اسلامی تقویم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اسلامی تقویم یا ہجری تقویم اس تقویم کو کہا جاتا ہے جس میں چاند کی گردش کی بنیاد پر دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب کیا جاتا ہے۔ مسلمانان اپنے دینی اَعمال اور مذہبی مناسبات اسی تقویم کے تحت انجام دیتے ہیں۔

اسلامی تقویم کا مبداء پیغمبر اسلامؐ کی مکہ سے مدینہ ہجرت ہے جو سنہ 622ء میں پیش آئی۔ مشہور قول کے مطابق امام علیؑ کی تجویز پر عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ہجرت کو اسلامی تقویم کا سر آغاز قرار دیا گیا۔

قمری سال 354 یا 355 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور شمسی یا عیسوی سال سے 10 یا 11 دن کم ہوتے ہیں۔ اسلامی تقویم کا آغاز ماہ محرم سے جبکہ ماہ ذی‌الحجہ پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ بعض احادیث کے مطابق ماہ رمضان اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے اسی بنا پر بعض دعاوں کی کتابوں میں سال کے اعمال، اعمال ماہ رمضان سے شروع اور اعمال ماہ رجب کے ساتھ ختم ہوتے ہیں۔ ساتویں صدی ہجری کے شیعہ محدث سید بن طاووس یہ احتمال دیتے ہیں کہ ماہ رمضان عبادی سال کی ابتداء اور ماہ محرم مناسبتی سال کی ابتداء ہے۔

اسلامی مہینوں کے نام بالترتیب یہ ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاولی، جمادی الثانی، شعبان، رجب، رمضان، شوال، ذی‌القعدہ و ذی‌الحجہ۔

منزلت اور اہمیت

اسلامی تقویم میں دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب چاند کی گردش کی بنیاد کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس تقویم کا مبدا پیغمبر اکرمؐ کی ہجرت کو قرار دیا گیا ہے جو سنہ 622ء میں واقع ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے اسے ہجری تقویم بھی کہا جاتا ہے۔[1] مسلمان اپنے دینی اعمال کو ہجری قمری تقویم کے مطابق انجام دیتے ہیں، اس بنا پر ہجری تقویم کو اسلامی تقویم کا نام بھی دیا جاتا ہے۔[2]

ہجری قمری تقویم پہلی جنگ عظیم(1914-1918ء) تک اسلامی ممالک کے سرکاری تاریخ کا مبنا رہا ہے اور تمام مناسبات ہجری قمری تقویم کے حساب سے منائے جاتے تھے۔[3] ایران میں شمسی تاریخ کو سرکاری تاریخ قرار دینے کا قانون مارچ 1925ء کو پہلوی دور حکومت میں پاس ہوا یوں ایران کا سرکاری تقویم قمری تاریخ سے شمسی تاریخ میں تبدیل ہوا۔[4] اسی طرح افغانستان میں سنہ 1922ء کو قمری تاریخ شمسی تاریخ میں تبدیل ہوا۔[5] سعودی عرب میں سنہ 2017ء سے قمری تاریخ عیسوی تاریخ میں تبدیل ہوا۔[6]

اسلامی تاریخ کا مبدأ

تاریخی منابع کے مطابق قمری تقویم کا مبدأ پیغمبر اسلامؐ کی مکہ سے مدینہ ہجرت ہے۔ لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ کام کس دور میں انجام پایا تھا؛ بعض تاریخی نقل کے مطابق ہجرت کو تاریخ اسلام کا مبداء قرار دینے کا کام عمر بن خطاب کے دور خلافت میں انجام پایا ہے۔[7] بعض تاریخی شواہد کے مطابق ابوموسی اشعری نے عمر کو ایک خط لکھااور ایک معین تاریخ نہ ہونے کی شکایت کی کیونکہ خلیفہ کی طرف سے آنے والے خطوط میں کوئی تاریخ ذکر نہیں ہوتی تھی اسی لئے کونسا خط پہلے اور کونسا بعد میں لکھا گیا ہے اس کا پتہ نہیں چلتا تھا۔[8] اسی سلسلے میں حضرت عمر نے اسلامی تاریخ کی تعیین کے لئے ایک شوری تشکیل دیا[9] اس کمیٹی میں مبعث، ہجرت اور رحلت پیغمبر اکرمؐ کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دینے کی تجویز ہوئی[10] اور حضرت علیؑ کی تجویز پر پیغمبر اکرمؐ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کو تاریخ اسلام کا مبداء قرار دیا گیا۔[11]

اس کے مقابلے میں دوسرے اقوال بھی ہیں جن کے مطابق خود پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں آپؐ کے حکم سے ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا گیا تھا۔[12] شیعہ فقیہ، متکلم اور مورخ آیت اللہ جعفر سبحانی کے مطابق خود پیغمبر اکرمؐ کے زمانے کی بعض مکاتبات قمری تاریخ کے ساتھ موجود ہیں؛ من جملہ ان میں پانچویں ہجری قمری میں پیغمبر اکرمؐ اور نجران کے عیسائیوں کے درمیان ہونے والا صلح[13] اور نویں ہجری قمری میں سلمان فارسی کو آپؐ کی وصیت جسے حضرت علیؑ نے تحریر فرمایا۔[14]

قمری سال کا پہلا مہینہ

قمری سال ماہ محرم سے شروع ہو کر ماہ ذی‌الحجہ پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔[15] ہجرت کو تاریخ اسلام کا مبداء قرار دینے سے پہلے قمری سال عربوں اور یہودیوں کے یہاں رائج تھا اور ان کے یہاں بھی یہ سال ماہ محرم سےشروع ہوتا تھا۔[16] ہجرت کو تاریخ اسلام کا مبداء قرار دینے کے بعد اسلامی تقویم کی ابتداء کے لئے ماہ رمضان اور ماہ محرم دونوں کی تجویز پیش ہوئی لیکن خلیفہ دوم نے ماہ محرم کی تجویز کو قبول کیا۔[17]

پانچویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ اور محدث شیخ طوسی کہتے ہیں کہ شیعہ مشہور احادیث کے مطابق ماہ رمضان اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے اسی وجہ سے کتاب مصباح المتہجد میں قمری سال کے اعمال کو اعمال ماہ رمضان سے شروع کرتے ہیں۔[18] اسی طرح آپ ماہ رجب کو قمری سال کا آخری مہینہ قرار دیتے ہوئے قمری سال کے اعمال کو ماہ رجب کے اعمال کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔[19]

ساتویں صدی ہجری کے شیعہ محدث سید بن طاووس اس سلسلے میں احادیث میں موجود اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہت سارے گذشتہ علماء کی سیرت اور ان کی کتابیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قمری سال کا پہلا مہینہ ماہ رمضان ہے؛ لیکن اس کے باوجود آپ یہ احتمال بھی دیتے ہیں کہ شاید ماہ رمضان عبادی سال کی ابتداء ہے اور ماہ محرم مناسبتی سال کی ابتدا۔[20]

قمری مہینے

تفصیلی مضمون: قمری مہینے

ہجری قمری سال 12 مہینوں پر مشتمل ہے[21] اور ہر ماہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے، لیکن کونسا مہینہ 29 دن اور کونسا 30 دن کا ہوگا اس کے لئے کوئی خاص قانون اور معیار مشخص نہیں بلکہ یہ چاند کی گردش پر موقوف ہے۔[22] لیکن اس کے باوجود قمری قراردادی تقویم میں طاق مہینے 30 دن جبکہ جفت مہینے 29 دن کے ہوتے ہیں اور سال کبیسہ کا آخری مہینہ بھی 30 کا ہوتا ہے۔[حوالہ درکار]


قمری سال کے دنوں کی تعداد شمسی اور عیسوی سال سے 10 یا 11 دن کم ہیں؛ اس بنا پر ہر قمری سال 354 دن جبکہ سال کبیسہ 355 دن کا ہوتا ہے۔[23]

چوتھی صدی ہجری کے مورخ مسعودی کے مطابق دور جاہلیت میں اعراب ہر تیسرے سال ایک دن اضافہ کرتے تھے اور قرآن میں ان کے اس کام کو نسیء (مؤخر کرنا) کے نام سے یاد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہیں۔[24]

قمری سال کے مہینے اور ان کے معنی مندرجہ ذیل ہیں:

رديفناممعنی
1محرمحرام شدہ
2 صفر خالی
3ربیع الاولبہار اول
4ربیع الثانیبہار ثانی
5جمادی الاولانجماد1
6جمادی الثانیانجماد2
7رجبجنت میں ایک نہر
8شعبانپھیلاؤ|فروانی
9رمضانخداکانام/سوزان
10شوالسفر/سامان سفراٹھانا
11ذوالقعدہامن وسکون کا موسم
12ذوالحجہطواف وزیارت کا موسم

حوالہ جات

  1. «پیدایش سال ہجری قمری»۔
  2. ملاحظہ کریں: فریمن گرنویل، «تقویم‌ہای اسلامی و مسیحی و جدول‌ہای تبدیل آنہا بہ یکدیگر»، ص۷۳۔
  3. «تاریخ رسمی کشورہای اسلامی»
  4. حائری، روزشمار شمسی، ۱۳۸۶ش، ص۷، پانویس۱۔
  5. قاسملو، «مقایسہ روش‌ہا و معادلات مختلف برای اعمال کبیسہ ہای گاہشماری ہجری خورشیدی در منابع مختلف»، ص۹۸۔
  6. «تغییر تقویم قمری بہ میلادی در عربستان»
  7. مسکویہ، تجارب الامم، ۱۳۷۹ش، ج۱، ص۴۱۳۔
  8. مسکویہ، تجارب الامم، ۱۳۷۹ش، ج۱، ص۴۱۳؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۸۸۔
  9. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۸۸؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ،‌ ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۲۰۷۔
  10. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۸۹۔
  11. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۱۴۵؛ مسعودی، مروج‌الذہب،‌ ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۰۰۔
  12. ملاحظہ کریں:‌ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۸۸۔
  13. سبحانی، سید المرسلین، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۱، ص۶۱۰۔
  14. سبحانی، سید المرسلین، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۱، ص۶۰۹۔
  15. ملاحظہ کریں: مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۸-۱۸۹.
  16. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۹۔
  17. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۳۸۹۔
  18. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۵۳۹۔
  19. شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۹۷۔
  20. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴-۵۔
  21. ملاحظہ کریں: مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۸-۱۸۹.
  22. عبداللہی، «معرفی دو تقویم دائمی جدید گاہ شماری‌ہای ہجری شمسی و ہجری قمری»، ص۷۳۴، پانویس۲۔
  23. عبداللہی، «معرفی دو تقویم دائمی جدید گاہ شماری‌ہای ہجری شمسی و ہجری قمری»، ص۷۳۵-۷۳۴، پانویس۳و۴۔
  24. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۹۔


مآخذ