غزوہ بدر

ویکی شیعہ سے
(جنگ بدر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ بدر کبری
سلسلۂ محارب:
رسول خدا(ص) کے غزوات
سرزمین بدر کا نقشہ
وقت 17 رمضان سنہ 2 ہجری
مقام حجاز کا ایک علاقہ بنام بدر،
محل وقوع مدینہ سے 130 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب
نتیجہ مسلمانوں کی فتح
سبب مسلمانوں پر قریش کے مظالم کی تلافی
فریقین
مسلمین مشرکین قریش
قائدین
حضرت محمد(ص) ابوجہل (عمرو بن ہشام) مَخزومی
نقصانات
مسلمین کے 14 افراد کی شہادت؛ 6 مہاجرین میں سے اور 8 انصار میں سے مشرکین کے 70 افراد کی ہلاکت اور اتنے ہی کی گرفتاری
سورہ آل عمران، سورہ نساء اور سورہ انفال کی متعدد آیات کریمہ میں غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کو یوم الفرقان کا نام دیا گیا ہے؛ نیز قریش کی لاحاصل کوششوں کو سابقہ اقوام ـ بالخصوص آل فرعون، سے تشبیہ دی گئی ہے۔
تاریخ صدر اسلام
شخصیات
پیغمبر اسلامؑ  • حضرت علیؑ  • حضرت فاطمہؑ  • صحابہ •
غزوات اور سرایا
غزوہ بدر  • غزوہ احد  • غزوہ خندق  • غزوہ خیبر  • غزوہ فتح مکہ  • دیگر غزوات سرایا
شہر اور مقامات
مکہ  • مدینہ  • طائف • سقیفہ  • خیبر  • جنۃ البقیع  •
واقعات
بعثت  • ہجرت حبشہ  • ہجرت مدینہ  • صلح حدیبیہ  • حجۃ الوداع  • واقعۂ غدیر  •
متعلقہ مفاہیم
اسلام  • تشیع  • حج  • قریش  • بنو ہاشم  • بنو امیہ •


پیغمبر خدا(ص) کی مدنی زندگی
622 ہجرت نبوی
622 معراج
624 غزوہ بدر
624 بنی قینقاع کی شکست
625 غزوہ احد
625 بنو نضیر کی شکست
627 غزوہ احزاب
627 بنو قریظہ کی شکست
627 غزوہ بنی مصطلق
628 صلح حدیبیہ
628 غزوہ خیبر
629 پہلا سفرِ حجّ
629 جنگ مؤتہ
630 فتح مکہ
630 غزوہ حنین
630 غزوہ طائف
631 جزیرة العرب پر تسلط
632 غزوہ تبوک
632 حجۃ الوداع
632 واقعۂ غدیر خم
632 وفات

غزوہ بدر یا بدر الکبری، [عربی میں غَزوَةُ بَدرٍ]، سب سے پہلی اور اہم جنگ تھی جو ـ تاریخ 17 رمضان سنہ 2 ہجری کو بمقام بدر ـ مسلمانوں اور مشرکین قریش کے درمیان لڑی گئی۔ اس جنگ میں گوکہ مسلمانوں کی افراد قوت کم تھی لیکن انھوں نے مشرکین پر فتح پائی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق مسلمانوں کی فتح کے اسباب میں ایک اہم سبب مسلمانوں ـ اور بطور خاص علی(ع) اور حمزہ سید الشہداء ـ خاص جانفشانی تھی۔ دو دیگر غزوات بھی بدر کے نام سے مشہور ہیں: بدر الاولی اور بدر الموعد؛ لیکن تاریخی مآخذ میں غزوہ بدر یا جنگ بدر سے مراد بدر الکبری ہی ہے۔

منطقۂ بدر

مفصل مضمون: منطقۂ بدر

منطقۂ بدر مدینہ سے تقریبا 150 اور مکہ سے 310 اور بحر احمر سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ایک آباد شہر ہے۔ "شاہراہ ہجرت" بننے سے قبل مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ جانے کا راستہ اسی علاقے سے گذرتا تھا لیکن اس وقت مسافرین اس راستے سے سفر نہیں کرتے۔ اس علاقے میں شہدائے بدر کا مقبرہ مسلمانوں کی زیارتگاہ ہے۔ شہدائے بدر کے مقبرے کے قریب ایک عمومی قبرستان بھی ہے۔ منطقۂ بدر قدیم الایام میں عربوں کے اجتماع کا مقام سمجھا جاتا تھا اور یہاں ہر سال ماہ ذوالقعدہ سے 8 دنوں کے لئے ایک منڈی بپا ہوا کرتی تھی۔[1]۔[2]

جنگ بدر کے اسباب

مشہور روایت کے مطابق، یہ اہم واقعہ 17 رمضان بروز جمعہ[3][4] اور ایک روایت کے مطابق 17 یا 19 رمضان سنہ 2 ہجری، بروز دو شنبہ (= سوموار) رونما ہوا۔ ہجرت سے قبل کفار قریش مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے آزار و اذیت اور جلاوطنی جیسے اقدامات کا شکار تھے؛ وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور کئے گئے[5] اور مناسک حج بجا لانے سے منع کئے گئے؛[6] لیکن انہیں خدا کی طرف سے مشرکین قریش کے ساتھ جنگ کا اذن نہیں تھا اور انہیں فقط صبر کی دعوت دی جاتی تھی۔ مسلمان ہجرت کرکے مدینہ خلے گئے تو خداوند متعال نے ان پر روا رکھے گئے مظالم کی یادآوری کرائی اور انہیں اذن جہاد عطا کیا۔[7]

جنگ بدر سے قبل مسلمانوں نے کئی سرایا اور غزوات میں شرکت کی اور ان کا مقصد قریش کو نقصان پہنچانا اور ان کے تجارتی کاروان ضبط کرنا تھا؛ گو کہ سریہ نخلہ کے سوا ان کا کوئی بھی اقدام نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا تھا۔ اس سریے میں ـ جو حرام مہینے میں عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں، غزوہ بدر سے تقریبا ڈیڑھ مہینے قبل انجام پایا اور مشرکین میں سے ایک شخص ہلاک ہوا اور دو پکڑے گئے نیز قریش کا تجارتی کاروان ضبط کیا گیا۔[8] قریش اس شکست کو عربوں کے درمیان اپنے لئے خجلت اور شرمندگی کا سبب گردانتے تھے اور سریئے میں ہلاک ہونے والے عمرو بن حضرمی کی خون بہاء کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس موضوع نے جنگ بدر کا واقعہ رونما ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسلمانوں کے ہاتھ نہ آنے والے کاروانوں میں سے ایک کاروان ابو سفیان کی سرکردگی میں غزہ کی طرف جانے والا کاروان تھا۔[9] پیغمبر(ص) نے مدینہ سے 5 میل کے فاصلے پر واقع "ذوالعُشَیرہ" تک قریشیوں کا تعاقب کیا لیکن وہ آپ(ص) کی دسترس میں نہ آئے[10]، چنانچہ آپ(ص) مدینہ واپس آئے۔

ابو سفیان کو خبردار کیا گیا تھا چنانچہ وہ جانتا تھا کہ واپسی کے وقت مسلمان اس کے قافلے کے لئے گھات لگا کر بیٹھیں گے؛ چنانچہ اس نے سرزمین تبوک سے "ضمضم بن عمرو" نامی شخص کو قریش سے کمک مانگنے کی غرض سے مکہ روانہ کیا[11] دوسری طرف سے رسول اللہ(ص) کے سراغ رسانوں ـ اور بقولے جبرائیل امین ـ نے بھی غزہ سے کاروان قریش کی واپسی کی خبر آپ(ص) تک پہنچائی۔[12]

جنگ سے قبل فریقین کے اقدامات

مسلمانوں کی مدینہ سے عزیمت

غزہ سے کاروان قریش کی واپسی کے ساتھ ہی خداوند متعال نے پیغمبر(ص) کو قریش کے کاروان یا لشکر پر فتح پانے کی غرض سے مدینہ سے باہر نکلنے کا فرمان دیا۔[13] رسول خدا(ص) نے اس حکم الہی کا اعلان کیا اور یوں مدینہ سے نکل گئے۔

پیغمبراکرم(ص) بقول مشہور 12 یا 13 رمضان 313 اصحاب کا لشکر لے کر[14]۔[15] مدینہ سے نکلے[16] پہلی منزل میں اپنے لشکر کی تیاریوں کا معائنہ کیا اور چند افراد کو کم سنّی کی وجہ سے مدینہ واپس بھجوایا۔

مکہ میں ابوسفیان کے اقدامات

ادھر، ابو سفیان ـ جس کو شام میں اطلاع ملی تھی کہ مسلمان کاروان قریش کا سامنا کرنے کی تیار کرچکے ہیں ـ نے ایک قاصد مکہ روانہ کیا اور اہلیان مکہ سے درخواست کی کہ اپنے اموال کے بچاؤ کے لئے مدد پہنچائے۔ یہ خبر ابو سفیان کی ہدایت پر اشتعال انگیز انداز میں مکیوں کو دی گئی چنانچہ سارے یا اکثر مکی ـ جو کاروان تجارت میں حصص رکھتے تھے ـ خبر سنتے ہی 950 افراد پر مشتمل لشکر میں منظم ہوکر ابو جہل (عمرو بن ہشام مخزومی) کی سرکردگی میں بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ اس لشکر میں قبیلہ بنو عدی بن کعب کے سوا تمام قبائل شامل ہوئے؛ نیز قریش کے تمام اشراف ـ سوائے ابو لہب کے، جس نے عاص بن ہاشم کو اپنی جگہ بدر روانہ کیا تھا ـ لشکر کفار میں شامل ہوئے۔ اس کے باوجود قریش کے بعض اشراف ـ منجملہ عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف ـ غزوہ بدر میں مارے گئے ـ قریشیوں کے اس اقدام سے متفق نہیں تھے؛[17] [اور صرف جاہلی انا کی وجہ سے لشکر میں شامل ہوئے تھے]۔

مسلمانوں کی بمقام بدر تعیناتی

العدوۃ الدنیا، وہ ٹیلے جہاں جنگ بدر میں سپاہ اسلام تعینات تھی۔
العدوۃ القصوی، جو بدر میں سپاہ مشرکین کی تعیناتی کا مقام تھا

پیغمبر(ص) متعدد منازل طے کرکے 15 رمضان کو "روحا" کے مقام پر پہنچے اور وہاں کے کنویں کے کنارے نماز بجالائے اور عمائدین قریش ـ منجملہ ابو جہل اور زمعہ بن اسود پر نفرین کردی۔[18]

بدر کے قریب، جبرائیل نے رسول خدا(ص) کو لشکر قریش کے قریب ہونے کی خبر دی۔ رسول اللہ(ص) نے اصحاب کو مشاورت کے لئے بلایا۔ مروی ہے کہ: ابوبکر اور عمر نے اظہار خیال کیا؛ لیکن ان کی خیالات نقل نہیں ہوئے[19] جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلام مناسب نہ تھا۔ واقدی واحد مؤرخ ہے جس نے عمر کا کلام نقل کیا ہے جس سے ان کا شدید خوف اور قریش کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت سے مکمل نا امیدی کا اظہار ہوتا ہے؛ لیکن مہاجرین میں مقداد نے کہا: "اے رسول خدا! ہم قوم یہود کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے موسی سے کہا: بس آپ جائیے اور آپ کا پروردگار اور دونوں لڑ لیجئے۔ ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں[20] بلکہ ہم آپ(ص) کے دائیں بائیں اور آگے اور پیچھے لڑیں گے"۔[21]

قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ انصار مکمل طور پر رسول اللہ(ص) کے مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ رسول خدا(ص) مقداد اور سعد کے اظہار خیال سے خوش ہوئے اور فرمایا: "خداوند متعال نے مجھے دو گروہوں (تجارتی کاروان یا مکہ کے بھجوائے ہوئے لشکر) پر فتح و نصرت کا وعدہ دیا ہے۔[22] مسلمانوں نے رسول اللہ(ص) کا خطاب سننے کے بعد پرچم لہرائے اور روانہ ہوئے اور 17 رمضان بوقت عصر بمقام بدر پہنچے اور حُباب بن منذر، اس کنویں کے کنارے اترے جس کا فاصلہ دشمن سے بہت کم تھا۔ اسی رات بارش آنے کے بموجب رگستانی زمین مسلمانوں کے قدموں کے لئے مستحکم ہوئی جبکہ وہی بارش قریشیوں کے مقام تعیناتی نے دلدل کی سی کیفیت کا سبب ہوئی۔[23]

بدر میں مشرکین کی تعیناتی

فریق مقابل کی طرف سے ابو سفیان نے احتیاط اور خوف و ہراس کے ساتھ بدر کے ایک قریبی علاقے میں پڑاؤ ڈالا اور تحقیقات کے بعد جان گیا کہ مسلمان بدر کی حدود میں ہیں؛ چنانچہ اس نے فوری طور پر اپنے کاروان کا راستہ بدل دیا اور ساحل کے راستے سے مکہ کی جانب روانہ ہوا۔ اس نے قریشیوں کو ـ جو ابھی تک جحفہ میں تھے ـ پیغام بھیجا اور انہیں مکہ پلٹ کر جانے کی ترغیب دلائی۔

چنانچہ، طالب بن ابی طالب اور بنو زہرہ (نیز بنو عدی بعض منابع و مآخذ کی روایت کے مطابق) بیچ راستے سے مکہ واپس چلے گئے۔ تاہم ابو جہل نے مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی قوت ثابت کرکے دکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا چنانچہ دوسرے قریشی بعض دوسرے ابو جہل کی ضدّ اور ہٹ دہرمی کی وجہ سے مجبور ہوکر اپنا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

قریش کا لشکر سپاہ اسلام کی تعیناتی کے بعد بدر میں داخل ہوا اور "عَقَنْقَل" نامی ٹیلے کی پشت پر پڑاؤ ڈالا۔ عُمَیر بن وہْب جُمَحی اور ابو اُسامه جُشَمی باری باری مسلمانوں کے مقام تعیناتی اور عسکری صف بندی کا جائزء لینے کے مامور ہوئے اور دونوں نے خبر دی کہ مسلمانوں کی افرادی قوت مختصر اور ان کے وسائل بہت کم ہیں؛ لیکن یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ جنگ لڑنے اور مارے جانے کے لئے تیار ہیں۔[24] واقدی نے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے مکیوں کے پڑاؤ ڈالنے کے بعد ایک پیغام بھجوا کر انہیں جنگ میں اترنے سے خبردار اور قریش کے ساتھ جنگ کے سلسلے میں اپنے عدم اشتیاق کا اعلان کیارده بود۔[25]

دو لشکروں کی تعیناتی کی قرآنی توصیف

قرآن نے مسلمانوں اور مشرکین کے ٹھکانوں کی واضح تصویر کشی کی ہے:

"إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُم بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتَّمْ لاَخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ وَلَـكِن لِّيَقْضِيَ اللّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ (ترجمہ: جب کہ تم ادھر کی جانب [مدینہ سے قریب تر درے میں] تھے اور وہ ادھر کی جانب [مدینہ سے دور تر کنارے پر جن کے درمیان ریت کے ٹیلے تھے] اور قافلہ تم سے نیچے [زیادہ دور اور سمندر کے کنارے] تھا اور اگر تم نے آپس میں وقت مقرر کیا ہوتا تو قطعی طور پر اپنی وعدہ گاہ کے تعین میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجاتا مگر اللہ کو [کفار کی ہلاکت کا] جو وعدہ [بدر میں] پورا کرنا تھا وہ پورا کرلیا) [ 9–42] "[26]

العدوۃ الدنیا میں رسول اللہ(ص) کے اقدامات

مسلمانوں نے رسول خدا(ص) کے حکم پر ـ مسلمانوں کے زیر استعمال کنویں کے سوا ـ تمام کنؤوں کو مٹی ڈال کر بند کردیا اور لشکر قریش کی خبریں لانے کے لئے اپنے سراغرساں روانہ کئے۔[27]

رسول اللہ(ص) نے علی (ع) سمیت چند افراد کو اس کنویں کی جانب روانہ کیا جو لشکر قریش کے قریب واقع تھا۔ انھوں نے کنویں کے قریب موجود دو قریشیوں کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کرکے معلوم ہوا کہ قریش کے سپاہیوں کی تعداد 900 سے 1000 افراد کے درمیان ہے اور قوم کے اکثر اکابرین بھی لشکر میں شامل ہیں اور انھوں نے ریت کے ٹیلوں کی پشت پر پڑاؤ ڈالا ہے۔ رسول خدا(ص) نے اس موقع پر فرمایا: "مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو تمہاری جانب روانہ کیا ہے[28]

غزوہ کے واقعات

دو لشکروں کی صف آرائی

صبح کے وقت پیغمبر(ص) نے اپنے لشکر کی صف آرائی کا اہتمام کیا اور اسی اثناء میں قریش کی سپاہ عَقَنْقَل نامی ٹیلے سے ظاہر ہوئی۔ رسول خدا(ص) نے دیکھا تو بارگاہ احدیت میں التجا کی: "اے رب متعال! یہ قریش ہیں جو غرور و تکبر کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے آئے ہیں؛ بار خدایا! میں اس نصرت کا خواہاں ہوں جس کا تو نے مجھے وعدہ دیا ہے! انہیں صبح کے وقت نیست و نابود کردے[29] رسو خدا(ص) کی سپاہ کی پشت آفتاب کی جانب تھی جب کہ قریشیوں کا رخ آفتاب کی جانب تھا۔[30] قیادت کا پرچم ـ بنام عقاب ـ[31] جو صرف اکابرین اور خاص افراد کو ملا کرتا تھا، علی ع (ع) کے ہاتھ میں تھا۔[32]

بدر کے مقام پر دو لشکروں کی صف آرائی کا نقشہ
مقبرہ شہدائے بدر کے قریب مسجد العریش

ابتداء میں پیغمبر(ص) نے پیغام بھجوا کر قریش کے ساتھ جنگ اور تقابل کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر کی۔ حکیم بن حزام جیسے بعض افراد نے اس پیغام کو منصفانہ قرار دیا اور واپسی کا مطالبہ کیا لیکن ابو جہل کا جنگی جنون اور تکبر آڑے آیا۔[33]

مسلمانوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے لئے ایک سائبان بنایا[34] اور سعد بن مُعاذ سمیت انصار کے چند افراد نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی؛ تاہم مسند ابن حنبل میں علی(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق ـ جو [35] زیادہ تر تاریخی منابع[36] میں بھی نقل ہوئی ہے ـ بدر کے روز رسول خدا(ص) کا ٹھکانا دشمن سے قریب ترین نقطے پر تھا اور جب جنگ میں شدت آجاتی تھی تو مسلمان آپ(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔ امکان پایا جاتا ہے کہ متذکرہ بالا سائبان جنگ کی قیادت و ہدایت کے مرکز کے عنوان سے بنایا گیا ہوگا اور [رسول اللہ]](ص) کبھی کبھی اس میں مستقر ہوتے رہے ہونگے۔

دو بدو لڑائی اور جنگ کا آغاز

دو بدو لڑائی شروع ہونے سے قبل، ابو جہل نے اپنے لشکریوں کے جذبات ابھارنے اور انہیں مشتعل کرنے کی غرض سے "عامر حضرمی"[37] کو حکم دیا کہ اپنا سر مونڈ لے اور سر پر مٹی ڈال کر اپنے بھائی عمرو حضرمی کے خون کا مطالبہ کرے۔ مروی ہے کہ: عامر پہلا شخص تھا جو مسلمانوں کی صفوں پر حملہ آور ہوا تاکہ ان کی صفوں کو درہم برہم کرے؛ لیکن حضرت محمد(ص) کے سپاہیوں نے ثابت قدمی دکھائی فرمان داد تا سر خود را تراشیده، با ریختن خاک بر سر خود، خون برادرش را طلب کند۔گویند: عامر نخستین کسی بود که به صفوف مسلمانان هجوم برد تا صفوف آنان درهم ریزد؛ ولی نیروهای پیامبر(ص) از خود ثبات قدم نشان‌دادند.[90] ابو جہل اور قریش کی مسلسل طعن و تشنیع نے "عتبہ" کو ـ جو ایسی جنگ میں جس کی آگ بجھانے کے لئے وہ خود کوشاں تھا ـ مجبور کیا کہ پہلے فرد کے طور پر اپنے بیٹوں ولید اور عتبہ کے ہمراہ میدان میں اترے اور دو بدو لڑائی کا آغاز کردے۔[38]

رسول خدا(ص) نے اپنے چچا حمزہ، علی (ع) اور عبیدہ بن حارث کو میدان میں بھیجا؛ حمزہ نے عتبہ کو ہلاک کیا اور علی(ع) نے ولید کو اور عبیدہ نے حمزہ اور علی(ع) کی مدد سے شیبہ کا کام تمام کیا۔ امام علی(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق، آپ(ع) تینوں افراد کے قتل میں شریک ہوئے تھے۔[39]

جنگ کا انجام

عتبہ، شیبہ اور ولید کے ہلاک ہوجانے کے بعد جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے لیکن اللہ کی غیبی امداد اور مسلمانوں کی شجاعت اور پامردی کے نتیجے میں مشرکین بہت جلد مغلوب ہوئے۔ تواریخ کے مطابق گھمسان کی لڑائی کے دوران، رسول خدا(ص) نے مٹھی بھر ریت اٹھا کر قریشیوں کی جانب پھینک دی اور ان پر نفرین کی۔ یہی امر مشرکین کے فرار ہونے اور ان کی شکست و ناکامی کا سبب ہوا۔ قریش کا لشکر اپنا مال و اسباب چھوڑ کر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا اور بعض افراد شکست کی خبر مکیوں کے لئے لے گئے۔[40]

شہدائے بدر کے اسماء کا کتبہ جو بمقام بدر ان کے مدفن میں نصب کیا گیا ہے۔

جنگ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے (جن میں سے 6 کا تعلق مہاجرین اور 8 کا تعلق انصار سے تھا) اور مشرکین میں سے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی افراد کو قیدی بنایا گیا۔[41] ابن قتیبہ دینوری نے مشرکین کے مقتولین کی تعداد 50 اور قیدیوں کی تعداد 44 بتائی ہے[42] جن میں سے 35 افراد علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔[43] دریں اثناء سینکڑوں قریشی اطراف کے صحراؤں میں منتشر ہوگئے تھے اور رات کے اندھیرے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے نجات پانے کے لئے لمحہ شماری کررہے تھے۔[44]

رسول خدا(ص) کو ابو جہل کی ہلاکت کی خبر سننے کا انتظار تھا اور آپ(ص) نے اس کو پیشوایان کفر کا سرکردہ اور فرعون امت جیسے خطابات سے نوازا تھا،[45] چنانچہ آپ(ص) نے اس کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی فرمایا: "اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرکے دکھایا"[46] ابو جہل دو نو عمر نوجوانوں "معاذ ‌بن عمرو" اور "معاذ‌ بن عفراء" کے ہاتھوں مارا گیا اور ابھی اس کی جان میں جان تھی جب عبداللہ بن مسعود نے اس کا سر تن جدا کیا۔[47]

دوسرا شخص، جس پر رسول خدا(ص) نے نفرین کی تھی اور اس کی ہلاکت کے خواہاں تھے، نوفل بن خویلد تھا جو علی (ع) کے ہاتھوں مارا گیا۔ نوفل کی ہلاکت پر رسول اللہ(ص) نے تکبیر کہی اور فرمایا: "خدا کا شکر جس نے میری دعا مستجاب فرمائی۔[48]

جنگ بدر جو نصف روز سے زیادہ جاری نہ رہی[49] صدر اول کا ایک اہم ترین واقعہ ثابت ہوئی؛ یہاں تک کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: "کبھی بھی شیطان اتنا عاجز اور چھوٹا نہ تھا جتنا کہ روز عرفہ کو عاجز اور چھوٹا ہوجاتا ہے، سوائے یوم بدر کے[50]

جنگ کے بعد کے واقعات

غنائم کی تقسیم اور قیدیوں کا انجام

مشرکین قریش کے باقیماندہ مال و متاع کو رسول خدا(ص) کے حکم پر اکٹھا کیا گیا اور شہداء کی تدفین اور مشرکین کی لاشین "قَلیب" نامی کنویں میں پھینکنے کے بعد آپ(ص) نے مشرکین کی لاشوں مخاطب ہوکر بعض جملے ادا کئے اور فرمایا کہ وہ آپ(ص) کا کلام بخوبی سنتے ہیں۔ بعدازاں مسلمان مال غنیمت اور قیدیوں کو لے کر مدینہ کی طرف چل دیئے۔ مال غنیمت کو بیچ راستے شرکائے جنگ کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

دو قیدیوں کو ـ جو مکہ میں مسلمانوں پر تشدد کے اصل ذمہ دار تھے ـ راستے میں ہی قتل کی سزا سنائی گئی اور علی علیہ السلام نے حکم پر فوری طور پر عملدرآمد کیا۔ امیہ بن خلف بھی قید ہونے کے پہلے لمحات میں ہی بلال بن رباح کے ساتھ لڑ پڑا اور بلال کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا۔ امیہ مکہ میں نہایت وحشیانہ انداز سے بلال پر تشدد کرتا رہا تھا۔

رسول اللہ(ص) کے حکم پر، ابو البختری (عاص بن ہشام) کو شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی قلعہ بندی کے دوران قابل قدر خدمات کی وجہ سے اور بنو ہاشم کے چند افراد کو ـ جنگ میں جبری شمولیت کی بنا پر ـ نیز دو یا تین دیگر افراد کو، سزائے موت سے معاف رکھا گیا۔ باقی قیدی مدینہ میں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کئے گئے اور رسول خدا(ص) نے ان کے ساتھ نیک رویہ روا رکھنے کی ہدایت کی۔ بعدازاں عباس بن عبد المطلب سمیت زیادہ تر افراد کو فدیہ لے رہا گیا اور باقی افراد جو نادار اور پڑھے لکھے تھے نے زید بن ثابت اور انصار کے فرزندوں کو پڑھائی لکھائی سکھانے کے عوض رہا ہوئے جبکہ کئی افراد فدیہ ادا کئے بغیر رہا کئے گئے۔[51]

مدینہ میں جنگ بدر کا انعکاس

رسول خدا(ص) تین دن تک بدر میں رہے اور بعد ازازاں زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کو "اثیل" کے علاقے سے مدینہ روانہ کیا تا کہ مسلمانوں کی فتح کی خبر اہلیان مدینہ تک پہنچا دیں۔[52]

جنگ بدر کی صدائے بازگشت مدینہ میں ـ مسلمانوں کے درمیان بھی اور یہودیوں اور منافقین کے درمیان بھی[53] وسیع سطح پر سنائی دی۔ مسلمانوں کی یہ کامیابی اس قدر عظیم اور اہم تھی کہ نہ صرف مسلمان بلکہ زیادہ ترین یہودی اور مناققین زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کی دی ہوئی خبر پر یقین نہیں کررہے تھے اور کہتے تھے کہ "وہ [دو افراد] نہیں سمجھ رہے کہ کیا کہہ رہے ہیں"۔[54] خزرج کے زعماء سمیت مدینہ کے عوام "روحا" کے علاقے میں آئے اور بدر میں حاصل ہونے والی فتح کے سلسلے میں حضرت محمد(ص) کو تبریک و تہنیت پیش کی اور جو لوگ اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے انھوں نے آپ(ص) سے معذرت مانگی۔[55]

اس زمانے میں شراب نوشی[56] ممنوع نہیں ہوئی تھی چنانچہ کچھ لوگ بشمول خلیفۂ اول اور خلیفۂ ثانی ابو طلحہ انصاری کے گھر میں اجتما‏ع کئے ہوئے تھے۔ انھوں نے شراب نوشی کے ضمن میں بدر میں مارے گئے مشرکین قریش کے لئے مرثیہ کہہ دیا۔ رسول اللہ(ص) کو ان اشعار کی خبر ہوئی تو غضبناک ہوکر ابوبکر کے قریب آئے جبکہ آپ(ص) کی عبا زمین پر گھسٹ رہی تھی۔ عمر نے رسول اللہ(ص) کا غضبناک چہرہ دیکھا تو اللہ کی پناہ مانگنے لگے اور قسم اٹھائی کہ اس کے بعد ہرگز شراب نوشی نہیں کریں گے۔[57] زمخشری کا کہنا ہے کہ مذکورہ اشعار عمر نے کہے تھے۔[58]

مدینہ میں جنگ بدر کے دیگر نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ انصار اپنے یہودی حلیفوں کے سلسلے میں فکرمند ہوئے اور ان سے کہا: "قبل اس کے کہ تمہیں بھی اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے ـ جس کا بدر میں [[قریش کو سامنا کرنا پڑا ـ اسلام قبول کرو"۔[59]

مکہ میں جنگ بدر کا انعکاس

مکہ میں جنگ بدر کا انعکاس مدینہ کی نسبت وسیع تر تھا۔ مکیوں نے بھی مدنیوں کی طرح اس اہم واقعے کی خبر سن کر اس کو اننے سے انکار کیا اور خبر لانے والے پر ہذیان گوئی کا الزام لگایا۔[60]

ابو سفیان نے مشرکین کا غیظ و غضب مشتعل رکھنے کی غرض سے انہیں مقتولین کے لئے رونے دھونے اور مرثیہ گوئی نیز ہر قسم کی شادمانیوں اور التذاذات سے منع کیا[61] لیکن مکہ ایک مہینے تک غم و اندوہ میں ڈوبا رہا اور کوئی بھی گھر ایسا نہ تھا مگر یہ کہ وہاں بدر کے ہالکین کے لئے مرثیہ خوانی ہوتی تھی۔ عورتوں نے اپنے بال بکھیر دیئے۔ قریش نے اپنے مقتولین کے لئے بہت سارے غم انگیز اشعار کہے جو تاریخ و ادب کی کتابوں میں منقول ہیں۔[62]

مکیوں پر مرتب ہونے والی بہت بھاری مصیبت نے نہ صرف اگلے سال میں جنگ احد کے اسباب فراہم کئے بلکہ ایک ایسا کینہ قریش کے عمائدین ـ بالخصوص بنو امیہ ـ کے دلوں میں ڈال دیا تھا جو حتی کہ (فتح مکہ کے بعد) ان کے قبول اسلام کے بعد بھی ـ جب بھی موقع ملتا تھا وہ ـ اپنا کینہ ظاہر کردیتے تھے۔ اہل بیت رسول اللہ(ص) اور انصار ہی عام طور پر اس کینے اور [جاہلی] دشمنی کا شکار تھے؛ چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) نے بارہا امویوں اور قریش کے حوالہ سے شکوہ اور اپنے ساتھ ان کی دشمنی اور بغض کی طرف اشارہ کیا ہے۔[63] خاندان رسول(ص) کے ساتھ امویوں کی اس دشمنی اور کینہ و بغض کا عروج واقعۂ کربلا میں دیکھنے میں آیا اور جب سید الشہداء علیہ السلام کا سر مبارک یزید بن معاویہ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے صراحت کے ساتھ بدر کے قریشی ہالکین کا بدلہ لینے کا اعتراف کیا۔[64]

جنگ بدر قرآن کی روشنی میں

قرآن کریم کی سورت آل عمران کی آیات 12 اور 13 ور 123 سے 127 میں، سورت نساء کی آیات 77 اور 78 میں اور سورت انفال انفال کی آیات 1 سے 19 تک اور 36 سے 51 تک نیز آیات 67 سے 71 تک، میں غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کو یوم الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔ ان آیات کریمہ میں مشرکین کے لاحاصل اقدامات کو سابقہ اقوام ـ بالخصوص آل فرعون ـ سے تشبیہ دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ میں کفار و مشرکین کی شرکت شیطان کے مکر و فریب کا نتیجہ تھی۔[65]

ارشاد قرآنی کے مطابق بعض مسلمانوں نے جہاد میں شرکت کرنے سے انکار کیا، جبکہ خداوند متعال مسلمانوں کا حامی و ناصر تھا اور اس نے کافروں کے دل پر لرزہ طاری کیا اور مسلمانوں کی نظروں میں ان کی تعداد کم دکھائی دی اور اس نے بارش بھیج دی اور دیگر اقدامات کئے اور یوں کامیابی کو مسلمانوں کا مقدر کیا۔ سب سے زیادہ اہم اور زیادہ صریح و روشن یہ کہ بدر کے دن فرشتے مسلمانوں کی مدد کو آئے اور ان کے مسلمانوں کے لئے قوت قلب کا سبب ہوئے۔

قرآن کریم کی نص کے علاوہ بدر کے بعض مسلمان حاضرین (جیسے علی (ع)) نیز مشرک افراد (جیسے ابو سفیان) نے بھی مسلمانوں کی امداد کے لئے فرشتوں کے نزول کی خبر دی ہے اور علمائے اسلام کی رائے کے مطابق، اس حقیقت میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ رسول خدا(ص) سے منقولہ بعض تفسیری اور تاریخی احادیث نیز اصحاب بدر سے منقولہ روایات میں بھی اس امر کی خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔[66]

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. العلی، دولت رسول خدا(ص)، ص212۔
  2. جعفريان، آثار اسلامى مكه و مدينه، ص393۔
  3. ابن سعد،الطبقات، ج‌2، ص‌14 - 15
  4. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج‌2، ص‌45۔
  5. سوره بقره، آیه 217۔
  6. سوره انفال‌، آیه 34۔
  7. سوره حجّ‌، آیات 39ـ40۔
  8. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌252ـ‌254۔
  9. واقدی، محمد بن عمر،المغازی، ج‌1، ص‌28۔
  10. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌248ـ‌249۔
  11. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌28۔
  12. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌131۔
  13. سوره انفال، آیات 6 ـ 7۔
  14. ابن هشام، السيرة النبوية، ج2، ص363-364۔
  15. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، ص19-20۔
  16. بهرامیان، دائره المعارف بزرگ اسلامی، ج11، ص527۔
  17. طارمی، دانشنامه جهان اسلام، ج2، ص480۔
  18. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌46۔
  19. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌266۔
  20. سوره مائده، آیت 24۔
  21. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌48۔
  22. سوره انفال، آیه 7۔
  23. طارمی، دانشنامه...، ج2، ص481۔
  24. طارمی، دانشنامه...، ج2، ص481۔
  25. واقدی، المغازی، ج1، ص61۔
  26. سوره توبه، آیه 42۔
  27. طارمی، دانشنامه...، ج2، ص481۔
  28. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌269۔
  29. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌273۔
  30. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌56‌۔
  31. ابن ابی شیبه، المصنف، ج‌7، ص‌721۔
  32. ابن هشام، السيرة النبوية، ج‌2، ص‌264
  33. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌61‌۔
  34. اس وقت اس سائبان کے مقام پر ttp://g.abunawaf.com/2009/9/8/DSC_0521.jpg] مسجد العریش] نامی مسجد تعمیر کی گئی ہے۔
  35. احمد بن حنبل، مسند، ج 1، ص126۔
  36. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 2، ص23۔
  37. عمرو بن حضرمی سریہ نخلہ میں مارا گیا تھا اور مؤرخین نے یہ مسئلہ بھی جنگ بدر کے اسباب کے زمرے میں گردانا ہے۔
  38. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌6667‌۔
  39. رازی، ابوالفتوح، روض الجنان، روض الجنان، ج‌5‌، ص‌48۔
  40. طارمی، دانشنامه...، ج2، ص480۔
  41. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌145ـ‌152۔
  42. ابن قتیبه، المعارف، ص‌155۔
  43. رازی، ابوالفتوح، روض الجنان، ج‌5، ص‌50۔
  44. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌95۔
  45. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌95۔
  46. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌91۔
  47. بخاری، صحیح البخاری، ج‌2، ص‌68ـ‌69۔
  48. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌91۔
  49. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌75۔
  50. واقدی، المغازی، ج‌1، ص77-78۔
  51. طارمی، دانشنامه...، ج2، ص481۔
  52. واقدی، المغازی، ج1، ص114115۔
  53. ابن ہشام، السيرة النبويہ، ج2، ص‌300302۔
  54. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌115۔
  55. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌116-117۔
  56. [www.erfan.ir/urdu/16445.html حرمت شراب' قرآن و حدیث کی روشنی میں]۔
  57. قمی، تفسیر قمی، ج‌1، ص‌180۔
  58. زمخشری، ربیع الابرار، ج‌4، ص‌5153‌۔
  59. طبرسی، مجمع‌ البیان، ج‌3، ص‌354۔
  60. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌120۔
  61. واقدی، المغازی، ج‌1، ص‌121۔
  62. اصفهانی، ابوالفرج، الاغانی، ج‌1، ص‌2324۔
  63. مفید، الجمل، ص‌123124، 171۔
  64. مفید، وہی ماخذ، ص‌186۔
  65. غزوہ بدر کے سلسلے میں اترنے والی تمام آیات کا مطالعہ کرنے کے لئے رجوع کریں: جنگ بدر۔
  66. طارمی، دانش نامہ...، ج2، ص481۔


مآخذ

  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر، 1968 عیسوی۔
  • ابن ہشام، السيرة النبويہ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری، و عبد الحفیظ شلبی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، بی‌ تا۔
  • أبو بکر بن أبی شیبہ، المصنف فی الأحادیث والآثار، المحقق: کمال یوسف الحوت، الریاض، مکتبہ الرشد، الطبعہ الأولی، 1409 ہجری قمری۔
  • ابو الفرج اصفہانی، الاغانی، بیروت، دار الاحیاء لتراث العربی۔
  • ابو الفتوح رازی، حسین بن علی، مصحح: یاحقی، محمد جعفر، مشہد، بنیاد پژوہشهای اسلامی آستان قدس رضوی۔
  • بخاری، صحیح البخاری، بیروت، دار ابن کثیر، 1414 ہجری قمری۔
  • بہرامیان، علی، دائره المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دائره المعارف اسلامی، 1381 ہجری شمسی، ج 11، ذیل عنوان «بدر» [1]
  • جعفريان، رسول، آثار اسلامى مكہ و مدينہ، نشر مشعر - تہران، چاپ: ہشتم، 1386 ہجری شمسی۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الأبرار و نصوص الأخبار، محقق: مہنا، عبد الامیر، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات۔
  • شیخ مفید، الجمل، تحقیق: علی میر شریفی، قم، کنگره شیخ مفید۔
  • طارمی، حسن، دانش نامہ جہان اسلامی، تہران، بنیاد دائره المعارف اسلامی، 1375 ہجری شمسی، ج2، ذیل عنوان بدر(2) [2]
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1383 هجری شمسی۔
  • العلی، احمد صالح، مترجم: انصاری، ہادی، دولت رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ و سلم، پژوہشگاه حوزه و دانشگاه، قم، 1385 ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دار الکتاب، 1363 ہجری شمسی۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، چاپ مارسدن جونز، لندن 1966 عیسوی، چاپ افست قاہره، بی‌ تا۔
پچھلا غزوہ:
بدر اولی
رسول اللہ(ص) کے غزوات
غزوہ بدر کبری
اگلا غزوہ:
بنی قینقاع