تحقیق ابراہیم صالح،‌دار صار، بیروت.
  • شیبی، کامل مصطفی، تشیع و تصوف تا آغاز سدہ دوازدہم ہجری، ترجمہ علیرضا ذکاوتی قراگزلو، امیرکبیر، تہران،  ۱۳۸۷ ش.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، ترجمہ البوالقاسم پایندہ، اساطیر،تہران، چاپ سوم ۱۳۶۹ش.(از روی نسخہ کتابخانہ دیتام ل مکتبۃ اہل البیت)
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ لذوی القربی، تحقیق علی جمال اشرف حسینی،‌دار الاسوہ للطباعہ و النشر، قم.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار،‌دار احیاءالتراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ق.(از روی نسخہ کتابخانہ دیتاا ل مکتبۃ اہل البیت)
  • محرمی، غلامحسن، «تاریخ عزاداری برای امام حسین»، تاریخ در آئینہ پژوہش، پشق‌شمارہ  ۳ ، سال اول، ۱۳۸۲ ش.
  • مدرس، محمد علی، ریحانہ الأدب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب، کتابفروشی خیام، تہران،  ۱۳۶۹ ش. (از روی نسخہ کتابخانہ دیتاس ل نور)
  • مرعشی، ظہیر الدین بن نصیر الدین، تاریخ گیلان و دیلمستان، تصحیح منوچہرستودہ، اطلاعات، تہران،  ۱۳۶۴ ش.
  • مظاہری، محسن حسام، رسانہ شیعہ:جامعہ‌شناسی آئین‌ہای سوگواری و ہیئت‌ہای مذہبی در ایران، شرکت چاپ و نشر بنخ‌الملل، تہران، چاپ سوم ۱۳۸۹ش.
  • ناصری داوودی، عبد المجید، تشیع در خراسان: عہد تیموریان، بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، مشہد مقدس،  ۱۳۷۸ ش.
  • واصفی، محمود بن عبد الجلیل، بدایع الوقایع، تحقیق الکساندر بلدروف‌، بنیاد فرہنگ ایران، تہران،  ۱۳۴۹ ش.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، شرکت انتشارات علمی فرہنگی، تہران،  ۱۳۷۱ ش.