قبور پر عمارت بنانا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قبور پر عمارت بنانا ایک اصطلاح ہے جس میں قبر پر کی جانے والی ہر طرح کی تعمیر شامل ہے ۔ اہل سنت اور شیعوں کے درمیان حکم شرعی کے لحاظ سے قبور پر عمارت بنانے کا اختلاف ایک طرف اور وہابیوں سے ان کا اختلاف ایک اور جہت سے ہے ۔مذاہب اسلامی خاص طور پر شیعہ حضرات طول تاریخ میں بزرگوں ،پیشوا اور علما کی قبور پر عمارتیں بناتے چلیں آ رہے ہیں ۔تاریخی لحاظ سے اس امر کی بازگشت صدر اسلام کی طرف ہے نیز تاریخی شواہد کے مطابق صحابہ اور تابعین کی جانب سے کبھی ان تعمیرات کو تنقید کا سامنا نہیں رہا اگرچہ وہابیت کے نزدیک اس کے مفہوم میں وسعت پائی جاتی ہے ۔ وہابی معتقد ہیں کہ مردوں کی قبور پر عمارت کی تعمیر ایک طرح سے ان قبور کی عبادت کے مقدمات فراہم کرتی ہیں اور عبادت میں شرک کی مانند ہے ۔

معنا شناسی

قبور پر عمارت بنانا فقہی، کلامی اور تاریخی لحاظ سے مختلف ابحاث کی وجہ سے ایک اصطلاح میں تبدیل ہو گیا ہے ۔یہ اصطلاح ہر قبر پر قُبہ(گنبد)، بقعہ(بارگاه)، ضریح، مسجد وغیرہ کی تعمیر سمیت قبر پر ہر قسم کی تعمیر کو شامل ہے ۔حتا کہ بعض کے نزدیک قبر کے اطراف پتھر رکھنے کو بھی شامل ہے ۔ [1]

یہ اصطلاح قبر میں دفن سے پہلے کی تعمیرات کو بھی شامل ہے ۔[2] اس بنا پر ذہن میں خطور کرنے والے معنا کے بر خلاف دفن سے پہلے کی تعمیرات کا باقی رہنا بھی اس میں شامل ہو گا ۔

موضوع بحث

وہابیوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان ہونے والی ابحاث کی بنیاد پر قبور پر عمارت بنانے کی بحث حکم شرعی کی ابحاث میں سے ہے نیز مسلمانوں کی نسبت قبور پر بنائی گئی عمارتوں کو باقی رکھنے کے حکم شرعی کی بحث سے ہے ۔

تاریخچہ

قبل از اسلام

قدس میں حضرت داود کی قبر اور حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف(ع) کی الخلیل نامی شہر میں قبروں پر بلند عمارتیں بنی ہوئی تھیں اور مسلمانوں نے حضرت عمر کی رہبری میں ہونے والی جنگوں میں ان مقبروں اور عمارتوں کو خراب نہیں کیا تھا۔ [3][4] یہ موضوع اس بات کا بیان گر ہے کہ قبور پر عمارتوں کی تعمیر اسلام سے پہلے اور نہ اسلام کے بعد بلکہ کسی زمانے میں بھی مذموم نہیں تھی ۔ [5]

رسول اللہ کا زمانہ

رسول اکرم(ص) نے فاطمہ بنت اسد کو مسجد کے ایک حصے میں دفن کیا کہ جو تاریخ اسلام میں قبر فاطمہ کے نام سے معروف رہی ۔[6] عہد نبوی میں صلح حدیبیہ کے موقع پر قبور پر پہلی عمارت یا مسجد ابوجُنْدُل کے ہاتھوں ابوبصیر صحابی کی قبر پر بنائی گئی اور رسول خدا نے اس سے آگاہی کے باوجود اس کام سے منع نہیں کیا۔[7]

اصحاب کا زمانہ

پیامبر اکرم کی رحلت کے بعد رسول خدا اپنے گھر میں دفن ہوئے ۔انکی وفات کے ابتدائی ایام میں اس گھر کی حفاظت اور اس گھر کی تعمیر کا کام مسلمانوں اور خلفا کے زمانے میں مورد عنایت رہا ۔

پہلی مرتبہ عمر بن خطاب نے قبر کے پاس دیوار تعمیر کی اور اس جگہ کو حضرت عائشہ کے گھر سے جدا کیا ۔[8] [9] ولید بن عبدالملک(حکومت: ۸۶-۹۶ق) نے رسول خدا کے مقام دفن کو توسعہ کی نیت سے خراب کیا پھر نئے سرے سے اسے تعمیر کیا اور گھر کے اطراف میں صحن کا اضافہ کیا اور آخر میں انکے حجرے کو سنگ مرمر سے تزئین کیا ۔ متوکل(حکومت: ۲۲۸- ۲۴۲ق) اور مستعصم(حکومت: ۶۴۰-۶۵۶ق) نے عمارت کی نئے سرے سے تعمیر کی ۔ سال ۶۵۶ق میں امیر مصر ملک منصور کی جانب سے بھیجے گئے تعمیراتی مسالے سے پیغمبر اکرم کی مرقد کی نئے سرے سے تعمیر اور تزئین ہوئی نیز قبۃ الزرقا کے نام سے پہلا گنبد حجرے پر بنایا گیا ۔ ۷۶۵، ۸۵۲، ۸۸۱، ۸۸۶ اور ۸۹۱ق کے سالوں میں بنی عباس اور عثمانی خلفا کے توسط سے دوبارہ تعمیرات اور گنبد تعمیر ہوئے ۔[10] [11]

رسول اقدس کے مرقد اقدس پر چند مرتبہ تعمیرات کا ہونا اور اسے وسیع کرنا اس کام کی مشروعیت اور جواز کو بیان کرتا ہے نیز رسول اللہ کے زمانے میں مسلمانوں کی یہ سیرت قبور پر عمارتوں کی تعمیر کے جواز کی دلیل ہے ۔[12]

قبور پر عمارتوں کی تعمیر صحابہ کے زمانے میں رواج رکھتی تھی جیسا کہ مغیره بن شعبہ کے گھر میں زبیر بن عوام کی والدہ اور رسول خدا کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب کی قبر پر دوبارہ عمارت بنائی گئی ۔ [13] عقیل کا گھر جو بنی ہاشم کی قبور سے مخصوص تھا وہ بعد میں قبرستان بقیع میں تبدیل ہو گیا ،[14] اس میں ائمہ اہل بیت (ع) اور بعض صحابہ کی قبور پر عمارتیں بنائی گئی تھیں ۔ [15] مجد الملک قمی کی طرف سے ۴ اماموں اور عباس بن عبدالمطلب کے مزاروں کی تعمیر کیلئے معماروں کے بھیجنے کی خبر ابن اثیر نے نقل کی ہے ۔ [16] محمد بن احمد ابن جبیر ، [17] محمد بن محمود ابن نجار،[18] خالد بن عیسی،[19] محمد بن عبدالله (ابن بطوطہ[20] و اولیا چلپی[21] نے مختلف سالوں میں ائمہ کی قبور پر قبوں کی موجودگی کی خبر دی ہے ۔

تابعین کا دور

عقیل کے گھر میں ام سلمہ و ام حبیبہ، امہات المومنین کی قبور بھی مقبروں اور عمارتوں پر مشتمل تھیں ۔بقیع میں عقیل، انکے بھتیجوں عبدالله بن جعفر طیار اور ابراہیم اور رسول اللہ کے فرزندوں کی قبور پر بھی قبے ، گنبد اور عمارت موجود تھی۔ محمد بن احمد بن جبیر کے بقول عباس بن عبدالمطلب ، امام حسن(ع) اور ابراہیم بن محمد کی قبور زمین سے بلند تھیں ۔ [22] [23] سال ۹۴ق سے پہلے ابن عباس کی قبر پر عمارت موجود ہونے کے بھی شواہد ہیں ۔[24]

دوسری صدی ہجری

مقبره اور قبہ بنانے کی سنت دوسری صدی ہجری میں زیادہ رائج ہو چکی تھی ۔[25] جعفر عباسی بن منصور عباسی(حکومت:۱۳۶ ۱۵۸ق) کی قبر پر عمارت اور بعض قبروں پر گنبد دوسری صدی ہجری کے اواسط میں موجود تھے ۔ ہارون الرشید(حکومت:۱۷۰۱۹۳ق) کے توسط سے ۱۷۰ق کے بعد امام علی(ع) کی قبر پر عمارت تعمیر ہوئی ،قاہرہ میں سیده نفیسہ کی قبر اور امام حسن(ع) کی قبور پر عمارتیں اسی باب سے ہیں ۔

ابن بطوطہ طلحہ کی قبر پر مسجد کی موجودیت کی خبر دیتا ہے ۔ اسی طرح زبیر کی قبر پر مسجد موجود تھی ۔ مدائن میں سلمان فارسی کی قبر پر قبہ اور بارگاہ اور شام میں اویس قرنی اور قبیلہ خزرج کے رئیس سعد بن عباده کی قبر پر مسجد تھی نیز معاذ بن جبل اور عقبہ بن عامر، محمد بن ابی بکر اور اسکی بہن اسماء بنت ابوبکر، عبداللہ بن زبیر، مصر کا بزرگ فقیہ ابو الحسن دینوری ، انس بن مالک خادم رسول خدا اور سہل بن عبد الله تستری کی قبروں پر عمارتیں قبور پر عمارتیں تعمیر کرنے کے نمونوں میں سے ہیں ۔

تیسری صدی اور اسکے بعد

دین اسلام کے ظہور کے ابتدائی صدیوں میں قبور پر قبوں اور عمارتوں کی تعمیرات کی بہت زیادہ مثالیں موجود ہیں ۔یہ مسئلہ مسلسل صدیوں میں مسلمانوں کے درمیان اس حال میں موجود رہا کہ شیعہ یا اہل سنت کے علما میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس بات کے معتقد تھے کہ یہ کام شرک ہے اور نہ ہی وہ اس کے قائل تھے کہ یہ کام لوگوں کو شرک اور غیر خدا کی عبادت کی طرف لے جائے گا ۔

اہل سنت کے فقہی مذاہب کے پیشواوں کی قبور پر بھی گنبد اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں۔اہل سنت کے مذہبی راہنما ابو حنیفہ(۱۵۰ق) کی قبر پر بغداد میں گنبد اور موجود عمارت تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں بنائی گئی ہے۔[26] [27] مالکی مسلک کے پیشوا مالک بن أنس(۱۹۷ق) کی بقیع میں موجود قبر ایک چھوٹا گنبد تھا ۔ [28] [29] مصر میں شافعی مکتب کے پیشوا محمد بن ادریس شافعی(۱۵۰ق) [30] اور بغداد میں حنبلیوں کے پیشوا احمد بن حنبل(۲۴۱ق) کی قبر گنبد پر مشتمل تھی اور اسکی چند مرتبہ مرمت کی گئی ۔ [31]

تیسری صدی ہجری کا زمانہ گنبد دار مقبروں کا زمانہ تھا[32] اور چوتھی صدی ہجری کے بعد انکی زیارت کرنا معمول بن گیا ۔[33] [34] ترمذ میں محمد بن عیسی ترمذی(۲۹۶ق) کی آرامگاہ تیسری صدی کے آخر یا چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے متعلق ہے ۔[35]

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں نوبہ کے آسوان نامی جنگی علاقے میں شہدا کی قبور پر مقبرے موجود تھے ۔[36] چھٹی صدی ہجری کے بعد جہان اسلام میں بہت زیادہ مقبرے پائے جاتے تھے ۔[37] اس صدی میں اسلام کے اندر تصوف کے پھیلاؤ کی وجہ سے مقبروں کی تعمیرات بہت زیادہ ہو گئیں۔[38] ایران کے شہر تربت جام میں شیخ احمد جام کا مقبرہ احتمالا چھٹی صدی اور بایزید بسطامی کا آٹھویں صدی ہجری کا مقبرہ ان عمارتوں میں سے ہیں ۔

تاریخی منابع کے مطابق طول تاریخ میں ان عمارتوں کی حفاظت اور انکی زیارت کرنا مسلمانوں میں ایک مورد توجہ عمل رہا ہے ۔ [39]اسی وجہ سے عباسی خلفا متوکل کی طرف سے سال ۲۳۶ق میں امام حسین(ع) کی قبر کے انہدام کا عمل مسلمانوں کی طرف سے بیزاری کا موجب بنا ۔ [40]


ائمہ اور اہلبیت کی قبور پر تعمیرات

شیعہ ائمہ (ع) کی قبور پر قُبّوں اور عمارتوں کی تعمیر کی سنت بھی ایک اور تاریخی مستندات میں سے ہے کہ جو مسلمانوں کی توجہ کی حامل رہی۔ حضرت علی(ع) کی قبر پر قُبہ اور با شکوہ عمارت بنی ہوئی ہے جو تاریخی لحاظ سے ہارون الرشید کے توسط سے دوسری صدی ہجری میں بنیا گیا ۔[41] [42] اور قبور پر بنائی جانے والی عمارتوں میں سے قدیم ترین شمار ہوتی ہے ۔ طبرستان کے شیعہ حاکم محمد بن زید بن محمد نے اس گنبد کی تعمیر کا کام ۲۸۷ قمری میں نئے سرے سے کام کروایا۔ [43] تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے شعرا میں سے ابن حجاج بغدادی نے قصیدے میں اس قبر اور گنبد کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ [44] اولین بنا بر روی قبر امام حسین(ع) کی قبر مبارک پر پہلی تعمیرات مختار ثقفی کے غلبہ حاصل کرنے کے بعد اس کے توسط سے ہوئیں اور پھر عضد الدولہ کے توسط سے ۳۷۱ق میں قبر پر لکڑی کی ضریح نصب ہوئی ۔ [45] خطیب بغدادی نے مقابر قریش میں سے امام کاظم کی قبر کا ذکر کیا ہے کہ جو شیعوں کے توسل اور زیارت کیلئے مورد توجہ رہی نیز بعض اہل سنت بھی اس میں شامل ہیں ۔ [46]

مشہد میں امام رضا(ع) کا مزار بھی اسی قبیل ہے .[47] علمائے حنفی میں سے محمد بن مومل طوس میں قبر پر قبے اور مقبرے کی خبر دی ہے نیز اہل سنت برگان کی اس مزار کے سامنے تواضع کا بھی ذکر کرتا ہے۔ [48] ابن حبان نے اس مقام پر پریشان اور لاچار لوگوں کی ایک امانگاه کا بھی ذکر کیا ہے ۔ [49]

سال ۳۳۳ق میں ناصر الدولہ حمدانی نے امام ہادی(ع) اور امام عسکری(ع) کی قبروں پر قبہ تعمیر کروایا ۔[50]

تیسری صدی ہجری کے وسط میں علویوں کے حاکم محمد بن زید بن محمد نے اس قبر پر قبہ تعمیر کروایا ۔[51] جبکہ اس سے پہلے اس قبر پر سائبان موجود تھا ۔[52]

سلجوقیوں کے وزیر توسط سے پانچویں صدی ہجری میں مجدالدین براوستانی حضرت عبدالعظیم حرم کا بیرونی دروازہ اینٹوں سے بنوایا۔ [53]

اسی طرح بقیع میں آئمہ کی قبور ؛ بنی ہاشم کی آرامگاہیں اور عباس بن عبدالمطلب کی قبروں پر گنبد بنوانے کا کام پانچویں صدی ہجری میں مجدالملک براوستانی کے دستور سے ہوا [54] پھر کئی مرتبہ خلفا کے توسط سے نئے سرے سے تعمر ہوتا رہا ۔ حرم میں منصوب کتبوں پر موجود عبارتوں کے مطابق ان قبروں پر پہلی تعمیرات ۵۱۹ق میں عباسی خلیفہ مسترشد بالله کے تحت انجام پایا اور پھر ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں مستنصر بالله کے ذریعے دیگر تعمیرات انجام دی گئیں ۔

قبروں پر عمارتیں بنانے کا شرعی حکم

آخری دو صدیوں میں [[وہابیوں]] نے ان قبروں پر تعمرات کرنے کی حرمت کا حکم دیا اور انہوں نے ان قبروں پر موجود عمارتوں کے خراب کرنے کا اقدام کیا ۔اس حکم کا سابقہ ساتویں صدی ہجری اور ابن تیمیہ (متوفا۷۲۸ق)[55] اور اسکے شاگرد ابن قیم (متوفا۷۵۱ق)[56] کے نظریات کی طرف لوٹتا ہے ۔ان کے فتوں کی بنیاد پر ان مشاہد اور قبروں بنائی گئی عمارتوں کی تخریب وانہدام کے وجوب کا حکم دیا ۔ان عمارتوں کی تخریب کا پہلا اقدام مرقد اور انکی قبر کا انہدام تھا۔[57] سال ۱۲۱۶ق اور اسکے بعد کے سالوں میں قبرستان بقیع میں مدفون آئمہ کی قبروں پر قبوں اور گنبدوں کو منہدم کرنے کا کام ۱۲۲۱ق میں انجام دیا ۔[58] [59] منہدم شدہ گنبدوں کی دوبارہ تعمیر کے بعد اور حجاز پر دوبارہ سال ۱۳۴۴ق میں وہابیوں کے مسلط ہونے کے بعد انہوں نے مدینہ کے فقہا کے قبرستان بقیع میں صحابہ اور ائمہ کی قبروں پر گنبدوں اور قبوں کے انہدام کے فتووں کی بنا پر انہیں منہدم کیا ۔[60] اس طرح قبور پر عمارتوں کی تعمیر کا موضوع اسلام کے بین الاقوامی موضوعات میں سے ایک موضوع بن گیا۔

اس گروہ کے عقیده کے برخلاف دیگر تمام مسلمان قبور پر گنبد،قبہ،مسجد ،مدرسہ وغیرہ بنانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔ [61] شیعیان اور بعض اہل سنت [62] اسے مسلمانوں کی سیرت کے مطابق سمجھتے ہیں ۔ [63] بعض اہل سنت فقہا نے صرف بعض موارد میں اسے مکروہ کہا ہے اور دیگر کئی اہل سنت فقہا انبیا، شہدا اور صالح افراد کی قبو پر ان تعمیرات کو مستحب سمجھتے ہیں ۔ [64]

اہل سنت کے بعض محققین معتقد ہیں کہ قبور کے اطراف میں تعمیرات میں اختلاف نہی کی روایات میں وہابیوں کی باریک بینی کے نہ ہونے اور اس مقام پر معارض روایات کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔جن روایات میں تعمیرات سے منع کیا گیا ہے وہ عام و خاص کے باب میں سے نہیں ہے بلکہ وہ خاص زمانے سے مخصوص ہیں اور ان روایات میں مذکور مسالوں( تعمیر میں استعمال ہونے والے اجزا) کی وجہ سے عمارتوں میں آگ لگنے کا خطرہ یا میت پر سنگینی یا دوسرے مسلمانوں سے ان کے مشخص ہونے یا ان عمارتوں کی موجودگی میں دوسرے مسلمانوں کے دفن میں رکاوٹ جیسے اسباب و علل کی وجہ سے منع کیا گیا ہے ۔علم اصول کے قواعد کی بنیاد پر جن روایات میں حکم کی نہی کے ساتھ اسباب و علل مذکور ہوں تو ان روایات کے حکم کو ان خاص مقامات کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا ہے اور اس حکم کو دیگر موضوعات میں جاری نہیں کیا جاتا ہے ۔[65] ان کے علاوہ دیگر دلائل موجود ہیں جو قبر پر تعمیر کے جواز کو بیان کرتے ہیں نیز بعض دلائل سندی اور دلالت کے لحاظ سے نہی کرنے والی رویات سے قوی ہیں ۔ [66]

قبر پر تعمیرات سے منع کرنے والی روایات کو کراہت پر حمل کیا جائے گا البتہ دین کے بزرگان ،اولیا،اوصیا،صالحین اور شہدا کی قبور اس کراہت میں شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ شعائر الہی میں شامل ہیں نیز ان کی قبور پر قبہ اور مسجد وغیرہ بنانا ان قبروں کے مشخص ہونے کا سبب ہوتے ہیں اور لوگ اس کے ذریعے ان کی زیارت کرتے ہیں اور ایسا کرنا انکی تعظیم شمار ہوتا ہے ۔قرآنی تعلیمات کے مطابق [67] یہ نفس کی سلامتی اور صدق نیت کی علامت ہے ۔ [68]

حکم قرآن

قران کریم نے اصحاب کہف کے اجساد کے بارے میں مسیحوں اور مشرکوں کے باہمی اختلاف نظر کو بیان کیا ہے:

بعض نے کہا : مقبرہ بنایا جائے یا غار کے دروازے کے سامنے دیوار بنائی جائے : فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیهِمْ بُنْیانًا (کہف/۱۸، ۲۱) تا کہ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہے ۔کچھ دوسرے لوگوں نے تجویز دی کہ انکی قبور پر مسجد اور معبد بنایا جائے : لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیهِمْ مَسْجِدًا.[69]

آخرکار انہوں نے ان قبروں پر مسجد بنانے کا ارادہ کیا تا کہ تا وہاں خدا کی عبادت کریں اور اسکے ذریعے اصحاب کہف کے آثار باقی رہیں اور اصحاب کہف کی قبور سے تبرک حاصل کر سکیں .ان آیات میں کسی جگہ شرک‌ کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا حالانکہ اگر مسجد یا عمارت بنانے میں کوئی شرک کا شائبہ ہوتا تو حتمی طور پر ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ۔[70]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. دمیاطی، ج۲، ص۱۳۷
  2. غماری، ج۱، ص۴۳
  3. ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم: ص۳۳۱.
  4. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی: ج ۲۷، ص۲۷
  5. طبسی، نجم الدین، شناخت وہابیت، دلیل ما، ۱۳۹۱ ص۸۰۱
  6. سمہودی، ج۳، ص۳
  7. المغازی؛ به نقل از غماری، ج۱، ص۱۷
  8. امین، ص۳۱۳
  9. سمہودی، ج۲، ص۱۰۹
  10. امین، ص۳۱۶-۳۱۷
  11. مزید دیکھیں
  12. سبحانی، صیانۃ الاثار، ص۷۹-۸۰
  13. سبحانی، ص۱۲۶-۱۲۷
  14. ابن سعد، ج۴، ص۳۱
  15. دوری و مطلبی، ص۲۴
  16. ابن اثیر، الکامل، ج۹، ص۶۰
  17. ص۱۷۳-۱۷۴
  18. ج۱، ص۱۶۳
  19. ج۱، ص۲۸۸
  20. ج۱، ص۶۵
  21. چلپی، ص۱۴۹-۱۵۰
  22. ابن جبیر، ص۱۷۴
  23. ابن بطوطه، ج۱، ص۶۵
  24. شبلنجی، ص۲۸۶
  25. ہیلن برند، ص۲۷
  26. ابن جوزی، ج۱۶، ص۱۰۰
  27. ابن بطوطہ، ج۱، ص۱۷۲
  28. ابن جبیر، ص۱۷۳
  29. ابن بطوطہ، ج۱، ص۶۵
  30. ابن بطوطہ، ج۱، ص۲۵
  31. ابن بطوطہ، ج۱، ص۱۷۳
  32. گرابر، ص۲۲
  33. گرابر، ص۲۱
  34. مظاہری، ص۳۷
  35. گرابر، ص۲۴-۲۷
  36. مقریزی، ج۱، ص۱۹۷-۱۹۹
  37. گرابر، ص۲۱
  38. بوکہارت، ص۱۰۵
  39. سیوطی، ص۳۹۲
  40. طبری، محمد بن جریر، ج۲، ص۳۶۵
  41. مفید، الارشاد، ص۱۹
  42. خلیلی، ج۶، ص۹۷
  43. گرابر، ص۲۴-۲۷
  44. امین، ج۴، ص۵۰۲
  45. خلیلی، ج۸، ص۱۸۲
  46. خطیب، ج۱، ص۱۲۰
  47. مدرسی طباطبائی، ج۱، ص۱۸
  48. ابن حجر، ج۷، ص۳۳۹
  49. ابن حبان، ج۸، ص۴۵۷
  50. زنجانی، ص۱۲۵
  51. دائره المعارف بزرگ اسلامی؛ ج۱، مقالہ۲۰۲(مدخل آستانہ حضرت عبدالعظیم)
  52. مدرسی، ج۱، ص۱۸
  53. مصطفوی ، ج۱، ص۱۴۶
  54. ابن اثیر، ج۸، ص۲۱۴
  55. ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم، صص۱۸۴-۱۸۷
  56. ابن قیم، ص۵۰۴
  57. امین، ص۲۸۷
  58. ابن موسی، ص۵-۶
  59. امین، ۱۶-۱۷
  60. امین، ص۲۸۷-۲۸۸
  61. جزیری، ج۱، ص۴۸۷
  62. ابن ہجر، ج۲، ص۱۶
  63. سبحانی، صیانۃ الاثار، ص۷۹-۸۰
  64. ابن حجر، ج۲، ص۱۶
  65. غماری، ج۱، ص۱۸
  66. غماری، ج۱، ص۱۵
  67. سورہ حج، آیت۳۲
  68. غماری، ج۱، ص۱۰، ۲۴ و ۵۹ و ۶۰؛
  69. طباطبائی، ج۱۳، ص۲۶۵؛ طبری، جامع البیان، ج۱۵، ص۱۴۹؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۶، ص۷۱۰
  70. غماری، ج۱، ص۳۱


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، تحقیق: عبدالله قاضی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق، چاپ دوم.
  • ابن بطوطہ، محمد بن عبدالله، تحفہ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار؛ رحلہ ابن بطوطہ،‌ دار الشرق العربی.
  • ابن جبیر، محمد بن احمد، الرحلہ، بیروت،‌ دار بیروت للطباعۃ و النشر.
  • ابن جوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ق.
  • ابن حبان، محمد، الثقات، تحقیق: سید شرف الدین احمد، بیروت، دارالکفر، ۱۳۹۵ق.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تہذیب التہذیب، بیروت، دارالکفر، ۱۴۰۴ق.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر.
  • ابن عیسی، خالد، تاج المفرق فی تحلیلہ علماء مشرق، مغرب، مطبعۃ فضالۃ.
  • ابن منظور، لسان العرب.
  • ابن موسی، علی، وصف المدینہ المنورة، رسائل فی تاریخ المدینہ المنورة، حمد جاسر کی کوشش، ریاض‌، دارالیمامہ.
  • ابن نجار،محمد بن محمود، الدرة الثمنیہ، تحقیق: حسین محمد علی شکری، شرکۃ دار الارقم بن ابی الارقم.
  • ابن ہجر ہیتمی، الفتاوی الفقیہ الکبری، دارالفکر.
  • امین، محسن، کشف الارتیاب عن اتباع محمد بن عبدالوہاب،‌ دار الکتب الاسلام.
  • بوکہارت، تیتوس، ہنر اسلامی: زبان و بیان، ترجمہ: مسعود رجب نیا، تہران، ۱۳۶۵ش.
  • جزیری، عبدالرحمن بن محمد عوض، الفقہ علی مذاہب الاربعۃ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ دوم، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۳م.
  • دمیاطی، محمد شطا، حاشیہ اعانہ الطالبین علی حل الفاظ فتح المعین لشرح قرة العین بمہمات الدین، بیروت،‌دار الفکر.
  • دوری، عبدالعزیز و عبدالجبار مطلبی، اخبار الدولۃ العباسیۃ، بیروت، ۱۹۷۱م.
  • زنجانی، جولۃ فی اماکن المقدسۃ، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۱۴ق.
  • چلپی، اولیا، الرحلۃ الحجازیۃ، ترجمہ: احمد مرسی، قاہره، ۱۴۲۰ق.
  • خلیلی، جعفر، موسوعۃ العتبات المقدسۃ، بیروت، موسوعۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۰۷ق.
  • سبحانی، جعفر، صیانۃ الاثار الاسلامیۃ.
  • سمہودی، علی بن عبدالله، وفاء الوفاء، بی‌جا، السعادة بمصر، ۱۳۷۴ق.
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، تاریخ الخلفاء، تحقیق: محمد محی الدین عبدالحمید، مصر، السعادة، ۱۳۷۱ق.
  • شبلنجی، مؤمن، نورا لابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار، بیروت، ۱۴۰۹ق.
  • طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، نشر السلامی، ۱۴۱۷ق، چاپ پنجم.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۳ش، چاپ سوم.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ترجمہ ابوالقاسم پاینده، تہران، ۱۳۵۴ق.
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ق.
  • غماری، احمد بن الصدیق، احیاء المقبور من ادلۃ جواز بناء المساجد و القباب علی القبور، قاہره، مکتبۃ قاہره، ۱۴۲۹ق، چاپ چہارم.
  • گرابر، اولک، اولین بناہای یادبود اسلامی، ترجمہ: کلود کرباسی، اثر ش۲۶-۲۷، ۱۳۵۷ش.
  • مدرسی طباطبائی، حسین، تربت پاکان، قم، ۱۳۵۵ش.
  • مصطفوی، محمد تقی، اثار تاریخی تہران، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۶۱ش.
  • مقریزی، احمد بن علی، المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الآثار.
  • مظاہری، علی، زندگی مسلمانان در قرون وسطا، ترجمہ مرتضی راوندی، تہران، ۱۳۴۸ش.
  • ہیلن برند، رابرت، مقابر، ترجمہ کرامت الله افسر، در معماری ایران: دوره اسلامی، تہران، نشر محمد یوسف کیانی، ۱۳۶۶ش.