ام ایمن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اُمِّ اَیْمَن‌ [أمُّ أیمَن]، بركۃ بنت ثعلبۃ بن عمرو بن حصن الحبشيۃ، کی کنیت ہے جو صحابیہ خواتین، میں سے ہیں؛ انہیں پیغمبر اکرم(ص) نے آزاد کیا؛ اسامہ بن زید کی والدہ ہیں اور رسول اللہ(ص) نے انہیں جنت کی بشارت دی ہے۔

صرف ام ایمن اور امام علی ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ(ص) کے وصال اور ابوبکر کے ہاتھ غصبِ فدک کے بعد گواہی دی کہ رسول اللہ(ص) نے فدک حضرت فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کو بخش دیا تھا۔

نسب اور کُلی توصیف و تعارف

بَرَكۃ بنت ثعلبة بن‌ عمرو، المعروف بہ ام ایمن، رسول اللہ(ص) کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب(ع)[1] یا آپ(ص) کی والدہ آمنہ بنت وہب(س) کی حبشی کنیز تھیں۔ عبداللہ(ع) اور ان کے بعد آمنہ(س) کی وفات کے بعد رسول اللہ(ص) کو ترکے میں ملیں۔[2]۔[3]

طفولت میں حضرت محمد(ص) کی دیکھ بھال

ابواء میں حضرت آمنہ(س) کی وفات کے بعد انھوں نے مکہ پہنچنے تک حضرت محمد(ص) کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھائی۔[4] اور بدستور طویل عرصے تک آپ(ص) کی خدمت میں مصروف رہیں؛[5] اور آنحضرت(ص) کی دیکھ بھال کا کام آپ(ص) کی نوجوانی تک جاری رکھی۔[6] عبدالمطلب(ع) نے ام ایمن سے کہا تھا کہ "میرے اس بیٹے سے غفلت مت برتو؛ اہل کتاب کا کہنا ہے وہ اس امت کے پیغمبر ہیں۔[7]

شادیاں اور اولاد

پیغمبر(ص) نے خدیجۂ کبری سلام اللہ علیہا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوتے وقت ام ایمن کو آزاد کیا اور وہ عبید بن‌ زید خزرجى‌ کے حبالۂ نکاح میں آئیں۔ اور ایمن‌ اسی نکاح کا نتیجہ ہیں اور اسی بنا پر وہ "ام ایمن" کی کنیت سے مشہور ہوئیں۔ کچھ عرصہ بعد جب عبید کا انتقال ہوا تو ان کا نکاح [[زید بن حارث سے ہوا جو رسول اللہ(ص) کے آزاد کردہ اور منہ بولے بیٹے تھے؛ اسامہ بن زید اسی نکاح کا نتیجہ تھے۔[8]۔[9]

ہجرت

ام ایمن سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے اور بعد میں مدینہ ہجرت کی۔[10]۔[11]۔[12] نیز مروی ہے کہ وہ مہاجرین حبشہ میں سے بھی تھیں۔[13]۔[14]

جنگوں میں شرکت

ام‌ ایمن‌ جنگ احد میں حاضر تھیں اور جنگجؤوں کو سیراب کرتی تھیں اور زخمیوں کا مداوا کرتی تھیں۔ وہ جنگ خیبر بھی حضور داشت‌ و جنگجویان‌ را سیراب‌ و مجروحان‌ را مداوا مى‌كرد. وی‌ در خیبر نیز همراه‌ پیامبر(ص‌) بود۔[15]۔[16]۔[17]

اہل بیت(ع) کے ساتھ تعلق

پیغمبر(ص‌) ام ایمن سے بہت محبت کرتے تھے اور انہیں ماں کہہ کر پکارتے تھے۔[18] ان کے اعلی رتبے کے بارے میں متعدد احادیث رسول اللہ(ص) سے نقل ہوئی ہیں۔[19]۔[20] رسول اللہ(ص) ام ایمن کے گھر جاکر ان کا دیدار کرتے تھے اور آپ(ص) کے بعد ابوبکر اور عمر بھی آپ(ص) کی متابعت کرتے ہوئے ان کے گھر میں ان سے ملاقات کرتے تھے۔[21]۔[22]۔[23] اسی بنا پر بعض کتب حدیث میں "فضائل‌ ام‌ ایمن" کے عنوان سے مستقل باب پایا جاتا ہے۔[24] بعض شیعہ مآخذ میں بھی انہیں احترام کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔[25]۔[26]

رسول اللہ(ص) نے انہیں جنتی خاتون کے عنوان سے متعارف کرایا ہے۔ صرف ام ایمن اور امام علی ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ(ص) کے وصال اور ابوبکر کے ہاتھ غصبِ فدک کے بعد شہادت دی کہ رسول اللہ(ص) نے فدک فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کہ بخش دیا ہے۔[27]

ام ایمن سے کئی حدیثیں بھی نقل ہوئی ہیں۔[28]۔[29]۔[30] انس‌ بن‌ مالک‌، ابویزید مدنى‌ اور حنش‌ بن‌ عبداللہ‌ صنعانى‌ جیسے محدثین نے بھی ان سے روایت کی ہے۔[31]

وفات

ام ایمن کی صحیح تاریخ وفات معلوم نہیں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ وصال رسول کے پانچ ماہ بعد وفات پاگئیں۔[32] لیکن ابن سعد کی روایت کے مطابق[33] وہ خلافت عثمان کے اوائل تک بقید حیات تھیں۔[34]۔[35]

حوالہ جات

  1. زهری‌، 177؛ طبرانى‌، المعجم‌ الكبیر، ج25، ص86۔
  2. دیکھیں: ابن‌ سعد، الطبقات‌ الكبری‌، ج8، ص223۔
  3. بلاذری‌، انساب‌ الاشراف‌، ج1، ص96۔
  4. ابن‌ قتیبه‌، المعارف‌، ص150۔
  5. بلاذری‌، انساب‌ الاشراف‌، ج1، ص472۔
  6. ابن حجر، الاصابة، ج8، ص360۔
  7. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج2، ص343۔
  8. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ج4، ص61، ج8، ص223۔
  9. بلاذری‌، انساب‌ الاشراف‌، ج1، ص 472۔
  10. دیکھیں: بلاذری‌، انساب‌ الاشراف‌، ج1، ص269۔
  11. ابن‌ عبدالبر، الاستیعاب‌، ج4، ص1793۔
  12. ابن‌ اثیر، اسدالغابة، ج5، ص567۔
  13. ابن‌ عبدالبر، الاستیعاب‌، ج4، ص1793۔
  14. ابن‌ اثیر، اسدالغابة، ج5، ص567۔
  15. واقدی‌، المغازی‌، ج1، ص241، 250، ج2، ص685۔
  16. ابن‌ سعد، الطبقات‌ الكبری‌، ج8، ص225۔
  17. بلاذری‌، انساب‌ الاشراف‌، ج1، ص320۔
  18. ابن‌ سعد، الطبقات‌ الكبری‌، ج8، ص223۔
  19. دیکھیں: ابن‌ سعد، الطبقات‌ الكبری‌، ج8، 223-226۔
  20. ذهبى‌، سیر اعلام‌ النبلاء، ج2، ص224۔
  21. مسلم‌، الصحیح‌، ج2، ص1907۔
  22. ابن‌ ماجه‌، السنن‌، ج2، 523-524۔
  23. ابن‌ عبدالبر، الاستیعاب‌، ج4، ص1794۔
  24. دیکھیں: مسلم‌، الصحیح‌، ج2، ص1907- 1908۔
  25. مثلاً دیکھیں: كلینى‌، الكافى‌، ج2، ص405۔
  26. ابن‌ بابویه‌، الامالى‌، ص76۔
  27. الطبرسی، الاحتجاج، ج1، ص121-122۔
  28. احمد بن‌ حنبل‌، ج6، ص421۔
  29. طبرانى‌، المعجم‌ الكبیر، ج25، ص87-91۔
  30. ابن‌ ماجه‌، السنن‌، ج2، ص1107۔
  31. ابن‌ حجر، ج12، ص459۔
  32. طبرانى‌، المعجم‌ الكبیر، ج25، ص86، به‌ نقل‌ از زهری‌۔
  33. ابن سعد، الطبقات‌ الكبری‌، ج8، ص226۔
  34. نیز دیکھیں: طبرانى‌، المعجم‌ الكبیر، ج25، ص86۔
  35. ذهبى‌، سیر اعلام‌ النبلاء، ج2، ص227۔


مآخذ

  • ابن‌ اثیر، على‌، اسدالغابۃ، قاہرہ، 1280ہجری قمری.
  • ابن‌ بابویہ، محمد، الامالى‌، بہ كوشش‌ حسین‌ اعلمى‌، بیروت‌، 1400ہجری قمری‌/1980عیسوی۔
  • ابن‌ حجر عسقلانى‌، احمد، تہذیب‌ التہذیب‌، حیدرآباد دكن‌، 1327ہجری قمری۔
  • ابن‌ سعد، محمد، الطبقات‌ الكبری‌، بیروت‌، دارصادر.
  • ابن‌ عبدالبر، یوسف‌، الاستیعاب‌، بہ كوشش‌ على‌ محمد بجاوی‌، قاہرہ، 1380ہجری قمری‌/1960عیسوی۔
  • ابن‌ قتیبہ، عبداللہ، المعارف‌، بہ كوشش‌ ثروت‌ عكاشہ، قاہرہ، 1388ہجری قمری‌/1969عیسوی۔
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، تحقیق: علی شیری، بیروت: دار احیاء التراث العربی، 1408-1988عیسوی۔
  • ابن‌ ماجہ، محمد، السنن‌، استانبول‌، 1401ہجری قمری۔‌/1981عیسوی۔
  • احمد بن‌ حنبل‌، مسند، قاہرہ، 1313ہجری قمری۔
  • بلاذری‌، احمد، انساب‌ الاشراف‌، بہ كوشش‌ محمد حمیداللہ، قاہرہ، 1959عیسوی۔
  • ذہبى‌، احمد، سیر اعلام‌ النبلاء، بہ كوشش‌ شعیب‌ ارنؤوط و دیگران‌، بیروت‌، 1406ہجری قمری‌/1986عیسوی۔
  • زہری‌، عبداللہ، المغازی‌ النبویۃ، بہ كوشش‌ سہیل‌ زكار، دمشق‌، 1401ہجری قمری‌/1981عیسوی۔
  • طبرانى‌، سلیمان‌، المعجم‌ الكبیر، بہ كوشش‌ حمدی‌ عبدالمجید سلفى‌، بغداد، 1981عیسوی۔
  • طبری‌، تاریخ‌ الامم والملوک.
  • الطبرسی، الاحتجاج، ج 1، تعلیق و ملاحظات: السیدمحمدباقر الخرسان، النجف الاشرف: دارالنعمان، 1386-1966عیسوی۔
  • كلینى‌، محمد بن یعقوب، الكافى‌، بہ كوشش‌ على‌ اكبر غفاری‌، بیروت‌، 1401ہجری قمری۔
  • مسلم‌ بن‌ حجاج‌، الصحیح‌، بہ كوشش‌ محمد فؤاد عبدالباقى‌، استانبول‌، 1401ہجری قمری۔
  • واقدی‌، محمد، المغازی‌، بہ كوشش‌ مارسدن‌ جونز، لندن‌، 1966عیسوی۔

بیرونی روابط