امام علی علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
(علی بن ابی طالب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
امام علی علیہ السلام
حرم امام علی1.jpg
نام علیؑ ابن ابی طالبؑ
کنیت ابوالحسن، ابوالسبطین، ابوالریحانتین، ابوتراب، ابوالآئمہ،...
القاب امیرالمؤمنین، یعسوب الدین، حیدر، مرتضی، نفس رسول، أخو الرسول، زوج البتول، قسیم الجنّۃ والنار،...
ولادت 13 رجب، سنہ 30 بعد از عام الفیل
مولد کعبہ، مکہ
والد ابوطالب
والدہ فاطمہ بنت اسد
ازواج حضرت فاطمہ، خولہ، ام حبیب، ام البنین، لیلا، اسما، ام سعید
اولاد حسن، حسین، زینب، ام کلثوم، محسن، محمد بن حنفیہ، عباس، عمر، رقیہ، جعفر، عثمان، عبداللہ، محمد اصغر، عبیداللہ، یحیی، ام الحسن، رملہ، نفیسہ، ام ہانی،۔۔۔
شہادت 21 رمضان، 40ہجری۔
مدفن نجف، عراق
عمر 63 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

امام علی علیہ السلام مکتب تشیع کے پہلے امام ، رسول خدا کے داماد ، کاتب وحی، اہل سنت کے نزدیک چوتھے خلیفہ، حضرت فاطمہ(س) کے شریک حیات اور گیارہ شیعہ آئمہ کے والد اور جد امجد ہیں ۔ تمام شیعہ اور اکثر سنی مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ رسول اللہؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو ان پر سب سے پہلے آپ نے ایمان لے آیا۔ شیعوں کے مطابق آپ بحکم خدا رسول خداؐ کے بلا فصل جانشین ہیں جس کا اعلان پیغمبر اکرمؐ نے اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر کیا۔ قرآن کریم کی صریح آیات کی روشنی میں آپ کی عصمت ثابت ہے۔ شیعہ سنی مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی تقریبا 300 آیات کریمہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ شب ہجرت رسول خدا کے بستر پر سو کر حضور کو قریش کی گزند سے آپ نے بچایا۔ مدینہ میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوئی تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ آپ اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار تھے اور جنگ تبوک کے سوا پیغمبر اکرم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک تھے۔ جنگ تبوک میں رسول اللہؐ کے فرمان پر مدینے میں رہے۔

رسول اللہؐ کے وصال اور حضرت ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ نے 25 سال تک گوشہ نشینی اختیار کی لیکن خلفائے ثلاثہ کے دور میں انہیں مشورہ دینے سے دریغ نہیں فرمایا۔ حضرت عثمان کے قتل کے بعد مسلمانوں کے اصرار کی وجہ سے آپ نے حکومت کا عہدہ سنبھالا۔ اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین بھاری جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر نجف میں دفن کردیئے گئے۔

آپ کے فضائل کے مقابلے میں دوسری شخصیات کے حق میں بہت سی احادیث گھڑی گئیں۔ خاص طور پر بنی امیہ کے دور میں معاویہ کے کہنے پر منبروں سے آپ پر لعن کیا گیا اور آپ کے مداحوں کو نہ صرف ڈرایا دھمکایاگیا بلکہ انہیں یا تو جیل خانوں میں بند کیا جاتا یا انہیں قتل کیا جاتا تھا یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے بچوں کا نام " علی"رکھنے سے بھی منع کیا گیا۔

کلام، تفسیر اور فقہ سمیت بہت سے علوم کا سلسلہ آپؑ تک پہنچتا ہے اور مختلف مکاتب فکر اپنا سلسلہ آپ ہی سے ملا دیتے ہیں۔ آپ غیر معمولی جسمانی قوت کے مالک، بہت زیادہ بہادر اور ساتھ ساتھ حلیم و بردبار، درگذر کرنے والے، مہربان اور حسن سلوک رکھنے والے اور صاحب ہیبت تھے۔ آپ چاپلوسوں کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آتے تھے اور لوگوں کو حکومت اور رعایا کے دوطرفہ حقوق کی یادآوری کرتے تھے اور ہمیشہ کے لئے نہایت سختی سے نفاذ عدل پر قائم رہے۔

فہرست

نسب، کنیت اور لقب

  • نسب:آپ کا نسب علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قُصَی بن کلاب، ہاشمی قرشی ہیں۔
  • والد ماجد: آپ کے والد ماجد حضرت ابوطالب ایک سخی اور عدل پرور انسان اور عرب کے درمیان انتہائی قابل احترام تھے۔ وہ رسول اللہؐ کے چچا اور حامی اور قریش کی بزرگ شخصیات میں سے تھے۔[1] حضرت ابوطالبؑ سالہا سال رسول خداؐ کی حمایت و سرپرستی کے بعد بعثت کے 10ویں سال ایمان کامل کے ساتھ انتقال کرگئے۔[2]
  • القاب: امیرالمؤمنین، یعسوب الدین والمسلمین، مبیر الشرک والمشرکین، قاتل الناکثین والقاسطین والمارقین، مولٰی المؤمنین، شبیہ ہارون، حیدر، مرتضی، نفس الرسول، أخو الرسول، زوج البتول، سیف اللّہ‏ المسلول، امیر البررة، قاتل الفجرة، قسیم الجنّة والنار، صاحب اللواء، سیّد العرب، کشّاف الکرب، الصدّیق الأکبر، ذوالقرنین، الہادی، الفاروق، الداعی، الشاہد، باب المدینة، والی، وصیّ، قاضی دین رسول اللّہ‏، منجز وعدہ، النبأ العظیم، الصراط المستقیم والأنزع البطین[5]

لقب امیر المؤمنین

امیرالمومنین کے معنی مؤمنین کے امیر، حاکم اور رہبر کے ہیں۔ اہل تشیع کے مطابق یہ لقب حضرت علی(ع) کے ساتھ مختص ہے۔ ان کے مطابق یہ لقب پہلی بار پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں حضرت علیؑ کے لئے استعمال کیا گیا اور صرف آپؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی لئے شیعہ حضرات اس کا استعمال دوسرے خلفاء حتی امام علیؑ کے علاوہ دوسرے ائمہ کے لئے بھی صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

انگوٹھی کا نقش

امام علیؑ کی انگشتری کے لئے تین نقش منقول ہیں:

اللَّہ ُ‏ الْمَلِکُ‏ وَ عَلِیٌّ‏ عَبْدُہ (:ترجمہ اللہ بادشاہ اور علی اس کا بندہ ہے۔[6] اللَّہ ُ‏ الْمَلِکُ(:ترجمہ صرف خدا ہی بادشاہ ہے۔)[7] أَسْنَدْتُ‏ ظَہرِی‏ إِلَى‏ اللَّہ (:ترجمہ فارسی: فضائل پنجتن[8]


سوانح حیات

امام علیؑ 23 عام الفیل 13 رجب بروز جمعہ خانہ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔[9]

کعبہ میں آپ کی ولادت کی روایت کو سید رضی، شیخ مفید، قطب راوندی اور ابن شہرآشوب سمیت تمام شیعہ علماء اور حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی، ابن جوزی حنفی، ابن صباغ مالکی، حلبی اور مسعودی سمیت بیشتر سنی علماء متواتر (مسَلَّمہ) سمجھتے ہیں۔[10]

آپ 19 رمضان سنہ 40 ہجری قمری کی صبح ابن ملجم مرادی کے ہاتھوں مسجد کوفہ میں زخمی ہوئے اور اسی مہینے کی 21 تاریخ کو جام شہادت نوش کر گئے۔[11]

بچپن کا دور

آپ چھ سال کے تھے کہ مکہ میں قحط پڑ گیا۔ ابوطالب کا کنبہ بڑا تھا اور پورے کنبے کے اخراجات برداشت کرنا قحط سالی میں ان کے لئے کافی دشوار تھا۔ اسی بنا پر حضرت محمدؐ اور آپ کے چچا عباس اور حمزہ نے اس سلسلے میں ابوطالبؑ کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ عباس جعفر کو، حمزہ طالب کو اور حضرت محمدؐ حضرت علیؑ کو اپنے گھر لے گئے۔[12]

تعلیم و تربیت

اگرچہ تاریخی روایات کے مطابق رسول اللہؐ کے گھر آپ کی منتقلی قحط سالی کی وجہ سے تھی لیکن آپؑ کے کلام میں اس بات کی طرف ایسا کوئی اشارہ نہيں ملتا اور لگتا ہے کہ مشیت الہی کا تقاضا تھا کہ علیؑ رسول اللہؐ کے گھر میں منتقل ہوں ـ یا یوں کہئے کہ رسول اللہؐ کو حکم تھا کہ اللہ کے ولی اور اپنے جانشین کو اپنے گھر منتقل کریں اور اللہ کی مشیت حقہ کے مطابق ان کی تربیت کریں اور آپ براہ راست سیدالمرسلینؐ کے مکتب سے علوم کے خزانے سمیٹ لیں، حالانکہ قبل ازاں بھی ان کا گھر الگ نہ تھا اور جب علیؑ پیدا ہوئے تو رسول اللہؐ نے ـ جو اس وقت ابوطالبؑ کے زیر سرپرستی تھے ـ آپ کی تربیت کا آغاز کیا۔

مروی ہے کہ جب علیؑ پیدا ہوئے تو رسول اللہؐ پہلے دن سے ہی آپ کو چھوٹے بھائی یا اپنی اولاد کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ کی تربیت میں فاطمہ بنت اسد(س) کا ہاتھ بٹاتے تھے، آپ کے گہوارے کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ جاتے تھے یا پھر علیؑ کو گود میں لیتے تھے، آپ کو کھانا کھلاتے تھے اور سلا دیتے تھے۔ [13] جب علیؑ نے کچھ بڑے ہوکر زبان کھولی تو رسول اللہؐ ہی نے آپ کو زبان سکھانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپؐ علیؑ کو کندھے پر اٹھاتے اور کوہ و صحرا کی سیر کراتے اور آپ سے بات چیت کرتے اور آپ کے تجسس آمیز سوالات کے جوابات دیتے؛ علیؑ رسول اللہؐ کے خاندان کے رکن تھے اور ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔ [14]

اسی پیوستگی اور دائمی معیت و ہمراہی کی بنا پر ہی سنی اور شیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے علیؑ سے مخاطب کرکے فرمایا: أنت مني وأنا منك(ترجمہ: تم میرے وجود کا جزو ہو اور میرے تمہارے وجود کا جزو ہوں)۔ [15] اور فرمایا:اِنَّ علیاً لَحْمُہ مِنْ لَحْمِي و دَمُہُ مِنْ دَمِي(ترجمہ: علی کا گوشت میرے گوشت سے ہے اور ان کا خون میرے خون سے ہے)۔[16]

اور علیؑ رسول اللہؐ کے گھر سے ہی علوم باطنیہ اور علوم ظاہریہ کے مالک بنے یہاں تک کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: أعلم أمتي من بعدي علي بن أبی طالب (میرے بعد میری امت کے عالم ترین فرد علی بن ابیطالبؑ ہیں)۔ [17] اور علیؑ خود فرماتے تھے: سلوني قبل ان تفقدوني فإني لا أُسأَلُ عن شيءٍ دونَ العرشِ إلّا أَخبرتُ عَنہ ُ(ترجمہ: مجھے کھوجانے سے قبل ہی مجھ سے پوچھو لو جو پوچھنا چاہو پس یقینا میں عرش کے نیچے ہر اس چیز کا جواب دے سکتا ہوں جس کے بارے میں مجھ سے پوچھا جائے)۔[18]

رسول اللہؐ آٹھ سال کی عمر میں حضرت ابوطالبؑ کے گھر میں منتقل ہوئے تھے حضرت علیؑ چھ سال کی عمر میں رسول اللہؐ کے گھر منتقل ہوئے۔

امام علیؑ خود اس دور کے بارے میں فرماتے ہیں: "۔۔۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہؐ کے نزدیک میرا کیا مرتبہ تھا اور آپؑ سے میری قرابت کس حد تک تھی۔ جب میں بچہ تھا رسول اللہؐ مجھے اپنے ساتھ سلاتے اور مجھے اپنے سینے پرجگہ دیتے تھے اور مجھے اپنے بستر پر لٹاتے تھے؛ یہاں تک کہ میرا بدن آپؐ کے بدن سے مس کر دیتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سونگھا دیتے تھے۔ کبھی کچھ دہن مبارک میں چبا کر مجھے کھلا دیا کرتے تھے۔ آپ نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں سنا اور میرے کردار میں کبھی کسی خطا کا مشاہدہ نہیں کیا۔ ۔۔۔ اور میں اس طرح آپؑ کے پیچھے چلتااور سفر و حضر میں اس طرح آپؑ کے ساتھ رہتا تھا جس طرح اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ رسول اللہؐ ہر روز اپنے اخلاق کا کوئی نمونہ میرے لئے بیان کردیتے تھے اور مجھے اس کی پیروی کا حکم دیتے تھے، ہر سال غار حراء میں خلوت اختیار کرتے تھے تو صرف میں آپؐ کو دیکھتا تھا اور میرے سوا کوئی آپؐ کو نہیں دیکھتا تھا۔ جس زمانے میں ـ سوائے اس گھر کے جس میں رسول اللہؐ اور خدیجہ کبری تھے ـ اسلام و ایمان کسی گھر میں داخل نہيں ہوا تھا ـ میں ان کے درمیان تیسرا فرد تھا، وحی اور نبوت کی روشنی کو دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو کو محسوس کرتا تھا۔ جب آپ پر (پہلے پہل )وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی ۔ میں نے عرض کیا:

یا رسول اللہؐ یہ آواز کیسی ہے؟ فرمایا: یہ شیطان ہے جو اس بات سے خوفزدہ ہے کہ لوگ اس کی پرستش چھوڑ دیں گے؛ بےشک تم سنتے ہو جو میں سنتا اور تم دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں ہو۔ تم میرے وزیر ہو اور خیر کی راہ پر گامزن اور مؤمنین کے امیر ہو"۔ [19] چنانچہ یہ ایک عام منتقلی نہ تھی بلکہ گویا کہ علیؑ کی اپنے گھر منتقلی رسول اللہؐ کے الہی مشن کا تقاضا تھی اور آپؐ علیؑ کے عظیم ترین مربی و معلم تھے اور جس طرح کہ آپؐ امانت و صداقت کے حوالے سے مشہور تھے علیؑ بھی صدق و امانتداری میں آپؐ کی قدم بقدم پیروی کرتے تھے؛ عصر جاہلیت کی اوہام پرستی اور بت پرستی سے کبھی متاثر نہيں ہوئے؛ کبھی بتوں کے سامنے سجدہ ریز نہيں ہوئے اور سب سے پہلے مرد تھے جو رسول اللہؐ پر ایمان لائے اور آپؐ کے نجات بخش پیغام و دعوت پر لبیک کہا۔ [20]

اگر کوئی کہے کہ آپ کا اسلام اور ایمان بچپنے کی حالت میں تھا تو درحقیقت رسول اللہؐ کی تنقیص ہے کیونکہ آپ نے نہ صرف آپ کا ایمان و اسلام قبول کیا بلکہ دعوت ذوالعشیرہ میں بنو عبدالمطلب کے دعوت شدہ مردوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:إنّہ ذا أخي ووصيّي وخليفتي فيكم، فاسمعوا لہ وأطيعوا(ترجمہ: یقینا یہ میرے بھائی اور وصی اور تمہارے درمیان میرے خلیفہ و جانشین ہیں پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو)۔ [21] یوں آپؐ نے آپ کے ایمان کو تسلیم کیا اور اس کی بنیاد پر آپ کو اپنا بھائی، وزیر، خلیفہ اور وصی قرار دیا جبکہ دوسرے مسلمانوں کے اسلام پر انہیں ایسے کسی عہدے سے نہيں نوازا گیا چنانچہ آپ کا ایمان سب پر بھاری تھا جس کا ثبوت رسول اللہؐ کا مذکورہ کلام ہے۔

جسمانی اوصاف

علیؑ کا قد درمیانہ تھا، تقریبا چھوٹا قد اور تقریبا فربہ جسم، سیاہ اور کھلی آنکھوں کے مالک تھے۔ آپ کی نگاہ میں شفقت اور مہربانی موجزن تھی۔ آپ کے ابرو کمان کی مانند کھنچے اور ملے ہوئے تھے۔ آپ کا چہرہ انتہائی خوبصورت اور دلکش تھا اور حسین ترین مردوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے چہرے کی رنگت گندمی تھی اور آپ کا چہرہ کھلا اور بشاش تھا۔ آپ کے سر کے اطراف میں بال تھے تاہم سر کے اوپر کے حصے پر بال نہ تھے۔ آپ کی گردن کی سفیدی کی یہ کیفیت تھی کہ چاندی کی صراحی کی طرح چمکتی تھی۔ آپ کی داڑھی گھنی اور خوبصورت تھی۔ آپ کے کندھے شیر کی طرح چوڑے تھے اور انگلیاں باریک اور کلائیاں اور ہاتھ بہت زيادہ پر قوت تھے۔ اس قدر قوی تھے کہ اگر کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے تو اس پر قابو پالیتے تھے اور فریق مقابل سانس لینے کی قوت تک کھو دیتا تھا۔ آپ کا شکم مبارک ابھرا ہوا اور آپ کی پیٹھ نہایت مضبوط تھی اور سینہ چوڑا اور بالوں سے اٹا ہوا تھا۔ آپ کی ہڈیاں ـ جن کے سرے جوڑوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے تھے ـ بڑے معلوم ہوتے تھے۔ آپ کے پٹھے پیچ در پیچ تھے اور ٹانکیں لمبی اور باریک تھیں۔ آپ کے ہاتھوں اور پیروں کے پٹھوں بڑے اور موزون تھے۔ اور راہ چلتے وقت آگے کی طرف مائل نظر آتے تھے۔[22]

جسمانی قوت

بعض منابع کے مطابق رسول اللہ نے انہیں بطین کے لقب سے نوازا اسی وجہ سے بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ امام علی جسمانی لحاظ سے موٹاپے کی طرف مایل تھے لیکن بعض نے اس بطین سے البطین من العلم(یعنی علم سے بھرا ہوا) مراد لیا ہے ۔دیگر اور قرائن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں ان میں سے بعض زیارتوں میں حضرت علی کو بطین کی صفت سے یاد کیا گیا ہے۔[23]

ابن قتیبہ لکھتا ہے: امام علیؑ جس کسی کے ساتھ بھی لڑے اس کو زمین پر دے مارا۔[24]

ابن ابی الحدید کہتا ہے: امامؑ کی جسمانی قوت ضرب المثل میں بدل گئی ہے۔ آپ ہی تھے جنہوں نے در خیبر اکھاڑا اور ایک جماعت نے وہ دروازہ دوبارہ لگانے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے ہبَل نامی بت کو ـ جو حقیقتاً بڑا بت تھا ـ کعبہ کے اوپر سے زمین پر دے مارا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک بہت بڑی چٹان کو اکھاڑ دیا اور اس کے نیچے سے پانی ابل پڑا، جبکہ آپ کے لشکر میں شامل تمام افراد مل کر بھی اس کو ہلانے میں ناکام ہوچکے تھے۔[25]

ازواج و اولاد

امام علیؑ کی پہلی زوجہ مکرمہ رسول اللہؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء(س) تھیں۔[26] علیؑ سے پہلے ابوبکر ، عمر بن خطاب اور عبد الرحمن بن عوف نے بنت رسولؐ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم رسول اللہؐ نے فرمایا: "میں زہراء(س) کی شادی کے بارے میں وحی الہی کا منتظر ہوں"۔[27]

حضرت فاطمہ کے ساتھ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی شادی کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے: بعض کا کہنا ہے کہ یہ شادی سنہ 2 ہجری ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کو ہوئی[28]، بعض کے مطابق شوال کو ہوئی اور بعض دیگر نے 21 محرم کو اس آسمانی شادی کی تاریخ قرار دیا ہے۔[29]

  • ام البنین فاطمہ بنت حزام بن دارم کلابیہ، دوسری خاتون تھیں جو امیرالمؤمنینؑ کے حبالہ نکاح میں آئیں اور حضرت عباسؑ، عثمان، جعفر اور عبد اللہ اسی باعظمت خاتون سے دنیا میں آئے اور سب کربلا میں شہید ہوئے۔
  • ام البنین کے بعد آپؑ نے لیلا بنت مسعود بن خالد نہشلیہ تمیمیہ دارمیہ سے شادی کی۔
  • علیؑ کی ایک زوجہ مکرمہ ام حبیب بنت ربیعہ تغلبیہ ہیں جو "الصہبا" کے نام سے مشہور ہیں۔
  • خولہ بنت جعفر بن قیس بن مسلمہ الحنفی اور دوسرے قول کے مطابق خولہ بنت ایاس بھی ان خواتین میں سے ہیں جو امیرالمؤمنین کے حبالہ نکاح میں آئیں اور محمد بن حنفیہ بن علیؑ ان ہی کے فرزند ہیں۔
  • نیز علیؑ کی دوسری زوجات میں ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی اور مُحیّاة بنت إمرئ القیس بن عدی کلبی شامل ہیں۔[30]

اولاد

حضرت علیؑ کے حضرت زہراءؑ سے پانچ اولاد ہیں: امام حسن، امام حسین، محسن[31] حضرت زینب کبری اور ام کلثوم۔

  • شیخ مفید نے امام علیؑ کی اولاد کی تعداد 27 تک بیان کی ہے گوکہ بعض شیعہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت زہراؑ سے آپ کے ایک اور فرزند "محسن" تھے جو پیدائش سے قبل اور رسول اللہؐ کے وصال کے بعد سقط ہو گئے تھے۔ اور اس حساب سے امیرالمؤمنینؑ کی اولاد کی تعداد 28 تھی:
فاطمہ (س) خولہ ام‌حبیب ام‌البنین لیلا اسماء ام سعید
۱. حسن ۶. محمد (ابوالقاسم) ۷. عمر ۹. عباس ۱۳. محمد اصغر ۱۵. یحیی ۱۶. ام الحسن
۲. حسین ۸. رقیہ[32] ۱۰. جعفر ۱۴. عبیداللہ ۱۷. رملہ
۳. زینب کبری ۱۱. عثمان
۴. زینب صغری ۱۲. عبداللہ
۵. محسن

۱۸. نفیسہ، ۱۹. زینب صغری، ۲۰. رقیہ صغری، ۲۱. ام ہانیء، ۲۲. ام‌الکرام، ۲۳. جمانہ:انکی کنیت ام جعفر تھی۔ ۲۴. امامہ، ۲۵. ام سلمہ، ۲۶. میمونہ، ۲۷. خدیجہ، ۲۸. فاطمہ.

شیخ مفید نے ان چند افراد کی ماؤں کا تعارف نہیں کرایا ہے اور کہا کہ وہ مختلف ماؤں کی بیٹیاں ہیں۔[33]

جہاد میں شرکت

حیات علویہ کے اہم واقعات
599ء ولادت
610ء سب سے پہلے رسول اللہ(ص) پر ایمان لائے
619ء حضرت ابو طالب(ع) (والد) کی وفات
622ء لیلۃ المبیت: رسول اللہ(ص) کے بستر پر سونا
622ء ہجرت مدینہ
2ه‍624ء جنگ بدر میں شرکت
3ه‍-625ء جنگ احد میں شرکت
4ه‍-626ء (والدہ) فاطمہ بنت اسد کی وفات
5ه‍-627ء غزوہ احزاب میں شرکت اور عمرو بن عبدود کو قتل کرنا
6ه‍-628ء رسول خدا(ص) کے حکم پر صلح حدیبیہ کے متن کی تحریر
7ه‍-629ء غزوہ خیبر؛ قلعہ خیبر کے فاتح
8ه‍-630ء فتح مکہ میں شرکت اور حضور(ص) کے حکم پر بتوں کو توڑنا
9ه‍-632ء غزوہ تبوک میں رسول اللہ(ص) کی مدینہ میں جانشینی
10ه‍-632ء حجۃ الوداع میں شرکت
10ه‍-632ء واقعہ غدیر خم
11ه‍-632ء رسول خدا(ص) کی وفات اور آپ کی تغسیل و تکفین
11ه‍-632ء سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ اور ابوبکر کی خلافت کا آغاز
11ه‍-632ء (زوجہ) حضرت زہرا(س) کی شہادت
13ه‍-634ء عمر بن خطاب کی خلافت کا آغاز
23ه‍-644ء خلیفہ کے تعین کے لئے عمر کی چھ رکنی شوری میں شرکت
23ه‍-644ء عثمان کی خلافت کا آغاز
35ه‍-655ء لوگوں کی بیعت اور حکومت کا آغاز
36ه‍-656ء جنگ جمل
37ه‍-657ء جنگ صفین
38ه‍-658ء جنگ نہروان
40ه‍-661ء شہادت

امام علیؑ نے اسلام کے غزوات اور سرایا میں مؤثر کردار ادا کیا . غزوہ تبوک کے سوا تمام غزوات میں رسول اللہؐ کے ساتھ دشمنان اسلام کے خلاف لڑے۔[34] آپ نے حضرت محمدؐ کے بعد دوسری عسکری شخصیت کے عنوان سے کردار ادا کیا ہے۔

جنگ بدر

اصل مضمون: جنگ بدر

جنگ بدر، یا غزوہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی جو بروز جمعہ 17 رمضان المبارک سنہ 2 ہجری کو بدر کے کنوؤں کے کنارے واقع ہوئی۔[35] اس جنگ میں مسلمانوں نے مشرکین کو ہلاک کردیا جن میں کفر و شرک کے بعض بڑے بڑے نام: ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ وغیرہ ـ بھی شامل تھے۔

عرب روایات کے مطابق عمومی حملے سے قبل افراد کے درمیان دو بدو لڑائی ہوتی تھی۔ چنانچہ اموی خاندان کا عتبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید اور بھائی شیبہ، نے پیغمبرؐ سے کہا: ہمارے مقابلے کے لئے ہمارے ہم رتبہ آدمی روانہ کریں۔ حضرت محمدؐ، نے علىؑ، حمزہ اور عبیدة بن حارث کو ان کے مقابلے کے لئے بھجوایا۔ علیؑ نے ولید کو اور حمزہ نے عتبہ کو زیادہ فرصت دیئے بغیر ہلاک کردیا اور پھر جاکر عبیدہ کی مدد کرکے ان کے دشمن کو بھی ہلاک کرڈالا۔[36]

نیز اس جنگ میں حنظلہ، عاص بن سعید اور طعیمہ بن عدی سمیت قریش کے تقریبا 20 سرخیل امامؑ کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے۔[37]

جنگ احد

اصل مضمون: جنگ احد

جنگ احد جنگ احد میں مسلمانوں کی پہلی صف میں سب سے آگے علىؑ، حمزہ ، اور ابو دجانہ وغیرہ لڑ رہے تھے جنہوں نے دشمنوں کی صفوں کو کمزور کردیا۔ رسول اللہؐ کو ہر طرف سے لشکر قریش کے مختلف گروہوں کی طرف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جو بھی گروہ آپؐ پر حملہ کرتا علیؑ آپؐ کے حکم پر اس پر حملہ کردیتے تھے۔ اس جان نثاری کے صلے میں جبرائیل نازل ہوئے اور رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر علیؑ کے ایثار کی تعریف و تمجید کی اور عرض کیا: "یہ ایثار اور قربانی کی انتہا ہے جو وہ دکھا رہے ہیں"۔ رسول خداؐ نے تصدیق کرتے ہوئے فرمایا:إِنَّہ ُ مِنِّي وَأَنَا مِنْہ (وہ مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں) ۔ اس کے بعد ایک ندا آسمان سے سنائی دیلا سیف الا ذوالفقار و لا فتٰی الا علي۔ (ترجمہ: ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی جوان نہیں ہے)۔[38]

جنگ خندق (احزاب)

اصل مضمون: جنگ خندق

جنگ خندق میں رسول اللہؐ نے اصحاب کے ساتھ مشورہ کیا تو سلمان فارسی نے رائے دی کہ مدینہ کے اطراف میں ایک خندق کھودی جائے جو حملہ آوروں اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔[39]

کئی دن تک لشکر اسلام اور لشکر کفر خندق کے دو کناروں پر آمنے سامنے رہے اور کبھی کبھی ایک دوسرے کی طرف تیر یا پتھر پھینکتے تھے؛ بالآخر لشکر کفار سے عمرو بن عبدود اور اس کے چند ساتھی خندق کے سب سے تنگ حصے سے گذر کر دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے آنے میں کامیاب ہوئے۔ علیؑ نے رسول خداؐ سے درخواست کی کہ انہیں عمرو کا مقابلہ کرنے کا اذن دیں اور آپؐ نے اذن دے دیا۔ علیؑ نے عمرو کو زمین پر گرا کر ہلاک کردیا۔[40]

جب علیؑ عمرو کا سر لے کر رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ضَربَةُ عَليٍ يَومَ الخَندَقِ اَفضَلُ مِن عِبادَةِ الثَّقَلَینِ۔ (ترجمہ: روز خندق علیؑ کا ایک وار جن و انس کی عبادت سے افضل ہے)۔[41]

جنگ خیبر

اصل مضمون: جنگ خیبر

جنگ خیبر جمادی الاولی سنہ 7 ہجری میں واقع ہوئی جب رسول اللہؐ نے یہودیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے قلعوں پر حملہ کرنے کا فرمان جاری کیا۔[42]اور جب ابوبکر اور عمر جیسے متعدد افراد یہودی قلعوں کی تسخیر کے مشن میں ناکام رہے تو رسول خداؐ نے فرمایا: لأعطين الراية رجلا يحب اللہ ورسولہ أو يحبہ اللہ ورسولہ میں کل پرچم ایسے فرد کے سپرد کررہا ہوں جو خدا اور اس کے رسولؐ کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں.[43] صبح کے وقت رسول اللہؐ نے علیؑ کو بلایا اور پرچم ان کے سپرد کیا۔

علیؑ اپنی ذوالفقار لے کر میدان جنگ میں اترے اور جب ڈھال ہاتھ سے گر گئی تو آپ نے ایک قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر اسے ڈھال قرار دیا اور جنگ کے آخر تک اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔[44]

فتح مکہ

اصل مضمون: فتح مکہ

رسول خداؐ ماہ مبارک رمضان سنہ 8 ہجری کو فتح مکہ کی غرض سے مدینہ سے خارج ہوئے۔مکہ میں داخل ہونے سے پہلے لشکر اسلام کا پرچم سعد بن عبادہ کے ہاتھ میں تھا لیکن سعد نے جنگ ،خون ریزی اور انتقام جوئی کے بارے میں باتیں کیں۔ پیغمبرؐاسلام کو جب انکا پتہ چلا تو آپ نے امام علیؑ کو کہا کہ اس سے تم پرچم لے لو۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہؐ کی ہدایت پر تمام بتوں کو توڑ دیا گیا اور آپؐ کی ہدایت پر علیؑ نے آپؐ کے دوش پر کھڑے ہو کر بتوں کو توڑا۔ امام علیؑ نے خزاعہ کے بت کو کعبہ کے اوپر سے نیچے گرا دیا اور مستحکم بتوں کو زمین سے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیا۔[45]

جنگ حنین

اصل مضمون: جنگ حنین

جنگ حنین سنہ 8 ہجری میں واقع ہوئی۔ اس غزوہ کا سبب یہ تھا کہ قبیلہ ہواز اور قبیلہ ثقیف کے اشراف نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہؐ کی طرف اپنے خلاف جنگ کے آغاز کے خوف سے حفظ ما تقدم کے تحت مسلمانوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔[46] علیؑ اس جنگ میں مہاجرین کے علمبرار تھے اور آپ نے چالیس کے قریب دشمنوں کو ہلاک کردیا۔[47]

جنگ تبوک

اصل مضمون: جنگ تبوک

وہ واحد غزوہ جس میں علیؑ نے رسول اللہؐ کے ساتھ شرکت نہیں کی وہ غزوہ تبوک تھا۔ علیؑ رسول اللہؐ کی ہدایت پر مدینہ میں ٹہرے تاکہ آپؐ کی غیر موجودگی میں مسلمانوں اور اسلام کو منافقین کی سازشوں سے محفوظ رکھیں۔

علیؑ کے مدینہ میں ٹھہرنے کے بعد منافقین نے علی کے خلاف تشہیری مہم کا آغاز کیا اور علیؑ نے فتنے کی آگ بجھانے کی غرض سے اپنا اسلحہ اٹھایا اور مدینے سے باہر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور منافقین کی تشہیری مہم کی اطلاع دی۔

یہی وہ موقع تھا جب رسول اللہؐ نے حدیث منزلت فرمائی کہ: "میرے بھائی علی! مدینہ لوٹو، کیونکہ وہاں کے معاملات سلجھانے کے لئے تمہارے اور میرے بغیر کسی میں اہلیت نہیں ہے۔ پس تم میرے اہل بیت اور میرے گھر اور میری قوم کے اندر میرے جانشین ہو! کہ تم خوشنود نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو موسی سے ہارون کی تھی، سوا اس کے میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔[48]

دلائل امامت

شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ


شیعہ عقائد کے مطابق نبی اور امام کا معصوم ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ الہی عہدے ہیں نیز نبی اور امام بنیادی طور پر خدا کے نمائندے ہیں ۔ نبی اور رسول خدا کی طرف سے پیغامات کو وحی کی صورت میں لیتے ہیں اور پھر انہیں انسانوں تک ابلاغ کرتے ہیں جبکہ امام اسی وحی شدہ پیغامات کے محافظت کا فریضہ انجام دیتا ہے اور نبی کے بعد لوگوں کیلئے قرآن تفسیر اور معارف دین کی تبیین میں علمی مرجع کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے اسے خطا سے پاک اور معصوم ہونا چاہئے تا کہ وہ قرآن اور دینی معارف کو کسی قسم کی خطا کا ارتکاب کئے بغیر منشائے الہی کے مطابق بیان کرے اور لوگ اسکی بات پر اعتقاد رکھ سکیں۔اگر امام معصوم نہ ہو تو لوگوں کے درمیان سے اسکا اعتماد اٹھ جائے گا اور لوگوں کی ہدایت کی خاطر آئمہ مقرر کرنے کے خدائی ہدف میں خلل اور نقض لازم آتا ہے۔اس وجہ سے شیعہ عقیدے کے مطابق امام کو معصوم ہونا چاہئے ۔

آیت اطاعت

اصل مضمون: آیت اطاعت

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّہ َ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ"۔ (ترجمہ: اے ایمان والو!فرماں برداری کرو اللہ کی اور فرماں برداری کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں فرماں روائی کے حق دار [اور تمہارے اولیائے امر] ہیں)۔ [49]

تمام شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ امام علیؑ اور آئمہؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ان کے وجوبِ اطاعت کا ثبوت ہے۔[50]

آیت ولایت

اصل مضمون: آیت ولایت

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّہ ُ وَرَسُولُه ُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ"۔ (ترجمہ: تمہارا ولی امر (یعنی حاکم و سر پرست) بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں۔)[51]

یہ آیت امام علیؑ اور دیگر آئمہؑ کی ولایت کو ثابت کرتی ہے۔ مفسرین نے ثابت کیا ہے کہ یہ آیت امام علیؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے جب آپ نے ایک سائل کو رکوع کی حالت میں اپنی انگشتری عطا فرمائی۔[52]

حدیث منزلت

اصل مضمون: حدیث منزلت

"رسول خداؐ نے علیؑ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "أنتَ مِنِّي‌ بمَنزِلَةِ ہَارونَ مِن‌ مُوسَي‌ إلا أنَّہ ‌ لانَبيَّ"۔ (ترجمہ: مجھ سے تمہاری نسبت وہی ہے جو موسی سے ہارون کو ہے سوا اس کے، کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔)[53]

حدیث یوم انذار

اصل مضمون: دعوت ذوالعشیرہ

رسول خداؐ نے جب اپنے خاندان والوں کو ابلاغ رسالت کا الہی فریضہ انجام دیا اور صرف علیؑ نے آپؐ کی دعوت قبول کی تو آپؐ نے فرمایا: "أنتَ أخِي‌، وَوَزِيري وَوارِثِي وَخَلِيفَتِي مِن بَعدِي"۔ (ترجمہ: تم میرے بھائی، وزیر اور وارث اور میرے بعد میرے جانشین ہو۔)[54]

رسول اللہؐ سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور آپ کے بعد بقیہ 11 آئمہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث تمام آئمہؑ کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[55]

واقعۂ غدیر

اصل مضمون: واقعۂ غدیر

پیغمبرؐ نے سنہ 10 ہجری میں اپنے حج کا فریضہ انجام دینے اور اس کے احکام مسلمانوں کو سکھانے کی غرض سے مکہ کی طرف عزیمت کی۔ حج کے اعمال مکمل ہوئے اور رسول اللہؐ مکہ کو ترک کرکے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت مسلمانوں کا ایک انبوہ کثیر آپ کے ہمراہ تھا۔ 18 ذو الحجہ کے دن جب یہ قافلہ جحفہ کے قریب غدیر خم کے مقام پر پہنچا تو وحی نازل ہوئی اور آپؑ کو حکم ہوا کہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی ولایت و جانشینی کا اعلان فرمائیں؛ چنانچہ آپ نے ہدایت کی کہ سب رک جائیں تا کہ پیچھے رہنے والے آ پہنچیں۔

اس کے بعد رسول اللہؐ نے آیت تبلیغ کے ضمن میں آنے والے پروردگار کے حکمِ کا ابلاغ فرمایا [56]جو کچھ یوں تھا:

يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ [المائدة: 67] (ترجمہ: اے پیغمبر ! جو اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا، بلاشبہ اللہ کافروں کو منزل تک نہیں پہنچایا کرتا)۔

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہؐ نے مسلمانوں سے فرمایا:

"أَلَستُ أَولٰى بِالمُؤمِنِينَ مِن أَنفُسِهِم؟ قالوا بَلىٰ، قال: مَن کُنتُ مَولاه ُ فَهذا عَلٰى مَولاہ ُ، اللّٰهُمَّ والِ مَن والاہ ُ وَعادِ مَن عاداہ ُ وَانصُر مَن نَصَرَہ ُ وَاخذُل مَن خَذَلَه ُ"۔
کیا میں مؤمنین پر حقِ تصرف رکھنے میں ان پر مقدم نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ آپؐ نے فرمایا: میں جس کا مولا و سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں؛ یا اللہ! تو اس کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ؛ جو اس کی نصرت کرے اس کی مدد کر اور جو اس کو تنہا چھوڑے اس کو خوار و تنہا کردے.[57]

وصال نبیؐ اور سقیفہ

اصل مضمون: سقیفۂ بنی ساعدہ

رسول اللہؐ کی حیات طیبہ کے آخری لمحات تھے جب علیؑ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول خداؐ نے ایک طویل راز آپ کو بتایا اور اس کے بعد آپؐ کی بیماری نے شدت اختیار کی اور علیؑ سے ارشاد فرمایا: "میرا سر اپنی آغوش میں رکھنا، کیونکہ اللہ کا فرمان آن پہنچا ہے، جب روح میرے بدن سے جدا ہوجائے تو اسے اپنے ہاتھ میں لے لینا اور اپنے چہرے پر مل لینا اور اس کے بعد مجھے قبلہ رخ لٹا دینا اور تجہیز و تکفین کرنا اور سب سے پہلے میرے بدن پر نماز بجا لانا اور جب تک تم نے میرا پیکر خاک میں نہاں نہیں کیا ہو مجھ سے جدا نہ ہونا اور اللہ تعالی سے مدد طلب کرنا"۔[58]

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے وصال کے بعد علىؑ اور بنی ہاشم آپؐ کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں مصروف تھے لیکن ابوبکر، عمر، ابو عبیدہ جراح، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن عبادہ، ثابت بن قیس اور عثمان بن عفان سمیت بعض مہاجرین و انصار مدینہ سے نکل گئے اور سقیفۂ بنی ساعدہ نامی مقام پر جمع ہوئے تا کہ حکومت کا فیصلہ کریں! جہاں ان کے درمیان تنازعات اور اختلافات اور بحث و جدل کے بعد ابوبکر کو رسول خداؐ کے بعد خلیفہ کے عنوان سے متعارف کرایا گیا اور کچھ ہی عرصہ قبل مقام غدیر پر ہونے والے اعلان خلافت اور علیؑ کے ہاتھ پر ان سب کی بیعت کےاعلان کو بھلا دیا گیا۔[59]

خلفائے ثلاثہ کا دور

ابو بکر کا دور شروع ہوتے ہی خاندان رسولؐ کو نہایت ہولناک حوادث و واقعات کا سامنا کرنا پڑا؛ جن میں یہ تین واقعات خاص طور پر قابل ذکر ہیں:

  1. علیؑ کے گھر پر حملہ اور ابوبکر کے لئے جبری بیعت [60]
  2. فدک [61] کو غصب کیا گیا؛
  3. حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو شہید کرنا۔

خلفائے ثلاثہ کا دور 25 سال تک جاری رہا؛ تاہم امامؑ نے اسلامی معاشرے کے دیگر معاملات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ آپ نے اس دور میں بہت زیادہ علمی اور سماجی خدمات سر انجام دیں؛ جن میں درج ذیل امور خاص طور پر قابل ذکر ہیں:
قرآن کی جمع آوری،
دینی امور، فتوحات اور انتظامات حکومت میں تینوں خلفاء کو مشورے دینا، غربا، ایتام اور مساکین کو خیرات دینا اور امداد فراہم کرنا،
غلام آزاد کرنا، حتی کہ روایات میں ہے کہ آپ نے ایک ہزار غلام خرید کر آزاد کیے،
زراعت، شجرکاری، کاریزوں کی کھدائی اور انہیں وقف کرنا،
مساجد کی تعمیر، منجملہ مدینہ میں مسجد فتح، حمزہ سید الشہدا کے مزار کے ساتھ ایک مسجد، میقات، میں ایک مسجد، کوفہ میں ایک مسجد اور بصرہ، میں ایک مسجد،
مختلف مقامات اور املاک وقف کرنا جن کی مجموعی آمدنی چالیس ہزار دینار تک بتائی گئی ہے۔[62] ذیل میں اس دور کے بعض اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

بیعت

بیعت سے امام علیؑ کا اجتناب اور بعض صحابہ کے خلافت ابوبکر کے مخالف اقدامات ابوبکر اور حتی عمر کے لئے سنجیدہ خطرے میں تبدیل ہوگئے۔ چنانچہ ابوبکر اور عمر نے اس خطرے کے خاتمے اور اپنے منصوبے کے تحت علی بن ابیطالبؑ کو بیعت پر مجبور کرنے کا فیصلہ کیا۔[63]

ابوبکر نے کئی مرتبہ امامؑ سے بیعت لینے کیلئے قُنفُذ نامی شخص کو امام علیؑ کے گھر کے دروازے پر بھجوایا لیکن امامؑ نے قبول نہ کیا چنانچہ عمر نے ابوبکر سے کہا: خود ہی اٹھو، ہم مل کر علی بن ابیطالب کے پاس جاتے ہیں اور یوں ابو بکر، عمر، عثمان، خالد بن ولید، مغیرہ بن شعبہ، ابوعبیدہ جراح اور قنفذ علیؑ کے گھر کے دروازے پر پہنچے۔

یہ گروہ جب گھر کے دروازے پر پہنچا تو اس نے بنت رسولؐ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی توہین کی اور دروازے کو دھکا دیا اور سیدہ(س) دروازے اور دیوار کے درمیان دب گئیں اور ان افراد میں سے بعض نے سیدہ(س) کو تازیانے مارے۔[64] اور اس کے بعد امام علیؑ پر حملہ کیا اور اپ کا لباس ان کی گردن میں لپیٹا اور انہیں گھسیٹ کر مسجد لے گئے!۔

قرآن کی جمع آوری

مفصل مضمون: قرآن

شیعہ اور سنی علماء کے بقول امامؑ نے رسول خداؐ کی وصیت اور سفارش پر آپؐ کے وصال کے بعد جمع و تدوین قرآن کا آغاز کیا تھا۔[65] جیسا کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ امام علیؑ نے قسم اٹھائی کہ جب تک وہ قرآن کو جمع نہ کر لیں وہ ردا دوش پر نہ ڈالیں گے ۔[66] نیز مروی ہے کہ امام علیؑ نے رسول خداؐ کے وصال کے بعد قرآن کو چھ مہینوں میں جمع کیا۔[67]

رومیوں کے ساتھ جنگ کا واقعہ

پیغمبرؐ نے وصال سے قبل رومیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اسامہ بن زید کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا لیکن وہ لشکر روانہ نہيں ہوا! بلکہ ابوبکر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی رسول اللہؐ کے فرمان پر عملدرآمد کے سلسلے میں غیر یقینی کیفیت کا سامنا رہا۔ چنانچہ صحابہ کی ایک جماعت سے مشورہ کیا گیا اور امام علیؑ نے ابوبکر کو رسول اللہؐ کے فرمان پر عمل درآمد کرنے کی ترغیب دلائی اور فرمایا: "لڑو گے تو کامیاب ہوجاؤگے"۔ ابوبکر کو امامؑ کی ترغیب پر خوشی ہوئی اور کہا: "آپ کا کلام نیک فال ہے اور آپ نے خیر کی بشارت دی ہے"۔[68]

اسلامی تاریخ کا نقطۂ آغاز

علیؑ کی تجویز پر ہی عمر نے مکہ سے رسول اللہؐ کی ہجرت کو مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز قرار دیا۔[69]

دوران حکومت

35ہجری قمری میں قتل عثمان کے بعد اصحاب کی ایک جماعت امام علیؑ کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: ہم کسی کو نہیں جانتے جو خلافت کے لئے آپ سے زیادہ مناسب ہو۔ علیؑ نے کہا: "میں اگر تمہارا وزیر رہوں تو بہتر ہے اس سے کہ تمہارا امیر بنوں"۔ انھوں نے کہا: ہم آپ کی بیعت کے سوا کچھ بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہيں ہیں۔ تب آپ نے فرمایا: میری بیعت رازداری میں نہيں ہوگی بلکہ مسجد میں ہونی چاہئے۔[70]

انصار میں سے چند افراد کے سوا سب نے علیؑ کی بیعت کی۔ مخالفین میں حسان بن ثابت، کعب بن مالک، مسلمہ بن مخلَّد، محمد بن مُسًلمہ اور چند دیگر افراد شامل تھے؛ جنہیں عثمانیہ میں شمار کیا جاتا تھا۔ غیر انصاری مخالفین میں عبداللہ بن عمر، زید بن ثابت، اور اسامہ بن زید کی طرف شارہ کیا جاسکتا ہے جو عثمان کے قریبیوں میں شمار ہوتے تھے۔[71]

حضرت علی کی جانب سے لوگوں کی بیعت قبول نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ آپ اپنے دور کے معاشرے کو اس قدر فساد زدہ سمجھتے تھے کہ جس کی قیادت کرنا، اس میں اپنے منصوبوں اور ارادوں کو عملی جامہ پہنانا آپ کے لئے ممکن نہ تھا۔[72]

عوام اور حاکم کے باہمی (دوطرفہ) حقوق

امام علیؑ کے نزدیک رعایا پر حاکم کا حق اور حاکم پر رعایا کا حق، سب سے بڑا حق ہے جو اللہ تعالی نے مقرر کیا اور یہ مکمل طور پر دو طرفہ حق ہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

"جس طرح ایک شخص کا دوسرے پر حق ہے اسی طرح دوسرے کا بھی اس پر حق ہے اور جس کا سب پر حق ہے اور کسی کا اس پر کوئی حق نہیں ہے وہ صرف خداوند متعال کی ذات ہے"۔[73]

امام علیؑ کی نظر میں حاکم اور رعایا کے دو طرفہ حقوق کی رعایت کرنے کے متعدد فوائد و ثمرات ہیں:

"جب رعیت والی کی نسبت اپنا حق ادا کرے اور والی بھی رعیت کی نسبت اپنا حق ادا کرے تو حق کو ان کے درمیان عزت و عظمت ملے گی اور ان کے دین کی بنیادیں استوار ہونگی، عدل کی نشانیاں نمایاں ہونگی اور رسول اللہؐ کی سنتیں صحیح ڈگر پر آکر نافذ ہونگی"۔ [74]

اس کے بعد امامؑ نے فرمایا:

"رعیت اپنے والی پر غلبہ پائے یا والی رعیت پر ظلم کرے تو اس صورت میں اختلاف نمایاں ہوتا ہے اور عوام کے دکھ درد اور بیماری میں اضافہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اس عظیم حق کے ضیاع اور باطل کے فروغ سے فکرمند نہیں ہوتا۔ یہ وہی وقت ہے جب نیک لوگ ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور برے لوگ عزت پاتے ہیں اور بندوں سے خدا کی بازخواستوں میں اضافہ ہوتا ہے"۔[75]

امام علیؑ عوام کی شخصیت اور تشخص کو بہت اہمیت دیتے تھے اور یہ حقیقت ان ہدایت ناموں میں مکمل طور پر واضح ہے جو آپ نے اپنے کارگزاروں اور والیوں کے لئے ارسال کئے ہیں۔ آپ نے خراج کی وصولی پر مامور افراد کے نام اپنے حکمنامے میں لکھا ہے:

"لوگوں سے عدل اور انصاف کا رویہ اپناؤ اور ان کی خواہشوں پر صبر و تحمل سے کام لو اور اس لئے کہ تم رعیت کے خزینہ دار اور امت کے نمائندے اور حکومت کے سفیر ہو"۔[76]

نیز آپ نے زکات وصول کرنے والے حکومتی کارگزاروں کے نام اپنے حکمنامے میں تحریر فرمایا ہے:

"اس طرح سے عمل نہ کرو کہ لوگ تمہیں ناپسندیدگی سے دیکھیں۔ ان سے ان کے اموال میں خدا کے حق سے زائد وصول نہ کرو۔۔۔ اور اس کے بعد لوگوں سے کہو: اے بندگان خدا! مجھے خدا کے ولی اور اس کے خلیفہ نے تمہاری جانب روانہ کیا ہے، تاکہ تم سے تمہارے اموال میں موجود خدا کا حق وصول کروں۔ کیا تمہارے اموال میں خدا کا کوئی حق ہے؟ اگر کسی نے کہا کہ اس کے مال میں خدا کا حق نہيں ہے، تو دوبارہ اس سے رجوع نہ کرو اور کسی نے ہاں میں جواب دیا تو اسے خوفزدہ کئے بغیر یا اسے دھمکی دئے بغیر اس کے ساتھ چلے جاؤ،"۔[77]

جب امیرالمؤمنینؑ نے مالک اشتر کو مصر کا والی مقرر کیا تو ان کی تقرری کے وقت فرمایا:

"رعایا کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی و احسان کرنے کو اپنے دل میں جگہ دو ایسا نہ ہو کہ ان کے ساتھ درندوں کی مانند سلوک روا رکھو اور انہیں کاٹ کھانا غنیمت سمجھو، کیونکہ وہ (لوگ) دو قسم کے ہیں: وہ جو تمہارے دینی بھائی ہیں اور وہ جو خلقت میں تمہارے جیسے ہیں[78]

عدل

امام علیؑ نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی خلفا کی اس غلط روایت کی مخالفت کی کہ جس میں بیت المال کو صدر اول کی جنگوں میں شرکت و سبقت یا پھر ایمان میں سبقت کی بنیاد پر افراد کے درمیان تقسیم کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: "بیت المال کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کرو اور کسی کو بھی کسی پر ترجیح نہ دو۔۔۔ میں نے قرآن کو پڑھ لیا ہے لیکن اس کے اول سے آخر تک مجھے ایسی کوئی بات نہیں ملی ہے کہ اسمٰعیلؑ کے فرزندوں (مکہ کے عربوں) کو اسحٰقؑ کے فزندوں پر کوئی فضیلت و فوقیت حاصل ہے"۔[79] آپ نے عمار یاسر اور ابو الہیثم بن تیہان کو بیت المال کی ذمہ داری سونپ دی تھی اور انہيں تحریری ہدایت کی تھی کہ: "عرب اور عجم اور ہر مسلمان خواہ وہ کسی بھی قوم اور نسل سے ہو بیت المال میں مساوی ہیں"۔[80]

نیز جب آپ نے خلافت کا عہدہ سنبھالا تو آپ نے ان تمام زمینوں کو "مال اللہ" قرار دیا جو عثمان نے مختلف افراد میں بانٹ لی تھیں اور حکم دیا کہ انہیں بیت المال میں لوٹا دیا جائے۔[81]

بیت المال میں دوستوں اور اعزاء و اقارب کے ساتھ آپ کا رویہ

علیؑ بیت المال کے تحفظ میں سخت گیر اور اصولی رویہ رکھتے تھے، چنانچہ جب آپ کی بیٹی نے بیت المال کے کلید بردار سے موتیوں کا ایک ہار بطور امانت لے لیا تو آپ نے اپنی بیٹی سے بھی اور کلید بردار علی بن ابی رافع سے شدت کے ساتھ تفتیش کی۔[82]

ایک دفعہ ایک صحابی نے آپ سے مخصوص مالی امداد کی درخواست تو آپ نے فرمایا: "نہ تو یہ مال میرا ہے اور نہ ہی تمہارا بلکہ مسلمانوں کے لئے وہ غنیمت ہے جو انھوں نے شمشیر کے ذریعے حاصل کی ہے۔ اگر تم اس جنگ میں شریک ہو تو تمہیں دوسروں کے برابر حصہ ملے گا ورنہ جو کچھ انھوں نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہے، مناسب نہیں ہے کہ دوسروں کے منہ میں چلا جائے"۔[83]

دین اور قانون کے نفاذ میں سختی

امیرالمؤمنینؑ دین کے معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے اور اسی بنا پر آپ بعض لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگئے تھے۔ ذیل کی دو حکایتیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں:

  • ایک دفعہ آپ نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ ایک مرد پر حد جاری کرے۔ قنبر نے جذباتی ہوکر تین تازیانے زیادہ مارے تو امامؑ نے اس مرد کو اضافی تازیانوں کے عوض قنبر کو تازیانے مارنے پر آمادہ کیا"۔[84]
  • بصرہ کے ایک صاحب ثروت شخص نے ایک دفعہ بصرہ کے والی (گورنر) عثمان بن حنیف کے لئے ایک مجلس ضیافت ترتیب دی۔ اس ضیافت کی اطلاع امیرالمؤمنینؑ کو ملی؛ چنانچہ آپ نے فوری طور پر عثمان بن حنیف کے نام خط روانہ کیا اور لکھا:
     :"اے فرزند حنیف! مجھے اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے ایک صاحب ثروت شخص نے تمہیں ضیافت پر بلایا ہے اور تم نے بھی دعوت قبول کی ہے حالانکہ وہاں طعام پر طعام لایا گیا اور تمہارے سامنے رکھا گیا ہے۔۔۔ جان لو کہ ہر ہر ماموم (اور پیروکار) کے لئے ایک امام کا ہونا لازم ہے جو اس کی اقتدا کرتا ہے اور اس کی دانش نور سے فیضیاب ہوتا ہے۔۔۔ جان لو کہ تمہارے امام اور پیشوا نے اپنی دنیا میں دو بوسیدہ کپڑوں اور دو روٹیوں پر قناعت کرلی ہے"۔[85]

خوشامدیوں اور چاپلوسوں کی مذمت

امام علیؑ افراد کی مداحیوں اور ثنا گوئیوں سے بیزار تھے اور مسلمانوں کو ان اعمال سے شدت سے منع کیا کرتے تھے۔ ذیل کی حکایات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں:

  • امیرالمؤمنینؑ جنگ صفین سے واپسی کے وقت کوفہ میں ایک شخص حرب بن شرحبیل شیامی کے ساتھ پیدل چل رہے تھے جبکہ وہ سواری پر تھا، امام رک گئے اور حرب سے کہا: لوٹو! مگر حرب نے انکار کیا! امامؑ نے دو مرتبہ اس شخص سے کہا:
    "لوٹو اور واپس چلے جاؤ کیونکہ تم جیسے آدمی کا مجھ جیسے آدمی کے ساتھ پیدل چل کے آنا ایک حاکم و زمامدار کے لئے فتنہ اور ایک مؤمن کے لئے ذلت اور خواری ہے"۔[86]
  • ایک دفعہ اصحاب میں سے ایک شخص نے امامؑ کی خوب تعریف و تمجید کی تو آپ نے اس کو شدت کے ساتھ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا:
    "۔۔۔ جان لو کہ صالحین کے نزدیک حکمرانوں کے لئے بدترین حالت یہ ہے کہ گمان کیا جائے کہ وہ تفاخر کے شیدائی ہوگئے ہیں اور ان کا کام فوقیت طلبی کے رنگ میں رنگ چکا ہے، میں اس بات سے ناخوشنود ہوں کہ حتی تمہارے ذہن میں یہ بات آئے کہ مجھے مدح و ستایش پسند ہے اور میں مدح و ثناء سن کر خوش ہوتا ہوں۔۔۔ مجھ سے اس طرح بات نہ کرو جس طرح کہ جابروں اور ظالم حکمرانوں سے بات کی جاتی ہے، تم میرے لئے جذباتی اور لفاظی پر مبنی القاب استعمال نہ کیا کرو۔۔۔"[87]
  • امیرالمؤمنینؑ نے شام کی طرف عزیمت کی تو شہر انبار کے دہقانوں نے صفیں باندھی تھیں اور آپ قریب پہنچے تو وہ آپ کے آگے آگے دوڑنے لگے اور آپ کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہنے لگے۔ اس موقع پر امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا:
    "یہ کیسا عمل تھا جو تم نے انجام دیا؟!"۔ لوگوں نے کہا: یہ ہماری روایت ہے کہ اپنے شہریاروں اور بادشاہوں کا اس روش سے احترام بجا لاتے ہیں"۔ امامؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم! تمہارے شہریاروں کو تمہارے اس کام سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور تم اپنے آپ کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو اور اگلی دنیا میں بھی اللہ کے اپنے کیفر کردار اور ابدی عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔"[88]

عسکری ڈھانچہ

امام علیؑ افواج کو رعیت کا مضبوط قلعہ، حکمرانوں کا وقار، دین کا شکوہ و جلال اور مملکت کی سلامتی کی ضمانت سمجھتے ہیں جن کی کامیابیاں ملک کی معاشی حالت، رعایا، حکومت کے کارگزاروں اور تاجروں اور صنعتکاروں کے خراج (ٹیکس) کے سہارے حاصل ہوتی ہیں اور ملک کے تحفظ کی خاطر ان کی بقاء اور طاقت کا دار و مدار حکومت کے عام ڈھانچے پر ہے۔ [89]

آپ فوجیوں کی بھرتی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
"فوجیوں کی تقرری صاحب آبرو، شریف اور مثبت پس منظر کے حامل خاندانوں سے ہونی چاہئے اور ان اور معاشرے کے رہبر و راہنما کے ما بین قریبی تعلق ہونا چاہئے اور مالی لحاظ سے ان کی ضروریات پوری ہونی چاہئیں"۔[90]

امام علیؑ کی نگاہ میں عوام حکومت کا اہم ترین بنیادی دفاعی ذخیرہ سمجھے جاتا تھا اور اگر عوام کی پشت پناہی نہ ہو تو ممکن ہے کہ ایک باضابطہ فوج ایک طویل المدت جنگ میں بے بس اور مغلوب ہوجائے اور اس کے نتیجے میں حکومت بھی زوال پذیر ہوجائے؛ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
"معاشرے کے خواص (Eliets) عام طور پر معاشرے پر بھاری بوجھ ڈال دیتے ہیں کیونکہ دشوار ایام میں ان کی مدد قلیل اور عدل کے نفاذ میں سب سے زيادہ ناراض اور مشکلات کے سامنے ان کی قوت برداشت و استقامت بہت کم ہے، جبکہ دین کا مستحکم ستون، اسلامی معاشرے کا پر جوش اجتماع، اور دفاعی ذخیرہ عام لوگ ہیں"۔[91]

والی اور کارگزار

امام علیؑ نے اپنی حکومت کے دوران بعض والی اور گورنر مختلف شہروں میں تعینات یا تبدیل کئے جن میں سے بعض یہ ہیں:

امام علیؑ کے والیوں میں سے بعض کو آپ کے دشمنوں نے قتل کیا جیسے: مالک اشتر نخعی، محمد بن ابی‌ بکر، عبداللہ بن خبّاب ارت، محمد بن ابی حذیفہ، ابو حسان بن حسان بکری اور حلو بن عوف۔
بعض والی و کارگزار معمر ہونے کی بنا پر آپ کی حکومت کے ایام میں ہی دنیا سے رخصت ہوئے جیسے: سہل بن حنیف، ابو قتادہ اور حذیفہ بن یمان۔
بعض کارگزار اور والی آخر عمر تک والی رہے، جیسے: قیس بن سعد، عثمان بن حنیف، کمیل، سعد بن مسعود اور سلیمان بن صرد خزاعی۔
بعض نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی جیسے: عبیداللہ بن عباس اور سعید بن نمران جنہیں امیرالمؤمنینؑ کی ملامت کا سامنا کرنا پڑا۔
اور بعض کو امیرالمؤمنینؑ نے خیانت کی بنا پر برطرف کیا جیسے: منذر بن جارود اور عقبہ بن عمرو۔ [92]

جنگیں

جنگ جمل (ناکثین)

اصل مضمون: جنگ جمل

علی علیہ السلام نے فرمایا: "جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے تو اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو (بلاوجہ) لڑتا جھگڑتا ہے وہ خوف خدا کو قائم نہيں رکھ سکتا"۔[93]

جنگ جمل امام علیؑ کی پہلی جنگ تھی جو آپ اور ناکثین کے درمیان واقع ہوئی۔ نکث بمعنی نقض اور توڑنا، اور چونکہ طلحہ اور زبیر اور اور ان کے پیروکاروں نے ابتدا میں امام علیؑ کی بیعت کی تھی جو بالآخر انھوں نے توڑ دی چنانچہ انہیں ناکثین اور عہد شکنوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ [94] یہ جنگ جمادی الثانی سنہ 36 ہجری میں لڑی گئی۔[95]

طلحہ اور زبیر جو قتل عثمان کے بعد ابتدا میں خلافت پر نظریں جمائے ہوئے تھے [96] جب ناکام ہوئے اور خلافت امام علیؑ کو ملی تو انہیں توقع تھی کہ علیؑ کے ساتھ خلافت میں شریک ہوجائیں گے۔ ان دونوں نے آکر آپ سے بصرہ اور کوفہ‌ کی ولایت مانگی، لیکن علیؑ نے انہیں اس کام کے لئے اہل قرار نہیں دیا۔[97] جبکہ وہ دونوں قتل عثمان کے اصل ملزم تھے اور عوام کے درمیان کوئی بھی طلحہ جتنا قتل عثمان کا خواہاں نہ تھا،[98] وہ دونوں اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے [[عائشہ‌] سے جا ملے؛ حالانکہ عائشہ نے عثمان کے محاصرے کے وقت نہ صرف ان کی مدد نہیں کی تھی بلکہ موقف اختیار کیا تھا کہ عثمان کو گھیرنے والے حق طلب ہیں۔ لیکن جب انہیں خبر ملی کہ لوگوں نے علیؑ کی بیعت کی ہے تو کہنے لگیں کہ "عثمان کو ظلم کرکے قتل کیا گیا ہے اور اس کے بعد انھوں نے عثمان کے قتل کے سلسلے میں انصاف مانگنا شروع کیا!۔[99] عائشہ اس سے پیشتر علیؑ کے لئے عداوت یا عدواتیں دل میں رکھے ہوئی تھیں اسی وجہ سے انھوں نے طلحہ اور زبیر کا ساتھ دیا۔[100] چنانچہ ان تین افراد نے تین ہزار افراد پر مشتمل لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔[101] اس جنگ میں عائشہ "عسکر" نامی اونٹ (جمل) پر سوار ہوئی تھیں اسی وجہ سے اس جنگ کو جنگ جمل کا نام دیا گیا۔[102]

علیؑ نے والیِ بصرہ عثمان بن حنیف کو ہدایت کی کہ باغیوں کو راہ حق پر پلٹ آنے کی دعوت دیں اور اگر نہ مانیں تو آپؑ کے بصرہ پہنچنے تک مزاحمت کریں۔[103]

امام علیؑ نے بصرہ پہنچ کر سب سے پہلے عہد شکن باغیوں کو نصیحت کی اور یوں جنگ کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن باغیوں نے امامؑ کے ایک ساتھی کو قتل کرکے جنگ کا آغاز کیا[104] تاہم زبیر نے جنگ شروع ہونے سے قبل ہی لشکر سے کنارہ کشی اختیار کی جس کا سبب یہ تھا کہ علیؑ نے اسے وہ حدیث یاد دلائی کہ جب رسول اللہؐ نے زبیر سے کہا تھا کہ "ایک دن تم علیؑ کے خلاف بغاوت کرو گے"۔ زبیر جنگ سے دستبردار ہونے کے بعد بصرہ کے باہر ایک تمیمی مرد عمرو بن جرموز کے ہاتھوں قتل ہوا۔[105]

اصحاب جمل نے چند گھنٹوں کی مختصر جنگ میں بڑا جانی نقصان اٹھا کر شکست کھائی [106] اس جنگ میں طلحہ (اپنے لشکر میں شامل مروان) کے ہاتھوں مارا گیا اور عائشہ کو عزت و احترام کے ساتھ مدینہ لوٹا دیا گیا۔[107]

جنگ صفین (قاسطین)

اصل مضمون: جنگ صفین


جنگ صفین امام علیؑ اور قاسطین (یعنی معاویہ اور اس کی سپاہ۔)[108] کے درمیان صفر المظفر سنہ 37 ہجری کو شام میں دریائے فرات کے قریب صفین نامی مقام پر لڑی گئی اور اس کا اختتام اُس حَکَمیت پر ہوا جو رمضان سنہ 38 ہجری کو انجام پائی۔[109]

عثمان کو مسلمانوں نے گھیرے میں لیا تو معاویہ ان کی مدد کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ انہیں دمشق منتقل کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ وہاں امور مملکت کی باگ ڈور خود سنبھال لے۔ اس نے قتل عثمان کے بعد شامیوں کے درمیان علیؑ کو ان کے قاتل کے طور پر پہجان کرانے کی کوشش کی۔ امامؑ نے اپنی حکومت کے آغاز پر معاویہ کو خط لکھا اور اس کو بیعت کرنے کا کہا لیکن اس نے حیلوں بہانوں سے کام لیا اور کہا کہ "پہلے عثمان کے ان قاتلوں کو میرے حوالے کریں جو آپ کے پاس موجود ہیں تا کہ میں ان سے قصاص لوں اور اگر آپ نے ایسا کیا تو میں بیعت کروں گا۔ امامؑ نے معاویہ کے ساتھ خط و کتابت کی اور اپنا نمائندہ بھیجا اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ معاویہ جنگ چاہتا ہے تو آپ نے اپنا لشکر لے کر شام کی جانب رخ کیا۔ ادھر معاویہ بھی اپنا لشکر لے کر روانہ ہوا اور دونوں لشکروں کا سامنا صفین کے مقام پر ہوا۔ امام علیؑ کی کوشش تھی کہ جہاں تک ممکن ہو یہ مسئلہ جنگ پر ختم نہ ہو۔ لہذا آپ نے پھر بھی خطوط روانہ کئے جن سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا اور آخر کار سنہ 36 ہجری میں جنگ کا آغاز ہوا۔[110]

سپاہ علیؑ کا آخری حملہ شروع ہوا اور اگر جاری رہتا تو علوی سپاہ کی کامیابی یقینی تھی لیکن معاویہ نے عمرو بن عاص کے ساتھ مشورہ کرکے ایک مکارانہ چال چلی اور حکم دیا کہ لشکر کے پاس قرآن کے جتنے بھی نسخے ہیں انہيں نیزوں پر اٹھائیں اور سپاہ علیؑ کے سامنے جائيں اور انہيں قرآن کے فیصلے کی طرف بلائیں۔ یہ بہانہ کار گر ہوا اور سپاہ علیؑ میں قاریوں کی جماعت علیؑ کے پاس آئی اور اور کہا:
ہمیں کوئی حق نہيں ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ لڑیں چنانچہ وہ جو کہتے ہیں وہی ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔
علیؑ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک چال ہے جس کے ذریعے وہ ہاری ہوئی جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن بےسود۔[111]

امامؑ نے مجبور ہوکر معاویہ کے نام ایک خط کے ضمن میں لکھا:
ہم جانتے ہیں کہ تمہارا قرآن سے کوئی تعلق نہيں ہے تاہم ہم قرآن کی حکمیت (یا قرآنی فیصلہ) قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔[112]

طے یہ پایا کہ ایک فرد سپاہ شام کی طرف سے آ جائے اور ایک فرد سپاہ عراق کی طرف سے اور وہ دونوں بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ اس موضوع میں قرآن کا حکم کیا ہے۔ شامیوں نے عمرو بن عاص کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا اور اشعث اور بعد میں خوارج کے مسلک میں شامل ہونے والے کئی دیگر افراد نے ابو موسى اشعرى کا نام تجویز کیا۔ امام علیؑ نے عبداللہ بن عباس یا مالک اشتر کے نام تجویز کئے لیکن اشعث اور اس کے گروہ نے کہا کہ چونکہ مالک اشتر جنگ جاری رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور عبداللہ بن عباس کو ہونا ہی نہیں چاہئے اور چونکہ عمرو بن عاص مصر سے ہے اسی لئے دوسرے فریق کا نمائندہ یمنى ہونا چاہئے!۔[113]

آخر کار عمرو بن عاص نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دیا اور بظاہر قرآنی حَکَمِیت کو معاویہ کے مفاد میں ختم کردیا۔[114]

جنگ نہروان (مارقین)

اصل مضمون: جنگ نہروان

جنگ صفین میں حَکَمِیت کے نتیجے میں امامؑ کے بعض ساتھیوں نے احتجاج کیا اور آپ سے کہنے لگے: آپ نے خدا کے کام میں کسی کو فیصلہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟ حالانکہ امام علیؑ شروع سے ہی حَکَمِیت کی مخالفت کررہے تھے اور ان ہی لوگوں نے امامؑ کو اس کام پر مجبور کیا تھا لیکن بہر صورت انھوں نے امامؑ کو کافر قرار دیا اور آپ پر لعن کرنے لگے۔[115]

یہ لوگ خوارج یا مارقین کہلائے جنہوں نے آخر کار لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ انھوں نے صحابی رسول خداؐ کے فرزند عبداللہ بن خباب کو قتل کیا اور اس کی بیوی کا پیٹ چیر کر اس میں موجود بچے کو بھی قتل کیا۔[116] ] چنانچہ امامؑ نے مجبورا جنگ کا فیصلہ کیا۔ آپ نے ابتدا میں عبداللہ بن عباس کو بات چیت کی غرض سے ان کے پاس بھیجا اور بات چیت ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے بہت سے تو اپنی رائے سے دستبردار ہوئے لیکن بہت سے رہ گئے۔ آخر کا نہروان کے مقام پر جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں امامؑ کے لشکر سے 7 یا 9 افراد شہید ہوئے اور خوارج میں سے 9 افراد زندہ بچ گئے۔ [117]

شہادت

عراق،نجف اشرف، امام علیؑ کا حرم مطہر

جنگ نہروان کے بعد امامؑ نے عراق میں ایک بار پھر شام کے خلاف جنگ کے لئے لشکر تشکیل دینے کی کوشش کی لیکن تھوڑے سے لوگوں نے ساتھ دیا۔ دوسری طرف سے معاویہ نے عراق کے حالات اور عراقیوں کی سستیوں کے پیش نظر جزیرة العرب (جزیرہ نمائے عرب) اور حتی کہ عراق میں امامؑ کی عملداری کے اندر بعض علاقوں کو جارحیت اور افراد کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا تاکہ ان کی قوت کو ضعف میں بدل دے اور عراق کو فتح کرنے کا راستہ ہموار کر دے۔[118]

کوفہ کے عوام سے خطاب:

"میں کل فرمان دیتا تھا اور آج مجھے فرمان دیا جاتا ہے، کل روک دیتا تھا اور آج مجھے روکا جاتا ہے تم کو جینے سے محبت ہے اور میرا کام یہ نہیں ہے کہ میں اس چیز پر تمہیں مجبور کروں جس کو تم ناپسند کرتے"۔ [119]

بہرحال امامؑ ایک بڑالشکر تیار کرکے صفین جانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ اسی دوران 19 رمضان سنہ 40 ہجری کی صبح مسجد کوفہ میں نماز فجر کے وقت عبدالرحمن بن ملجم مرادی نامی خارجی کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور 21 رمضان کو جام شہادت نوش کرگئے۔ بعض تاریخی ذرائع نے کہا ہے کہ خوارج کے تین افراد نے امیرالمؤمنینؑ، معاویہ اور عمرو بن عاص کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور یہ بھی کہا ہے کہ قطام نامی عورت نے بھی امامؑ کے قتل میں کردار ادا کیا ہے لیکن یہ باتیں کسی حد تک افسانے سے مشابہت رکھتی ہیں۔[120]

امیرالمؤمنین کے بیٹوں امام حسن، امام حسین اور محمد بن حنفیہ نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر کے تعاون سے رات کے وقت آپؑ کو غریین (موجودہ نجف) کے مقام پر سپرد خاک کیا [121] کیونکہ بنی امیہ اور خوارج اگر آپ کی قبر کو ڈھونڈ لیتے تو قبرکشائی کرکے آپ کی بےحرمتی کرتے۔[122]

وصیتیں

امام علیؑ نے مسجد کوفہ میں زخمی ہوتے وقت فرمایا:
فُزتُ وَرَبِّ الكعبةِ؛ (ترجمہ: رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا)۔[123]

امیرالمؤمنینؑ سے ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں آپ نے اپنے بیٹوں کو اپنے غسل، کفن، نماز اور تدفین کی کیفیت کے بارے میں ہدایات دی ہیں۔[124] آپ نے اپنے فرزندوں کو اپنا مدفن خفیہ رکھنے کی ہدایت کی ۔[125]

جب محراب مسجد میں ابن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو آپ نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین ؑ کو یوں وصیت فرمائی:

میں تم دونوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، دنیا کے خواہشمند نہ ہونا، اگرچہ وہ تمہارے پيچھے لگے اور دنیا کی کسی ایسی چیز پر نہ کڑھنا جو تم سے روک لی جائے جو کہنا حق کے لئے کہنا اور جو کرنا ثواب کے لئے کرنا، ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔ تمہیں اور اپنے تمام فرزندوں اور اعزاز و اقارب اور ہر اس شخص کو ـ جس تک میرا یہ نوشتہ پہنچے ـ وصیت کرتا ہوں خوف خدا قا‏ئم رکھنا، اپنے امور و معاملات کو سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہؐ کو فرماتے سنا ہے کہ: "لوگوں کے درمیان مصالحت کرانا برسوں کی نماز اور روزے سے افضل ہے"۔ دیکھو یتیموں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، انہیں کبھی پیٹ بھر کر کھلانے اور کبھی فاقے کرانے سے پرہیز کرنا، (اور ان کی ضرورت پوری کرنا)، اور انہیں اپنی موجودگی میں ضائع اور تباہ مت ہونے دینا۔ کیونکہ تمہارے پیغمبرؐ نے مسلسل ہدایات دی ہیں؛ اور آپ اس حد تک پڑوسیوں کی سفارش کرتے تھے کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ انہیں بھی وراثت سے ترکہ دلائیں گے۔ قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، ایسا نہ ہو کہ دوسرے قرآن پر عمل کرنے میں تم سے سبقت لیں۔

نماز کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا جو تمہارے دین کا ستون ہے۔ اپنے رب کے گھر کعبہ کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا،جب تک اس دنیا میں ہو کبھی اسے جیتے جی خالی مت چھوڑنا کیونکہ اگر تم نے اسے خالی چھوڑا اور اس کی خدمت و پاسداری نہ کی تو خدا کے عذاب سے چھٹکارا نہ پا سکوگے۔ راہ خدا میں جہاد کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا۔ اپنے اموال اور اپنی جانوں اور زبانوں کے ساتھ! تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھو اور ایک دوسرے کی مدد کرو۔ خبردار! ایک دوسرے سے منہ مت موڑنا، اور باہمی تعلق توڑنے اور اپنے رشتوں کو توڑنے سے پرہیز کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کبھی ترک مت کرنا (اگر تم نے ایسا کیا تو) تمہارے بدکردار ترین افراد تم پر مسلط ہو کر حکمرانی کریں گے! پھر تم دعا مانگوگے تو قبول نہ ہوگی۔ ( پھر ارشاد فرمایا ) اے عبدالطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہونے پائے کہ امیرالمؤمنین کو قتل کیا گیا، امیرالمؤمنین کو قتل کیا گیا کے نعرے لگاکر لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کرو۔ سوائے میرے قاتل کے، کسی کو میرے خون کے بدلے قتل نہیں ہونا چاہئے۔ نیکی کاحکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے کبھی ہاتھ نہ اٹھانا ورنہ بدکردار تم پر مسلط ہو جائیں گے .پھر دعا مانگو گے تو قبول نہیں ہو گی۔

دیکھ لینا! اگر میں اس ایک ضرب سے مرگیا تو ایک ضرب لگا کر اسے مار دینا اور اس کے ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء و جوارح مت کاٹنا کیونکہ میں نے رسول خداؐ سے سنا ہے کہ "مردے کے اعضا کاٹنے سے پرہیز کرو خواہ وہ پاگل کتا ہی ہو"۔[126]

قبر کا خفیہ رہنا

امیرالمؤمنینؑ نے وصیت کی کہ آپ کی قبر خفیہ رکھی جائے جس کی وجہ یہ تھی کہ خوارج اور منافقین سے خوف تھا کہ وہ کہیں قبرکھول کر آپ کے جسم کی بے حرمتی نہ کریں۔[127]

امام علیؑ کے مدفن سے صرف آپ کے فرزند اور اصحاب خاص آگہی رکھتے تھے حتی کہ امام صادقؑ نے منصور عباسی کے زمانے (سنہ 135 ہجری) میں پہلی بار نجف میں آپ کے مقام تدفین کو آشکار کردیا۔[128]

فضائل و مناقب

قرآن کے ظاہر و باطن،تنزیل و تاویل کی شناخت میں رسول اللہ کے بعد حضرت علی سب سے زیادہ آگاہ تھے نیز ابن عباس اور مجاہد جیسے بڑے مفسر قرآن حضرت علی کے مکتب کے ہی پروردہ تھے۔ رسول اللہ کے بعد سب سے پہلے قرآن تدوین کرنے والی شخصیت حضرت علی ہی تھے۔اہل بیت اور اصحاب میں سے کوئی شخص شرف و فضیلت میں انکی ہمسری نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن پاک کی 300 ایسی آیات ہیں جن میں انکی ذات گرامی کی طرف اشارہ ہواہے۔

خطیب بغدادی اسماعیل بن جعفر سے اورابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ300 آیات حضرت علی کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔[129]

ابن حجر ہیتمی[130] اور شبلنجی،[131] نے ابن عساکر اور ابن عباس سے 300 آیات کی حضرت علی کے بارے میں نازل ہونے کی تائید کی ہے۔

ان آیات میں سے تبلیغ، اکمال، مودت، مباہلہ،شب ہجرت آیت اشترائے نفس ، آیت نجوا، سورہ ہل اتی اور آیت اولو الامر خاص طور پر قابل ذکر ہیں. نیز شیعہ مفسرین ، شیعہ متکلمین اور بعض اہل سنت مفسرین کی تصریح کے مطابق (تحریم، آیت ۴) میں صالح المؤمنین سے مراد حضرت علی ہیں نیز (حاقہ، آیت ۱۲) میں اذن واعیہ، (بینہ، ۷) خیر البریہ میں یہی مراد ہیں۔ بعض شیعہ و سنی علما نے حضرت علی اور اہل بیت کے بارے میں نازل ہونے والی آیات پر مستقل کتابیں لکھیں ہیں جیسے تأویل الآیات الظاہرة فی فضائل العترة الطاہرة، اثر سید شرف الدین استرآبادی، شواہد التنزیل، ینابیع المودة ہیں.[132]

حضرت علی ؑ رسول اللہ کے نزدیکترین ،ہمدم اور ہمسخن ساتھی تھے نیز کاتب وحی ،ناظر وحی و محافظ وحی اور مفسر قرآن بھی تھے ۔حضرت خود اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ کوئی ایسی آیات نہیں جس کے متعلق میں نہ جانتا ہوں کہ کب اور کیسے نازل ہوئی،دن کو نازل ہوئی یا رات کو نازل ہوئی، دشت میں یا پہاڑ پر نازل ہوئی۔[133] عیون اخبار الرضا میں ا امام رضاؑ امام حسینؑ سے نقل کرتے ہیں :

امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا کہ قرآن کے بارے میں جو چاہو مجھ سے پوچھو یہانتک کہ میں ہر آیت کے کے متعلق تمہیں بتاؤں گا کہ یہ آیت کس کے بارے میں اور کہاں اور کس وقت نازل ہوئی ہے۔[134]

جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ بہت سی آیات حضرت علی کے فضائل اور مناقب میں نازل ہوئیں یہانتک ک ابن عباس نے ان آیات کی تعداد 300 تک بیان کی ہے [135] یہاں ہم بعض آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

آیت مباہلہ

مفصل مضمون: آیت مباہلہ

فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَہ ِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّہ ِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔[136]
تو کہہ دیجیے کہ آؤ! ہم بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے نفسوں کو اور تمہارے نفسوں کو۔ پھر التجا کریں اور اللہ کی لعنت قرار دیں جھوٹوں پر۔[137]
سنہ 10 ہجری کو روز مباہلہ، طے یہ پایا تھا کہ مسلمان اور نجران کے عیسائی ایک دوسرے پر لعنت کریں، تا کہ خدا جھوٹی جماعت پر عذاب نازل کرے۔ اسی مقصد سے رسول خداؐ علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو لے کر صحرا میں نکلے۔ عیسائیوں نے جب دیکھا کہ آپ اس قدر مطمئن ہیں کہ صرف قریب ترین افراد خاندان کو ساتھ لائے ہیں، تو خوفزدہ ہوئے اور جزیہ کی ادائیگی قبول کرلی۔ [138]

آیت تطہیر

مفصل مضمون: آیت تطہیر

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّہ ُ لِيُذْہ ِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَہ ْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہ ِّرَكُمْ تَطْہ ِيراً[139] ::اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر پلیدی کو دور رکھے اے اہل بیت! اللہ تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے۔

شیعہ علماء کی عمومی رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ زوجۂ رسولؐ ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی اور نزول کے وقت رسول اللہؐ کے علاوہ، علیؑ،فاطمہ(س) اور حسنینؑ بھی موجود تھے۔ یہ آيت نازل ہونے کے بعد رسول خداؐ نے اس چادر کساء کو ـ جس پر آپ بیٹھے تھے ـ اٹھا کر اصحاب کساء یعنی اپنے آپ، علی، فاطمہ اور حسنین کے اوپر ڈال دیا اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور عرض کرنے لگے: "خداوندا! میرے اہل بیت یہ چار افراد ہیں، انہیں ہر پلیدی سے پاک رکھ"۔ [140]

آیت مودت

قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہ ِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ"۔ [141]
کہئے کہ میں تم سے صاحبان قرابت کی محبت کے سوا اس رسالت پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا"۔

ابن عباس کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس آیت کی رو سے جن لوگوں کی مودت واجب ہوئی ہے، وہ کون ہیں؟ آپؑ نے فرمایا: "علی، فاطمہ، حسن اور حسین؛ اور یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ دہرایا۔[142]

مسلمِ اول

حضرت علی کا مسلم اول ہونا مشہور ہے بلکہ یہ روایت تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ علیؑ اولین مسلمان تھے۔ [143] چنانچہ رسول خداؐ کہتے ہیں: "سب سے پہلا فرد جو تم میں سے، روز قیامت، حوض کوثر پر مجھ سے آملے گا وہ اسلام میں سب پر سبقت لینے والے علی ہیں"۔ [144] نیز رسول اللہؐ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: "کیا آپ نہیں چاہتی کہ میں تمہیں ایسے فرد سے بیاہ دوں جو میری امت میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا ہے اور ان میں دانا ترین ، عالم ترین اور سب سے زيادہ صابر و بردبار ہے"۔[145]

شب ہجرت (لیلۃ المبیت)

مفصل مضمون: شب ہجرت

قریش نے مسلمانوں کو آزار و اذيت کا نشانہ بنایا تو پیغمبرؐ نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ کے اصحاب مرحلہ وار مدینہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ [146]

دارالندوہ میں مشرکین کا اجلاس ہوا تو قریشی سرداروں کے درمیان مختلف آرا پر بحث و مباحثہ ہونے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہر قبیلے کا ایک نڈر اور بہادر نوجوان اٹھے اور رسول خدا کے قتل میں شرکت کرے۔ جبرائیل نے اللہ کے حکم پر نازل ہوکر آپؐ کو سازش سے آگاہ کیا اور آپ کو اللہ کا یہ حکم پہنچایا کہ: "آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کریں"۔ پیغمبرؐ نے علیؑ کو حقیقت حال سے آگاہ کیا اور حکم دیا کہ آپ کی خوابگاہ میں آپ کے بستر پر آرام کریں" ۔[147]

آیت اور اس کا شان نزول

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَہ ُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّہ ِ وَاللّہ ُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ
اور آدمیوں ہی میں وہ بھی ہے جو اللہ کی مرضی کی طلب میں اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اور اللہ بندوں پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔[148]

مفسرین کے مطابق یہ آیت کریمہ لیلۃ المبیت سے تعلق رکھتی ہے اور علیؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ [149]

رسول خداؐ کے ساتھ مؤاخات

رسول خداؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ پہنچنے پر مہاجرین کے درمیان عقد اخوت برقرار کیا اور پھر مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت قائم کی اور دونوں مواقع پر علیؑ سے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو نیز اپنے اور علیؑ کے درمیان عقد اخوت جاری کیا۔ [150]

ردّ الشمس

یہ سنہ 7 ہجری کا واقعہ ہے جب رسول خداؐ اور علیؑ نے نماز ظہر ادا کی اور رسول خداؐ نے علیؑ کو کسی کام کی غرض سے کہیں بھیجا جبکہ علیؑ نے نماز عصر ادا نہیں کی تھی۔ جب علیؑ واپس لوٹ کر آئے تو پیغمبرؐ نے اپنا سر علیؑ کی گود میں رکھا اور سوگئے یہاں تک سورج غروب ہوگیا۔ جب رسول خداؐ جاگ اٹھے بارگاہ الہی میں دعا کی: "خدایا! تیرے بندے علی نے اپنے آپ کو تیرے رسولؐ کے لئے وقف کیا، سورج کی تابش اس کی طرف لوٹا دے"۔ پس علیؑ اٹھے، وضو تازہ کیا اور نماز عصر ادا کی اور سورج ایک بار پھر غروب ہوگیا۔[151]

سورہ برائت ( توبہ) کا ابلاغ

سورہ توبہ کی ابتدائی آیات میں بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین کو چار مہینوں تک مہلت دی جاتی ہے کہ یکتا پرستی اور توحید کا عقیدہ قبول کریں جس کے بعد وہ مسلمانوں کے زمرے میں آئیں گے لیکن اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں تو انہیں جنگ کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور انہیں جان لینا چاہئے کہ جہاں بھی پکڑے جائیں گے مارے جائیں گے۔ یہ آیات کریمہ ایسے حال میں نازل ہوئیں کہ پیغمبرؐ حج کی انجام دہی میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے تھے؛ چنانچہ اللہ کے فرمان کے مطابق ان پیغامات کے ابلاغ کی ذمہ داری یا تو رسول اللہؐ خود نبھائیں یا پھر ایسا فرد یہ ذمہ داری پوری کرے جو آپؐ سے ہو، اور ان کے سوا کوئی بھی اس کام کی اہلیت نہيں رکھتا" [152]، ـ حضرت محمدؐ نے علیؑ کو بلوایا اور حکم دیا کہ مکہ۔ تشریف لے جائے اور عید الاضحیٰ کے دن مِنیٰ کے مقام پر سورہ برائت کو مشرکین تک پہنچا دیں۔[153]

حدیث حق

پیغمبرؐ نے فرمایا: عَلىٌّ مَعَ الحقِّ والحقُّ مَعَ عَلىٍّ۔ (ترجمہ: على ہمیشہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ہمیشہ علی کے ساتھ ہے)"۔ [154]

سد الابواب (دروازوں کا بند کرنا)

اصل مضمون: حدیث سد الابواب

صدر اسلام میں مسجد النبی کے اطراف میں موجود گھروں کے دروازے مسجد کے اندر کھلتے تھے۔ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علیؑ کے سوا تمام گھروں کے مسجد النبی میں کھلنے والے دروازوں کے بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ لوگوں نے سبب پوچھا تو رسول خدا نے فرمایا:
"مجھے علی کے گھر کے سوا تمام گھروں کے دروازے بند کرنے کا حکم تھا لیکن اس بارے میں بہت سی باتیں ہوئی ہیں۔ خدا کی قسم! میں نے کوئی دروازہ بند نہيں کیا اور نہيں کھولا مگر یہ کہ ایسا کرنے کا مجھے حکم ہوا اور میں نے بھی اطاعت کی۔[155]

علمی خدمات

ساتویں صدی ہجری کے بڑے سنی عالم ابن ابی الحدید (586-656ق) نے نہج البلاغہ پر اپنی مفصل شرح کے دیباچے میں لکھا:
"میں کیا کہوں اس مرد کے بارے میں جس کے دشمن اس کی فضیلت کے قائل تھے اور نہ تو اس کے فضائل کو چھپا سکے اور نہ ہی ان کا انکار کرسکے۔ سب جانتے ہیں کہ بنو امیہ نے عالم اسلام کے مغرب اور مشرق پر قابو پا لیا اور اس خاندان نے اپنی پوری قوت سے ـ تمام تر مکاریوں اور حیلہ بازیوں کے ذریعے علی کی عظمت کا نور بجھانے کی کوشش کی اور ان کی مذمت و ملامت میں بےشمار حدیثیں بھی گھڑ لیں، اور تمام منابر پر ان کو لعن کا نشانہ بنایا اور ان کے حامیوں اور مداحوں کو نہ صرف منع کیا اور ستایا بلکہ جیلخانوں میں بند کیا اور قتل کیا۔ امویوں نے حتی کہ عوام کو اپنے بچوں پر علی کا نام رکھنے تک سے منع کیا۔ لیکن ان ساری رکاوٹوں کا کوئی اثر نہ تھا سوائے اس کہ اس کا نام بلندیوں کو سر کرتا رہا اور برتر و بالاتر ہوجائے۔ وہ اس مُشک کی مانند ہے کہ جسے جس قدر چھپایاجائے فضا کو اتنا ہی زیادہ معطر بنا دیتا ہے"۔[156]

ابن ابی الحدید نے مزید لکھا ہے:
"کیا کہوں اس فرد کے بارے میں جو ہر فضیلت اور انسان کی ہر امتیازی عظمت کا سرمنشأ اور سرچشمہ ہے اور ہر فرقہ اور ہر گروپ اس کو ہی اپنا سرچشمہ اور سر آغاز سمجھتا ہے اور اس سے منسوب ہوکر فخر کرتا ہے کیونکہ وہ تمام انسانی امتیازات و خصوصیات کا سرچشمہ ہے اور اس میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور اس معرکے میں پیشرو وہی ہے"۔[157]

علم کلام

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: اشرف علوم علم کلام یعنی علم الٰہیات اور صفاتِ باری تعالی کی شناخت کی تفصیل کا بیان علیؑ سے شروع ہوا اور اس فنّ کے تمام اہل نظر اور استدلال آپؑ ہی کے شاگرد تھے۔ اہل توحید اور عدل معتزلہ آپ ہی کے شاگرد اور اصحاب ہیں کیونکہ ان کے تفکر کا بانی واصل بن عطاء ابو ہاشم عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کا شاگرد ہے اور ابو ہاشم اپنے باپ محمد حنفیہ کا شاگرد ہے اور محمد اپنے والد ماجد امام علی علیہ السلام کے شاگرد ہیں۔ [158]

اشاعرہ کا سلسلہ بھی آپ ہی تک پہنچتا ہے اور اس فرقے کا بانی ابوالحسن علی بن (اسمعیل بن) ابی بشر اشعری ہے جو ابوعلی الجبائی کا شاگرد اور جو در حقیقت معتزلہ کے اساتذہ میں سے ہے۔ پس اشاعرہ کا سلسلہ بھی معتزلہ کے استاد تک پہنچتا ہے اور ان کے استاد امام علی علیہ السلام ہیں۔ [159] امامیہ اور زیدیہ کا امام علیؑ سے انتساب، مسلّم اور واضح ہے جس کے لئے وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ [160]

علم فقہ

ابن ابی الحدید(586-656ق) کہتے ہیں: "امام علی علم فقہ کی جڑ اور بنیاد ہیں اور عالم اسلام میں ہر فقیہ آپ کے خوانِ نعمت کے ٹکڑے چننے والے ہیں۔ شیعہ فقہ کا آپ سے استناد واضح ہے اور اس کے لئے کسی بیان کی ضرورت نہيں ہے۔ ابوحنیفہ کے اصحاب، ـ جن میں ابو یوسف، محمد وغیرہ شامل ہیں ـ نے فقہ ابو حنیفہ سے لی ہے۔ احمد بن حنبل شافعی کا شاگرد تھا اور شافعی نے اپنی فقہ ابو حنیفہ سے اخذ کی ہے اور ابو حنیفہ امام جعفر صادقؑ کا شاگرد ہے؛ امام صادقؑ اپنے والد امام باقرؑ کے شاگرد اور وہ اپنے والد کے شاگرد ہیں اور یہ سلسلہ بھی بالآخر امام علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔

مالک بن انس نے علم فقہ ربیعۃ الرأی سے اخذ کیا ہے اور وہ عکرمہ کا شاگرد ہے اور عکرمہ عبداللہ بن عباس کا اور ابن عباس علیؑ کے شاگرد ہیں۔ چونکہ شافعی مالک کا شاگرد ہے اسی لئے اس کی فقہ کو بھی امام علیؑ سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ یوں اہل سنت کے فقہائے اربعہ امام علی علیہ السلام سے منسوب ہیں۔

فقہائے صحابہ یعنی عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عباس، دونوں نے اپنا علم امام علیؑ سے اخذ کیا ہے۔ ابن عباس کی شاگردی واضح ہے۔ اور سب جانتے ہیں کہ عمر نے بہت سے مشکل مسائل میں امام علیؑ سے رجوع کیا ہے اور کئی مرتبہلولا علي لهلك عمر (ترجمہ: اگر علی نہ ہوتے تو عمر نابود ہوجاتا)" کہا اور "خدا نہ کرے کہ مجھے کوئی مشکل پیش آئے اور ابوالحسن [علیؑ] میرے ساتھ نہ ہوں"کہا نیز عمر کہا کرتے تھے کہ: "جب تک علیؑ مسجد میں حاضر ہوں کسی کو فتوی دینے کا حق نہيں ہے"۔ اس حوالے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی فقہ کا سرچشمہ علی بن ابی طالبؑ ہیں۔

شیعہ اور سنی نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:اقضاكم علي۔ علي تم میں سے سب سے زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں)؛ اور چونکہ قضاء یا لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا علم، فقہ کا جزء ہے لہذا اس لحاظ سے بھی علیؑ دیگر صحابہ سے بڑے فقیہ ہیں۔ [161]

تفسیر

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: "علیؑ علم تفسیر کے بانی ہیں اور جو بھی تفاسیر سے رجوع کرے اس حقیقت کو بڑے وضوح کے ساتھ پا لیتا ہے، خواہ وہ آیات کریمہ جن کی تفسیر براہ راست آپ سے نقل ہوئی ہے خواہ وہ آیات جن کی تفسیر ابن عباس سے منقول ہے کیونکہ ابن عباس نے بھی علم تفسیر آپ ہی سے اخذ کیا ہے۔ کسی نے ابن عباس سے دریافت کیا: "آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالبؑ کے علم سے آپ کے علم کی نسبت کیا ہے؟" تو انھوں نے کہا: "وہی نسبت جو بارش کے ایک قطرے کو بحر بےکراں سے سے ہے"۔ [162]

علم طریقت

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: علم طریقت و حقیقت اور احوال تصوف سے وابستہ افراد بھی اپنی سند امام علیؑ تک پہنچاتے ہیں اور خرقہ جو آج تک صوفیہ کا شعار ہے، اس امر کا ثبوت ہے۔ [163]

عربی ادب

محمد بن اسحاق کا کہنا ہے اکثر علما کے نزدیک علم نحو ابو الاسود دوئلی نے وضع کیا اور ابو الاسود دوئلی نے اس علم کو حضرت علی سے حاصل کیا ۔[164] ابن ابی الحدید کہتے ہیں: سب جانتے ہیں کہ امام علیؑ ہی علم نحو اور ادبیات عرب کے بانی اور تخلیق کار ہیں۔ آپ نے ابوالاسود دُئَلی کو اس علم کے قواعد کلیہ کی تعلیم دی۔ آپ نے جو قواعد ابوالاسود کو سکھائے ان میں بعض یہ ہیں: کلمہ کی تین قسمیں ہیں: اسم و فعل و حرف، اسم یا معرفہ ہے یا نکرہ، اور وجوہ اعراب کو رفع، نصب، جرّ اور جزم میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ [165]

فصاحت و بلاغت

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے امام علیؑ فصحا کے امام و پیشوا اور بلغا کے سید و سردار ہیں اور جیسا کہ آپ کے کلام کے بارے میں کہا گیا ہے کہ دون كلام الخالق وفوق كلام المخلوق یعنی (علیؑ کا کلام) کلام خالق کے نیچے اور کلام مخلوق سے برتر و بالاتر ہے" اور اس دعوے کا واضح ترین ثبوت نہج البلاغہ ہے۔ عبدالحمید بن یحیی نے کہا ہے کہ اس نے آپ کے خطبات میں سے ستر خطبے ازبر کر لئے ہیں اور اس کے ادبی ابال کا آغاز یہيں سے ہوا ہے۔ ابن نباتہ نے کہا کہ "میں نے ان خطابات سے ایک خزانہ ازبر کیا کہ اس میں جس قدر بھی اٹھاؤں، کم نہيں ہوتا بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ میں نے علی ابن ابیطالبؑ کے مواعظ کی سو فصلیں حفظ کرلیں"۔ [166]

اخلاقی خصوصیات

سخاوت و فیاضی

ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

فیاضی اور سخاوت کا یہ عالم تھا کہ روزہ رکھتے تو اپنا افطار محتاجوں کو دے دیتے۔ آیت کریمہ: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّہ ِ مِسْكِيناً وَيَتِيماً وَأَسِيراً۔[167] (ترجمہ: اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت کے ساتھ ساتھ غریب محتاج اور یتیم اور جنگ کے قیدی کو)[168]۔ آپ ہی کی شان میں نازل ہوئی۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اگر کسی دن علیؑ کے پاس صرف چار درہم ہوتے تو ایک درہم رات کو، ایک دن کو اور تیسرا درہم خفیہ طور پر اور ایک اعلانیہ بطور صدقہ عطا کرتے تھے اور آیت کریمہ: الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَہ ُم بِاللَّيْلِ وَالنَّہ َارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَہ ُمْ أَجْرُہ ُمْ عِندَ رَبِّہ ِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْہ ِمْ وَلاَ ہ ُمْ يَحْزَنُونَ۔[169] (ترجمہ: وہ جو اپنے اموال رات اور دن میں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات میں دیتے ہیں، ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے پروردگار کے یہاں اور انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ افسوس ہو گا) [170] مروی ہے کہ اپنے ہاتھوں سے مدینہ کے یہودیوں کے نخلستان کی آبیاری کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے ہاتھوں پر گٹھے پڑے گئے تھے اور اجرت لے کر صدقہ دیا کرتے تھے اور خود بھوکے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ آپ نے کبھی بھی کسی سائل کو "نہ" نہیں کہا۔

ایک دفعہ محفن بن ابی محفن معاویہ کے پاس پہنچا۔ معاویہ نے پوچھا: کہاں سے آرہے ہو؟ تو اس نے معاویہ کی چاپلوسی کی غرض سے کہا: میں بخیل ترین شخص [یعنی علیؑ] کے ہاں سے آرہا ہوں!؛ معاویہ نے کہا: وائے ہو تم پر! تو کس طرح ایسی بات ایسے فرد کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک گودام بھوسے کا بھرا ہوا ہو اور ایک سونے کا تو وہ سونے کا گودام بھوسے کے گودام سے پہلے محتاجوں پر خرچ کرے گا؟! [171]

عفو و حلم

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: امام علیؑ حلم و درگذر اور مجرموں سے چشم پوشی کے حوالے سے سب سے زیادہ صاحب حلم و بخشش تھے، چنانچہ واقعۂ جمل اس مدعا کی بہترین دلیل ہے۔ جب آپ نے اپنے معاند ترین دشمن مروان بن حکم پر قابو پالیا تو اس کو رہا کردیا اور اس کے عظیم جرم سے چشم پوشی کی۔ عبداللہ بن زبیر اعلانیہ امامؑ کی بدگوئی کرتا تھا اور جب عبداللہ عائشہ کے سپاہ کے ہمراہ بصرہ آیا تو اس نے خطبہ دیا اور خطبے کے دوران جو بھی وہ کہہ سکا کہہ گیا حتی کہ اس نے کہا: "اب لوگوں میں ادنی ترین اور پست ترین انسان علی بن ابی طالب تمہارے شہر میں آرہا ہے"، لیکن جب علیؑ نے اس پر قابو پایا تو اسے چھوڑ دیا اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ "ایسے جاؤ کہ میں پھر کہیں تجھے نہ دیکھوں"۔ نیز جنگ جمل کے بعد آپ نے مکہ معظمہ میں اپنے دشمن سعید بن عاص پر قابو پالیا لیکن اس سے نظریں موڑ لیں اور اس سے کچھ بھی نہ کہا۔

جنگ جمل کے بعد عائشہ کے ساتھ آپ کا برتاؤ مشہور ہے۔ جب جنگ جمل میں سپاہ عائشہ کو ہار ہوئی اور آپ فاتح ہوئے تو ان کی تکریم کی اور جب عائشہ نے مدینہ واپس جانا چاہا تو آپ نے قبیلہ عبد قیس کی مردانہ لباس میں ملبوس اور تلواروں سے لیس بیس خواتین کو اس کے ہمراہ روانہ کیا۔ عائشہ سفر کے دوران مسلسل اعتراض کرتی رہی اور علیؑ کو برا بھلا کہتی رہیں کہ "آپ نے اپنے اصحاب میں سے مردوں کو میرے ساتھ بھجوایا ہے اور میری حرمت شکنی کی ہے" لیکن جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو خواتین نے عائشہ سے کہا: دیکھو ہم سب عورتیں ہیں اور ہم ہی سفر میں تمہارے ساتھ تھیں"۔

بصریوں نے عائشہ کا ساتھ دیا تھا اور علیؑ کے خلاف لڑے تھے اور آپ کے کئی ساتھیوں کو قتل کیا تھا لیکن جنگ کے بعد آپ نے سب کو معاف کیا اور اپنی سپاہ کو ہدایت کی کہ انہیں نہ چھیڑیں اور اعلان کیا کہ جو بھی ہتھیار زمین پر رکھے وہ آزاد ہے۔ آپ نے ان میں سے نہ کسی کو قیدی بنایا اور نہ ان کے اموال کو بطور غنیمت اخذ کیا۔ اور آپ نے وہی کیا جو رسول خداؐ نے فتح مکہ کے بعد مکیوں کے ساتھ کیا تھا۔

صفین کے مقام پر معاویہ کی سپاہ نے امامؑ کے لشکر کا پانی بند کیا اور شریعۂ فرات اور آپ کے لشکر کے درمیان حائل ہوا اور لشکر معاویہ کے سالار کہتے تھے کہ: ہمیں علی کے لشکر کو پیاس کی حالت میں تہہ تیغ کرنا پڑے گا جیسا کہ انھوں نے عثمان کو پیاسا قتل کیا تھا!۔ اس کے بعد علیؑ کی سپاہ نے لڑ کر دریا اور پانی کو ان سے واپس لے لیا۔ یہاں امامؑ کی سپاہ میں بھی بعض لوگوں نے تجویز دی کہ "بہتر ہے کہ ہم پانی کا ایک قطرہ بھی سپاہ معاویہ تک نہ پہنچنے دیں تاکہ جنگ کی مشقت برداشت کئے بغیر، وہ پیاس کی شدت سے مر جائیں۔ امامؑ نے فرمایا: ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے۔ دریا کے ایک حصے سے انہيں پانی اٹھانے دو۔ [172]

نفاست و خوش طبعی

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: امام علیؑ ہشاشت اور نفاست و خوش طبیعی کے لحاظ سے ضرب المثل تھے؛ چنانچہ آپ کے دشمن اس صفت کو آپ کے لئے عیب قرار دیتے تھے۔ صعصعہ بن صوحان اور دیگر اصحاب نے آپؑ کے بارے میں کہا: "علیؑ ہمارے درمیان ہم جیسے ایک تھے اور اپنے لئے کسی امتیازی حیثیت کے قائل نہيں تھے لیکن اپنی منکسرالمزاجی اور ملنساری میں اس قدر صاحب رعب و ہیبت تھے کہ ہم آپ کے حضور شمشیر بدست شخص کے سامنے ہاتھ پاؤں بندھے قیدیوں کی مانند تھے۔ [173]


جہاد فی سبیل اللہ

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: دوست اور دشمن کا اقرار ہے کہ آپ مجاہدین کے آقا اور سید و سرور ہیں اور کوئی بھی آپ کے مقابلے میں اس عنوان کا لائق نہیں ہے اور سب جانتے ہیں کہ اسلام کی دشوار ترین اور شدیدترین جنگ، جنگ بدر تھی۔ جس میں ستر مشرکین ہلاک ہوئے اور 35 سے زائد علیؑ کے ہاتھوں مارے گئے اور نصف کے قریب مشرکوں کو دوسرے مسلمانوں نے فرشتوں کی مدد سے ہلاک کر ڈالا۔ احد، احزاب (یا خندق)، خیبر، حنین اور دوسرے غزوات میں آپ کا کردار تاریخ کے ماتھے پر جھلک رہا ہے جس کو بیان کی ضرورت نہيں ہے اور واضح اور بدیہی امور کی شناخت کی مانند ہے بالکل اسی طرح، جس طرح کہ ہم مکہ اور مصر وغیرہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ [174]

شجاعت

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: آپ میدان شجاعت کے وہ یکہ تاز ہیں جنہوں نے گذرنے والوں کو بھلوا دیا اور آنے والوں کو اپنے وجود میں فنا کیا۔ جنگوں میں علیؑ کا کردار کچھ اس طرح سے تاریخ میں جانا پہچانا ہے کہ لوگ قیامت تک اس کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ مرد دلاور جو کبھی فرار نہیں ہوئے اور دشمن کی کثرت سے مرعوب نہیں ہوئے اور کسی سے دست بگریباں نہيں ہوئے جس کو آپ نے ملک عدم کی طرف روانہ نہ کیا ہو اور کبھی ایسا وار نہ کیا کہ دوسرے وار کی ضرورت پڑے؛ اور جب آپ نے معاویہ کو جنگ کے لئے بلایا اور فرمایا کہ آؤ دو بدو لڑتے ہيں تا کہ ہم میں سے ایک مارا جائے اور مسلمانوں کو آسودگی نصیب ہو۔ عمرو بن عاص نے معاویہ سے کہا: علی نے تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے ۔ معاویہ نے کہا: جب سے تو میرے ساتھ ہے، تو نے کبھی میرے ساتھ ایسی چال نہيں چلی ہے! تو مجھے ایسے فرد سے جنگ کا حکم دیتا ہے جس کے چنگل سے آج تک کوئی زندہ نکل سکا ہے؟ میرا خیال ہے کہ تو میرے بعد حکومت شام پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ [175]

ملت عرب ہمیشہ اس بات پر فخر کرتی رہی ہے کہ "میں فلاں جنگ میں علی کے سامنے گیا تھا"، یا "میرا فلاں عزیز جنگ میں علی کے ہاتھوں مارا گیا ہے"۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ معاویہ اپنے بستر پر سویا ہوا تھا، اچانک آنکھیں کھولیں تو عبداللہ بن زبیر کو اپنے قریب دیکھا۔ اور عبداللہ بن زییر نے مذاق کے انداز میں کہا: یا امیرالمؤمنین! ہم آپس میں کشتی نہ لڑیں؟ معاویہ نے کہا: ارے اے عبداللہ! دیکھ رہاں ہوں کہ دلیری اور جوانمردی کی بات کررہے ہو!۔ عبداللہ نے کہا: کیا تم میری شجاعت کے منکر ہو؟ میں وہ ہوں جو علی کے مقابلے کے لئے نکلا اور ان کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔ معاویہ نےکہا: ہرگز ایسا نہ تھا اور تم ایک لمحہ علی کے سامنے ڈٹ جاتے تو وہ تمہیں اور تمہارے باپ کو اپنے بائیں ہاتھ سے ہلاک کردیتے اور ان کا دایاں ہاتھ بدستور فارغ اور جنگ کا منتظر رہتا۔ [176]

عبادت

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: علیؑ لوگوں میں عابد ترین تھے اور سب سے زیادہ نماز قائم کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ لوگوں نے نماز تہجد، اوراد و اذکار اور مستحب نمازوں کی پابندی آپ سے سیکھی۔ اور کیا سمجھتے ہو اس مرد کو جو مستحب نمازوں اور نوافل کے تحفظ کے اس قدر پابند تھے کہ جنگ صفین میں لیلۃ الہریر نامی رات کو دو صفوں کے درمیان ایک بچھونا آپ کے لئے بچھایا گیا تھا اور تیر دائیں اور بائیں طرف سے کانوں کے ساتھ سرسراہٹ کے ساتھ گذرتے تھے اور آپ کسی خوف و خطر کے بغیر نماز میں مصروف تھے۔ آپ کی پیشانی کثرت سجود کی وجہ سے اونٹ کی گھٹنے کی مانند تھی؛ جو بھی آپ کی دعاؤں اور مناجاتوں کا بغور جائزہ لے، اور خداوند سبحان کی تعظیم اور بزرگی اور اس کی ہیبت کے سامنے خضوع و خاکساری اور اس کی عزت کے سامنے خشوع کو دیکھے وہ آپ کے کلام میں چھپے ہوئے خلوص کا اندازہ لگا سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ یہ کلام کس طرح کے دل سے جاری ہوا ہے اور کس زبان پر جاری ہوا ہے۔[177]

زہد

علیؑ زاہدوں کے سردار تھے اور جو بھی اس راہ پر گامزن ہنا چاہتا علیؑ کو مدنظر رکھتا۔ علیؑ نے کبھی کھانے سے اپنا پیٹ نہيں بھرا، آپ کا کھانا سخت ترین اور آپ کا لباس نہایت کھردرا ہوتا تھا۔ عبداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: میں عید کے دن علیؑ سے ملا تو میں نے ایک سر بمہر تھیلا آپ کے قریب دیکھا؛ آپ نے اس کو کھولا تو میں نے دیکھا کہ چوکر بھرے جو کے آٹے سے تیار کردہ روٹی کے ٹکڑے ہیں۔ آپ نے کھانا شروع کیا۔ میں نے کہا: یا امیرالمؤمنین! آپ نے اس تھیلے کو سربمہر کیوں کیا ہے؟ فرمایا: مجھے خوف ہوتا ہے کہ میرے بچے کہیں ان ٹکڑوں کو چربی یا روغن زیتون لگا دیں!۔

آپ کا لباس کبھی کھجوروں کے ریشوں اور کبھی کھال کا پیوند لگا ہوتا تھا۔ آپ کے جوتے ہمیشہ کھجور کے ریشوں سے بنے ہوتے تھے۔ آپ کا لباس نہایت کھردرے ٹاٹ کا بنا ہوتا تھا۔ آپ کا نان اور سالن اگر تھا تو سرکہ یا نمک تھا اور اگر اس سے آگے بڑھ جاتا تو زمین کے بعض گیاہ کھالیتے تھے اور اگر اس سے بھی آگے بڑھ جاتا تو تھوڑا سا اونٹنی کا دودھ ہوتا تھا۔ گوشت نہيں کھاتے تھے مگر بہت کم اور فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ کو جانوروں کا قبرستان نہ بناؤ۔ اس کے باوجود لوگوں میں سب سے زيادہ طاقتور تھے اور بھوک آپ کی طاقت میں کمی کا سبب نہیں بنتی تھی۔ آپ نے دنیا کو ترک کردیا تھا جبکہ ما سوائے شام کے، پوری اسلامی سرزمین سے دولت آپ کی طرف جاری و ساری تھی لیکن آپ پوری دولت لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے۔ [178]

آثار اور کاوشیں

نہج البلاغہ

مفصل مضمون: نہج البلاغہ

امام علیؑ کے خطبات، مکتوبات اور اقوال سے تالیف شدہ مشہور ترین کاوش نہج البلاغہ ہے جسے سید رضی نے تالیف کیا ہے۔ سید رضی چوتھی صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں۔ نہج البلاغہ قرآن کے بعد شیعہ دنیا کا مقدس ترین دینی متن اور عرب دنیا کا نمایاں ترین ادبی شہ پارہ ہے۔ یہ کتاب تین حصوں میں مرتب کی گئی ہے: خطبات، خطوط اور مختصر کلمات یا کلمات قصار جو امیرالمؤمنینؑ نے مختلف مواقع پر بیان یا مختلف افراد کے نام تحریر کئے ہیں:

  1. خطبات میں 239 خطبے شامل ہیں اور عصری لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں: الف۔ قبل از خلافت، ب۔ دوران خلافت اور ج۔ بعد از خلافت۔
  2. خطوط کے حصے میں آپ کے 79 خطوط و مراسلات شامل ہیں اور تقریبا تمام خطوط دوران خلافت تحریر ہوئے ہیں۔
  3. کلمات قصار یا قصار الحکم یا مختصر کلمات میں 480 اقوال شامل ہیں۔
    نہج البلاغہ پر متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں "شرح ابن میثم بجرانی"، "شرح ابن ابی الحدید معتزلی"، "شرح شیخ محمد عبدہ"، "شرح علامہ محمد تقی جعفری"، "حسین علی منتظری کے "درس ہائی از نہج البلاغہ"، "شرح فخر رازي"، قطب الدین راوندی کی "منہاج البراعہ" اور محمد باقر نواب لاہیجانی کی "شرح نہج البلاغہ" خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ [179]
  • غُرَرُ الحِکَم و دُرَرُ الکَلِم
غرر الحکم و درر الکلم کو پانچویں صدی ہجری کے عالم دین عبدالواحد بن محمد تمیمی نے تالیف کیا ہے۔ غرر الحکم میں تقریباً دس ہزار سات سو ساٹھ (10760) اقوال امام علیؑ سے منقول ہیں جو الف باء کی صورت میں مختلف موضوعات کے اعتبار سے تقسیم کئے گئے ہیں۔ منجملہ: اعتقادی روایات، عبادی روایات، سیاسی روایات، معاشی روایات اور سماجی روایات۔ [180]
  • دستور مَعالمِ الحِکَم و مأثور مکارم الشِیَم
دستور معالم الحکم و ماثور مکارم الشیم، کو محمدبن سلامۃ بن جعفربن علی بن حکمون مغربی شافعی معروف بہ "قاضی القضاعی" نے تالیف کیا ہے جو چوتھی صدی ہجری کا سنی شافعی عالم اور قاضی تھا۔ وہ اہل حدیث کے ہاں بھی صاحب اعتبار ہے گو کہ بعض لوگوں نے اس قاضی کو شیعہ گردانا ہے۔ [181]

کتاب "دستور معالم الحکم" نو ابواب میں مرتب کی گئی ہے: حضرت علیؑ کے مفید اقوال اور حکمتیں، دنیا کی مذمت اور دنیا کی طرف آپ کا عدم رجحان، مواعظ ، وصیتیں اور نواہی (روک ٹوک)، سوالات کے جوابات، کلام غریب، نادر کلام اور دعا و مناجات اور ایک منظوم کلام جو امامؑ سے ہم تک پہنچا ہے۔ [182]

بعض دیگر تالیفات جن میں کلام امام علیؑ کو اکٹھا کیا گیا ہے:

  • نثر اللآلی تالیف: ابو علی فضل بن حسن طبرسی۔
  • مطلوب کل طالب من کلام امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام، انتخاب: جاحظ، شرح: رشید وطواط۔
  • قلائد الحکم و فرائد الکلم تالیف: قاضی ابو یوسف یعقوب بن سلیمان اسفراینی۔
  • امثال الامام علی بن ابیطالب، یہ نصر بن مزاحم کی کتاب "الصفین" میں منقولہ امام علیؑ کے خطوط و کلمات کا مجموعہ۔

اصحاب

سلمان فارسی: رسول اللہؐ اور امام علیؑ کے سب سے برتر اور نمایاں صحابی ہیں۔ معصومین سے ان کے بارے میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں۔ [183] من جملہ رسول خداؐ نے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت سے ہیں۔" [184]

مالک اشتر نخعی:مالک بن حارث عبد یغوث نخعی معروف بہ مالک اشتر، یمن میں پیدا ہوئے۔ مالک اشتر نے سب سے پہلے امام علیؑ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں امام علیؑ کے سپہ سالار تھے۔ [185]

ابوذر غفاری: جندب بن جنادہ معروف بنام ابوذر غفاری رسول اللہؐ پر ایمان لانے والے چوتھے فرد ہیں۔ [186] ابوذر رسول اللہؐ کے وصال کے بعد امامؑ کے حامی تھے اور ان چند افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے ابوبکر کی بیعت سے امتناع و اجتناب کیا۔ [187]

مقداد بن عمرو: مقداد بن اسود کندی کے نام سے مشہور ہیں اور ان سات افراد میں سے ایک ہیں جو رسول اللہؐ کی بعثت کے ابتدائی ایام میں ایمان لائے اور مسلمان ہوئے۔ رسول اللہؐ کے وصال کے بعد مقداد بھی ابوبکر کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں ایک تھے اور امامؑ کی 25 سالہ گوشہ نشینی کے ایام میں ہروقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ [188]

کمیل بن زیاد: کمیل بن زیاد نخعی اصحاب رسولؐ کے تابعین میں شامل ہیں اور ان کا شمار امام علیؑ اور امام حسنؑ کے اصحاب خاص میں ہوتا ہے۔ [189] وہ ان شیعیان آل رسول(ص) میں سے ہیں جنہوں نے حضرت علیؑ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں آپ کی بیعت کی اور امام علیؑ کی جنگوں میں آپ کے دشمنوں کے خلاف لڑے۔ [190]

عمار یاسر: عمار یاسر اولین شہدائے اسلام یاسر اور سمیہ کے بیٹے ہیں۔ وہ رسول اللہ(ص) پر ایمان لانے والے پہلے مسلمانوں میں سے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت یعنی ہجرت حبشہ میں حبشہ نامی افریقی ملک میں ہجرت کرگئے اور رسول اللہ(ص) کی ہجرت مدینہ کے بعد، مدینہ میں آپ سے آملے۔ وہ رسول اللہ(ص) کی وفات کے بعد بدستور اہل بیت اور امامؑ کے دفاع میں استوار رہے۔ عمر بن خطاب کی خلافت کے ایام میں کچھ عرصے تک کوفہ کے امیر رہے لیکن چونکہ عادل انسان تھے اور سادہ زندگی گذارنے کے قائل تھے، کچھ لوگوں نے ان کی برطرفی کے اسباب فراہم کئے جس کے بعد وہ مدینہ واپس آگئے اور علیؑ کے ساتھ رہے اور آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔ [191]

ابن عباس: عبد اللہ بن عباس پیغمبر(ص) اور امام علیؑ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ(ص) سے سے بہت زيادہ حدیثیں نقل کی ہیں۔ [192] ابن عباس خلفاء کے دور میں ہمیشہ علیؑ کو لائق خلافت سمجھتے تھے اور امام علیؑ کی خلافت کے دوران جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں امامؑ کی مدد کو آئے اور امامؑ کی طرف سے بصرہ کے والی تھے۔ [193]

محمد بن ابی بکر: خلیفۂ اول کے فرزند تھے۔ سنہ 10 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ وہ امامؑ کے اصحاب خاص میں شمار ہوتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ سابقہ خلفاء نے امام علیؑ کا حق پامال کیا ہے اور کہتے تھے کہ "کوئی بھی خلافت کا منصب سنبھالنے کے سلسلے میں امام علیؑ سے زیادہ اہل نہیں ہے"۔ [194]
محمد نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں امام علیؑ کا ساتھ دیا۔ وہ رمضان سنہ 36 ہجری کو مصر کے حاکم مقرر ہوئے اور صفر سنہ 38 ہجری کو معاویہ کی سپاہ کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ [195]

میثم تمار: میثَم تمّار اَسَدی کوفی امام علیؑ اور حسنینؑ کے اصحاب خاص میں شامل ہیں۔ وہ شرطۃ الخمیس کے رکن تھے۔ یہ وہ جماعت تھی جس کے اراکین نے امام علیؑ کے ساتھ عہد کیا تھا کہ زندگی کے آخری لمحے تک آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ [196]

اویس قرنی: اویس بن عامر مرادی قرنی یمن کے مشہور زاہدین و عابدین میں سے ہیں۔ وہ رسول اللہ(ص) کے دور میں ایمان لائے۔[197] اویس امام علیؑ کے اصحاب خاص میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے امامؑ کی بیعت کی اور عہد کیا کہ جان کی قربانی کی حدتک آپ کا دفاع اور کبھی بھی جنگ کی طرف پشت نہیں کریں گے۔ [198]

زید بن صوحان: زید بن صوحان عبدی امام علی(ص) کے اصحاب میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ امامؑ کا ساتھ دیا اور آخر کار جنگ جمل میں ناکثین یا عہد شکنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ [199]

صعصعہ بن صوحان: صعصعہ بن صوحان عبدی امام علیؑ کے اصحاب میں شامل ہیں۔ انھوں نے امام علیؑ کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔ [200]
وہ ان اولین افراد میں شامل ہیں جنہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ بیعت کی۔ [201]

عبید اللہ بن ابی رافع: عبیداللَّہ بن ابی رافع کے والد ابو رافع رسول اللہ(ص) کے آزاد کردہ غلام تھے جبکہ وہ خود امیر المؤمنینؑ کے کاتب اور اصحاب خاص میں سے تھے۔ انھوں نے علیؑ کے فیصلے اور تسمیۃ من شہد مع امیر المؤمنین ان اصحاب رسول(ص) کے نام لکھے جو جمل، صفین اور نہروان میں علیؑ کے ساتھ رہے کے نام سے دو کتب تالیف کی ہیں۔[202]

حجر بن عدی: اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ہمراہ رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوئے تھے۔ وہ حجر الخیر کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔ مستجاب الدعوہ تھے۔ ابوذر کی وفات کے وقت مالک اشتر کے ہمراہ ان کی بالین پر حاضر ہوئے۔ با وضو رہتے اور جب بھی وضو کرتے نماز بھی پڑھتے۔ جنگ جمل،جنگ صفین اورجنگ نہروان میں علیؑ کے ساتھ آپ کے دشمنوں سے لڑے۔ [203]

مزید مطالعہ

  • الکرار،ریاض علی ریاض بنارسی،شیخ غلام علی اینڈ سنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ پبلشر۔
  • سراج المبین،سید اولاد حیدر فوق بلگرامی،مطبع مقبول پریس دہلی۔
  • سیرت امیر المؤمنین،مفتی جعفر حسین (مرحوم)،امامیہ پبلیکیشنز لاہور۔

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج 1، ص 15۔
  2. طوسی، مصباح المتہجد، ص 812۔
  3. مفید، ارشاد، ج 1، ص2۔
  4. مجلسی، ج 19، ص 57۔
  5. ابن شہر آشوب، ج 3، صص 321-334۔
  6. شریف الرضی، خصائص الائمہ، ص39، ابن بطریق، عمدة عیون صحاح الأخبار فی مناقب إمام الأبرار، ص 31۔
  7. کلینی، الکافی، ج6 ص473:
  8. فیروز آبادی، فضائل الخمسہ ، ج1 ص344، ترجمہ: میں اپنی پشت اللہ کے سہارے مستحکم کردی
  9. مفید، الارشاد، ج 1، ص 5 (کتب خانہ اہل بیتؑ میں موجود سی ڈی، نسخۂ دوئم) امام علیؑ کے مقام ولادت کے بارے میں شیخ مفید کی عبارت کچھ یوں ہے:وُلِدَ بِمَکَّةَ فِی البَیتِ الحرامِ مکہ میں بیت الحرام کعبہ میں پیدا ہوئے"۔ مسعودی (متوفی سنہ 346 ہجری) نے امام علیؑ کے مقام ولادت کے بارے میں لکھا ہے:وکان مولدہ فی الکعبة (ترجمہ: آپ کا مولد (مقام ولادت) کعبہ تھا"۔ مسعودی، مروج الذہ ب اور معادن الجوہر، ج 2، قم: منشورات دار الہجرة، 1363ش/1404ق/1984م۔، ص 349۔
  10. امینی، ج 6، ص 21-23۔
  11. مفید، الارشاد، ج 1، ص 9 (کتب خانہ اہل بیتؑ میں موجود سی ڈی، نسخۂ دوئم)۔
  12. ابن ہشام، ج‏1، ص‏236؛ مجلسی، ج 35 ص 118۔
  13. محسن امین العاملی، اعیان الشیعۃ، ج 1، ص 335؛ سیرہ ابن ہشام، ج 1، ص 187، شرح العلامۃ الزرقاني علی المواہب اللدنيۃ بالمنح المحمديۃ، الاستیعاب۔ سیرہ ابن ہشام، ج 1، ص 245
  14. نہج‌البلاغہ، خطبہ قاصعہ،300۔
  15. صحیح، ترمذی، ج2، ص297 و 299، مسند، ابن حنبل، ج1، ص108 و330۔
  16. کنز العمال، ج12، ص117۶۔
  17. کنز العمال، ج12، ص1217۔
  18. کنز العمال، ج15، ص417۔
  19. ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، تحقیق مصطفی السقاء و دیگران، مصر، مطبعۃ البابی الحلبی، 1355 ق، ص 262.
  20. نہج البلاغہ ، خطبہ 192 (القاصعة)۔
  21. طبري، التاریخ، ج2، ص319ـ 321، ط دارالمعارف مصر؛ كامل ابن اثير، ج2، ص 62ـ 36 ط دارصادر بيروت؛ سيرہ حلبي، ج71 ص 311، ط البہيۃ - مصرک تاريخ ابن عساكر، ج1، ص 65، حديث 139و140۔
  22. امین، ج 2، ص 13۔
  23. ر ک: مستدرك‏ الوسائل ج : 18 ص : 152.
  24. ابن قتیبہ، المعارف، بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1407ق/1987م۔، ص 121۔
  25. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 21۔
  26. المفید، الارشاد، ص 5 (کتب خانہ اہل بیتؑ میں موجود سی ڈی، نسخۂ دوئم)۔
  27. مجلسی، بحار الانوار43/124۔دلائل الإمامہ، محمد بن جرير بن رستم طبرى‏،ناشر: بعثت‏،مكان نشر: قم‏،سال چاپ: 1413 ق‏،نوبت چاپ: اوّل‏ ۔فضائل فاطمہ بنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ج1 ص47 مؤلف: أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أيوب بن أزداذ البغدادي المعروف بـ ابن شاہ ين (المتوفى: 385ہ ـ)، تحقيق: بدر البدر، الناشر: دار ابن الأثير - الكويت (ضمن مجموع فيہ من مصنفات ابن شاہين)، الطبعہ: الأولى 1415 ہ ـ - 1994 م، عدد الأجزاء: 1.نسائي، أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن، المجتبى من السنن، ج 6، ص 62، تحقيق: عبدالفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلاميہ - حلب، الطبعہ: الثانيہ، 1406 - 1986.مستدرك على الصحيحين ج2 ص181 مؤلف: أبو عبد اللہ الحاكم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدويہ بن نُعيم بن الحكم الضبي الطہماني نيشاپوري معروف بابن البيع (المتوفى: 405ہ ـ)، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، الناشر: دار الكتب العلميہ - بيروت، الطبعہ: الأولى، 1411 - 1990، عدد الأجزاء: 4 .المعجم الكبير ج4 ص34 ،مؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360ہ ـ)، المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي، دار النشر: مكتبہ ابن تيميہ - القاہرة، الطبعہ: الثانيہ، عدد الأجزاء:25.بحوالۂ
  28. مفید، مسار الشیعۃ، ص 17۔
  29. سید بن طاوس، ص 584۔
  30. ری شہری، ج1، ص108۔
  31. مسعودی، اثبات الوصیۃ، ص 153۔
  32. رقیہ و عمر دونوں جڑواں تھے.
  33. مفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق۔، صص 270-271۔
  34. ابن سعد، ج 3، ص 24۔
  35. بلاذری، ج1، ص2883 ۔
  36. طبری، ج 2، ص 148۔
  37. ابن ہ شام، ج 1، ص 708-713۔
  38. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج‏2، ص‏107۔
  39. ابن‌ ہشام، ج3، ص235۔
  40. طبری، ج2، ص574-573۔
  41. مجلسی، ج‏20، ص‏216۔بغدادی،تاریخ بغداد13/18/6978
  42. ابن ہشام، ج 2، ص 328۔
  43. مسلم، ج 15، ص 178-179۔
  44. مفید، ارشاد، 590۔
  45. حلبى، ج 3، ص 30۔
  46. واقدی، ج3، ص885۔
  47. واقدی، ج3، ص902 و 904۔
  48. مفید، ارشاد، ج 1، ص 156؛ ابن ہشام، ج 4، ص 163۔
  49. سورہ نساء(4) آیت 59
  50. کلینی، ج1، ص 189؛ صدوق، الہدایہ، ص 31؛ صدوق، کمال الدین، ص 24؛ حلی، ج 1، ص 453؛ مجلسی، ج23، ص89؛ فیض کاشانی، الحق المبین، ص 4؛ طبرسی، جوامع الجامع، ج1، ص 410؛ حویزی، ج2، ص 158؛ طباطبایی، ج4، ص 411۔
  51. سورہ مائدہ(5) آیت 55۔
  52. قرطبی، ج6، ص208؛ طباطبایی، ج6، ص25؛ فخر رازی، ج12، ص30؛ سیوطی، الدر المنثور، ج3، ص98۔
  53. قندوزی حنفی، ینابیع المودہ، ص 50 ۔
  54. گنجی شافعی، ص 205۔
  55. مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم) نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے 12 آئمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعت اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علیؑ سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 انما یرید اللہ لیذہ ب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایةالأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہؐ کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپؐ نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
  56. رجوع کریں: ابن‌مغازلی، ص 16؛ کلینی، ج1، ص290؛ طبرسی، احتجاج، ج1، ص73؛ علی بن ابراہیم، ج1، ص 173؛ رشیدرضا، ج6، ص464ـ465۔
  57. احمد بن حنبل،مسند ،1/119۔محمد بن یزید قزوینی،سنن ابن ماجہ،1/43/116۔نسائی،فضائل الصحابہ،14ابو یعلی موصلی،مسند ابی یعلی،1/429۔شیخ صدوق،معانی الاخبار،67/8۔محمد بن سلیمان کوفی،مناقب امیر المومنین،2/368/844قاضی نعمان مغربی،شرح الاخبار،1/100/24۔ ابو الحسن علی بن محمد بن طبیب واسطی المعروف بہ ابن مغازلی شافعی، ابن مغازلی، مناقب علي بن ابي طالب، ص 24۔
  58. مفید، ارشاد، ج 1، ص 186۔
  59. ابن ابی الحدید، ج 6، ص 8۔
  60. طوسی، تلخیص الشافی، ج‏3، ص‏76؛ شہرستانی، ج‏2، ص 95؛ ابن قتیبہ ، ج‏2، ص 12۔
  61. حلبى، ج‏3، ص 400؛ ابن ابى الحدید، ج‏16، ص‏316۔بلاذری، ص۴۰ و ۴۱.کلینی، ج۱، ص۵۴۳
  62. ابن شہر آشوب، ج‏1، ص‏388۔
  63. پیشوائی، ج 2، ص 191۔
  64. ابن قتیبہ، ج 1، ص 29-30؛ مجلسی، ج 43، ص 70؛ مجلسی، مرآة العقول، ج 5، ص 320 ؛ شہرستانی، ج1، ص 57۔
  65. سیوطی، الاتقان، ج 1، ص 99؛ ابن ندیم، ص 42ـ41؛ سلیمان، ص 97؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافى، ج 1، ص 24۔
  66. ابن ندیم، ص 42-41۔
  67. مجلسی، ج 89، ص52۔
  68. یعقوبى، ج 2 ص 113۔
  69. حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 14۔
  70. طبری، ج 4، ص 429۔
  71. طبری، ج 4، ص 427-431۔
  72. نہج البلاغہ، خطبہ 92۔
  73. نہج البلاغہ، خطبہ 207۔
  74. نہج البلاغہ، خطبہ 207۔
  75. نہج البلاغہ، خطبہ 207۔
  76. نہج البلاغہ، نامہ 51۔
  77. نہج البلاغہ، نامہ 25۔
  78. نہج البلاغہ، نامہ 53۔
  79. محمودی، ج 1، ص 224؛ مفید، اختصاص، ص 151۔
  80. حسینی دشتی، سید مصطفی، معارف و معاریف، ج 7، تہران: موسسہ فرہنگی آرایہ، 1379، ص 457۔
  81. مسعودی، اثبات الوصیہ ، ص 158۔
  82. طبری، ج 3، جزء 6، ص 90۔
  83. ابراہ یم بن محمد، ج 2، ص 45۔
  84. قمی، ج 2، ص 167۔
  85. نہج البلاغہ، نامہ 45۔
  86. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 318۔
  87. نہج البلاغہ، خطبہ 216۔
  88. نہج البلاغہ، کلمات قصار، شمارہ 37۔
  89. نہج البلاغہ، نامہ 53، ص 587۔
  90. نہج البلاغہ، نامہ 53، ص 575۔
  91. نہج البلاغہ، نامہ 53، ص 569۔
  92. ذاکری، ص 67۔
  93. نہج البلاغہ، حکمت 298۔
  94. زبیدی، ج3، ص 273۔
  95. طبری، ج‌4، ص‌534۔
  96. طبری‌، ج‌4، ص‌453۔
  97. طبری‌، ج‌4، ص‌453۔
  98. نہج‌البلاغہ، ترجمہ سید جعفر شہیدی، خطبہ 174، ص 180۔
  99. طبری، ج 6، ص 3096؛ بحوالہ نقل شہیدی، علی از زبان علی، ص 84-85۔
  100. طبری‌، ج‌4، ص ‌451، 544 و ج 5، ص 150؛ شہیدی، علی از زبان علی، ص 82-83 و 108۔ ۔
  101. طبری‌، ج‌4، ص ‌454۔
  102. طبری‌، ج‌4، ص ‌507۔
  103. اسکافی، ج 1، ص ‌60۔
  104. طبری‌، ج‌4، ص‌511؛ شہیدی، علی از زبان علی، ص 104۔
  105. شہیدی، علی از زبان علی، ص 104۔
  106. یعقوبی، ج‌2، ص‌183۔
  107. طبری‌، ج‌4، ص ‌510؛ شہیدی، علی از زبان علی، ص 108۔
  108. جوہری، ج3، ص 1152۔
  109. یعقوبى، ج 2، ص 188؛ خلیفہ، ص 191۔
  110. تلخیص از: شہیدی، علی از زبان علی، صص 113-121۔
  111. المعیار و الموازنہ، ص 162؛ بہ نقل شہیدی، علی از زبان علی، ص 122۔
  112. ابن مزاحم، ص 490۔
  113. ابن اعثم، ج 3، ص 163۔
  114. شہیدی، علی از زبان علی، ص 129۔
  115. شہرستانی، الملل و النحل، تخریج: محمدبن فتح اللہ بدران، قاہرہ ، الطبعہ الثانیہ، القسم الاول، صص 106-107۔
  116. شہیدی، علی از زبان علی، ص 132۔
  117. شہیدی، علی از زبان علی، صص 133-134۔
  118. جعفریان، رسول، گزیدہ حیات سیاسی و فکری امامان شیعہ، قم: دفتر نشر معارف، 1391، صص 54-53۔
  119. نہج البلاغہ، خطبہ 208۔
  120. جعفریان، رسول، گزیدہ حیات سیاسی و فکری امامان شیعہ، ص 55۔
  121. مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، قم، سعید بن جبیر، 1428ہجری۔، صص 27-28۔
  122. عبدالکریم بن احمد بن طاووس، فرحة الغریٰ، ص 93؛ مجلسی، بحار، ج 42، ص 222؛بحوالۂ مقدسی، یداللہ ، بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان ؑ، قم: پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، 1391، صص 239-240۔
  123. بلاذری، انساب الاشراف، ص499۔
  124. مجلسی، ج 36، ص 5۔
  125. مجلسی، ج 42، ص 290۔
  126. نہج البلاغہ، مکتوب 47۔
  127. مجلسی، ج 42، ص 338؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج 1، ص 234؛ مفید، ارشاد، ج 1، ص 10۔
  128. مفید، ارشاد، ص 13۔
  129. تاریخ بغداد، ج۶، ص۲۲۱؛بحوالۂ خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  130. صواعق المحرقہ، ص۷۶۱؛ بحوالۂ خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  131. نور الابصار، ص۷۳؛ بحوالۂ خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  132. خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  133. سیوطی، الاتقان، چاپ دارالکتب العلمیہ، ج۲، ص۴۱۲؛ بحولاۂ خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  134. خرمشاہی، بہاء الدین، علی بن ابی طالبؑ و قرآن، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۴۸۶.
  135. گنجی شافعی، ص ۲۳۱؛ ہیثمی، ص ۷۶؛ قندوزی، ص ۱۲۶.
  136. سورہ آل عمران 61۔
  137. سورہ آل عمران (3) آیت 61، ترجمہ علامہ سید علی نقی نقوی۔
  138. سیوطی، الدر المنثور، ذیل آیہ 61؛ زمخشری، ذیل آیہ 61 سورہ آل عمران؛ طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیہ 61 سورہ آل عمران؛ طباطبایی، ذیل آیہ 61 سورہ آل عمران۔
  139. احزاب33
  140. ابن بابویہ، ج2، ص403؛ سید قطب، ج6، ص586؛ طبرسی، مجمع‌البیان، ج 8، ص 559۔
  141. سورہ شوری (42) آیت 23۔ 3۔
  142. مجلسی بحار الانوار، ج 23، ص 233۔
  143. امینی، ج 3، ص 191-213۔
  144. حاکم نیشابوری، ج‏3، ص‏136۔
  145. احمد حنبل، ج 5، ص 26۔
  146. ابن ہشام، ج 1، ص 480۔
  147. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 72؛ مجلسی، ج 19، 59۔
  148. سورہ بقرہ (2) آیت 207، ترجمہ علامہ سید علی نقی نقوی۔
  149. فخر رازی، ج 5، 223؛ حاکم حسکانی، ج 1، 96؛ علی بن ابراہیم، ص 61؛ طباطبائی، ج 2، ص 150۔
  150. ابن عبدالبر، الاستیعاب، بحوالہ محسن امین العاملی، اعیان الشیعہ، بیروت: دار التعارف للمطبوعات، 1418ق۔/1998م۔، ج 2، ص 27۔
  151. امینی، ج 3، ص 140؛ شوشتری، احقاق الحق،ج 5،ص 522۔
  152. ابن ہشام، ج‏4، ص 545۔
  153. طبری، ج 6، جزء 10؛ ابن ہشام ، ج 4، ص 188ـ190۔
  154. بحرانی، باب 360۔
  155. متقی ہندی، ج 6، ص 155۔
  156. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، صص 16-17۔
  157. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 17۔
  158. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 17۔
  159. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 17۔
  160. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 17۔
  161. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 18۔ "اقضاكم علي" علی تم میں سے بڑے قاضی اور فیصلہ کرنے والے ہیں۔
  162. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 19۔
  163. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 19۔
  164. ابن ندیم،الفہرست ص62
  165. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 20۔
  166. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 24۔
  167. سورہ انسان (ہل اتیٰ) (76) آیت 8۔
  168. مترجم علامہ سید علی نقی نقوی
  169. سورہ بقرہ (2) آیت 174۔
  170. مترجم: علامہ سید علی نقی نقوی۔
  171. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، صص 22-21۔
  172. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، صص 24-22۔
  173. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 25۔
  174. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 24۔
  175. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 20۔
  176. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، صص 21-20۔
  177. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 27۔
  178. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 26۔
  179. ضمیری، ص 365-367۔
  180. ضمیری، ص 375۔
  181. نوری، ج 3، ص 367۔
  182. قاضی قضاعی، مقدمہ کتاب۔
  183. مجلسی، ج22، ص343۔
  184. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج1، ص70۔
  185. نہج‌البلاغہ،‌ ترجمہ محمد دشتی، ص 565۔
  186. ابن سعد، ج 4، ص 224۔
  187. دائرہ المعارف تشیع، ج 1، ذیل ابوذر۔
  188. یعقوبی، ج1، ص524۔
  189. قطب راوندی، منہ اج البراعہ ، ج 21، ص 219؛ مفید، اختصاص، ص 7۔
  190. مفید، اختصاص، ص 108۔
  191. کمپانی، ص 412۔
  192. مفید، امالی، ص 140۔
  193. مفید، جمل، ص265؛ ابن مزاحم، ص 410؛ ابن ابی الحدید، ج 2، ص 273 و ج 6، ص 293۔
  194. شوشتری، قاموس الرجال، ج 7، ص 495۔
  195. ابراہیم بن محمد، ج 1، ص224 و 285؛ زرکلی، ج 6، ص 220۔
  196. برقی، ص 3۔
  197. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج 1، ص 179۔
  198. مفید، جمل، ص 59۔
  199. شوشتری، مجالس المؤ منین، ج 1، ص 289۔
  200. ابن اثیر، اسدالغابہ ، ج 3، ص 20۔
  201. یعقوبی، ج 2، ص 179۔
  202. شیخ طوسی ،الفہرست ، ص 174، ش 467؛ ر۔ ک: خوئی ، معجم رجال الحدیث، ج 12/69؛ رجال برقی، ص 4۔
  203. قصۂ کربلا، ص 43، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 230، کامل بن اثیر، ج 3، ص 472۔


مآخذ

  • قرآن کریم
  • ابن ابی الفتح اربلی، کشف الغمہ، دار الاضواء، بیروت
  • ابن اثیر، اسد الغابہ، تحقیق محمد ابراہیم بنا، دارالشعب، قاہرہ
  • ابن اثیر، الکامل فى التاریخ، دار صادر، بیروت
  • امینی، الغدیر، دارالکتاب العربی، بیروت
  • احمد حنبل شیبانی، مسند احمد بن حنبل، دار احیاء التراث العربی، بیروت
  • ابن ہشام، السیرہ النبویہ، تحقیق محمد محی الدین عبدالحمید، مکتبہ محمدعلی صبیح، قاہرہ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب، تحقیق علی محمد بجاوی، دارالجیل، بیروت
  • ابن بابویہ، کتاب الخصال، علی اکبر غفاری، جامع مدرسین، قم
  • امین، سیرہ معصومان، ترجمہ علی حجتی، انتشارات سروش، تہران
  • احمد بن عبداللہ طبری، ذخائر العقبی، مکتبہ القدسی، قاہرہ
  • ابن مغازلی، مناقب علی بن ابی طالب، مکتبہ اسلامیہ، تہران
  • ابن ندیم بغدادی ، فہرست ابن ندیم، تحقیق رضا تجدد
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، مکتبہ حیدریہ، نجف
  • ابن ابن الحدید، شرح البلاغہ، تحقیق محمدابوالفضل ابراہیم، دار احیاء الکتب العربیہ، قاہرہ
  • ابن فقیہ ہمدانی، اخبار البلدان، تحقیق یوسف الہادی، عالم الکتب، بیروت
  • ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، تحقیق ارموی
  • اسکافی‌، المعیار و الموازنۃ‌ فی‌ فضائل‌ امیرالمؤمنین‌ علی ‌بن‌ ابی‌طالب‌، محمدباقر محمودی‌، بیروت‌
  • ابن اعثم، الفتوح، دارالندوہ، بیروت
  • ابن مزاحم، وقعۃ صفین، انتشارات بصیرتی، قم
  • آبی ابوسعد، من نثر الدر، وزاۃ الثقافہ سوریہ، دمشق
  • اشعری، مقالات الاسلامیین، دارالنشر، بیروت
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق کاظم مظفر، مکتبہ حیدریہ، نجف
  • ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، تحقیق سامی الغریری، درالحدیث، قم
  • ابن سعد، طبقات الکبری، دار صادر، بیروت
  • ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ والسیاسۃ، تحقیق علی شیری، انتشارات شریف رضی، قم
  • الامین، السید حسن، اعیان الشیعۃ، ج 2، حققہ وخرجہ:السید حسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، 1418ق/1998م۔
  • بحرانی، غایۃ المرام، تحقیق سیدعلی عاشور، موسسہ تاریخ العربی، بیروت
  • برقی، رجال برقی، تحقیق محدّث ارموی، دانشگاہ تہران، تہران
  • بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق محمدباقر محمودی، موسسہ اعلمی، بیروت
  • پیشوایی، سیرہ پیشوایان، انتشارات توحید، قم
  • جوہری، الصحاح، تحقیق احمد عبدالغفور، دارالعلم للملایین، بیروت
  • جعفریان، تاریخ خلفاء، انتشارات دلیل ما، قم
  • حاکم نیشابوری، المستدرک، تحقیق یوسف عبدالرحمن مرعشلی
  • حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، تحقیق محمدباقر محمودی، وزارت ارشاد اسلامی، تہران
  • حلی، تذکرہ الفقہاء، موسسہ آل البیت، قم
  • حموینی جوینی، فرائد السمطین، تحقیق محمدباقر محمودی، موسسہ محمودی، بیروت
  • حلبی، السیرہ الحلبیہ، دارالمعرفہ، بیروت
  • حویزی، تفسیر نورالثقلین، تحقیق رسولی محلاتی، موسسہ اسماعیلیان، قم
  • خليفۃ بن خياط العصفری، تاریخ خلیفۃ بن خیاط، تحقیق سہیل زکار، دارالفکر بیروت
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، خصائص الآئمہ ؑ (خصائص امیرالمؤمنین علیہ السلام)، محقق و مصحح: امینی، محمدہادی، آستان قدس رضوی، مشہد، چاپ اول، 1406ہجری شمسی۔
  • ابن بطریق، یحیی بن حسن، عمدۃ عیون صحاح الأخبار فی مناقب إمام الأبرار، جامعہ مدرسین، قم، چاپ اول، 1407ہجری۔
  • فیروزآبادى‏، سید مرتضى، فضائل پنج تن ؑ در صحاح ششگانہ اہل سنت‏، ترجمہ: ساعدى، محمدباقر، ‏ نشر فیروزآبادى، قم، چاپ اول، 1374ہجری۔
  • ذاکری، سیمای کارگزاران امام علی ؑ، انتشارات دفتر تبلیغات، قم
  • ری شہری، موسوعہ الامام علی ابن ابی طالب، دارالحدیث، قم
  • رشیدرضا، تفسیر المنار، دارالمعرفہ، بیروت
  • زمخشری، الكشاف عن حقائق التنزيل، مکتبہ البابی حلبی، قاہرہ
  • زبیدی، تاج العروس، تحقیق علی شیری، دارالفکر، بیروت
  • زرکلی، الاعلام، دارالعلم للملایین، بیروت
  • سید بن طاوس، إقبال الاعمال، تحقیق جواد قیومی، مکتب اعلام الاسلامی
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، دارالشروق، بیروت
  • سیوطی، الدر المنثور، دارالمعرفہ، بیروت
  • سیوطی، الاتقان في علوم القرآن، تحقیق سعید مندوب، دارالفکر، بیروت
  • سلیمان بن عبدالوہاب، فصل الخطاب، نخبۃ الاخبار، بمبئی
  • شہرستانی، الملل و النحل، تحقیق محمدسید کیلانی، دارالمعرفہ، بیروت
  • شوشتری، احقاق الحق مکتبہ آیت اللہ مرعشی، قم
  • شوشتری، قاموس الرجال، مرکز نشر کتاب، تہران
  • شوشتری، مجالس المؤمنین، کتاب فروشی اسلامیہ، تہران
  • صدوق، الہدایہ، الہادی، قم
  • صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات اعلمی، تہران
  • صدوق، کمال الدین ، تحقیق علی اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم
  • ضمیری، کتابشناسی تفصیلی مذاہب اسلامی، موسسہ آموزشی پژوہشی مذاہب اسلامی، قم
  • طبری، تاریخ طبری، موسسہ اعلمی، بیروت
  • طبرسی، احتجاج، نشر مرتضی، مشہد
  • طبرسی، مجمع البیان، موسسہ اعلمی، بیروت
  • طبرسی، جوامع الجامع، تحقیق موسسہ نشر اسلامی، جامعہ مدرسین، قم
  • طباطبایی، المیزان، جامعہ مدرسین، قم
  • طوسی، مصباح المتہہجد، موسسہ فقہ الشیعہ، بیروت
  • طوسی، تلخیص الشافی، تحقیق سیدحسین بحرالعلوم، دارالکتب الاسلامیہ، تہران
  • علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق سید طیب موسوی، دارالکتاب، قم
  • فیض کاشانی، الحق المبین، تصحیح ارموی، سازمان چاپ دانشگاہ
  • فیض کاشانی، تفسیر الصافى، موسسہ الہادی، قم
  • فخر رازی، تفسیر الرازی، دار احیاء التراث، بیروت
  • قاضی قضاعی، دستور معالم الحکم، ترجمہ فیروز حریرچی، دانشکدہ علوم حدیث، قم
  • قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، موسسہ امام مہدی(عج)، قم
  • قطب راوندی، منہاج البراعہ، تحقیق آیت اللہ مرعشی، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی، قم
  • قرطبی، تفسیر القرطبی، تحقیق احمد عبدالعلیم، داراحیاء التراث، بیروت
  • قندوزی، ینابیع المودۃ، تحقیق سید علی جمال اشرف، دار الاسوہ، تہران
  • قمی، سفینۃ البحار، کتابخانہ سنائی، تہران
  • کلینی، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، دارالکتب، تہران
  • کمپانی، علی کیست، دارالکتب اسلامیہ، تہران
  • گنجی شافعی، کفایۃ الطالب، داراحیاء التراث، بیروت
  • متقی ہندی، کنز العمال، موسسہ الرسالہ، بیروت
  • مجلہ پرسمان، اسفند 1380، پیش شمارہ 7
  • محمودی، نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ، موسسہ اعلمی، بیروت
  • مسعودی، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی طالب، دارالاضواء، بیروت
  • مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دارالفکر بیروت
  • مجلسی، مرآۃ العقول، دارالکتب الاسلامیہ، تہران
  • مجلسی، بحارالانوار، موسسہ الوفاء، بیروت
  • مسعودی، مروج الذہب و معادن الجواہر، ترجمہ ابوالقاسم پایندہ، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران
  • مفید، جمل، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی، نشر نی، تہران
  • مفید، امالی، تحقیق علی اکبر غفاری، دار المفید، بیروت
  • مفید، الاختصاص، تحقیق علی اکبر غفاری، دار المفید، بیروت
  • مفید، ارشاد، موسسہ آل البیت، قم
  • نوری، مستدرک الوسائل، موسسہ آل البیت، بیروت
  • نہج البلاغہ، صبحی صالح
  • نہج البلاغہ، ترجمہ دشتی، موسسہ نشر شہر، تہران
  • واقدی، المغازی، عالم الکتب، بیروت
  • ہیثمی، الصواعق المحرقہ المکتبۃ العصریۃ، بیروت
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ ابراہیم آیتی، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، تہران
  • أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أيوب بن أزداذ البغدادي المعروف بـ ابن شاہين (المتوفى: 385ہ ـ)،فضائل فاطمہ بنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم تحقيق: بدر البدر، الناشر: دار ابن الأثير - الكويت (ضمن مجموع فيہ من مصنفات ابن شاہين)، الطبعہ: الأولى 1415 ہ ـ - 1994 م، عدد الأجزاء
  • نسائي، أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن، المجتبى من السنن، تحقيق: عبدالفتاح أبو غدة، ناشر: مكتب المطبوعات الإسلاميہ - حلب، الطبعہ: الثانيہ، 1406 - 1986.
  • أبو عبد اللہ الحاكم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدويہ بن نُعيم بن الحكم الضبي الطہماني نيشاپوري معروف بابن البيع (المتوفى: 405ہ ـ)،مستدرك على الصحيحين ج2 ص181 تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، الناشر: دار الكتب العلميہ - بيروت، الطبعہ: الأولى، 1411 - 1990، عدد الأجزاء: 4 .
  • سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360ہ ـ)،المعجم الكبير ج4 ص34 ، المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي، دار النشر: مكتبہ ابن تيميہ - القاہرة، الطبعہ: الثانيہ، عدد الأجزاء:25.

بیرونی روابط

حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام

معصوم اول:
رسول اللہ(ص)
14 معصومین
امام علی علیہ السلام
معصوم سوئم:
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام