ابو قتادہ انصاری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو قتادہ انصاری
معلومات
مکمل نام حارث بن رِبعی بن رافع انصاری
کنیت ابو قتادہ
لقب فارس رسول اللہ
وجہ شہرت پیغمبر اکرم (ص) و امام علی (ع) کے صحابی
محل زندگی مدینہ
مہاجر/انصار انصار
شہادت/وفات ۳۸ یا ۴۰ ق، کوفہ یا مدینہ
جنگ تمام غزوات بدر میں اختلاف، احد، جمل، صفین، نہروان


ابو قَتادَه، حارث بن رِبعی بن رافع انصاری، (متوفی ۳۸ یا ۴۰ ق) بزرگان انصار اور اصحاب پیغمبر میں سے ہیں۔ وہ پیغمبر اکرم (ص) کے لشکر کے سپاہیوں میں سے ایک تھے جو فارس رسول اللہ کے نام سے شہرت رکھتے تھے۔ اکثر جنگوں میں رسول خدا (ص) کے ہمراہ شریک رہے۔ امام علی (ع) کے دور حکومت میں بھی جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں شریک تھے۔ ابو قتادہ نے پیغمبر اکرم (ص) اور بعض دوسرے اصحاب سے روایات بھی نقل کی ہیں۔

نام و کنیت

ان کی کنیت ابو قتادہ ہے لیکن ان کے نام کے بارے میں اختلاف نظر ہے۔ بعض نے اسے نعمان یا عمرو تحریر کیا ہے اور ان کے والد کے سلسلہ نسب کو اس طرح ذکر کیا ہے: رِبعی بن بَلْدَمَہ (یا تَلْذَمَہ) بن خِناس بن سِنان بن عُبَيد بن عَدِيّ بن غَنْم بن كَعْب بن سَلَمَہ۔[1]

غزوات اور سرایا میں شرکت

ابو قتادہ پیغمبر اکرم (ص) کی سپاہ میں ایک سوار کی حیثیت سے تھے جن کی شہرت فارس رسول اللہ کے نام سے تھی۔[2] نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے غزوہ غابہ میں جب ابو قتادہ نے مسعدہ نامی شخص کو محرز بن نضلہ جو صحابی پیغمبر تھے، کے انتقام میں قتل کیا تو آپ (ص) نے انہیں اپنے شہسوار سے تعبیر کیا۔[3]

انہوں نے اکثر غزوات و سرایا میں شرکت کی ہے البتہ جنگ بدر میں ان کی شرکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن اثیر نے اس اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے ضمن میں لکھا ہے کہ ابو قتادہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی ہمراہی میں تمام جنگوں منجملہ جنگ بدر میں شرکت کی ہے۔[4]

طبرانی نے بھی روایت کی ہے کہ جنگ بدر سے ایک دن پہلے کی شب میں ابو قتادہ رسول خدا (ص) کی محافظت اور نگرانی کر رہے تھے۔[5]

اور جنگ بدر کے علاوہ دوسری تمام جنگوں میں آنحضرت (ص) کے رکاب میں ان کی شرکت کے سلسلہ میں اتفاق نظر پایا جاتا ہے۔[6] یہاں تک نقل ہوا ہے کہ جنگ احد میں دشمن کے اعمال و رفتار اور شہدائے اسلام کے مثلہ کرنے کے سبب پیغمبر اسلام (ص) کے شدید حزن کے سبب انہوں نے ناراضگی کے عالم میں قریش کو ناسزا کہنا شروع کیا تو آپ (ص) نے انہیں اس کام سے منع فرمایا اور صبر و تحمل کی تلقین کی۔[7]

ابو قتادہ معمولا جنگوں میں سپاہ کے سوار کی حیثیت سے شرکت کرتے تھے[8] اور کبھی کسی گروہ کی سرداری بھی ان کے ذمہ ہوتی تھی۔[9]

خاص ذمہ داری

سن 4 ہجری میں آنحضرت (ص) نے انہیں چار دیگر سواروں کے ہمراہ ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کو راستے سے ہٹانے کی ذمہ داری دی جو قبیلہ غطفان اور اطراف کے اعراب کے ایک گروہ کو بڑے انعامات کے لالچ میں پیغمبر اکرم (ص) سے جنگ کے لئے ترغیب و تشویق کیا کرتا تھا، ابو قتادہ نے اس ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ بخوبی انجام دیا۔[10]

خلفاء کے دور میں

خالد کی ہمراہی نہ کرنا

ابو قتادہ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد مالک بن نویرہ کے قتل کے واقعہ میں خالد بن ولید کے لشکر میں شامل تھے اور چونکہ وہ خالد کے ان پر ظلم و ستم سے راضی نہیں تھے اس لئے وہ ابو بکر کے پاس گئے اور قسم کھائی کہ کبھی بھی خالد کے زیر پرچم کسی بھی جنگ اور جہاد میں شرکت نہیں کریں گے۔[11] ان کی یہ قسم اور فیصلہ شیعہ امامیہ کتب علم کلام جیسے سید مرتضی کی کتاب الشافی[12] میں مورد توجہ قرار پایا ہے۔

فتح ایران میں شرکت

نقل ہوا ہے کہ عمر بن خطاب کے دور میں فتح ایران میں ابو قتادہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔[13]

حکومت امیر المومنین (ع)

حضرت علی (ع) کی خلافت کے زمانہ میں انہوں نے ان کے رکاب میں جنگ جمل و جنگ صفین میں شرکت کی[14] اور جنگ جمل میں بصرہ میں داخلے کے وقت وہ حضرت کے ساتھ موجود سواروں میں شامل تھے۔[15]

خوارج کے ساتھ جنگ میں بھی ابو قتادہ حضرت کے لشکر کے سرداروں میں سے تھے اور پیادہ دستے کی ذمہ داری ان کے حوالے تھی۔[16] وہ حضرت کے دور خلافت میں کچھ عرصہ مکہ کے حاکم بھی رہے۔[17]

نقل روایت

ابو قتادہ نے پیغمبر اکرم (ص) کے علاوہ معاذ بن جبل اور عمر بن خطاب سے روایت نقل کی ہے۔

انس بن مالک، سعید بن مسیب، عطاء بن یسار، علی بن ریاح، عبد الله بن ریاح و بعض دیگر افراد نے جن میں ان کے بیٹے ثابت اور عبد اللہ شامل ہیں، ان سے روایات نقل کی ہیں۔[18] ان سے بہت سی احادیث کتب حدیثی جیسے صحاح ستہ[19] و مسند احمد بن حنبل[20] میں ذکر ہوئی ہیں۔

وفات

بعض نے ان کی وفات سن ۳۸ ہجری میں اور بعض نے سن ۴۰ ہجری میں نقل کی ہے اور یہ بھی نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کوفہ میں وفات پائی اور حضرت علی (ع) نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔[21] البتہ مدینہ میں ان کی وفات کا قول زیادہ مشہور ہے۔[22]

ابو قتادہ نے ۷۰ برس کی عمر میں رحلت پائی۔[23]

حوالہ جات

  1. خلیفہ، الطبقات، ج۱، ص۲۲۴، ابن حبان، ص۶۹
  2. ابن اثیر، اسد الغابه، ج۵، ص۲۷۴؛ ابن حجر، الاصابہ، ج۴، ص۱۵۸
  3. اوقدی، ج۲، ص۷۶۲؛ ابن سعد، ج۲ (۱)، ص۵۸، ۶۱؛ طبری، ج۲، ص۶۰۰
  4. طبری، ج۲، ص۶۰۰
  5. ہیثمی، ج۹، ص۳۱۹
  6. نک‍: ابن کثیر، ج۸، ص۶۸؛ ابن حجر، الاصابہ، ج۴، ص۱۵۸
  7. واقدی، ج۱، ص۲۹۰-۲۹۱
  8. نک‍: واقدی، ج۱، ص۳۸۴-۳۸۵، ص۴۰۴-۴۰۵
  9. واقدی، ج۲، ص۷۷۷-۷۷۸
  10. واقدی، ج۱، ص۳۹۱-۳۹۴؛ ابن ہشام، ج۳، ص۲۸۷
  11. یعقوبی، ج۲، ص۱۳۱-۱۳۲؛ بلاذری، فتوح، ص۹۸؛ طبری، ج۳، ص۲۸۰
  12. ج۴، ص۱۶۵
  13. نک‍: ذہبی، ج۲، ص۴۵۲
  14. ابن حجر، الاصابہ، ج۴، ص۱۵۸، ۱۵۹
  15. مسعودی، ج۲، ص۳۵۹-۳۶۰
  16. بلاذری، انساب، ج۲، ص۳۷۱؛ دینوری، ص۲۱۰؛ خطیب، ج۱، ص۱۵۹-۱۶۰
  17. خلیفہ، تاریخ، ج۱، ص۲۳۲؛ فاکہی ص۱۶۳
  18. ذہبی، ج۲، ص۴۴۹؛ ابن حجر، تہذیب، ج۱۲، ص۲۰۴
  19. نک‍: مزی، ج۹، ص۲۴۰-۲۷۲
  20. ج۵، ص۲۹۵-۳۱۱
  21. ابن اثیر، الکامل، ج۳، ص۵۰۰
  22. نک‍: حاکم، ج۳، ص۴۸۰
  23. واقدی، ج۲، ص۵۴۵


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابه، قاہره، ۱۲۸۰ق
  • وہی، الکامل، ابن حبان، محمد، تاریخ الصحابہ، بہ کوشش بوران ضناوی، بیروت، ۱۹۸۸ع
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابہ، قاہره، ۱۳۲۸ق
  • وہی، تہذیب التہذیب، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۸ق
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبیر، لیدن، ۱۹۰۴-۱۹۱۸ع
  • ابن کثیر البدایه، ابن ہشام، عبد الملک، السیره النبویہ، به کوشش مصطفی سقا و دیگران، قاہره، ۱۳۷۵ق/۱۹۵۵ع
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہره، ۱۳۱۳ق
  • بلاذری، حمد بن یحیی، انساب الاشراف، بہ کوشش محمد باقرمحمودی، بیروت، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۴ع
  • بلاذری، فتوح البلدان، بہ کوشش دخویہ، لیدن، ۱۸۶۶ع
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبد الله، المستدرک، حیدرآباد دکن، ۱۳۳۴ق
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، قاہره، ۱۳۴۹ق
  • خلیفہ بن خیاط، تاریخ، بہ کوشش سهیل زکار، دمشق، ۱۹۶۶ع
  • دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، بہ کوشش عبد المنعم عامر و جمال الدین شیال، قاہره، ۱۹۶۰ع
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، بہ کوشش شعیب ارنؤوط، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ع
  • سید مرتضی، علی بن حسین، الشافی، بہ کوشش عبد الزہرا خطیب، تہران، ۱۴۰۷ق
  • طبری، تاریخ.
  • فاکہی، محمد بن اسحاق، المنتقی فی اخبار ام القری، بہ کوشش ووستنفلد، لیدن، ۱۸۵۹ع
  • مسعودی، مروج الذہب، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۶ع
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، بہ کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶ع
  • ہیثمی، علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد، بیروت، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۲ع
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ، بیروت، ۱۳۷۹ق/۱۹۶۰ع