حدیث یوم الدار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث یوم الدار وہ حدیث ہے جو تاریخ، حدیث اور تفسیر کی کتب میں آیت انذار کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے۔ اس روایت کے مطابق، رسول اللہ(ص) کو حکم ملا کہ اپنے قرابت داروں کو اسلام کی دعوت دیں اور انہيں ڈرا دیں اور متنبہ کریں۔ آپ(ص) نے حکم پروردگار کی تعمیلکرنے کے بعد امیرالمؤمنین علی(ع) کی جانشینی، وزارت اور وصایت کا اعلان کیا۔

واقعے کی تفصیل

وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (ترجمہ: اور اپنے قریبی خاندان والوں کو [اندیشہ عذاب سے] خبردار کیجئے) [ 42–214]
[1]

قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ(ص) نے امام علی(ع) کو حکم دیا کہ کھانا تیار کریں جو بکرے کے ایک ران اور (آج کے زمانے کے حساب سے) تین کلوگرام دودھ پر مشتمل ہو اور فرزندان عبدالمطلب کو بلائیں تا کہ آپ(ع) اللہ کا حکم ان تک پہنچا دیں۔ امیرالمؤمنین(ع) نے حکم کی تعمیل کی۔ تقریبا 40 افراد اکٹھے ہوئے جن میں ابوطالب، حمزہ بن عبدالمطلب اور ابو لہب بھی شامل تھے۔ کھانے کی مقدار کم تھی اور اتنا کھانا معمول کے مطابق ان افراد کے لئے کافی نہ تھا؛ لیکن سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور کھانے میں کوئی کمی نہ آئی۔ ابو لہب نے حضرت محمد(ص) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اس نے جادو کیا ہے"۔ ابو لہب کی بات نے مجلس کے ماحول کو رسول اللہ(ص) کی دعوت کے منصوبے سے خارج کردیا چنانچہ آپ(ص) نے اپنی دعوت مؤخر کردی اور یہ نشست کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اختتام پذیر ہوئی۔ امیرالمؤمنین(ع) کو ایک بار پھر ذمہ داری سونپ دی گئی کہ سابقہ انداز سے کھانا تیار کریں اور رسول خدا(ص) کے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دیں؛ چنانچہ آپ(ع) نے ایسا ہی کیا اور رسول خدا(ص) نے کھانے کے بعد فرمایا:

:یا بَنِی عَبْدِالْمُطَّلِبِ إِنِّی وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ شَابّاً فِی الْعَرَبِ جَاءَ قَوْمَهُ بِأَفْضَلَ مِمَّا جِئْتُکُمْ بِهِ إِنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِخَیرِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَقَدْ أَمَرَنِی اللَّهُ تَعَالَى أَنْ أَدْعُوَکُمْ اِلَیهِ فَأَیکُمْ یؤَازِرُنِی عَلَى هَذا الْأَمْرِ عَلَى أَنْ یکُونَ أَخِی وَخَلِیفَتِی فِیکُم۔
اے فرزندان عبدالمطلب! خدا کی قسم! میں پورے عرب میں ایسا کوئی جوان نہیں جانتا جو مجھ سے بہتر کوئی چیز اپنی قوم کے لئے لایا ہو؛ میں تمہارے لئے دنیا اور اخرت کی بھلائی لایا ہوں؛ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف بلاؤں؛ پس کون ہے جو اس کام میں میری پشت پناہی کرے، جو میرا بھائی، اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ اور جانشین ہو؟

کسی نےجواب نہیں دیا؛ امیرالمؤمنین(ع) جو سب سے چھوٹے تھے، اٹھے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ کی پشت پناہی کروں گا"۔ چنانچہ رسول اللہ(ص) نے علی(ع) کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

"إِنَّ هَذَا أَخِی وَ وَصِیی وَ خَلِیفَتِی فِیکُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِیعُوا۔

یہ (علی(ع)) میرے بھائی، میرے وصی اور تمہارے درمیان میرے جانشین اور خلیفہ ہیں، پس ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔[2]

سب لوگ وہاں سے ہنستے ہوئے اٹھے اور کہنے لگے: ابوطالب تم کو تمہارے بيٹے کي اطاعت و پيروي کا حکم ديا گيا ہے۔

سب اٹھے جبکہ ہنس رہے تھےاور ابو طالب(ع) سے کہہ رہے تھے: "محمد آپ کو ہدایت دے رہے ہیں کہ اپنے بیٹے کی اطاعت کریں اور ان کی بات سنیں!"۔[3]

اس واقعے کو مؤرخین اور محدثین نے اس واقعے کو "یوم الدار" (وہ دن جب لوگ گھر میں جمع ہوئے)، "بدء الدعوة" (آغاز دعوت) اور "یوم الانذار" "یوْمُ الْاِنذار" (لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرا دینے کا دن) اور "دعوت ذوالعشیرہ" جیسے عناوین کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [4]۔[5]۔[6]۔[7]۔[8]۔[9]۔[10]۔[11]۔[12] آغاز دعوت کا یہ واقعہ حضرت ابو طالب(ع) کے گھر میں پیش آیا۔

متعلقہ ماخذ

آیت انذار

حوالہ جات

  1. سورہ شعراء آیت 214۔
  2. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج2، ص279.
  3. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج2، ص279.
  4. ر.ک: ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 63-60۔
  5. ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج3، ص54-50۔
  6. ابن کثیر، تفسیرالقرآن العظیم، ج6، ص153-151۔
  7. طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص206۔
  8. بحرانی، البرهان فی تفسیرالقرآن، ج4، ص189-186۔
  9. فرات کوفی، تفسیر فرات کوفی، ص300۔
  10. سیوطی، الدر المنثور، ج5، ص97۔
  11. حسکانی، شواهد التنزیل، ج1، ص543-542۔
  12. ابن هشام، السیره النبویه ، ج 1، ص 262۔


مآخذ

  • تاریخ الامم والملوک، محمد بن جریر الطبری، بیروت، دار قاموس الحدیث، بی تا.
  • الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، بیروت: دار صادر، 1399ہجری۔
  • البدایه والنهایه، اسماعیل بن کثیر شامی، بیروت: دار احیاء التراث العربی، 1413ہجری۔
  • ابن ‏هشام، السیرةالنبویه، به کوشش مصطفى السقاء و دیگران، بیروت: المکتبة العلمیة، [بى‏ تا].
  • طبرسى، فضل بن‏ حسن، مجمع ‏البیان فى تفسیر القرآن، بیروت: دارالمعرفة و افست، تهران، ناصر خسرو، 1406 ہجری۔
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمرو، تفسیرالقرآن العظیم، بیروت: دارالکتب العلمیه منشورات محمد علی بیضون، 1419ہجری۔
  • بحرانی، سیدهاشم، البرهان فی تفسیر القرآن، تهران: بنیاد بعثت، 1416ہجری۔
  • فرات کوفی، ابوالقاسم فرات بن ابراهیم، تفسیر فرات کوفی، تهران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، 1410ہجری۔
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور، قم: کتابخانه آیت الله مرعشی نجفی، 1404ہجری۔
  • حسکانی، عبیدالله بن احمد، شواهد التنزیل لقواعد التفضیل، تهران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی،1411ہجری۔