ناصبی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ناصبی وہ ہے جو امام علیؑ یا اہل بیتؑ میں سے کسی ایک کے ساتھ دشمنی رکھتا ہو اور اپنی دشمنی کا اظہار بھی کرتا ہو۔اہل بیتؑ کے فضائل کا انکار، آئمہؑ پر لعن و سب اور اسی طرح اہل تشیع کے ساتھ دشمنی کو ناصبیت کے مصادیق میں سے قرار دیا گیا ہے۔ شیعہ فقہا کے نزدیک، نواصب نجس اور حکم کفار میں ہیں؛ اسی لیے ان کے ہاتھوں کا ذیبحہ کھانا، انہیں صدقہ دینا اور ان کیساتھ شادی بیاہ جائز نہیں ہے اور وہ مسلمانوں سے وراثت نہیں پا سکتے۔ بعض معاصر محققین کے بقول، ناصبیت کا آغاز قتل عثمان سے ہوا اور بنو امیہ کی حکومت میں یہ چیز رائج ہو گئی۔اہل بیتؑ کے فضائل کی اشاعت پر پابندی، شیعوں کا قتل عام اور منبروں سے امام علیؑ پر سب و شتم کو اس دور کی ناصبیت کے اثرات میں سے شمار کیا گیا ہے۔معاویہ، خوارج، عثمانیہ اور حریز بن عثمان کو نواصب میں سے قرار دیا گیا ہے۔ شیعہ علما کی نواصب اور ناصبیت کے بارے میں کئی تصنیفات ہیں:

نصب کا مفہوم اور مصادیق

نصب، اہل بیتؑ یا ان کے چاہنے والوں کیساتھ دشمنی رکھنے اور اسے برملا اور آشکار کرنے کے معنی میں ہے۔[1] اس جہت سے اہل بیتؑ اور ان کے چاہنے والوں اور شیعوں[2] سے دشمنی[3] صرف اسی صورت میں ’’نصب‘‘ قرار پائے گی کہ جب ان سے دشمنی ان کی اہل بیتؑ سے محبت[4] اور اہل بیتؑ کی پیروی[5] کے باعث ہو۔ مشہور مسلمان علما ایسے شخص کو ناصبی قرار دیتے ہیں کہ جو اہل بیتؑ کا دشمن ہو اور اپنی دشمنی کو برملا کرتا ہو[6]۔کچھ لوگوں کے بقول ناصبی وہ ہے کہ جو امام علیؑ سے بغض کو اپنے دین کا جزء بھی قرار دے۔[7] شیعہ علما نے امام علیؑ کے فسق یا کفر کے عقیدے[8]، آپؑ پر دوسروں کی برتری کے عقیدے،[9] اہل بیت پر سبّ و لعن کے عقیدے،[10] ان کے فضائل کے انکار،[11] فضائل کے ذکر اور اشاعت کی نسبت ناپسندیدگی[12] کو نصب کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے۔ مشہور مسلمان علما ایسے شخص کو ناصبی قرار دیتے ہیں کہ جو اہل بیتؑ کا دشمن ہو اور اپنی دشمنی کو برملا کرتا ہو[13]۔کچھ لوگوں کے بقول امام علیؑ سے بغض کو اپنے دین کا حصہ بھی قرار دے۔[14] انہوں نے امام علیؑ سے بغض کو اپنے دین کا جزء بھی قرار دیا ہے۔[15] امام علیؑ کے فسق یا کفر کے عقیدے[16]، دوسروں کی آپؑ پر برتری کے عقیدے،[17] اہل بیتؑ پر سب و لعن کے عقیدے،[18] ان کے فضائل کے انکار،[19] ان کے ذکر و نشر کی نسبت ناپسندیدگی[20] کو نصب کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے۔ اہل سنت عالم حسن بن فرحان مالکی نے امام علیؑ اور اہل بیتؑ سے ہر قسم کے انحراف کو نصب کا مصداق قرار دیا ہے۔[21] انہوں نے امام علیؑ کی مدح میں صحیح احادیث کی تضعیف، دورہ خلافت کی جنگوں میں آپ کے غلطی پر ہونے، آپؑ کے دشمنوں کی تعریف میں مبالغہ آرائی، آپ کی خلافت میں شک اور آپؑ کی بیعت سے گریز کا نصب کے مصادیق میں اضافہ کیا ہے۔[22] شیعہ فقیہ محدث بحرانی نے (دوسروں کی امامت کو مان کر) امامت میں دوسروں کو امام علیؑ پر مقدم کرنے کو حضرت علیؑ کیساتھ بغض اور نصب کا مصداق قرار دیا ہے۔[23]

اہل سنت کا ناصبی نہ ہونا

مشہور شیعہ فقہا کے نزدیک ناصبی وہ ہے جو اہل بیتؑ سے دشمنی رکھتا ہو اور اپنی دشمنی کو آشکار بھی کرتا ہو۔اس رو سے ان کے نزدیک جو اہل سنت، اہل بیتؑ سے محبت پر ایمان رکھتے ہیں، ناصبی نہیں ہیں۔[24] مگر محدث بحرانی کے نزدیک ناصبی وہ ہے جو دوسروں کو امام علیؑ پر مقدم کرے اور ان کی امامت کا قائل ہو۔اس بنا پر ان کے نزدیک عام اہل سنت جو تینوں خلفا کی امامت کو مانتے ہیں؛ ناصبی ہیں۔[25] ان کی دلیل وہ روایت ہے جو شیعہ آئمہ کے علاوہ کسی اور کی امامت کو ناصبیت قرار دیتی ہے۔[26] صاحب جواہر نے اس قول کو سیرت اور اہل تشیع کے عمل کے برخلاف قرار دیا ہے۔[27] اس روایت کی سند و دلالت کی صحت میں بھی تردید کی گئی ہے۔رسالہ «مال الناصب و انہ لیس کل مخالف ناصباً»[28] جو ایک شیعہ عالم سید عبداللہ جزائری، سے منسوب ہے؛ اس امر کی حکایت کرتا ہے کہ وہ اہل سنت کے ناصبی ہونے کے قول سے اختلاف رکھتے تھے۔[29]

ناصبی کے احکام

شیعہ فقہا کے نزدیک، نواصب نجس[30] اور کافر[31] ہیں۔فقہی کتب میں نجاست کفار کے موضوع پر بحث کی گئی ہے۔[32] نواصب کے کچھ احکام درج ذیل ہیں:

ناصبیت کی پیدائش

بعض معاصر محققین کا خیال ہے کہ ناصبیت کا آغاز قتل عثمان سے ہوا اور یہ بنو امیہ کے دور میں رائج ہوئی۔[41] تاریخی کتب کے مطابق معاویہ بن ابو سفیان نے 41 ھ میں جب مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کی امارت پر مقرر کیا تو اسے یہ حکم دیا کہ امام علیؑ کو برا بھلا کہے۔[42] اس کے بعد عمر بن عبد العزیز کے زمانے تک خلفائے بنو امیہ منبروں سے[43] حضرت علیؑ کو برا بھلا کہتے تھے۔[44] اہل سنت عالم حاکم نیشاپوری نے چوتھی صدی ہجری کو امام علیؑ کی مخالفت سے بھرپور صدی قرار دیتے ہوئے کتاب فضائل فاطمہ زہراؑ کی تالیف کا ہدف اس طرز تفکر کا مقابلہ قرار دیا تھا۔وہ چوتھی صدی ہجری کے ماحول کی توصیف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: زمانے نے ہمیں ایسے لیڈروں کے جال میں پھنسا دیا ہے کہ لوگ جن کی قربت حاصل کرنے کیلئے آل رسولؑ سے بغض کا سہارا لیتے ہیں اور ان کی تحقیر کرتے ہیں۔[45]

اثرات

  • بنو امیہ کے دور اقتدار میں ناصبیت کے مندرجہ ذیل اثرات شمار کیے گئے ہیں:

اہل سنت کتب میں ناصبی راویوں کے توسط سے اہل بیتؑ کی تضعیف اور ان کے فضائل کے انکار پر مبنی جعلی روایات کا شامل ہونا۔[46]

  • بچوں کا نام علی رکھنے پر پابندی اور علی نام کے بچوں کا قتل عام۔[47]
  • ایسے افراد کو سزا دینا اور تہ تیغ کرنا جو امام علیؑ کے فضائل بیان کرتے تھے یا انہیں گالیاں دینے سے گریز کرتے تھے اور یا معاویہ کی کوئی فضیلت نقل نہیں کرتے تھے۔حجاج بن یوسف ثقفی[48] کے حکم پر شیعہ علیؑ عطیہ بن سعید کو کوڑے پڑنا اور اسی کے حکم سے صحاح ستہ میں سے ایک کتاب کے مؤلف احمد بن علی نسائی[49] کا قتل ان موارد میں سے ہے۔[50]

معروف نواصب

منابع میں کچھ افراد کو ناصبی کا عنوان دیا گیا ہے:

  • معاویہ بن ابو سفیان وہ پہلا اموی حاکم تھا کہ جس نے 20 سال تک دمشق پر حکومت کی۔[51] نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید معتزلی، نے جاحظ سے نقل کیا ہے کہ معاویہ نماز جمعہ کے خطبوں کے آخر میں علیؑ پر لعن کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اس فعل کو اس قدر عام کیا جائے کہ کوئی بھی شخص علیؑ کی فضیلت نقل نہ کر سکے۔[52]
  • عثمانیہ جو یہ سمجھتے تھے کہ امام علیؑ نے عثمان کو قتل کیا ہے یا اس پر معاونت کی ہے۔[53] اسی وجہ سے انہوں نے علیؑ کی بیعت کو توڑ دیا تھا۔[54] نویں صدی کے اہل سنت رجالی ابن حجر عسقلانی کے نزدیک نواصب وہ گروہ ہے کہ جن کے خیال میں امام علیؑ نے عثمان کو قتل کیا ہے یا ان کے قتل میں مدد کی ہے۔[55] عثمان کی محبت میں غلو کے نتیجے میں اس گروہ نے امام علیؑ کی تضعیف و تنقیص کا راستہ اختیار کیا ہے۔[56]
  • خوارج جنگ صفین میں امام علیؑ کے لشکر میں شامل تھے۔انہوں نے علی ابن ابی طالبؑ پر کفر کی تہمت لگائی اور آپؑ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔انہیں امام علیؑ کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے نواصب یا ناصبہ بھی کہا جاتا ہے۔[57]
  • حجاج بن یوسف ثقفی متوفی 95 ہجری، چوتھی صدی ہجری کے مؤرّخ مسعودی کے بقول، اہل بیتؑ کا دشمن تھا[58]۔وہ امام علیؑ اور آپؑ کے اصحاب پر تبرا نہ کرنے والوں کو قتل کر دیتا تھا۔وہ شیعوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا اور بالکل معمولی سی بدگمانی اور تہمت کے بہانے انہیں قید کر دیتا تھا۔غرضیکہ اگر کسی کو زندیق یا کافر کہا جاتا تھا تو یہ اس سے بہتر ہوتا کہ اس کا تعارف شیعہ کے عنوان سے کرایا جائے۔[59] حجاج، عبد الملک کی حکومت میں پہلے حجاز کا حاکم تھا اور پھر عراق کا حکمران بھی بنا دیا گیا۔[60]
  • حریز بن عثمان امام علیؑ کو منبر سے سب و شتم کرتا تھا۔[61] اس نے امام علیؑ کی فضیلت میں وارد ہونے والی حدیث انت منی بمنزلة هارون من موسی میں تحریف کر کے اسے «انت منی بمنزلة قارون من موسی» روایت کیا ہے۔[62] اہل سنت رجال شناس ابن حبان کے بقول حریز ہر شب و روز میں علی بن ابی طالبؑ پر ستر مرتبہ لعنت کرتا تھا۔[63]
  • مغیرۃ بن شعبہ جب معاویہ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا، تو امام علیؑ اور شیعوں کو منبر سے برا بھلا کہتا تھا اور ان پر لعنت کرتا تھا۔[64] یہ ان اصحاب میں سے ہے کہ جن کے حضرت زہراؑ کے گھر پر حملے میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔[65]
  • ابن تیمیہ جو سلفی فکر کے رہنماؤں میں سے ہے اور بعض شیعہ محققین نے ابن تیمیہ کی ناصبیت کے اثبات کیلئے اس کی جانب سے حدیث رد الشمس کے انکار،[66] حدیث غدیر کی تضعیف[67] اور اسی طرح اس کی شیعوں کیساتھ دشمنی سے استدلال کیا ہے۔[68] ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت علیؑ کے حوالے سے ابن تیمیہ کے تاثرات کی وجہ سے اس کی طرف نفاق کی نسبت دی ہے۔[69]

کتب

شیعہ علما و محققین نے ناصبیت کے معنی اور احکام کے بارے میں چند کتابیں تصنیف کی ہیں؛[70] منجملہ:

  • النصب و النواصب، مصنف: محسن معلم؛ زبان عربی، جو کچھ مطالب منجملہ نصب کے معانی اور مصادیق پر مشتمل ہے۔[71] حکم نواصب[72] آثار درباره نصب[73]؛ مصنف نے امام علیؑ کے بغض اور دشمنی کو ناصبیت کا معیار قرار دیا ہے[74] اور 250 سے زیادہ افراد کو ناصبی یا ناصبیت کی تہمت کا حامل ہونے کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔[75] اسی طرح ان علاقوں کے نام کہ جہاں پر نواصب رہتے تھے، اس کتاب میں ذکر کیے گئے ہیں۔[76] یہ کتاب انتشارات دار الهادی کی جانب سے 1418ھ میں بیروت میں شائع کی گئی۔[77]

محدث بحرانی کی تالیف «الشہاب الثاقب فی بیان معنی النواصب»،[78] اور اسی طرح وحید بہبہانی کی تالیف «رسالہ اصول الاسلام و الایمان و حکم الناصب و ما یتعلق بہ»،[79] بھی نصب اور ناصبیت کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ اسی طرح کچھ جواب ناموں میں کہ جنہیں شیعہ علما نے نے مخالفین کی کتب پر تنقید کے ضمن میں لکھا ہے؛ میں نواصب کی تعبیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔[80] قاضی نور اللہ شوشتری کی کتاب مصائب النواصب فی الرد علی النواقض الروافض[81]، عبدالجلیل قزوینی کی کتاببعض مثالب النواصب فی نقض بعض فضائح الروافض بھی ان کتابوں میں سے ہیں[82] کتاب النصب و النواصب میں بھی نصب و نواصب کے بارے میں 29 کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔[83]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج2، ص174۔
  2. ابن ادریس حلی، اجوبۃ مسائل و رسائل، 1429ھ، ص227؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج6، ص64۔
  3. شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420۔
  4. شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420۔
  5. طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج2، ص174۔
  6. بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج5، ص186، ج24، ص60؛ سبحانی، الخمس، 1420ھ، ص60۔
  7. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، ج4، ص429؛ فیروزآبادی، قاموس المحیط، مادہ نصب، بہ نقل از طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج2، ص173۔
  8. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، ج4، ص429۔
  9. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  10. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  11. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  12. شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420۔
  13. بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420؛ بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج5، ص186، ج24، ص60؛ سبحانی، الخمس، 1420ھ، ص60۔
  14. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، ج4، ص429؛ فیروزآبادی، قاموس المحیط، مادہ نصب، بہ نقل از طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج2، ص173۔
  15. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، ج4، ص429؛ فیروزآبادی، قاموس المحیط، مادہ نصب، بہ نقل از طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج2، ص173۔
  16. ابن تیمیہ، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، ج4، ص429۔
  17. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  18. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  19. فاضل مقداد، التنقیح الرائع، 1404ھ، ج2، ص421۔
  20. شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص420۔
  21. مالکی، انقاذ التاریخ الاسلامی، 1418ھ، ص298۔
  22. مالکی، انقاذ التاریخ الاسلامی، 1418ھ، ص298۔
  23. بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج24، ص60۔
  24. بطور نمونہ ملاحظہ کریں: صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص408؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج6، ص64۔
  25. بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج24، ص60۔
  26. بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج18، ص157۔
  27. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج6، ص64۔
  28. تولائی، «ملاک ناصب‌انگاری، احکام و آثار مترتب بر نصب در فقہ امامیہ»، ص52۔
  29. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، 1408ھ، ج19، ص76۔
  30. صدر، ما وراء الفقہ، 1420ھ، ج1، ص145۔
  31. کفار کے حکم میں ہیں۔ بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: طوسی، النھایہ، 1400ھ، ص5۔
  32. بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج6، ص63-65؛ بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج5، ص185-177۔
  33. طوسی، تہذیب الاحکام، ج9، ص71؛ امام خمینی، رسالۃ النجاۃ، 1385ش‏، ص325۔
  34. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص408؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، 1414ھ، ج13، ص15۔
  35. ابن براج، المھذب، 1406ھ، ج1، ص129۔
  36. طوسی، النھایہ، 1400ھ، ص112۔
  37. محقق حلی، المعتبر، 1407ھ، ج2، ص766۔
  38. بہجت، جامع المسائل، 1426ھ، ج6، ص156۔
  39. امام خمینی، رسالۃ النجاۃ، 1385ش‏، ص309۔
  40. طوسی، النھایہ، 1400ھ، ص570۔
  41. کوثری، «بررسی ریشه‌های تاریخی ناصبی‌گری»، ص99۔
  42. بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص243؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک،1387ھ، ج5، ص254۔
  43. زمخشری، ربیع الابرار، 1412ھ، ج2، ص335۔
  44. ابن اثیر، الکامل، 1385ھ، ج5، ص42۔
  45. حاکم نیشابوری، فضائل فاطمۃ الزهراء، 1429ھ، ص30۔
  46. کوثری، «بررسی ریشه‌های تاریخی ناصبی‌گری»، ص104۔
  47. مزی، تهذیب الکمال، 1413ھ، ج20، ص429۔
  48. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج6، ص305۔
  49. ابن کثیر، البدایہ و النهایہ، 1407ھ، ج11، ص124۔
  50. کوثری، «بررسی ریشه‌های تاریخی ناصبی‌گری»، ص104-105۔
  51. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص1418۔
  52. ابن ابی‌الحدید، شرح نهج البلاغه، 1404ھ، ج4، ص56-57۔
  53. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص591۔
  54. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج4، ص430۔
  55. ابن حجر، تهذیب التهذیب، دار صادر، ج8، ص458۔
  56. ابن حجر، فتح الباری، 1408ھ، ج7، ص13۔
  57. مقریزی، المواعظ و الاعتبار، 1422-1425ھ، ج4، قسم 1، ص428۔
  58. ملاحظہ کیجئے: مسعودی، مروج الذهب، 1409ھ، ج3، ص144۔
  59. ابن ابی‌الحدید، شرح نهج البلاغه، 1404ھ، ج11، ص44۔
  60. ابن کثیر، البدایہ و النهایہ، 1407ھ، ج9، ص117۔
  61. سمعانی، الانساب، 1382ھ، ج6، ص95۔
  62. ابن حجر، تهذیب التهذیب، دار صادر، ج2، ص239۔
  63. ابن حجر، تهذیب التهذیب، دار صادر، ج2، ص240۔
  64. ابن کثیر، البدایۃ و النهایۃ، 1407ھ، ج8، ص50۔
  65. مفید، الجمل، 1413ھ، ص117۔
  66. ابن تیمیہ، منهاج السنه، 1406ھ، ج8، ص165، به نقل از آل مجدد، «نشانه‌های ناصبی‌گری ابن تیمیہ»، ص17۔
  67. ابن تیمیہ، منهاج السنه، 1406ھ، ج7، ص319-320، به نقل از «نشانه‌های ناصبی‌گری ابن تیمیہ»، ص19۔
  68. آل مجدد، «نشانه‌های ناصبی‌گری ابن تیمیہ»، ص17-25۔
  69. ابن حجر، الدرر الکامنه، دار الجیل، ج1، ص155۔
  70. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص588-590۔
  71. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص31-38۔
  72. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص605-624۔
  73. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص588-590۔
  74. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص37۔
  75. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص261-528۔
  76. معلم، النصب و النواصب، 1418ھ، ص244-229۔
  77. «النصب و النواصب»۔
  78. بحرانی، الحدائق الناضره، 1405ھ، ج3، ص405۔
  79. آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، 1408ھ، ج2، ص176۔
  80. معلم، النصب و الناصبی، 1418ھ، ص588-590۔
  81. آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، 1408ھ، ج19، ص76۔
  82. آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، 1408ھ، ج3، ص130۔
  83. معلم، النصب و الناصبی، 1418ھ، ص588-590۔


مآخذ

  • آقا بزرگ تهرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، قم و تهران، اسماعیلیان کتابخانہ اسلامیہ تهران، 1408ھ۔
  • آل مجدد، سید حسن، «نشانه‌هایی از ناصبی‌گری ابن تیمیه»، در فصلنامہ صراط، شمارہ 12، زمستان، 1393شمسی۔
  • ابن ادریس حلی، محمد بن منصور، اجوبۃ مسائل و رسائل فی مختلف فنون المعرفۃ، تصحیح: سید محمدمهدی بن سید حسن موسوی خرسان، قم، دلیل ما، 1429ھ۔
  • ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید بن هبۃ اللہ، شرح نهج البلاغہ، تصحیح: ابراهیم محمد ابوالفضل، قم، مکتبۃ آیت اللہ المرعشی النجفی، 1404ھ۔
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ھ/1965ء۔
  • ابن براج طرابلسی، عبدالعزیز، المهذب، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1406ھ۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، مجموعۃ الفتاوی، طبعۃ عبدالرحمن بن قاسم، بی‌تا.
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، منهاج السنۃ النبویۃ فی نقض الکلام الشیعہ القدریہ، تحقیق: محمد رشاد سالم، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، 1406ھ/1986ء۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تهذیب التهذیب، بیروت، دار صادر، بی‎تا.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الدرر الکامنہ فی اعیان المائۃ الثامنہ، بیروت، دار الجیل.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، احیاء التراث العربی، 1408ھ/1998ء۔
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1410ھ/1990ء۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق: علی محمد بجاوی، بیروت، دار الجبیل، 1412ھ/1992ء۔
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النهایہ، بیروت، دار الفکر، 1407ھ/1986ء۔
  • امام خمینی، روح اللہ، رسالہ نجاۃ العباد، تهران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ‏1385 شمسی۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترۃ الطاهرہ، تصحیح:‌ محمد ایروانی و سید عبدالرزاق مقرم، قم، دفتر نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1405ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف (ج5)، تحقیق: احسان عباس، بیروت، جمعیۃ المستشرقین الالمانیہ، 1400ھ/1979ء۔
  • بهجت، محمدتقی، جامع المسائل، قم، دفتر آیت اللہ بهجت، 1426ھ۔
  • تولایی، رحمت، نقیبی، سید ابوالقاسم، «ملاک ناصب‌انگاری، احکام و آثار مترتب بر نصب در فقہ امامیه»، در مجلہ فقہ و اصول، بهار 1396 شمسی۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، فضائل فاطمۃ الزهراء، تحقیق: علیرضا بن عبداللہ، قاهرہ، دار الفرقان، 1429ھ۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الابرار و نصوص الاخبار، تحقیق: مهنا عبدالامیر، بیروت، مؤسسہ اعلمی للمطبوعات، 1412ھ۔
  • سبحانی، جعفر، الخمس فی الشریعۃ الاسلامیۃ الغراء، قم، مؤسسہ امام صادق، 1420ھ۔
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد، الانساب، تحقیق: عبدالرحمن بن یحیی معلمی یمانی، حیدرآباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، 1382ھ/1962ء۔
  • شهید ثانی، زین الدین بن علی، روض الجنان فی شرح ارشاد الاذهان، قم، دفتر نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1402ھ۔
  • صدر، سید محمد، ما وراء الفقہ، تصحیح: جعفر هادی دجیلی، بیروت، دار الاضواء للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1420ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1413ھ۔
  • کوثری، احمد، «بررسی ریشه‌های تاریخی ناصبی‌گری»، در مجلہ سراج منیر، شمارہ 16، زمستان 1393 شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراهیم، بیروت، دار التراث، 1387ھ/1967ء۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تصحیح: سید احمد حسینی، تهران، کتابفروشی مرتضوی، 1416ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، النهایۃ فی مجرد لفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، 1400ھ۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، التنقیح الرائع لمختصر الشرائع، تصحیح: سید عبداللطیف حسینی کوه‌کمری، قم، انتشارات کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
  • مالکی، انقاذ التاریخ الاسلامی، اردن، مؤسسۃ الیمامۃ الحفیہ، 1418ھ۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسین، المعتبر فی شرح المختصر، تصحیح: محمدعلی حیدری و دیگران، قم، مؤسسہ سید الشهداء علیہ السلام، 1407ھ۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، مؤسسہ آل البیت، 1414ھ۔
  • مزی، یوسف بن عبدالرحمان، تهذیب الکمال فی اسماء الرجال، تحقیق: بشار عواد معروف، بیروت، مؤسسہ الرسالہ، 1413ھ/1992ء۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب و معادن الجوهر، تحقیق: اسعد داغر، قم، دار الهجرہ، 1409ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرة، تصحیح: علی میرشریفی، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، الشیعہ و الحاکمون، بیروت، دار الجواد، 2000ء۔
  • مقریزی، احمد بن علی، المواعظ و الاعتبار فی ذکر الخطط و الآثار، تحقیق: ایمن فؤاد سید، لندن، 1422ـ1425ھ/2002ـ2004ء۔
  • معلم، محسن، النصب و النواصب، بیروت، دار الهادی، 1418ھ/1977ء۔
  • نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تصحیح: عباس قوچانی، علی آخوندی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1404ھ۔